Baaghi TV

Tag: عدالت

  • دو مرتبہ وزیراعلیٰ رہا، ماضی کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے،پرویز الٰہی

    دو مرتبہ وزیراعلیٰ رہا، ماضی کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے،پرویز الٰہی

    اینٹی کرپشن عدالت میں چوہدری پرویز الٰہی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    پرویز الہی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا، پرویز الٰہی کی ساڑھے بارہ کروڑ روپے رشوت کیس میں درخواست ضمانت کیس میں پرویز الہی خود عدالت میں پیش ہوئے، وکیل پرویز الہی نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی پرویز الٰہی کے خلاف درج مقدمہ خارج کر دیا تھا،مخالفین پر مقدمات کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے،ایک مقدمہ میں ضمانت کرواتے ہیں دوسرا درج کر دیا جاتا ہے،ان مقدمات میں سزا ہوتی ہے جن میں مجسٹریٹ گواہی دے کہ اس نے گفتگو سنی اور رقم لین دین دیکھا ،دو مرتبہ وزیر اعلیٰ رہا ہوں،اب تک کوئی ایسا کیس نہیں جس میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہو،میرے ماضی کو دیکھتے ہوئے دلائل پر فیصلہ کیا جائے،

    وکیل ایف آئی اے نے عدالت میں کہا کہ ملزم کو تحقیقات میں شامل ہونا ضروری ہوتا ہے ابھی تک یہ تحقیقات میں پیش نہیں ہوئے اس کیس کے حوالے سے ناقابل تردید ثبوت ہیں،عدالت نے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، ،اینٹی کرپشن کورٹ کے جج علی رضا نے سماعت کی ،پرویز الٰہی پر ایل ڈبلیو ایم سی غیر ملکی کمپنی کے معاہدہ میں رشوت کا الزام ہے دو ارب نوے کروڑ کی ادائیگی کے عوض ساڑھے بارہ کروڑ رشوت کا الزام ہے مقدمہ میں محمد خان بھٹی اور مونس الٰہی شریک ملزمان ہیں

    عدالت پیشی کے موقع پر پرویز الہی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ شریف خاندان کی ہسٹری ہے کوئی عقل کا کام نہیں کیاانہوں نے آٹا تقسیم نہیں کیا ہر جگہ اموات تقسیم کیں ،نگران حکومت کے پی اور پنجاب میں ن لیگ کی مشاورت سے بنی ن لیگ کی سوچ صرف انتقامی سیاست کی ہے عوام کی فلاح نہیں میں جب اقتدارِ میں رہا انکے خلاف ایک کیس بھی نہیں بنایا گران حکومت دو ماہ کے لیے آئی مقدمات کی بھر مار کردی میں نے رانا ثناءاللہ کو آموں کا تحفہ دیا تھا ہمارا تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ درست تھا استقاق کمیٹی نا ججز کو بلوا سکتی ہے نا انکے معاملات کو زیر بحث لاسکتی ہے

    پرویز الہی کیلئے لڑکیوں کی سپلائی، شراب کی بوتلیں، اہم ثبوت مل گئے،ا

     پرویز الہیٰ عمران خان سمیت تحریک انصاف پر برس پڑے

     پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ کی آڈیو لیک

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

  • انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی، مناسب حکم جاری کریں گے، چیف جسٹس

    انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی، مناسب حکم جاری کریں گے، چیف جسٹس

