Baaghi TV

Tag: عدالت

  • ماضی میں بھی گرفتاریاں ہوتی رہی ،کوئی پہلی گرفتاری تھی جس کے بعد اتنا ہنگامہ ہوا؟ عدالت

    ماضی میں بھی گرفتاریاں ہوتی رہی ،کوئی پہلی گرفتاری تھی جس کے بعد اتنا ہنگامہ ہوا؟ عدالت

    لاہو رہائیکورٹ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    دوران سماعت جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ اکہ سیاسی رہنماﺅں کی ذمہ داری نہیں کہ وہ کارکنوں کو روکیں، ماضی میں بھی گرفتاریاں ہوتی رہی ہیں،کیا یہ کوئی پہلی گرفتاری تھی جس کے بعد اتنا ہنگامہ ہوا؟ ماضی والی گرفتاریاں درست تھیں یا غلط وہ بعد میں ثابت ہوئیں یا نہیں ،جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ بے نظیر بھٹو پر قاتلانہ حملہ ہوا، کارکن زخمی ہوئے اتنا ریکشن نہیں ہوا،جسٹس انوارالحق پنوں نے کہا کہ کیا ایسے گرفتار کیا جا سکتا ہے جس طرح آپ نے گرفتار کیا؟

    جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کیا پنجاب حکومت نے مقدمات کی تفصیلات فراہم کردی تھیں؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ عثمان بزدار پر ایک مقدمہ درج ہے،عثمان بزدار کیخلاف 13 انکوائریاں زیرسماعت ہیں ،جسٹس نیلم عالیہ نے کہا کہ درخواست گزار نے درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت حاصل کی،کیا آپ نے عبوری ضمانت کیلئے متعلقہ عدالت سے رجوع کیا؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ عثمان بزدار کو آج عدالت کے رو برو پیش ضرورہونا چاہئے تھا،جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہاکہ گزشتہ ایک سال سے جو ملک میں ہورہا ہے اس پر ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے،2 گھنٹے پہلے مقدمہ درج ہوتا ہے اس کے بعد گرفتاری کرلی جاتی ہے،لاہور ہائیکورٹ نے عثمان بزدار کی درخواست فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • عدالت کا عمران خان کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی روکنے کا حکم

    عدالت کا عمران خان کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی روکنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس دوسری عدالت منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی ،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کمپلینٹ قابل سماعت ہی نہیں،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ یہ آپ کی 4 مختلف درخواستیں ہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کسی کو مجاز اتھارٹی مقرر کرنے کا لیٹر پیش نہیں کیا،الیکشن کمیشن نے صرف اپنے آفس کو کمپلینٹ فائل کرنے کا کہا،مجاز اتھارٹی کے بغیر دائر کمپلینٹ پر سماعت نہیں ہو سکتی

    لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کمرہ عدالت پہنچنے پر چیف جسٹس سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ آج عدالت آنے کے راستے میں کافی رکاوٹیں تھیں ،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ ہر جگہ ہی ایسا ہے ،خواجہ حارث نے کہا کہ مقررہ وقت گزر جانے کے بعد کمپلینٹ نہیں بھیجی جا سکتی، چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا ٹرائل کورٹ نے ان اعتراضات پر کیا کہا؟ خواجہ حارث نے کہاکہ جج صاحب نے کہہ دیا یہ ہم شواہد کے دوران دیکھیں گے، الیکشن کمیشن 120 روز کے بعد کرمنل کارروائی کی کمپلینٹ نہیں بھیج سکتا،ٹرائل کورٹ کے سامنے اعتراض اٹھایا گیا تھا،ٹرائل کورٹ نے کہا معاملہ شہادتوں کے مرحلے پر دیکھیں گے، عمران خان کے وکیل نے کہاکہ ہم کہتے ہیں اس پر تو مزید کارروائی ہی نہیں ہو سکتی، جو کچھ آن ریکارڈ ہے ہم اسی پر اعتراض کر رہے ہیں،کرمنل کارروائی کا معاملہ پہلے مجسٹریٹ پھر سیشن کورٹ کے پاس جانا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ حارث کے دلائل سننے کے بعد عمران خان کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی روکنے کا حکم دے دیا،عدالت نے الیکشن کمیشن ودیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے،چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کی درخواستوں پر احکامات جاری کئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست پر اسٹے آرڈر جاری کیا، سیشن کورٹ نے 2 روز قبل عمران خان پر فرد جرم عائد کی تھی، سیشن کورٹ نے گواہوں کو 13 مئی کیلئے طلب کررکھا تھا،عمران خان کی چاروں درخواستوں پر 8 جون کیلئے نوٹس جاری کر دیاگیا،کیس ٹرانسفر کی درخواست پر الیکشن کمیشن ودیگر کونوٹس جاری کر دیئے گئے،کمپلینٹ قابل سماعت ہونے کے خلاف درخواست پر بھی فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے، عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کارروائی کیس کی سماعت 8 جون تک ملتوی کردی

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

  • عمران خان کی دو ہفتے کیلئے حفاظتی ضمانت منظور

    عمران خان کی دو ہفتے کیلئے حفاظتی ضمانت منظور

    عمران خان کی دو ہفتے کیلئے حفاظتی ضمانت منظورکر لی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی ضمانت منظور کی،عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے باعث عدالت کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے پچھلے دروازے کو سیل کردیا ہے اور دو دروازوں پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہیں

    عدالت میں نماز جمعہ کے وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز کیا گیا تو خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری اور حفاظتی ضمانت کی درخواست ہے ہم نے ایک اور درخواست میں انکوائری رپورٹ کی کاپی مانگی ہوئی ہے ہم چاہتے ہیں کہ نیب کو انکوائری رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے نیب کی انکوائری رپورٹ کا اخبار سے پتہ چلا ،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عمران خان 9 مئی کو ضمانت کی درخواست کے لیے بائیو میٹرک کرا رہے تھے ، انہیں بائیو میٹرک کمرے سے گرفتار کر لیا گیا وارنٹ گرفتاری ملزم کی مسلسل عدم موجودگی پر جاری کیے جا سکتے ہیں ہم نے نیب کو انکوائری رپورٹ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی نیب نے عمران خان کی انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کیا نیب ترمیم کے بعد صرف تحقیقات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا سکتے ہیں

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا اس کیس میں آپ کو کوئی سوالنامہ فراہم کیا گیا؟ جس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ عمران خان کو سوالنامہ فراہم نہیں کیا گیا،صرف ایک نوٹس بھیجا گیا جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان اس نوٹس پر نیب کے سامنے پیش ہوئے؟ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ عمران خان پیش نہیں ہوئے، جواب جمع کرایا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سوال کیا کہ عمران خان نیب کی طلبی پرپیش نہیں ہوئے؟ کیا انہوں نے نیب کا نوٹس کسی عدالت میں چیلنج کیا؟ آپ کو معلوم ہے کہ پیش نہ ہونے پر نوٹس چیلنج کیا جاتا ہے؟عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 2 نوٹسز بھیجے تھے،اس کیس میں ایک ہی بھیجا، ہم اس کا جواب دے چکے ہیں، ہم نے سمجھا نیب نے دوبارہ نوٹس جاری نہیں کیا تو معاملہ ختم ہوگیا ،اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ نیب پراسیکیوشن موجود ہے، کیس کے میرٹ پر دلائل دے دینگے، عدالت سے 200 میٹر کی دوری پر متعلقہ ٹرائل کورٹ موجود ہے سمجھ سے باہر ہے کہ عمران خان اس عدالت سے رجوع کیوں نہیں کرتے ،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا گیا، جس طرح کے پرتشدد واقعات ہوئے اس پر فوج ہی کو طلب کیا جانا تھا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا یہاں مارشل لا لگ گیا ہے جو ہم کیسز پر سماعت روک دیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 199 آرٹیکل 245 سے مشروط ہے، اس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایڈووکیٹ جنرل کو ٹوک دیا اور کہا کہ اس نکتے کو چھوڑیں اور آگے چلیں

    عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر کوروسٹرم پر طلب کر لیا، اس پر پراسیکیوٹر نیب سردار مظفرنے کہا کہ عمران خان ایک بار بھی انکوائری میں شامل نہیں ہوئے ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت پرہم کیس سنیں گے اورفیصلہ کریں گے،آئندہ سماعت پرمکمل تیاری کرکے آئیں،آئندہ سماعت پردلائل سن کرضمانت منظوری یا خارج کرنے کا فیصلہ کریں گے

    عمران خان کو سخت سیکورٹی میں عدالت پیش کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں القادر ٹرسٹ کرپشن کیس کی سماعت ہوئی ، جسٹس گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن امتیاز رفعت پر مشتمل ڈویژن نے بنچ سماعت کی،حریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کمرہ عدالت میں موجود ہیں،اس موقع پر صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مجھے پھر سے گرفتار کیا جائے گا۔

    عبدالقادر ٹرسٹ کیس میں سماعت کے دوران ایک وکیل نے کھڑے ہو کر عمران خان کے حق میں نعرہ لگا دیا وکیل کے نعرے لگانے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا اورخاموش رہنے کا حکم دیا، اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں ہم کیس نہیں سنیں گے،عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے وکیل کی حرکت پر عدالت سے معذرت کی۔ خصوصی بنچ کمرہ عدالت سے اٹھ کرچیمبر میں چلا گیا، ساتھ ہی جمعہ کا وقفہ ہو گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر عمران خان کا صحافیوں کے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان جب اسلام آباد ہائیکورٹ کی ڈائری برانچ میں بائیومیٹرک کرانے کے بعد نکلے تو انہوں نے کیمروں کو دیکھ کر وکٹری کا نشانہ بنایا، صحافی نے سوال کیا کہ دورانِ قید آپ کی اسٹیبلشمنٹ سے ملاقاتیں ہوئیں؟ اس پر عمران خان نے نفی میں سر ہلایا، صحافی نے سوالکیا کہ کیا آپ ڈٹے ہوئے ہیں یا ڈیل کرلی ہے؟، اس پر چیئرمین پی ٹی آئی مسکرا دیے ،صحافی نے سوال کیا کہ آپ کی خاموش کو سمجھیں کیا ڈیل کرلی گئی ہے؟ اس پر عمران خان نے منہ پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا

    اسلام آباد ہائیکور ٹ میں کورٹ روم نمبر تھری سے غیر متعلقہ افراد کو باہر نکال دیا گیا، اس دوران عدالتی کمرے کے باہر بد نظمی دیکھی گئی، تحریک انصاف لائرز فورم کی اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔ عمران خان کے کیس کی سماعت کورٹ نمبر3 میں ہو گی،عمران خان کے کیس کی سماعت کورٹ روم نمبر2 میں کرنے کی استدعا مسترد کردی گئی۔

    عمران خان سخت سکیورٹی میں ہائیکورٹ کیلئے روانہ ہو گئے، انہیں پولیس لائنز کے عقبی دروازے سے لے جایا گیا ، عمران خان آی آئی جی آپریشنز اسلام آباد کی نگرانی میں اسلام آباد ہائیکورٹ لے جایا گیا،، پولیس لائنز سے اسلام اباد ہائیکورٹ تک تمام روٹ پر ہائی سکیورٹی الرٹ رکھا گیا ہے

    عمران خان نے القادر یونیورسٹی کیس میں ضمانت کی درخواست دائر کر دی عمران خان نے درخواست میں ضمانت منظور کرنے کی استدعا کی ہے. سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے درخواستیں ان کے وکیل سلمان صفدر نے دائر کیں،نئے درج کئے گئے مقدمات سے متعلق درخواست میں کہا گیا ہے کہ جتنے مقدمات درج ہو چکے ان کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور اور تمام مقدمات کو یکجا کر دیا جائے

    عمران خان کی آمد سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ تھی، تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں آمد سے قبل پولیس، رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات کردیئے گئے تھے عمران خان کی کورٹ روم نمبر 1 میں ممکنہ آمد سے قبل واک تھرو گیٹ نصب کیا گیا ،

    سپریم کورٹ احکامات کی روشنی میں سابق وزیر اعظم عمران خان آج 11 بجے تک ہائیکورٹ پیش ہوئے، عمران خان کی جانب سے ہمایوں دلاور جج کی تبدیلی کیلئے درخواست پر چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ،عمران خان کی 3 اور درخواستوں پر جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، جس میں عمران خان کی جانب سے خواجہ حارث اور بیرسٹر گوہر علی پیش ہوئے

    اسد عمر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار 

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • عمر فاروق ظہور منی لانڈرنگ کے دو کیسز میں بری

    عمر فاروق ظہور منی لانڈرنگ کے دو کیسز میں بری

    لاہور؛ جوڈیشل مجسٹریٹ کی طرف سے کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور کو منی لانڈرنگ اور فراڈ کے دو مقدمات میں بری کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے خلاف ان کی سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا نے سابق وفاقی وزیر احتساب شہزاد اکبر کی مدد سے درج کرائے گئے مقدمات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کی پی ٹی آئی کی حکومتی کابینہ نے ان کیسز کی منظوری دی تھی۔

    جیو نیوز کے صحافی مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت کے جج غلام مرتضیٰ ورک نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے کیئے گئے کیسز میں عمر فاروق ظہور کو بری کرنے کے ساتھ دو فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) کو منسوخ کر دیا ہے کیونکہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ملزم فراڈ، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی میں ملوث نہ پایا گیا ہے .

    یاد رہے کہ یہ دونوں کیسز جون 2020 کے اوائل میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب شہزاد اکبر کی مدد سے ایف آئی اے لاہور کے کارپوریٹ سرکل سے رابطہ کرنے، اور ظہور اور اس کے بہنوئی سلیم کی جانب سے تقریباً 16 ارب روپے کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر تحقیقات کی منظوری کے لیے کابینہ سے رجوع کیا گیا تھا.

    جبکہ شہزاد اکبر نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ عمر فاروق ظہور نے 2010 میں ناروے میں 89.2 ملین ڈالر کا بینک فراڈ کیا تھا جبکہ 2004 میں سوئٹزرلینڈ کے شہر میں بھی کوئی مبینہ کیس سامنے آیا تھا. یوں اس وقت کے وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی شہزاد اکبر مرزا شکایات کابینہ کے سامنے لیکر گئے تھے اور کابینہ سے کہا تھا کہ عمر فاروق ظہور سے اس کی تفتیش ہونی چاہئے ۔

    خیال رہے کہ عمر فاروق ظہور ایک کامیاب بزنس مین ہیں اور اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی دولت اس مرحلے پر لاکھوں ڈالرز میں ہے۔ انہوں نے دبئی اور کئی دوسرے ممالک میں رئیل اسٹیٹ، آئی ٹی کے کاروبار، توانائی کے منصوبوں، زراعت کے شعبے وغیرہ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ وہ مشرق وسطیٰ میں شاہی خاندان کے بہت سے ارکان کے ساتھ اور افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا، کیریبین اور جنوبی امریکہ کے کئی سربراہان مملکت کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں۔

    عمر فاروق مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے لئے لائبیریا کے ایمبیسڈر ایٹ لارج بھی ہیں۔ عمر فاروق ظہور اپنی سابقہ ​​اہلیہ، ماڈل اور اداکارہ صوفیہ مرزا کے ساتھ طویل عرصے سے جاری عدالتی لڑائی کے حوالے سے کئی سالوں سے پاکستانی خبروں میں رہے۔ جوڑے کی دو جڑواں بیٹیاں ہیں جو دبئی میں محمد بن راشد سٹی ڈسٹرکٹ ون کے ایک خاص محلے میں ظہور کے ساتھ رہتی ہیں۔

    یاد رہے کہ عمر فاروق ظہور کا نام 2021 میں پہلی بار پاکستانی میڈیا پر اس وقت آیا جب تمام ٹی وی چینلز نے ایف آئی اے کے حوالے سے رپورٹنگ شروع کی، جو اس وقت شہزاد اکبر کے ماتحت تھا، کہ یہ ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن تھے جنہوں نے ظہور کو شاہی خاندان کے رکن کے ساتھ سرکاری دورے پر پاکستان آنے کی اجازت دی تھی۔ خبروں میں بشیر میمن اور ظہور کو جوڑا گیا اور ظہور کو قانون کا ’’مفرور‘‘ کہا گیا تھا۔

    جبکہ عمر فاروق ظہور ناروے میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی پاکستانی والدین کے ہاں پیدا ہوئے۔ عمر فاروق ظہور نے ابتدائی تعلیم ناروے میں حاصل کی اور پھر تقریباً 22 سال قبل مشرق وسطیٰ چلے گئے۔ عمر فاروق ظہور کا دعویٰ ہے کہ وہ شہزاد اکبر کو اچھی طرح جانتے ہیں اور مارچ 2019 میں انہوں نے فرح شہزادی کو ان سے ملوایا تھا۔

    علاوہ ازیں واضح رہے کہ ایف آئی اے نے مرزا کی شکایت پر مزید الزام لگایا تھا کہ ظہور نے 2010 میں ناروے کے اوسلو میں مبینہ طور پر 89.2 ملین ڈالرز کا بینک فراڈ کیا، اور2014 میں برن، سوئٹزرلینڈ میں 12 ملین ڈالر کی رقم کا ایک اور فراڈ کیا، کم سن بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث تھے، 9.37 ملین ترک لیرا کا فراڈ کیا، گھانا میں 510 ملین ڈالر کے مشکوک معاہدے پر عمل درآمد کیا، کالے دھن کی شکل میں لاکھوں ڈالر کی نقدی کے مالک ہیں، اور دبئی اور پاکستان میں کروڑوں ڈالر مالیت کے کئی مکانات اور جائیدادوں کے مالک ہیں، بشمول دبئی کے اعلیٰ درجے کے اضلاع، سیالکوٹ، گوادر اور اسلام آباد۔

    تاہم جیسے ہی وفاقی کابینہ نے ظہور کے خلاف کارروائی کی منظوری دی تھی، ایف آئی اے لاہور کے سربراہ ڈاکٹر رضوان نے ظہور کے خلاف کارروائی شروع کردی تھی؛ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا گیا تھا، ایک ایف آئی آر میں ناقابل ضمانت وارنٹ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عدالت سے حاصل کیے گئے تھے، اور مذکورہ ناقابل ضمانت وارنٹ کی بنیاد پر ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا جبکہ ظہور کی گرفتاری کے لیے نیشنل کرائم بیورو پاکستان کی جانب سے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے۔

    لیکن اب عمر فاروق ظہور ان دو کیسز میں باعزت بری ہوچکے ہیں.

  • چیف جسٹس نے  مجرم کو رہا کر کے خوشی منائی ہے۔ مریم نواز شریف

    چیف جسٹس نے مجرم کو رہا کر کے خوشی منائی ہے۔ مریم نواز شریف

    سپریم کورٹ کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے حکم پر پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر مریم نواز کا ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ اپنی ٹوئٹ میں مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب کو آج قومی خزانے کے 60 ارب ہڑپ کرنے والے وارداتیے کو مل کر بہت خوشی ہوئی اور اس سے بھی زیادہ خوشی انھیں اس مجرم کو رہا کر کے ہوئی۔

    خیال رہے کہ آج سپریم کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری رہا کرنےکا حکم دے دیا۔ عدالت عظمیٰ نے عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سےدوبارہ رجوع کرنےکا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ہائی کورٹ جو فیصلہ کرے گی وہ آپ کو ماننا پڑے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    جبکہ دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کی گرفتاری سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کا رد عمل بھی سامنے آگیا ہے۔ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کی ڈرامائی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دینے کے حکم سے متعلق برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کیا۔

  • عمران خان کی طرح  آرٹیکل 25 کے تحت نیب کیسز میں گرفتار تمام ملزمان کو رہا کیا جائے. امان اللہ کنرانی

    عمران خان کی طرح آرٹیکل 25 کے تحت نیب کیسز میں گرفتار تمام ملزمان کو رہا کیا جائے. امان اللہ کنرانی

    عمران خان کی طرح آرٹیکل 25 کے تحت نیب کیسز میں گرفتار تمام ملزمان کو رہا کیا جائے. امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں سُپریم کورٹ پاکستان کی جانب سے عمران خان کی نیب کی جانب سے رہائی کے احکامات کے بعد آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت نیب کے کیسزز میں گرفتار تمام ملزمان کی رہائی اور ماضی میں سزا پانے والوں کی سزائیں پارلیمنٹ کے قانون سازی کے زریعے معاف کرکے ان کے ذمے تمام واجبات کالعدم قرار دیئے جائیں کیونکہ نیب کا ہر ملزم گرفتاری کا طریقہ کار کو اختیار کئے بغیر گرفتار کیا گیا ہے.

    جبکہ واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کاش محترمہ فاطمہ جناح کو بستر پر شہید نہ کیاجاتا وزیراعظم لیاقت علی خان سابق وزراء اعظم حسین شہید سہروردی و محترمہ بے نظیر بھٹو کو بیچ چوراہا گولی نہ ماری جاتی، ایک وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکو عدالتی قتل و دو دیگر وزراء اعظم محمد نواز شریف و یوسف رضا گیلانی کو عدالتی ستم سے نہ ہٹایا جاتا جبکہ سابق گورنر نواب اکبر خان بگٹی کو تراتانی کے پہاڑوں میں شہید نہ کیا جاتا تو شاید آج عمران نیازی کی گرفتاری بھی بڑی خبر ہوتی عوام کی توجہ حاصل کرتی یہ قوم غم کی ماری ہوئی ہے اور انہی کے ہاتھوں پرورش پانے والے اپنے گھوارے میں روتے پیٹتے ہوئے بتائے جارہے ہیں بلکہ اس کی آڑ میں فوجی اداروں میں گھسنا و سرکاری و سول املاک کو نقصان پہنچانا لوٹ مار کرنا، ملزمان و اکسانے والے رہنماؤں کے خلاف آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کاروائی و کورٹ مارشل پر منتج ہوسکتا ہے.

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس میں عدالتوں کا دائرہ ختم ہوجاتا ہے اور مزید براں حالات کی سنگینی کے تناظر میں وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول حکومت کی مدد کے لئے فوج کو طلب کرنا شہریوں کی زندگی کو اجیرن کرنا ایک سیاسی جماعت کی فسطائی ذہنیت و مکروہ عزائم کا باعث بناہے جو قابل مذمت عمل ہے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی معطلی کا خدشہ،جمہوری و سیاسی عمل بھی متاثر و انتخابات بروقت اکتوبر 2023 میں انعقاد بھی ممکن نہیں رہے گا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب بھی وقت ہے تحریک انصاف اپنے کئے پر پشیمانی ظاہر کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگے آئیندہ پُرامن سیاسی عمل کا حصہ بنے تاکہ ملک میں پارلیمانی و جمہوری و سیاسی نظام بلا تعطل جاری رہے عدالتوں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی بجائے میرٹ پر تقرریوں سپریم کورٹ سے جونئیر ججز جو واپس متعلقہ ہائی کورٹس میں بھیج کر سپریم کورٹ کے اپنے فیصلوں PLD 1996SC324,PLD 1998SC161&PLD 2009 SC 879 پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور سینارٹی کی بنیاد پر ھائی کورٹس کے ججوں کو سُپریم کورٹ میں ججوں کی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائےورنہ عنقریب سندھ میں بار کونسل کی آئینی درخواستوں کی طرزپرسُندھ ھائی کورٹ میں زیر التواء درخواستوں کو سامنے رکھتے ھوئے دیگر ھائی کورٹس میں بھی عدالتوں سے رجوع بھی کیا جاسکتا ہے.

  • عمران خان ضمانت کے وقت وہیل چیئر پر مگر اب خود چل کر عدالت پہنچے

    عمران خان ضمانت کے وقت وہیل چیئر پر مگر اب خود چل کر عدالت پہنچے

    عمران خان ضمانت کے وقت وہیل چیئر پر مگر اب خود چل کر عدالت آئے

    آپ کو یاد ہوگا کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان ضمانت یا پھر پیشی کیلئے عدالت وہیل چیئر پر پیش ہوتے رہے اور ٹانگ میں تکلیف کا بہانا بناتے تھے لیکن آج جب وہ عدالت پیش ہوئے تو خود اپنے پاؤں پر چل کر عدالت پیش ہوئے ہیں اور جب واپسی پر بھی وہ خود چل کر واپس جاتے ہوئے دکھائی دیئے ہیں.
    https://twitter.com/Aqibjaved000/status/1656651153265012737
    واضح رہے کہ عمران خان سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر خود چلتے ہوئے کمرہ عدالت تک پہنچے ہیں جبکہ سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیےگئے اور پولیس کی جانب سے عدالت کے باہر سے غیر متعلقہ گاڑیوں کو بھی ہٹادیا گیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا


    صحافی اجمل جامی نے اس بارے میں لکھا کہ "جب عمران خان کو گاڑی سے اتار کر کمرہ عدالت میں لایا گیا تو انکی باڈی لینگویج کیسی تھی۔۔؟ اینکر کا سوال، جی! عمران خان جب پیدل چل کر کمرہ عدالت گئے تو ان کی باڈی لینگویج نارمل لگ رہی تھی، انکے چہرے پر سمائل تھی۔ رپورٹر کا جواب”

    ایک اور صارف نے لکھا کہ "حیرت انگیز طور پر وہیل چیئر کا ڈھونگ رچانے والا عمران خان صرف ایک دن کی قید کے بعد ہی اپنے پیروں پر چل کر عدالت میں پہنچ گیا. یاد رہے کہ عدالت میں بھی جب عمران خان کو بلایا گیا تو وہ ادھر بھی خود چل کر روسٹرم پر پہنچ گئے.

  • پرویز الٰہی کی عبوری ضمانت خارج

    پرویز الٰہی کی عبوری ضمانت خارج

    انسداد دہشتگردی کی عدالت نے تحریک انصاف کے صدر پرویز الٰہی کی عبوری ضمانت خارج کردی، جس کے بعد پرویز الہیٰ کی گرفتاری کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں،

    لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پرویز الٰہی کے گھر چھاپے کے دوران پیٹرول بم پھینکنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوھدری پرویز الہی کی عبوری ضمانت خارج کر دی ،انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج نے عبوری ضمانت پر فیصلہ سنایا اور پرویز الٰہی کی ایک روزہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی مسترد کردی پرویز الٰہی کے خلاف تھانہ غالب مارکیٹ میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے

     خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    درخواست میں کہا گیا کہ غالب مارکیٹ پولیس نے پولیس پارٹی پر حملہ کرنے کا بے بنیاد الزام لگایا، پولیس پارٹی پر پیٹرول بم پھینکنے کے الزام بھی مقدمہ میں لگایا گیا،پولیس نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے جھوٹا مقدمہ درج کیا، گرفتاری کا خدشہ، مقدمہ میں شامل تفتیش ہونے کیلئے عبوری ضمانت دی جائے، اٹرائل کے حتمی فیصلے تک ضمانت قبل از گرفتاری بھی منظور کی جائے،

  • ن لیگ پارٹی سیکرٹریٹ میں توڑ پھوڑ،پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست

    ن لیگ پارٹی سیکرٹریٹ میں توڑ پھوڑ،پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست

    مسلم لیگ ن لاہور پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاون 180 ایچ میں توڑ پھوڑ کے مقدمہ کی درخواست درج کرا دی گئی

    مسلم لیگ ن کے رہنماء رانا محمد ارشد کی مدعیت میں تھانہ ماڈل ٹاون میں پی ٹی آئی رہنماوں سمیت 200 نامعلوم افراد کو اندارج مقدمہ کی درخواست میں نامزد کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے پارٹی سیکرٹریٹ توڑ پھوڑ کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنماء اعجاز چوہدری،ڈاکٹر یاسمین راشد،میاں اسلم اقبال،میاں محمودالرشید،شبیر گجر،سرفراز کھوکھر،شیخ امتیاز سمیت 200 افراد کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست درج کرائی گئی ہے۔

    ن لیگ کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے پتھراؤ، توڑ پھوڑ کی،ہوائی فائرنگ کی گئی،اتنی شدید تھی کہ علاقے بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا، پٹرول بم پھینکے گئے،واک تھرو گیٹ، جنریٹر، موٹر سائیکلیں انکو آگ لگا دی گئی،شیشے توڑ دیئے، فرنیچر باہر نکال کر جلا دیا گیا ،قیمتی اشیا اٹھا کر ساتھ لے گئے،فوج اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف نعرے لگاتے رہے،لیڈران جلاؤ گھیراؤ کی ترغیب دیتے رہے،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات
    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

  • گلگت ہاؤس میں روپوش اعجاز چودھری بھی گرفتار

    گلگت ہاؤس میں روپوش اعجاز چودھری بھی گرفتار

    تحریک انصاف کے رہنما اورسینیٹر اعجاز چودھری کو گلگت ہاﺅس اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا ہے

    اعجاز چودھری گلگت ہاﺅس اسلام آباد میں روپوش تھے تا ہم آج انکو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، پارٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اعجاز چودھری کو گرفتار کر لیا گیا ہے،تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، کئی رہنما روپوش ہو چکے ہیں اور اپنے فون نمبر بھی آف کر دیئے ہیں،علی امین گنڈا پور ڈیرہ گئے اور وہاں جا کر بھائیوں کے ہمراہ روپوش ہو گئے، پولیس کے سامنے تھریک انصاف کا جو بھی رہنما آ رہا ہے اسکو گرفتار کیا جا رہا ہے، تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف مقدمے قائم ہیں،

    تحریک انصاف کے رہنما علی محند خان کو بھی اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا ، علی محمد خان کو آبپارہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد سے پی ٹی آئی کی 3 خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، گرفتار خواتین رہنماﺅں میں مسرت جمشید چیمہ ،ملیکہ بخاری اورفلک ناز چترالی شامل ہیں پی ٹی آئی کے حراست میں لئے گئے رہنماﺅں میں شاہ محمود قریشی، اسدعمر، فواد چودھری اورجمشید اقبال چیمہ شامل ہیں علی زیدی کو بھی کراچی سے گرفتار کیا گیا ہے تحریک انصاف کے رہنما عمر سرفراز چیمہ کو گرفتار کر لیا گیا قاسم سوری کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا قاسم سوری کے بھائی بلال سوری کو گرفتار کرلیا گیا.

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کئی مقامات پر سڑکیں بند ہیں اور احتجاج جاری ہے، اسلام آباد میں دفاتر میں حاضری معمول کے مقابلے کم ہے تعلیمی اداروں میں آج بھی تعطیل ہے اسلام آباد پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شہر میں معمولات زندگی بحال ہیں اور شہریوں کی آمدورفت جاری ہے، شرپسندوں کے خلاف کاروائی جاری ہے جو بھی توڑ پھوڑ کرے گا وہ خود اسکا حساب بھگتے گا

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا