Baaghi TV

Tag: عدالت

  • ملٹری کورٹ کے فیصلوں کے خلاف   اپیلیں دائر کردی ہیں، قاضی انور

    ملٹری کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کردی ہیں، قاضی انور

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) احتساب کمیٹی کے رکن قاضی محمد انور نے بشریٰ بی بی پر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کوئی مداخلت انصاف لائرز فورم میں نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی سازش کا حصہ ہیں۔

    قاضی محمد انور نے پشاور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بشریٰ بی بی کے ساتھ کسی قسم کی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی انہوں نے کسی سازش میں ملوث ہونے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے علی زمان ایڈووکیٹ کو عہدے سے ہٹایا، جو کہ بے بنیاد ہے۔قاضی محمد انور نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی پر من گھڑت الزامات عائد کیے گئے ہیں جن پر انہیں افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے 55 سال وکالت کی، اور اس دوران کبھی بھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا اور نہ ہی جھوٹ بولا۔”

    پی ٹی آئی احتساب کمیٹی کے رکن نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ پارٹی کی صفوں میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غلطی کو بے نقاب کیا جائے، اور اس سلسلے میں مسلسل تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملٹری کورٹس کے فیصلوں کے خلاف کل اپیلیں دائر کی گئیں ہیں، جن میں ان فیصلوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ان شاء اللہ ہم انتظار کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ انصاف ہو،سزائیں معطل کی جائیں،

    کرپشن میں ملوث وزراء سے تحقیقات جاری ہیں، قاضی انور
    اسی دوران، قاضی محمد انور نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کرپشن میں ملوث وزراء سے باری باری پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ، سید قاسم علی اور مشیر صحت احتشام علی سے بھی چند وضاحتیں طلب کی گئی ہیں۔ اسی طرح، ظاہر شاہ طورو کو بھی طلب کیا گیا ہے کیونکہ ان کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں۔ایک مہینہ انکو دیا ہے کہ 31 جنوری تک جو لکھ کر دیا اسکا جواب دیں ،اسکے بعد فیصلہ ہو گا،احتشام خان کے پاس ابھی صحت کا محکمہ آیا، ڈیڑھ صفحے پر ان کو سوالات دیئے اور جوابات مانگے، چند دنوں میں ظاہر شاہ طورو سمیت ایک اور وزیر کو بلانے لگے ہیں، وزیروں کو ہم بلاتے رہتے ہیں، ہمیں جو معلومات ملتی ہیں وہ ہم دے دیتے ہیں، قاضی محمد انور نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پارٹی کے اندر ہونے والی ان تحقیقات کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا ہے اور پی ٹی آئی کے اراکین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کے لئے نوٹفکیشن کیا ، فیصلہ سازی جو قاضی انور کرے گا اس میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا.

    ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    راکھی ساونت کا عمرہ کی ادائیگی سے نئے سال کا آغاز

    شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

  • ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس لینے کا الزام ،پرویز الہٰی پر  فردِ جرم عائد

    ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس لینے کا الزام ،پرویز الہٰی پر فردِ جرم عائد

    لاہور کی احتساب عدالت نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی پر ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس لینے کے الزام میں نیب ریفرنس پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کو طلب کر لیا ہے تاکہ ان کے بیانات ریکارڈ کیے جا سکیں۔

    سماعت کے دوران، پرویز الہٰی عدالت میں پیش نہ ہو سکے، جس کے باعث ان کی حاضری عدالت کے اسٹاف نے گاڑی میں جا کر مکمل کی۔ اس کے باوجود، پرویز الہٰی نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے عدالت کے سامنے اپنے دفاع میں کوئی اعتراف نہیں کیا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی اور دیگر ملزمان کے خلاف ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس وصول کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کرنے کا تحریری حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے اس بات کا بھی ذکر کیا تھا کہ پرویز الہٰی کو فردِ جرم عائد کرنے کے لیے 7 جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم ملزمان کی حاضری میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    احتساب عدالت نے تحریری حکم میں کہا تھا کہ اس کیس میں شامل دیگر ملزمان جیسے محمد خان بھٹی، خالد محمود چٹھہ، آصف محمود، نعیم اقبال، محمد اصغر اور اسد علی پر بھی فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ ان تمام ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس وصول کیں، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔

    اس کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخوں پر جاری رہے گی اور گواہوں کے بیانات کے بعد عدالت اپنے فیصلے کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

    بھارتی دو اداکاراؤں کی عمر40 برس سے زیادہ ،شادی کیوں نہ کی

    کراچی میں گٹر کے ڈھکنوں کی کمی،سندھ حکومت اور میئر کراچی کا ردعمل

  • عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    ایڈیشنل سیشن جج، جناب افضل مجوکہ کی عدالت میں ہونے والی اس سماعت میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر جزوی دلائل مکمل ہو گئے، تاہم فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔بانیٔ پی ٹی آئی کی جانب سے 6 مقدمات میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے، جبکہ بشریٰ بی بی پر جعلی رسیدوں کے کیس میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں ان کی ضمانت کی درخواست بھی زیر سماعت ہے۔ سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ بشریٰ بی بی کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کی موکلہ کو مختلف وجوہات کی بناء پر عدالت میں پیش ہونے میں دشواری کا سامنا ہے، اس لیے انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

    بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جیل حکام جان بوجھ کر بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہیں کرا رہے۔ وکیل نے بتایا کہ سلمان صفدر، جو کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے کیسز کی پیروی کر رہے ہیں، دیگر مقدمات میں مصروف ہیں، اس لیے عدالت کی طرف سے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی اجازت دی جائے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ جیل حکام یہ نہ کہیں کہ سردی کی وجہ سے انٹرنیٹ سروس معطل ہو گئی ہے، اس لیے حاضری ممکن نہیں ہو سکی۔ عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی کے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت سے قبل اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بانیٔ پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوں۔ ایڈیشنل سیشن جج نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ ایک ساتھ کیا جائے گا، کیونکہ جزوی دلائل مکمل ہو چکے ہیں اور صرف بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری باقی ہے۔عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 28 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

  • علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    اسلام آباد:ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی: پیر کو اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف غیرقانونی اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس کی سماعت ہوئی،سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے کی،مقدمے کے تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، علی امین گنڈا پور کے وکیل راجہ ظہور الحسن ایڈووکیٹ بھی عدالت پیش نہیں ہوئے۔

    جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ ملزم پیش ہوا اور نہ ہی وکیل، عدالت نے مسلسل عدم پیشی پر ایس ایس پی آپریشنز کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت نے کیس کی سماعت 21 جنوری تک ملتوی کردی۔

    عامر خان کے بیٹے جنید خان بچپن میں کونسی بیماری میں مبتلا تھے؟

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    شادی کے اخراجات سے گھبرانے والوں کیلئے حکومت کا بڑا اقدام

  • بنگلہ دیش  کےبھارت میں ججز تربیتی پروگرام منسوخ

    بنگلہ دیش کےبھارت میں ججز تربیتی پروگرام منسوخ

    بنگلہ دیش نے بھارت میں 50 ججوں اور عدالتی افسران کے تربیتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اتوار کے روز بنگلہ دیش کی وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر میں کیا گیا۔

    اس تربیتی پروگرام میں شامل ہونے والے اہلکاروں میں اسسٹنٹ ججز، سینئر اسسٹنٹ ججز، جوائنٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور دیگر مساوی سطح کے عدالتی افسران شامل تھے۔ یہ پروگرام بھارت میں 10 سے 20 فروری تک منعقد ہونا تھا، تاہم اب اس کی منسوخی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔وزارت قانون کے سرکلر کے مطابق، یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات کی تعمیل میں کیا گیا۔ سرکلر میں کہا گیا کہ بھارت میں ججز کی تربیت کے لیے منظور شدہ اس پروگرام کو اب منسوخ کیا جا رہا ہے۔

    ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیشی عبوری حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات مزید کشیدہ ہو چکے ہیں۔ محمد یونس کی سربراہی میں بنگلہ دیشی حکومت کی تشکیل کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ آیا ہے، جس کے نتیجے میں اس تربیتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
    اس فیصلے کے بعد، دونوں ممالک کے عدالتی افسران اور دیگر حکومتی اہلکاروں کے درمیان تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سیاسی تناؤ کا یہ واقعہ دونوں ممالک کے حکومتی تعلقات اور عدالتی تعاون پر ایک نیا سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے۔

    اس پیش رفت کے بعد، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان عدالتی اور قانونی تعاون میں ممکنہ تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ملکوں کی عدالتوں میں کام کرنے والے افسران کو نئے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی رسک برقرار رہیں گے،گورنر اسٹیٹ بینک

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

  • یونان کشتی حادثہ،وزیراعظم، وزیر داخلہ،خارجہ کو نوٹس جاری

    یونان کشتی حادثہ،وزیراعظم، وزیر داخلہ،خارجہ کو نوٹس جاری

    سکھر،یونان میں حالیہ کشتی حادثے میں پاکستانی شہریوں کی جانوں کے ضیاع کے حوالے سے ایڈیشنل سیشن جج نے اہم فیصلہ کیا ہے۔

    درخواست گزار کی جانب سے دائر کردہ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومتی لاپرواہی کے سبب بے روزگار پاکستانی شہری غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے پر مجبور ہوئے، جس کے نتیجے میں 75 پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، اور اس حادثے کے ذمہ دار حکومتی افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا کہ روہڑی تھانے میں حکومتی ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔اس معاملے پر ایڈیشنل سیشن جج ٹو سکھر نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایس ایس پی سکھر کو 15 جنوری 2025 کو عدالت میں پیش ہونے کے لئے نوٹس جاری کیا۔

    یونان کشتی حادثہ میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی کوشش میں کشتی کے حادثے کا شکار ہوئے۔ اس حادثے میں 75 پاکستانی شہریوں کی جانیں گئیں، جس کے بعد پورے ملک میں سوگ کی لہر دوڑ گئی اور عوامی سطح پر حکومت کی ذمہ داریوں کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔

    ایڈیشنل سیشن جج نے اس سنگین معاملے کی سماعت کرتے ہوئے وزیر اعظم، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے تاکہ اس معاملے کی تحقیقات کی جا سکیں اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق، اس فیصلے سے حکومتی سطح پر اس حادثے کی تحقیقات کی رفتار میں تیزی آ سکتی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کی کوششیں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔

    تیونس میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 27 افراد ہلاک

    یونان کشتی حادثہ،انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر سمیت 10 گرفتار

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟

  • سپریم کورٹ،سابق ڈپٹی اسپیکر  رولنگ  کیس ،پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ،سابق ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس ،پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سابق ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے کیس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو نوٹس جاری کر دیا ہے

    عدالت نے پرویز الہٰی کو نوٹس حمزہ شہباز نظرثانی کیس میں جاری کیا،دوران سماعت جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ کیس غیر مؤثر تو نہیں ہو گیا،حمزہ شہباز کے وکیل حارث عظمت نے کہا کہ کیس غیر مؤثر نہیں ہوا، آئینی بینچ نے گزشتہ سماعت پر فریقین کو نوٹسز بھی کیے تھے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پرویز الہٰی کی طرف سے کون پیش ہو گا وہ بھی کیس میں فریق ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا تھا،سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے فیصلہ نظرثانی میں چیلنج کیا تھا

    حکومت بتائے کہ اس نے کچی آبادی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ،سپریم کورٹ
    دوسری جانب سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کچی آبادی کیس میں وفاق سے کچی آبادیوں سے متعلق پالیسی رپورٹ دو ہفتوں میں طلب کر لی ہے،آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین نے کہا ہے کہ کچی آبادی کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار صوبوں اور مقامی حکومتوں کا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا ہے کہ صوبائی اختیارپر وفاقی حکومت کیا قانون سازی کر سکتی ہے؟ پہلے تو یہ بتایا جائے کہ کچی آبادی کیا ہوتی ہے؟ بلوچستان میں تو سارے گھر ہی کچے ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ قبضہ گروپ ندی نالوں کے کنارے کچی آبادی بنا لیتے ہیں۔ عوامی سہولتوں کے پلاٹ پر کچی آبادی او مکانات بن جاتے ہیں۔ حکومت بتائے کہ اس نے کچی آبادی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں،وکیل سی ڈی اے نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھاڑی نے 10 کچی آبادیوں کو نوٹیفائی کر رکھا ہے۔ سب سے پہلے تو کچی آبادی کی تعریف طے کی جائے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر ان کچی آبادی کے علاوہ کوئی قبضہ ہے تو کارروائی کریں۔ غیر قانونی قبضہ چھڑانے کے قوانین موجود ہیں۔ اس پر وکیل سی ڈی اے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالت نے ہی قبضہ چھڑانے کے خلاف حکم امتناع دے رکھا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر حکم امتناع ہے، تو عدالت سے اس کو ختم کرائیں۔ تجاوزات کیسے بن جاتی ہیں۔ سب سے پہلے چھپرا ہوٹل بنتے ہیں اور پھر وہاں آہستہ آہستہ آبادی بن جاتی ہے۔ تجاوزات کی تعمیر میں ادارے کے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں۔

    شادی کی آڑ میں مجرا پارٹی سے رقاصاؤں سمیت 50 افراد گرفتار

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس کا پہلا کیس رپورٹ

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا نئی تاریخ احتساب عدالت نے نیب اور عمران خان کے وکلا کو بتا دی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آج سنا یا جانا تھا تا ہم آج بھی نہ سنایا جا سکا، عمران خان کے وکیل عدالت پہنچے تو انہیں عدالتی عملے نے آگاہ کیا کہ اب کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،مگر ابھی تک فیصلہ نہیں سنایا گیا بلکہ مزید مؤخر کر دیا گیا ہے.

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    نیو یارک: امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہش منی کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ نیو یارک کی عدالت نے 10 جنوری 2025 کو ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق، جج نے کاروباری معلومات میں جعلسازی کے مقدمے میں ٹرمپ پر فرد جرم برقرار رکھی ہے۔ اس کیس میں ٹرمپ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے کاروباری معاملات میں جعلی معلومات فراہم کی تھیں، جس کے نتیجے میں انہوں نے مالی فوائد حاصل کیے۔تاہم، ابتدائی طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کو اس کیس میں جیل کی سزا ممکنہ طور پر نہیں سنائی جائے گی۔ اس کے بجائے، انہیں جرمانے یا دیگر سزائیں مل سکتی ہیں۔ اس مقدمے میں ٹرمپ کی ذمہ داری کی نوعیت کی وجہ سے جج نے یہ کہا کہ ان پر فرد جرم برقرار رکھی جائے گی، لیکن اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں صدر کے عہدے کے لیے خدمات انجام دینے کی اجازت دی جائے گی، حالانکہ وہ مجرم قرار پائیں گے۔

    واضح رہے کہ 10 جنوری کے فیصلے کے بعد صرف چند دنوں میں، یعنی 20 جنوری 2025 کو، ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر کے عہدے کے لیے حلف اٹھانا ہے۔ اس حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ کی صدر کے طور پر حلف برداری کے عمل میں کوئی قانونی رکاوٹ آئے گی یا نہیں، اور آیا وہ اس مقدمے کے باوجود امریکی صدر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے پائیں گے۔

    ٹرمپ کی ٹیم اور ان کے حامیوں کی جانب سے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے کئی رہنما اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی نوعیت کا مقدمہ ہے جو ٹرمپ کی صدارت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے۔اگرچہ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا جائے گا، لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اپنے سیاسی کیریئر کو جاری رکھیں گے اور 2025 میں صدر کے طور پر اقتدار سنبھالیں گے، کیونکہ امریکی آئین میں کسی شخص کو صدر بننے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ عدالتی مقدمات میں بے قصور ہو۔

    جج رخصت پر،اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ملتوی

    خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

  • تشدد کیس، اداکارہ نرگس نے شوہر کو معاف کر دیا

    تشدد کیس، اداکارہ نرگس نے شوہر کو معاف کر دیا

    سیشن کورٹ لاہور،سابق اداکارہ نرگس پر مبینہ تشدد کے مقدمے میں پیش رفت سامنے آئی ہے

    اداکارہ نرگس اور شوہر ماجد بشیر کے درمیان صلح ہوگی ،عدالت میں دونوں کی جانب سے باہمی رضا مندی سے صلح نامہ جمع کروا دیا گیا ،عدالت سے ماجد بشیر نے عبوری ضمانت واپس لے لی ،ایڈیشنل سیشن جج نے ضمانت واپس کرتے ہوئے مسترد کردی ،وکیل اداکارہ نے کہا کہ ہمارے بڑوں نے باہمی رضا مندی سے معاہدہ کروایا ہے ،بڑوں کے کہنے پر اداکارہ نے شوہر کو معاف کیا،کوئی فریق اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا ،

    ماجد بشیر نے گزشتہ سال نومبر میں اپنی بیوی نرگس کو تشدد کا نشانہ بنایاتھا، تشدد کرنے کا مقدمہ اداکارہ نرگس نے تھانہ ڈیفنس سی میں درج کروایا تھا، انسپکٹر ماجدبشیر تشدد کیس میں ابھی تک ضمانت پر تھے۔

    اداکارہ نرگس کا کہنا تھا کہ خاندان کے بڑوں کی مداخلت پر انسپکٹر ماجد بشیر کو معافی دی، میرے بچے اور خاندان والے ناراض لیکن بڑوں کے کہنے پرخاوند کو معاف کیا، عدالت میں بھی صلح نامے کا بیان حلفی جمع کروا دیا ہے، باقی زندگی اپنے بیٹے اور بیٹی کےلئے جینا چاہتی ہوں۔

    اداکارہ نرگس پر شوہر کا تشدد کیس،ملزم کی ضمانت میں توسیع

    اداکارہ نرگس کی درخواست پر عابدہ عثمانی و دیگر پرمقدمہ درج

    اداکارہ نرگس کی درخواست پر عابدہ عثمانی کو ایف آئی اے طلبی کا نوٹس