Baaghi TV

Tag: عدالت

  • منشیات کے بین الاصوبائی سمگلر کو عمر قید اور پانچ لاکھ جرمانہ کی سزا

    منشیات کے بین الاصوبائی سمگلر کو عمر قید اور پانچ لاکھ جرمانہ کی سزا

    منشیات کے بین الاصوبائی سمگلر کو عمر قید اور پانچ لاکھ جرمانہ کی سزا سنادی گئی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈیرہ عثمان ولی خان کی زیر نگرانی ماڈل کرمینل ٹرائل کورٹ ڈیرہ کے سپیشل جج 1 میاں محمود نے مزد ا ٹرک میں کروڑوں روپے مالیت کی 156 کلو گرام چرس برآمد ہونے کے مقدمہ میں ایک مجرم غلام علی کو عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ جبکہ ساتھی مفرور ملزم محمد اسلم کے دائمی وارنٹ گرفتاری کے احکامات جاری کردیئے ،

    مقدمہ کی سماعت کے موقع پر حاجی محمد آصف کروڑی اور سنیئر پپلک پراسیکیوٹر محمد شکیل احمد شیخ نے عدالت کی رہنمائی کی۔استغاثہ کے مطابق25 اکتوبر سال 2021 کو درابن پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی کہ بھاری مقدار میں منشیات کوئٹہ سے براستہ ڈیرہ اسماعیل خان سمگلنگ کی کوششیں کی جائیگی، اطلاع پر ایس ایچ او تھانہ درابن بمعہ دیگر پولیس نفری کو الرٹ کیا گیا، کاروائی میں پولیس نے درابن ڈی آئی خان روڈ پر ناکہ بندی سخت کردی ، اس دوران درابن درازندہ روڈ پولیس چوکی کے قریب مزدا ٹرک گاڑی نمبر CJY0865 سندھ کو روکا ،ڈرائیور کواتارنے پر اس نے اپنا نام غلام علی ولد نواز علی قوم درس سکنہ مٹیاری حیدر آباد سندھ بتایا ،تلاشی لینے پر مزدا ٹرک میں گھریلو سامان صوفہ سیٹ ،الماری ،چارپائی ،موٹرسائیکل اور دیگر گھریلو سامان موجود تھا ، بلٹی پربلی حیدری گذز فارورڈنگ ایجنسی کوئٹہ بلٹی نمبر3923 بنام خلیق الرحمان مورخہ 23.10.2021 ملٹری فارم آفیسر کوئٹہ خلیق الرحمان کا سامان کوئٹہ سے اوکاڑہ جانا تحریر تھا ۔

    مزدا ٹرک کو مزید چیک کرنے پر ٹرک کے خفیہ خانوں میں چھپائی گئی 156 کلو گرام چرس برآمد کرلی گئی جس کی مالیت انٹرنیشنل مارکیٹ میں کروڑوں روپے بتائی گئی ۔پولیس نے ڈرائیور غلام علی کو موقع سے گرفتارکرکے اس کے خلاف مقدمہ جرم زیر دفعہ 9(D)CNSAدرج کرلیا ،مقدمہ کی سماعت کے دوران ڈرائیور غلام علی کے خلاف جرم ثابت ہونے پر اسے عمر قید سخت اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا جبکہ اس کے ساتھی ملزم محمد اسلم ولد خادم ح قوم بھٹی سکنہ محلہ رشید آباد ٹنڈو آدم ضلع سانگھڑ صوبہ سندھ کو مفرور گردانتے ہوئے اس کے خلاف دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • آئی جی پنجاب کے بیان کی تعریف پر توہین آئی جی کا مقدمہ بنا دیا،وکیل عمران ریاض

    آئی جی پنجاب کے بیان کی تعریف پر توہین آئی جی کا مقدمہ بنا دیا،وکیل عمران ریاض

    سیشن کورٹ صحافی عمران ریاض خان کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم کا مقدمہ ،عمران ریاض عبوری ضمانت کی معیاد ختم ہونے پر عدالت پیش ہوئے

    عدالت نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا تفتیش مکمل ہوچکی ہے؟ ایف اے تفتیشی نے عدالت میں کہا کہ عمران ریاض کی حد تک تفتیش مکمل ہوچکی ہے ،عدالت نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ، ایف آئی اے تفتیشی نے کہا کہ آئی جی پنجاب کے حوالے سے متعدد ٹویٹس کیے گئے جنہیں عمران ریاض کے اکاؤنٹ سے ری ٹویٹ کیا گیا، عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بتائیے کہ مقدمہ کب کیا گیا تھا ،وکیل عمران ریاض نے کہا کہ مقدمے کے وقت عمران ریاض اغوا تھے ،عدالت نے کہا کہ جس ٹویٹ کی بنیاد پر مقدمہ درج ہوا وہ ٹوئٹ تو پہلے ہی ڈیلیٹ ہوچکا تھ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مقدمہ درج کرنے سے پہلے ٹویٹ ڈیلیٹ ہوچکا ہے،ایف آئی اے تفتیشی نے کہا کہ جی یہ بات درست ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ جو ریکارڈ آپ دکھا رہے ہیں اس میں سے ایک چیز نکال دیں جو عمران ریاض کے خلاف ہو ،

    عمران ریاض ایف آئی اے قبل از گرفتاری درخواست پر میان علی اشفاق نے دلائل دیئے،اور کہا کہ عمران ریاض نے جو کوٹ ٹویٹ کیا اس پر ان پر توہین آئی جی کا مقدمہ درج کردیا،آئی جی پنجاب نے ویڈیو میں دشمن کو پسا کرنے کی ترغیب دی، عمران ریاض نے آئی جی پنجاب کے بیان کی حمایت کی، عمران ریاض کے بیان پر حمایت کو توہین آئی جی قرار دے دیا گیا،جس خاتون نے ٹویٹ کیا،، کیا انکوائری کے دوران عمران ریاض کا کوئی تعلق ثابت ہوا، نہیں،کیا عمران ریاض اس خاتون کو کبھی ملے، جواب نہیں،کیا عمران ریاض کا کوٹ ٹویٹ کرنا کسی قانون کیخلاف ورزی ہے، جواب نہیں،صرف ذاتی انتقام کا نشانہ بنانے کےلئے عمران ریاض پر مقدمہ بنایا گیا، پراسکیوشن بتائے وہ ویڈیو کہاں ہے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ ویڈیو ڈیلیٹ ہو چکی ہے،وکیل میاں علی اشفاق نے کہا کہ ان کے پاس وہ ویڈیو موجود نہیں کیا انہوں نے فرانزک کروایا، کیا ان کے پاس وہ تریدی بیان یا اسکی کاپی ہے، جواب نہیں ہے،صرف ایک چار ستروں کے ٹویٹ پر انہوں نے توہین آئی جی پنجاب کی توہین قرار دیا، آئی جی پنجاب نے اس ویڈیو میں 10 مرتبہ یہ بات کی میں نے انکی بیان کی تائید کی،آئی جی پنجاب کے بیان کی تائید کرنے پر مقدمہ درج ہوگیا، میرے موکل پر 21 مرتبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں مقدمات درج کیے گئے،142 دن میرا موکل مختلف مقامات پر رہا ہے، میرا جرم یہ ہے کہ سچ بولتا ہوں با ببانگ دہل بولتا ہوں،

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    عمران ریاض خان کی رہائی کیسے ہوئی؟ پنکی کے سابق شوہر کی گرفتاری

    بولنے میں دشواری،وزن کم،عمران ریاض کو کیا ہوا؟

    عمران ریاض خان پر ایک اور مقدمہ درج

    عمران ریاض کا پتا چل گیا۔ جان کو خطرہ ،عمران خان پر کڑا وار ،سیاست دفن

    وزارت دفاع کے نمائندے کا کہنا تھا عمران ریاض کی بازیابی کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں ۔

  • جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 6 اور بشریٰ بی بی کے خلاف جعلی رسیدوں کے کیس میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے وکیل خالد یوسف عدالت میں پیش ہوئے ،ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی،وکیل نے کہا کہ بشریٰ بی بی روزانہ کی بنیاد پر مختلف مقدمات میں حاضر ہو رہی ہیں، روزانہ لاہور سے اسلام آباد نیب اور مختلف مقدمات میں پیش ہو رہی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کی عدالت میں پیشی کے لیے عدالت نے رپورٹ طلب کر رکھی ہے،

    جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ رپورٹ کہاں ہے اور پراسیکیوٹر کہاں ہیں؟ جج کے استفسار پر پولیس کی جانب سے عدالت میں کوئی جواب نہیں دیا گیا،وکیل خالد یوسف نے کہا کہ یہ جان بوجھ کر عمران خان کو عدالت میں نہیں لا رہے، دوسری عدالت نے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کے پروڈکشن آرڈر دے رکھے ہیں، درخواست ضمانت قبل از گرفتاری میں ملزم کا عدالت میں ہونا ضروری ہے،جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی عدالت میں پیشی کے دوران رکاوٹیں کیا ہیں؟ وکیل صفائی نے کہا کہ یہ سارے کیس سیاسی طور پر بنائے گئے،جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت میں کچھ دیر تک کا وقفہ کر دیا

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نےعدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج سائفر کیس کی سماعت ہونے جا رہی تھی ،سپیشل کورٹ کا عمران خان کی پیشی کا حکم تھا،

    وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی پروڈکشن آرڈر تھے،آج دونوں کو پیش نہیں کیا گیا، جیل سپرنٹنڈنٹ نے جج صاحب کو آج کمیونیکیشن بھیجی، کہا گیا کہ سیکورٹی ایجنسی کی طرف سے انفارمیشن موصول ہوئی، یہ سماعت شروع دن سے ہی اوپن کورٹ ہونی چاہیے تھی، آج مایوسی ہوئی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہاتھ کھڑے کر دئیے، اسلام آباد کی پولیس نے چئیرمین پی ٹی آئی کی پیشی کے حوالے سے اپنی نااہلی پیش کی،اب سوال یہ ہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی کی پیشی آخر ہوگی کہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیس اب کہاں چلے گا، آج کا چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو پیش نہ کرنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے،مجھے لگتا ہے کہ سائفر کیس اب چل ہی نہیں سکے گا، ہم نے عدالت کو عندیہ دیا ہے کہ آپ اپنے فیصلے کو منوائیں، ٹرائل جیل میں ہی کروانے کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ آج بضد رہے، امید ہے اب جج صاحب اس حوالے سے سخت فیصلہ دیں گے، جیل سپرنٹنڈنٹ نے جو وجہ پیش کی وہ بالکل بے بنیاد ہے، جب ہائی کورٹ کے دو ججز کا حکم آگیا تو کس کے آرڈرز کا انتظار کیا جا رہا ہے ،

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • خیبر پختونخوا میں دو مقدمے، شیر افضل مروت کی ضمانت منظور

    خیبر پختونخوا میں دو مقدمے، شیر افضل مروت کی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائی کورٹ،پی ٹی آئی لیگل ٹیم کے رکن شیر افضل مروت کے خلاف درج مقدمات،شیر افضل مروت کی کے پی کے کے ضلع دیر میں درج دو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت ہوئی

    شیر افضل مروت کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیئے گئے،عدالت نے شیر افضل مروت کی درخواست پر آج ہی ڈائری نمبر لگانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈائری نمبر آج ہی لگ جائے گا آپکے کیس کو آج ہی سنیں گے ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی

    شیر افضل مروت اپنے وکیل نوید حیات ملک ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے کہا کہ آپکی درخواست پر بائیو میٹرک اور کچھ دستاویزات نہ ہونے پراعتراض لگا ہوا ہے ، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے اعتراض دور کردیے ہیں ،بائیو میٹرک تصدیق بھی کروالی اور دستاویزات بھی لگا دی ہیں ،

    خیبرپختونخوا میں کنونشن کرنے پر ضلع دیر میں شیر افضل مروت کے خلاف دو مقدمات درج ہیں ،عدالت نے درخواست پر ڈائری نمبر لگنے تک سماعت میں وقفہ کردیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیر افضل مروت کی درخواست ضمانت منظور کر لی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی نے خیبرپختونخوا میں درج 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور کی،عدالت نےشیر افضل مروت کی 15 روزہ حفاظتی ضمانت منظور کی،عدالت نے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا.

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی تحریک انصاف کے وائس پریذیڈنٹ شیر افضل مروت کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا مقدمہ ٹریفک میں خلل ڈالنے،ایمپلی فائر ایکٹ،دفعہ 144 سمیت این او سی کی خلاف ورزی پر درج کیا گیا، مقدمہ شکر پڑیاں میں میوزیکل نائٹ پروگرام منعقد کرنے پر درج کیا گیا،پروگرام سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے منعقد کیا تھا-مقدمے کے متن کے مطابق پروگرام میں پاکستان اور حکومت مخالف تقاریر کی گئیں،شیر افضل مروت طلبا کو اشتعال دلاتے رہے، مقدمہ میں شہر افضل مروت سمیت 20 ملزمان کو نامزد کیا گیا، مقدمہ تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او سب انسپکٹر ناصر منظور چوہدری کی مدعیت میں درج کیا گیا-

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    190ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیشرفت،عمران خان کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی عدالت نے استدعا مسترد کر دی

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کا جوڈیشل ریمانڈ منظور کر لیا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں سماعت کی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے،القادر ٹرسٹ پراپرٹی 190 ملین پاؤنڈ کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر کی سربراہی میں 5 رکنی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچی تھی،نیب ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر میاں عمر ندیم، عبدالستار، عرفان اور تنویر شامل ہیں ،نیب ٹیم نے 23 نومبر سے 26 نومبر تک ہونے والی تفتیش کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا.

    القادر پراپرٹی اور 190 ملین پاؤنڈ کا کیس ، نیب کی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں تحقیقات جاری ہے، نیب ٹیم روزانہ کی بنیاد پر عمران خان سے تحقیقات کر رہی ہے،نیب کی چیئرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے،

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان
    میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے چار دنوں کی تفتیش کے دوران نیب ٹیموں سے عدم تعاون کیا۔سابق وزیراعظم عمران خان کا رویہ دوران تحقیقات انتہائی متکبرانہ رہا ۔اڈیالہ جیل حکام نے تفتیش کےلیے الگ سے کمرہ مختص کر رکھا ہے، عمران خان تفتیشی ٹیم کے سامنے ایک کرسی پر براجمان ہوتے ہیں ،نیب کی ٹیموں نے متعدد بار سابق وزیر اعظم کے سامنے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کی دستاویزات رکھیں ۔اس سکینڈل سے متعلق متعدد سوالات بھی کیے گیے ،سابق وزیراعظم عمران خان نے اکثر سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا ۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان مسلسل اپنے وکلاء کی موجودگی میں سوال و جواب کا مطالبہ کرتے رہے ۔سابق وزیراعظم القادر ٹرسٹ سے متعلق سوالات پر اسے روحانیت اور صوفی ازم کا بڑا منصوبہ قرار دیتے رہے ۔سابق وزیراعظم ہر سوال کے جواب میں لمبی تقریر جھاڑتے ہوئے انتقامی کاروائیوں کا ذکر کرتے رہے ۔190 ملین پاؤنڈ سے متعلق تمام ملبہ شہزاد اکبر اور ایک سابق عسکری عہدے دار پر ڈال دیا ۔عمران خان کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر اور سابق چیئرمین نیب کے پاس جو دستاویزات تھیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔کابینہ نے اس سارے معاہدے کی منظوری دی تھی اب سب مکر گئے ۔نیب ٹیم نے اس وقت اس بارے کابینہ اجلاس کے منٹس سامنے رکھے ،میں بطور وزیراعظم اس سارے معاملے کا اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی دوران تفتیش بہت سے فیصلے غلط کرنے کا اعتراف بھی کرتے رہے ۔نیب دونوں کیسز کا تمام ریکارڈ دستاویزات ماضی کے اجلاسوں کے منٹس ساتھ لیکر جاتی رہی .

    اڈیالہ جیل میں شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ اور وکلاء سے ملاقات ختم
    دوسری جانب اڈیالہ جیل میں شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ اور وکلاء سے ملاقات ختم ہو گئی،ملاقات کرنے والوں میں مہرین قریشی، مہربانو قریشی، گوہر بانو قریشی اور بیرسٹر تیمور ملک شامل تھے، اہلخانہ اور وکلاء کی ملاقات اڈیالہ جیل کی کانفرنس روم میں کروائی گئی، شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ سے جیل سہولیات اور کیسسز کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ملاقات کے بعد شاہ محمود قریشی کے اہلخانہ اور وکلاء اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • دوران عدت نکاح نامنظور، بشریٰ بی بی کی گاڑی کو شہریوں نے گھیر لیا

    دوران عدت نکاح نامنظور، بشریٰ بی بی کی گاڑی کو شہریوں نے گھیر لیا

    اڈیالہ جیل کے باہر شہریوں کی جانب سے پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف نعرے بازی کی گئی

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل پہنچیں تو شہریوں نے پی ٹی آئی چیئرمین کی اہلیہ بشری بی بی کی گاڑی کو گھیر لیا ،شہریوں کی جانب سے بشری بی بی کی گاڑی کے آگے شدید نعرے بازی کی گئی، مظاہرین کا کہنا تھا کہ بشری بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کرنے پر فوری کاروائی کی جائے،

    آج بشرٰی بی بی کی عدالت میں پیشی کے دوران تین مختلف مقامات پر ان کی گاڑی کو گھیر کر جادو ٹونا نامنظور، عدت میں نکاح نامنظور وغیرہ کے نعرے لگائے گئے۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کے کیسز کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہونی تھی، بشریٰ بی بی عدالت پیش ہونے کے لئے گئی تھین، بشریٰ بی بی کی شوہر عمران خان سے ملاقات بھی ہونی تھی،

    بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے بھی مقامی عدالت میں دوران عدت نکاح پرعمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے

    تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے اڈیالہ جیل کے باہر بشریٰ بی بی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کی گاڑی کو گھیرے میں لے کر نعرے لگائے گئے، اس موقع پر وہ پولیس کہاں چلی گئی تھی جو پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کرنے میں اتنی چوکس ہے؟ ایسا لگتا ہے اس واقعے کے پیچھے پنجاب پولیس اور پنجاب انتظامیہ کا ہاتھ ہے

    شریف برادران کے کیسز میں نیب اب سہولت کار بن گئی ہے،لطیف کھوسہ
    اڈیالہ جیل میں کیسز کی سماعت کے بعد عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے باہر ایک ڈرامہ رچایا گیا لیکن اس ساری صورتِ حال کے باوجود بھی عمران خان نے کہا ہے کہ ہم الیکشن میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں گے،لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہماری نظر میں القادر ٹرسٹ کیس ختم ہو گیا ہے، عمران خان کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے،آج سماعت ہوئی تو ہم نے عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی جس پر عمران خان کا عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ منظور کیا،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ این سی اے نے خود 35 ارب روپے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں بھیجے، 190 ملین پاونڈ کی رقم سیدھا سرکاری خزانے میں آئی ہے ہم پہلے دن سےکہہ رہے ہیں کہ این سی اے نے رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں بھیجی اور القادرٹرسٹ 190 ملین پاؤنڈ سے چیئرمین پی ٹی آئی کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں، نیب کا ادارہ سیاسی انتقام کے لیے بنایا گیا ہے، شریف برادران کے کیسز میں نیب اب سہولت کار بن گئی ہے، نوازشریف کو اقامے پر نہیں نکالا گیا، 10 والیمز موجود ہیں، منی لانڈرنگ کے حوالے سے اسحاق ڈار کا بیان آن ریکارڈ ہے، سائفر کیس میں کل چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں، نگراں حکومت اگر کسی کو سیکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی تو مستعفی ہو جائے،خان صاحب نے بتایا ہے کہ کل نیب کی چار رکنی ٹیمیں آئیں تھی دو سے تین سوال پوچھنے کے علاوہ کچھ نہیں پوچھا اور میرے ساتھ گپ شپ لگا کر چلے گئے

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

  • الیکشن کا التواء ملکی مفاد کے خلاف ہو گا،جاوید لطیف

    الیکشن کا التواء ملکی مفاد کے خلاف ہو گا،جاوید لطیف

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما میاں جاوید لطیف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سیاسی اور معاشی استحکام نواز شریف کو انصاف کی فراہمی سے جڑا ہے،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ جتنا جلدی نواز شریف کو انصاف ملے گا اتنا جلدی ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام آئے گا، ایک طرف بے گناہ کو انصاف نہیں مل رہا دوسری طرف گناہ گاہ کو بیلنس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، آپ سوچیں 190 ملین پاونڈ کھانے والوں پر قانون حرکت میں نہیں آ رہا تھا،لاڈلے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا،کیا پاکستان میں انصاف چہرے دیکھ کر ملے گا،آج کچھ سیاستدان، کچھ اینکر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ الیکشن موخر ہو سکتے ہیں، الیکشن کا التواء ملکی مفاد کے خلاف ہو گا ایسا نہیں ہونے دیں گے، کہا جاتا ہے خاور مانیکا سچے ہوتے تو پہلے بولتے،عائشہ گلالئی اور ریحام خان پہلے بولی تھیں اس وقت کسی نے خان سے حساب لیا،کیا لاڈلا دنیا اور دین کسی قانون کو جوابدہ نہیں، یہ سوچنا بھی گناہ ہے کہ نواز شریف ملک کو اس حال میں چھوڑ کر جائیں گے، نواز شریف ملک بچانے آئے ہیں اور اپنا مشن پورا کریں گے،انتخابات کے انعقاد میں ایک گھنٹے کی تاخیر کو بھی سپورٹ نہیں کرتے،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت،جب کرپشن ہی نہیں تو پھر آمدن سے زائد اثاثے کیسے آ گئے؟ عدالت

    نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت،جب کرپشن ہی نہیں تو پھر آمدن سے زائد اثاثے کیسے آ گئے؟ عدالت

    سابق وزیراعظم نواز شریف آج اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی،نواز شریف عدالت پہنچ گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی دونوں اپیلوں پر سماعت شروع ، ہو گئی،فریقین کے وکلا روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بنچ نے سماعت کی،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ میں نیب ریفرنس دائر ہونے سے پہلے کے واقعات کی تفصیل جمع کرانا چاہتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جی وہ تفصیل آپ فراہم کر دیں، امجد پرویز نے کہا کہ 20 اپریل 2017 کو سپریم کورٹ نے پانامہ کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دی،نواز شریف کے خلاف لگے الزامات کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیاکہ یہ سپریم کورٹ کے ججز کا تین اور دو کا اکثریتی فیصلہ ہے؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ریفرنسز دائر ہونے سے پہلے کے حقائق بہت اہم ہیں، جے آئی ٹی کے ٹی او آرز کہاں ہیں؟ اُنکا سکوپ کیا تھا؟ امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ جی آئی ٹی کیلئے کچھ سوالات رکھے گئے کہ وہ اُن سوالات کا جواب دے گی،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسارکیا کہ پانامہ جے آئی ٹی میں کتنے لوگ شامل تھے؟امجد پرویز نے کہا کہ جے آئی ٹی میں پانچ لوگ شامل تھے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ سپریم کورٹ کے آرڈر میں بتا دیں ٹی او آرز کہاں ہیں؟ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جے آئی ٹی کا مینڈیٹ کیا تھا انہوں نے کرنا کیا تھا؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کمرہِ عدالت میں میاں نواز شریف کے قریب کھڑے لیگی رہنماؤں کو بیٹھنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے کہا کہ آپ لوگ کیوں کھڑے ہیں پیچھے جا کر بیٹھ جائیں،

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ جمع ہونے کے بعد دلائل کیلئے طلب کیا،سپریم کورٹ نے 28 جولائی کو وزیراعظم پاکستان کو نااہل قرار دیدیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ نے نیب کو ریفرنسز دائر کرنے کا کہا یا نیب خود اس کا پابند تھا؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نیب کو نواز شریف کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کی ڈائریکشن دی، نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس دائر کیا گیا، فیصلے کی روشنی میں نواز شریف، حسین اور حسن نواز کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس دائر کیا گیا،احتساب عدالت کو چھ ماہ میں ریفرنس پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی، سپریم کورٹ نے کہا بعد میں سامنے آنے والے حقائق پر نیب ضمنی ریفرنس بھی دائر کر سکتا ہے،چیئرمین نیب نے یکم اگست کو معاملہ تفتیش کیلئے ڈی جی نیب لاہور کو بھیجا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ریفرنس دائر کرنے کا کہہ دیا تو معاملہ تفتیش کیلئے کیوں بھیجا گیا؟ امجد پرویز نے کہا کہ ہم نے نیب سے یہ پوچھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تفتیش کیوں کر رہے ہیں؟نیب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا یہ کہیں تحریری طور پر موجود ہے؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی بالکل، تحریری طور پر یہ بیان موجود ہے، نیب نے 8 ستمبر کو ایون فیلڈ ریفرنس دائر کیا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف ایک ریفرنس میں بری بھی ہوئے تھے، پراسکیوٹر نیب نے کہا کہ احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا نیب نے بریت کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے؟ پراسکیوٹر نیب نے کہا کہ اپیل دائر ہے لیکن نوٹس نہیں ہوئے اور وہ آج سماعت کیلئے مقرر بھی نہیں ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ نواز شریف کو اِن ریفرنسز میں کتنی کتنی سزا سنائی گئی؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں دس سال جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں سات سال سزا سنائی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا نیب نے اِن ریفرنسز میں سزا بڑھانے کی اپیلیں دائر کر رکھی ہیں؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ایون فیلڈ میں نہیں لیکن العزیزیہ ریفرنس میں سزا بڑھانے کی اپیل دائر کی گئی، ریفرنس دائری کے وقت نواز شریف اور مریم نواز برطانیہ میں تھے،نواز شریف اور مریم نواز برطانیہ سے آ کر عدالت میں پیش ہوئے،نواز شریف اور مریم نواز کا کوئی وارنٹ گرفتاری کا آرڈر نہیں ہوا،ریفرنس دائر ہونے کے بعد اور فرد جرم سے پہلے نواز شریف نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کی، سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کہا کہ ہماری کسی بھی ابزرویشن سے اثر انداز ہوئے بغیر فیصلہ دے، ایون فیلڈ ریفرنس میں 19 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی،والیم دس ایم ایل ایز پر مشتمل تھا،ہم نے والیم دس مانگا تھا مگر ہمیں فراہم نہیں کیا گیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ نے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی بھی ایک درخواست دائر کی تھی، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایک ریفرنس پر فیصلہ سنایا تھا، فیصلے کے بعد دیگر ریفرنسز دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست دی تھی،اس عدالت میں درخواست زیرسماعت ہونے کے دوران ہی جج محمد بشیر نے کیس سننے سے معذرت کر لی تھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ آپ نے تینوں ریفرنسز ایک ساتھ چلانے کی بھی ایک درخواست دائر کی تھی، جج صاحب نے ایک ریفرنس کو جلدی سے چلایا اور دو پر کارروائی کو روک دیا تھا،

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں عائد کی گئی فرد جرم کا متن پڑھ کر سنایا اور کہا کہ نواز شریف نے چارج فریم ہونے کے بعد صحت جرم سے انکار کیا، احتساب عدالت نے فرد جرم کے بعد نیب سے شہادتیں طلب کر لیں، نیب نے ایک ابتدائی تفتیشی رپورٹ جمع کرائی اور بعد میں ضمنی تفتیشی رپورٹ دی،ابتدائی تفتیشی رپورٹ میں صرف سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا تھا،نیب نے ٹی وی انٹرویوز پیش کیے، نواز شریف کی اسمبلی فلور پر کی گئی تقریر کا حوالہ دیا، ایک گواہ رابرٹ ریڈلے پیش کیا جو نواز شریف کی حد تک کیس میں متعلقہ گواہ نہیں، نیب نے جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنسز دائر کر دیے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے کہیں اپنا مائنڈ استعمال کرتے ہوئے بھی کچھ کیا؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نیب نے نواز شریف کو ایک کال اپ نوٹس بھیجنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا،نیب نے ضمنی ریفرنس میں کچھ مزید شواہد ریکارڈ پر لائے،نیب نے میاں نواز شریف کے قوم سے خطاب کا ٹرانسکرپٹ قبضے میں لیا، نیب نے مریم، حسن اور حسین نواز شریف کے بیانات کا ٹرانسکرپٹ قبضے میں لیا، نیب نے کیلبری فونٹ سے متعلق ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے کا بیان شامل کیا،نیب نے گواہوں کے بیانات کے علاوہ کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے صرف ڈاکیے کا کام کرنا تھا یا اپنا مائنڈ بھی استعمال کرنا تھا؟آپ کہہ رہے ہیں کہ پوری جے آئی ٹی رپورٹ نیب نے ریفرنس میں شامل کر دی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے خود سے نواز شریف کو نوٹس جاری کیا تھا؟وکیل امجد پرویزنے کہا کہ جی، نوٹس جاری کیا اور نواز شریف نے جواب جمع کرایا تھا، نیب کے کال اپ نوٹس میں تفتیش سے متعلق کچھ نہیں ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ تو نیب نے اپنی طرف سے الگ سے کوئی تفتیش نہیں کی؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جی بالکل، نیب نے صرف جے آئی ٹی کے سامنے بیان کی تصدیق چاہی،نیب نے نواز شریف کو خود سے کوئی سوالنامہ نہیں دیا، نواز شریف کو مالک اور مریم نواز سمیت دیگر بچوں کو بے نامی دار ثابت کرنے کا بوجھ پراسیکیوشن پر تھا، ہمارا موقف یہی رہا کہ چارج بھی غلط فریم ہوا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معذرت کیساتھ نہ چارج صحیح فریم ہوا اور نہ نیب کو پتہ تھا کہ شواہد کیا ہیں، نیب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مریم نواز بینفشل اونر ہیں؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نیب نے یہ کوشش ضرور کی مگر اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، ایون فیلڈ ریفرنس میں 18 میں سے 6 گواہوں کے بیانات ہو چکے تھے جب نیب نے ضمنی ریفرنس دائر کیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا کسی گواہ نے ایسا کوئی بیان دیا جس کے بعد نیب نے ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پہلی گواہ سدرہ منصور نے ایس ای سی پی کا ریکارڈ پیش کیا،میں تو یہ کہوں گا کہ ہمارا کیس اوپن ہوا اور گواہ پر جرح ہوئی تو اسی وقت نیب نے ضمنی ریفرنس لانے کا فیصلہ کیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ اس متعلق وقت لے کر جواب دیں، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے نواز شریف اور مریم نواز کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنایا،میاں نواز شریف اور مریم نواز کلثوم نواز کی عیادت کیلئے لندن میں موجود تھے، کلثوم نواز اُس وقت کینسر کی آخری سٹیج پر تھیں، احتساب عدالت کو فیصلے کی تاریخ تبدیل کرنے کی استدعا کی گئی، ٹرائل کورٹ نے ہماری درخواست اُسی دن مسترد کر دی، احتساب عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف اور مریم نواز کو کو سزا سنا دی،احتساب عدالت نے نواز شریف پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹیسز کا الزام مسترد کر دیا، نیب نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر نہیں کی، عدالت نے نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام پر سزا سنا دی، سمجھ سے باہر ہے کہ کرپشن کی بنیاد ختم ہو گئی لیکن عمارت پھر بھی کھڑی ہو گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب کرپشن ہی نہیں تو پھر آمدن سے زائد اثاثے کیسے آ گئے؟

    اعظم نذیر تارڑ نے نواز شریف کیلئے حاضری سے استثنی مانگ لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کر دیں،نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت بدھ تک ملتوی کر دی گئی، عدالت نے کہا کہ نیب کی دو اپیلیں بھی سماعت کے لیے مقرر کردیتے ہیں،

    نواز شریف عدالت پیشی کے لئے لاہور سے اسلام آبا د روانہ ہوئے،نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، عدالت کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، داخلی راستے خاردار تاریں لگا کر بند کر دیئے گئے ہیں،عام لوگوں کے احاطہ عدالت میں داخلہ پر پابندی عائدکر دی گئی ہے.

    نواز شریف اسلام آباد منسٹر انکلیو پہنچے ،نواز شریف نےاسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر منسٹر انکلیو میں کچھ دیر قیام کیا،نواز شریف کی لیگل ٹیم منسٹر انکلیو میں پہلے سے ہی موجود تھی، نواز شریف نے لیگل ٹیم سے مشاورت کی پھر نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ کے لئے روانہ ہوئے،نواز شریف کی جانب سے کیسز سے متعلق قانونی ٹیم کو میرٹ پر فیصلہ لینے کی ہدایت کی گئی.

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے اقدامات کی ہدایت

    لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے اقدامات کی ہدایت

    سندھ ہائی کورٹ لاپتہ افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی

    جسٹس نعمت اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گمشدہ افراد کے معاملے میں جو بھی ملوث ہے اس کے خلاف قدم اٹھائیں، اگر کوئی شہری ازخود بھی غائب ہوگیا تو بھی تلاش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،تفتیشی افسر نے کہا کہ بتایا گیا تھا لاپتا عثمان شہری لانڈھی جیل میں ہے، جیل والوں کو خط لکھنے پر جواب ملا لانڈھی جیل میں نہیں ہے،جسٹس نعمت اللہ نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کا بیان ریکارڈ کریں،اگر کارروائی بنتی ہے تو جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف بھی کریں،

    عدالت نے دیگر لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے لاپتا شہری علی حسن کا سراغ لگانے کے لیے جے آئی ٹیز اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کر دی، پولیس نے گمشده شہری صدام کی گرفتاری ظاہر کردی،عدالت نے صدام کی بازیابی سے متعلق درخواست نمٹادی .

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی