Baaghi TV

Tag: عدالت

  • پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 30 جنوری تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کی راہداری ضمانت کی درخواستوں پر پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے سماعت کی۔ اس موقع پر اسد قیصر کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں اور وہ اس وقت اپنی راہداری ضمانت کی درخواست دائر کر رہے ہیں۔جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس وقت درخواست گزار کہاں ہیں تو اسد قیصر کے وکیل نے بتایا کہ وہ راستے میں ہیں اور عدالت آ رہے ہیں۔ جسٹس کامران حیات میاں خیل نے ریمارکس دیے کہ "ٹھیک ہے، جب وہ عدالت آئیں گے تو پھر کیس کی سماعت کریں گے۔”اس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے اسد قیصر کو 2 لاکھ روپے زر ضمانت کے عوض راہداری ضمانت دی اور پولیس کو 30 جنوری تک ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما،سابق اسپیکر اسد قیصر کے خلاف مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز درج ہیں

    پشاور ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد اسد قیصر نے میڈیا سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کے خلاف بے تحاشا مقدمات درج ہیں اور ان کے ارکان اسمبلی کے خلاف بھی جعلی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ اسد قیصر نے 26 نومبر کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دن پی ٹی آئی کے کارکنوں پر تشدد کیا گیا، جس کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ "26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہے، ” انہوں نے بانی چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور ان کا مؤقف یہ ہے کہ جب تک کارکنوں کی رہائی نہیں ہوگی، وہ خود کو رہائی کے لیے پیش نہیں کریں گے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے مذاکراتی کمیٹی کے حوالے سے بتایا کہ حکومت کے سامنے دو اہم مطالبات رکھے گئے ہیں۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، جبکہ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ "ہمیں افغانستان کے ساتھ کشیدگی پر افسوس ہے، اور اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کیا جانا چاہیے۔”اسد قیصر نے افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اپنا کلچر ہے اور ہمیں افغانستان کے ساتھ مفاہمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان افہام و تفہیم سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

    سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

  • جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    نیو یارک: امریکی فیڈرل اپیل کورٹ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جنسی ہراسانی کے کیس میں فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ان کی نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے ٹرمپ کو مصنفہ ای جین کیرول کے خلاف 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جسے اب اپیل کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے۔

    یاد رہے کہ ای جین کیرول، ایک معروف امریکی صحافی اور مصنفہ ہیں، جنہوں نے ٹرمپ پر 1990 کی دہائی میں نیو یارک کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے ڈریسنگ روم میں جنسی طور پر بدسلوکی کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ کیرول کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا، جس پر انہوں نے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
    ای جین کیرول نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا تھا کہ 1990 کی دہائی کے وسط میں نیو یارک کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے ڈریسنگ روم میں ٹرمپ نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔ٹرمپ نے اس الزام کو مکمل طور پر مسترد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ کیرول جھوٹ بول رہی ہیں۔اس کے بعد کیرول نے ٹرمپ کے اس الزامات کی تردید پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔2023 میں نیو یارک کی وفاقی عدالت نے ٹرمپ کو ای جین کیرول کی جنسی ہراسانی کا مرتکب قرار دیا اور انہیں 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی، تاہم فیڈرل اپیل کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کو سیاسی طور پر متعصب قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ ان کے خلاف ایک "سیاسی حملہ” ہے۔ ٹرمپ نے اس بات کا بھی ذکر کیا تھا کہ یہ مقدمہ دراصل 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کو متاثر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم، اپیل کورٹ نے ان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا اور فیصلہ برقرار رکھا۔

    یہ فیصلہ ٹرمپ کی سیاسی زندگی کے لیے ایک سنگین دھچکہ ہے۔ ان کے خلاف جنسی ہراسانی کے مقدمات اور ہتک عزت کے مقدمات کئی برسوں سے جاری ہیں، اور یہ فیصلہ ان کے لیے ایک نیا قانونی مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ای جین کیرول کے حق میں آیا گیا یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ عدالت نے متاثرہ خاتون کی گواہی کو سچ سمجھا اور اسے تسلیم کیا، جس سے ٹرمپ کے خلاف قانونی جنگ میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

    نیو یارک کی عدالت کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف فیصلہ برقرار رکھنے اور ہرجانے کا حکم دینے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ قانونی نظام میں کسی بھی شخص کو انصاف سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ ای جین کیرول کی قانونی فتح نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ خواتین کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔

    میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ

  • خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: خلیل الرحمن قمر ہنی ٹریپ کیس کی ملزمہ آمنہ عروج اور یاسر علی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    عدالت نے ملزمان کے وکلا کو تیاری کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 6 دسمبر تک ملتوی کر دی ،ملزمان کے وکیل کی جانب سے تیاری کے لیے مزید مہلت طلب کی گئی،جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیسز پر سماعت کی ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انسداددہشت گردی عدالت لاہور نے آمنہ عروج اور یاسر علی کی ضمانت بعد از گرفتاری خارج کر دی،ملزمہ کو خلیل الرحمن قمر کی جانب سے ناجائز ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے بلیک میل کیا گیا،ایف آئی آر چار دنوں کی تاخیر کے بعد درج ہوئی جس سے پراسیکیوشن کا کیس بری طرح متاثر ہوتا ہے،لاہور ہائی کورٹ آمنہ عروج اور یاسر علی جی درخواست ضمانت منظور کرے،

    خلیل الرحمان آج کل خبروں میں ہیں، گینگ سے تشدد کا نشانہ بننے سے لے کر نازیبا ویڈیو لیک ہونے تک ہر روز خلیل الرحمان قمر کی دو چار خبریں آ رہی ہیں، ہر خبر میں نئے انکشافات سامنے آ رہے جس میں خلیل الرحمان قمر کا حقیقی کردار بے نقاب ہو رہا ہے،خلیل الرحمان قمر آمنہ عروج کو فون کرتے تھے، خود ملنے گئے، ایک بار نہیں کئی بار ملے، نازیبا ویڈیو بنیں اور وائرل ہو گئیں، مقدمہ درج ہوا تو آمنہ عروج ،حسن شاہ و دیگر کو گرفتار کر لیا گیا خلیل الرحمان قمر بھی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایف آئی اے پہنچ گئے کہ میری ساکھ متاثر ہوئی ہے،خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،

    خلیل الرحمان قمر کو 15 جولائی کو مبینہ طور پر اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، ملزمان کے خلاف 21 جولائی کو تھانہ سندر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،پولیس کے مطابق کیس کے مرکزی ملزم حسن شاہ سمیت 12 ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں،حسن شاہ 28 جولائی کو پشاور سے اپنے دوست کے ہمراہ گرفتار ہوا تھا اور اسی دن ہی خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہوئی تھی،پولیس نے گینگ کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نکال لیا ہے، ملزم حسن شاہ کے خلاف ننکانہ صاحب میں اغواء ، تشدد ، بجلی چوری کے 2 مقدمات درج ہیں ،ملزم کے ساتھی رفیق عرف فیکو قتل سمیت سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے،مرکزی ملزم حسن شاہ اور رفیق کو پولیس نے پشاور سے گرفتار کیا ہے،پولیس ریکارڈ کے مطابق رفیق عرف فیکو کے خلاف قتل ، اقدام قتل ، تشدد کے 6 مقدمات شیخوپورہ میں درج ہیں،ملزم رفیق لاہور میں بھی قتل کے مقدمہ کا اشتہاری ہے،ملزم رفیق مرکزی ملزم حسن شاہ کے شوٹر کے طور پر آپریٹ کرتا ہے، ملزم حسن شاہ منشیات کا عادی ہے،افیون سمیت پکڑا گیا ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

  • لاہورہائیکورٹ کاتمام سکولز کو ایک ماہ بعد اپنی دوبارہ رجسٹریشن کروانے کا حکم

    لاہورہائیکورٹ کاتمام سکولز کو ایک ماہ بعد اپنی دوبارہ رجسٹریشن کروانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ، اسموگ کے تدراک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    ہائیکورٹ نے تمام سکولز کو ایک ماہ بعد اپنی دوبارہ رجسٹریشن کروانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے سیکرٹری ایجوکیشن کو ہدایت کی کہ جو سکول بس پالیسی پر عمل نہیں کرتا اس کی رجسٹریشن معطل کردی جائے،عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے کو لاہور کی سٹرکوں کا جائزہ لیکر ٹریفک پلان طلب کرلیا ، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ حکومت اسموگ کے تدراک کے لیے بڑے اچھے اقدامات کررہی ہے،

    سیکرٹری سکولز ایجوکیشن خالد نذیر وٹو عدالت کے روبرو پیش ہوئے،سیکرٹری سکولز ایجوکیشن خالد نذیر نے پرائیویٹ سکولز سے متعلق مجوزہ رولز پیش کیے، سیکرٹری ایجوکیشن نے کہا کہ ہم نے پالیسی بنائی ہے سکولز کی بسیں ہوں گئیں تو سکولز کی رجسٹریشن ہوگی،ہم رولز میں نئے سکولز کی رجسٹریشن کے لیے بسیں لازمی قرار دے رہے ہیں،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آپ رولز بنائیں ایس او پیز پر یقین نہیں کرتا ،سکول بسیوں کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے سکولز مالکان کے پاس بہت پیسے ہیں ،ہم نے اگلے سیزن سے پہلے پہلے تمام احکامات پر عمل کروانا ہے ،جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ ایچسن سکولز کس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ،ایچسن ہائرر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے،جسٹس شاہد کریم نے پنجاب حکومت کے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ایچسن کو بھی آگاہ کریں،ماحولیات کا معاملہ بہت سنجیدہ ہوچکا ہے اس میں مزید وقت ضائع نا کیا جائے ،مجھے بہت خوشی ہے حکومت اسموگ پر قابو پانے کے لیے اقدامات کررہی ہے ،ملتان روڑ پر بسوں کے اڈے اور سوسائٹیز ہیں وہاں پر ٹریفک رولز پر عمل نہیں کیا جارہا ،

    پنجاب حکومت کے وکیل حسن اعجاز ایڈووکیٹ پیش ہوئے ،جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی

    بیلجیئم کا ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی کا اعلان

    سوشل میڈیا کی دوستی، منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

  • نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے،  عطا تارڑ

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس مفصل تھی،

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نو مئی اور 26 نومبر کے حوالے سے تفصیلی خیالات کا اظہار کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے احسن طریقے سے تمام امور پر روشنی ڈالی،نو مئی کے کیسز میں جن لوگوں نے دفاعی تنصیبات پر حملہ کیا اور شہداءکی یادگاروں کو مسمار کیا، ان کے ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوئے، ٹرائل میں وکیل کا حق دینے کے ساتھ ساتھ فیملی اور ریکارڈ تک رسائی فراہم کی گئی،ملٹری کورٹس میں ٹرائل غیر موجودگی میں نہیں ہو سکتا، اس کے لئے خود موجود ہونا لازمی ہوتا ہے، ٹرائل میں اپیل کے دو حق دیئے گئے، ملٹری اتھارٹیز اور ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دیا گیا ہے، رائٹ ٹو فیئر ٹرائل کو یقینی بنایا گیا ہے،جن لوگوں نے فوجی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا، وہ دیگر جلاﺅ گھیراﺅ کے واقعات میں ملوث تھے ان کے مقدمات اے ٹی سی میں چل رہے ہیں، اگر دفاعی تنصیبات پر حملہ کیا گیا ہے تو اس کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا،تمام مقدمات قانون اور آئین کے مطابق چل رہے ہیں، نو مئی کے منصوبہ ساز اور ماسٹر مائنڈ کے خلاف بھی کیس آگے بڑھنا چاہئے،نو مئی کے کیسز کا فیصلہ عجلت میں نہیں ہوا، اس میں دو سال کا عرصہ لگا، نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے،

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

  • زونگ موبائل نیٹ ورک کی درخواست ناقابلِ سماعت ہونے کی بنیاد پر خارج

    زونگ موبائل نیٹ ورک کی درخواست ناقابلِ سماعت ہونے کی بنیاد پر خارج

    اسلام آباد:عدالت نے زونگ موبائل نیٹ ورک کو کسٹمرز سے وصول کردہ دو ارب سے زائد کی رقم کسٹمرز کو ہی واپس کرنے کا آرڈر برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی اے کے آرڈر کے خلاف موبائل نیٹ ورک آپریٹر زونگ کی درخواست خارج کر دی پی ٹی اے نے اگست 2019 میں زونگ کو سروس اور مینٹیننس کی مد میں چارج کی گئی رقم واپس کرنے کا آرڈر کیا تھا پی ٹی اے نے 30 اگست 2019 کو زونگ موبائل نیٹ ورک کو 2 ارب 2 کروڑ 80 لاکھ اور 38 ہزار روپے واپس کرنے کا آرڈر کیا تھا –

    زونگ موبائل نیٹ ورک کو 26 اپریل سے 12 جولائی 2019 کے درمیان وصول کردہ چارجز واپس کرنے کا حکم دیا گیا تھازونگ موبائل نیٹ ورک آپریٹر ہر ایک سو روپے کا کارڈ ری چارج کرنے پر دس روپے چارج کرتا تھا جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے زونگ کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کی-

    حکومتی اتحاد ٹوٹ گیا،جرمن صدر نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی

    فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے 11 جون 2018 میں سوموٹو نوٹس لے کر کمپنیز کو موبائل ری چارج پر چارجز لینے سے روک دیا، اپیل کنندہ زونگ کے مطابق انہوں نے سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد 13 جون 2018 سے 10 فیصد چارجز لینا روک دی،اپیل کنندہ وکیل کے مطابق 24 اپریل 2019 کو سپریم کورٹ نے کیس نمٹانے کے مختصر فیصلے میں حکمِ امتناعی ختم کر دیا-

    فیصٌلے میں کہ گیا کہ اپیل کنندہ کے مطابق حکمِ امتناعی ختم ہونے سے یہ سمجھ آیا کہ چارجز لینے پر پابندی باقی نہیں رہی، اپیل کنندہ کے سپریم کورٹ نے 10 مئی کو تفصیلی فیصلہ جاری کیا جو اُنہیں کو 3 جولائی کو ملا، سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ سیلولر ٹیلی کام کمپنیز کو چارجز لینے کی اجازت نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 10 جولائی کو پی ٹی اے نے زونگ سے اِس مدت میں لیے گئے چارجز کی تفصیلات طلب کیں-

    یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے کے 31 افسران اور اہلکاروں کےملوث ہونے کا انکشاف

    فیصلے میں کہا گیا کہ زونگ نے 16 اگست 2019 کو تفصیلات دیں کہ 2 ارب 2 کروڑ 80 لاکھ اور 38 ہزار روہے کے چارجز وصول کیے گئے، پی ٹی اے نے 30 اگست کو زونگ موبائل نیٹ ورک کو چارجز کی مد میں وصول کردہ روم کسٹمرز کو واپس کرنے کا آرڈر کیا، پی ٹی اے وکیل کے مطابق آرڈر پر عملدرآمد نہ ہونے پر 5 نومبر 2019 کو زونگ کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، پی ٹی اے وکیل نے میرٹ پر دلائل سے پہلے کیس قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا، پی ٹی اے وکیل کے مطابق زونگ کو وصول کردہ رقم واپس کرنے کا پی ٹی اے کا خط کوئی آرڈر نہیں، زونگ موبائل نیٹ ورک کی درخواست ناقابلِ سماعت ہونے کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہے-

    اسرائیل کی جانب سے شام پر نیوکلئیر حملہ کرنے کا دعویٰ

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، سرکاری خرچ پر حج و عمرہ پر بھیجے گئے  افراد کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سرکاری خرچ پر حج و عمرہ پر بھیجے گئے افراد کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی ترقیاتی اتھارٹی (سی ڈی اے) سے سرکاری خرچ پر حج و عمرہ پر بھیجے گئے افسران اور سٹاف کی تفصیلات ایک ماہ کے اندر فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    یہ احکام جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ڈاکٹر اسلم خاکی کی درخواست پر جاری کیے۔درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سی ڈی اے کے پاس ایکوائر کردہ زمین کے مالکان کو ادائیگیاں کرنے کے لیے رقم موجود نہیں، لیکن دوسری طرف سی ڈی اے اپنے افسران و سٹاف کو حج و عمرہ جیسے نجی مذہبی امور پر سرکاری خرچ پر بھیج رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ناقابل فہم اور غیر منصفانہ عمل ہے، کیونکہ عوامی خزانے سے حج و عمرہ کی سہولت فراہم کرنے کا جواز نہیں بنتا۔ڈاکٹر اسلم خاکی نے اپنے درخواست میں یہ بھی استدعا کی کہ سی ڈی اے کے اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل کو روکا جائے اور ان افسران و سٹاف کی تفصیلات فراہم کی جائیں جو اس سرکاری خرچ پر حج و عمرہ پر گئے ہیں۔عدالت نے درخواست کی سماعت کے دوران سی ڈی اے کے حکام کو طلب کیا اور انہیں ایک ماہ کے اندر تمام تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اس حوالے سے سی ڈی اے کو ایک خط جاری کرتے ہوئے ان افسران کی فہرست فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی جو سرکاری خرچ پر حج و عمرہ پر گئے ہیں، اور اس بات کی وضاحت کرنے کو کہا کہ اس عمل کی بنیاد کیا ہے۔

    اس حکم سے سی ڈی اے میں موجود افسران و سٹاف کے لیے ایک سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے کہ کیا سرکاری خزانے سے ان کی مذہبی فریضہ کی تکمیل کی اجازت قانونی اور اخلاقی طور پر درست ہے؟اس کیس کی اگلی سماعت ایک ماہ بعد مقرر کی گئی ہے، اور عدالت نے سی ڈی اے سے جواب طلب کیا ہے کہ آیا ان افسران کی حج و عمرہ پر روانگی کے اخراجات کسی سرکاری پالیسی کے تحت کیے گئے تھے یا یہ محض ذاتی فیصلے تھے۔

    سی ڈی اے کے اس عمل پر عوامی حلقوں میں مختلف آراء پائی جا رہی ہیں، جبکہ متعدد افراد نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ اگر ادارے کے پاس عوامی زمین کے مالکان کو رقم دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں تو سرکاری خرچ پر ایسے اخراجات کا جواز نہیں بنتا۔اس مقدمے کی سماعت آئندہ چند ہفتوں میں مزید آگے بڑھنے کی توقع ہے، اور اس کے نتائج ادارے کی پالیسیوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

    سفری پابندیوں کی فہرست میں نام،شعیب شاہین عدالت پہنچ گئے

    نادرا جیسا حساس نوعیت کا ڈیٹا مختلف کمپنیز لیک کرنے لگیں ،مقدمہ درج

  • سفری پابندیوں کی فہرست میں نام،شعیب شاہین عدالت پہنچ گئے

    سفری پابندیوں کی فہرست میں نام،شعیب شاہین عدالت پہنچ گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: پی ٹی آئی کے رہنما شعیب شاہین نے نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں شعیب شاہین نے استدعا کی کہ پاسپورٹ پر عائد پابندی ختم کی جائے ،نقل و حرکت اور بیرون ملک سفر کی اجازت دی جائے ، درخواست گزار سپریم کورٹ کا ماہر وکیل ہے پولیس نے غیر قانونی طور پر درخواست گزار کو گرفتار کرنے کی کوششیں کی، سیاسی انتقام کے تحت درخواست گزار پر 19 ایف آئی آرز درج کی گئیں، تمام ایف آئی آرز میں درخواست گزار کو ضمانت دی جا چکی ہے، درخواست گزار کا نام پروویژنل نیشنل آئیڈینٹفکیشن لسٹ ( میں ڈال دیا گیا ہے، لسٹ سے نام نکالنے کا حکم دیا جائے، شعیب شاہین کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں سکریٹری وزارت داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، ڈائریکٹر امیگریشن اور چیئرمین نادرا کو فریق بنایا گیا ہے

    آسٹریلوی میڈیا نے کوہلی کو "مسخرہ” قرار دے دیا

    مونس الہی کی گرفتاری کے لیے اقدامات کرنے کا حکم

  • مونس الہی کی  گرفتاری کے لیے اقدامات کرنے کا حکم

    مونس الہی کی گرفتاری کے لیے اقدامات کرنے کا حکم

    اسپیشل سینٹرل عدالت لاہور ،ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے

    عدالت نے مونس الہی کی دوبارہ گرفتاری کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ مونس الہی اور محمد جبران کو بیرون ملک سے گرفتار کرنے کے لیے دوبارہ اقدامات کیے جائیں،آئندہ سماعت پر گرفتاری سے متعلق اقدامات کی رپورٹ پیش کی جائے،جے آئی ٹی کے ہیڈ عمرے پر ہونے کے باعث عدالت پیش نہیں ہوئے،پرویز الہی نے بریت کی درخواست دائر کی ،پرویز الہی کی بریت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے فریقین سے دلائل طلب کرلیے،اسپیشل سینٹرل عدالت کے جج تنویر احمد شیخ نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا ،عدالت مزید سماعت 20 جنوری کو کرے گی

    چوہدری مونس الہٰی اشتہاری قرار

    منی لانڈرنگ کیس، مونس الہیٰ کی اہلیہ کی عدالت طلبی

    مونس الٰہی کی گرفتاری کے لئے ریڈ وارنٹ انٹرنیشل پولیس کو بھجوا دیا گیا

  • سکولوں کی رجسٹریشن میں سکول بسوں کو لازمی قرار دیں،عدالت

    سکولوں کی رجسٹریشن میں سکول بسوں کو لازمی قرار دیں،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ کے تدراک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے نئے سکولوں کی رجسٹریشن کو سکول بسوں کی پالیسی کے ساتھ مشروط کر دیا، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ سکولوں کی رجسٹریشن میں سکول بسوں کو لازمی قرار دیں،نئے سکولوں کی رجسٹریشن بند کریں، ہر سکول کو یہ پالیسی اپنانا ہوگی، 30 دسمبر تک اس حوالے سے پالیسی رپورٹ جمع کروائیں، پچاس فیصد بچوں کیلئے بسیں شروع کرنے کا عدالتی حکم پر عمل کیوں نہیں ہوا، بچوں کی سکولز بسوں کیلئے اقدامات کیوں نہیں کئے، سیکرٹری سکولز نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،

    ممبر جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ ہم نے ایم ڈی واسا کو کہا ہے کہ واٹر میٹر کے کام کو پھر سے شروع کریں،وکیل واسا نے کہا کہ ہمارے چائینیز کمپنی کے ساتھ پیسوں کے مسائل تھے، چائنیز کمپنی یہاں اکاؤنٹ کھلوانا چاہتی تھی، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ یہ کام بہت تاخیر کا شکار ہو چکا ہے، اس کو جلدی شروع کریں، اگلے ایک ماہ میں پھر سے اسموگ شروع ہو جائے گی، عدالت نے کیس کی سماعت 30 دسمبر تک ملتوی کر دی

    گھریلو صارفین کو گیس سپلائی میں کمی،وزیراعظم کا نوٹس

    میجر محمد اویس شہید کی نماز جنازہ ادا

    سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام