Baaghi TV

Tag: عدالت

  • پرویز الٰہی کی نظر بندی کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    پرویز الٰہی کی نظر بندی کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے سرکاری وکیل کی جانب سے کابینہ ریویو کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر سماعت ملتوی کر دی ،،وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ صوبائی کابینہ میں نظر بندی پر ریویو نہیں کیا گیا،عدالت نے اگلی سماعت پر کابینہ کے ریویو کی رپورٹ طلب کر لی ،عدالت نے سرکاری وکیل کے پیش نہ ہونے پر سماعت ملتوی کر دی پرویز الہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کے وکیل بھی پیش بھی نہ ہوسکے

    جسٹس راحیل کامران نے پرویز الہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کی درخواست پر سماعت کی، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پرویز الہی کی نظر بندی قانون کے برعکس ہوئی پرویز الہی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    پرویز الہیٰ کو سیکورٹی خدشات کی وجہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے ، پرویز الہیٰ کو عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا تا ہم ڈی سی لاہور کے حکم پر پرویز الہیٰ کو نظر بند کر دیا گیا، پرویز الٰہی کو ہائی پروفائل کیس کی وجہ سے حکومت کی منظوری سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے

  • ریاست ہوگی ماں کے جیسی،ماں کو پتہ ہونا چاہئے کہ بیٹا کہاں ہے،عدالت

    ریاست ہوگی ماں کے جیسی،ماں کو پتہ ہونا چاہئے کہ بیٹا کہاں ہے،عدالت

    پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی و دیگر کی ضمانت کے بعد نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت پہوئی

    شہریار آفریدی کے وکلاء ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں پیش ہوئے ، اور کہا کہ شہریار آفریدی اور ان کے بھائی فرخ جمال آفریدی کو اڈیالہ جیل سے نامعلوم افراد کے حوالے کیا گیا ،جیل انتظامیہ اور پولیس شہریار آفریدی اور ان کے بھائی سے متعلق کچھ نہیں بتا رہی،ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 1 گھنٹے میں طلب کر لی ، وکیل ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ شہریار آفریدی کی نظر بندی کے احکامات منسوخ کر دیئے گئے،نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت جسٹس انوار الحق نے کی

    شہریار آفریدی اور اس کے بھائی فرخ جمال آفریدی کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر وقفے کے بعد سماعت ہوئی،عدالت کے طلب کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اسد وڑائچ عدالت میں پیش ہو گئے ،عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے استفسار کیا کہ شہریار آفریدی اور اس کا بھائی فرخ جمال آفریدی کہاں ہے، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ شہریار آفریدی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ فرخ جمال آفریدی کہاں ہیں، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ فرخ جمال آفریدی اڈیالہ جیل میں نہیں بلکہ وہ ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں تھے،سرکاری وکیل نے کہا کہ فرخ جمال افریدی کے نظر بندی کے احکامات معطل ہونے کے بعد جہلم جیل سے رہا کر دیا گیا تھا،وکیل شہریار آفریدی نے کہا کہ فرخ جمال آفریدی کی جہلم جیل سے رہائی کے بعد کوئی پتہ نہیں

    جسٹس انوار الحق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست ہو گی ماں کے جیسی،ماں کو پتہ ہونا چاہئے کہ بیٹا کہاں ہے، مائیں دو طرح کی ہوتی ہیں، دوسری ماں نہ بنے ، وکیل فرخ جمال آفریدی نے کہاکہ ڈی سی اسلام آباد نے فرخ جمال آفریدی کے تھری ایم پی او آرڈر جاری کیے ہیں،عدالت نے کہا کہ عدالت نے آئین اور قانون کے مطابق چلنا ہے،ہم دیکھیں گے یہ حدود لاہور ہائی کورٹ کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں، نظر بندی کے مزید احکامات جاری کرنے سے قبل عدالت کو آگاہ کرنا ہو گا،

     پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

    واضح رہے کہ چار اگست کوشہر یار آفریدی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رہائی کے بعد فوری گرفتار کیا گیا ہے، شہر یار آفریدی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت نے انہین رہا کرنے کا حکم دیا

  • توشہ خانہ تحائف اثاثوں میں ظاہر نہ کرانے والے تمام اراکین اسمبلی کیخلاف درخواست

    توشہ خانہ تحائف اثاثوں میں ظاہر نہ کرانے والے تمام اراکین اسمبلی کیخلاف درخواست

    لاہور ہائیکورٹ: توشہ خانہ تحائف اثاثوں میں ظاہر نہ کرانے والے تمام اراکین اسمبلی کے خلاف کاروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ،عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان سمیت دیگر کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا .عدالت نے صدر سپریم کورٹ بار اور وائس چیرمین پنجاب بار کو عدالتی معاون مقرر کردیا .جسٹس راحیل کامران نے ندیم سرور کی درخواست پر سماعت کی

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن کی درخواست پر چیرمین تحریک انصاف کو تین سال قید کی سزا ہوئی ۔الیکشن کمیشن انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر رہا ۔الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ تحائف ظاہر نہ کرنے والے اراکین اسمبلی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔آصف زرداری ، نواز شریف ، شاہد خاقان عباسی ، یوسف رضا گیلانی نے توشہ خانہ تحائف ظاہر نہیں کیے ۔ الیکشن کمیشن ان اراکین اسمبلی کے خلاف جان بوجھ کر کاروائی نہیں کر رہا ۔عدالت توشہ خانہ تحائف ظاہر نہ کرنے والے اراکین اسمبلی کے خلاف الیکشن کمیشن کو کاروائی کا حکم دے ۔

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر اعتراض لگ گیا

    ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر اعتراض لگ گیا

    سپریم کورٹ ،بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی ویڈیو اسکینڈل کا معاملہ ،ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی گئی

    اعتراض میں کہا گیا کہ آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر درخواست میں ذاتی مفاد کے معاملے کو نہیں سنا جا سکتا، درخواست گزار نے سپریم کورٹ آنے سے قبل متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا،درخواست میں عوامی مفاد وابستہ ہونے کے معاملے کی وضاحت نہیں کی گئی،درخواست سپریم کورٹ رولز 1980 پر پورا نہیں اترتی ،درخواست ایڈوکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے دائر کی تھی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ مبینہ ویڈیوز کو پبلک کرنے سے روکا جائے، سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر آئی جی پنجاب سمیت کسی تحقیقاتی افسر کا تبادلہ نہ کیا جائے،پنجاب حکومت کے تشکیل کردہ جوڈیشل کمیشن کو پولیس تحقیقات تک کام سے روکا جائے،پولیس اور ایف آئی اے کو 15 روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا جائے،عدالتی اجازت کے بغیر واقعہ سے متعلق تفصیلات کسی سیاسی شخصیت کو فراہم نہ کی جائیں مبینہ ویڈیو کلپس غیر متعلقہ افراد پبلک کر رہے ہیں .سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مبینہ ویڈیوز شیئر کرنے سے روکا جائے تاکہ طلبا کو بلیک میل نہ کیا جاسکے،طلبا کی غیر اخلاقی مبینہ ویڈیوز شیئر کرنے سے ان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے،سیاسی افراد کی مداخلت کے باعث شفاف تحقیقات ممکن نہیں،درخواست میں وفاق،پنجاب حکومت اور ایف آئی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ بہاولپور کی اسلامیہ یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی افسر سے منشیات، نازیبا ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہونے کے کیس میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے، یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی افسر سید اعجاز اور ڈائریکٹر فنانس ابو بکر کے موبائل فونز کا فرانزک مکمل کرلیا گیا ہے۔ بہاولپور میں گرفتار ہونے والے اسلامیہ یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی آفیسر سے منشیات، نازیبا ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہونے کے کیس میں ہوشرباء انکشافات سامنے آگئے جس میں ملزم اعجاز شاہ اور ڈائریکٹر فنانس ابوبکر کے موبائل فونز کا فرانزک مکمل کرکے ویڈیوز، چیٹس اور تصاویر کے حوالے سے جامعہ رپورٹ نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسال کردی گئی۔

    نئے وائس چانسلر نے سینیٹ قائمہ کمیٹی میں اہم انکشافات کئے

    سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو امریکہ جانے سے روک دیا گیا

    منشیات کی مبینہ خرید و فروخت انکوائری کمیٹی تشکیل

    طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ بعض لوگوں نے اپنا ایجنڈا دوسرے کے منہ سے نکلوانے کی کوشش کی، 

  • سپریم کورٹ،پارک ویو سٹی کے تنازعے سے متعلق رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ،پارک ویو سٹی کے تنازعے سے متعلق رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ: پارک ویو سوسائٹی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے چئیرمین سی ڈی اے سے پارک ویو سٹی کے تنازعے سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ،پارک ویو سٹی کے وکیل نے این او سی معطلی کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ این او سی بحالی سے متعلق معاملہ تمام تنازعات کے حل کے بعد دیکھیں گے ،ایڈشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارک ویو سٹی نے مارگلہ نیشنل پارک کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے،پارک ویو سٹی کے نیشنل پارک کی زمین پر تعمیراتی کام سے ماحولیاتی خطرات ہو سکتے ہیں،پارک ویو سٹی کے غیر قانونی قبضے میں زمین واگزار کرائی جانی چاہیے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ پارک یا جنگل کی زمین کسی اور مقصد کے لیے استعمال نا ہو، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت مزید ماحولیاتی تباہی کا انتظار کر رہی ہے؟ سی ڈی اے قدرتی مسکن کو تباہ کرنے والی ہاوسنگ سوسائٹی کو زمین کیسے دے سکتی ہے؟ سی ڈی اے نے زمین کے اجراء کے وقت ماحولیاتی تحفظ سے متعلق جائزہ کیوں نہیں لیا؟ ممبرسی ڈی اے پلاننگ نے عدالت میں کہا کہ پارک ویو سوسائٹی کسی نیشنل پارک کی زمین پر نہیں، پارک ویو پر بوٹینکل گارڈن کی زمین استعمال کا الزام بھی درست نہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ مطمئن ہیں تو پھر تنازعہ ہی ختم،بہتر ہو گا ایک ایسا ہی بیان چئیرمین سی ڈی اے کی جانب سے آ جائے، سوسائٹی کو عبوری حکمنامے سے ملا ریلیف بھی برقرار رہے گا، سی ڈی اے کو معاوضے کی عدم فراہمی کے شکایت کنندگان کو سننے کی ہدایت کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے آئندہ سماعت سے پہلے تمام معاملات حل کرے،کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی،کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    پاکستانیوں کے پاس اندھا پیسہ، پرتگال میں مبشر لقمان نے کیا دیکھا؟

    انڈین کرکٹ ٹیم پاکستان کیوں نہیں آرہی ؟ بھارتی ہائی کمشنر نے مبشر لقمان کو کیا بتایا۔

  • رضوانہ تشدد کیس،ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    رضوانہ تشدد کیس،ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس ،سول جج عاصم کی اہلیہ سومیا عاصم کو ڈیوٹی مجسٹریٹ شائسہ کنڈی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے سومیا عاصم کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا ملزمہ سومیا عاصم کو گزشتہ روز ضمانت خارج ہونے پر عدالت کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی ،عدالت نے استفسار کیا کہ خاتون کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق قانون کیا ہے؟ پولیس حکام نے کہا کہ قتل میں ملوث ہو یا پھر ڈکیتی میں ملوث ہو تو ریمانڈ ہوتا ہے، تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ دیا جائے ،عدالت نے کہا کہ اس بات پر آپ کو جسمانی ریمانڈ نہیں دے سکتی میڈیا میں کوریج مل رہی ہے ۔میں نے پاکستان کا قانون دیکھنا ہے کیا کہتا ہے ۔

    ملزمہ نے عدالت میں کہا کہ مجھے رات 11:30 تک ذہنی ٹرچر کیا گیا ہے۔ مجھے گھر لے گئے ہیں اس کے بعد ویمن تھانہ لے کر گئے ہیں ۔عدالت نے کہا کہ قانون خاتون ملزم کو صرف 2 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کی اجازت دیتا ہے،صرف اقدام قتل اور قتل کے مقدمات میں قانون خاتون ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی اجازت دیتا ہے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم نے بچی کو دی جانے والی اجرت کے حوالے سے رسیدیں حاصل کرنی ہیں، وکیل صفائی نے کہا کہ ہمارے خلاف الزام ہے کہ بچی ہمارے پاس ملازمہ تھی،بچی ہمارے پاس ملازمہ تھی ہی نہیں، یہ الزام ہے،جج شائستہ خان کنڈی نے کہا کہ آپ نے اگر وڈیو ہی لینی ہے تو سیف سٹی سے وڈیو لے لیں، میں آپ کو میڈیا ہائپ کی بنیاد پر تو جسمانی ریمانڈ نہیں دے سکتی،

    کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پرمبینہ تشدد کی ملزمہ روسٹرم پرآ گئیں اور کہا کہ میں ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہوں،میں ایک ماں ہوں، میرے تین بچے ہیں، اس طرح کا ٹارچر نہ کیا جائے، سومیا عاصم آبدیدہ ہوگئیں اور کہا کہ انہوں نے رات ساڑھے گیارہ بجے مجھے بلا کر مینٹل ٹارچر کیا ہے، تفتیشی افسر بھی ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، تفتیشی افسر نے وضاحت کی اور کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے میڈم،

    ملزمہ سومیہ عاصم حفیظ نے سارا الزام میڈیا پر لگایا اورعدالت میں کہا کہ میرا میڈیا ٹرائل ہورہا ہے ،میں ماں ہوں،میرے تین بچے ہیں، مجھے ذہنی طور پر ٹارچر کررہے ہیں، مجھے پولیس کسٹڈی میں نہ دیں،

    فاضل جج شائستہ خان نے تفتیشی سے استفسار کیا کہ جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے؟ جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمہ سومیا عاصم سے تفتیش کرنی ہے ابھی کل ہی ضمانت خارج ہوئی ہے بس اڈے سے ویڈیوز بھی لینی ہیں ،جج شائستہ خان نے ملازمہ رضوانہ کی حالت سے متعلق پوچھا جس پر ملزمہ کی بہن نے کہا کہ رضوانہ کی حالت اب کافی بہتر ہے انتہائی نگہداشت یونٹ سے نکال لیا گیا ہے جج شائستہ خان نے پوچھا آپ کون ہیں، جس پر جواب دیا کہ میں ملزمہ کی بہن ہوں ،پراسیکیوٹر وقاص نے دوران سماعت کہا کہ جسمانی ریمانڈ تو ملزمہ سومیا عاصم کی بہتری کیلئے ہے کوئی ثبوت دینا چاہیں تو پولیس کو دے سکتی ہیں ،عدالت نے ملزمہ سومیا عاصم کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    رضوانہ تشدد کیس،ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد
    جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے فیصلہ سنایا ،پراسیکیوشن نے ملزمہ سومیا عاصم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی، عدالت نے ملزمہ سومیا عاصم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ،عدالت نے 22 اگست کو ملزمہ سومیا عاصم کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کر دی

    دوسری جانب رضوانہ تشدد کیس میں نیا موڑ سامنے آیا ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں سول جج کی اہلیہ رضوانہ کو بس سٹاپ پر والدہ کو دے کر آتی ہیں، ملزمہ کے وکیل کے بیان کے برعکس سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچی کی تشویشناک حالت دیکھی جا سکتی ہے فوٹیج کے مطابق گاڑی سے اترنے کے بعد بچی والدہ کا سہارا لینے کی کوشش کر رہی ہے فوٹیج میں بس اسٹاپ پر بچی کی والدہ کو روتے دیکھا جا سکتا ہے

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • دس اگست کو پرویز الٰہی سے قانون کے مطابق ملاقات کرانے کا حکم

    دس اگست کو پرویز الٰہی سے قانون کے مطابق ملاقات کرانے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ: سابق وزیر اعلی پرویز الٰہی سے ملاقات کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست گزار کی دس اگست کو پرویز الٰہی سے قانون کے مطابق ملاقات کرانے کا حکم دے دیا، عدالت نے کہا کہ سرکاری وکیل یہ ملاقات کروا کر عدالت کو اگاہ کریں ۔سرکاری وکیل نے کہا کہ درخواست گزار، اسکی بیٹیوں اور بیٹے کو جیل میں پرویز الٰہی سے ملاقات کرا دی گئی ہے یہ ملاقات 27 جولائی کو کروا دی گئی ۔

    جسٹس راحیل کامران شیخ نے پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کی درخواست پر سماعت کی ،وکیل درخواست گزارنے کہا کہ عدالت نے تمام مقدمات میں پرویز الٰہی کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا۔حکومت نے شوہر کو رہا کرنے کی بجاے نظر بند کر دیا۔درخواست گزار کو شوہر سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔عدالت قانون کے مطابق پرویز الٰہی سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم دے،

    پرویز الٰہی کی اہلیہ نے نظر بندی کے احکامات کو چیلنج کررکھا ہے

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    پرویز الہیٰ کو سیکورٹی خدشات کی وجہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے ، پرویز الہیٰ کو عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا تا ہم ڈی سی لاہور کے حکم پر پرویز الہیٰ کو نظر بند کر دیا گیا، پرویز الٰہی کو ہائی پروفائل کیس کی وجہ سے حکومت کی منظوری سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے

  • چیف الیکشن کمشنر نے کی وکیل اے پی ایم ایل کی سرزنش

    چیف الیکشن کمشنر نے کی وکیل اے پی ایم ایل کی سرزنش

    پارٹی نشان الاٹ کرنے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت سماعت کی

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 2010 میں اے پی ایم ایل کی پارٹی رجسٹریشن ہوئی، اس پارٹی میں شروع سے آپس میں شدید اختلاف رہا ہے،اس پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے مطابق نہیں ہوئے، الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی تفصیلات بوگس ہیں،

    چیف الیکشن کمشنر نے وکیل اے پی ایم ایل کی سرزنش کی، وکیل اے پی ایم ایل نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی تمام ضروریات پوری کر دیں گے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن صدیق مرزا کو ابھی تک پارٹی صدر تسلیم نہیں کر رہا، اگلی تاریخ تک ان کو تمام دستاویزات فراہم کر دیں،اگلی سماعت پر اس کیس کو نمٹا دیں گے کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی گئی

    ملتے جلتے ناموں کی کئی سیاسی جماعتیں موجود ہیں،چیف الیکشن کمشنر
    استحکام پاکستان پارٹی کی رجسٹریشن معاملہ ،الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی،چیف الیکشن کمیشن کی زیر صدارت پانچ رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،

    وکیل نے کہا کہ استحکام پاکستان تحریک بطور پارٹی 2022 سے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے ،اچانک جہانگیر ترین، علیم خان اور دیگر نے لاہور میں پریس کانفرنس کی اور استحکام پاکستان پارٹی کا اعلان کر دیا،ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ کیا آپ اس پارٹی کو چیلنج کر سکتے ہیں، ممبر الیکشن کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ ملتے جلتے ناموں کی کئی سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں، ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ کیا آپ اس پوائنٹ پر ہمیں مطمئن کر سکتے ہیں کہ ایک پارٹی رجسٹرڈ نہیں اور آپ کی درخواست اس کے خلاف قابل سماعت ہو سکتی ہے،

    سماعت کے دوران استحکام پاکستان پارٹی کے وکیل کی آمد پر خوش آمدید کہنے پر چیف الیکشن کمشنر کا چٹکلا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ویسے تو آپ کو ان کو خوش آمدید کہ رہے ہیں،دونوں استحکام پاکستان کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن وہاں آپ انہیں خوش آمدید نہیں کہ رہے، وکیل استحکام پاکستان تحریک نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی والے ہر چیز دوسروں سے چرا رہے ہیں، ممبر الیکشن کمیشن اکرام اللہ نے کہا کہ آپ بھی استحکام پاکستان چاہتے ہیں، وہ بھی استحکام پاکستان چاہتے ہیں، ہم بھی استحکام پاکستان چاہتے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ملتے جلتے ناموں کی کئی سیاسی جماعتیں موجود ہیں، آپ کا پوائنٹ آ گیا ہے، ممبر الیکشن کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ انتخابی نشان کسی بھی پارٹی کی منفردیت کو بیان کرتا ہے، ممبر الیکشن کمیشن جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ نے کہا کہ کیا آسٹریلیا میں محمد علی اور احمد علی ہوتا ہے، ،الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • توشہ خانہ کیس، سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    توشہ خانہ کیس، سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کی سزا کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے

    عمران خان کی اپیل پر سماعت کل ہو گی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پرمشتمل بینچ عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت کرے گا

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی،عمران خان کی طرف سے وکیل خواجہ حارث نے اپیل دائر کی،عدالت سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ خلاف قانون ہے، کالعدم قرار دیا جائے اور مرکزی اپیل پر فیصلے تک سزا معطل کر کے رہائی کا حکم جاری کیا جائے۔

    اپیل دائر کرنے کے بعد وکیل کا کہنا تھا کہ ہم جلد ہی الیکشن کمیشن کے تمام تحفظات دور کرلیں گے ہم انٹراپارٹی الیکشن کرچکے تھے، جو اسٹیٹمنٹ ریکارڈ ہوا اس کی وضاحت الیکشن کمیشن کو دینگے اپیل فائل کررہے ہیں جس سے چیئرمین پی ٹی آئی کو ریلیف مل جائے گا آج اپیل کیساتھ چیئرمین پی ٹی آئی کی تین سال کی نااہلی واپس لینے کی درخواست بھی دائر کررہے ہیں ہماری استدعا ہے کہ آج اگر کیس کو نہیں سنا گیا تو کل اس کو سن لیا جائے چیئرمین تحریک انصاف ہی چیئرمین رہیں گے ،

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل کو نمبر الاٹ کردیا ،رجسٹرار آفس نے توشہ خانہ کیس کے دائرہ اختیار کے خلاف دائر اپیل کو نمبر ,922, 921 الاٹ کیا ،چیئرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا توشہ خانہ کیس واپس ٹرائل کورٹ بھیجنے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا، رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے اپیل اعتراضات لگا کر واپس کردی تھی ،چیئرمین تحریک انصاف لیگل ٹیم نے اعتراضات دور کرکے اپیل دوبارہ جمع کرادی

    واضح رہے کہ عمران خان کو تین روز قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • افتخار درانی اسلام آباد پولیس کی حراست میں نہیں،رپورٹ عدالت جمع

    افتخار درانی اسلام آباد پولیس کی حراست میں نہیں،رپورٹ عدالت جمع

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی رہنما افتخار درانی کی مبینہ گرفتاری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد پولیس نے عدالتی حکم پر پیش رفت رپورٹ جمع کرا دی ، پراسیکیوٹر نے کہا کہ افتخار درانی اسلام آباد پولیس کی حراست میں نہیں ہیں ،افتخار درانی کے اغوا کا مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج کرلیا گیا ہے،افتخار درانی کے وکیل شیر افضل مروت راولپنڈی بینچ میں مصروفیات کے باعث پیش نہ ہوسکے عدالت نے وکیل شیر افضل مروت کی واپسی تک سماعت میں وقفہ کردیا

    دوبارہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں افتخار درانی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی، لاپتا افتخار درانی کی فیملی وکیل شیر افضل مروت کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئی۔ دوسرے فریق کی جانب سے ایس پی سی آئی اے انویسٹی گیشن رخسار مہدی اور وکیل پولیس طاہر کاظم عدالت میں پیش ہوئے پولیس کے وکیل نے بتایا کہ مقدمہ درج ہو چکا ہے پولیس اپنا کام کرے گی ، افتخار درانی کے وکیل شیر افضل مروت نے ایس پی سی آئی اے رخسار مہدی پر اعتماد کا اظہار کیا اور عدالت میں کہا ہمیں ایس پی رخسار مہدی پر پورا اعتماد ہے وہ اسلام آباد پولیس کے واحد اچھی ساکھ والے افسر ہیں ،عدالت نے پولیس کو افتخار درانی کی بازیابی کے لئے چارروز کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ 3 اگست آدھی رات کو افتخار درانی کو مبینہ طور پر گرفتار یا اغوا کیا گیا، 7اگست کواسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی اورچیف جسٹس نے متعلقہ حکام کو نوٹس بھیجتے ہوئے کل افتخار درانی کو پیش کرنے کا کہا ، 8 آگست اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈاکٹرافتخار درانی ان کی حراست میں نہیں ہیں

    افتخار درانی تحریک کے دور میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر بھی کام کیا ،افتخاردرانی نے 2013 میں حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم میں مواصلات کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں

    تحریک انصاف کے رہنما افتخار درانی کی نازیبا ویڈیو سامنے آئی ہے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیو لیک

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

    عامر لیاقت رات رو رہے تھے، کہہ رہے تھے میں مر جاؤں گا، ملازم