Baaghi TV

Tag: عدالت

  • عمر فاروق ظہور منی لانڈرنگ کے دو کیسز میں بری

    عمر فاروق ظہور منی لانڈرنگ کے دو کیسز میں بری

    لاہور؛ جوڈیشل مجسٹریٹ کی طرف سے کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور کو منی لانڈرنگ اور فراڈ کے دو مقدمات میں بری کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے خلاف ان کی سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا نے سابق وفاقی وزیر احتساب شہزاد اکبر کی مدد سے درج کرائے گئے مقدمات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کی پی ٹی آئی کی حکومتی کابینہ نے ان کیسز کی منظوری دی تھی۔

    جیو نیوز کے صحافی مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت کے جج غلام مرتضیٰ ورک نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے کیئے گئے کیسز میں عمر فاروق ظہور کو بری کرنے کے ساتھ دو فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) کو منسوخ کر دیا ہے کیونکہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ملزم فراڈ، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی میں ملوث نہ پایا گیا ہے .

    یاد رہے کہ یہ دونوں کیسز جون 2020 کے اوائل میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب شہزاد اکبر کی مدد سے ایف آئی اے لاہور کے کارپوریٹ سرکل سے رابطہ کرنے، اور ظہور اور اس کے بہنوئی سلیم کی جانب سے تقریباً 16 ارب روپے کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر تحقیقات کی منظوری کے لیے کابینہ سے رجوع کیا گیا تھا.

    جبکہ شہزاد اکبر نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ عمر فاروق ظہور نے 2010 میں ناروے میں 89.2 ملین ڈالر کا بینک فراڈ کیا تھا جبکہ 2004 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر میں بھی کوئی مبینہ کیس سامنے آیا تھا. یوں اس وقت کے وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی شہزاد اکبر مرزا شکایات کابینہ کے سامنے لیکر گئے تھے اور کابینہ سے کہا تھا کہ عمر فاروق ظہور سے اس کی تفتیش ہونی چاہئے ۔

    خیال رہے کہ عمر فاروق ظہور ایک کامیاب بزنس مین ہیں اور اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی دولت اس مرحلے پر لاکھوں ڈالرز میں ہے۔ انہوں نے دبئی اور کئی دوسرے ممالک میں رئیل اسٹیٹ، آئی ٹی کے کاروبار، توانائی کے منصوبوں، زراعت کے شعبے وغیرہ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ وہ مشرق وسطیٰ میں شاہی خاندان کے بہت سے ارکان کے ساتھ اور افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا، کیریبین اور جنوبی امریکہ کے کئی سربراہان مملکت کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں۔

    عمر فاروق مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے لئے لائبیریا کے ایمبیسڈر ایٹ لارج بھی ہیں۔ عمر فاروق ظہور اپنی سابقہ ​​اہلیہ، ماڈل اور اداکارہ صوفیہ مرزا کے ساتھ طویل عرصے سے جاری عدالتی لڑائی کے حوالے سے کئی سالوں سے پاکستانی خبروں میں رہے۔ جوڑے کی دو جڑواں بیٹیاں ہیں جو دبئی میں محمد بن راشد سٹی ڈسٹرکٹ ون کے ایک خاص محلے میں ظہور کے ساتھ رہتی ہیں۔

    یاد رہے کہ عمر فاروق ظہور کا نام 2021 میں پہلی بار پاکستانی میڈیا پر اس وقت آیا جب تمام ٹی وی چینلز نے ایف آئی اے کے حوالے سے رپورٹنگ شروع کی، جو اس وقت شہزاد اکبر کے ماتحت تھا، کہ یہ ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن تھے جنہوں نے ظہور کو شاہی خاندان کے رکن کے ساتھ سرکاری دورے پر پاکستان آنے کی اجازت دی تھی۔ خبروں میں بشیر میمن اور ظہور کو جوڑا گیا اور ظہور کو قانون کا ’’مفرور‘‘ کہا گیا تھا۔

    جبکہ عمر فاروق ظہور ناروے میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی پاکستانی والدین کے ہاں پیدا ہوئے۔ عمر فاروق ظہور نے ابتدائی تعلیم ناروے میں حاصل کی اور پھر تقریباً 22 سال قبل مشرق وسطیٰ چلے گئے۔ عمر فاروق ظہور کا دعویٰ ہے کہ وہ شہزاد اکبر کو اچھی طرح جانتے ہیں اور مارچ 2019 میں انہوں نے فرح شہزادی کو ان سے ملوایا تھا۔

    علاوہ ازیں واضح رہے کہ ایف آئی اے نے مرزا کی شکایت پر مزید الزام لگایا تھا کہ ظہور نے 2010 میں ناروے کے اوسلو میں مبینہ طور پر 89.2 ملین ڈالرز کا بینک فراڈ کیا، اور2014 میں برن، سوئٹزرلینڈ میں 12 ملین ڈالر کی رقم کا ایک اور فراڈ کیا، کم سن بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث تھے، 9.37 ملین ترک لیرا کا فراڈ کیا، گھانا میں 510 ملین ڈالر کے مشکوک معاہدے پر عمل درآمد کیا، کالے دھن کی شکل میں لاکھوں ڈالر کی نقدی کے مالک ہیں، اور دبئی اور پاکستان میں کروڑوں ڈالر مالیت کے کئی مکانات اور جائیدادوں کے مالک ہیں، بشمول دبئی کے اعلیٰ درجے کے اضلاع، سیالکوٹ، گوادر اور اسلام آباد۔

    تاہم جیسے ہی وفاقی کابینہ نے ظہور کے خلاف کارروائی کی منظوری دی تھی، ایف آئی اے لاہور کے سربراہ ڈاکٹر رضوان نے ظہور کے خلاف کارروائی شروع کردی تھی؛ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا گیا تھا، ایک ایف آئی آر میں ناقابل ضمانت وارنٹ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عدالت سے حاصل کیے گئے تھے، اور مذکورہ ناقابل ضمانت وارنٹ کی بنیاد پر ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا جبکہ ظہور کی گرفتاری کے لیے نیشنل کرائم بیورو پاکستان کی جانب سے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے۔

    لیکن اب عمر فاروق ظہور ان دو کیسز میں باعزت بری ہوچکے ہیں.

  • چیف جسٹس نے  مجرم کو رہا کر کے خوشی منائی ہے۔ مریم نواز شریف

    چیف جسٹس نے مجرم کو رہا کر کے خوشی منائی ہے۔ مریم نواز شریف

    سپریم کورٹ کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے حکم پر پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر مریم نواز کا ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ اپنی ٹوئٹ میں مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب کو آج قومی خزانے کے 60 ارب ہڑپ کرنے والے وارداتیے کو مل کر بہت خوشی ہوئی اور اس سے بھی زیادہ خوشی انھیں اس مجرم کو رہا کر کے ہوئی۔

    خیال رہے کہ آج سپریم کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری رہا کرنےکا حکم دے دیا۔ عدالت عظمیٰ نے عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سےدوبارہ رجوع کرنےکا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ہائی کورٹ جو فیصلہ کرے گی وہ آپ کو ماننا پڑے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    جبکہ دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کی گرفتاری سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کا رد عمل بھی سامنے آگیا ہے۔ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کی ڈرامائی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دینے کے حکم سے متعلق برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کیا۔

  • عمران خان کی طرح  آرٹیکل 25 کے تحت نیب کیسز میں گرفتار تمام ملزمان کو رہا کیا جائے. امان اللہ کنرانی

    عمران خان کی طرح آرٹیکل 25 کے تحت نیب کیسز میں گرفتار تمام ملزمان کو رہا کیا جائے. امان اللہ کنرانی

    عمران خان کی طرح آرٹیکل 25 کے تحت نیب کیسز میں گرفتار تمام ملزمان کو رہا کیا جائے. امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں سُپریم کورٹ پاکستان کی جانب سے عمران خان کی نیب کی جانب سے رہائی کے احکامات کے بعد آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت نیب کے کیسزز میں گرفتار تمام ملزمان کی رہائی اور ماضی میں سزا پانے والوں کی سزائیں پارلیمنٹ کے قانون سازی کے زریعے معاف کرکے ان کے ذمے تمام واجبات کالعدم قرار دیئے جائیں کیونکہ نیب کا ہر ملزم گرفتاری کا طریقہ کار کو اختیار کئے بغیر گرفتار کیا گیا ہے.

    جبکہ واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کاش محترمہ فاطمہ جناح کو بستر پر شہید نہ کیاجاتا وزیراعظم لیاقت علی خان سابق وزراء اعظم حسین شہید سہروردی و محترمہ بے نظیر بھٹو کو بیچ چوراہا گولی نہ ماری جاتی، ایک وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکو عدالتی قتل و دو دیگر وزراء اعظم محمد نواز شریف و یوسف رضا گیلانی کو عدالتی ستم سے نہ ہٹایا جاتا جبکہ سابق گورنر نواب اکبر خان بگٹی کو تراتانی کے پہاڑوں میں شہید نہ کیا جاتا تو شاید آج عمران نیازی کی گرفتاری بھی بڑی خبر ہوتی عوام کی توجہ حاصل کرتی یہ قوم غم کی ماری ہوئی ہے اور انہی کے ہاتھوں پرورش پانے والے اپنے گھوارے میں روتے پیٹتے ہوئے بتائے جارہے ہیں بلکہ اس کی آڑ میں فوجی اداروں میں گھسنا و سرکاری و سول املاک کو نقصان پہنچانا لوٹ مار کرنا، ملزمان و اکسانے والے رہنماؤں کے خلاف آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کاروائی و کورٹ مارشل پر منتج ہوسکتا ہے.

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس میں عدالتوں کا دائرہ ختم ہوجاتا ہے اور مزید براں حالات کی سنگینی کے تناظر میں وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول حکومت کی مدد کے لئے فوج کو طلب کرنا شہریوں کی زندگی کو اجیرن کرنا ایک سیاسی جماعت کی فسطائی ذہنیت و مکروہ عزائم کا باعث بناہے جو قابل مذمت عمل ہے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی معطلی کا خدشہ،جمہوری و سیاسی عمل بھی متاثر و انتخابات بروقت اکتوبر 2023 میں انعقاد بھی ممکن نہیں رہے گا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب بھی وقت ہے تحریک انصاف اپنے کئے پر پشیمانی ظاہر کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگے آئیندہ پُرامن سیاسی عمل کا حصہ بنے تاکہ ملک میں پارلیمانی و جمہوری و سیاسی نظام بلا تعطل جاری رہے عدالتوں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی بجائے میرٹ پر تقرریوں سپریم کورٹ سے جونئیر ججز جو واپس متعلقہ ہائی کورٹس میں بھیج کر سپریم کورٹ کے اپنے فیصلوں PLD 1996SC324,PLD 1998SC161&PLD 2009 SC 879 پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور سینارٹی کی بنیاد پر ھائی کورٹس کے ججوں کو سُپریم کورٹ میں ججوں کی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائےورنہ عنقریب سندھ میں بار کونسل کی آئینی درخواستوں کی طرزپرسُندھ ھائی کورٹ میں زیر التواء درخواستوں کو سامنے رکھتے ھوئے دیگر ھائی کورٹس میں بھی عدالتوں سے رجوع بھی کیا جاسکتا ہے.

  • عمران خان ضمانت کے وقت وہیل چیئر پر مگر اب خود چل کر عدالت پہنچے

    عمران خان ضمانت کے وقت وہیل چیئر پر مگر اب خود چل کر عدالت پہنچے

    عمران خان ضمانت کے وقت وہیل چیئر پر مگر اب خود چل کر عدالت آئے

    آپ کو یاد ہوگا کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان ضمانت یا پھر پیشی کیلئے عدالت وہیل چیئر پر پیش ہوتے رہے اور ٹانگ میں تکلیف کا بہانا بناتے تھے لیکن آج جب وہ عدالت پیش ہوئے تو خود اپنے پاؤں پر چل کر عدالت پیش ہوئے ہیں اور جب واپسی پر بھی وہ خود چل کر واپس جاتے ہوئے دکھائی دیئے ہیں.
    https://twitter.com/Aqibjaved000/status/1656651153265012737
    واضح رہے کہ عمران خان سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر خود چلتے ہوئے کمرہ عدالت تک پہنچے ہیں جبکہ سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیےگئے اور پولیس کی جانب سے عدالت کے باہر سے غیر متعلقہ گاڑیوں کو بھی ہٹادیا گیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا


    صحافی اجمل جامی نے اس بارے میں لکھا کہ "جب عمران خان کو گاڑی سے اتار کر کمرہ عدالت میں لایا گیا تو انکی باڈی لینگویج کیسی تھی۔۔؟ اینکر کا سوال، جی! عمران خان جب پیدل چل کر کمرہ عدالت گئے تو ان کی باڈی لینگویج نارمل لگ رہی تھی، انکے چہرے پر سمائل تھی۔ رپورٹر کا جواب”

    ایک اور صارف نے لکھا کہ "حیرت انگیز طور پر وہیل چیئر کا ڈھونگ رچانے والا عمران خان صرف ایک دن کی قید کے بعد ہی اپنے پیروں پر چل کر عدالت میں پہنچ گیا. یاد رہے کہ عدالت میں بھی جب عمران خان کو بلایا گیا تو وہ ادھر بھی خود چل کر روسٹرم پر پہنچ گئے.

  • پرویز الٰہی کی عبوری ضمانت خارج

    پرویز الٰہی کی عبوری ضمانت خارج

    انسداد دہشتگردی کی عدالت نے تحریک انصاف کے صدر پرویز الٰہی کی عبوری ضمانت خارج کردی، جس کے بعد پرویز الہیٰ کی گرفتاری کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں،

    لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پرویز الٰہی کے گھر چھاپے کے دوران پیٹرول بم پھینکنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوھدری پرویز الہی کی عبوری ضمانت خارج کر دی ،انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج نے عبوری ضمانت پر فیصلہ سنایا اور پرویز الٰہی کی ایک روزہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی مسترد کردی پرویز الٰہی کے خلاف تھانہ غالب مارکیٹ میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے

     خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    درخواست میں کہا گیا کہ غالب مارکیٹ پولیس نے پولیس پارٹی پر حملہ کرنے کا بے بنیاد الزام لگایا، پولیس پارٹی پر پیٹرول بم پھینکنے کے الزام بھی مقدمہ میں لگایا گیا،پولیس نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے جھوٹا مقدمہ درج کیا، گرفتاری کا خدشہ، مقدمہ میں شامل تفتیش ہونے کیلئے عبوری ضمانت دی جائے، اٹرائل کے حتمی فیصلے تک ضمانت قبل از گرفتاری بھی منظور کی جائے،

  • ن لیگ پارٹی سیکرٹریٹ میں توڑ پھوڑ،پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست

    ن لیگ پارٹی سیکرٹریٹ میں توڑ پھوڑ،پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست

    مسلم لیگ ن لاہور پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاون 180 ایچ میں توڑ پھوڑ کے مقدمہ کی درخواست درج کرا دی گئی

    مسلم لیگ ن کے رہنماء رانا محمد ارشد کی مدعیت میں تھانہ ماڈل ٹاون میں پی ٹی آئی رہنماوں سمیت 200 نامعلوم افراد کو اندارج مقدمہ کی درخواست میں نامزد کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے پارٹی سیکرٹریٹ توڑ پھوڑ کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنماء اعجاز چوہدری،ڈاکٹر یاسمین راشد،میاں اسلم اقبال،میاں محمودالرشید،شبیر گجر،سرفراز کھوکھر،شیخ امتیاز سمیت 200 افراد کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست درج کرائی گئی ہے۔

    ن لیگ کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے پتھراؤ، توڑ پھوڑ کی،ہوائی فائرنگ کی گئی،اتنی شدید تھی کہ علاقے بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا، پٹرول بم پھینکے گئے،واک تھرو گیٹ، جنریٹر، موٹر سائیکلیں انکو آگ لگا دی گئی،شیشے توڑ دیئے، فرنیچر باہر نکال کر جلا دیا گیا ،قیمتی اشیا اٹھا کر ساتھ لے گئے،فوج اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف نعرے لگاتے رہے،لیڈران جلاؤ گھیراؤ کی ترغیب دیتے رہے،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات
    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

  • گلگت ہاؤس میں روپوش اعجاز چودھری بھی گرفتار

    گلگت ہاؤس میں روپوش اعجاز چودھری بھی گرفتار

    تحریک انصاف کے رہنما اورسینیٹر اعجاز چودھری کو گلگت ہاﺅس اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا ہے

    اعجاز چودھری گلگت ہاﺅس اسلام آباد میں روپوش تھے تا ہم آج انکو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، پارٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اعجاز چودھری کو گرفتار کر لیا گیا ہے،تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، کئی رہنما روپوش ہو چکے ہیں اور اپنے فون نمبر بھی آف کر دیئے ہیں،علی امین گنڈا پور ڈیرہ گئے اور وہاں جا کر بھائیوں کے ہمراہ روپوش ہو گئے، پولیس کے سامنے تھریک انصاف کا جو بھی رہنما آ رہا ہے اسکو گرفتار کیا جا رہا ہے، تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف مقدمے قائم ہیں،

    تحریک انصاف کے رہنما علی محند خان کو بھی اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا ، علی محمد خان کو آبپارہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد سے پی ٹی آئی کی 3 خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، گرفتار خواتین رہنماﺅں میں مسرت جمشید چیمہ ،ملیکہ بخاری اورفلک ناز چترالی شامل ہیں پی ٹی آئی کے حراست میں لئے گئے رہنماﺅں میں شاہ محمود قریشی، اسدعمر، فواد چودھری اورجمشید اقبال چیمہ شامل ہیں علی زیدی کو بھی کراچی سے گرفتار کیا گیا ہے تحریک انصاف کے رہنما عمر سرفراز چیمہ کو گرفتار کر لیا گیا قاسم سوری کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا قاسم سوری کے بھائی بلال سوری کو گرفتار کرلیا گیا.

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کئی مقامات پر سڑکیں بند ہیں اور احتجاج جاری ہے، اسلام آباد میں دفاتر میں حاضری معمول کے مقابلے کم ہے تعلیمی اداروں میں آج بھی تعطیل ہے اسلام آباد پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شہر میں معمولات زندگی بحال ہیں اور شہریوں کی آمدورفت جاری ہے، شرپسندوں کے خلاف کاروائی جاری ہے جو بھی توڑ پھوڑ کرے گا وہ خود اسکا حساب بھگتے گا

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

  • جلاؤ گھیراؤمیں ملوث گرفتار شرپسند عناصر کی تعداد 2217 تک جا پہنچی

    جلاؤ گھیراؤمیں ملوث گرفتار شرپسند عناصر کی تعداد 2217 تک جا پہنچی

    سرکاری و نجی اداروں پر حملوں، توڑ پھوڑ، تشدد اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث گرفتار شرپسند عناصر کی تعداد 2217 تک جا پہنچی

    پنجاب پولیس کی جانب سے پنجاب کے تمام شہروں میں کاروائیاں جاری ہیں، عمران خان کی گرفتارئ کے بعد ملک گیر احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کی گئی، املاک کو نقصان پہنچایا گیا جس کے بعد پولیس حرکت میں آ گئی، ترجمان پولیس کے مطابق شرپسند عناصر کی پرتشدد کاروائیوں میں پنجاب بھر میں 150 سے زائد پولیس افسران اور اہلکار شدید زخمی ہوئے، پنجاب پولیس کے زیر استعمال 72 گاڑیوں کی توڑ پھوڑ، نذر آتش کیا گیا،جلاؤ گھیراؤ، تشدد اور امن متاثر کرنے والے شرپسند عناصر کو شناخت کرکے گرفتار کیا جا رہا ہے، گرفتار شرپسند عناصر کی تعداد 2217 تک جا پہنچی

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد لاہور میں کارکنان کا اھتجاج جاری ہے، مال روڈ میدان جنگ، پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس میں آنکھ مچولی، عمران خان کی رہائشگاہ کے باہر کے طرف کے سارے راستے بند کئے گئے ہیں،

    پرتشدد احتجاج کے دوران ڈیوٹی پر موجود زخمی ہونے والے پولیس افسران واہلکار

    1 ۔ ایس پی رورل جناب ظفر خان

    2 ۔ ایس پی سٹی جناب عبدالسلام خان

    3 ۔ ایس پی سیکورٹی جناب عتیق شاہ

    4 ۔ ڈی ایس پی شکیل خان

    5 ۔ ایس ایچ او تھانہ پہاڑی پورہ انسپکٹر اعجاز نبی

    6 ۔ ایس ایچ او تھانہ حیات آبادمحمد اشفاق

    7 ۔ ایس ایچ اوتھانہ شرقی نعیم حیدر

    8 ۔ ایس ایچ او تھانہ ارمڑتحسین اللہ

    9 ۔ کانسٹیبل عرفان نمبر بلٹ نمبر 7224

    10 ۔ کانسٹیبل نظر علی بلٹ نمبر1133

    11 ۔ کانسٹیبل کاشف بلٹ نمبر 6624

    12 ۔ عابد کانسٹیبل

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

  • تحریک انصاف اپنے کئے پر پشیمانی ظاہر کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگے،امان اللہ کنرانی

    تحریک انصاف اپنے کئے پر پشیمانی ظاہر کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگے،امان اللہ کنرانی

    تحریک انصاف اپنے کئے پر پشیمانی ظاہر کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگے

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے ایک بیان میں کہاہےکہ کاش محترمہ فاطمہ جناح کو بستر پر شہید نہ کیاجاتا وزیراعظم لیاقت علی خان سابق وزراء اعظم حسین شہید سہروردی و محترمہ بے نظر بھٹو کو بیچ چوراہا گولی نہ ماری جاتی ایک وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکو عدالتی قتل و دو دیگر وزراء اعظم جناب محمد نواز شریف و جناب یوسف رضا گیلانی کو عدالتی ستم سے نہ ہٹایا جاتا سابق گورنر نواب اکبر خان بگٹی کو تراتانی کے پہاڑوں میں شہید نہ کیا جاتا تو شاید آج عمران نیازی کی گرفتاری بھی بڑی خبر ہوتی عوام کی توجہ حاصل کرتی

    اپنے ایک بیان میں امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ یہ قوم غم کی ماری ہوئی ہے اور انہی کے ہاتھوں پرورش پانے والے اپنے گھوارے میں روتے پیٹتے ہوئے بتائے جارہے ہیں بلکہ اس کی آڑ میں فوجی اداروں میں گھسنا و سرکاری و سول املاک کو نقصان پہنچانا لوٹ مار کرنا، ملزمان و اکسانے والے رہنماؤں کے خلاف آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کاروائی و کورٹ مارشل پر منتج ہوسکتا ہے جس میں عدالتوں کا دائرہ ختم ہوجاتا ہے اور مزید براں حالات کی سنگینی کے تناظر میں وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول حکومت کی مدد کے لئے فوج کو طلب کرنا شہریوں کی زندگی کو اجیرن کرنا ایک سیاسی جماعت کی فسطائی ذھنیت و مکروہ عزائم کا باعث بناہےجو قابل مذمت عمل ہے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی معطلی کا خدشہ،جمہوری و سیاسی عمل بھی متاثر و انتخابات بروقت اکتوبر 2023 میں انعقاد بھی ممکن نہیں رہے گا

    چھ رکنی بینچ کا فیصلہ عدالتی بغاوت، بغض و عناد سے بھرپور ہے، امان اللہ کنرانی

    فائز عیسیٰ کا گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ آنا لائق تحسین ہے. امان اللہ کنرانی

    قانون سازی پر عجلت سے نوٹس لینا قابل مذمت ہے. امان اللہ کنرانی

    مرضی کے فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ اب بھی وقت ہے تحریک انصاف اپنے کئے پر پشیمانی ظاہر کرتے ھوئے قوم سے معافی مانگے آئیندہ پُرامن سیاسی عمل کا حصہ بنے تاکہ ملک میں پارلیمانی و جمہوری و سیاسی نظام بلا تعطل جاری رہے عدالتوں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی بجائے میرٹ پر تقرریوں سپریم کورٹ سے جونئیر ججز جو واپس متعلقہ ھائی کورٹس میں بھیج کر سپریم کورٹ کے اپنے فیصلوں PLD 1996SC324,PLD 1998SC161&PLD 2009 SC 879 پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور سینارٹی کی بنیاد پر ھائ کورٹس کے ججوں کو سُپریم کورٹ میں ججوں کی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائےورنہ عنقریب سندھ میں بار کونسل کی آئینی درخواستوں کی طرزپرسُندھ ھائی کورٹ میں زیر التواء درخواستوں کو سامنے رکھتے ھوئے دیگر ھائ کورٹس میں بھی عدالتوں سے رجوع بھی کیا جاسکتا ہے

  • کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ، پی ٹی آئی رہنما ملوث،ثبوت مل گئے

    کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ، پی ٹی آئی رہنما ملوث،ثبوت مل گئے

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی، ثبوت سامنے آ گئے، باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کیا گیا،

    اس حوالہ سے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی آڈیو سامنے آئی ہیں جن سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ کورکمانڈر ہاؤس کی طرف مارچ اور وہاں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ. لوٹ مار تحریک انصاف کے رہنماؤں کی ہدایت پر ہی کی گئی اور اس کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی،آڈیو لیک میں سنا جا سکتا ہے کہ اس حملے بارے کیا بات چیت کی جا رہی ہے، پی ٹی آئی کے رہنما کور کمانڈر ہاؤس پر حملے پر خوشی منا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم نے پورا کور کمانڈر ہاؤس لاہور تباہ کر دیا ہے،

    تحریک انصاف کے سینیٹر چوہدری اعجاز اور انکے بیٹے علی چوہدری کی آڈیو کال سامنے آئی ہے ، اس کال میں کہا گیا ہے کہ ہم نے پورا کور کمانڈر ہاؤس لاہور تباہ کر دیا ہے علی چوہدری پوچھتے ہیں کہ گولیاں چلی ہیں؟ اعجاز چوہدری کہتے ہیں کہ ہاں جی فائرنگ ہوئی، پہلے تو ہوائی فائرنگ ہوئی ہے پھر ایک برسٹ مارا ہے تین لوگوں کو گولیاں لگی ہیں ، آڈیو میں کہا گیا ہے کہ گملے سے لیکر گھر کی کوئی چیز باقی نہیں بچی اڑا دیا ہے سارا

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شیخ امتیاز اور صغیر وڑائچ کی کورکمانڈر ہاؤس میں گھسنے پر مبنی گفتگو لیک ہوئی ہے ،سامنے آنیوالی آڈیو میں صغیر وڑائچ استفسار کرتے ہیں کہ اپنے اپنے علاقے بند کرکے رکھنے ہیں یا کوئی اہم مقامات ؟ شیخ امتیاز کہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت کور کمانڈر ہاؤس پر ساری دنیا اکٹھی ہوئی ہے جس پر ان سے جوابی سوال ہوتا ہے کہ کور کمانڈر ہاؤس؟ پھر ہم شیخوپورہ والے بھی وہاں پہنچ جائیں ؟ وہ اثبات میں جواب دیتے ہیں تو ایک بار پھر سوال ہوتا ہے جس کے جواب میں شیخ امتیاز کہتے ہیں کہ ’ ہاں جی ‘۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے کارکنان نے عمران خان کی گرفتاری کے بعد کورکمانڈر ہاؤس لاہور میں آگ لگا دی تھی۔ مشتعل ہجوم نے عمارت کے تمام کمروں میں سامان کو توڑ پھوڑ دیا، حتی کہ لوٹ مار بھی کی گئی، جس کے ہاتھ جو کچھ لگا، وہ اٹھا کر بھاگ نکلا

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ،اسد عمر اور شاہ محمود قریشی اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست لے کر آئے تھے جس میں انہوں نے استدعا کی تھی کہ انہیں عمران خان سے ملنے نہیں دیا جارہا اسد عمر یہ درخواست لے کر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے کمرہ عدالت کی طرف گئے جس کے بعد وہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے قریب لائبریری میں پہنچے جہاں سے باہر نکلنے پر اسلام آباد پولیس کے اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ نے اسد عمر کو گرفتار کرلیا گیا تھا، اس موقع پر شاہ محمود قریشی کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس کو ناکامی ہوئی تھی

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد بڑھا ہے، علی زیدی کو بھی کراچی سے گرفتار کیا گیا ہے تحریک انصاف کے رہنما عمر سرفراز چیمہ کو گرفتار کر لیا گیا قاسم سوری کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا قاسم سوری کے بھائی بلال سوری کو گرفتار کرلیا گیا،اسد عمر کو گرفتار کیا گیا،تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید کے داماد اور سابق رکن اسمبلی میاں اکرم عثمان کو بھائی سمیت گرفتار کرلیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات