Baaghi TV

Tag: عدالت

  • نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ،وفاقی حکومت نے اپیل واپس لے کر مہلت مانگ لی

    نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ،وفاقی حکومت نے اپیل واپس لے کر مہلت مانگ لی

    نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف نگران وفاقی حکومت کی جانب سے اپیل دائر کرنے کا معاملہ،اپیل کی درخواست دائر کرنے کے بعد واپس لے لی گئی

    وفاقی حکومت نے بذریعہ اٹارنی عدالت عظمی نے اپیل دائر کرنے کیلئے مہلت مانگ لی،سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو اپیل دائر کرنے کے لیے 15 روز کا وقت دے دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے کچھ مزید گراؤنڈز شامل کی جارہی ہیں،سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے فیصلے سے اپیل کا حق مل گیا،

    وفاقی حکومت نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف وکیل مخدوم علی خان کے ذریعے اپیل تیار کررہی ہے،سابق چیف جسٹس بندیال نے دو ایک کے تناسب سے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا ،نیب ترامیم کے خلاف 15 ستمبر کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا

    قبل ازیں وفاقی حکومت کی جانب سے دائر اپیل میں کہا گیا ھے کہ قانون سازی پارلیمان کا اختیار ھے۔ سپریم کورٹ نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نیب ترامیم کو بحال کرے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ پارلیمان کے اختیارات پر تجاوز کے مترادف ہے۔ اپیل میں فیڈریشن، نیب اور چیئرمین پی ٹی آئی کو فریق بنایا گیاہے،وفاق نے اپنی اپیل میں نیب ترامیم کے خلاف فیصلہ کالعدم قرار اور ترامیم کو بحال کرنے کی استدعا کی ہے

    قبل ازیں نیب ترامیم فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر کی گئی تھی،ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے عبد الجبار کیطرف سے نظر ثانی دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں سنے بغیر نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ دیا،نیب ترامیم کے بعد احتساب عدالت نے میرے خلاف ریفرنس انٹی کرپشن عدالت کو بھجوادیا، نیب ترامیم کیخلاف درخواست میں کسی بنیادی حقوق خلاف ورزی کی نشاندہی نہیں کی گئی، نیب ترامیم کیخلاف درخواست آرٹیکل کے تقاضے پوری نہیں کرتی تھی،سپریم کورٹ نیب ترامیم کیخلاف 15 ستمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے،

    نیب آرڈیننس ترمیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع 

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھایا ،سابق وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وفاقی وزراء بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے ،سیاسی جماعتوں کے دیگر قائدین میں نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، مریم نواز، فریال تالپور، اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، جاوید لطیف، مخدوم خسرو بختیار،عامر محمود کیانی، اکرم درانی،سلیم مانڈی والا، نور عالم خان، نواب اسلم رئیسانی،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، نواب ثناء اللہ زہری، برجیس طاہر، نواب علی وسان، شرجیل انعام میمن، لیاقت جتوئی، امیر مقام، گورم بگٹی، جعفر خان منڈووک، گورام بگٹی بھی نیب ترامیم سے مستفید ہوئے

     میاں نواز شریف کی لیگل ٹیم نے ساری تیاری کر لی ہے،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کیلئے مقرر

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    سپریم کورٹ نے نیب قوانین کو کالعدم قراردے دیا ,

    واضح رہے کہ فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی متعدد شقوں کو آئین کے برعکس قرار دے دیا.سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کالعدم قرار دی شقوں کے تحت نیب قانون کے تحت کاروائی کرے ،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیئے جاتے ہیں،آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی،پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی گئی ہیں،عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کر دیئے گئے ہیں ، نیب ترامیم کے سیکشن 10 اور سیکشن14 کی پہلی ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں ،نیب کو سات دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے،تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت مل گئی،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کرپشن کیسز جہاں رکے تھے وہیں سے 7 روز میں شروع کیے جائیں،سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی ہیں عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب ترامیم سے مفاد عامہ کے آئین میں درج حقوق متاثر ہوئے نیب ترامیم کے تحت بند کی گئی تمام تحقیقات اور انکوائریز بحال کی جائیں

    نیب ترامیم کیس ،آخری سماعت میں کیا ہوا تھا،پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  • تاحیات نااہلی کے قانون میں ترمیم کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    تاحیات نااہلی کے قانون میں ترمیم کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن ایکٹ میں تاحیات نااہلی کے قانون میں ترمیم کے خلاف پرنسپل سیکرٹری ایوان صدر، الیکشن کمیشن کو نوٹسز جاری کر دیئے

    تحریری حکم کے مطابق عدالت نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کے لیے طلب کرلی، تحریری حکم میں عدالت نے کہا کہ تمام فریقین 23اکتوبر تک اپنے جوابات جمع کروائیں،پٹیشن میں اہم نکات اٹھائے گئے ہیں ، جسٹس بلال حسن نے شہری مشکور حسین کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں الیکشن کمیشن ،وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ایکٹ میں ترمیم کر کے تاحیات نااہلی کی مدت کو ختم کر پانچ برس کردیا گیا ہے،سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 62ایف ون کی پہلے ہی تشریح کر چکی ہے ،سپریم کورٹ کی تشریح کے بعد قانون میں ترمیم کرنا آئین کے آرٹیکل 175 کے سیکشن 3 کی خلاف ورزی ہے ،عدالت الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے اقدام کالعدم قرار دے.

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت کی حمایت جاری رکھے گی۔

  • اسحاق ڈار ریفرنس سے بری ہوں گے یا ریفرنس آگے چلے گا؟فیصلہ محفوظ

    اسحاق ڈار ریفرنس سے بری ہوں گے یا ریفرنس آگے چلے گا؟فیصلہ محفوظ

    احتساب عدالت اسلام آباد، ن لیگی رہنما اسحاق ڈار و دیگر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس پر سماعت ہوئی

    اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح احتساب عدالت پیش ہوئے،اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس پر سماعت جج محمد بشیر نے کی، اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ 22 نومبر 2022 کو بری کرنے کی درخواست پر دلائل سنے گئے،احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کو بری کرنے کی درخواست پر فیصلہ بھی سنایاتھا،اسحاق ڈار کے ریفرنس پر احتساب عدالت فیصلہ پہلے ہی کر چکی ہے،پراسیکیوٹر افضل قریشی نے کہا کہ ابھی تو پراسیکیوٹر نے بتانا ہے کہ کیس کو چلانا بھی بنتا ہے یا نہیں، وکیل قاضی مصباح نے کہا کہ ریفرنس بند کرنے کی بجائے اسحاق ڈار کو بری کیا گیا تھا،پراسیکیوشن اسحاق ڈار کے خلاف ثبوت پیش کرنے پر ناکام رہی،سیکشن 9 اے 5 کو بھی ختم کردیا گیا، کیس سے تعلق ہی نہیں رہا،مکمل دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایاگیا،

    جج محمد بشیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار اور دلائل سن لیں گے، آپ کو تو دلائل یاد ہوں گے، وکیل قاضی مصباح نے کہا کہ ضرور، آپ کے سامنے دلائل دینے کے لیے ہی کھڑے ہیں،احتساب عدالت نے فیصلے میں تحریر کیاتفتیش کسی وجہ سے ٹھیک طرح سے نہیں ہوئی،عدالت کو بتانا چاہتے ہیں کہ تفتیش کا طریقہ کار کیاتھا،کوئی ایسا گواہ نہیں آیا جس پر تفتیشی افسر نےکہاہو کہ اثاثہ جات سے متعلق دستاویزات غلط ہیں،جے آئی ٹی نہ تفتیشی افسر کوئی ثبوت اسحاق ڈار کے خلاف لایا،تفتیشی افسر نے جو ثبوت اکٹھے کرنے چاہیے تھے، نہیں کیے،

    اسحاق ڈار و دیگر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس پر سماعت مکمل ہوئی گئی،نیب پرایسکیوٹر اور اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح کے دلائل مکمل ہو گئے،کیا اسحاق ڈار ریفرنس سے بری ہوں گے یا ریفرنس آگے چلے گا؟ احتساب عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر 21 اکتوبر کو محفوظ فیصلہ سنائیں گے

    احتساب عدالت نے اس سے قبل اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس داخل دفتر کر دیا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس پر دوبارہ سماعت کی گئی

    جس دفتر سے نکل کر آیا تھا، اللہ نے اسی میں واپس بلوایا ہے، اسحاق ڈار

    ڈبل شاہ کیس، نیب کی جانب سے متاثرین میں کتنے کروڑ کے چیک تقسیم ہوئے؟

    نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ،23 ماہ میں کتنے مقدمات دائر ہوئے؟ چیئرمین نیب نے بتا دیا

    خورشید شاہ نے اپنا گھر کس کے پلاٹ پر بنایا؟ نیب کا عدالت میں حیران کن انکشاف

  • کیا درخواست گزار کسی تخریب کاری میں ملوث ہے؟ چیف جسٹس

    کیا درخواست گزار کسی تخریب کاری میں ملوث ہے؟ چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں افغان نژاد ڈنمارک کے شہری کو پی او سی کارڈ جاری کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل نادرا نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار نے پی او سی کی توثیق کیلئے درخواست دی تھی، افنان کریم کنڈی نے کہا کہ آئی ایس آئی کی مخالفت پر پی او سی کارڈ کی توثیق نہیں کی گئی، پی او سی کارڈ ان غیرملکیوں کو جاری ہوتا ہے جن کی شادی پاکستان میں ہوئی ہو، بھارت یا کسی بھی دشمن ملک سے تعلق رکھنے والے کو کارڈ جاری نہیں ہوتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیاکہ کیا درخواست گزار کسی تخریب کاری میں ملوث ہے؟ پی او سی کارڈ کی توثیق کی مخالفت کس بنیاد پر کی گئی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار افغان شہری ہے، اہلخانہ کے صرف نام دیے گئے پتہ نہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار کیخلاف کوئی شواہد ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار کے بہن بھائی کابل اور لوگر میں رہتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی خود طورخم اور چمن بارڈر جائیں اور دیکھیں کیا ہو رہا ہے، جس کو دل کرتا ہے پاکستان آنے دیا جاتا ہے جسے دل چاہے روک دیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیسوں کا دھندا یہاں کھڑے ہوکر نہ کریں،

    جسٹس اطہرمن اللہ سے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلاوجہ کسی پر شک کرنا انسانی حقوق کیخلاف ہے، درخواست گزار کے بیوی بچے پاکستانی اور ملک میں موجود ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت سے ایک ماہ کی مہلت مانگ لی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ آئندہ سماعت تک درخواست گزار کو ملک سے نہیں نکالا جائے گا

    عدالت نے حکم دیا کہ مسئلہ حل نہ ہوا تو آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل خود پیش ہوں، دوران سماعت مداخلت پر عدالت نے درخواست گزار حیات اللہ وفادارکو جھاڑ پلا دی ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کادرخواست گزار کی اہلیہ سے دلچسپ مکالمہ ہوا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خاتون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا حیات اللہ گھر میں آپ کی بات سنتا ہے؟ ہماری تو نہیں سن رہا،خاتون نے چیف جسٹس کو جواب دیا کہ گھر میں میری بات سنتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک یہ وفادار صاحب آپ کیساتھ وفادار ہیں ملک میں رہ سکتے ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس عمران خان کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس عمران خان کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی
    ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت پیش ہوئے، عمران خان کے وکیل کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں،
    سائفر کیس میں اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ” قابل دست اندازی جرم پر ایف آئی آر کا اندراج بنتا ہے وفاقی حکومت نے سیکرٹری داخلہ کو کمپلینٹ داخل کرنے کی منظوری دی ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمہ میں دس سال سے کم سزا والی دفعہ میں ضمانت ہو سکتی ہے دس سال سے زائد سزا والی سیکشن لگی ہو تو وہ ناقابل ضمانت ہے مقدمہ اخراج کی درخواست میں کھوسہ صاحب نے تسلیم کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے جرم نہیں بنتا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سائفر آرہے ہوں گے روٹ آف پریکٹس ہوں گے وہ سمجھا دیجئے گا ، یقینا وزارت خارجہ نے ایس او پیز بنائے ہوں گے وہ بتا دیجئے گا ، سائفر کے ذریعے جو بھی معلومات آرہی ہے کیا وہ آگے کمیونیکٹ نہیں کی جا سکتیں ؟ وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ” ایک کیٹگری میں آپ معلومات شئیر کر سکتے ہیں دوسری کیٹگری میں آپ نہیں کر سکتے یہ سائفر ٹاپ سیکرٹ تھا اس کو شئیر نہیں کیا جا سکتا تھا ، جس چینل سے سائفر آیا تھا اسی چینل نے واپس جانا تھا ، سائفر کی کاپی کو آخرکار ضائع ہونا تھا صرف اوریجنل کاپی نے رہنا تھا ، پٹیشنر کے وکیل نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کی درست تعریف یا تشریح نہیں کی، عمران خان نے سائفر کی معلومات پبلک تک پہنچائیں جس کے وہ مجاز نہ تھے ” سیکرٹ ڈاکومنٹ پبلک کرنے پر بطور وزیر اعظم عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنا حاصل نہیں ،

    سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،ایف آئی اے سپشیل پراسیکیوٹر رضوان عباسی
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر آنے کے رولز آف پریکٹس ہوں گے، کچھ ایس او پیز بنائے ہوں گے، پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہاکہ سائفر کی دو کیٹگریز ہوتی ہیں جن میں سے ایک کی کمیونی کیشن کی جا سکتی ہے مگر دوسری کیٹگری کی نہیں،یہ سائفر دوسری کیٹگری کا سیکرٹ ڈاکومنٹ تھا جس کی معلومات پبلک نہیں کی جا سکتی تھیں، اس جرم کی سزا چودہ سال قید یا سزائے موت بنتی ہے ،سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،نعمان سائفر اسسٹنٹ کے پاس سائفر آیا ، ڈپٹی ڈائریکٹر عمران ساجد ، حسیب بن عزیز ، سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کا 161 بیان ہے ، شاموں قیصر وزیر اعظم ہاؤس میں سائفر آفیسر ، ڈی ایس پی ایم آفس حسیب گوہر کا 161 کابیان ہے ،ساجد محمود ڈی ایس وزیر اعظم آفس اور اعظم خان کا 161 کا بیان ہے ،اعظم خان کبھی بھی اس کیس میں ملزم نہیں تھے بلکہ وہ گواہ ہیں ان کے ایک اعتراض کی وضاحت کر دوں ، ان کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر تھانہ کوہسار میں درج ہوئی تھی کچھ دنوں بعد انہوں نے اس کیس کے تفتیشی افسر سے رابطہ کیا کہا پیس آف مائنڈ کے لیے کچھ عرصہ کے لیے وہ کہیں چلے گئے تھے پھر انہوں نے 164 کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا

    عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کا بنیادی گواہ کون ہے ؟اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ اعظم خان ، اسد مجید ، سہیل محمود بنیادی گواہ ہیں ،سائفر اسسٹنٹ نعمان کا 161 کا بیان اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت میں پڑھا سائفر کیس میں ایف آئی اے نے تین ایکسپرٹس کی رائے بھی شامل کی ہے کہ اس ایکٹ کے عالمی سطح پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں تین ایکسپرٹس میں اسد مجید خان ، سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور وزارت خارجہ کے سابق ڈی جی USA فیصل نیاز ترمزی کا بیان بھی شامل ہے ،سائفر کو پبلک میں لہرانا سیاسی تھا یہ آفیشل فنگشن آرٹیکل 248 کے استثنی میں نہیں آتا

    اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی تقریر میں پڑھنا چاہوں گا ، میں اعظم خان کا بیان بھی پڑھنا چاہوں گا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ضرورت ہے پڑھنے کی ؟ آپ ریکارڈ دے دیجیے گا میں دیکھ لوں گا ،سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت میں دلائل کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے بھارتی عدالت کا فیصلہ پڑھا.عدالت نے استفسار کیا کہ بھارت کا آفیشل سیکریٹ ایکٹ ہے آپ کے پاس ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ 90 فیصد بھی ایکٹ ہمارا اور بھارت کا ایک جیسا ہے ،عدالت نے کہا کہ ہم نے بھی انہوں نے بھی کچھ ترامیم کیں ہیں ،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ جن کیسز کے حوالے دیے ان میں زیادہ تر کلاسایفائیڈ ڈاکومنٹس کی معلومات لیک کرنے کے خدشات پر تھے،ان کیسز میں معلومات لیک کرنے کے ثبوت نہیں تھے مگر پھر بھی معلومات لیک ہونے پر سزائیں ہوئیں،
    اس کیس میں تو اعتراف جرم موجود ہے کہ سیکرٹ ڈاکومنٹ کی معلومات کو پبلک کیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ چالان جمع ہو چکا آپ نے گرفتار رکھ کر کیا کرنا ہے ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ایسی ججمنٹ دینا چاہتا ہوں چالان جمع ہو چکا تھا ضمانت خارج ہوئی، رولز آف بزنس 1973 عدالت کے سامنے پڑھا گیا،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ اگر عدالت تھوڑا وقت دے تو میں عدالتی معاونت کر دوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج ہی ختم کرنا ہے روزانہ اس کو لیکر نہیں بیٹھ سکتے، اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ سائفر سیکورٹی کے حوالے سے الگ سے رولز آف بزنس میں باب ہے،اگر کسی بیان سے پاکستان کے سپر پاور امریکا سے تعلقات متاثر ہوں تو یقینا اس کا کسی کو فائدہ بھی ہو گا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی وہ کر رہا ہے جو انتہائی ذمہ دار شخص ہونا چاہئے،اس متعلق معلومات تو وہ اپنی فیملی کے ساتھ بھی شیئر نہیں کر سکتا، یہ کیس بھی نہیں کہ اپنے فرینڈز کے درمیان بیٹھ کر معلومات شیئر کیں،وزارت خارجہ کے امریکہ میں افسر فیصل ترمذی کا بیان ریکارڈ کا حصہ ہے ، جس میں فیصل ترمذی کے بیان میں موجود ہے کیسے ایک ملک سائفر پبلک کرنے سے متاثر ہوا ، کیسے انہوں نے اس ایکٹ کو لیا ، کیسے دوسرے ملک کے تعلقات پر اثر ہوا پاکستان میں 23 مارچ کی او آئی سی کی میٹنگ میں امریکی وفد بطور ابزور بھی آیا ہوا تھا،انہوں نے سیاسی فائدے کے لئے سائفر کو استعمال کیا،سردار لطیف کھوسہ نے کہہ دیا اور تسلیم بھی کر لیا ہے اس وقت کے وزیر اعظم نے یہ سب کیا تھا،

    سائفر کیس میں ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل مکمل کر لیے عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے جوابی دلائل شروع کر دیے، عمران خان کے وکیل کے دلائل مکمل ہوئے تو عدالت نے سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • نواز شریف کو جیل جانے سے کیسے بچایا جائے؟ن لیگی قانونی ٹیم متحرک

    نواز شریف کو جیل جانے سے کیسے بچایا جائے؟ن لیگی قانونی ٹیم متحرک

    سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان واپسی،نواز شریف کو جیل جانے سے کیسے بچایا جائے؟ ن لیگی قانونی ٹیم نے حکمت عملی بنا لی

    ن لیگی قانونی ٹیم کی جانب سے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی، نواز شریف کی طرف سے ان کے وکلا کی جانب سے درخواستیں آئندہ 48 گھنٹے میں دائر کئے جانے کا امکان ہے،دونوں ریفرنسز میں نواز شریف کی درخواستوں کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا گیا،آج رات یا کل صبح تک مختلف قانونی نکات پر غور کے بعد درخواستوں کا مسودہ فائنل کیا جائیگا ،اس ضمن میں شہباز شریف اور مریم نواز سے بھی قانونی ٹیم مشاورت کرے گی.

    سابق وزیر اعظم نواز شریف ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں ،احتساب عدالت نے نواز شریف کو دس سال قید اور 80لاکھ پاؤنڈ کی سزا سنائی تھی،العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی،سابق وزیر اعظم نواز شریف کو عوامی عہدے کیلئے بھی نااہل قرار دیا گیا تھا.

    نواز شریف کو ویلکم کریں گے. پیپلزپارٹی

    نواز شریف نااہلی معاملہ دوبارہ عدالت میں جائے گا. ماہر قانون کا دعویٰ

    کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف

    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی

    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کی وطن واپسی، قانونی ٹیم نے حکمت عملی تیار کرلی

    واضح رہے کہ نواز شریف کی واپسی رواں ماہ 21 اکتوبر کو طے ہے،ن لیگ نواز شریف کے استقبال کی تیاریان کر رہی ہے، نواز شریف 21 اکتوبر کو پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پہنچیں گے، نواز شریف کا طیارہ لاہور ایئر پورٹ پر دن 12 بجے اترے گا، نواز شریف کے طیارے میں 152 افراد سوار ہوں گے جس میں ن لیگی رہنما، اور میڈیا کے افراد بھی شامل ہوں گے،نواز شریف ایئر پورٹ سے مینار پاکستان آئیں گے جہاں وہ ایک جلسے سے خطاب کریں گے، جلسے سے صرف نواز شریف کا ہی خطاب ہو گا،

    نواز شریف کے بھر پور استقبال کی تیاریاں جاری ہیں، مریم نواز روزانہ کی بنیاد پر پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے ساتھ استقبال کی تیاریوں کے حوالہ سے اجلاس کر رہی ہیں، ن لیگ کی کوشش ہے کہ مینار پاکستان کو بھرا جائے،اورشاندار استقبال کیا جائے،پنجاب کےتمام اضلاع میں ن لیگ کی کارنر میٹنگز ہو رہی ہے،ضلعی و تحصیلی عہدیداران کو 21 اکتوبرکو مینار پاکستان بندے لانے کے لئے ٹاسک مل گیا ہے،

  • سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کی بھی جیل ٹرائل کیخلاف درخواست

    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کی بھی جیل ٹرائل کیخلاف درخواست

    سائفر کیس: شاہ محمود قریشی نے بھی جیل ٹرائل کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی

    شاہ محمود قریشی کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں عدالت سے 9 اکتوبر کے ٹرائل کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی، درخواست میں کہا گیا کہ عدالت ٹرائل کورٹ کو فرد جرم عائد کرنے سے روکے ، بغیر کسی نوٹیفکیشن کے میرا جیل ٹرائل جاری ہے ، عدالت جیل ٹرائل سے روک کر اوپن ٹرائل کی ہدایت کرے ، شاہ محمود قریشی نے آج کی درخواست پر سماعت کی استدعا کر دی، شاہ محمود قریشی نے بیرسٹر تیمور ملک اور فائزہ اسد کے ذریعے درخواست دائر کی

    قبل ازیں عمران خان نے بھی ایسی ہی ایک درخواست دائر کی تھی کہ انکا ٹرائل جیل کی بجائے عدالت میں کیا جائے تا ہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سائفر کیس میں جیل سماعت کے خلاف درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نا مل سکا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،سائفر کیس کی سماعت کل جیل میں ہی ہو گی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل ٹرائل سکیورٹی کے مدنظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے ، بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی ، عمران خان خود اپنی سکیورٹی کے حوالے ماضی متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ، عمران خان کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • بشریٰ بی بی کہاں ہیں؟ عدالت،بشریٰ روسٹرم پر آئیں اور ضمانت منظور

    بشریٰ بی بی کہاں ہیں؟ عدالت،بشریٰ روسٹرم پر آئیں اور ضمانت منظور

    احتساب عدالت اسلام آباد ،بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ، 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت

    بشریٰ بی بی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ہمراہ ڈیوٹی جج راجاجوادعباس کی عدالت پیش ہوئیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ کافی عرصہ ہوگیا آپ کو دیکھا نہیں، ڈیوٹی جج راجاجوادعباس نے کہا کہ اب نارکوٹکس کی عدالت کا چارج مل گیاہے، وکیل لطیف کھوسہ نےکہا کہ جس دن احتساب عدالت نے درخواست ضمانت نمٹائی، اسی دن نیب نے نیا نوٹس بھیج دیا، ڈیوٹی جج راجاجوادعباس نے استفسار کیا کہ بشریٰ بی بی کہاں ہیں؟ ڈیوٹی جج راجاجوادعباس نے بشریٰ بی بی کو روسٹرم پر بلا لیا،بشریٰ بی بی روسٹرم پر آگئیں

    بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ، 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں ضمانت منظور کر لی گئی،ڈیوٹی جج راجاجواد عباس نے 31 اکتوبر تک بشریٰ بی بی نے درخواست ضمانتین منظور کرلی ،ڈیوٹی جج راجاجوادعباس نے بشریٰ بی بی کی پانچ پانچ لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانتین منظور کرلی

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • خاتون جج دھمکی کیس،چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے،وکیل

    خاتون جج دھمکی کیس،چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے،وکیل

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر جوڈیشل مجسٹریٹ مریدعباس کی عدالت پیش ہوئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، ابھی بھی ہورہی، مجھے نہیں معلوم اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت میں موجود ہیں یا نہیں،

    پرایسکیوشن عدالت میں موجود ہے، معاون پراسیکیوٹر روسٹرم پر آگئے ،معاون پراسیکیوٹر نے کہا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی اسلام ہائیکورٹ میں مصروف ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی کو بلا لیں، 2 بجے سماعت رکھ لیتےہیں،میں انتظار کرلوں گا، آج یا کل اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی سےعدالت پیش ہونے کی گارنٹی لیں،جج مریدعباس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے صرف خاتون جج دھمکی کیس کی وجہ سے آج کے دیگر کیسز ملتوی کردیے،

    عدالت پیشی کے موقع پر بھی عمراں خان نے عدالت سے اس کیس میں معافی مانگی تھی،چیرمین پی ٹی آئی عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ 27 سال میں نے قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی ہےمیں نے جوش خطابت میں ایک مظاہرے میں یہ الفاظ کہیں تھے ،میں نے اپنے الفاظ پر معافی مانگنے کے لیے جج زیبا چوہدری کی عدالت بھی گیا، آج تک میں نے کوئی قانون نہیں تھوڑا، عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں عدالت میں کھڑے ہوکر معافی مانگ لی ،کہا کہ اگر میں نے لائن کراس کی ہے تو معذرت چاہتا ہوں،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاتون جج اور انتظامی افسروں کو دھمکی دی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم گزشتہ سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی،عمران خان کے اس کیس میں وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، تا ہم بعد میں منسوخ کر دیئے گئے تھے، عمران خان اس کیس میں ضمانت پر ہیں

  • پی ٹی آئی کی لاہور میں جلسہ کی اجازت کیلئے درخواست پر سماعت ملتوی

    پی ٹی آئی کی لاہور میں جلسہ کی اجازت کیلئے درخواست پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی کی لاہور میں جلسہ کی اجازت کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی،فاضل جج کی رخصت کی بنا پر درخواست پر سماعت نہ ہو سکی،جسٹس راحیل کامران ایڈیشنل سیکرٹری پی ٹی آئی پنجاب عظیم اللہ خان کی درخواست پر سماعت کرنا تھی،درخواست میں ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک میں عنقریب عام انتخابات کا انعقاد ہونے جارہاہے پی ٹی آئی نے الیکشن کیلئے اپنے منشور کا اعلان کیلئے جلسہ کا انعقاد کرنا ہےیہ جلسہ موچی گیٹ یا بابا گراونڈ میں ہونا ہے،ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر ذمہ داران کو جلسے کی اجازت کیلئے درخواستیں دیں جلسے کیلئے پی ٹی ائی کو اجازت نہیں دی گئی،اجازت نہ ملنے سے جلسے کے انتظامات کرنے کیلئے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے الیکشن کیلئے آئین ہر سیاسی جماعت کو عوامی رابطے کی اجازت دیتا ہے عدالت ڈپٹی کمشنر لاہور کو پی ٹی آئی کو موچی گیٹ یا بابا گراونڈ میں جلسہ کرنے اجازت دینےکا حکم دے

    دوسری جانب نواز شریف کی پاکستان واپسی پر ڈی سی لاہور نے ن لیگ کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت دے رکھی ہے

    شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس 

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی