Baaghi TV

Tag: عدالت

  • عمران خان کی تین مئی تک عبوری ضمانت منظور

    عمران خان کی تین مئی تک عبوری ضمانت منظور

    افسران کیخلاف بغاوت پر اُکسانے کا کیس ،عمران خان کی تین مئی تک عبوری ضمانت منظور کر لی گئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی ایک لاکھ مچلکوں کی عوض ضمانت منظور کرلی ،عمران خان کی تھانہ رمنا میں درج غداری کے مقدمہ میں ضمانت منظورکی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عمران خان خود کہتے ہیں اب عدالت آئیں اور بعد میں کہتے ہیں سیکورٹی خدشات ہیں،وکیل عمران خان نے کہا کہ عدالت سے استدعا ہے تمام کیسز ایک ساتھ ہی رکھے جائیں،ایف ایٹ کچہری میں قتل بھی ہو گیا ادھر کیسے پیش ہوں،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عمران خان کی درخواست آتی ہے اور سماعت کیلئے مقرر ہو جاتی ہے، کسی اللہ دتہ کی درخواست کو بھی عمران خان کی طرح ٹریٹ کیا جانا چاہیے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کبھی ایسا ہوا کہ آپ کسی اللہ دتہ کیلئے پیش ہوئے ہوں؟

    سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ مئی میں عدالتوں کی منتقلی کا عمل ہوگا تو وقت چاہیے ہوگا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کی منتقلی کا مسئلہ ہمارا ہے آپکا نہیں ، عدالت نے فریقین کو نوٹسسز جاری کر دیئے،عدالت نےعمران خان کو شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کر دی،عدالت نےعمران خان کے وکلاء سے آئندہ سماعت پر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لئے،عدالت نے عمران خان کی 3 مئی تک حفاظتی ضمانت منظور کرلی

    قبل ازیں حریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنے پر عمران خان کی گاڑی کو احاطہ عدالت داخل ہونے سے روک دیا گیا، عمران خان کے ہمراہ پارٹی رہنما ،کارکنان بھی موجود تھے، عمران خان کے وکلا کی جانب سے عمران خان کی گاڑی کو عدالتی احاطے میں داخلےکی اجازت کے لیے درخواست دائرکردی گئی ، جس میں کہا گیا کہ عمران خان سابق وزیر اعظم ہیں ان کی جان کو خطرات ہیں ان کی گاڑی کو عدالتی احاطےمیں داخلےکی اجازت دی جائے، عمران خان کی گاڑی کو اندر جانے کی اجازت نہیں ملی جس کے بعد عمران خان پیدل عدالت گئے، اس موقع پر عمران خان کے گرد اہلکاروں نے حفاظتی شیلڈ اٹھا رکھی تھیں

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

  • نگران حکومت کو بھی کام کرنے سے روکا نہیں جا سکتا،عدالت

    نگران حکومت کو بھی کام کرنے سے روکا نہیں جا سکتا،عدالت

    عمران خان سمیت پی ٹی آٸی رہنماوں کے خلاف جے آٸی ٹی کی تشکیل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،

    ہاٸیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،درخواستیں فواد چوہدری اور مسرت جمشید چیمہ کی جانب سے داٸر کی گٸی ہیں ،ہوم سیکرٹری کی جانب سے تاحال جواب جمع نہیں کروایا جا سکا ، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہوم سیکرٹری کا جواب کیوں نہیں آیا کیس کیسے آگے چلے گا ، سرکاری وکیل نے کہا کہ ہوم سیکرٹری کا جواب کچھ دیر میں جمع کروا دیا جاٸے گا ، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جو لوگ ہماری درخواست میں ملزم ہیں وہی جے آٸی ٹی تشکیل دے رہے ہیں ،بدنیتی سے دفعہ 144 نافذ کی گٸی ، جب یہ معاملہ عدالت میں آیا تو پھر انہوں نے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی ،ہنگامہ آراٸی تشدد اور جنگ کا سماں بنانے کے دفعہ 144 اٹھا لی گٸی ،یہ مسلسل قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ،یہ پورا معاملہ پراسیکیوشن کے تحت آتا ہے کہ آیا یہ کیسز بنتے بھی ہیں یا نہیں ،پنجاب حکومت نے پراسیکیوٹر جنرل کو اس کیس میں پیش ہونے سے روک دیا جو بنیتی ظاہر کرتا ہے ، پنجاب حکومت نے غیر قانونی طور پر سارا کام کیا ،جب عدالت نے نوٹس لیا تو پھر انہوں نے جلدبازی میں دستاویزات تیار کیے ، آٸی جی نے جو لیٹر لکھا اس میں کہا گیا کہ سی سی پی او کی درخواست پر جے آٸی ٹی بناٸی جاٸے، سی سی پی او ہماری درخواست میں ملزم ہیں وہ کیسے یہ درخواست کر سکتے ہیں نگران حکومت نے شفاف اور پرامن انتخابات کروانے ہیں ، نگران حکومت نے امن خود خراب کیا ایک بندہ قتل ہوا درجنوں زخمی ہوٸے ،

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ جب وارنٹ آٸے تو اس کے بعد کیا ہوا ، سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ معاملہ وفاق کا ہے کیونکہ وہاں نے وارنٹ جاری ہوٸے ، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب وارنٹ پنجاب پہنچے تو پھر آپ کی ذمہ داری بنتی ہے ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا قانون کو مکمل طور پر فالو کیا گیا یا نہیں ، وارنٹ ایشو ہونے کے بعد جو کاررواٸی ہوٸی اس کی روشنی میں دیکھنا ہے کہ دشت گردی کی دفعات لاگو ہوتی ہیں یا نہیں ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک تفتیش جواٸن نہیں کی ، سکندر ذوالقرنین نے کہا کہ ہم تفتیش روکنے یا تبدیل کرنے کا تو کہہ ہی نہیں رہے ، ان کی بدنیتی ہے کہ غیر قانونی طریقے سے جے آٸی ٹی بناٸی ،

    عدالت نے کہا کہ نگران حکومت کو بھی کام کرنے سے روکا نہیں جا سکتا ،اگر بدنیتی یا قانون کی خلاف ورزی نہ ہو تو عدالت مداخلت نہیں کرتی ، یہ حکومت کا اختیار ہے کہ وہ جے آٸی ٹی بناٸے ،ہم نے عدالت نے سامنے قانون کی خلاف ورزی اور بدنیتی کے شواہد رکھ دیے ،عدالت نے سماعت منگل تک ملتوی کر دی ،عدالت نے اسلام آباد سے جاری وارنٹ گرفتاری کے بعد کی کاررواٸی کی دستاویزات طلب کر لیں

  • آئین شکنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، امان اللہ کنرانی

    آئین شکنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسی یشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ  قومی اسمبلی کو آئین سے ماورا توڑنے کو جسٹس یحی آفریدی صاحب نے آرٹیکل 6 کی کاروائی کا بھی حکم دیا تھا GOP Sedition کا مقدمہ درج کرکے فوجداری مقدمات کا تجربہ رکھنے والے SCP Retd جسٹس دوست محمد پرمشتمل خصوصی ٹریبونل تشکیل دے کر آئین شکنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے عمران خان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے

    امان اللہ کنرانی نے نے ڈاکٹر دانش کی ٹویٹ پر تبصرہ کیا، جس میں ڈاکٹر دانش نے کہا تھا کہ آج عمران خان، اسد قیصر،عارف علوی جس آئین کا بار بار حوالہ دے رہے ہیں اسی آئین پاکستان کی آئین شکنی کے یہ لوگ مرتکب ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر آئین شکن کہا،

    عام انتخابات 2018؛ ثاقب نثار کے دباؤ پر عُجلت میں کرائے گئے تھے. امان اللہ کنرانی

    سینارٹی کے اصولوں سے ماورا 6 ججز کیخلاف موثر تحریک چلائی جائے. امان اللہ کنرانی

    اسٹیٹ بینک کو فنڈز کی فراہمی کا حکم پارلیمنٹ کی خود مُختاری کو روندنا ہے. امان اللہ کنرانی

    مرضی کے فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    قانون سازی پر عجلت سے نوٹس لینا قابل مذمت ہے. امان اللہ کنرانی

    فائز عیسیٰ کا گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ آنا لائق تحسین ہے. امان اللہ کنرانی

    چھ رکنی بینچ کا فیصلہ عدالتی بغاوت، بغض و عناد سے بھرپور ہے، امان اللہ کنرانی

  • دو مرتبہ وزیراعلیٰ رہا، ماضی کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے،پرویز الٰہی

    دو مرتبہ وزیراعلیٰ رہا، ماضی کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے،پرویز الٰہی

    اینٹی کرپشن عدالت میں چوہدری پرویز الٰہی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    پرویز الہی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا، پرویز الٰہی کی ساڑھے بارہ کروڑ روپے رشوت کیس میں درخواست ضمانت کیس میں پرویز الہی خود عدالت میں پیش ہوئے، وکیل پرویز الہی نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی پرویز الٰہی کے خلاف درج مقدمہ خارج کر دیا تھا،مخالفین پر مقدمات کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے،ایک مقدمہ میں ضمانت کرواتے ہیں دوسرا درج کر دیا جاتا ہے،ان مقدمات میں سزا ہوتی ہے جن میں مجسٹریٹ گواہی دے کہ اس نے گفتگو سنی اور رقم لین دین دیکھا ،دو مرتبہ وزیر اعلیٰ رہا ہوں،اب تک کوئی ایسا کیس نہیں جس میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہو،میرے ماضی کو دیکھتے ہوئے دلائل پر فیصلہ کیا جائے،

    وکیل ایف آئی اے نے عدالت میں کہا کہ ملزم کو تحقیقات میں شامل ہونا ضروری ہوتا ہے ابھی تک یہ تحقیقات میں پیش نہیں ہوئے اس کیس کے حوالے سے ناقابل تردید ثبوت ہیں،عدالت نے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، ،اینٹی کرپشن کورٹ کے جج علی رضا نے سماعت کی ،پرویز الٰہی پر ایل ڈبلیو ایم سی غیر ملکی کمپنی کے معاہدہ میں رشوت کا الزام ہے دو ارب نوے کروڑ کی ادائیگی کے عوض ساڑھے بارہ کروڑ رشوت کا الزام ہے مقدمہ میں محمد خان بھٹی اور مونس الٰہی شریک ملزمان ہیں

    عدالت پیشی کے موقع پر پرویز الہی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ شریف خاندان کی ہسٹری ہے کوئی عقل کا کام نہیں کیاانہوں نے آٹا تقسیم نہیں کیا ہر جگہ اموات تقسیم کیں ،نگران حکومت کے پی اور پنجاب میں ن لیگ کی مشاورت سے بنی ن لیگ کی سوچ صرف انتقامی سیاست کی ہے عوام کی فلاح نہیں میں جب اقتدارِ میں رہا انکے خلاف ایک کیس بھی نہیں بنایا گران حکومت دو ماہ کے لیے آئی مقدمات کی بھر مار کردی میں نے رانا ثناءاللہ کو آموں کا تحفہ دیا تھا ہمارا تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ درست تھا استقاق کمیٹی نا ججز کو بلوا سکتی ہے نا انکے معاملات کو زیر بحث لاسکتی ہے

    پرویز الہی کیلئے لڑکیوں کی سپلائی، شراب کی بوتلیں، اہم ثبوت مل گئے،ا

     پرویز الہیٰ عمران خان سمیت تحریک انصاف پر برس پڑے

     پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ کی آڈیو لیک

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

  • انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی، مناسب حکم جاری کریں گے، چیف جسٹس

    انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی، مناسب حکم جاری کریں گے، چیف جسٹس

    انتخابات کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی عدالت میں موجود تھے، بیرسٹر علی ظفر بھی عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل! ہمیں آپ کا اعتماد چاہئے، ‏شاہ محمود قریشی نے روسٹرم پر آنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قریشی صاحب! آپ بیٹھ جائیں،آپ کو سنتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل آپ یہ ذہن میں رکھیں کہ ایک تاریخ جو ہم نے دی ہے اس پر ایک پارٹی کے علاوہ سب متفق ہیں مذاکرات کرانا آپ کا کام ہے،ہم اس پر کوئی وضاحت نہیں چاہتے، ہم یہاں پر اس لئے ہیں کہ آپ ہمیں اس کا حل نکال کر بتائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کے لئے وقت دیں، 19 اپریل کو حکومت اوڑ اپوزیشن میں پہلا رابطہ ہوا،26 اپریل کو ملاقات پر اتفاق ہوا تھا، 25 اپریل کو ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق کی اسد قیصر سے ملاقات ہوئی،اسد قیصر نے بتایا کہ وہ مذاکرات کیلئے با اختیار نہیں ہیں،گزشتہ روزحکومتی اتحاد کی ملاقاتیں ہوئیں، دو جماعتوں کو مذاکرات پر اعتراض تھا لیکن راستہ نکالا گیا، چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالا میں حکومت اور اپوزیشن کو خطوط لکھے ہیں،چیئرمین سینیٹ نے حکومت اور اپوزیشن سے چار چار نام مانگے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسد قیصرکے بعد کیا کوشش کی گئی کہ کون مذاکرات کیلئے با اختیار ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ منگل کو میڈیا سے معلوم ہوا کہ شاہ محمود قریشی مذاکرات کیلئے با اختیار ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو کس حیثیت سے رابطہ کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سینیٹ وفاقی کی علامت ہے اس لیے چیئرمین سینیٹ کو کہا گیا، چیئرمین سینیٹ نے مذاکرات کا عمل شروع کیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فاروق نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 19 اپریل کو چیمبر میں آپ سے ملاقات ہوئی ، ہمارے ایک ساتھی کی عدم دستیابی کے باعث چار بجے سماعت نہیں ہوئی تھی ، فاروق نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ سہولت کاری کریں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نہ حکومت کے نمائندے ہیں نہ اپوزیشن کے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینٹ اجلاس بلائیں گے اس میں بھی وقت لگے گا ، فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ تمام حکومتی اتحادی جماعتیں پی ٹی آئی سے مذاکرات پر آمادہ ہیں،سینٹ واحد ادارہ ہے جہاں تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے، ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت صرف آئین پر عمل چاہتی ہے تا کہ تنازعات کا حل نکلے، عدالت کو کوئی وضاحت نہیں چاہیئے صرف حل بتائیں،

    شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ‏پی ڈی ایم میں مذاکرات کے معاملے پر اختلافات ہیں،انگریزی نہیں اردو میں بات کروں گا، اس وقت تک جب میں عدالت میں کھڑا ہوں، پی ڈی ایم نے مذاکرات کے لئے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، حکومت کے اسرار پر عدالت نے سیاسی اتفاق رائے کے لیے موقع دیا تھا۔ تمام جماعتوں کی سیاسی قیادت عدالت میں پیش ہوئی تھی،پی ڈی ایم میں آج بھی مزاکرات پر اتفاق رائے نہیں ہے۔عدالتی حکم کو پی ٹی آئی نے سنجیدگی سے لیا ،سپریم کورٹ کا 14 مئی کا فیصلہ حتمی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے صرف سینیٹرز کے نام مانگے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینٹ کا کردار صرف سہولت فراہم کرنا ہے۔مذاکرات سیاسی جماعتوں کمیٹیوں نے ہی کرنے ہیںسیاسی ایشو ہے اس لیے سیاسی قائدین کو ہی مسئلہ حل کرنے دیا جائے۔ سیاست کا مستقبل سیاستدانوں کو ہی طے کرنے دیا جائے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مذاکرات میں نیک نیتی دکھانے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ لگتا ہے حکومت صرف پاس پاس کھیل رہی ہے، ہم آئین سے ہٹ کر کچھ نہیں کر سکتے، شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ پارلیمان میں کہا گیا کہ ججز کو استحقاق کمیٹی میں بلایا جائیگا ،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سیاسی باتیں نہ کریں،ان کو چھوڑ دیں،ان سے پوچھتے ہیں کہ یہ اب کیا چاہتے ہیں،عوام کی فلاح وبہبود اور ان کے ووٹ کے حق کے لئے کسی حل پر پہنچتے ہیں تو بہتر ہے، اگر کسی حل پر نہیں پہنچتے تو جیسا چل رہا ہے ویسے چلے گا،شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ عدالت نے موقع دیا، ہم نے اتفاق رائے کیلئے ایک صفحے پر جواب تیار کیا، وہ میڈیا کو نہیں دوں گا، عدالت چاہے تو اُسے دے دوں گا، سینٹ کمیٹی صرف تاخیری حربہ ہے ، قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر رولز کی خلاف ورزی کی گئی ، دھرنے کے دوران کہا تھا پارلیمان میرا سیاسی کعبہ ہے، زیر سماعت معاملے کو پارلیمان میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا، پارلیمان میں دھمکی آمیز لہجے اور زبان سن کر شرمندگی ہوئی،

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مذاکرات کے لئے ایک ماحول بنانا پڑتا ہے،ایسی باتیں نہ کی جائیں جس سے ماحول خراب ہوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کام میں صبر اور تحمل چاہئے،اِن کو بھی یہی تلقین کرینگے کہ صبر و تحمل ہو،گزشتہ سماعت پر یہ اتفاق رائے ہوا تھا کہ ایک دن الیکشن ہوں،مذاکرات کے معاملے میں صبر اور تحمل سے کام لینا ہوگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو سینیٹ نے مذاکرات پر آمادہ کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا کوئی حکم نہیں صرف تجویز ہے،تحریک انصاف والے چاہتے ہیں آج ہی مذاکرات ہوں ، ہم نے حکومت کو دیکھنا ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے کیا کر رہی ہے، مذاکرات کیلئے نام دینے میں کیا سائنس ہے؟ کیا حکومت نے اپنے 5 نام دئیے ہیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہے تو 3 نام دے دے،پانچ لازمی دیں ،حکومت کے نام تین چار گھنٹے میں فائنل ہو جائیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج توقع تھی کہ دونوں فریقین کی ملاقات ہوگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ دونوں کمیٹیوں کی آج پہلی ملاقات ہوجائے،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ دونوں فریقین متفق تو حل نکل آئے گا، فواد چودھری ے کہا کہ سپریم کورٹ بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتی،سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں ملنا چاہیے،ایسے ہوا تو کوئی بھی حکومت الیکشن کیلئے فنڈز جاری نہیں کرے گی، پارلیمان اور عدالت نہیں سپریم صرف آئین ہے، سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتا،

    کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب حکم جاری کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب کو علم ہے آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، خدا کے واسطے آئین کے لئے اکٹھے بیٹھ جائیں،ہم اس کے بعد ایک آرڈر جاری کرینگے، عدالت کوئی ٹائم لائن نہیں دے گی، مناسب حکم جاری کریں گے،

    پاکستان تحریک انصاف کے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان شاہ محمود قریشی ، فواد چوہدری اور بیرسٹر علی ظفر سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں، اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم مزاکرات کے لیے ہر طرح سے تیار ہیں، یہ لوگ مزاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آرہے یہ عوام سے بھاگے ہوئے لوگ ہیں ،سینٹ کمیٹی کو تحریک انصاف نے مسترد کردیا ہے یہ معاملہ سینیٹ کا نہیں ہے اسلیئے ہمارا واضح موقف ہے کہ آج سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی وہ دیکھنا ہے۔

    اس موقع پر سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کیس: سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ آج ساڑھے 11 بجے سماعت کرے گا۔ سماعت سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے اٹارنی جنرل کی ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے اٹارنی جنرل کو اہم ہدایات جاری کیں، اٹارنی جنرل عدالت میں حکومتی موقف پیش کریں گے،

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی کی تجویز مسترد کر دی ہے ، میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کے مطابق انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کرنے کی تجویز گزشتہ روز کابینہ اجلاس میں اٹارنی جنرل نے دی تھی کابینہ کی رائے میں نظرثانی دائر کرنے کا مطلب فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا نظرثانی دائر کردی تو یہ فیصلہ 3-4 کا ہونے کے موقف کی نفی ہوگی ذرائع نے بتایا کہ کابینہ ارکان کی رائے کے مطابق اکثریتی فیصلے میں انتخابات کا حکم ہی نہیں تو نظرثانی کس بات کی؟

    علاوہ اذیں سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون 2023 کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ،درخواست میں وفاقی حکومت، اسپیکر قومی اسمبلی، وزیر قانون، وزیراعظم اور صدر کے پرنسپل سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست تحریک انصاف کے وکیل ایڈووکیٹ اظہرصدیق کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے ، دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون غیرآئینی و غیر قانونی ہے درخواست میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کوعدالتی فیصلہ تک معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کو گزٹ نوٹیفکیشن کے لئے قانون پر دستخط سے روکا جائے، قانون کو کالعدم قراردیا جائے ،

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

    تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ،یہ لوگ زاتی مفادات کے لیئے عدالتوں پر حملہ آور ہیں آج توہین عدالت کی کاروائی شروع نہیں ہوئی تو بہت حیران کن بات ہوگیعمران خان کے خوف سے یہ لوگ انتخابات سے بھاگ رہے ہیں کل اسمبلی میں غیر آئینی اجلاس ہوا

    واضح رہے کہ چار اپریل کو تین رکنی بینچ نے حکومت کو 27 اپریل تک انتخابات کے لیے 21 ارب روپےکے فنڈز فراہم کرنےکی رپورٹ جمع کرانےکا حکم دیا تھا الیکشن کے لیے 21 ارب روپے جاری کرنے کی تیسری مہلت بھی گزر گئی، سپریم کورٹ نے حکومت سے فنڈز جاری کرنےکی رپورٹ آج طلب کر رکھی ہے

  • توشہ خانہ کیس، جج کا تبادلہ، اب کریں گے دوسرے جج سماعت

    توشہ خانہ کیس، جج کا تبادلہ، اب کریں گے دوسرے جج سماعت

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت کے لئے نیا جج مقرر کر دیا گیا ہے

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کررہے تھے تا ہم اب کیس کو ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا ہے، عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت اب نئے جج کریں گے، ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت 29 اپریل کو ہو گی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج ظفراقبال کا تبادلہ ایسٹ زون کردیا گیا ، ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کا ٹرانسفر صنفی تشدد عدالت سے ویسٹ میں کردیا گیا ہے ،

    دوسری جانب عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں نیب کی طلبی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا عمران خان کی جانب سے نیب میں طلبی کے نوٹس غیرقانونی قرار دینےکی استدعا کی گئی ہے عمران خان نے کیس کا فیصلہ آنے تک نیب کو تادیبی کاروائی سے روکنے کی استدعا بھی کی ہے عمران خان نے درخواست کی ہے کہ نیب کے 16 فروری اور17 مارچ کے نوٹس غیرقانونی قرار دیے جائیں، درخواست پر فیصلہ آنے تک انکوائری کو انویسٹیگیشن میں تبدیل کرنے سے روکا جائے۔

  • جلاﺅ گھیراﺅ، پولیس پر تشدد کیس، پی ٹی آئی رہنما عدالت پیش

    جلاﺅ گھیراﺅ، پولیس پر تشدد کیس، پی ٹی آئی رہنما عدالت پیش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں جلاﺅ گھیراﺅ اور پولیس پر تشدد مقدمہ کیس کی سماعت ہوئی،

    انسداد دہشتگردی عدالت کی جج عبہر گل نے کیس کی سماعت کی ،تحریک انصاف کے رہنماؤن یاسمین راشد، اسد عمر، عمیر نیازی، مسرت چیمہ، فرخ حبیب نے حاضری مکمل کرائی،جے آئی ٹی کے سربراہ آفتاب پھلروان بھی عدالت میں پیش ہوئے،جج انسداد دہشتگردی عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیش میں کیا پراگرس ہے؟ سربراہ جے آئی ٹی نے عدالت میں کہا کہ فرخ حبیب ، مسرت چیمہ نے تفتیش جوائن نہیں کی، وکیل مسرت چیمہ نے کہا کہ ہم نے جے آئی ٹی کو چیلنج کیا ہوا ہے،جج عبہر گل نے کہا کہ اگر جے آئی ٹی ختم بھی ہو جاتی ہے تو بیان تو ریکارڈ کرانا ہے ،عدالت نے اسد عمر، فرخ حبیب اوردیگر کی عبوری ضمانت میں 6 مئی تک توسیع کرتے ہوئے کہا کہ 6 مئی کو کیس سن کے فیصلہ کریں گے عدالت نے مسرت چیمہ اور فرخ حبیب کو آج ہی شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کردی

    عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سے جعلی قراردادیں منظور کی جارہی ہیں،ن اورش کی لڑائی اتنی بڑھ چکی، لگتا ہے شہبازشریف کو نااہل کروانا چاہتے ہیں یہ شکست کے خوف سے انتخابات سے بھاگ رہے ہیں،سپریم کورٹ کے فیصلے پر اگر عمل نہ ہوا تو سڑکوں پر فیصلے ہوں گے اگر اب یہ الیکشن نہیں کرواتے تو پھر کبھی الیکشن نہیں ہوں گے ،آئین کو پاﺅں تلے روندنے کی اجازت نہیں دیں گے

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

  • عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کی تفصیل عدالت میں پیش

    عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کی تفصیل عدالت میں پیش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کی تفصیل عدالت میں پیش کردی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے کیسز کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی ،عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج کیسز کی تفصیل عدالت میں پیش کر دی گئی ،عدالت میں پیش کی گئی سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کیخلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کی تعداد 29 ہے ، سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت کے حکم پر کیس کی تفصل عمران خان کو فراہم کردی گئی ہے

    عدالت کی جانب سے عمران خان کی درخواست نمٹا دی گئی عدالت نے عمران خان کو اپنے خلاف درج کیسز سے متعلق متعلقہ فورم پر رجوع کرنے کی ہدایت کردی.

    عمران خان نے مقدمات کی تفصیل کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں بھی ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، وزارت قانون، دفاع، سیکرٹری کیبنیٹ ڈویژن، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، اینٹی کرپشن، نیب، ایف آئی اے، وزیر اعظم، پیمرا اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں مجھ پر 121 ایف آئی آر درج کی گئیں، مقدمات کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں درج کیےگئے ہیں، نگران صوبائی حکومت کی جانب سے انتقامی کاروائیاں کی گئی ہیں تحریک انصاف کے سپورٹرز اوررہنماؤں کو نظربند اور گرفتار کیا جا رہا ہے- درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ درخواست کےفیصلے تک عدالت درج مقدمات میں کارروائی روکنےکا حکم دے پہلے سے درج مقدمات میں تادیبی کارروائی سے روکا جائے، عدالت بغیرنوٹس فوجداری کارروائی کرنے سے روکنےکا حکم جاری کرے۔

    جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

  • نظر ثانی شدہ کاز لسٹ جاری،چیف جسٹس عمرعطا بندیال کل کریں گے سماعت

    نظر ثانی شدہ کاز لسٹ جاری،چیف جسٹس عمرعطا بندیال کل کریں گے سماعت

    سپریم کورٹ: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کل کیسوں کی سماعت کریں گے

    سپریم کورٹ کی جانب سے نظر ثانی شدہ کاز لسٹ جاری کر دی گئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کل گیارہ بجے تک روٹین کیسوں کی سماعت کرے گا ،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ کل اہم کیس کی سماعت کرے گا ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کل دن ساڑھے گیارہ بجے ہوگی، آج چیف جسٹس کی عمرعطا بندیال کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ سماعت نہیں کر سکے تھے،

     زمان پارک پر ایک بار پھر پولیس آپریشن کا خدشہ

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    سپریم کورٹ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کا بینچ چیف جسٹس کے عدم دستیابی کے باعث ملتوی کیا گیا، چیف جسٹس خرابی صحت کے باعث آج سپر یم کورٹ نہیں آئے۔۔ باخبرزرائع کے مطابق ڈاکٹر نے چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر انکا طبی معائنہ کیا اور انہیں آرام کرنے کی ہدایت کی، جس کی وجہ سے آج کی کاز لسٹ منسوخ کی گئی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بخار ہے اور اپنی رہائشگاہ پر ہیں

  • لاہور ہائیکورٹ، تحریک انصاف کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا

    لاہور ہائیکورٹ، تحریک انصاف کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا

    لاہور ہائیکورٹ، تحریک انصاف کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا ،

    وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے تقرر وتبادلوں پر پابندی عائد کردی ہے،نگران حکومت پنجاب کو ہر تبادلے کے لئے مشاورت کرنے اور جواز بتانے کا پابند بنا دیا گیا۔الیکشن کمیشن نے حکومت پنجاب کو تقرروتبادلے کرنے کا جاری نوٹیفیکیشن واپس لے لیا۔عدالت نے نگران حکومت پنجاب کو تقرر و تبادلوں کا اختیارات دینے کےخلاف پی ٹی آئی کی درخواست نمٹا دی

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    عدالت نے نے الیکشن کمیشن کے جواب کی روشنی میں درخواست نمٹائی ،جسٹس طارق سلیم شیخ نے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایک ہی نوٹیفیکیشن کےذریعے الیکشن کمیشن نے نگران حکومت پنجاب کو تقروتبادلوں کا مکمل اختیار دے دیا۔ الیکشن کمیشن کا اقدام الیکشن ایکٹ اور ملکی قوانین اور عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔ تقروتبادلوں کے لئے قانونی جواز ہونا آئینی اور قانونی تقاضا ہے۔نگران حکومت پنجاب کو سیاسی مفادات کے لئے تقروتبادلوں کے مکمل اختیارات دیئے گئے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے تقروتبادلوں کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے ۔