Baaghi TV

Tag: عدالت

  • فنڈنگ کیس،جواب جمع کرانے کا بھی آٹھ سالہ پروگرام ہے؟ چیف الیکشن کمشنر کا وکیل سے مکالمہ

    فنڈنگ کیس،جواب جمع کرانے کا بھی آٹھ سالہ پروگرام ہے؟ چیف الیکشن کمشنر کا وکیل سے مکالمہ

    ممنوعہ فنڈنگ ضبطگی کیس ،چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت تین رکنی کمیشن نے سماعت کی

    پی ٹی آئی کے معاون وکیل نوید انجم الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، پی ٹی آئی نے ضمنی جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرادیا،معاون وکیل نے کہا کہ 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کا ریکارڈ غائب کردیا گیا، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کتنے ضمنی جوابات جمع کرائیں گے؟ معاون وکیل نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے باعث ہم مجبور ہیں، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا ہم پھر آپ کا جواب جمع کرانے کا حق ختم کردیں؟ گزشتہ سماعت پر جواب جمع کرانے کیلئے حتمی وقت دیا گیا تھا، اس کیس میں پہلے متعدد مرتبہ جواب کیلئے موقع دے چکے ہیں،

    معاون وکیل نے کہا کہ انور منصور شدید بیمار ہیں، اس لیے پیش نہیں ہوسکے، حالات کے باعث جواب جمع کرانے میں تاخیر ہورہی ہے،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آخری موقعے کا مطلب آخری موقع ہی ہوتا ہے، الیکشن کمیشن گزشتہ سماعت کے آرڈر پر کیا کرے؟ عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن تمام کیسز کو جلد از جلد نمٹانا چاہتا ہے،آپ کا جواب جمع کرانے کیلئے بھی آٹھ سالہ پروگرام لگ رہا ہے، معاون وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے دفاتر پر دھاوے بولے گئے، سارا ریکارڈ اٹھا کر لے گئے ہیں، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انور منصور نے اج سے قبل اپنے تمام وعدے پورے کیے، اس کیس میں مزید کاروائی اسلام آباد ہائیکورٹ کی روشنی میں کریں گے،

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا مزید جواب جمع کے حق کرانے پر فیصلہ محفوظ کرلیا،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت سے قبل محفوط فیصلے پر آرڈر جاری کریں گے، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کردی

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،جواب جمع کروانے کے لئے وقت مانگ لیا
    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا معاملہ ،چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت تین رکنی کمیشن نے سماعت کی،پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، بیرسٹر گوہر نے جواب جمع کرانے کیلئے مزید وقت مانگ لیا، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج مجھے اہم کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ پیش ہونا ہے،الیکشن کمیشن جواب جمع کرانے کیلئے مزید وقت دے،الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات میں مزید وقت دینے کی استدعا منظور کرلی،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کردی،پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی انتخابات پر 15 اگست تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی،

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • جلاؤ گھیراؤ سمیت نو مئی کے چھ مقدمات میں اسد عمر، قریشی کی ضمانت میں توسیع

    جلاؤ گھیراؤ سمیت نو مئی کے چھ مقدمات میں اسد عمر، قریشی کی ضمانت میں توسیع

    لاہور:انسداد دہشت گردی عدالت،جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ سمیت نو مئی کے چھ مقدمات پر سماعت ہوئی

    شاہ محمود قریشی ، فواد چوہدری اور اسد عمر کی عبوری ضمانت میں توسیع کا حکم جاری کر دیا گیا، علیمہ خانم اور عظمی خان کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کا حکم بھی جاری کر دیا گیا،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے سماعت کی ،سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایڈوکیٹ رانا مدثر عمر نے دلائل دئیے ،وکیل نے عدالت میں کہا کہ ملزمان شامل تفتیش ہو چکے ہیں عدالت ملزمان کی عبوری ضمانتیں کنفرم کرنے کا حکم دے، شاہ محمود قریشی ، علیمہ خانم ،عظمی خان اور اسد عمر کسی بھی واقع میں ملوث نہیں ہیں ،

    سیاسی رہنما شاہ محمود قریشی ، اسد عمر ،علیمہ خانم اور عظمی خان عبوری ضمانت کی معیاد ختم ہونے پر عدالت پہنچے ،عدالت نے پولیس سے ریکارڈ طلب کر رکھا ہے

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو شکایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو شکایت

    سپریم کورٹ: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو شکایت بھجوا دی گئی

    بیرسٹر علی طاہر نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کیخلاف شکایت بھیجی ،چیف جسٹس عامر فاروق پر مس کنڈک،عہدے کے غلط استعمال اور جانبداری کے الزامات عائد کئے گئے ہیں ، درخواست میں استدعا کی گئی کہ چیف جسٹس عامر فاروق کیخلاف انکوائری کر کے انکو عہدے سے ہٹایا جائے،چیف جسٹس عامر فاروق تحریک انصاف اور چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف کام کر رہے ہیں،طاقتور حلقوں کیساتھ ملکر چیئرمین پی ٹی آئی کو نشانہ بنایا جارہا ہے،جج ہمایوں دلاور کو توشہ خانہ کیس واپس بھیجنے سمیت جسٹس عامر فاروق متعدد متنازعہ فیصلے دے چکے،شکایت کی کاپی سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران کو ارسال کی گئی ہے

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • اسد قیصر کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    اسد قیصر کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    ‏اسلام آباد ہائیکورٹ: سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیئے گئے

    سابق رکن قومی اسمبلی انور تاج کی درخواست پر بھی نوٹس جاری، عدالت نے جواب طلب کر لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکرٹری داخلہ اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسد قیصر اور انور تاج کی درخواستوں پر سماعت کی، وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ درخواست گزاروں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے گیے، درخواست گزاروں کے ساتھ سیاسی انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں،عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

    واضح رہے کہ چند ہفتوں قبل حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے متعدد موجودہ اور سابق رہنماؤں و قائدین کے نام ای سی ایل ڈالے گئے تھے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے 70 رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالےگئے ۔ذرائع کے مطابق جن رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے ہیں ان میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، شیخ رشید، شہریار آفریدی، مراد سعید، علی محمد خان، قاسم سوری، اسد عمر، اسد قیصر، ملیکہ بخاری اور دیگر سابق ایم این ایز شامل ہیں رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ پولیس کی سفارش پر کیا گیا ۔

  • توشہ خانہ کیس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    توشہ خانہ کیس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،

    درخواست میں توشہ خانہ کیس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ توشہ خانہ کیس کا ٹرائل دوبارہ شروع کیا جائے،توشہ خانہ کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کو فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا، توشہ خانہ کیس کا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہے،توشہ خانہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے تک سزا معطل کی جائے،درخواست آئین کے آرٹیکل 184 دو کے تحت دائر کی گئی ہے ،درخواست ایڈوکیٹ لاہور ہائیکورٹ صائمہ صفدر نے دائر کی ،درخواست میں درخواست میں پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد، حکومت اور جج ہمایوں دلاور کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ عمران خان کو دو روز قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • رضوانہ تشدد کیس ،ملزمہ کی ضمانت خارج کمرہ عدالت سے گرفتار

    رضوانہ تشدد کیس ،ملزمہ کی ضمانت خارج کمرہ عدالت سے گرفتار

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ گھریلو ملازمہ تشدد کیس میں ملزمہ صومیہ عاصم کو ضمانت خارج ہونے پر گرفتار کرلیا گیا۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق آئی سی سی پی او نے مقدمہ کی میرٹ پر تفتیش کے لئے ایس جے آئی ٹی قائم کی تھی۔مقدمے کی تفتیش میں تمام پہلوؤں کو مدنظررکھتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔قانون سب کے لئے برابر ہے، کسی کے ساتھ ناانصافی ہرگز نہیں کی جائے گی۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ، کم عمر ملازمہ رضوانہ تشدد کیس کی سماعت ہوئی ،عدالت نے ملزمہ سومیا کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے گرفتار کرنے کا حکم جاری کردیا ،جج فرخ فرید نے پراسیکیوشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سچ کو تلاش کرنے میں ڈر نہیں ہونا چاہیے، شواہد ایمانداری سے جمع کریں، پریشر نہ لیں، تفتیش میرٹ پر ہونی چاہیے،

    عدالت نے ضمانت خارج کی تو ڈی آئی جی اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ پہنچ گئے ،جج فرخ فرید بلوچ نے کہا کہ ملزمہ کو کمرہ عدالت سے باہر لے جائیں ،میرے لیے بھی مشکل ہے میرے کولیگ کی اہلیہ ہیں،لیکن جہاں انصاف کی بات ہو گی تو میں نے انصاف کرنا ہے،ملزمہ سومیا عاصم کے وکلا نے جج فرید فرید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 5 منٹ تک لے کر جا رہے ہیں،ڈی آئی جی شہزادہ بخاری نے اہلکاروں کو حکم دیا کہ ملزمہ کو فوری طور پر گرفتار کریں کہیں جانے کی اجازت نہیں دینی ۔عدالت سے باہر نکلتے ہی پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر لیا،

    مجھے انصاف ملنا چاہئے کسی سے پیسے نہیں لوں گی،والدہ رضوانہ
    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں رضوانہ تشدد کیس کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمسن بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ مجھے انصاف ملنا چاہئے کسی سے پیسے نہیں لوں گی میری بچی بھوکی پیاسی رہی اسے کمروں میں بند رکھتے تھے،رضوانہ کی وکیل کا کہنا تھا کہ رضوانہ کی والدہ کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ کیس سے پیچھے نہیں ہٹی ہم پر الزام لگایا گیا کہ ہم نے ہی رضوانہ پر تشدد کیا ہے تشدد کا آلہ برآمد کرنا ضروری ہے اس لئے ملزمہ کی گرفتاری ضروری تھی اس کیس میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے اور انصاف ہونا چاہئے

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ، کم عمر ملازمہ رضوانہ تشدد کیس .سول جج کی اہلیہ ملزمہ سومیا عاصم کی درخواست ضمانت پر سماعت وقفہ کے بعد ہوئی ،ڈیوٹی جج ایڈیشنل سیشن جج فرخ فرید بلوچ نے سماعت کی، ملزمہ عدالت کے سامنے پیش ہو گئی،پولیس نے ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کر دیا جس کے بعد عدالت نے ملزمہ کے وکیل کی استدعا پر کیس کی سماعت میں دس بجے تک کا وقفہ کردیا۔

    دوبارہ سماعت ہوئی تو جج نے استفسار کیا کہ ملزمہ سومیاعاصم کے خلاف کیس کا ریکارڈ کدھر ہے؟ ملزمہ سومیاعاصم کو روسٹرم پر بلا لیاگیا، وکیل ملزمہ بھی پیش ہو گئے، اور کہا کہ ملزمہ سومیاعاصم جی آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی اور اپنی بے گناہی کا اظہار کیا،ریکارڈ میں پولیس نے لکھا کہ ملزمہ سومیاعاصم نے تشدد نہیں کیا،سومیاعاصم نے ملازمہ کو واپس بھیجنے کا بار بار کہا،ڈھائی گھنٹے بچی بس اسٹاپ پر بیٹھی جو اس وقت اٹھ نہیں پارہی تھی، سومیاعاصم نے کم سن بچی کو اس کی ماں کو صحیح سلامت دیا، آج دوپہر کو جی آئی ٹی نے بچی کی ماں اور ڈرائیور کو بلایا ہوا ہے،شام تک انتظار کرلیا جائے تو بہتر ہوگا، جے آئی ٹی کی تفتیش مکمل ہو جائےگی،

    وکیلِ صفائی نے کہا کہ کیا سومیاعاصم کو جیل بھیجا ضروری ہے؟ پراسیکیوشن نے ملزمہ سومیاعاصم کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کردی جج فرخ فرید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ سومیاعاصم تو ہر حال میں شامل تفتیش ہونے کی پابند ہے، وکیل صفائی نے کہا کہ تفتیشی افسر نے تمام پہلوؤں پر تفتیش نہیں کی، کیا تفتیشی افسر نے وقوعہ کی وڈیو حاصل کی؟ جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عبوری ضمانت کا کیس ہے آپ دلائل شروع کریں ،آپ کے دفاع میں جو بھی ثبوت ہیں وہ آپ تفتیش میں سامنے لا سکتے ہیں ،

    ملزمہ کے وکیل نے جے آئی ٹی رپورٹ آنے تک کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے کہا کہ عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی کرنے کے لیے یہ گراؤنڈ نہیں ، پراسیکوٹر نے کہا کہ ہماری اب تک تفتیش مکمل ہے، اب گرفتاری کے بعد تفتیش کرنی ہے ،وکیل ملزمہ نے کہا کہ ہم کہتے ہیں ویڈیو موجود ہے ویڈیو لیں ،کیا تفتیشی نے ویڈیو حاصل کی،بس سٹاپ پر تین گھنٹے کی ویڈیو موجود ہے،کل آخری دن ہے پھر وہ ویڈیو کا ڈیٹا ختم ہو جائے گا پھر کہا جائے گا کہ پتہ نہیں یہ اس کیمرے کی ویڈیو ہے یا نہیں ؟ عدالت نے تفتیشی کو ویڈیو لینے کی ہدایت کر دی جج فرخ فرید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی کا کام دونوں سائیڈ سے ثبوت حاصل کرنا ہے،جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے تک کیس ملتوی کرنا ممکن نہیں ،ملزمہ کے وکیل کی جانب سے ویڈیو یو ایس بی عدالت کے سامنے پیش کر دی گئی.

    رضوانہ تشدد کیس، آپ کیا کہتے جو زخم بچی کو آئے ہیں وہ کیا اس کی والدہ نے پہنچائے ؟ جج کا ملزمہ کے وکیل سے استفسار

    کمرہ عدالت میں بچی کی ویڈیو لگا دی گئی عدالت نے ملزمہ کے وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت کر دی، ملزمہ کے وکیل ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنایا ،عدالت نے ملزمہ کے وکیل کی طرف سے فراہم کردہ ویڈیو دیکھی ،وکیل ملزمہ نے کہا کہ ویڈیو میں لڑکی اور اسکی ماں نظر آرہی ہے ، جج نے استفسار کیا کہ کیا لڑکی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی ؟ وکیل ملزمہ نے کہا کہ جی لڑکی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی ،یہ بہت بڑا بیان ہے کہ جج کی بیوی نے رضوانہ کو دھکا مارا حالانکہ ایسا کچھ نہیں ، عدالت نے کہا کہ ہم نے میڈیا کو نہیں بلکہ ایف آئی آر کو دیکھنا ہے ،جج نے ملزمہ کے وکیل سے استفسارکیا کہ آپ کیا کہتے جو زخم بچی کو آئے ہیں وہ کیا اس کی والدہ نے پہنچائے۔؟

    ملزمہ کے وکیل کی جانب سے فراہم کردہ ویڈیو عدالت نے دیکھیں . وکیل ملزمہ نے کہا کہ مجھے بلیک میل کرکے پیسے بھی مانگے جتنے میں میں دے سکتا تھا دئیے ،وکیل صفائی نے کہا کہ تفتیشی افسر نے سرگودھا میں بس اسٹینڈ کی ویڈیو نہیں لی، ویڈیو میں دو کردار اور بھی ہیں جن کی ویڈیو مقامی ہوٹل سے ملی، عدالت سے پہلے سومیاعاصم کا میڈیا ٹرائل شروع کردیا گیارپورٹ کے مطابق بچی ہسپتال 3 بجے صبح پہنچتی ہیں، یہ والی رپورٹ کہاں ہے؟ طبی رپورٹ کے مطابق 23 جولائی 5 بجے انجری ہوئی،پولیس کو کہا گیا کہ بچی اپنا بیان دینے کے حال میں نہیں،سرگودھا تک بچی بلکل ٹھیک گئی، کوئی ٹریٹمنٹ کی ضرورت نہیں تھی، 3 بجے سرگودھا پہنچنے کے بعد طبی معائنے کی ضرورت کیسے اچانک پڑ گئی بچی کو،اگر گرفتاری کے بعد بھی ضمانت ملنی ہی ہے تو ملزمہ کو جیل نہیں بھیجنا چاہیے،قانون کے مطابق عورت کو ضمانت ضرور ملنی چاہیے، کیس میں حقائق مسخ کیے گئے،جے آئی ٹی کیوں بنی ہے؟ کیا مقصد ہے؟ ممبران کون ہیں؟ کیا جے آئی ٹی کے ممبران پولیس افسران ہیں؟ جب ممبران پولیس اہلکار نہیں تو جے آئی ٹی میں کون شامل ہے؟ جج فرخ فرید نے کہا کہ
    ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ جے آئی ٹی کے سامنے دوپہر میں پیش ہوناہے، وکیل صفائی نے کہا کہ میں کس کس کے پاس جاؤں تا کہ اصل حقائق منظرعام پر آئیں،شفاف تفتیش کا مطلب ہی دونوں طرف سے حقائق کو منظرعام پر لانا ہوتا ہے،

    رضوانہ تشدد کیس، ملزمہ سومیا عاصم نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ملزمہ سومیا عاصم نے کہانی من گھڑت قرار دے دی،سومیا عاصم نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ رضوانہ اپنے والدین کی مرضی سے میرے گھر میں ملازمہ تھی ، ایف آئی آر میں بیان کی گئی کہانی درست نہیں ، رضوانہ پر کبھی بھی تشدد نہیں کیا، تفتیش میں اپنے موقف کو درست ثابت کروں گی،رضوانہ کی عمر سترہ سال سے زائد ہے، رضوانہ کیساتھ اپنے نو سے بارہ سال کے تین بچوں کی طرح ہمیشہ نرمی سے پیش آتی رہی ہوں ،مبینہ وقوع سے پہلے جب سے رضوانہ میرے پاس کام کررہی ہے کبھی کوئی شکایت نہیں تھی، حقائق کو توڑ مروڑ کر میرے خلاف استعمال کیا جارہا ہے،میں بھی منفی مہم کی متاثرہ ہوں جو میرے اچھی شہرت کے حامل شوہر سول جج کیخلاف چلائی جارہی ہے، اس ذہنی ٹراما کی وجہ سے مجھے شدید مشکلات کا سامنا ہے،تعلیم یافتہ اور باوقار خاتون ہوں بدنیتی کی بنیاد پر کیس میں پھنسایا جارہا ہے، پولیس کے سامنے شامل تفتیش ہونے کو تیار ہوں ،ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • ریاست کو عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینگے،عدالت

    ریاست کو عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینگے،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ: سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی سے ملاقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے ایڈیشنل ہوم سیکرٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل جواب طلب کرلیا ،سرکاری وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر بندی سزا کے طور پر نہیں ہوتی ریاست کو عوام کی زندگیوںسے کھیلنے کی اجازت نہیں دینگے ریاست کے رولز ملاقات کی اجازت دیتے ہیں ، عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں شوہر سے بیوی کی ملاقات سے حکومت کو کیا خطرہ ہے ؟آپ ملاقات کے لیے بنائی کی لسٹ پر نظر ثانی کرسکتے ہیں ،سرکاری وکیل نے کہا کہ درخواست گزار نے ملاقات کے لیے درخواست نہیں دی ،جسٹس راحیل کامران نے پرویز الہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کی درخواست پر سماعت کی

    پرویز الٰہی کی اہلیہ نے نظر بندی کے احکامات کو چیلنج کررکھا ہے

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    پرویز الہیٰ کو سیکورٹی خدشات کی وجہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے ، پرویز الہیٰ کو عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا تا ہم ڈی سی لاہور کے حکم پر پرویز الہیٰ کو نظر بند کر دیا گیا، پرویز الٰہی کو ہائی پروفائل کیس کی وجہ سے حکومت کی منظوری سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے

  • ٹک ٹاکر مہک بخاری اور اسکی ماں پر برطانیہ میں قتل کا مقدمہ ثابت

    ٹک ٹاکر مہک بخاری اور اسکی ماں پر برطانیہ میں قتل کا مقدمہ ثابت

    ٹک ٹاک سٹار مہک بخاری اور اسکی ماں پر برطانیہ میں قتل کا مقدمہ ثابت ہو گیا ہے

    ٹک ٹاکر مہک بخاری اور اسکی والدہ کو جنسی ٹیپ کی دھمکی کے بعد دوہرے قتل کا قصور وار ٹھہرایا گیا ہے، مہک بخاری اور اسکی والدہ انسرین بخاری کو ثاقب حسین اور محمد ہاشم کے قتل پر سزا سنائی جائے گی، ٹک ٹاک پر مقبول کیس کی سماعت کے دوران عدالتی کٹہرے میں روپڑی، اس نے اپنی ماں کے مبینہ عاشق اور اسکے دوست کو قتل کروایا تھا،لیسٹر کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے بعد ان کی والدہ انسرین بخاری کو بھی قتل کی مجرم قرار دیا گیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا انفلوئنسر مہک بخاری اور اس کی والدہ انسیرن بخاری نے قتل کو سازش کے تحت سڑک حادثےکا رنگ دیتے ہوئے ثاقب حسین اور ہاشم اعجازالدین کو قتل کردیا تھا ،21 سالہ ثاقب حسین اور محمد ہاشم اعجاز الدین 11 فروری 2022 کو اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب ان کی کار ایک درخت سے ٹکرا گئی اعجاز الدین ایک اسکوڈا ماڈل گاڑی چلا رہے تھے ان کی گاڑی کا تعاقب کرنے والی گاڑی کے ٹکر سے درخت سے ٹکرا گئی جس سے گاڑی میں آگ لگ گئی تعاقب کرنے والی گاڑیوں میں سے ایک میں 45 سالہ انسرین بخاری موجود تھیں جس کا حسین کے ساتھ تقریباً 3 سال سے ناجائز رشتہ تھا اور انہوں نے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    تھانہ شہزاد ٹائون،نیو چٹھہ بختاور ، گھر میں ڈاکہ،پانچ مسلح ڈاکو لوٹ مار کر کے فرار

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    نوجوان عاشق کو یہ قبول نہیں تھا اس نے اسے بلیک میل کرنا شروع کر دیا اس کے شوہر اور بچوں کو اس کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بتانے کی دھمکیاں دیں اور اپنے موبائل فون پر ریکارڈ شدہ فحش ویڈیوز اورتصاویر لیک کر دیں جس کے بعد انسرین بخاری نے اپنے عاشق ثاقب حسین سے چھٹکارا حاصلہ کرنے کے لیے اپنی ٹک ٹاکر بیٹی سے مدد لی، بیٹی نے 6 دیگر افراد کے ساتھ مل کر گھات لگا کر حملہ کیا اور گاڑی اندھیرے میں درخت سے جا ٹکرائی تھی عدالت نے اب اس مقدمے میں سوشل میڈیا انفلوئنسر مہک بخاری اور اس کی والدہ سمیت 4 لوگوں کو قتل کا قصوروار ٹھرایا ہے

    23 سالہ ٹک ٹاکر مہک بخاری جنہیں مایا کے نام سے جانا جاتا ہے پر اپنی 46 سالہ والدہ کے ساتھ مل کر 21 سالہ ثاقب حسین کو قتل کرنے کا الزام ہے ،ملزمان کو یکم ستمبر کو سزا سنائی جائے گی۔ جج ٹموتھی اسپینسر کے سی نے کہا: "آپ جانتے ہیں کہ سزا بہت سنگین ہو گی۔”

  • پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی، شرجیل میمن

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی، شرجیل میمن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما، سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی، یہ وہی سابق وزیر اعظم ہے جو مخالفین کو چور، ڈاکو کہتا تھا، اس نے اپنے تمام مخالفین کو بدترین انتقام کا نشانہ بنایا، عید کی رات کو فریال تالپور کو توہین آمیز انداز سے گرفتار کیا گیا،ہم نہیں چاہیں گے کسی کی اہلیہ کو اس انداز سے گرفتار کیا جائے، توشہ خانہ کیس میں جج صاحب نے صفائی کا پورا موقع دیا، جتنا ریلیف اس کو ملا آج تک کسی کو نہیں ملا، نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف، فریال تالپور، آصف زرداری سب گرفتار ہوئے، کسی کی گرفتاری پر پٹرول بم نہیں پھینکے گئے تھے،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کیپیٹل ہل میں توڑ پھوڑ کرنے والوں کو 25 سال سزا دی گئی، زمان پارک کے اندر سے پٹرول بم پھینکے گئے،ہمارا قانون کیوں اسے رعایتیں دے رہا تھا،عمران خان اپنے دور میں زمینی فرعون بنا ہوا تھا ، عمران خان کی آمرانہ سوچ تھی ، اقتدار سے نکالنے بعد عمران خان نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی ۔

    واضح رہے کہ عمران خان کو عدالتی فیصلے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے، توشہ خانہ کیس ،عمران خان کو نااہل کردیا گیا عدالت نے عمران خان کو تین سال قید ہی سزا سنا دی عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

  • نواز شریف اورعمران خان کی گرفتاری کو آپس میں ملانا درست نہیں، مریم اورنگزیب

    نواز شریف اورعمران خان کی گرفتاری کو آپس میں ملانا درست نہیں، مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے حوالے سے ذرائع سے خبریں چل رہی ہیں،مشترکہ مفادات کونسل کی میٹنگ وزیراعظم پاکستان کی زیر صدارت صبح 11 بجے بلائی گئی تھی، بلوچستان کے وزیراعلیٰ سی سی آئی کے رکن ہیں، ان کی فلائیٹ میں تاخیر کی وجہ سے اس میں دو گھنٹے کا وقفہ ہوا ہے،اڑھائی بجے سی سی آئی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوگا،سی سی آئی کے ایجنڈا آئٹمز پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا،سی سی آئی حساس فورم ہے، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنے اوپر لگے کسی الزام کا جواب نہیں دے رہے تھے،جب ان سے جواب مانگا جاتا تو وہ اداروں پر حملہ کرتے، پی ٹی آئی چیئرمین نے مخالفین پر الزامات لگائے، پی ٹی آئی چیئرمین کے جرائم کی تحقیقات ایک سال سے جاری تھیں، کیس میں چالیس سے زائد پیشیاں ہوئیں، ملزم کو صفائی کا بھرپور موقع دیا گیا،چیئرمین پی ٹی آئی چالیس پیشیوں میں سے صرف تین پیشیوں میں پیش ہوئے،قانونی تقاضے پورے اور ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا، چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری سیاسی نہیں، توشہ خانہ کیس میں پی ٹی آئی چیئرمین کی چوری پکڑی گئی ہے، عمران خان نے توشہ خانہ کے تحفے خریدے بعد میں اور فروخت پہلے کئے، چیئرمین پی ٹی آئی سے جب بھی جواب مانگا جاتا تو بہانے بناتے، چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کا انتخابات سے کوئی تعلق نہیں،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالتوں میں بھی جھوٹ بولے،تمام مواقع ہونے کے باوجود عمران خان توشہ خانہ کیس چوری میں اپنے جوابات میں جھوٹ بولتے رہے،عمران خان نے 190 ملین کے کیس میں بھی جھوٹ بولا، سائفر کے معاملے میں بھی جھوٹ بولا، چیئرمین پی ٹی آئی انتخابی گوشواروں میں صحیح اثاثے ظاہر نہیں کئے،موصوف نے فارم بی اور ٹیکس ریٹرنز میں تین گھر ڈیکلیئر کئے، موصوف نے فارم بی اور ٹیکس ریٹرنز 2017-18، 2019-20ءاور 2021-22ءکے ڈیکلریشن میں تین گھر ڈیکلیئر کئے، عمران خان نے بنی گالا کے 300 کنال کے گھر، زمان پارک کے 8 کنال کے گھر اور اپنی اہلیہ کے بنی گالہ میں 3 کنال کے گھر میں صرف پانچ لاکھ روپے کا فرنیچر ڈیکلیئر کیا،ایک تولہ سونا انہوں نے ڈیکلیئر نہیں کیا، عمران خان نے بڑی ایمانداری سے اپنے ٹیکس ریٹرنز میں دو بکریاں ڈیکلیئر کی ہیں، ایک چور 15 ماہ سے اپنی چوری چھپانے کے لئے بھاگتا رہا، نواز شریف اور چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کو آپس میں ملانا درست نہیں،عمران خان کی گرفتاری کو نواز شریف کی گرفتاری سے جوڑا جا رہا ہے،نواز شریف تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم تھے، ان کا پانامہ میں نام نہیں تھا لیکن اسی شخص نے ان پر الزام لگایا،نواز شریف نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر کہا کہ میرا احتساب کریں، میں ملک کا وزیراعظم ہوں، مجھ پر جھوٹا الزام لگا ہے، عمران خان کی گرفتاری کو نواز شریف کی گرفتاری سے نہیں ملایا جا سکتا، نواز شریف نے اپنے خاندان کا 40 سال کا حساب دیا،نواز شریف کو الیکشن لڑنے سے روکا گیا، پارٹی صدارت سے ہٹایا گیا،

    عمران خان نے تسلسل کے ساتھ بکریاں ہر فارم میں ڈیکلیئر کیں،عمران خان کو گھڑیاں، ڈائمنڈ سیٹس، رنگز تحفے میں ملے، عمران خان نے گھڑی خریدنے سے پہلے فروخت کر دی اور پورے کیس میں گھڑی بیچنے کا کوئی ثبوت نہیں دے سکے،آج عوام کو پتہ چلا کہ 9 مئی کا واقعہ کیوں ہوا تھا،ایک چور اپنے احتساب سے بھاگ رہا تھا،قانون کے آگے پیش ہونے پر جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ آور ہوتا تھا، پولیس وارنٹ لے کر جاتی تو اس پر پٹرول بموں سے حملہ کرتا، 190 ملین پاﺅنڈ کیس، فارن فنڈنگ کیس، سائفر کے جھوٹ کی سزا باقی ہے، ہم نے عمران خان کو سیاسی طور پر گرفتار کرنا ہوتا تو شہباز شریف کے پاس وہی اختیار تھا جسے عمران خان استعمال کرتا تھا، اگر ہم نے جھوٹا کیس بنانا ہوتا تو ہم نیب اور ایف آئی اے کو استعمال کر کے عمران خان کو پہلے روز گرفتار کرلیتے، عمران خان پر صحافی رانا ابرار نے ان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں الزام لگایا تھا، یہ ان کے دور کا کیس تھا، اس الزام پر رانا ابرار کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا، عمران خان نے جواب نہیں دیئے، جو جواب دیئے وہ جھوٹ پر مبنی ہیں،نواز شریف نے خود کو احتساب کے لئے پیش کیا اور سرخرو ہوئے،نواز  شریف تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم تھا، انہیں اقامے پر گرفتار کیا اور الیکشن نہیں لڑنے دیا گیا، عمران خان نے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر قومی خزانے کو لوٹا، عمران خان فارن فنڈنگ ایجنٹ ہے جو جھوٹ بولتا ہے، اپنی چوری کو چھپانے کے لئے فساد برپا کرتا ہے،وہ شخص جس نے اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کیا، اس سے عمران خان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا،عمران خان کو حکومت نے گرفتار نہیں کیا، ٹرائل کورٹ نے ٹرائل مکمل ہونے کے بعد سزا سنائی،اگر حکومت نے گرفتار کرنا ہوتا تو اپریل 2022ءمیں گرفتار کرتے، ہمارا مقصد یہ نہیں تھا،ہمارا مقصد ملک کا معاشی استحکام تھا، عمران خان نے سیاسی مخالفین پر الزامات لگائے، یہ ان کے خلاف این سی اے میں گئے،این سی اے نے فیصلہ دیا کہ نہ منی لانڈرنگ ہوئی، نہ کرپشن ہوئی نہ اتھارٹی کا غلط استعمال ہوا،عمران خان نے 9 مئی کے واقعات کا سارا الزام اپنے ورکرز پر ڈال دیا،عوام کو پتہ ہونا چاہئے کہ عمران خان کے پاس جواب نہیں تھا اسی لئے وہ ڈبہ، بالٹی اور کنستر ڈال کر عدالت جاتے تھے، عمران خان نے اپنے خلاف تمام کیسز میں جھوٹے بیانات جمع کروائے،

    واضح رہے کہ عمران خان کو عدالتی فیصلے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے، توشہ خانہ کیس ،عمران خان کو نااہل کردیا گیا عدالت نے عمران خان کو تین سال قید ہی سزا سنا دی عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان