Baaghi TV

Tag: عدالت

  • دوران عدت نکاح،درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا

    دوران عدت نکاح،درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا

    عمران خان اورانکی اہلیہ بشریٰ بی بی کیخلاف مبینہ غیر شرعی نکاح کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی گئی،

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے قرار دیا کہ عدت کے دوران نکاح کے کیس کی درخواست عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ سول جج نصر من اللہ نے کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا

    درخواست گزار کے وکیل رضوان عباسی نے دلائل مکمل کر لیے تھے عمران خان کے خلاف غیر شرعی نکاح کے الزام کا کیس قابل سماعت ہے یا نہیں ؟ عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ، سول جج نصر من اللہ دو بجے محفوظ فیصلہ سنائیں گے ، وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ اگر شادی قانونی تھی تو تو دوبارہ نکاح کیوں کیا فاضل جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا نکاح لاہور میں ہوا اس عدالت کا دائرہ اختیار کیسے بنتا ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • نظر بندی کی بجائے ایف آئی آر درج کرنی چاہئے تھی، عدالت کے ریمارکس

    نظر بندی کی بجائے ایف آئی آر درج کرنی چاہئے تھی، عدالت کے ریمارکس

    ‏لاہور ہائیکورٹ میں یاسمین راشد کی تین ایم پی او کے تحت گرفتاری کے حکم کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    یاسمین راشد کی بازیابی سے متعلق درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صفدر سلیم نے سماعت کی۔ انہوں نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے دفعہ 144 کے نفاذ کو چیلنج کیا ہے طبی بنیادوں پر درخواست پر کارروائی چاہتے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے ،عدالت نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ جب الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہو جائے تو کیا دفعہ 144 لگائی جا سکتی ہے؟ یاسمین راشد کے خلاف شواہد پر آپ نے نظر بندی نوٹیفکیشن جاری کیا؟ رپورٹ کہاں ہے جس کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ،سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ بیماری کے باوجود ڈاکٹر یاسمین صاحبہ ہر سیاسی سرگرمی میں موجود ہوتی ہیں عدالت نے کہا کہ واقعہ 9 مئی کو ہوا آپ نے نظر بندی کا حکم 12 مئی کو جاری کیا؟ آپ کو نظر بندی کی بجائے ایف آئی آر درج کرنی چاہئے تھی

    سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالتوں کو روٹین کے مطابق کام کرنا چاہیے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج صاحبان ہفتہ کے روز آتے ہیں اور کام کرتے ہیں،‏آپ عدالتوں کو سکینڈلائز کر رہے ہیں،سرکاری وکیل نے کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا،دونوں جانب سے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے یاسمین راشد کی بازیابی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

     خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    واضح رہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے،عندلیب عباس نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے یاسمین راشد کوگرفتار کرلیا 4 سے 5 گاڑیاں اور40 سے 50 لوگ یاسمین راشد کو گرفتارکرکے لے گئے، ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہور سے کارکنوں کے ہمراہ اسلام آباد پہنچنا تھا،ڈاکٹر یاسمین راشد ڈیفنس یا کیولری گراﺅنڈ میں روپوش تھیں،یاسمین راشد پولیس سے چھاپوں کے باعث کافی روز سے گھر میں موجود نہیں تھیں،

  • عثمان بزدار کو گرفتار نہ کرنے کا سنگل بینچ کا حکم واپس

    عثمان بزدار کو گرفتار نہ کرنے کا سنگل بینچ کا حکم واپس

    لاہور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے عثمان بزدار کو گرفتار نہ کرنے کا سنگل بینچ کا حکم واپس لے لیا

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے عثمان بزدارکی مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کا عبوری حکم نامہ جاری کر دیا ، عدالت نے عثمان بزدار کو گرفتار نہ کرنے کا سنگل بینچ کا حکم بھی واپس لے لیا ، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلے میں کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن رپورٹ کے مطابق عثمان بزدار کے خلاف 13 انکوائریاں چل رہی ہیں ،اینٹی کرپشن میں درج دو مقدمات میں عثمان بزدار پہلے ہی عبوری ضمانت پر ہیں فریقین نے اس حوالے سے تحریری جواب بھی جمع کراو دیا ،سنگل بینچ کا گرفتاری سے روکنے کا حکم اس وقت غیر ضروری ہے کیس کی مزید سماعت 26 مئی تک ملتوی کی جاتی ہے

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    عثمان بزدار اور انکے بھائیوں سمیت انکے مبینہ فرنٹ مین طور بزدار کے خلاف انٹی کرپشن میں انکوائری شروع

    عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ہم نے قانون اور ریکارڈ کے مطابق کام کرنا ہے ہم نے 30 سوالات کا جواب مانگا عثمان بزدار نے چار سوالات کا جواب دیا،عثمان بزدار کو دوبارہ نو مئی کو سمن کیا ہے باقی سوالات کے جوابات دیں ،وکیل عثمان بزدار نے کہا کہ نو مئی کو عثمان بزدار نے لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ میں پیش ہونا ہے ،عدالت نے آئندہ عثمان بزدار کی مکمل تفتیشی رپورٹ نیب لاہور سے طلب کرلی ،جج نیب عدالت شیخ سجاد احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس درخواست کا جلد فیصلہ کرنا ہے

  • لاڈلے کو جیسے تحفظ دیا جارہا ہے ایسے پھر سارے ڈاکوؤں کو چھوڑ دیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا

    کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر بات چیت کی اور عمران خان اور تحریک انصاف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عدلیہ عمران خان کو پروٹیکٹ کرنے کیلئے آہنی دیوار بن گئی ہے قانون وآئین پرسختی سے عمل ہوگا اسکے جو بھی نتائج ہوں گے اس کا سامنا کریں گے لاڈلے کو جیسے تحفظ دیا جارہا ہے ایسے پھر سارے ڈاکوؤں کو چھوڑ دیں کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا،

    کابینہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ کہا کہ پاکستان کے حالات سری لنکا جیسے ہونے جارہے ہیں وہ دل میں بد دعائیں کر رہا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے اور ہم شدید مالی بحران میں مبتلا ہو جائیں جیسے کہ ہمارے چیلنجز کم نہیں تھے ایک سال کی تصویر ہے جو آپ کے سامنے ہے جب سے وہ وزیراعظم بنوایا گیا اورجن لوگوں نے دھاندلی سے وزیراعظم بنوایا وہ ساری کہانی پوری قوم کے سامنے ہے، یہ جو منصوبہ تھا 2018 سے پہلے سے شروع ہو چکا تھا ،جب مسلم لیگ کی حکومت تھی ، کس طریقے سے عمران نیازی کو اس منصوبے کے تحت پوری طرح گائیڈ کیا جارہا تھا، سے بتایا جارہاتھا کہ آپ یہ جھوٹا الزام فلاں پر لگاﺅ،ٹیلی ویژن پرآﺅ اور کاغذات لہراﺅ، لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ باقی چورہیں اور میں فرشتہ ہوں، نتیجے میں پوری قوم تقسیم ہو گئی، یہ زہر ہر جگہ پہنچ چکا ہے، چاہے وہ سیاسی جماعتیں ہیں، یا مذہبی مدرسے ہیں یا تعلیمی ادارے ، زندگی کے ہرطبقے میں یہ زہر پہنچ چکا ہے، چور ڈاکو کی گردان انہوں نے دن رات کی، جھوٹے مقدمات میں انتقام لینے کی خاطر ان کوجیلوں میں بھجوایا ، کیا کسی عدالت نے اس وقت نوٹس لیا، نیب اور ایف آئی اے جو کیسز بنائے ہیں ،ان کی اپنی ایک آزاد اتھارٹی ہے ، نیب نیازی گٹھ جوڑ نے پاکستان میں جو تباہی مچائی، کاروباری افراد کو بھگا دیا ، سرمایہ کاری بند ہو گئی ، سیاسی لیڈر شپ پر الزامات لگائے گئے ،

    وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ نیب نے اگر آج حقیقی کیسز بنائے ہیں کرپشن کے ،تو اس کے اوپر آج عدلیہ جس طرح آہنی دیوار بن چکی ہے، عمران خان کو حفاظت دینے کیلئے ،اس کی مثال پاکستان کیا بلکہ دنیا میں بھی کہیں نہیں ملتی ، جس طرح ہمارے خلاف جھوٹے کیسز بنائے جارہے تھے ، اس وقت بی آر ٹی، بلین ٹری اور دوسرے منصوبوں میں سٹے آرڈر دیئے جارہے تھے بلکہ ان کیسز کی تحقیقات شجر ممنوعہ قرار دی جارہی تھیبی آر ٹی پر کیا تماشا ہوا ،سپریم کورٹ نے سٹے آرڈر دیئے، نیب کہتی ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں حکم امتناع ملے ہوئے ہیں، مالم جبہ میں نیب نے کلین چٹ دیدی صوبے کے اداروں نے کہا کہ بی آرٹی میں اربوں کی کرپشن ہوئی ہے کسی نے نہیں پوچھا کہ کیا ہورہا ہے جب پشاور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ تحقیقات کی جائیں تو اس پر بھی سٹے آرڈر دے دیا گیا ۔

    وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ 16 دسمبر 1971 سقوط ڈھاکہ کے بعد 9 مئی کا دن بدترین تھا،ذوالفقار بھٹو شہید کو قتل کر دیا گیا، لیکن کسی فوجی تنصیب کی طرف دیکھا تک نہیں، سب جانتے تھے کہ ذوالفقار بھٹو کا جوڈیشل مرڈر ہواہے، جب محترمہ بینظیر کو شہید کیا گیا تو فورا انگلیاں اٹھیں، کس طرح خون کو دھو دیا گیا، بھر پور احتجاج ہوا س وقت آمر حکومت کا سربراہ تھا لیکن کسی فوجی عمارت کو دیکھا تک نہیں، کسی فوجی تنصیب کی طرف کسی نے رخ نہیں کیا ، بغیر وقت ضائع کیے ، آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا ، قائد کا بچا ہوا پاکستان بچ گیا ، س سے بڑی حب الوطنی ، صبر ، برداشت کا کیا ثبوت ہو سکتا تھا ،خاتون وزیراعظم کے الیکشن میں حصہ لے رہی تھی اور انہیں شہید کر دیا گیا ، کل چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان آپ کو مل کر بہت خوشی ہوئی ، ایسے مقدمے میں تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ملزم کٹہرے میں آئے اور عدالت کہے کہ آپ کو مل کر بہت خوشی ہوئی کبھی عدالت کے کٹہرے میں کسی عام جج نے بھی کہا ہو کہ آپ کو مل کر خوشی ہوئی،

    اسد عمر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار 

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • دوبارہ گرفتاری کا ڈر، عمران خان نے لیگل ٹیم سے کیا رابطہ

    دوبارہ گرفتاری کا ڈر، عمران خان نے لیگل ٹیم سے کیا رابطہ

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کر دیا گیا ہے

    عمران خان عدالت میں موجود ہیں،عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھے دوبارہ گرفتار کیا گیا تو پھر پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑیں گے، میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان نے دوبارہ گرفتاری کے حوالہ سے اپنی لیگل ٹیم سے رابطہ کیا ہے، عمران خان نے حامد خان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور کہا ہے کہ پنجاب پولیس مجھے گرفتار کرنے کیلئے باہر کھڑی ہے میں آپ کو تمام صورتحال سے آگاہ کررہا ہوں مجھے ڈر ہے اگر ایسا ہوا تو پھر پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑیں گے ،

    عمران خان سے صحافیوں نے بھی سوال کئے، کئی سوالات پر عمران خان خاموش رہے، صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ‏ملک میں آئین اورقانون کی بالادستی چاہتا ہوں جن لوگوں کی جانیں گئیں وہ ہمارے لوگ ہیں ‏چیف جسٹس سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہے، پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کا سربراہ ہوں مجھے اغواء کیا گیا۔ ‏مجھے اِیسے پکڑا گیا تھا جیسے میں دہشتگرد ہوں،مجھے گرفتاری کے وقت سر پر ڈنڈا مارا گیا جو کچھ ہوا میں کیسے روک سکتا تھا؟ میں نے پہلے بتایا تھا ری ایکشن آئے گا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ‏اگر وارنٹ گرفتاری ہے تو دکھائیں گرفتاری دے دوں گا، نیب کا حراست کے بعد میرے ساتھ رویہ اچھا تھا۔ ‏جب مجھے اندر ڈال دیا گیا تو میں کیسے ذمہ دار ہو سکتا ہوں؟ میں نے سپریم کورٹ کے سامنے کہا جو ہوا ٹھیک نہیں ہوا یہ ملک میرا ہے یہ عوام میری ہے۔اسلام آباد ‏ہائیکورٹ میں مجھے مارا گیا، یہ میرا ملک، میری فوج اور میری عوام ہے، کسی صورت پاکستان سے باہر نہیں جاؤں گا۔

    اسد عمر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار 

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف کی ماورائے قانون و عدالت گرفتاری کی تیاریوں کی مصدقہ اطلاعات ہیں، جس پر پاکستان تحریک انصاف نے ملک گیر پرامن احتجاج کی کال دے دی ریجنل، ضلعی اور مقامی ذمہ داران کو ہدایات جاری کر دی گئیں، کہا گیا کہ داخلی امن برباد کرنے اور قانون کی بجائے دھونس اور طاقت سے معاملات چلانے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہیں،نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد کارکنان ملک گیر پرامن احتجاج کیلئے نکلیں،لاقانونیت اور پولیس گردی کے ذریعے انصاف کا بہیمانہ قتل کسی صورت گوارا نہیں کیا جاسکتا،قاتلانہ حملے اور موت کے پھندے میں پھانسنے کے بعد چیئرمین عمران خان کی زندگی سے مسلسل کھیلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں عمران خان کی جانب سے ان کے قتل کی سازش میں ملوث تینوں کردار متحرک اور ریاستی مشینری کو استعمال کررہے ہیں،مکمل طور پر پرامن رہیں گے مگر عمران خان کو بدترین ریاستی انتقام کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے،مرکزی قائدین کی بلاجواز گرفتاریوں کے ساتھ ملک بھر میں بدترین کریک ڈاؤن ناقابلِ قبول، نہایت قابلِ مذمت ہے،کارکنان عوام کو متحرک کریں اور ملک بھر میں ضلعی اور مقامی ہیڈکوارٹرز پر بھرپور پرامن احتجاج کریں، قانون کی حکمرانی کی طرف لوٹنے اور بدمعاشی ترک کرنے کے علاوہ حکومت کیلئے کوئی رستہ نہیں چھوڑیں گے

  • تشدد اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 2560 سے زائد شرپسند گرفتار

    تشدد اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 2560 سے زائد شرپسند گرفتار

    سرکاری و نجی اداروں پر حملوں، توڑ پھوڑ، تشدد اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 2560 سے زائد شرپسند عناصر گرفتار کر لئے گئےم

    شرپسند عناصر کی پرتشدد کاروائیوں میں پنجاب بھر میں 150 سے زائد پولیس افسران واہلکار زخمی ہوئے ،زخمیوں میں مختلف شہروں سمیت لاہور کے 63، فیصل آباد 26، گوجرانوالہ 13، راولپنڈی کے 29 پولیس افسران و اہلکار شامل ہیں، زخمیوں میں اٹک کے 10، سیالکوٹ 05 اور میانوالی کے 06 پولیس افسران و اہلکار شامل ہیں، پنجاب پولیس کے زیر استعمال 72 جبکہ 08 نجی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ، نذر آتش کیا گیا لاہور میں 23، راولپنڈی 18، فیصل آباد 18، ملتان 08، سیالکوٹ 5، گوجرانولہ 03، اٹک میں 01 پولیس وہیکل کو نقصان پہنچایا گیا ، آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ سرکاری و نجی املاک، پولیس و شہریوں پر حملوں، پرتشدد کاروائیوں میں ملوث شرپسند عناصر قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائیں گے،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    دوسری جانب جناح ہاؤس کو جلانے،توڑ پھوڑ کرنے اورقیمتی اشیاء و دستاویزات چوری کرنے والے شرپسندوں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا، اب تک بیشتر افراد کی شناخت کر لی گئی ہے جنہوں نے کور کمانڈر ہاؤس کا جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی پرتشدد کاروائیوں میں حصہ لیا تھا،ان شر پسندوں کے خلاف انسداد دہشتگردی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، شرپسندوں میں اویس مشتاق ولد محمد مشتاق سکنہ اوکاڑہ، عباد فاروق ولد امانت علی سکنہ لاہور، محمد حاشر خان ولد طارق بشیر سکنہ لاہور اور جہانزیب خان سکنہ کیولری گراونڈ لاہور کی نشاندہی کر لی گئی ہے ،پر تشدد کارکنان مسلح آتشی اسلحہ، ڈنڈے، پتھر و پیٹرول بم سے لیس تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے مزید افراد جنہوں نے ملک کے دیگر علاقوں میں ملکی املاک کو نقصان پہنچایا وہ بھی قانون کی گرفت میں آ رہے ہیں،پنجاب پولیس شرپسند عناصر کو گرفتار کر رہی ہے، لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی گرفتاریاں کی گئی ہیں

    کور کمانڈر ہاؤس سمیت سرکاری املاک پر حملہ آوروں کو قانون کے مطابق کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا:محسن نقوی
    بلوائیوں کے سہولت کاروں کیخلاف بھی بھرپور کاروائی، ہرحملہ آور کی شناخت کر کے قرار واقعی سزا دلائی جائے گی
    سرکاری املاک توڑ پھوڑ کر کے دہشت گردی کا بد ترین مظاہرہ کیاگیا، امن عامہ کیلئے تمام قانونی اقدامات اٹھانے کاحکم
    محکمہ پراسیکیوشن دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف پراسیکیوشن کے عمل کو تیز رفتاری سے آگے بڑھائے

    نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیرصدارت وزیراعلیٰ آفس میں صوبے میں قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے تمام قانونی اقدامات اٹھانے کاحکم دیتے ہوئے کہا کہ بلوائیوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی بھرپور کاروائی کی جائے گی اور ہرحملہ آور کی شناخت کر کے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ او رجلاؤ گھیراؤ کر کے دہشت گردی کا بد ترین مظاہرہ کیا گیا۔ کور کمانڈر ہاؤس سمیت سرکاری املاک پر حملہ کرنے والوں کو قانون کے مطابق کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ محکمہ پراسیکیوشن دہشت گردی کے ان واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف پراسیکیوشن کے عمل کو تیز رفتاری سے آگے بڑھائے اور شرپسندوں و حملہ آوروں کی شناخت کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔ انہو ں نے مزید ہدایت کی کہ بلوائیوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی میں کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ صوبے میں قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اجلاس میں صوبے میں امن عامہ کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    انسپکٹر جنرل پولیس نے امن وامان کی صورتحال اور شر پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے بارے بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر، چیف سیکرٹری،انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سی سی پی او لاہور، سیکرٹری قانون، سیکرٹری پبلک پراسیکیوشن اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ تمام کمشنرز اور آرپی اوز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

  • مسرت جمشید چیمہ کے ساتھ آڈیو لیک،کہاں گفتگو کی تھی،عمران خان نے بتا دیا

    مسرت جمشید چیمہ کے ساتھ آڈیو لیک،کہاں گفتگو کی تھی،عمران خان نے بتا دیا

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی ترجمان مسرت جمشید چیمہ کے درمیان ہونے لیک ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے متعلق اہم انکشاف سامنے آیا ہے، عمران خان نے عدالت پیشی کے موقع پر انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے لیک ہونیوالی آڈیومیں جو بات چیت کی وہ نیب کی جانب سے ملے ہوئے لینڈ لائن نمبر سے کی تھی، عمران خان نے عدالت میں صحافیوں کو غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ عدالت نے اہلیہ سے بات کرنے کی اجازت دی تھی ،لیکن رابطہ نہیں ہو سکا اور بات نہیں ہو سکی، مسرت جمشید چیمہ سے بات ہوئی تھی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان اور مسرت جمشید چیمہ کی گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی تھی جس میں ہونیوالی گفتگو بھی سامنے آئی تھی، آڈیو میں عمران خان کہتے ہیں کہ ہاں مسرت صورتحال کیا ہے، ان کو پہنچ گیا میسج؟ مسرت جمشید چیمہ کہتی ہیں کہ سر میں نے میسج پہنچایا ہے۔ ادھر ہائی کورٹ میں بیٹھے ہوئے ہیں، ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم نہیں جائیں گے، کسی صورت بھی عمران خان کو پیش کریں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ نہیں، لیکن وہ خواجہ حارث ہے وہاں؟ مسرت جمشید چیمہ نےکہا کہ خواجہ حارث، سلمان صفدر دونوں میرے ساتھ ہیں، میں ان کےساتھ بیٹھی ہوں، بات کراسکتی ہوں۔ عمران خان نے کہا کہ اعظم سواتی سے بات کریں کہ سپریم کورٹ میں بھی اس پریہ ضرور کریں، یہ جو انہوں نے کیا ہے بالکل غیرقانونی چیز ہے ،مسرت جمشید چیمہ کہتی ہین کہ جی بالکل بالکل، سرآپ بے فکر ہوجائیں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ یہ کیا کر رہا ہے، یہ جو چیف جسٹس ہے ان سے آرڈر لیتا ہے۔ مسرت چیمہ کہتی ہیں کہ نیب والے آئے، فلانے آئے تو ہم نے کہا کہ آپ ان کوعدالت میں پیش کریں،

    اسد عمر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار 

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • ماضی میں بھی گرفتاریاں ہوتی رہی ،کوئی پہلی گرفتاری تھی جس کے بعد اتنا ہنگامہ ہوا؟ عدالت

    ماضی میں بھی گرفتاریاں ہوتی رہی ،کوئی پہلی گرفتاری تھی جس کے بعد اتنا ہنگامہ ہوا؟ عدالت

    لاہو رہائیکورٹ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    دوران سماعت جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ اکہ سیاسی رہنماﺅں کی ذمہ داری نہیں کہ وہ کارکنوں کو روکیں، ماضی میں بھی گرفتاریاں ہوتی رہی ہیں،کیا یہ کوئی پہلی گرفتاری تھی جس کے بعد اتنا ہنگامہ ہوا؟ ماضی والی گرفتاریاں درست تھیں یا غلط وہ بعد میں ثابت ہوئیں یا نہیں ،جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ بے نظیر بھٹو پر قاتلانہ حملہ ہوا، کارکن زخمی ہوئے اتنا ریکشن نہیں ہوا،جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ کیا ایسے گرفتار کیا جا سکتا ہے جس طرح آپ نے گرفتار کیا؟

    جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کیا پنجاب حکومت نے مقدمات کی تفصیلات فراہم کردی تھیں؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ عثمان بزدار پر ایک مقدمہ درج ہے،عثمان بزدار کیخلاف 13 انکوائریاں زیرسماعت ہیں ،جسٹس نیلم عالیہ نے کہا کہ درخواست گزار نے درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت حاصل کی،کیا آپ نے عبوری ضمانت کیلئے متعلقہ عدالت سے رجوع کیا؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ عثمان بزدار کو آج عدالت کے رو برو پیش ضرورہونا چاہئے تھا،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہاکہ گزشتہ ایک سال سے جو ملک میں ہورہا ہے اس پر ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے،2 گھنٹے پہلے مقدمہ درج ہوتا ہے اس کے بعد گرفتاری کرلی جاتی ہے،لاہور ہائیکورٹ نے عثمان بزدار کی درخواست فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • عدالت کا عمران خان کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی روکنے کا حکم

    عدالت کا عمران خان کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی روکنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس دوسری عدالت منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی ،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کمپلینٹ قابل سماعت ہی نہیں،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ یہ آپ کی 4 مختلف درخواستیں ہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کسی کو مجاز اتھارٹی مقرر کرنے کا لیٹر پیش نہیں کیا،الیکشن کمیشن نے صرف اپنے آفس کو کمپلینٹ فائل کرنے کا کہا،مجاز اتھارٹی کے بغیر دائر کمپلینٹ پر سماعت نہیں ہو سکتی

    لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کمرہ عدالت پہنچنے پر چیف جسٹس سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ آج عدالت آنے کے راستے میں کافی رکاوٹیں تھیں ،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ ہر جگہ ہی ایسا ہے ،خواجہ حارث نے کہا کہ مقررہ وقت گزر جانے کے بعد کمپلینٹ نہیں بھیجی جا سکتی، چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا ٹرائل کورٹ نے ان اعتراضات پر کیا کہا؟ خواجہ حارث نے کہاکہ جج صاحب نے کہہ دیا یہ ہم شواہد کے دوران دیکھیں گے، الیکشن کمیشن 120 روز کے بعد کرمنل کارروائی کی کمپلینٹ نہیں بھیج سکتا،ٹرائل کورٹ کے سامنے اعتراض اٹھایا گیا تھا،ٹرائل کورٹ نے کہا معاملہ شہادتوں کے مرحلے پر دیکھیں گے، عمران خان کے وکیل نے کہاکہ ہم کہتے ہیں اس پر تو مزید کارروائی ہی نہیں ہو سکتی، جو کچھ آن ریکارڈ ہے ہم اسی پر اعتراض کر رہے ہیں،کرمنل کارروائی کا معاملہ پہلے مجسٹریٹ پھر سیشن کورٹ کے پاس جانا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ حارث کے دلائل سننے کے بعد عمران خان کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی روکنے کا حکم دے دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن ودیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے،چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کی درخواستوں پر احکامات جاری کئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست پر اسٹے آرڈر جاری کیا، سیشن کورٹ نے 2 روز قبل عمران خان پر فرد جرم عائد کی تھی، سیشن کورٹ نے گواہوں کو 13 مئی کیلئے طلب کررکھا تھا،عمران خان کی چاروں درخواستوں پر 8 جون کیلئے نوٹس جاری کر دیاگیا،کیس ٹرانسفر کی درخواست پر الیکشن کمیشن ودیگر کونوٹس جاری کر دیئے گئے،کمپلینٹ قابل سماعت ہونے کے خلاف درخواست پر بھی فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے، عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت 8 جون تک ملتوی کردی

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

  • عمران خان کی دو ہفتے کیلئے حفاظتی ضمانت منظور

    عمران خان کی دو ہفتے کیلئے حفاظتی ضمانت منظور

    عمران خان کی دو ہفتے کیلئے حفاظتی ضمانت منظورکر لی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی ضمانت منظور کی،عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے باعث عدالت کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے پچھلے دروازے کو سیل کردیا ہے اور دو دروازوں پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہیں

    عدالت میں نماز جمعہ کے وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز کیا گیا تو خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری اور حفاظتی ضمانت کی درخواست ہے ہم نے ایک اور درخواست میں انکوائری رپورٹ کی کاپی مانگی ہوئی ہے ہم چاہتے ہیں کہ نیب کو انکوائری رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے نیب کی انکوائری رپورٹ کا اخبار سے پتہ چلا ،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عمران خان 9 مئی کو ضمانت کی درخواست کے لیے بائیو میٹرک کرا رہے تھے ، انہیں بائیو میٹرک کمرے سے گرفتار کر لیا گیا وارنٹ گرفتاری ملزم کی مسلسل عدم موجودگی پر جاری کیے جا سکتے ہیں ہم نے نیب کو انکوائری رپورٹ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی نیب نے عمران خان کی انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کیا نیب ترمیم کے بعد صرف تحقیقات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا سکتے ہیں

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا اس کیس میں آپ کو کوئی سوالنامہ فراہم کیا گیا؟ جس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ عمران خان کو سوالنامہ فراہم نہیں کیا گیا،صرف ایک نوٹس بھیجا گیا جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان اس نوٹس پر نیب کے سامنے پیش ہوئے؟ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ عمران خان پیش نہیں ہوئے، جواب جمع کرایا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سوال کیا کہ عمران خان نیب کی طلبی پرپیش نہیں ہوئے؟ کیا انہوں نے نیب کا نوٹس کسی عدالت میں چیلنج کیا؟ آپ کو معلوم ہے کہ پیش نہ ہونے پر نوٹس چیلنج کیا جاتا ہے؟عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 2 نوٹسز بھیجے تھے،اس کیس میں ایک ہی بھیجا، ہم اس کا جواب دے چکے ہیں، ہم نے سمجھا نیب نے دوبارہ نوٹس جاری نہیں کیا تو معاملہ ختم ہوگیا ،اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ نیب پراسیکیوشن موجود ہے، کیس کے میرٹ پر دلائل دے دینگے، عدالت سے 200 میٹر کی دوری پر متعلقہ ٹرائل کورٹ موجود ہے سمجھ سے باہر ہے کہ عمران خان اس عدالت سے رجوع کیوں نہیں کرتے ،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا گیا، جس طرح کے پرتشدد واقعات ہوئے اس پر فوج ہی کو طلب کیا جانا تھا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا یہاں مارشل لا لگ گیا ہے جو ہم کیسز پر سماعت روک دیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 199 آرٹیکل 245 سے مشروط ہے، اس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایڈووکیٹ جنرل کو ٹوک دیا اور کہا کہ اس نکتے کو چھوڑیں اور آگے چلیں

    عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر کوروسٹرم پر طلب کر لیا، اس پر پراسیکیوٹر نیب سردار مظفرنے کہا کہ عمران خان ایک بار بھی انکوائری میں شامل نہیں ہوئے ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت پرہم کیس سنیں گے اورفیصلہ کریں گے،آئندہ سماعت پرمکمل تیاری کرکے آئیں،آئندہ سماعت پردلائل سن کرضمانت منظوری یا خارج کرنے کا فیصلہ کریں گے

    عمران خان کو سخت سیکورٹی میں عدالت پیش کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں القادر ٹرسٹ کرپشن کیس کی سماعت ہوئی ، جسٹس گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن امتیاز رفعت پر مشتمل ڈویژن نے بنچ سماعت کی،حریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کمرہ عدالت میں موجود ہیں،اس موقع پر صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مجھے پھر سے گرفتار کیا جائے گا۔

    عبدالقادر ٹرسٹ کیس میں سماعت کے دوران ایک وکیل نے کھڑے ہو کر عمران خان کے حق میں نعرہ لگا دیا وکیل کے نعرے لگانے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا اورخاموش رہنے کا حکم دیا، اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں ہم کیس نہیں سنیں گے،عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے وکیل کی حرکت پر عدالت سے معذرت کی۔ خصوصی بنچ کمرہ عدالت سے اٹھ کرچیمبر میں چلا گیا، ساتھ ہی جمعہ کا وقفہ ہو گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر عمران خان کا صحافیوں کے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان جب اسلام آباد ہائیکورٹ کی ڈائری برانچ میں بائیومیٹرک کرانے کے بعد نکلے تو انہوں نے کیمروں کو دیکھ کر وکٹری کا نشانہ بنایا، صحافی نے سوال کیا کہ دورانِ قید آپ کی اسٹیبلشمنٹ سے ملاقاتیں ہوئیں؟ اس پر عمران خان نے نفی میں سر ہلایا، صحافی نے سوالکیا کہ کیا آپ ڈٹے ہوئے ہیں یا ڈیل کرلی ہے؟، اس پر چیئرمین پی ٹی آئی مسکرا دیے ،صحافی نے سوال کیا کہ آپ کی خاموش کو سمجھیں کیا ڈیل کرلی گئی ہے؟ اس پر عمران خان نے منہ پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا

    اسلام آباد ہائیکور ٹ میں کورٹ روم نمبر تھری سے غیر متعلقہ افراد کو باہر نکال دیا گیا، اس دوران عدالتی کمرے کے باہر بد نظمی دیکھی گئی، تحریک انصاف لائرز فورم کی اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔ عمران خان کے کیس کی سماعت کورٹ نمبر3 میں ہو گی،عمران خان کے کیس کی سماعت کورٹ روم نمبر2 میں کرنے کی استدعا مسترد کردی گئی۔

    عمران خان سخت سکیورٹی میں ہائیکورٹ کیلئے روانہ ہو گئے، انہیں پولیس لائنز کے عقبی دروازے سے لے جایا گیا ، عمران خان آی آئی جی آپریشنز اسلام آباد کی نگرانی میں اسلام آباد ہائیکورٹ لے جایا گیا،، پولیس لائنز سے اسلام اباد ہائیکورٹ تک تمام روٹ پر ہائی سکیورٹی الرٹ رکھا گیا ہے

    عمران خان نے القادر یونیورسٹی کیس میں ضمانت کی درخواست دائر کر دی عمران خان نے درخواست میں ضمانت منظور کرنے کی استدعا کی ہے. سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے درخواستیں ان کے وکیل سلمان صفدر نے دائر کیں،نئے درج کئے گئے مقدمات سے متعلق درخواست میں کہا گیا ہے کہ جتنے مقدمات درج ہو چکے ان کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور اور تمام مقدمات کو یکجا کر دیا جائے

    عمران خان کی آمد سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ تھی، تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں آمد سے قبل پولیس، رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات کردیئے گئے تھے عمران خان کی کورٹ روم نمبر 1 میں ممکنہ آمد سے قبل واک تھرو گیٹ نصب کیا گیا ،

    سپریم کورٹ احکامات کی روشنی میں سابق وزیر اعظم عمران خان آج 11 بجے تک ہائیکورٹ پیش ہوئے، عمران خان کی جانب سے ہمایوں دلاور جج کی تبدیلی کیلئے درخواست پر چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ،عمران خان کی 3 اور درخواستوں پر جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، جس میں عمران خان کی جانب سے خواجہ حارث اور بیرسٹر گوہر علی پیش ہوئے

    اسد عمر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار 

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے