Baaghi TV

Tag: عدالت

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،ملزمان سے برآمد   ثبوت عدالت میں پیش

    جی ایچ کیو حملہ کیس،ملزمان سے برآمد ثبوت عدالت میں پیش

    جی ایچ کیو راولپنڈی حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی

    9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی،دوران سماعت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا، مقدمے میں نامزد ملزمان شیخ رشید، فواد چوہدری اور راجا بشارت و دیگر بھی پیش ہوئے،اس دوران استغاثہ کے 4 چشم دید گواہان نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروا دیا، جن میں راولپنڈی پولیس کے اے ایس آئی ثاقب، کانسٹیبل شکیل، سجاد اور یاسر شامل ہیں،گواہان نے ملزمان سے برآمد ہونے والے ثبوت بھی عدالت میں پیش کیے اور بتایا کہ ملزمان سے برآمد اینٹی رائٹ فورس سے چھینا ہیلمٹ اور پیٹرول بم شامل ہیں،عدالت میں پیش کیے گئے شواہد میں شہدا کے مجسموں کے برآمد ٹکڑے، موبائل فونز، ڈنڈے، جھنڈے، پی ٹی آئی ٹوپیاں، تاریں اور ماچس شامل ہیں،عدالت کی سماعت کے دوران ملزم سے برآمد موبائل فون عدالت میں پیش کرنے کے دوران آن نکلا۔

    گواہان نے کمرہ عدالت میں موجود راجا بشارت سمیت کئی ملزمان کی نشاندہی کی اور بتایا کہ راجہ بشارت نے جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کو لیڈ کیا،گواہان نے عدالت کے روبرو کہا کہ راجہ بشارت مظاہرین کو اکساتے رہے کہ بانی کی گرفتاری کا بدلہ فوج سے لینا ہے،دوران سماعت کمرہ عدالت میں ملزمان، وکلاء، پراسیکیوشن اور میڈیا نمائندوں سے بھرا رہا، وکلا صفائی اور پراسیکیوشن ٹیم کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا،عدالت نے ملزمان کے شور کے باعث ساؤنڈ سسٹم کا استعمال کیا اور انہیں وارننگ دی، گواہان کی شہادت بھی ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے ہی ریکارڈ کی گئی،دوران سماعت 3 گواہان کی شہادت ریکارڈ ہونے تک بانی پی ٹی آئی کمرہ عدالت میں موجود رہے، آئندہ سماعت پر عدالت نے استغاثہ کے پانچ مزید گواہ طلب کر لیے اور سماعت 18 جنوری تک ملتوی کردی

    کیس کی سماعت کے بعد فیصل چوہدری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس کے ٹرائل میں آج 9 مئی کو ضبط کیا گیا موبائل فُل چارج حالت میں سیل بند لفافے میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ میں حیران ہوں ایسی کمپنی پر کہ جس کی بیٹری آج 2 سال بعد بھی چل رہی ہے،

    جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    سعودی عرب معاہدے کے تحت 570 پاکستانی قیدیوں کی واپسی کی لیے رضامند

  • عزیر بلوچ   تین افراد کے قتل کے مقدمے سے بری

    عزیر بلوچ تین افراد کے قتل کے مقدمے سے بری

    کراچی: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے گینگ وار کے ملزم عزیر بلوچ کو تین افراد کے قتل کے مقدمے میں بری کردیا ہے۔ یہ مقدمہ 2009 میں چاکیواڑہ تھانے میں درج کیا گیا تھا، جس میں عزیر بلوچ پر پولیس اہلکار سمیت تین افراد کے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

    عدالت نے ملزم عزیر بلوچ کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اسے قتل کے الزامات سے بری کردیا۔ وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عزیر بلوچ کو گرفتار ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، تاہم ان بیانات کی بنیاد پر اس کے خلاف ثابت کرنے کے لئے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے۔ وکیل نے مزید کہا کہ مقدمے میں گرفتار دیگر ملزمان پہلے ہی بری ہوچکے ہیں۔عدالت نے تمام دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے گینگ وار کے ملزم عزیر بلوچ کو مقدمے سے بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے بعد عزیر بلوچ کی رہائی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

    یاد رہے کہ عزیر بلوچ ایک معروف گینگ وار ملزم ہے اور اس پر متعدد سنگین الزامات عائد ہیں، جن میں قتل، دہشت گردی اور بھتہ خوری شامل ہیں۔ لیکن اس مقدمے میں عدلیہ نے اس کے خلاف الزامات کو ناکافی شواہد کی بنا پر مسترد کردیا۔

    مشہور کمپوزر آرنلڈ شوئن برگ کا میوزک کیٹلاگ آگ میں جل کر تباہ

    کوئٹہ،کان میں دھماکے کے بعد سرچ آپریشن مکمل، 12 لاشیں نکال لی گئیں

  • بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈی چوک احتجاج کے سلسلے میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی ہے۔

    یہ فیصلہ 13 مختلف مقدمات میں عبوری ضمانتوں کے کیس کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔ عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 7 فروری تک توسیع کرتے ہوئے پولیس کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل کو برہمی کا سامنا کیا۔ جج نے فائلیں تیار کر کے نہ لانے پر ان کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ "آپ فائلیں تیار کر کے آیا کریں، عدالت میں آ کر فائلیں سیدھی کر رہے ہیں۔” اس پر وکیلوں نے درخواست کی کہ ضمانت کی تمام درخواستوں پر 7 فروری تک تاریخ مقرر کی جائے۔

    وکلاء کی جانب سے بشریٰ بی بی کے سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوانے کے معاملے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہر جگہ وی آئی پی پروٹوکول ملنے کی بات نہیں کی جا سکتی۔ میں نے آپ کو انتظار نہیں کرایا، فیصلے کی تحریر میں بھی آپ کی ضمانتوں پر سماعت کر رہا ہوں۔” جج نے مزید کہا کہ جب عدالتی حکم نامہ جاری ہو گا تو اس پر ملزمہ کے دستخط اور انگوٹھا لگے گا۔

    وکیل قدیر خواجہ کی جانب سے بولنے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "آپ عدالت پر یقین کریں، جب آپ عدالت پر یقین کریں گے تو لوگ بھی آپ پر یقین کریں گے۔” یہ بیان جج کی جانب سے وکیلوں کو عدالت کے عمل پر اعتماد رکھنے کی ہدایت کے طور پر تھا۔

    ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ،کانپتے ہوئے دیکھا ، ایک جج صاحب کا بلڈ پریشر 200 پر گیا لیکن اُنہوں نے ہمیں سزا سنانا تھی اور وہ سنائی ، بشریٰ بی بی
    بشریٰ بی بی نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے، عمران خان اور ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اسکے بعد قانون سے یقین ختم ہو گیا ہے، ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ہوتا، کانپتے ہوئے دیکھا ہے، ایک جج صاحب کا بلڈپریشر دو سو پر گیا لیکن انہوں نے ہمیں سزا سنانی تھی اور وہ سنائی، ملک میں قانون ہے لیکن انصاف نہیں عمران خان جیل میں آئین کی بالادستی کے لئے قید ہیں.اسلام آباد میں گاڑی سے رینجرز اہلکاروں کو ٹکر مارنے کے کیس کی سماعت انسداد دِہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، اس دوران بشریٰ بی بی عدالت میں پیش ہوئیں،دورانِ سماعت بشریٰ بی بی اور جج طاہر عباس کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا جس میں جج نے کہا کہ تھوڑا وقت لگ گیا ہے لیکن قانونی ضابطے پورے کیے گئے ہیں۔اس پر بشریٰ بی بی نے جواب دیا کہ نہیں کوئی بات نہیں، ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے،جج طاہر عباس نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، ہر جگہ سے اعتماد نہیں اٹھا، جسٹس سسٹم جیسا بھی چل رہا ہے اگر ختم ہو گیا تو سوسائٹی ختم ہو جائیگی، آپ میرے پاس کچہری میں بھی پیش ہوتی رہی ہیں،بعد ازاں عدالت نے بشریٰ بی بی کی تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں7 فروری تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ڈی چوک احتجاج پر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 13 مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے تھانہ سیکریٹریٹ میں 3، تھانہ مارگلہ میں 2، تھانہ کراچی کمپنی میں 2، تھانہ رمنا میں 2، تھانہ ترنول، کوہسار، آبپارہ اور کھنہ میں ایک ایک مقدمہ درج ہے۔عدالت نے 7 فروری 2025 کو آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے پولیس کو تمام ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے بعد بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتیں 7 فروری تک برقرار رہیں گی۔

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج جہنم واصل

    نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

  • عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکا میں قید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کے کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔ اس کیس کی سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی سربراہی میں کی گئی۔

    سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل دوسری عدالت میں مصروف ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکے۔ اس کے باوجود، درخواست گزار کی وکیل، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیرِ اعظم پاکستان کی طرف سے امریکی صدر کو لکھا گیا خط ابھی تک بغیر کسی جواب کے واپس آیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا کی طرف سے یہ تک نہیں بتایا گیا کہ آیا ان کا خط وصول کیا گیا ہے یا نہیں۔

    عدالت نے اس موقع پر کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس سے متعلق آئندہ ہفتہ بہت اہم ہے اور وزارتِ خارجہ کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے بھرپور تعاون کرے۔ اس سلسلے میں عدالت نے وزیرِ اعظم کے بیرونِ ملک دوروں کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا تھا، تاہم نمائندہ وزارتِ خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ سیکریٹری خارجہ چین میں موجود ہیں اور اس وجہ سے تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکیں۔ اس پر عدالت نے وزارتِ خارجہ کو اگلے ہفتے تک وزیرِ اعظم کے بیرونِ ملک دوروں کی تفصیلات فراہم کرنے کی مہلت دی۔

    وکیل عمران شفیق نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی امریکا پہنچ چکی ہیں، لیکن ان کی اب تک امریکی سفیر سے ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔ عدالت نے اس پر وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی کہ وہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی ملاقات امریکا میں پاکستانی سفیر سے یقینی بنائے۔

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی، جو کہ 2003 میں امریکا میں گرفتار ہوئی تھیں، اس وقت امریکا کی قید میں ہیں اور ان کی واپسی کے لئے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔ اس کیس کی آئندہ سماعت 24 جنوری 2025 کو ہوگی۔

    پاکستان نے سکھ اور ہندو یاتریوں کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کر دی

    کراچی: اجتماعی شادیوں کی تقریب میں 100 سے زائد ہندو جوڑے رشتہ ازدواج میں منسلک

  • ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان بالکل بھی خوش نہیں ہیں کہ ان کا مقدمہ ابھی تک مؤخر ہوا ہے۔

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ فیصلہ جلد آ جائے تاکہ پوری دنیا کو یہ پتا چلے کہ القادر یونیورسٹی کے حوالے سے اصل حقیقت کیا ہے۔ علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان کا خواب تھا کہ سیرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سٹوڈنٹس کو تعلیم دی جائے۔علیمہ خان نے الزام عائد کیا کہ جج صاحب کو اس معاملے کا فیصلہ سنانے میں بہت مشکلات پیش آ رہی ہیں اور اس کا ایک بڑا سبب حکومت کا موجودہ پریشر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا اور پاکستان جانتا ہے کہ اس وقت کس قسم کی سزا سنائی جا سکتی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ لفظ "ڈیل” کو سن سن کر ہم تھک چکے ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے صرف نیوٹرل ایمپائر لگانے کی بات کی تھی، نہ کہ کسی ڈیل کا حصہ بننے کی۔ مذاکراتی کمیٹی کے ممبران نے بھی بتایا کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی مطالبہ نہیں آیا ہے۔علیمہ خان نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ 17 جنوری کو اگر حکومت کی جانب سے ہمت ہو تو فیصلہ سنایا جا سکتا ہے، اور اس دن کے بعد ہی صورتحال واضح ہو گی۔

    مغوی کی عدم بازیابی پر لاہور ہائیکورٹ حکام پر برہم

    تباہی پر میرا دل ٹوٹ گیا ،لاس اینجلس میں آگ پرپریتی زنٹا کا آنکھوں دیکھا حال

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

    190ملین پائونڈ ریفرنس کا فیصلہ ایک بار پھر موخر کر دیا گیا ،

    190ملین ریفرنس کا فیصلہ 17جنوری بروز جمعہ کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے،عمران خان آج کمرہ عدالت میں پیش نہ ہوئے، بشریٰ بی بی بھی عدالت نہ پہنچیں جس کی وجہ سے عدالت نے آج فیصلہ نہ سنایا،فیصلہ سنانے کا وقت ساڑھے دس بجے کا تھا، پی ٹی آئی رہنما اڈیالہ جیل پہنچ گئے تھے تاہم عمران خان اپنے سیل سے کمرہ عدالت نہ آئے اور نہ ہی بشریٰ بی بی عدالت پہنچیں.

    آج امکان تھا کہ کیس کا فیصلہ سنایا جائے گاتاہم عدالت نے فیصلہ نہیں سنایا، قبل ازیں اسی ضمن میں اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،اڈیالہ جیل کے باہر راولپنڈی پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات تھے،پولیس کی اضافی نفری اڈیالہ جیل کے باہر تعینات تھی، یکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ بھی عدالت میں موجود تھے،عمران خان کی بہنیں علیمہ خان و دیگر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،

    احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،اسکے بعد 13 جنوری کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم آج بھی فیصلہ نہ سنایا جا سکا،

    اس کیس میں نیب نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • 9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

    9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

    بانی پی ٹی آئی نے 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق چیئرمین عمران خان نے 9 مئی کے دوران درج ہونے والے 8 مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔ ان مقدمات میں جناح ہاؤس پر حملہ اور دیگر الزامات شامل ہیں۔لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں عمران خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ 9 مئی کو وہ اسلام آباد میں نیب کی تحویل میں تھے اور ان پر سیاسی انتقام لینے کے لیے سازش کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ عمران خان نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ انہیں محض سیاسی وجوہات کی بنا پر ان مقدمات میں ملوث کیا گیا۔

    عمران خان کی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انہیں گزشتہ دو سال سے مختلف مقدمات کا سامنا ہے اور یہ تمام کارروائیاں انتقامی نوعیت کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف جو مقدمات بنائے گئے ہیں، وہ جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔عمران خان نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف درج مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں منظور کی جائیں تاکہ انہیں انصاف مل سکے اور ان پر عائد الزامات کا قانونی طریقے سے جائزہ لیا جا سکے۔

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • توشہ خانہ ٹو کیس، بشریٰ کی عدم پیشی،عدالت کا اظہار برہمی

    توشہ خانہ ٹو کیس، بشریٰ کی عدم پیشی،عدالت کا اظہار برہمی

    عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس 14 جنوری تک ملتوی کر دیا گیا

    سپیشل جج سنٹرل اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی،عمران خان کو جیل کی عدالت میں پیش کیا،بشری بی بی اور وکلاء غیرحاضر رہے، ایک گواہ پر جرح اور ایک کا بیان مکمل کر لیا، مزید5 گواہ طلب کر لئے گئے، اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت جاری ہے، جہاں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمے کی کارروائی ہو رہی ہے۔ سماعت کے دوران ملزمہ بشریٰ بی بی اور ان کے وکلا عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔کیبنٹ ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کوآرڈینیشن محمد احد پر جرح مکمل کی گئی۔ اس جرح کا عمل بانی پی ٹی آئی کے وکیل قوسین فیصل مفتی نے کیا۔ اس کے علاوہ، استغاثہ کے گواہ طلعت کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید پانچ گواہ طلب کرلئے ہیں جن میں محمد شفقت، قیصر، عمر صدیق، محسن اور فہیم شامل ہیں۔ ان گواہوں کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے انہیں عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    جج نے واضح طور پر کہا کہ اگر آئندہ سماعت پر وکلا نے گواہوں پر جرح مکمل نہ کی تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ کیس کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

    توشہ خانہ ٹو، بشریٰ بی بی کا وکیل نہ آیا، سماعت ملتوی

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا خدیجہ شاہ کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا خدیجہ شاہ کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور سپریم کورٹ کی جیل اصلاحاتی کمیٹی کی ممبر خدیجہ شاہ کو ہراساں کرنے سے روکنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اور پولیس کو حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ عدالت میں خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی درخواست پر سماعت کے دوران آیا۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ، جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں، عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست گزار اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے سے روکا جا سکے۔دورانِ سماعت، خدیجہ شاہ کی وکیل آمنہ علی نے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کیا کہ ان کے موکلہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کی فوری فراہمی ضروری ہے تاکہ ان کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اقدام کو روکا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار اور ان کے خاندان کو ایف آئی اے اور پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے، جس کا تدارک کیا جائے۔

    عدالت نے درخواست کو سننے کے بعد اس پر فیصلہ دیتے ہوئے ایف آئی اے اور پولیس کو خدیجہ شاہ کو ہراساں کرنے سے روک دیا اور کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

    شہزادہ ولیم کا کیٹ مڈلٹن کی 43ویں سالگرہ پر خصوصی پیغام

    18 برس بعد دوسری شادی کرنیوالی خاتون نے اپنی شرائط بتا دیں

  • 26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

    26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

    اسلام آباد: انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق پی ٹی آئی کے 177 کارکنان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کے 153 کارکنان کی ضمانتیں منظور کرلیں، جبکہ 24 کارکنان کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔

    تھانہ کراچی کمپنی میں 48 ملزمان کے کیسز کی سماعت کے دوران، عدالت نے 43 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لیں جبکہ 5 کی ضمانتیں مسترد کر دیں۔ اسی طرح، تھانہ ترنول میں 7 ملزمان کی ضمانتوں میں سے 2 کی ضمانت منظور کی گئی اور 5 کی ضمانتیں مسترد ہو گئیں۔تھانہ آئی 9 کے 10 ملزمان میں سے 9 کی ضمانتیں منظور ہوئیں اور ایک کی درخواست مسترد ہوئی۔ تھانہ کوہسار کے مقدمے میں 28 ملزمان کی ضمانتیں منظور کی گئیں، جبکہ 5 کی ضمانت کی درخواستیں مسترد ہو گئیں۔ تھانہ رمنا میں 8 ملزمان میں سے 3 کی ضمانتیں منظور کی گئیں اور 5 کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔تھانہ سیکرٹریٹ کے تمام 25 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لی گئیں۔ تھانہ مارگلہ کے 45 ملزمان میں سے 42 کی ضمانتیں منظور کی گئیں، جبکہ 3 ملزمان کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔

    عدالت نے تمام ملزمان کی ضمانتیں 5،5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کیں۔ یہ فیصلہ عدالت کے مطابق قانونی تقاضوں کے مطابق دیا گیا، اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے حق میں فیصلہ آنا ایک اہم قانونی پیشرفت ہے۔یاد رہے کہ 26 نومبر کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا، جس کے بعد مختلف تھانوں میں ملزمان کے خلاف مقدمات درج ہوئے تھے۔ اس فیصلے سے پی ٹی آئی کے کئی کارکنوں کو ریلیف ملے گا۔

    آزاد کشمیر میں شدید برفباری، پاکستان آرمی کا ریسکیو آپریشن، مسافروں کی جان بچا لی