Baaghi TV

Tag: عدالت

  • سابق وزیر اعظم کے بھی حقوق ہیں ان کا بھی وقار ہے،وکیل لطیف کھوسہ

    سابق وزیر اعظم کے بھی حقوق ہیں ان کا بھی وقار ہے،وکیل لطیف کھوسہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سائفر کیس مقدمہ اخراج اور ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیئے ، ایف آئی اے نے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کردی،دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کھوسہ صاحب یہ بتائیں کہ پاکستان میں امریکہ کی طرح دستاویزات ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کا کوئی قانون موجود ہے ؟ لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ اس سائفر کو تو وفاقی کابینہ نے ڈی کلاسیفائیڈ کردیا تھا ، اس ملک میں لیاقت علی خان کا قتل ہوا ، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے ، یہ سائفر امریکہ میں سفیر اسد مجید نے دفتر خارجہ کو بھجوایا تھا ، میرے دوست کہیں گے سیاسی بات کر رہا ہے غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے اسرائیل کے پیچھے امریکہ ہے ، امریکہ کو ہم نے سپر پاور خدا مان لیا ہے ، امریکہ نے اس ملک کے وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے دھمکی دی ، یہ تسلیم شدہ ہے یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت تھی پاکستان نے امریکہ سے احتجاج کیا ، میں نے جب یہ کیس دیکھا تو حیران رہ گیا اس ملک کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور وزیراعظم جو چیف ایگزیکٹو ہے وہ بول بھی نہیں سکتا ، بھٹو صاحب کو بھی مولوی مشتاق کی کورٹ میں جنگلے میں لا کر کھڑا کیا گیا تھا ، یہاں عمران خان کو بھی جنگلے میں لے کر آئے ، ان کو جیل میں بھی ڈر کس چیز کا ہے کیا خوف ہے وہ سابق وزیراعظم ہیں ، سابق وزیر اعظم کے بھی حقوق ہیں ان کا بھی وقار ہے ، یہ اعظم خان کا بیان لیکر آ گئے ہیں جو تین ہفتے لاپتہ رہا ، یہ کہنا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سائفر لے گیا یہ مضحکہ خیز ہے ،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کو ایک ایسے آرڈر کے تحت گرفتار کیا گیا جس پر تاریخ تک نہیں تھی،سولہ اگست کو ایف آئی اے نے جسمانی ریمانڈ مانگا جسے ٹرائل کورٹ نے مسترد کر دیا، چیرمین پی ٹی آئی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ،عدالت کل چیرمین پی ٹی آئی پر فرد جرم عائد کرنے جا رہی ہے، چیرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم اپنا قانونی اور آئینی حق استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا، سابق وزیراعظم نے اپنے آئینی حلف سے غداری نہیں کی، چیرمین پی ٹی آئی پر سائفر میں ردوبدل کا الزام بے بنیاد ہے، سائفر کا کوڈ ملزم نے نہیں بلکہ خود استغاثہ نے ایف آئی آر میں ظاہر کیا،38 ویں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں فارن سیکریٹری کو طلب کیا گیا،فارن سیکریٹری نے سائفر کو کنفرم کیا ، ایک بات واضح ہے کہ بطور وزیراعظم میرے سامنے سائفر آیا ،خان صاحب سائفر کو ہائیئسٹ فارم نینشل سیکیورٹی کمیٹی میں لے کر گئے،نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے سائفر کو بلیٹنٹ انٹرفیئرینس قرار دیا اور سخت ڈیمارش کرنے کا فیصلہ کیا ، پی ڈی ایم غلام رہنا چاہتی ہے تو رہے یہ ان کا سیاسی ہتھیار ہے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سائفر کیس مقدمہ اخراج کی درخواست میں سردار لطیف کھوسہ نے تحریری دلائل بھی عدالت میں جمع کرا دئیے،چیف جسٹس عامر فاروق نے سردار لطیف کھوسہ کے دلائل کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا ،” آپ نے دلائل میں تین نقاط عدالت کے سامنے رکھے ہیں ، پہلی بات آپ کہہ رہے ہیں آرٹیکل 248 کا استثنی حاصل ہے ، دوسری پوائنٹ آپ کا یہ ہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا ، تیسرا پوائنٹ آپ کا یہ ہے کہ وزیر اعظم کی ذمہ داری تھی کہ پبلک کے ساتھ شئیر کرتے ” وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک پوائنٹ یہ بھی ہے سائفر کابینہ میٹنگ میں ڈی کلاسیفائی ہو چکا تھا ،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سائفر کیس میں سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا ،میں نے کہا سازش سے نکالا پی ڈی ایم کا موقف تھا عدم اعتماد کرکے نکالا ، سائفر میرے پاس نہیں ہے وہ موجود بھی وزارت خارجہ میں ہے ،انہوں نے ایف آئی آر میں کوڈ لکھا ہے انہوں نے خلاف ورزی کی ہے ، کس نے ان کو کہا تھا کوڈ ایف آئی آر میں لکھیں ،ٹرائل کورٹ نے آرڈر میں دھمکی بھی لگائی ہوئی ہے ، انگریزی تو جیسی بھی ہے میری بھی انگریزی ایسی ہے ، ٹرائل کورٹ کی انگریزی بھی ایسی ہی ہے ،انگریزی سب کی اسی طرح ہی ہے ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے نا ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے نا سیکشن 5 کا ؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل نا ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے نا سیکشن 5 کا اطلاق ہوتا ہے ، یہ ممنوعہ جگہ نہیں ہے اگر ملک کے خلاف کوئی سازش ہو تو عوام کو بتانا وزیراعظم کا کام ہے ، یہاں انہوں نے بڑی آسانی سے اعلان کر دیا کہ سزا موت بھی ہو سکتی ہے ،

    ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات سے متعلق سردار لطیف کھوسہ نے پڑھا اور کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نگران حکومتیں چل رہی ہیں ،کیا ہم نے پاکستان کو سرزمین بے آئین بنادیا ہے ؟چیئرمین پی ٹی آئی کو آپ کی عدالت کے احاطے سے نو مئی کو گرفتار کیا گیا ،سپریم کورٹ نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے کر چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کا حکم دیا،
    اس کا تو کوئی ذکر نہیں کرتا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت کی حدود سے غیر قانونی گرفتار کیا گیا،نو مئی کو عدالت کی حدود میں عدالتی عملے وکلا کو مارا گیا ،پی ٹی آئی کے دس ہزار کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اس پر تو کوئی بات نہیں کرتا ،آج کے دن سابق وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا تھا ،آج کے دن میں آپ سے ،متجسس ہوں، درخواست کرتا ہوں، قوم آپ کی طرف انصاف کیلئے دیکھ رہی ہے ،کیس کی سماعت میں دو بجے تک کا وقفہ کردیا گیا

    سائفر کیس مقدمہ اخراج کی درخواست پر عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہو گئے ،

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • ذکا اشرف کی تقرری کے خلاف درخواست پر جواب طلب

    ذکا اشرف کی تقرری کے خلاف درخواست پر جواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں چیئرمیں پاکستان کرکٹ بورڈ ذکا اشرف کی تقرری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان ،فیڈرشن وزرارت بین الصوبائی امور اور ذکا اشرف کو نوٹس جاری کرتے ہوے جواب طلب کرلیا،جسٹس شکیل احمد نے شہری حافظ سکند ہمایوں کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی طرف سے چوہدری آصف شہزد ایڈووکیٹ پیش ہوئے

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ذکا اشرف سیاسی جماعت کے راہنما ہیں، ذکا اشرف اسپورٹس کی کوالیفیشن پر پورا نہیں اترتے، انکو سیاسی بنیادوں پر چیرمین مینجمنٹ کمیٹی پی سی بی لگا دیا گیا پاکستان کرکٹ بورڈ ائین کے تحت یہ تقرری نہین ہو سکتی ،الیکشن کمیشن نےپہلے ہی سیاسی تقرریاں ختم کرنے کا حکم دے رکھا ہے، عدالت ذکا اشرف کی تقرری کالعدم قرار دے،

    ،نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ انڈین میڈیا نے اس حوالے سے غلط خبریں چلائی

    پی سی بی نے کھلاڑیوں کو این او سی دینے کے لیے شرط رکھ دی

    پی سی بی کے بورڈ آف گورننس کے لئے دو اراکین کی منظوری دی گئی

  • ہیلی کاپٹر،جہاز یا پھر بکتر بند گاڑی میں لائیں،عمران خان کی پیشی لازمی ہے ،وکیل

    ہیلی کاپٹر،جہاز یا پھر بکتر بند گاڑی میں لائیں،عمران خان کی پیشی لازمی ہے ،وکیل

    چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف تھانہ کھنہ میں دو اور ایک تھانہ بارہ کہو میں درج مقدمات ،انسداد دہشت گردی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے چیئرمین پی ٹی آئی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی استدعا کردی،وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواستیں بحال کی ہیں اس کیس میں ملزم کی پروڈکشن لازمی ہیں، ہیلی کاپٹر پر لائیں ، جہاز میں یا پھر بکتر بند گاڑی میں لائیں چیئرمین پی ٹی آئی کی پیشی لازمی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے ، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری ضرور ہے مگر حقیقت ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں ہیں، اےٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے 24 اکتوبر تک تینوں مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا,عدالت نے سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کردی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ملزم کی عدالت میں موجودگی ضروری ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کل جیل میں درخواست ضمانت سنی جائے،

    پراسکیوٹر ،راجہ نوید نے کہاکہ پہلے چیئرمین پی ٹی آئی سیکورٹی خدشات کے پیش نظر پیش نہیں ہوتے تھے،عدالت سیکورٹی سے متعلق رپورٹ طلب کرلے اس کے بعد فیصلہ کرے،پہلے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کی یہاں موجودگی کی وجہ سے دو مقدمات درج ہوئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن آج کہہ رہی چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی خدشات ہیں، عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیسز کا ریکارڈ کہاں ہے؟ پراسکیوٹر نے کہا کہ آج ریکارڈ نہیں ہے، ریکارڈ پیش کردیں گے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج سیکورٹی خدشات والی ہماری بات پراسکیوشن خود دہرا رہی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو کہتے تھے پیش ہوں ورنہ ضمانت خارج کردی جائے گی،چیئرمین پی ٹی آئی ہر پیشی پر عدالت پیش ہوتے تھے،کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ جج ملزم کے سامنے پیش ہونے جارہاہو،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ اگر چیئرمین پی ٹی آئی کی موجودگی کا مسئلہ ہے تو کل جہاں ہم نے جانا ہے وہیں درخواستِ ضمانت سن لیں، درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری ضرور ہے مگر حقیقت ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں ہیں، آپ چاہتے ہیں کہ ملزم کی عدالت میں موجودگی ضروری ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کل جیل میں درخواست ضمانت سنی جائے،جج ابوالحسن ذوالقرنین نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو ہر ریلیف ملے گا جو آپ کا حق ہوگا، سلمان بھائی آپ بہت بڑے چیمبر سے ہیں، بغیر کسی تفریق کے کیس چلے گا،

    واضح رہے کہ عمران خان کو عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی تھی تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی، جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اٹک جیل میں تھے جہاں سے انہیں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا، عمران خان اڈیالہ جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

  • سائفر کیس،جیل میں ٹرائل ہو گا یا عدالت میں؟ فیصلہ کل

    سائفر کیس،جیل میں ٹرائل ہو گا یا عدالت میں؟ فیصلہ کل

    سائفر کیس کے جیل ٹرائل کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر فیصلہ کل پیر کو سنایا جائے گا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کاز لسٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل ٹرائل کے خلاف درخواست پر محفوظ فیصلہ سنائیں گے،

    عمران خان سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں ، سائفر کیس کا ٹرائل جیل میں ہو رہا ہے، ابتدائی سماعتیں اٹک جیل میں ہوئی بعد میں عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا، عمران خان نے جیل کی بجائے عدالت میں سماعت کی استدعا کر رکھی ہے جس پر چند روز قبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب کل سنایا جائے گا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

  • تین لاپتہ شہری پولیس کو مطلوب تھے،عدالت میں رپورٹ پیش

    تین لاپتہ شہری پولیس کو مطلوب تھے،عدالت میں رپورٹ پیش

    سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،سماعت کے دوران پولیس نے عدالت میں تین لاپتہ افراد کا سراغ لگانے کی رپورٹ پیش کی، پولیس نے عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا کہ تین لاپتہ شہری پولیس کو مطلوب تھے اور اب یہ تینوں فرحان، شہر یار اور جاوید مختلف مقدمات میں جیل میں ہیں، تینوں ملزمان کے خلاف تھانہ سائٹ ایریا اور کلری میں مقدمات درج ہیں،شہر یار اور جاوید کو گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا ہے

    عدالت نے تینوں گمشدہ شہریوں کے سراغ لگانے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تینوں شہریوں کی بازیابی سے متعلق درخواستیں نمٹا دیں،

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • گرفتار اساتذہ کو رہا کرنے کا حکم

    گرفتار اساتذہ کو رہا کرنے کا حکم

    ضلع کچہری لاہور: عدالت نے گرفتار اساتذہ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

    عدالت نے گرفتار اساتذہ کو مقدمے سے ڈسچارج کردیا ، پولیس نے گرفتار اساتذہ کے دس دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی،عدالت نے پولیس کی دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی ،جوڈیشل مجسٹریٹ عمران عابد نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی ،تھانہ اسلام پورہ پولیس نے گرفتار اساتذہ کو عدالت پیش کیا ،اساتذہ کو گزشتہ روز سول سیکرٹریٹ کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا

    اساتذہ کو گزشتہ روز سول سیکرٹریٹ کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا، محکمہ تعلیم پنجاب کے اساتذہ سمیت نان ٹیچنگ سٹاف کا اپنے مطالبات کی حمایت میں سول سیکرٹریٹ چوک میں احتجاجی دھرنا جاری تھا جب گرفتاریاں کی گئیں، دھرنے کے شرکاء نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا

    پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت نے پرامن ملازمین کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے ،پنجاب بھر میں اساتذہ تعلیمی بائیکاٹ اور تالہ بندی کا اعلان کرتے ہیں،

    پنجاب کے شہر راولپنڈی میں بھی سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف اساتذہ سڑکوں پر نکل آئے ،نجکاری کے خلاف اساتذہ نےسی ای او ایجوکیشن کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا،مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز بھی اٹھا رکھے ہیں،مظاہرین کی جانب سے ظالمانہ اقدامات کے خلاف حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی، مظاہرین کا کہنا تھا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کسی صورت قابل قبول نہیں،پنجاب حکومت کو نجکاری فیصلہ واپس لینے کے لیے 9 اکتوبر تک ڈیڈ لائن دی تھی،سرکاری تعلیمی اداروں میں ہونے والی بندش کی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہو گی،حکومت لیوانکیشمنٹ اور پینشن ترامیم کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے،

    چونیاں:نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کا پتلا لٹا کر اساتذہ کی فاتحہ خوانی

    پاکپتن : اساتذہ کا اپنے مطالبات کے حق میں ڈی سی آفس کے سامنے احتجاج

    غازی یونیورسٹی میں دو اساتذہ کی طالبہ کے ساتھ زیادتی،واقعہ پرانا ہے، ترجمان

    خواتین اساتذہ پر بھڑکیلے کپڑے،مرد اساتذہ کے جینز شرٹ پہننے پر پابندی

    جسم فروش خواتین اسی طریقے سے نیپال سرحد عبور کر کے بھارت آتی ہیں،

     ہماری بیٹی آج سے ہمارے لئے مر گئی

    بھارتی لڑکی کا پاکستان میں نکاح، حق مہر کتنا رکھا گیا؟

     اگر بیٹی نے اسلام قبول کیا تو سب پاکستان کیوں نہیں جاتے

    بھارت اور پاکستان کے لوگوں کے درمیان پہلے بھی شادیاں ہوتی رہی ہیں،پہلے کس کس کی شادیاں ہوئیں جانتے ہیں

  • پرویزالٰہی کے ریمانڈ میں توسیع

    پرویزالٰہی کے ریمانڈ میں توسیع

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد،پرویز الٰہی کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل کمپلیکس پہنچا دیاگیا

    پرویزالٰہی کو پولیس نے سخت سیکیورٹی کے تحت جوڈیشل کمپلیکس پہنچایا ،پرویز الٰہی کو ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند کی عدالت پہنچایا گیا،اےٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی رخصت کے باعث پرویزالٰہی کو ڈیوٹی جج کے سامنے پیش کیاگیا،پرویز الٰہی کے ہمراہ وکیل صفائی سردارعبدالرازق بھی عدالت پیش ہوئے،

    ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند نے استفسار کیا کہ کیا پرویزالٰہی کی حد تک چالان عدالت جمع ہوگیا ہے؟ اےٹی سی عدالتی عملہ نے کہا کہ پرویزالٰہی کی صرف جوڈیشل ریمانڈ کی توسیع کرنی ہے،تفتیشی افسر نے کہا کہ پرویزالٰہی کی حد تک چالان آگیاہے، نوٹس بھی ہوگیاہے، ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ شریک ملزمان کے ساتھ ہی پرویزالٰہی کی بھی اگلی تاریخ رکھ لیتےہیں،

    پرویزالٰہی کرسی سے اٹھ کر روسٹرم پر آگئے اور عدالت میں کہا کہ نہیں 24 اکتوبر تاریخ نہیں رکھنی، وکیل صفائی سردارعبدالرازق نے استدعا کی کہ 24 اکتوبر سے لمبی تاریخ رکھ دیں، پرویز الٰہی کی لاہور کی عدالت بھی پیشی ہے،عدالت نے پرویزالٰہی کے خلاف کیس کی سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کردی

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    جو جیل والا کھانا دیا جا رہا ہے، اس سے کل سے میرا پیٹ خراب ہے، پرویز الہی
    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب سے جیل میں تو رابطہ نہیں ہو سکتا، جو جیل والا کھانا دیا جا رہا ہے، اس سے کل سے میرا پیٹ خراب ہے، مشکل سے یہاں پہنچا ہوں کیونکہ فوڈ پوائزنگ ہو جاتی ہے،5 مہینے سے جیل کاٹ رہا ہوں، کوئی گھبراہٹ نہیں، مضبوطی کے ساتھ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، الیکشن کا ماحول بنے گا تو ہاتھ باندھ کے تو الیکشن نہیں ہو گا،عمران خان کے بغیر الیکشن بے معنی ہو گا، سائفر کیس کوئی بڑی بات نہیں ہے عمران خان اور شاہ محمود قریشی سائفر کیس میں سرخرو ہوں گے، خان صاحب کے سیل کی دیوار گرائی گئی ہے جس سے کچھ بہتری ہوئی ہے،

  • سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ چیلنج

    سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ چیلنج

    سپریم کورٹ کا نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ چیلنج کر دیا گیا

    نیب ترامیم فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر کردی گئی،ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے عبد الجبار کیطرف سے نظر ثانی دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں سنے بغیر نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ دیا،نیب ترامیم کے بعد احتساب عدالت نے میرے خلاف ریفرنس انٹی کرپشن عدالت کو بھجوادیا، نیب ترامیم کیخلاف درخواست میں کسی بنیادی حقوق خلاف ورزی کی نشاندہی نہیں کی گئی، نیب ترامیم کیخلاف درخواست آرٹیکل کے تقاضے پوری نہیں کرتی تھی،سپریم کورٹ نیب ترامیم کیخلاف 15 ستمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے،

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے بھی نیب ترامیم کیس کا حکم نامہ چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،وزارت قانون نے نیب ترامیم پرجاری سپریم کورٹ کا فیصلہ نظرثانی کے لیے فٹ قرار دے دیا ،وزارت قانون نے نیب ترامیم فیصلے کے خلاف درخواست تیار کرلی،نگران حکومت کی حتمی منظوری کے بعد نیب ترامیم فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی جائے گی

    نیب آرڈیننس ترمیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع 

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھایا ،سابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وفاقی وزراء بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے ،سیاسی جماعتوں کے دیگر قائدین میں نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، مریم نواز، فریال تالپور، اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، جاوید لطیف، مخدوم خسرو بختیار،عامر محمود کیانی، اکرم درانی،سلیم مانڈی والا، نور عالم خان، نواب اسلم رئیسانی،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، نواب ثناء اللہ زہری، برجیس طاہر، نواب علی وسان، شرجیل انعام میمن، لیاقت جتوئی، امیر مقام، گورم بگٹی، جعفر خان منڈووک، گورام بگٹی بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے

     میاں نواز شریف کی لیگل ٹیم نے ساری تیاری کر لی ہے،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا ,

    واضح رہے کہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  • صحافی خالد جمیل کی مقدمہ اخراج درخواست پر  نوٹس جاری

    صحافی خالد جمیل کی مقدمہ اخراج درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سائبر کرائم ونگ کا قابل اعتراض ٹویٹ کے الزام کا کیس ،صحافی خالد جمیل کی مقدمہ اخراج درخواست پر 11 نومبر کے نوٹس جاری کر دیئے گئے،

    عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 11 نومبر کو جواب طلب کر لیا،
    صحافی خالد جمیل کی جانب سے وکیل عثمان وڑائچ عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،دوران سماعت صحافی خالد جمیل عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،وکیل عثمان وڑائچ نے ایف آئی آر کو عدالت کے سامنے پڑھا اور کہا کہ پیکا سیکشن 20 کے تحت مقدمہ درج نہیں ہو سکتا ، ایف آئی اے نے اختیارات سے تجاوزات کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا ،اس قسم کے کیسز میں صرف وفاقی حکومت مدعی ہو سکتی ہے ،صحافی خالد جمیل کے خلاف کیس میں مدعی ایف آئی اے ہے ، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 11 نومبر تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ خالد جمیل کو  ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا،صحافی خالد جمیل کیخلاف ایف آئی آر میں سوشل میڈیا سے متعلق قانون پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ یعنی ’پیکا 2016‘ کی ترمیم شدہ دفعہ 20 بھی شامل ہے جو سوشل میڈیا پر غلط اور فیک خبریں پھیلانے سے متعلق ہے یہ ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے جس پر زیادہ سے زیادہ 5 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کو گولیاں مار دی گئی ہیں،

    جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ

    جان محمد مہر کے قتل کے خلاف17 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

  • علی وزیر پر مقدمہ کے اخراج کی درخواست پر نوٹس جاری

    علی وزیر پر مقدمہ کے اخراج کی درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ریاست مخالف عناصر کی مالی معاونت کا کیس ،سابق ایم این اے علی وزیر کی تھانہ بھارہ کہو میں درج مقدمے کے اخراج کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا،کیس کو علی وزیر کی پہلے سے زیر سماعت درخواست کے ساتھ یکجا کردیا گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،وکیل درخواست گزار ایڈوکیٹ عطاء اللہ کنڈی عدالت میں پیش ہوئے،وکیل نے کہا کہ علی وزیر کی پہلے ہی ایک اور ایف آئی آر کے اخراج کی درخواست زیر سماعت ہے ، علی وزیر کی دہشت گردی کے مقدمے میں اخراج کی درخواست 30 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر ہے، صغری بی بی کیس کے فیصلے کے بعد ایک ہی جرم کی ایک سے زائد ایف آئی آر غیر قانونی ہے،

    عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے اور درخواست پہلے سے زیر سماعت کیس کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے سماعت 30 نومبر تک ملتوی کردی

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس