Baaghi TV

Tag: عدالت

  • ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،ملزم سنجے عدالت پیش،فیصلہ آج

    ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،ملزم سنجے عدالت پیش،فیصلہ آج

    گزشتہ سال 9 اگست کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال میں ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر نیم برہنہ حالت میں مردہ پائی گئی تھی۔ اس ہولناک واقعے نے نہ صرف کولکتہ بلکہ پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا

    9 اگست 2024 کو کولکتہ کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال کی تیسری منزل پر واقع سیمینار ہال سے ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر کی نیم برہنہ لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ یہ ایک عصمت دری اور قتل کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ جیسے ہی یہ واقعہ سامنے آیا، پورے شہر اور بالخصوص ڈاکٹروں کے درمیان غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔واقعے کے بعد کولکتہ پولیس نے ملزم سنجے رائے کو ملزم کے طور پر حراست میں لیا، جس کے بعد مغربی بنگال میں ڈاکٹروں نے احتجاج شروع کیا۔ 12 اگست کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پولیس کو یہ کیس جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت دی، اور اگر ایسا نہ ہو تو معاملہ سی بی آئی کو سونپنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد 13 اگست کو کلکتہ ہائی کورٹ نے اس کیس کا نوٹس لیا اور اسے سی بی آئی کے حوالے کر دیا۔

    14 اگست کو سی بی آئی نے اس کیس کی تحقیقات شروع کی اور ایک 25 رکنی ٹیم تشکیل دی۔ اس دوران کولکتہ میں عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاج بھی جاری رہا۔ 16 اگست کو پولیس نے توڑ پھوڑ کے ملزمان کو گرفتار کرنا شروع کیا اور 18 اگست کو سپریم کورٹ نے توڑ پھوڑ کے معاملے کا از خود نوٹس لے لیا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں قومی پروٹوکول کی تیاری کی ہدایت بھی دی تھی۔سی بی آئی نے اس کیس میں کئی افراد کو گرفتار کیا، جن میں آر جی کر اسپتال کے سابق پرنسپل سندیپ گھوش اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ 7 اکتوبر کو سی بی آئی نے سنجے رائے کو ملزم قرار دے کر چارج شیٹ داخل کی۔

    سنجے رائے کے خلاف فرد جرم کی کارروائی 4 نومبر 2024 کو مکمل ہوئی اور مقدمے کی کارروائی 11 نومبر سے شروع ہو گئی۔ تمام ٹرائل کے دوران عدالت کا کمرہ بند رہا اور 50 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جن میں مقتولہ کے والدین، سی بی آئی اور کلکتہ پولیس کے تفتیشی افسران، فارنسک ماہرین اور آر۔جی۔کار کے ساتھی ڈاکٹروں کے بیانات شامل ہیں۔مقتولہ کی لاش کی دریافت کے بعد اور سی بی آئی کی ابتدائی تحقیقات کے دوران، اس واقعے نے وسیع پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔ میڈیکل کمیونٹی، شہری حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے سڑکوں پر آ کر متاثرہ ڈاکٹر کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا، یہ مظاہرے جلد ہی مغربی بنگال سے باہر بھی پھیل گئے اور دیگر بھارتی ریاستوں سمیت عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی، جہاں غیر مقیم بھارتی تنظیموں نے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    آج، 18 جنوری 2025 کو کولکتہ کی سیالڈا سیشن کورٹ اس عصمت دری اور قتل کے کیس میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اس کیس کا فیصلہ نہ صرف کولکتہ بلکہ پورے ہندوستان کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں انصاف کی فراہمی کے عمل کا پورا جائزہ لیا جائے گا۔یہ کیس اس بات کی گواہی ہے کہ عدلیہ، پولیس، اور عوامی احتجاج نے اس گھناؤنے جرم کو بے نقاب کرنے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا متاثرہ خاندان کو انصاف ملے گا اور اس ہولناک جرم کے ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے گی۔

    انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین وینے اگروال نے اس کیس پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "صرف ہم نہیں، پورا ملک اس فیصلے کا شدت سے منتظر ہے۔ ہمارے ڈاکٹر کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ ایک خاتون ڈاکٹر، جو کہ ایک معروف ریاست کے معروف میڈیکل کالج میں کام کر رہی تھی، کو بے دردی سے زیادتی اور قتل کا نشانہ بنایا گیا۔”انہوں نے مزید کہا، "یہ واقعہ حکومت کے زیر انتظام ہسپتال میں، جب وہ اپنی ڈیوٹی پر تھیں، پیش آیا تھا، جس نے پورے ملک کو غصے میں مبتلا کر دیا۔ صرف میڈیکل کمیونٹی نہیں، بلکہ پوری قوم اس پر غم و غصے کا اظہار کر رہی تھی۔ پورا کولکتہ، بنگال اور دیگر ریاستیں جل اُٹھیں، اور تمام میڈیکل کالجز بند کر دیے گئے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی سخت سزا کی اپیل کی ہے۔”

    عدالت کے باہر ہفتہ کے روز 300 سے زائد پولیس اہلکاروں نے گارڈ ڈیوٹی دی جب آر جی کار ریپ اور قتل کیس کے مرکزی ملزم سنجے رائے کو فیصلہ سنانے سے پہلے عدالت میں داخل کیا گیا۔”سنجے رائے کو پھانسی دو”، "ہم اسے پھانسی چاہتے ہیں” کے نعرے عدالت کے باہر گونج رہے تھے، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی تھی۔ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر رینک کے افسران کے علاوہ انسپکٹرز بھی موجود تھے جب سنجے رائے تین گاڑیوں کے قافلے میں عدالت کی عمارت میں داخل ہوئے۔

    غور کیا جانا چاہیے کہ کس قانون کے تحت کتوں کو مارا جاتا ہے۔جسٹس عائشہ اے ملک

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

  • نومئی مقدمے،علیمہ خان کی درخواست ضمانت پر پراسیکیوشن سے دلائل طلب

    نومئی مقدمے،علیمہ خان کی درخواست ضمانت پر پراسیکیوشن سے دلائل طلب

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور، 5 اکتوبر اور نومئی کو پولیس پر تشدد، جلاؤ گھیراؤ اور پولیس توڑ پھوڑ کا مقدمہ ،عدالت نے علیمہ خان اور عظمی خان سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں پر سماعت کی

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی دونوں بہنوں کی حاضری کے لیے کیس انتظار میں رکھ لیا ،عدالت نے دیگر شریک ملزمان کی ضمانتوں میں 15 فروری تک توسیع کر دی ،سلمان اکرم راجہ کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی گئی، عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسر تفتیش مکمل کر کے آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کریں عدالت ،پی ٹی آئی رہنما علی امتیاز ،ندیم نے عباس بارا عدالت پیش ہو کر حاضری لگائی ،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے سماعت کی ،ملزمان کے خلاف تھانہ اسلام پورہ ،لاری اڈا اور تھانہ مستی گیٹ میں مقدمات درج ہیں

    بعد ازاں علیمہ خان اور عظمی خان اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں، پراسیکیوشن نے کہا کہ جناح ہاؤس کیس میں تفتیش تاحال مکمل نہیں ہے،علیمہ خان نے کہا کہ ہم لوگ 22 ماہ سے عدالت میں پیش ہو رہے ہیں،اسلام آباد سے صبح صبح عدالت میں پیش ہونے کے لیے آتے ہیں،عدالت نے کہا کہ آپ کیس میں بحث کریں میں آج ہی فیصلہ کر کے جاؤں گا، ریکارڈ آیا ہے کہ نہیں آیا یہ آپکا مسئلہ ہے میں اسکو آج ہر حال میں سن کر فیصلہ کروں گا،وکیل علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں 10 منٹ دیں، تیاری کر کے دلائل مکمل کر لیتے ہیں، عدالت نے علیمہ خان اور عظمی خان کے وکیل کو دلائل مکمل کرنے کا حکم دے دیا

    بانی پی ٹی کی بہنوں کے خلاف پانچ اکتوبر اور نو مئی کے دو مقدمات میں عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی،بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے وکیل نے درخواست ضمانتوں پر دلائل مکمل کر لیے،عدالت نے پراسیکیوشن کو دلائل کے لیے 12 فروری کو طلب کر لیا ،جج نے کہاکہ 12 فروری کو دلائل سن کر اور ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر دوں گا۔علیمہ کے وکیل نے کہا کہ دونوں بانی پی ٹی آئی کی بہنیں ہیں اس وجہ سے ان کے خلاف مقدمہ بنایا گیا ، عدالت ضمانتیں کنفرم کرنے کا حکم دے ، پراسیکیوشن نے دلائل کے لیے مہلت طلب کر لی ،عدالت نے کہا کہ ہم نے کیس صبح سے انتظار میں رکھا ہوا اب آپ تاریخ کی بات کر رہے ہیں ،پراسیکیوشن نے کہا کہ جناح ہاؤس کیس میں تفتیش تاحال مکمل نہیں ہے ،انسداد دہشت گردی عدالت نے کاروائی 12 فروری تک ملتوی کر دی

    نظام کے اوپر ہمیں افسوس،ہم نے اللہ تعالیٰ پر چھوڑا ہوا ہے،علیمہ خان
    عدالت پیشی کے موقع پر علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جب فیصلہ سنا تو ہنس پڑے ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اچھا 14 سال ہے ۔ اس سے زیادہ بھی ہوتی ہے کیا۔تو انھوں نے کہا کہ نہیں زیادہ سے زیادہ 14 سال ہی ہوتی ہے،عمران خان اتنے بڑے لیڈر ہیں، ہم پریشان ہو رہے تھے، نظام کے اوپرہمیں افسوس ہو رہا تھا،عمران پر اس لئے کیس بنا رہے کہ باہر آ کر لوگوں سے نہ ملے، ہم نے اللہ تعالیٰ پر چھوڑا ہوا ہے، اللہ کا نظام سب سے بڑا نظام ہے،اینکرز نے 2 روز پہلے ہی فیصلہ بتا دیا تھا، ایسا کرتے جج کی جگہ اُنہیں ہی بٹھا دیتے

    سیف علی خان حملہ،پولیس کی کسی بھی گرفتاری کی تردید،ملاقاتوں پر پابندی عائد

    دنیا کو پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

  • بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    احتساب عدالت سے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنانے کے بعد بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل کر دیا گیا

    ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی کو خواتین بیرک میں منتقل کرنے سے قبل ان کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا۔ طبی معائنہ کے بعد انہیں کچھ ضروری دوائیں فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ، بشریٰ بی بی کا ضروری سامان بھی بیرک میں پہنچا دیا گیا، جس میں کپڑے، جوتے، چادریں، کھانے پینے کی اشیاء، بیڈ شیٹس، تکیے اور دیگر سامان شامل تھا۔بشریٰ بی بی کا سامان بیرک میں پہنچانے سے قبل مکمل طور پر چیک کیا گیا تھا تاکہ کسی قسم کی غیر ضروری اشیاء بیرک میں نہ پہنچیں۔

    آج راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔ ساتھ ہی ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ عمران خان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔ فیصلے کے مطابق، اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو عمران خان کو مزید 6 ماہ قید اور بشریٰ بی بی کو 3 ماہ قید کی سزا ہو گی۔

    عمران خان کو کرپٹ پریکٹسز اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جب کہ بشریٰ بی بی کو اپنے خاوند کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے 7 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔اس فیصلے کے بعد، عمران خان، بشریٰ بی بی اور ان کی بہنیں کمرۂ عدالت میں موجود تھیں۔

    چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ایڈیشنل ججز  کے ناموں کی منظوری

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو ایڈیشنل ججز کے ناموں کی منظوری

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس ہوا جس میں اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے بارے میں تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کے لیے دو ناموں کی نامزدگی کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی نامزدگی کے لیے 4 ممکنہ امیدواروں میں سے دو کے ناموں کی منظوری دی۔ ان میں سے ایک نام سیشن جج اعظم خان کا ہے، جبکہ دوسرے نام سابق صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار، راجہ انعام امین منہاس کا ہے۔کمیشن کے اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے لیے تین ایڈیشنل ججز کی نامزدگیوں پر بھی غور کیا گیا۔ تاہم، ان ناموں کی تفصیلات ابھی تک منظرعام پر نہیں آئیں۔

    یہ فیصلہ اسلام آباد اور بلوچستان ہائیکورٹس کی عدلیہ میں مزید بہتری لانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ججز کی تعیناتی سے مقدمات کی سماعت میں تیزی لائی جا سکے اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل میں سہولت حاصل ہو سکے۔

    پاکستان کو ٹرانزٹ تجارت کا مرکز بنانے ، گارگو کی ٹریکنگ بارے جائزہ اجلاس

    القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

  • جب سزا ہوئی تو عمران خان نے ہمیں کہا حوصلہ کرو،علیمہ خان

    جب سزا ہوئی تو عمران خان نے ہمیں کہا حوصلہ کرو،علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کے بعد علیمہ خان کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ آج صحافیوں نے جیل میں تماشہ کیا تاکہ وہ میڈیا سے بات نہ کرسکیں، عمران خان نے کہا ہے سب حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پڑھیں، تاریخ بتاتی ہے آج جو ہورہا ہے وہ پہلے ہوچُکاہے، جج پر مجھے ترس آرہا ہے جو تاریخ میں یاد رکھی جائے گی، القادر یونیورسٹی میں سیرت نبی پڑھائی جاتی ہے، سزا کے اندر یہ شامل ہے یونیورسٹی پر قبضہ کرلیا جائے، جب سزا ہوئی تو عمران خان نے ہمیں کہا حوصلہ کرو، شکل کیوں بن رہی ہے، جزا سزا اللہ نے دینی ہے، آپ کا اللہ پر یقین کیا کم ہوگیا ہے؟

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ 15سے 20 دن میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزائیں ختم ہوجائیں گی،پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس سیاسی انتقام اور انصاف کا قتل ہے، اس کیس میں کرپشن کیا ہے؟ ایک ٹرسٹ کے تحت یونیورسٹی بنائی گئی، یہ ہائیکورٹ کی پہلی پیشی میں ختم ہونے والا کیس ہے.

    واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو ثابت ہوچکا ،عطا تارڑ

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

  • کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،عمران خان

    کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،عمران خان

    190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کے بعد عمران خان کا ردعمل سامنے آ گیا

    عمران خان نے کمرہ عدالت میں فیصلہ سنا، فیصلے کے بعد عمران خان نے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج کے فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کوخراب کردیا ،اس کیس میں نہ مجھے فائدہ ،نہ حکومت کو نقصان ہوا،مجھے کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،ایک آمر اپنی ذات کیلئے یہ سب کررہا ہے، چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والے پولیس والوں کوپلاٹ دیئے گئے،جوساتھ ہے وہ آزاد اور جو مخالف ہے انہیں سزائیں، میری بیوی گھریلو عورت ہے ،اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، بشریٰ بی بی کو سزا مجھے تکلیف دینے کیلئے دی گئی،غور سے سُن لیں کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کروں گا، چاہے مذاکرات ہوں یا کچھ بھی،سزا جتنی بھی سُنائیں فرق نہیں پڑتا،

    جج کے فیصلہ سنانے پر عمران خان کا فوری ردعمل کیا تھا؟
    دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب جج نے فیصلہ سُنایا تو عمران خان ہنس پڑے، عمران خان نے کہا جو ناانصافی پر فیصلے کرتے ہیں اُن کو پروموشن ملتی ہے، عمران خان کا پیغام ہے لوگوں کے لئے مایوسی گناہ ہے، مایوسی نہیں ہونا،ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے،

    واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو ثابت ہوچکا ،عطا تارڑ

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

  • عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج بھی کیا

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے، عمر ایوب
    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائے جانے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں، ہم اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج بھی کریں گے، سوال تو پوچھنا چاہیے نواز شریف کے بیٹے حسن نواز سے کہ تم نے جس پیسے سے لندن میں ون ہائیڈ پارک کی عمارت خریدی وہ پیسہ کس طرح باہر لیکر گئے اور آگے پھر بیچی، اس رقم کا تم نے کیا کیا؟ آج وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔

    چور دندناتے پھر رہے اور یونیورسٹی بنانے پر سزا سنا دی گئی، شبلی فراز
    دوسری جانب سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اس ملک میں چور دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ معصوم اور ایماندار لوگ جو کہ اس ملک میں نبی کریم ﷺ کو سیرت کو پڑھانے کے لیے القادر یونیورسٹی جیسا ادارہ بناتے ہیں انہیں سزا سنا دی جاتی ہے، القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے معاملے پر نا تو حکومت کو ایک دھیلے کا نقصان ہوا اور نا ہی عمران خان یا بشریٰ بی بی کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم گئی، نیت ٹھیک تھی، مقصد بھی ٹھیک تھا لیکن اس ملک میں یہ رواج بنایا جا رہا ہے کہ ایک شخص جو شوکت خانم کینسر اسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے ادارے بناتا ہے اسے القادر یونیورسٹی بنانے پر سزا دی جا رہی ہے جس میں نوجوان نسل کو سیرت النبی ﷺ پڑھائی جانی تھی اور پاکستان کے نوجوانوں کو مستفید ہونا تھا۔

    فیصلہ تاریخ کے کوڑے دان میں بدترین فیصلے کے طور پر جائے گا، فیصل چوہدری
    پی ٹی آئی رہنما، وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایک شرمناک فیصلہ ہے، آج انصاف کا قتل عام ہوا، نواز شریف کے بیٹے نے نو ارب روپے کی پراپرٹی خریدی، آپ ایون فیلڈ بنائیں اور لندن میں پراپرٹی بنائیں اور اپنے کیس معاف کرائیں، میں اس فیصلے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں،آپ کی بھول ہے کہ آپ بانی پی ٹی کو سزا دے کر آپ کچھ بگاڑ سکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی ایک نظریے کا نام ہے، عمران خان جیل میں بیٹھا تم پر بھاری ہے، عمران ایک نظریہ اور تحریک کا نام ہے، اس تحریک کو پی ٹی آئی کا ہر ورکر اپنے خون سے سینچے گا، آج عوام کے کھڑے ہونے کا دن ہے، آج کا دن سیاہ ترین دن ہے، یہ فیصلہ تاریخ کے کوڑے دان میں بدترین فیصلے کے طور پر جائے گا،

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    پی ٹی آئی نے القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کو سیاہ فیصلہ قرار دیدیا، پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا، احتجاج میں زرتاج گل بھی شریک تھیں، شرکا نے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی اور عمران خان کو رہا کرو کے نعرے لگائے،شرکا نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے

    القادر ٹرسٹ کیس میں فیصلے کے بعد عمران خان کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے، عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کوخراب کردیا ،اس کیس میں نہ مجھے فائدہ ،نہ حکومت کو نقصان ہوا،مجھے کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،ایک آمر اپنی ذات کیلئے یہ سب کررہا ہے، چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والے پولیس والوں کوپلاٹ دیئے گئے،جوساتھ ہے وہ آزاد اور جو مخالف ہے انہیں سزائیں، میری بیوی گھریلو عورت ہے ،اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، بشریٰ بی بی کو سزا مجھے تکلیف دینے کیلئے دی گئی،غور سے سُن لیں کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کروں گا، چاہے مذاکرات ہوں یا کچھ بھی،سزا جتنی بھی سُنائیں فرق نہیں پڑتا، 1971 میں جنرل یحییٰ نے ملک تباہ کیا آج آمر بھی اپنے فائدے کیلئے یہی کام کر رہا ہے،

    پی ٹی آئی رہنما مشعال یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے جیل میں اپنی گرفتاری دیدی ہے، اڈیالہ جیل کے حکام انکی گرفتاری نہیں لے رہے، ہمیں اندیشہ ہے کہ پچھلی بار کی طرح اُنہیں بنی گالہ منتقل کرنے کیلئے سازش رچائی جارہی ہے، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں ہی رہنا چاہتی ہیں، وہ بنی گالہ نہیں جانا چاہتیں،ہم اڈیالہ کے باہر موجود ہیں، میڈیا کے توسط سے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بشریٰ نے خود گرفتاری دی، نہ خان نے بنی گالہ جانا ہے نہ بشریٰ نے، یہ پھر سے کچھ کریں گے تو ہم دوبارہ اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں گے، بشریٰ کی گرفتاری قبول کی جائے اور اسے اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جائے،

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب جج نے فیصلہ سُنایا تو عمران خان ہنس پڑے، عمران خان نے کہا جو ناانصافی پر فیصلے کرتے ہیں اُن کو پروموشن ملتی ہے، عمران خان کا پیغام ہے لوگوں کے لئے مایوسی گناہ ہے، مایوسی نہیں ہونا،ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے،

  • امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،دو ملزمان پر فردجرم عائد کرنے کا حکم

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،دو ملزمان پر فردجرم عائد کرنے کا حکم

    لاہور میں امیر بالاج ٹیپو کے قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ سیشن عدالت نے دو ملزمان، ہارون اور سہیل محمود، پر فرد جرم عائد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج اسد حفیظ کی سربراہی میں کیس کی سماعت کی گئی۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت پر گواہوں کو بیانات کے لیے طلب کر لیا۔ اس کے علاوہ، اے ایس آئی عبدالرؤف اور نقشہ نویس کو گواہی کے لیے طلب کیا گیا ہے۔دوسری جانب، عدالت نے ملزمان گوگی بٹ، طیفی بٹ اور بلاول کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے کیس سے الگ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ تھانہ چوہنگ پولیس کی درخواست پر کیا گیا، جس کے تحت ان تینوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہے۔عدالت نے ملزمان ہارون اور سہیل محمود کو 11 فروری کو دوبارہ عدالت میں طلب کر لیا ہے تاکہ کیس کی مزید سماعت کی جا سکے۔

    یہ کیس لاہور کے علاقے چوہنگ میں پیش آیا تھا، جہاں امیر بالاج ٹیپو کو قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کی تھیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی تھی۔

    امیر بالاج قتل کیس: طیفی بٹ، گوگی بٹ اور بلاول اشتہاری قرار

    طیفی بٹ کے بہنوئی کے قتل کا مقدمہ امیر بالاج کے بھائی پر درج

    امیر بالاج قتل کیس،مخبری کرنیوالے احسن شاہ کی درخواست ضمانت مسترد

  • نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نو مئی کے دوران درج ہونے والے 8 مقدموں میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جن میں استدعا کی گئی ہے کہ اے ٹی سی (انسداد دہشت گردی عدالت) نے حقائق کے برعکس ان کی ضمانتوں کو مسترد کیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ضمانتوں کی درخواستوں کو مسترد کرنا قانونی طور پر غلط ہے۔عدالت نے پولیس کو نوٹسز جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر مزید سماعت کا اعلان کیا گیا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے کو زیر غور رکھتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔

    بانی پی ٹی آئی نے عدالت سے درخواست کی کہ آٹھ مقدموں میں ان کی ضمانتیں منظور کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارروائی غیر قانونی اور زیادتی پر مبنی ہے، جس کے باعث ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔عدالت نے پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے.

    مریم نواز نے کیا "آسان کاروبار فنانس” اور "آسان کاروبار کارڈ” پروگرام کا افتتاح

    مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کمیٹی میں پیش

  • پشاور ہائیکورٹ ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا  کی حفاظتی ضمانت میں  توسیع

    پشاور ہائیکورٹ ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی حفاظتی ضمانت میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے علی امین گنڈاپور کی حفاظتی ضمانت اور ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔

    سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اس وقت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں اہم مذاکراتی میٹنگ میں شرکت کے لیے گئے ہیں، جس کے باعث وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ اس وجہ سے انہوں نے استثنیٰ کی درخواست دائر کی ہے۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ کی حفاظتی ضمانت میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی اور ساتھ ہی علی امین گنڈاپور کو ان کے خلاف درج مقدمات میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 فروری 2025 تک ملتوی کر دی۔

    اب تک علی امین گنڈاپور کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں، جن میں ان کے خلاف کارروائی کا امکان تھا، مگر عدالت نے اس مرحلے پر ان کو گرفتاری سے بچانے کے لیے حفاظتی ضمانت فراہم کی۔

    سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں