Baaghi TV

Tag: عدالت

  • پی ٹی آئی جلسہ کے لئے ڈی سی کو درخواست دے،عدالت

    پی ٹی آئی جلسہ کے لئے ڈی سی کو درخواست دے،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی کی لبرٹی چوک لاہور میں جلسہ کی اجازت کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست غیر موثر قرار دے کر نمٹا دی ،عدالت نے درخواست گزار کو دادرسی کے لیے ڈی سی لاہور کے پاس پیش ہونے کی ہدایت کر دی،عدالت نے کہا کہ ڈی سی لاہور درخواست گزار کو سن کر قانون کے مطابق دوسری جگہ جلسہ کرنے کی اجازت کا فیصلہ کریں،عدالت نے لبرٹی چوک میں کسی دوسری سیاسی جماعتوں کے جلسہ کرنے پر پابندی لگا دی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیں گے ، ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب غلام سرور نہنگ نے پیش ہو کر درخواست کی مخالف کی ،، ڈی سی لاہور نےجواب میں کہا کہ سیکورٹی رسک کی بنا پر لبرٹی میں جلسہ کی اجازت نہیں دی جا سکتی،سرکاری وکیل نے کہا کہ سیکورٹی اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں جلسہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی، کسی اور جگہ پر جلسہ کی اجازت دی جاسکتی ہے۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ جلسہ ہونے نہیں دینا چاہتے، آپ کسی اور جگہ جلسہ کر لیں، عدالت

    دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار کے ساتھ دیگر وکلا پیش کرنے پر برہمی کا اظہار کیا،جسٹس راحیل کامران شیخ نے پی ٹی آئی جلسے کی اجازت کے لیے درخواست پر سماعت کی ،درخواست ایڈیشنل سیکرٹری پی ٹی آئی پنجاب عظیم اللہ خان نے دائر کی،درخواست میں ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا کہ ملک میں عنقریب عام انتخابات کا انعقاد ہونے جارہاہے، پی ٹی آئی نے الیکشن کیلئے اپنے منشور کا اعلان کیلئے جلسہ کا انعقاد کرنا ہے، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر ذمہ داران کو جلسے کی اجازت کیلئے درخواستیں دیں،لبرٹی چوک لاہور میں 15 اکتوبر کے جلسے کیلئے پی ٹی آئی کو اجازت نہیں دی گئی، اجازت نہ ملنے سے جلسے کے انتظامات کرنے کیلئے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، الیکشن کیلئے آئین ہر سیاسی جماعت کو عوامی رابطے کی اجازت دیتا ہے، عدالت ڈپٹی کمشنر لاہور کو پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے اجازت دینےکا حکم دے،

    شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس 

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

  • بشریٰ بی بی کی درخواست، وکیل ہی عدالت پیش نہ ہوا

    بشریٰ بی بی کی درخواست، وکیل ہی عدالت پیش نہ ہوا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل میں سیکورٹی اور تحفظ کی درخواست جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی متفرق درخواست پر سماعت ہوئی

    درخواست گزار بشری بی بی کی جانب سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بشری بی بی کی درخواست پہلے ہی 25 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر ہے، رجسٹرار آفس کا رول ہے، کیس 25 اکتوبر کو ہی سنا جائے گا ،

    بشری بی بی نے سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا ،دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ پانچ اکتوبر کو سماعت ہوئی تو عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کیے،عدالت نے درخواست کو دو ہفتوں میں دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کا کہا، رجسٹرار آفس نے درخواست کو 25 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے، استدعا ہے کہ درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل میں سیکورٹی اور تحفظ کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے،

    واضح رہے کہ عمران خان سائفر کیس میں جیل میں جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں، عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل شفٹ کر دیا گیا ہے، سائفر کیس میں عمران خان کو عدالت نے چار اکتوبر کو طلب کر لیا ہے، ایف آئی اے نے سائفر کیس میں چالان جمع کروا دیا ہے،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا کلیکٹر کسٹم کو درآمد شدہ پرانے آٹو پارٹس کے کنٹینرز چھوڑنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا کلیکٹر کسٹم کو درآمد شدہ پرانے آٹو پارٹس کے کنٹینرز چھوڑنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کلیکٹر کسٹم کو درآمد شدہ پرانے آٹو پارٹس کے کنٹینرز چھوڑنے کا حکم دے دیا

    عدالت نے اسلام آباد ڈرائی پورٹ پر کئی ماہ سے روکے کنٹینرز چھوڑنے کا حکم دیا،عدالت نے حکم دیا کہ تمام کنٹینر بجٹ سے پہلے رائج ڈیوٹی ٹیکسز اور جرمانے کے تحت کلئیر کریں ، جرمانہ ترمیمی فنانس ایکٹ 2023 سے پہلے کے مطابق ہو جو 20 ہزار سے زائد نا ہو ، 20 ہزار سے زائد کی صورت میں پٹشںر پوسٹ ڈیٹ چیک ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کرائے ، آٹو پارٹس ایسوسی ایشن کے 14 پٹشنرز کی جانب سے وکیل عدنان حیدر رندھاوا نے کیس کی پیروی کی .جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے تین صفحات پر مشتمل تحریری آرڈر جاری کیا ،عدالت نے چیئرمین ایف بی آر سمیت وفاقی سیکرٹریز کو آٹو پارٹس ایسوسی ایشن کے ساتھ میٹنگ کی ہدایت کردی ،عدالت نے سیکرٹری کامرس اور سیکرٹری انڈسٹری ڈویثرن کو بھی میٹنگ میں شامل ہونے کی ہدایت کر دی،

    عدالت نے کہا کہ ممبر کسٹم پالیسی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہو ،آئندہ سماعت سے قبل آٹو پارٹس ایسوسی ایشن کے ساتھ میٹنگ پیش رفت سے آگاہ کریں ،ایف بی آر سمیت دیگر فریقین 24 اکتوبر سے قبل پیراوائز کمنٹس جمع کرائیں ، اگر آٹو پارٹس ایسوسی ایشن کے ساتھ میٹنگ سے حل نا نکلا تو عدالت کیس کا فیصلہ کرے گی ، درخواست گزار کے مطابق کئی سال سے پٹشنرز آٹو پارٹس امپورٹ کا کاروبار کر رہے ہیں ،درخواست گزار نے بتایا امپورٹ ڈیوٹی ، جرمانہ ، ٹوکن پینلٹی کے بعد عمومی طور سامنا چھوڑ دیا جاتا ہے ،درخواست گزار کے مطابق آٹو پارٹس کی امپورٹ اگر ممنوع ہو جائے تو ریپئیر پرائس بڑھنے سے معیشت پر اثرات ہوں گے ،درخواست گزار کے مطابق ٹوکن کی بجائے فل پینلٹی ترمیم سے امپورٹ کی ٹریڈ ناممکن ہو جائے گی ، درخواست گزار کے مطابق فنانس ایکٹ 2023 میں ترمیم کا غلط عمل درآمد ہو رہا ہے ، درخواست گزار نے بتایا ترمیم سمگلنگ کی روک تھام کے لیے تھی امپورٹ کی ٹریڈ ختم کرنے کے لیے نہیں ، درخواست گزار کے مطابق فنانس ایکٹ ترمیم کا ماضی پر اطلاق بھی نہیں ہو سکتا ،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • سائفرکیس، ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،چیف جسٹس

    سائفرکیس، ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،چیف جسٹس

    سائفر کیس میں چیرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیر سے آنے پر معذرت کرتا ہوں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرے 60 فیصد دلائل مکمل ہو گئے ہیں ،تینوں اسپیشل پراسیکیوٹرز عدالت میں پیش ہوئے،اسپیشل پراسکییوٹر راجہ رضوان عباسی، شاہ خاور اور ذوالفقار نقوی بھی روسٹرم پر موجود تھے،اسپیشل پراسکییوٹر رضوان عباسی نے جیل میں ٹرائل کے دوران نقول کی فراہمی کا معاملہ اٹھا دیا

    اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ جیل ٹرائل کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء نے نقول وصول کیں لیکن دستخط نہیں کیے،9 اکتوبر کو نقول ملزمان کو دیں گئیں،ملزمان کے وکلا نے کہا ہے کہ جیل سماعت کیلئے ان کی درخواست زیر التوا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل سماعت کیخلاف درخواست پر فیصلہ کل یا پیر کو آ جائے گا،اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت ان کیسز کو اکٹھا کرکے ہی سن لے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،ٹرائل کے حوالے سے کوئی اسٹے آرڈر موجود نہیں، ٹرائل کورٹ نے ٹرائل اپنے لحاظ سے چلانا ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ ٹرائل کو چلنے نہیں دے رہے،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا ،وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے، سیکشن فائیو کا اطلاق مسلح افواج کے معاملے پر ہوتا ہے ، اس کیس میں کوئی نقشے کوئی تصویر اور قومی سلامتی کا مواد لیک نہیں کیا گیا ، آج سے پہلے کسی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے خلاف سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی نہیں ہوئی، یہ بہت بدنامی کی بات ہے، یہ قانون صرف فوجیوں کے لیے ہے، میں نے یہ سوال اٹھایا یہ کیس وزارت خارجہ نے کیوں نہیں کیا، وزارت داخلہ اس کیس میں فریق کیسے ہو سکتا ہے ؟ مارچ میں چیئرمین پی ٹی آئی نے ایک جلسے میں صفحہ لہرایا ، ایف آئی آر میں اسکا بھی ذکر نہیں ،
    اس کیس میں کہیں یہ ثابت نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ملکی راز دشمن کیساتھ شیئر کیا ، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سائفر کی لینگویج پر ایک غیر ملکی سفیر کو ڈیمارش کیا گیا ، چیئرمین پی ٹی آئی سیاسی قیدی ہیں،ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ سائفر کو ریکور کرنا ہے۔ان کے الزامات ہیں کہ سائفر کو اپنے پاس رکھا اور ٹوئسٹ کیا۔انہوں نے سائفر کو ریکور ہی نہیں کیا تو یہ کیسے پتہ چلا کہ اس کو ٹوئسٹ کیا۔ایف آئی آر میں نہیں بتایا گیا کہ یہ معاملہ کابینہ اجلاس اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں رکھا گیا، سائفر والا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی لے جایا گیا، میں حیران ہوں یہ اس معاملے کو کریمنل ڈومین کو کیسے لے آئے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ معاملہ چار فورمز پر رکھا گیا اور بعد میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ، کابینہ اجلاس، نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ اور سپریم کورٹ میں بھی معاملہ ڈسکس ہوا،یہ معاملہ دو مرتبہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے پاس گیا،
    اس کے متن کے اوپر فارن ڈپلومیٹ کو بلا کر احتجاج کیا گیا، پراسیکیوشن کے سائفر کیس میں بہت سے لنکس مسنگ ہیں۔ سوموٹو کیس میں سائفر کا سارا معاملہ ڈسکس ہوا ، سپریم کورٹ میں اس کو کہیں نہیں کہا گیا کرمنل ایکٹ ہوا ہے۔
    نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے پاس گیا کابینہ کے پاس گیا انہوں نے نہیں بتایا ،سائفر کی جو لینگوئیج ہے وہ قابل مذمت ہے نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ کا لب لباب تھا ،سائفر کی زبان کے استعمال پر احتجاج کیا گیا ،سات مارچ 2022 کو سائفر وصول ہوا ،عدالت نے استفسار کیا کہ سائفر امریکہ سے وصول ہوا ؟ اسپیشل پراسیکیوٹرنے کہا کہ پاکستان ہائی کمیشن امریکہ سے وصول ہوا ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ 27 مارچ کا یہ کہتے ہیں بتایا نہیں لہرایا ایف آئی آر میں نہیں ہے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ میں اس کے سامنے رکھا گیا ،9 اپریل 2022 کو کابینہ کی میٹنگ میں ڈی کلاسیفائیڈ کیا گیا ، چیف جسٹس ، اسپیکر ، صدر کے پاس بھیجا گیا ،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ سائفر سات مارچ 2022 کو آیا اور گیارہ مارچ تک پٹیشنر کے پاس رہا، گیارہ اپریل کو شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم حلف لیا، وزیراعظم کی سربراہی میں 24 اپریل کو نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی،پانچ ماہ بعد کابینہ ایف آئی اے کو آگاہ کرتی ہے کہ سائفر وزیراعظم ہاؤس سے غائب ہے،ایف آئی اے چھ دن بعد اس معاملے پر انکوائری سٹارٹ کر دیتی ہے،اگر سائفر وزیراعظم ہاؤس میں تھا تو کیا شہباز شریف اس کیس میں ملزم ہیں؟ انہیں شامل تفتیش کر کے بیان لیا گیا؟ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ سائفر کے بغیر کیوں کی گئی تھی؟ ایف آئی اے کا کیس ہے 33 دن سائفر عمران خان کے پاس رہا جبکہ یہی سائفر سابق وزیراعظم شہباز شریف کے پاس 169 دن رہا کیا شہباز شریف اس کیس میں ملزم ہیں ؟ کیا شہباز شریف کا بیان ریکارڈ کیا گیا ؟

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ریکارڈ مینٹین کرنا اس کے آفس کی ذمہ داری ہوتی ہے ،اگر یہ کرمنل ایکٹ اعظم خان کو معلوم تھا تو وہ مدعی کیوں نہیں ؟اعظم خان 15 اگست کو ملزم ٹھہرتے ہیں ، پھر اعظم خان لاپتہ ہوتے ہیں پریشر دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، یہ ڈاکومنٹری ثبوتوں کا کیس ہے کہاں ہیں وہ دستاویزات ؟ فزیکل ریمانڈ تو ان کو ملا نہیں ،نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ کی پریس ریلیز عدالت کے سامنے پڑھی گئی ،وکیل نے کہا کہ میں صرف ضمانت کے کیس پر دلائل دے رھا ہوں کہ یہ مزید انکوائری کا کیس ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ
    کیا کابینہ کے میٹنگ منٹس سپریم کورٹ کے سامنے تھے ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ کابینہ کے میٹنگ منٹس بھی کلاسیفائیڈ ہوتے ہیں ،سپریم کورٹ کے سامنے بھی پریس ریلیز ہی تھیں وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جب پراسیکیوشن کے پاس کچھ نا ہو تو پھر شریک ملزمان کے بیانات کا سہارا لیا جاتا ہے ،اعظم خان کا بیان انہوں نے شامل کیا ہے حالانکہ وہ ایف آئی آر میں نامزد ہے ،عدالت اس معاملے سے آگاہ ہے کہ اعظم خان کے لاپتہ ہونے پر ایف آئی آر درج ہوئی تھی ،بیرسٹر سلمان صفدر نے اعظم کی گمشدگی کی ایف آئی آر عدالت میں پیش کردی اور کہا کہ قانون کے مطابق ایسے بیان کی کوئی حیثیت نہیں جو غیر قانونی حراست کے دوران دیا گیا ہو، ریکارڈ کی دیکھ بھال پرنسپل سیکرٹری کی ذمہ داری ہوتی ہے ، الزام ہے کہ سابق وزیر اعظم سائفر کو اپنے ساتھ لے گئے ،ایسی صورتحال میں تو اس مقدمے کا مدعی اعظم خان کو ہونا چاہئیے تھا ،

    سائفر کیس عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ، سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہو گئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت پلیز آج ضمانت پر فیصلہ کر دے ، پیر کے روز ٹرائل کورٹ فرد جرم عائد کرنے لگے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا جب دلائل مکمل ہو جائیں گے دو تین دن فیصلے میں لگیں گے جتنا وقت آپ کو دیا ہے اتنا وقت پراسیکیوشن کو بھی دوں گا

    اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل کا آغاز کر دیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ شروع کریں سوا چار بجے تک ، پھر آئندہ دلائل ہوں گے ،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ” قانون کے پرانے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا عمل نہیں ہو گا 1960 میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کو آرمی ایکٹ کا حصہ بنا دیا گیا اگر وہ چاہییں تو فوجی عدالتوں میں بھی ٹرائل ہو سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں "، عدالت نے استفسار کیا کہ کوئی وزیر اعظم ، صدر ، گورنر آتے ہیں کیا پوری زندگی وہ آفیشل سیکرٹ کو ظاہر نہیں کر سکتے؟اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ بالکل پوری زندگی وہ ڈسکلوز نہیں کر سکتے،یہ ایسا ڈاکومنٹ ہے جس کو آپ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے وہ واپس جانا ہے، یہ سیکریٹ ڈاکومنٹ تھا ڈی کلاسیفائیڈ بھی نہیں ہوا اور ہو بھی نہیں سکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چالان کے ساتھ جو ڈاکومنٹ ہیں کیا سائفر کی کاپی اس کے ساتھ منسلک ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ چالان کے ساتھ سائفر کی کاپی نہیں لگ سکتی ،گواہوں کے بیانات بھی ہیں وزارت خارجہ سے متعلق بھی گواہ ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ نا کوڈڈ نا ہی ڈی کوڈڈ سائفر چالان کا حصہ ہے؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ سیکریٹ ہونے کی وجہ سے اس کو چالان ہے ساتھ منسلک کر نہیں سکتے،

    سائفر کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی، اسپیشل پراسیکیوٹر دلائل جاری رکھیں گے

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • خدیجہ شاہ،یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

    خدیجہ شاہ،یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

    لاہور ہائیکورٹ: عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ ،خدیجہ شاہ سمیت دیگر کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد خدیجہ شاہ سمیت دیگر کو عدالت پیش کیا ،خدیجہ شاہ سمیت دیگر کے جوڈیشل ریمانڈ میں 26 اکتوبر تک توسیع کردی گئی،انسداد دہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل نے کیس کی سماعت کی ،تھانہ گلبرگ پولیس نے مقدمہ درج کررکھا ہے

    انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور ،شیر پاؤ پل پر انتشار انگیز تقاریر کرنے کا مقدمہ ،ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی،پولیس نے جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ملزمہ ڈاکٹر یاسمین کو پیش کیا ،عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں 26 اکتوبر تک توسیع کردی ،انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل نے کیس کی سماعت کی ،تھانہ سرور روڑ پولیس نے مقدمہ درج کررکھا ہے

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • پرویز الٰہی کو ڈسچارج کرنے کے فیصلے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پرویز الٰہی کو ڈسچارج کرنے کے فیصلے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سرکاری اراضی کیس الاٹ منٹ کیس ،لاہور ہائیکورٹ: سابق وزیر اعلی پرویز الٰہی کو ٹرائل کورٹ کا مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا معاملہ ،سابق وزیر اعلی چوہدری پرویز الٰہی کو ڈسچارج کرنے کے فیصلے کیخلاف پراسیکوشن کی درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے پراسیکوشن کی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے لر فیصلہ محفوظ کرلیا

    جسٹس علی باقر نجفی نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ عدالت کیسے کہ سکتی ہے کہ مجسٹریٹ یہ کرے ۔یہ نہ کرے ،وکیل پراسیکوشن نے کہا کہ مجسٹریٹ ریمانڈ دینے کا پابند تھا ،مجسٹریٹ کیس کو ریمانڈ ڈ کے بعد سپشل جج انٹی کرپشن کو بھجوانے کا پابند تھا ۔پراسیکوشن کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عبدالصمد خان پیش ہوئے،جسٹس علی باقر نجفی نے چوہدری پرویز الٰہی کو ڈسچارج کرنے کے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں انٹی کرپشن حکام سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،وکیل سرکار نے کہا کہ پرویز الہی نے وزیر اعلی کی حیثیت سے اپنی خود ساختہ کمپنی کو قصور کی 676 کنال اراضی غیر قانونی الاٹ کر دی۔اس خودساختہ کمپنی کے مالکان میں مونس الہی اور راسخ الہی شامل ہیں اس اراضی کو لاہور ماسٹر پلان کا حصہ بنا دیا گیا۔اسوقت کے ڈی جی ایل ڈی اے عامر خان بھی کیس کے ملزم ہیں،16ستمبر کو پرویز الٰہی کو گرفتار کیا گیا،ڈیوٹی مجسٹریٹ ریحان الحسن نے چوہدری پرویز الٰہی کرپشن کے مقدمہ سے ڈسچارج کردیا، مجسٹریٹ نے قانون کے مطابق درست فیصلہ نہ کیا، مجسٹریٹ نے پراسیکیوشن کی مقدمہ سے ڈسچارج کیخلاف درخواست خارج کر دی ،مجسٹریٹ نے مقدمے سے ڈسچارج کرنے کا فیصلہ حقائق کے برعکس دی. ڈیوٹی مجسٹریٹ کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا قانونی اختیار نہ تھا ،یہ اختیار سپشل جج انٹی کرپشن کو تھا ۔عدالت مجسٹریٹ کے قانون کے برعکس ڈسچارج کیے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دے،

    پرویز الہیٰ، مونس الہیٰ کو عدالت پیش کرنے کا حکم،وکیل کو پتہ ہے مونس کہاں ہے،عدالت
    دوسری جانب سپیشل کورٹ سینٹرل میں پرویز الٰہی اور مونس الہیٰ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے آئندہ سماعت پر پرویز الہی کو عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے حکم دیا کہ پرویز الٰہی کو تئیس اکتوبر کو جیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا جائے ۔ڈائریکٹر ایف آئی اے اور متعلقہ جیل کے سپریڈنٹ پرویز الٰہی کی عدالت پیشی کو یقینی بنائیں، عدالت نے آئندہ سماعت پر مونس الہی کو پیش ہونے کا حکم دے دیا ،عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ مونس الہیٰ کے وکیل نے مونس الہیٰ کی جانب سے وکالت نامہ پیش کیا،مونس الہیٰ کے وکیل کو ملزم کے بارے میں پتا ہے،فوجداری کاروائی میں ملزم کی ذاتی حیثیت میں پیشی ضروری ہے،مونس الہی کے وکلا آئندہ سماعت پر مونس الہیٰ کو عدالت پیش کریں،

  • خدیجہ شاہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    خدیجہ شاہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    لاہور ہائیکورٹ نے خدیجہ شاہ کی عسکری ٹاور اور جناح ہائوس حملہ کیسز میں ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،عدالت نے دو مقدمات میں خدیجہ شاہ کی ضمانت منظور کر لی

    لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ جاری کیا ،دو ملزمان روبینہ اور قاسم کی ضمانتیں بھی منظور کر لی گئیں ۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ احتجاج کرنا ہماری سوسائٹی کا کلچر ہے ایک لیڈر کال دے تو لوگ احتجاج کیلئے نکلتے ہیں احتجاج کرنے سے کسی کو نہیں روکا جا سکتا ،کیا خدیجہ شاہ ایف آئی آر میں نامزد ہے ۔

    دوران سماعت سپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہاکہ خدیجہ شاہ کا نام ایف آئی آر میں نامزد نہیں ان پر ریاست کیخلاف نعرے بازی کا الزام ہے شناخت پریڈ کے بعد ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا ،لوگوں کو اکساتی رہیں اپنے اکاﺅنٹ سےتصاویر بھی اپ لوڈ کیں

    عدالت نے استفسار کیا کہ خدیجہ شاہ کے بیان میں غیر قانونی بات کیا ہے یہ کہنا کہ ماﺅں بہنوں کی عزت محفوظ نہیں کیا غیر قانونی بات ہے ۔عدالت نے متعلقہ ریکارڈ نہ پیش کرنے پر برہمی کا بھی اظہار کیا .عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

     

  • گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق کیس،وزارت انسانی حقوق و دیگر کو نوٹس جاری

    گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق کیس،وزارت انسانی حقوق و دیگر کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ ، کم سن رضوانہ تشدد کیس ،سول جج عاصم حفیظ کو عہدے سے ہٹانے ، گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی.

    عدالتی معاون زینب جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئیً،وزارت انسانی حقوق کی نمائندہ اور اسٹیٹ کونسل ذوہیب گوندل عدالت میں پیش ہوئے،سول جج عاصم حفیظ اور انکی اہلیہ کی جانب سے وکیل قیصر امام عدالت میں پیش ہوئے

    عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے وزارت انسانی حقوق و دیگر کو نوٹس جاری کر دیئے، عدالت نے فریقین کو چائلڈ ویلفئیر ، چائلڈ پروٹیکشن سے متعلق گذارشات جمع کرانے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس عامر فاروق نے سول جج کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس سے رضوانہ تشدد کیس کے ٹرائل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ،یہ کسی سے متعلق کوئی ذاتی نوعیت کا کیس نہیں بلکہ ایسے واقعات کو مستقبل میں روکنا مقصد ہے ، یہ مفاد عامہ کا کیس ہے اسکی روک تھام ضروری ہے ، ہمارا مقصد اس مسئلے کو ہائی لائٹ کرنا ہے کسی کو ٹارگٹ کرنا نہیں ،یہ سوشل ایشوز ہیں انکی روک تھام کے لیے حل نکالنا ہے ،طیبہ تشدد کیس بھی ہوا تھا اب یہ والا کیس سامنے آیا ہے ہم نے چائلڈ لیبر اور بچوں پر تشدد کے معاملے کو تفصیلی دیکھنا ہے ،بچوں کو پیسے کمانے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل قیصر امام سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کس کی طرف سے آئے ہیں ، وکیل قیصر امام نے کہا کہ میں سول جج عاصم حفیظ اور انکی اہلیہ کی جانب سے میں پیش ہوا ہوں ، آرفن کئیر سنٹر بنانے چاہیے تاکہ کم عمر بچوں کو کام پر بھیجے سے بچایا جائے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک میں کئی انسٹیٹیوٹ ہوتے ہیں جس میں بچے کام کرکے کوئی مکینک بن جاتا ہے کوئی اور ہنر سیکھ جاتا ہے ہمارے پاس پرائیویٹ سیکٹر میں ایسے کچھ انسٹیٹوٹ ہیں جنھیں دیکھنا چاہیے ،

    عدالتی معاون زینب جنجوعہ نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن سنٹر موجود ہیں جنہیں کردار ادا کرنا چاہیے ، نیشنل کمیشن ہیومن رائٹس بھی موجود ہیں ،وزارت انسانی حقوق بھی اس سارے معاملے کو دیکھتی ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت انسانی حقوق سے توقع ہے کہ وہ اس مسئلے پر اپنا کردار کرے گی وزارت انسانی حقوق بھی اپنا تفصیلی جواب جمع کروائے کہ کیسے گھریلو تشدد کے واقعات کو روکا جائے ،عدالت نے وزارت انسانی حقوق و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 13 نومبر تک ملتوی کردی

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • لال حویلی کو ڈی سیل کرنے کی استدعا خارج

    لال حویلی کو ڈی سیل کرنے کی استدعا خارج

    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں لال حویلی ملکیتی تنازعہ کیس پر سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت جسٹس مرزا وقاص رؤف نے کی،شیخ رشید اور انکے بھائی شیخ صدیق کی جانب سے ایڈووکیٹ سردار عبد الرازق خان عدالت میں پیش ہوئے،متروکہ وقف املاک کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر آصف خان اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل صدیق اعوان عدالت پیش ہوئے،شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرازق خان نے چئیرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے فیصلے پر اعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ میں سیکرٹری، ڈی جی سمیت تمام عہدے چئیرمین کے پاس ہیں، ہماری دائر کردہ اپیل پر ہمیں نہیں سُنا گیا اختیار ایک ہی شخص کے پاس ہے، جب ایک ہی شخص کے پاس تمام اختیارات ہیں تو ہم کس کے پاس اپیل لے کر جائیں،

    وقفے کے بعد لال حویلی ملکیتی تنازعہ کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے لال حویلی کو ڈی سیل کرنے کی استدعا خارج کردی ،عدالت نے لال حویلی کیس کی پٹیشن باقائدہ سماعت کیلئے منظورکرلی ،عدالت نے کہا کہ پٹیشن کے فیصلے تک لال حویلی کی موجودہ پوزیشن برقرار رہے گی،آئندہ 19 اکتوبر کو فیصلہ سنایا جائے گا کسی کو التوا نہیں ملے گا ۔سماعت ہائی کورٹ کے جج جسٹس مرزا وقاص رؤف نے کی۔ وکیل شیخ رشید نے کہا کہ لال حویلی سیل کرنے والے چئیرمین متروکہ وقف املاک کے پاس ایڈیشنل چارج تھا،لال حویلی سیل کرنے سے قبل ہمیں نوٹس نہیں دیا گیا نہ اپیل دائر کرنے کا موقع دیا گیا، و

    واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی رہائشگاہ لال حویلی خالی کر وا کر سیل کر دی گئی ہے،ڈپٹی ایڈ منسٹر یٹر آصف خان کا کہنا ہے کہ شیخ رشید اور ان کے بھائی متروکہ وقف املاک کی پراپرٹی پر غیر قانونی قابض ہیں، لال حویلی سے متعلق کوئی مستند دستاویزات پیش نہیں کر سکے ،

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

    لال حویلی خالی کرانے کا نوٹس، شیخ رشید کو عدالت سے ریلیف مل گیا

    اکیلی عورت لفٹ لے کر فرنٹ سیٹ پر کیسے بیٹھ گئی، عدالت کے ریمارکس

    کٹاس راج مندر ازخودنوٹس کیس، سپریم کورٹ نے کس سے رپورٹ طلب کی؟ اہم خبر

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،صداقت عباسی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست نمٹا دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،صداقت عباسی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست نمٹا دی گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق ایم این اے صداقت عباسی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست نمٹا دی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے وکیل بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جی ڈاکٹر صاحب بندہ واپس آ گیا؟ جس پر وکیل بابر اعوان نے کہا کہ میں اس مرد حریت کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں جس نے بندہ بازیاب کروادیا ،عدالت حکم نامے میں لکھوادے کہ صداقت عباسی کیس میں اینکر کو پھل مل گیا، بابر اعوان کی استدعا پر کمرہ عدالت میں قہقے گونج اٹھے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے وکیل بابر اعوان کو جواب دیا کہ آپ نے ایک لائن میں پوری بات کردی پھر تو کیسں نمٹادیتے ہیں،

    واضح رہے کہ صداقت عباسی نے پی ٹی آئی چھوڑ دی اور ایک انٹرویو میں کہا کہ میں کہیں غائب نہیں تھا بلکہ اپنے دوست کے ہاں گیا تھا کیونکہ 9 مئی واقع کے بعد پولیس نے پکڑ دکھڑ شروع کی ہوئی تھی۔

    سانحہ مری،صداقت عباسی نے دیئے شہریوں کو اجتماعی طورپر پانچ سو روپے،ویڈیو وائرل

    ریلوے کس کے دور میں اچھی رہی، سعد رفیق یا شیخ رشید؟ کمیٹی میں انکشاف

    عمران خان کی سیاست کا جنازہ نکلتے دیکھیں گے،خواجہ سعد رفیق

    ٹرمپ میرے خواب میں آئے ،بھارتی شہری نے ٹرمپ کے دورہ بھارت سے قبل ایسا کام کیا کہ سب حیران