    انتخابات کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی عدالت میں موجود تھے، بیرسٹر علی ظفر بھی عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل! ہمیں آپ کا اعتماد چاہئے، ‏شاہ محمود قریشی نے روسٹرم پر آنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قریشی صاحب! آپ بیٹھ جائیں،آپ کو سنتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل آپ یہ ذہن میں رکھیں کہ ایک تاریخ جو ہم نے دی ہے اس پر ایک پارٹی کے علاوہ سب متفق ہیں مذاکرات کرانا آپ کا کام ہے،ہم اس پر کوئی وضاحت نہیں چاہتے، ہم یہاں پر اس لئے ہیں کہ آپ ہمیں اس کا حل نکال کر بتائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کے لئے وقت دیں، 19 اپریل کو حکومت اوڑ اپوزیشن میں پہلا رابطہ ہوا،26 اپریل کو ملاقات پر اتفاق ہوا تھا، 25 اپریل کو ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق کی اسد قیصر سے ملاقات ہوئی،اسد قیصر نے بتایا کہ وہ مذاکرات کیلئے با اختیار نہیں ہیں،گزشتہ روزحکومتی اتحاد کی ملاقاتیں ہوئیں، دو جماعتوں کو مذاکرات پر اعتراض تھا لیکن راستہ نکالا گیا، چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالا میں حکومت اور اپوزیشن کو خطوط لکھے ہیں،چیئرمین سینیٹ نے حکومت اور اپوزیشن سے چار چار نام مانگے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسد قیصرکے بعد کیا کوشش کی گئی کہ کون مذاکرات کیلئے با اختیار ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ منگل کو میڈیا سے معلوم ہوا کہ شاہ محمود قریشی مذاکرات کیلئے با اختیار ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو کس حیثیت سے رابطہ کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سینیٹ وفاقی کی علامت ہے اس لیے چیئرمین سینیٹ کو کہا گیا، چیئرمین سینیٹ نے مذاکرات کا عمل شروع کیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فاروق نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 19 اپریل کو چیمبر میں آپ سے ملاقات ہوئی ، ہمارے ایک ساتھی کی عدم دستیابی کے باعث چار بجے سماعت نہیں ہوئی تھی ، فاروق نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ سہولت کاری کریں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نہ حکومت کے نمائندے ہیں نہ اپوزیشن کے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینٹ اجلاس بلائیں گے اس میں بھی وقت لگے گا ، فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ تمام حکومتی اتحادی جماعتیں پی ٹی آئی سے مذاکرات پر آمادہ ہیں،سینٹ واحد ادارہ ہے جہاں تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے، ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت صرف آئین پر عمل چاہتی ہے تا کہ تنازعات کا حل نکلے، عدالت کو کوئی وضاحت نہیں چاہیئے صرف حل بتائیں،

    شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ‏پی ڈی ایم میں مذاکرات کے معاملے پر اختلافات ہیں،انگریزی نہیں اردو میں بات کروں گا، اس وقت تک جب میں عدالت میں کھڑا ہوں، پی ڈی ایم نے مذاکرات کے لئے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، حکومت کے اسرار پر عدالت نے سیاسی اتفاق رائے کے لیے موقع دیا تھا۔ تمام جماعتوں کی سیاسی قیادت عدالت میں پیش ہوئی تھی،پی ڈی ایم میں آج بھی مزاکرات پر اتفاق رائے نہیں ہے۔عدالتی حکم کو پی ٹی آئی نے سنجیدگی سے لیا ،سپریم کورٹ کا 14 مئی کا فیصلہ حتمی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے صرف سینیٹرز کے نام مانگے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینٹ کا کردار صرف سہولت فراہم کرنا ہے۔مذاکرات سیاسی جماعتوں کمیٹیوں نے ہی کرنے ہیںسیاسی ایشو ہے اس لیے سیاسی قائدین کو ہی مسئلہ حل کرنے دیا جائے۔ سیاست کا مستقبل سیاستدانوں کو ہی طے کرنے دیا جائے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مذاکرات میں نیک نیتی دکھانے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ لگتا ہے حکومت صرف پاس پاس کھیل رہی ہے، ہم آئین سے ہٹ کر کچھ نہیں کر سکتے، شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ پارلیمان میں کہا گیا کہ ججز کو استحقاق کمیٹی میں بلایا جائیگا ،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سیاسی باتیں نہ کریں،ان کو چھوڑ دیں،ان سے پوچھتے ہیں کہ یہ اب کیا چاہتے ہیں،عوام کی فلاح وبہبود اور ان کے ووٹ کے حق کے لئے کسی حل پر پہنچتے ہیں تو بہتر ہے، اگر کسی حل پر نہیں پہنچتے تو جیسا چل رہا ہے ویسے چلے گا،شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ عدالت نے موقع دیا، ہم نے اتفاق رائے کیلئے ایک صفحے پر جواب تیار کیا، وہ میڈیا کو نہیں دوں گا، عدالت چاہے تو اُسے دے دوں گا، سینٹ کمیٹی صرف تاخیری حربہ ہے ، قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر رولز کی خلاف ورزی کی گئی ، دھرنے کے دوران کہا تھا پارلیمان میرا سیاسی کعبہ ہے، زیر سماعت معاملے کو پارلیمان میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا، پارلیمان میں دھمکی آمیز لہجے اور زبان سن کر شرمندگی ہوئی،

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مذاکرات کے لئے ایک ماحول بنانا پڑتا ہے،ایسی باتیں نہ کی جائیں جس سے ماحول خراب ہوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کام میں صبر اور تحمل چاہئے،اِن کو بھی یہی تلقین کرینگے کہ صبر و تحمل ہو،گزشتہ سماعت پر یہ اتفاق رائے ہوا تھا کہ ایک دن الیکشن ہوں،مذاکرات کے معاملے میں صبر اور تحمل سے کام لینا ہوگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو سینیٹ نے مذاکرات پر آمادہ کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا کوئی حکم نہیں صرف تجویز ہے،تحریک انصاف والے چاہتے ہیں آج ہی مذاکرات ہوں ، ہم نے حکومت کو دیکھنا ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے کیا کر رہی ہے، مذاکرات کیلئے نام دینے میں کیا سائنس ہے؟ کیا حکومت نے اپنے 5 نام دئیے ہیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہے تو 3 نام دے دے،پانچ لازمی دیں ،حکومت کے نام تین چار گھنٹے میں فائنل ہو جائیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج توقع تھی کہ دونوں فریقین کی ملاقات ہوگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ دونوں کمیٹیوں کی آج پہلی ملاقات ہوجائے،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ دونوں فریقین متفق تو حل نکل آئے گا، فواد چودھری ے کہا کہ سپریم کورٹ بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتی،سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں ملنا چاہیے،ایسے ہوا تو کوئی بھی حکومت الیکشن کیلئے فنڈز جاری نہیں کرے گی، پارلیمان اور عدالت نہیں سپریم صرف آئین ہے، سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتا،

    کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب حکم جاری کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب کو علم ہے آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، خدا کے واسطے آئین کے لئے اکٹھے بیٹھ جائیں،ہم اس کے بعد ایک آرڈر جاری کرینگے، عدالت کوئی ٹائم لائن نہیں دے گی، مناسب حکم جاری کریں گے،

    پاکستان تحریک انصاف کے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان شاہ محمود قریشی ، فواد چوہدری اور بیرسٹر علی ظفر سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں، اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم مزاکرات کے لیے ہر طرح سے تیار ہیں، یہ لوگ مزاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آرہے یہ عوام سے بھاگے ہوئے لوگ ہیں ،سینٹ کمیٹی کو تحریک انصاف نے مسترد کردیا ہے یہ معاملہ سینیٹ کا نہیں ہے اسلیئے ہمارا واضح موقف ہے کہ آج سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی وہ دیکھنا ہے۔

    اس موقع پر سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کیس: سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ آج ساڑھے 11 بجے سماعت کرے گا۔ سماعت سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے اٹارنی جنرل کی ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے اٹارنی جنرل کو اہم ہدایات جاری کیں، اٹارنی جنرل عدالت میں حکومتی موقف پیش کریں گے،

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی کی تجویز مسترد کر دی ہے ، میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کے مطابق انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کرنے کی تجویز گزشتہ روز کابینہ اجلاس میں اٹارنی جنرل نے دی تھی کابینہ کی رائے میں نظرثانی دائر کرنے کا مطلب فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا نظرثانی دائر کردی تو یہ فیصلہ 3-4 کا ہونے کے موقف کی نفی ہوگی ذرائع نے بتایا کہ کابینہ ارکان کی رائے کے مطابق اکثریتی فیصلے میں انتخابات کا حکم ہی نہیں تو نظرثانی کس بات کی؟

    علاوہ اذیں سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون 2023 کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ،درخواست میں وفاقی حکومت، اسپیکر قومی اسمبلی، وزیر قانون، وزیراعظم اور صدر کے پرنسپل سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست تحریک انصاف کے وکیل ایڈووکیٹ اظہرصدیق کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے ، دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون غیرآئینی و غیر قانونی ہے درخواست میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کوعدالتی فیصلہ تک معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کو گزٹ نوٹیفکیشن کے لئے قانون پر دستخط سے روکا جائے، قانون کو کالعدم قراردیا جائے ،

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

    تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ،یہ لوگ زاتی مفادات کے لیئے عدالتوں پر حملہ آور ہیں آج توہین عدالت کی کاروائی شروع نہیں ہوئی تو بہت حیران کن بات ہوگیعمران خان کے خوف سے یہ لوگ انتخابات سے بھاگ رہے ہیں کل اسمبلی میں غیر آئینی اجلاس ہوا

    واضح رہے کہ چار اپریل کو تین رکنی بینچ نے حکومت کو 27 اپریل تک انتخابات کے لیے 21 ارب روپےکے فنڈز فراہم کرنےکی رپورٹ جمع کرانےکا حکم دیا تھا الیکشن کے لیے 21 ارب روپے جاری کرنے کی تیسری مہلت بھی گزر گئی، سپریم کورٹ نے حکومت سے فنڈز جاری کرنےکی رپورٹ آج طلب کر رکھی ہے

  • توشہ خانہ کیس، جج کا تبادلہ، اب کریں گے دوسرے جج سماعت

    توشہ خانہ کیس، جج کا تبادلہ، اب کریں گے دوسرے جج سماعت

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت کے لئے نیا جج مقرر کر دیا گیا ہے

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کررہے تھے تا ہم اب کیس کو ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا ہے، عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت اب نئے جج کریں گے، ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت 29 اپریل کو ہو گی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج ظفراقبال کا تبادلہ ایسٹ زون کردیا گیا ، ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کا ٹرانسفر صنفی تشدد عدالت سے ویسٹ میں کردیا گیا ہے ،

    دوسری جانب عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں نیب کی طلبی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا عمران خان کی جانب سے نیب میں طلبی کے نوٹس غیرقانونی قرار دینےکی استدعا کی گئی ہے عمران خان نے کیس کا فیصلہ آنے تک نیب کو تادیبی کاروائی سے روکنے کی استدعا بھی کی ہے عمران خان نے درخواست کی ہے کہ نیب کے 16 فروری اور17 مارچ کے نوٹس غیرقانونی قرار دیے جائیں، درخواست پر فیصلہ آنے تک انکوائری کو انویسٹیگیشن میں تبدیل کرنے سے روکا جائے۔

  • جلاﺅ گھیراﺅ، پولیس پر تشدد کیس، پی ٹی آئی رہنما عدالت پیش

    جلاﺅ گھیراﺅ، پولیس پر تشدد کیس، پی ٹی آئی رہنما عدالت پیش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں جلاﺅ گھیراﺅ اور پولیس پر تشدد مقدمہ کیس کی سماعت ہوئی،

    انسداد دہشتگردی عدالت کی جج عبہر گل نے کیس کی سماعت کی ،تحریک انصاف کے رہنماؤن یاسمین راشد، اسد عمر، عمیر نیازی، مسرت چیمہ، فرخ حبیب نے حاضری مکمل کرائی،جے آئی ٹی کے سربراہ آفتاب پھلروان بھی عدالت میں پیش ہوئے،جج انسداد دہشتگردی عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیش میں کیا پراگرس ہے؟ سربراہ جے آئی ٹی نے عدالت میں کہا کہ فرخ حبیب ، مسرت چیمہ نے تفتیش جوائن نہیں کی، وکیل مسرت چیمہ نے کہا کہ ہم نے جے آئی ٹی کو چیلنج کیا ہوا ہے،جج عبہر گل نے کہا کہ اگر جے آئی ٹی ختم بھی ہو جاتی ہے تو بیان تو ریکارڈ کرانا ہے ،عدالت نے اسد عمر، فرخ حبیب اوردیگر کی عبوری ضمانت میں 6 مئی تک توسیع کرتے ہوئے کہا کہ 6 مئی کو کیس سن کے فیصلہ کریں گے عدالت نے مسرت چیمہ اور فرخ حبیب کو آج ہی شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کردی

    عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سے جعلی قراردادیں منظور کی جارہی ہیں،ن اورش کی لڑائی اتنی بڑھ چکی، لگتا ہے شہبازشریف کو نااہل کروانا چاہتے ہیں یہ شکست کے خوف سے انتخابات سے بھاگ رہے ہیں،سپریم کورٹ کے فیصلے پر اگر عمل نہ ہوا تو سڑکوں پر فیصلے ہوں گے اگر اب یہ الیکشن نہیں کرواتے تو پھر کبھی الیکشن نہیں ہوں گے ،آئین کو پاﺅں تلے روندنے کی اجازت نہیں دیں گے

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

  • عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کی تفصیل عدالت میں پیش

    عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کی تفصیل عدالت میں پیش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کی تفصیل عدالت میں پیش کردی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے کیسز کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی ،عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج کیسز کی تفصیل عدالت میں پیش کر دی گئی ،عدالت میں پیش کی گئی سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کیخلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کی تعداد 29 ہے ، سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت کے حکم پر کیس کی تفصل عمران خان کو فراہم کردی گئی ہے

    عدالت کی جانب سے عمران خان کی درخواست نمٹا دی گئی عدالت نے عمران خان کو اپنے خلاف درج کیسز سے متعلق متعلقہ فورم پر رجوع کرنے کی ہدایت کردی.

    عمران خان نے مقدمات کی تفصیل کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں بھی ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، وزارت قانون، دفاع، سیکرٹری کیبنیٹ ڈویژن، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، اینٹی کرپشن، نیب، ایف آئی اے، وزیر اعظم، پیمرا اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں مجھ پر 121 ایف آئی آر درج کی گئیں، مقدمات کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں درج کیےگئے ہیں، نگران صوبائی حکومت کی جانب سے انتقامی کاروائیاں کی گئی ہیں تحریک انصاف کے سپورٹرز اوررہنماؤں کو نظربند اور گرفتار کیا جا رہا ہے- درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ درخواست کےفیصلے تک عدالت درج مقدمات میں کارروائی روکنےکا حکم دے پہلے سے درج مقدمات میں تادیبی کارروائی سے روکا جائے، عدالت بغیرنوٹس فوجداری کارروائی کرنے سے روکنےکا حکم جاری کرے۔

    جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

  • نظر ثانی شدہ کاز لسٹ جاری،چیف جسٹس عمرعطا بندیال کل کریں گے سماعت

    نظر ثانی شدہ کاز لسٹ جاری،چیف جسٹس عمرعطا بندیال کل کریں گے سماعت

    سپریم کورٹ: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کل کیسوں کی سماعت کریں گے

    سپریم کورٹ کی جانب سے نظر ثانی شدہ کاز لسٹ جاری کر دی گئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کل گیارہ بجے تک روٹین کیسوں کی سماعت کرے گا ،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ کل اہم کیس کی سماعت کرے گا ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کل دن ساڑھے گیارہ بجے ہوگی، آج چیف جسٹس کی عمرعطا بندیال کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ سماعت نہیں کر سکے تھے،

     زمان پارک پر ایک بار پھر پولیس آپریشن کا خدشہ

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    سپریم کورٹ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کا بینچ چیف جسٹس کے عدم دستیابی کے باعث ملتوی کیا گیا، چیف جسٹس خرابی صحت کے باعث آج سپر یم کورٹ نہیں آئے۔۔ باخبرزرائع کے مطابق ڈاکٹر نے چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر انکا طبی معائنہ کیا اور انہیں آرام کرنے کی ہدایت کی، جس کی وجہ سے آج کی کاز لسٹ منسوخ کی گئی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بخار ہے اور اپنی رہائشگاہ پر ہیں

  • لاہور ہائیکورٹ، تحریک انصاف کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا

    لاہور ہائیکورٹ، تحریک انصاف کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا

    لاہور ہائیکورٹ، تحریک انصاف کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا ،

    وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے تقرر وتبادلوں پر پابندی عائد کردی ہے،نگران حکومت پنجاب کو ہر تبادلے کے لئے مشاورت کرنے اور جواز بتانے کا پابند بنا دیا گیا۔الیکشن کمیشن نے حکومت پنجاب کو تقرروتبادلے کرنے کا جاری نوٹیفیکیشن واپس لے لیا۔عدالت نے نگران حکومت پنجاب کو تقرر و تبادلوں کا اختیارات دینے کےخلاف پی ٹی آئی کی درخواست نمٹا دی

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    عدالت نے نے الیکشن کمیشن کے جواب کی روشنی میں درخواست نمٹائی ،جسٹس طارق سلیم شیخ نے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی درخواست پر سماعت کی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایک ہی نوٹیفیکیشن کےذریعے الیکشن کمیشن نے نگران حکومت پنجاب کو تقروتبادلوں کا مکمل اختیار دے دیا۔ الیکشن کمیشن کا اقدام الیکشن ایکٹ اور ملکی قوانین اور عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔ تقروتبادلوں کے لئے قانونی جواز ہونا آئینی اور قانونی تقاضا ہے۔نگران حکومت پنجاب کو سیاسی مفادات کے لئے تقروتبادلوں کے مکمل اختیارات دیئے گئے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے تقروتبادلوں کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے ۔

  • نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست

    نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست

    نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے عہدے معیاد ختم ہونے کا معاملہ ،نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے عہدے پر برقرار رہنے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا

    عدالت نے درخواست واپس لینے پر مسترد کر دی ،جسٹس رضا قریشی نے درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی، الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا، درخؤاست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب میں نگران حکومت کی آئین میں دی گئی معیاد ختم ہوچکی ہے،سپریم کورٹ نے الیکشن کی تاریخ میں توسیع کی لیکن نگران حکومت کو توسیع نہ دی،نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی غیر آئینی طور پر عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں، عدالت نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کو فوری عہدے سے ہٹانے کا حکم دے، عدالت نگران حکومت پنجاب کو کام سے روکنے کا حکم دے، عدالت الیکشن کمیشن کو پنجاب میں نئی نگران حکومت کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے،

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

  • شہباز گل کیخلاف مزید درج مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی درخواست واپس

    شہباز گل کیخلاف مزید درج مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی درخواست واپس

    لاہور ہائیکورٹ میں شہباز گل کے خلاف مزید درج مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی اور حفاظتی ضمانت کی درخواست پرسماعت ہوئی

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے شہباز گل کی درخواست پر سماعت کی ،عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا کر دی ، درخواست میں کہا گیا تھا کہ عدالت نے شہباز گل کو چار ہفتوں کے لئے امریکہ جانے کی اجازت دی۔ائیرپورٹ جانے پر ہراساں کیاگیا اور مزید پانچ مقدمات کے اندراج کا بتایا گیا۔ہمیں نئے درج ہونے والے کسی کیس کا کوئی علم نہیں ہے۔سیاسی بنیادوں پر مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ پولیس اور متعلقہ ادارے معلومات بھی فراہم نہیں کررہے آئین کےتحت کسی شہری کے خلاف یکطرفہ کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی ۔آئین کےآرٹیکل 10 اے کےتحت ہرشہری کو شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہے عدالت مقدمات کی تفصیلات منظر عام پر لانے کے احکامات صادر کرے۔

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    واضح رہے کہ شہباز گل کے خلاف پاکستان کے کئی شہروں میں مقدمات درج ہوئے تھے اور شہباز گل کو گرفتار بھی کیا گیا تھا تا ہم شہباز گل کو بعد میں ضمانت پر رہائی ملی، موجودہ حکومت نے شہباز گل کا نام ای سی ایل میں شامل کر لیا تھا

  • سیاسی جماعتوں میں مذاکرات، پی ٹی آئی مایوسی کا شکار

    سیاسی جماعتوں میں مذاکرات، پی ٹی آئی مایوسی کا شکار

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پر مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت اور قانونی ماہرین سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، پارٹی ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں ملکی سیاسی و آئینی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،شہباز شریف سے ملاقات کرنے والوں میں وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق ،سردار ایاز صادق، اعظم نذیر تارڑ، معاون خصوصی ملک احمد خان اور لیگی رہنما شزا فاطمہ شامل ہیں،سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات کی ہے، ملاقات میں شہباز شریف نے لیگی قیادت و قانونی ماہرین سے سپریم کورٹ میں زیرسماعت ایک ہی دن انتخابات کروانے کے کیس سے متعلق تفصیلی مشاورت کی،

    سپریم کورٹ کے حکم پر سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کا معاملہ ، حکومت کے نامزد نمائندوں نے تحریک انصاف سے رابطہ کیا ہے ،پہلے رابطے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ، میڈیا رپورٹس کے مطابق ن لیگی رہنماؤں سردار ایاز صادق ،خواجہ سعدرفیق اوردیگر رہنماوں نے سابق سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر سے رابطہ کیا، حکومتی نمائندوں نے اسد قیصر سے کہا کہ ہم آپ سے باضابطہ بات چیت کے لئے آفیشل رابطہ کررہے ہیں ، یہ رابطہ اس وقت کیا گیا جب سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی تھی ،اسد قیصر نے حکومتی نمائندوں کے رابطے بارے پارٹی سیکرٹری جنرل اسد عمر کو آگاہ کردیا، اسد عمر کا کہنا تھا کہ رابطہ اچھی بات ہے حکومتی نمائندے سپریم کورٹ میں دوران سماعت اس سے آگاہ کردیں ،تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کرنا اچھی بات ہے خوش آئند اقدام ہے ۔ہم اس بات کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن یہ بات عدالت کو بتا دیں

    دوسری جانب جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن کی دھواں دار پریس کانفر نس ،اوراسکے بعد ن لیگی رہنما مریم نواز کے ٹویٹ کے بعد مذاکراتی ملاقات پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے، پی ٹی آئی اور حکومتی نمائندوں کی کب ملاقات ہوگی تاحال حتمی طے نہ ہوسکا ،حکومتی اتحاد نے ابھی تک پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کے لئے دن اور وقت طے نہیں کیا، پی ٹی آئی مایوسی کا شکار ہو چکی ہے ، عمران خان کو جب سے نکالا گیا تب سے انہوں نے فوری الیکشن کروانے کا مطالبہ کیا تھا مگر ایک برس بیت گیا ابھی تک الیکشن نہیں ہوئے اور نہ ہی کوئی امکان نظر آ رہے ہیں،ایسے میں سب کی نطریں سپریم کورٹ پر ہیں مگر حکومت ڈٹ گئی ہے اور حکومت نے آج عدالتی اصلاحات کا بل بھی باقاعدہ قانون بنا دیا ہے، ایسے میں تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ عدالت کو کیا بتانا تھا مریم نواز اور مولانا کا ردعمل سامنے آ گیا ۔یہ صرف اور صرف تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

    عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں

    واضح رہے کہ عدالتی حکم کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی قانون پاس کر چکی ہے ،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا ہم انصاف کو مان سکتے مگر چیف جسٹس کے ہتھوڑے کو تسلیم نہیں کر سکتے ،عدالت اپنی پوزیشن واضح کرے کہ وہ عدالت ہے یا پنچائیت ہے ۔ اگر عمران خان کسی ایک تاریخ پر رضا مند ہے تو وہ تاریخ کورٹ کو قبول ہے یہ کیسی کورٹ ہے ۔ عدالت ہمیں جو دھونس دکھا رہی ہے وہ نہیں دکھا سکتی ۔ اسے پارلیمینٹ کا احترام کرنا ہوگا ۔

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور عمران خان کے اتحادی شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ نوازشریف شہبازشریف کے فون کے بعد فضل الرحمن نے پرتشدد اوردہشت گرد پریس کانفرنس کی۔ مندر کا ہتھوڑا بندوق کی نوک اور گینگ آف تھری کے سیاستدانوں کے الفاظوں کااستعمال مذاکرات نہیں بلکہ عدلیہ سے کھلی جنگ ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلےمیں سب کو پابند کر دیا ہےجو نہیں مانے گا وہ قانون کےشکنجے میں آئے گا ،باپ سپریم کورٹ کوخوش آئند بیٹا بندوق کی نوک کہتا ہےحکومت توہین عدالت میں نااہلی میں عدم اعتمادی میں اورآرٹیکل6 کے ریڈار میں آسکتی ہے۔سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے سپلیمنٹری گرانٹ کا مسترد ہوناحکومت پرعدم اعتماد ہےعدلیہ نے ہرقسم کے دباؤ کومسترد کرکے آئین اورقانون کا جھنڈا اٹھایا ہوا ہےعدلیہ ہی جیتے گی ،پاکستان کےدوست ممالک پاکستان میں سیاسی استحکام چاہتےہیں۔حکومت چیمبر کے اندراور عدالت میں پاؤں پڑتی ہے میڈیا میں ٹارزن بنتی ہے گلے پڑتی ہے۔ حکمران سامان باندھ لیں گاڑی چھوٹنے والی ہے ساری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہےعید کے بعد بڑی خبرآسکتی ہے نگران حکومتیں ختم ہوچکیں 14مئی کوصوبائی الیکشن ہونگے ،