Baaghi TV

Tag: عدالت

  • قوم کو ماموں بنانے والے سپریم کورٹ کے مامے نہ بنیں،رانا ثناء اللہ

    قوم کو ماموں بنانے والے سپریم کورٹ کے مامے نہ بنیں،رانا ثناء اللہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ٹرک چھپاؤ یا پہنچاؤ تحریک کی پریس کانفرنس تھی، قوم کو ماموں بنانے والے سپریم کورٹ کے مامے نہ بنیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو نوٹس نہ بھیجیں، بشری بی بی عدالت میں پیش ہو کر کرپشن کا جواب دے جہاں خاوند منہ پر بالٹی پہن کر جاتا ہے؛ خاوند کو منہ پہ بالٹی ڈال کر عدالت لے کر جائیں ،الیکشن کمیشن، وکلاء، صحافیوں اور سیاسی مخالفین پر گند اچھالنا گالی دینا دھمکانا عمران خان کا وطیرہ ہے، جو خلاف بات کرے وہ وکلاء پے رول پے ہیں اور صحافی لفافے ہیں، الیکشن کمیشن بکاؤ ہے۔ جو غلامی نہ کرے وہ مسلم لیگ (ن) کے ہے رول پر اور جو صحافی حق کی بات کرے وہ لفافہ۔

    رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ کے لفافے کا جواب دو جو فراڈ نیازی نے فراڈ کرکے اپنے سپانسر کو خیرات کیا، پورا قومی خزانہ عمران مافیا کے نشانے پرتھا۔ عدلیہ کا اختیار پارلیمنٹ نے شفاف بنایا ہے، منصب، کرسی اور اختیار کا ناجائز استعمال سب سے بڑی آئین شکنی ہے۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • بہتر تھا پرویزالہیٰ کو ہی اعزازی جج لگا دیتے،ملک احمد خان

    بہتر تھا پرویزالہیٰ کو ہی اعزازی جج لگا دیتے،ملک احمد خان

    وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء تارڑ اور ملک احمد خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے

    معاون خصوصی عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ہماری سوچ یہ ہے کہ اس اہم معاملے پہ 7 سینئر ترین ججز کا بینچ بنایا جائے.یہ سینئر ترین ججز کا اختیار ہے کہ وہ ایسے آئینی اور قانونی پیچیدگیوں والے معاملات پہ سماعت اور فیصلہ کریں.جب اسی بل کے اندر چیف جسٹس کے اختیارات کو محدود کیا گیا ہے تو کیا چیف جسٹس کا اس کیس کو سننا مفادات کا تصادم نہیں ہے؟ یہ واحد کیس ہے جس میں ایک ایسا قانون جو ابھی نافذ العمل نہیں ہوا تھا جو قانون کی شکل اختیار کرنے سے پہلے کے لوازمات ہیں وہ پورے نہیں ہوئے تھے اور قانون کی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی اس کے اطلاق کو روک دیا گیا یہ سب پارلیمان کے اختیارات پہ سوالیہ نشان ہے.

    ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 3 اور 4 تقاضا کرتے ہیں کہ انکی پابندی کی جائے.ایک آرٹیکل میں یہ ہے کہ آپ اپنے کسی دوست اور عزیز کا مقدمہ نہیں سُنیں گے جسٹس گھرال کی چوہدری پرویز الہی سے قربت داری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے.پرویزالٰہی کی ضمانت کی درخواست جسٹس اسجد گھرال کی عدالت میں لگانے سے بہتر تھا پرویزالہیٰ کو ہی اعزازی جج لگا دیتے، یا گھر جاکر سماعت کرکے ضمانت دے دیتے،عدالتوں کے اندر سے وہ مقدمات جن میں سے عمران خان اور انکی پارٹی کو ریلیف مل رہا ہے وہ دہشگردی کر ے معاف , وہ عدالتوں پہ حملہ کرے معاف , وہ پیٹرول بموں کے ساتھ پولیس وینز پہ حملہ کرے معاف, وہ عدت میں نکاح کرے معاف

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

  • عمران خان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع

    عمران خان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع

    عمران خان کے خلاف 121 مقدمات کے اخراج کا معاملہ ،عمران خان کمرہ عدالت میں پہنچ گٸے

    عمران خان کے وکلا بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں عمران خان کی پیشی پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، غیر متعلقہ افراد کو عدالت میں داخلے سے روک دیا گیا پولیس کی بھاری نفری احاطہ عدالت میں تعینات ہے،

    لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کیخلاف 121 مقدمات کے اخراج کے لیےدرخواست پر سماعت ہوئی جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی لارجر بنچ میں جسٹس عالیہ نیلم، جسٹس طارق سلیم شیخ شامل ہیں دیگر ججز میں جسٹس انوار الحق پنوں اور جسٹس امجد رفیق بھی شامل ہیں

    عمران خان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع کروا دی گئی، عمران خان کیخلاف اسلام آباد میں 31 لاہور میں 30 فیصل آباد مین 14 بھکر، میں 4 شیخوپورہ 3 گجرانوالہ میں 2 جہلم میں 3 اٹک میں 4 راولپنڈی میں 10،اٹک،میں 4 بہاولپور میں 5 مقدمات درج ہیں،

    جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپکی درخواست پڑھی ہے ،پٹیشن اچھی ڈرافٹ کی گئی ہے ۔
    لیکن درخواست میں زیادہ تر پی ٹی آئی کی کارکردگی کے بارے میں لکھا ہے ۔ جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پٹیشن کے پیرا 7 سے آگے پڑھیں کیوں کہ اس سے پیچھے تو آپ نے درخواستگزار کے بارے میں ہی بتایا ہے ۔ کیا 121 ایف آئی آر تمام میں عمران خان نامزد ہیں ۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت مجھے 15 منٹ کا وقت دے میں اپنا سارا کیس عدالت کے سامنے رکھ دیتا ہوں ۔وکیل عمران خان نے کہا کہ حکومت طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے ۔ عمران خان کو سیاسی بنیادوں پر مقدمات درج کیے جا رہے ہیں،جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ مقدمات کو خارج کروانا چاہتے ہیں وہ نکات بیان کریں ،وکیل بیرسٹر سلیمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ عمران خان کے خلاف ایک ہی مدعی کے تحت مقدمات درج کیے جارہے ہیں ،وکیل عمران خان نے کہا کہ پولیس کی مدعیت میں مقدمات درج کیے جارہے ہیںجو بھی واقعہ ہوتا ہے مقدمہ عمران خان پر درج کیا جاتا ہے اسکی مثالیں موجود ہیں ظل شاہ قتل کیس ،وزیر آباد حملہ کیس ارشد شریف قتل کیس سمیت دیگر مقدمات کی مثالیں موجود ہیں

    جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیسز کی نشاندھی کریں ،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ جنرل باتیں کررہے ہیں وکیل عمران خان نے کہا کہ کیسز ڈسچارج ہورہے ہیں ضمانتیں ہورہی ہیں کوالٹی تو اس سے پتہ چل جاتی ہے ایک روٹ لگا ہوا ہے، کراچی، کوئٹہ، اسلام آباد، بھکر سمیت ملک بھر میں مقدمات درج ہے، ایسا لگتا ہے کہ کوئی بس سروس ہے جس نے ملک بھر جانا ہے، جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ روٹ پہلی مرتبہ نہیں لگا بدقسمتی سے اس سے پہلے بھی ہوچکا ہے، وکیل نے کہا کہ یہ کیس 71 سالہ شخص کا ہے جو پاکستانی شہری ہے ۔ ہر روز ضمانت لینا پڑتی ہے جو ممکن نہیں ہے ،جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ مقدمات کا اخراج چاہتے ہیں تو نکات کی نشاندہی کریں ۔ سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان پر وزیر آباد میں حملہ ہوا ہر کیس میں پولیس ہی مدعی بنتی ہے ۔ 140 مقدمات ہیں پولیس بتائے کس میں عمران خان کی گرفتاری کی ضرورت ہے ۔ایک واقعے پر ایک سے زیادہ مقدمات درج کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔یہ سب سیاسی بنیادوں پر ہو رہا ہے تاکہ الیکشن نہ ہوں اور کیمپین نہ کی جا سکے۔ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں 2500 افراد کے خلاف کیس بنایا گیا لیکن اس کیس میں صرف عمران خان نے ضمانت لی ۔ میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا کہ 3 ماہ میں 140 مقدمات درج ہوگئے ہوں،ابتک ہم نے 25 مقدمات میں ضمانت لے لی ہے،عمران خان کیخلاف انہیں کوئی فنانشل کرپشن نہیں ملی،اسکے بعد انہوں نے فوجداری مقدمات درج کر دئیے دہشت گردی، غداری، مزہبی، مشورہ ،اقدام قتل سمیت سنگین دفعات کو مقدمات کا حصہ بنایا گیا ہے،

    عمران خان روسٹرم پر آ گئے، جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواستگزار کو سمن بھیجا گیا لیکن سمن کی تعمیل نہیں ہونے دی گئی کیا رکاوٹ نہیں ڈالی گئی ۔سمن تعمیل کی راہ میں رکاوٹ کا ایک اور پرچہ ہو گیا ۔جسٹس عالیہ نیلم نے عمران خان کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا وارنٹ کے تعمیل والے دن کوئی پولیس افسر زخمی نہیں ہوا ۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ پولیس افسر زخمی ہوا ہو گا ۔ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر پولیس افسر زخمی ہوا ہو گا تو اس بارے انوسٹی گیشن درکار ہے انوسٹی گیشن افسر بتائے گا کہ کیا ہوا اس لیے انوسٹی گیشن ہونے دیں ۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان کو بطور سابق وزیر اعظم سیکیورٹی بھی نہیں دی گئی ۔کاغذوں میں عمران خان کو سیکیورٹی دے گئی گئی ہے حقیقت میں نہیں ملی ۔ جھوٹے کیسز میں انصاف لینے جان ہتھیلی پر رکھ کر روز عدالت آتے ہیں ۔جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ جب سے کیس لارجر بینچ کے سامنے لگا ہے کوئی نئی ایف آئی آر ہوئی ہے ۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ نہیں ۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری وکیل صاحب اس صورتحال میں عدالتیں خاموش تماشائی نہیں بن سکتی ہے ایک ایسا شخص جس پر زندگی بھر کوئی مقدمہ نہ ہو اقتدار سے نکلتے ہی اتنے مقدمات کیون درج ہوگئے ، عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا عمران خان کو انتخابات سے دور رکھنے کے لیے آیسا ہورہا ہے ؟

    بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ جب وزیر آباد کا ملزم پکڑا تو کس نے اسکا اقبالی بیان لے کر ٹی وی پر چلایا۔ جب سے نگران حکومت ائی ہمیں سیکیورٹی نہیں ملتی۔ ہم جان ہتھیلی پر رکھ کر عدالت میں آتے ہیں ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی ساری باتیں ٹاک شو کے لیے اچھی ہونگی۔ لیکن میں تو قانونی نکات ہی مرتب نہیں کر پا رہا۔اپ کو اس درخواست میں ترمیم کرکے اسے قانون کے دائرہ میں لانا چاہیے۔ بیرسٹر سلمان صفد نے کہا کہ میں پہلے ہی ترمیم کر چکا ہوں۔ میں نے مقدمات کے اخراج کی استدعا نکال دی۔ صرف ضمانت لینا ممکن نہیں رہا۔ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ انفرادی طور پر کیسیز کی نشاندھی کریں جن پر آپکو اعتراض ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ابھی تک آپکے دلائل عمومی ہیں ۔ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ سلمان صفدر صاھب آپ ٹو دی پوائینٹ بات کرتے ہیں۔ آج بھی ایسے ہی کریں۔عمران خان کے خلاف کتنے کیسیز ہیں۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان نے اب تک 25 کیسیز میں ضمانت لی ہے۔ ان میں دہشتگردی کی دفعات اور اعانت جرم کی دفعات کا زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ جسٹس مس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ آپ نے کیسیز کا اخراج نہیں مانگا ہوا۔ اگرآپ اخراج مقدمات مانگتے تو آفس کا اعتراض لگ جاتا۔ جسٹس انوارالحق پنوں نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ تو آپ اب چاہتے کیا ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ بیرسٹر سلمان ، پہلے اپ اپنے دلائل مکمل کر لیں پھر لاء افسر سے سوالات پوچھیں گے۔

    عمران خان نے عدالت کے سامنے چند گزارشات کی استدعا کردی، جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کیا آپ اپنے وکیل سے مطمن نہیں ہیں، عمران خان نے عدالت میں کہا کہ سلمان صفدر بہترین کیس پیش کر رہے ہیں،عمران خان نے عدالت میں کہا کہ آج میں عدالت کو کہا رہا ہوں انہوں نے مجھے قتل کرنا ہے میں آج یہ بات تیسری مرتبہ کر رہا ہوں، مجھے 2 مرتبہ قتل کرنے، کی کوشش کی گئی، پہلے وزیر آباد اور اسکے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے دران کوشش ہوئی، میں جب بھی گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہوں تو مارنے کی کوشش کرتے ہیں،

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو تمام مقدمات میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا ، بینچ نے ہدایت کی کہ جمعے کے روز 2 بجے عمران خان پولیس تفتیش جوائن کریں ۔پنجاب حکومت تفتیش مکمل کر کے 8 مئی تک مکمل رپورٹ عدالت میں جمع جائے ۔ عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی عدالت نے عمران خان اور وکلاء کو کیسز میں شامل تفتیش ہونے سے متعلق لائحہ عمل طے کرنے کی ہدایت کر دی

    سابق وزیراعظم عمران خان نے 121 مقدمات کو خارج کرانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، وزارت قانون، دفاع، سیکرٹری کیبنیٹ ڈویژن، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، اینٹی کرپشن، نیب، ایف آئی اے، وزیر اعظم، پیمرا اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں مجھ پر 121 ایف آئی آر درج کی گئیں، مقدمات کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں درج کیےگئے ہیں، نگران صوبائی حکومت کی جانب سے انتقامی کاروائیاں کی گئی ہیں تحریک انصاف کے سپورٹرز اوررہنماؤں کو نظربند اور گرفتار کیا جا رہا ہے-درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ درخواست کےفیصلے تک عدالت درج مقدمات میں کارروائی روکنےکا حکم دے پہلے سے درج مقدمات میں تادیبی کارروائی سے روکا جائے، عدالت بغیرنوٹس فوجداری کارروائی کرنے سے روکنے کا حکم جاری کرے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

    رمضان میں ماہواری میں عورت کیا کرے؟

  • پرویز الہٰی کی گرفتاری کیلئے پولیس کے چھاپے فوری روکنے کی استدعا مسترد

    پرویز الہٰی کی گرفتاری کیلئے پولیس کے چھاپے فوری روکنے کی استدعا مسترد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے صدر ، سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوھدری پرویز الہیٰ کو بڑا جھٹکا دے دیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کے گھر پر پولیس اور اینٹی کرپشن چھاپے کے خلا ف درخواست کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ڈی جی اینٹی کرپشن اور آئی جی پنجاب سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے ،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے پرویز الٰہی کے بیٹے کی درخواست پر سماعت کی وکیل کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ نئے پرچے کر کے پولیس اور اینٹی کرپشن کی جانب سے ریڈ کیا جا رہاہے جو کہ قانون اور آئین کے خلاف ہے رپورٹ آنے تک پرویز الٰہی کو گرفتار کرنے اور نئے مقدمے درج کرنے سے روکا جائے

    عدالت نے مقدمے درج کرنے اور پرویز الٰہی کو فوری گرفتار نہ کرنے کی درخواست کومسترد کردی،جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کس قانون کے تحت عدالت گرفتاری سے روک سکتی ہے؟

    دوسری جانب گزشتہ شب پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی ، پولیس نے لاہور کے بعد گجرات میں بھی چھاپہ مارا، پولیس نے پرویز الہٰی اور ان کے کزن چوہدری وجاہت حسین کے گھر نت ہاؤس پر بھی چھاپہ مارا ہے اور ملازمین کی طرف سے گھر کے دروازے کھولے جانے کے باوجود پولیس اہلکار دیواریں پھلانگ کر گھر کے اندر داخل ہوئے اور تمام کمروں کی تلاشی لی تاہم پرویز الہیٰ کو گرفتار نہیں کیا جا سکا

    دوسری جانب سابق ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سابق چیئرمین اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے مرکزی صدر پی ٹی آئی چودھری پرویزالٰہی کی رہائش گاہ پر اینٹی کرپشن اور پنجاب پولیس کی جانب سے غیر قانونی چھاپے پر مذمت کی ہے شرکا نے چودھری پرویزالٰہی سے اظہار یکجہتی کیلئے ان کی رہائش گاہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا،
    گجرات، منڈی بہاؤالدین، راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد، قصور، ساہیوال، اوکاڑہ، شیخوپورہ، ملتان، جہلم سمیت مختلف اضلاع سے قافلوں نے شرکت کی،احتجاج کرنے والوں میں سابق ارکان اسمبلی قمر حیات کاٹھیا، عارف محمود گل، وقاص موکل، چودھری ذوالفقار گھمن، مہر کاشف شامل تھے ،زبیر احمد خان سابق چیئر مین شکایت سیل، ڈاکٹر زین علی بھٹی، عبدالرشید بوٹی، معین الحق علوی، صدف بٹ، خرم منور منج، عامر ندیم سندھو، آصف بھٹی بھی شریک تھے آمنہ الفت، زیبا ناز، کنول نسیم سمیت دیگر رہنما شامل تھے ،شرکا کی جانب سے چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی زندہ باد کے نعرے لگائے گئے پنجاب نگران حکومت مردہ باد، غیر قانونی گرفتاریوں اور توڑ پھوڑ کو قابل مذمت قرار دیا ،شرکاء کا کہنا تھا کہ چودھری پرویزالٰہی نے ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کیے ریسکیو1122، پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں اور شہدا کے خاندانوں کیلئے فنڈز میں اضافہ کیا ایمرجنسی میں مفت ادویات، مفت تعلیم، کارڈیالوجی ہسپتالوں کی تعمیر، صحافی کالونیوں کا قیام سمیت بہت سے ایسے فلاحی کام ہیں جو ان کی کارکردگی کا ثبوت ہیں

    پولیس چھاپہ،کوئی نہ آیا، پولیس کے جاتے ہی پرویز الہیٰ سے یکجہتی کیلئے گھر کا دورہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

  • نیازی کو صادق امین کا سرٹیفکیٹ دینے والا خود صادق اورامین نہیں،حافظ حمداللہ

    نیازی کو صادق امین کا سرٹیفکیٹ دینے والا خود صادق اورامین نہیں،حافظ حمداللہ

    پاکستان ڈیموکریٹک الائنس(پی ڈی ایم) کے ترجمان حافظ حمداللہ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیک پر کہا ہے کہ عمران نیازی کو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دینے والا خود صادق اور امین نہیں،

    حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ جو خود صادق اور امین نہیں، وہ کسی اور کو کیسے صادق اور امین کا سرٹیفیکیٹ دے سکتا ہے؟عدلیہ کو اب بھی نوٹس نہیں لینا چاہیے کیونکہ نوٹس صرف کمزور، سویلین اور سیاستدانوں کے لئے ہوتا ہے، عدالت نے توہین عدالت کے برقعہ میں خود کو چھپایا ہوا ہے، اس برقعہ کے پیچھے کیا کچھ باحجاب ہورہا ہے، یہ اور اس سے پہلے آنے والی آڈیوز اس کا ثبوت ہے، ایسے افعال اسلام میں قابل سزا ہیں اور مغرب میں بھی، افسوس پاکستان میں اسلام پر عمل ہورہا ہے اور نہ مغرب کے نظام عدل پر،

    واضح رہے کہ ابھی ایک نئی آڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں مبینہ طور ثاقب نثار کا بیٹا نجم ثاقب تحریک انصاف کے نئے ٹکٹ ہولڈر افراد سے گفتگو کررہا ہے،انکو کہہ رہا ہے ابو 11 بجے تک دفتر آجاتے ہیں،ٹکٹ دلوانے پر انکا شکریہ ادا کرنے آجائیں،ساتھ 1 کروڑ 20 لاکھ سے کم نہیں لانے۔

    پنجاب انتخابات کے لئے مبینہ طور پر ٹارگٹ کلر کو ٹکٹ جاری

    رہنماوں نے پارٹی قیادت سے ٹکٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے استعفیٰ کی دھمکی دے دی،

    زمان پارک کے باہر مختلف رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اجتجاج

    اگر ٹکٹ کا میرٹ میرا نہیں بنتا تو پھر کس کا بنتا ہے؟ عائلہ ملک پھٹ پڑی

    تحریک انصاف کے دو ٹکٹس ہولڈرز بھی کرپشن میں ملوث

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

  • پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ جاری

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گوجرانوالہ اینٹی کرپشن میں درج مقدمہ، پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا،

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے تحریری حکم نامہ جاری کیا، تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ کیس کے میرٹ پر جائے بغیردرخواست گزار کی 6 مئی تک حفاظتی ضمانت منظور کی جاتی ہے درخواست گزار 50 ہزارروپے ڈپٹی رجسٹرار کو مچلکے جمع کرائے درخواست گزار6 مئی تک متعلقہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے 6 مئی ساڑھے 12 بجے تک عدالت کا یہ حکم ختم ہو جائے گا ،
    Scan
    دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے بیٹے راسخ الہی نے پولیس اوراینٹی کرپشن کے آپریشن کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آپریشن کرنے والے افسران کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کا حکم دیا جائے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک فیملی ممبران کی گرفتاری روکنے کا حکم دیا جائے ۔

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    تحریک انصاف کے‌صدر چودھری پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،پولیس کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، پرویز الہٰی کے گھر پر چھاپے کے دوران مزاحمت کرنے پر پولیس نے پرویز الہٰی سمیت 50 سے زائد نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا مقدمہ انسپکٹر اینٹی کرپشن کی مدعیت میں درج کیا گیا،

  • عدالت نے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

    عدالت نے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو عدالت نے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ کے کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت پولیس نے عدالت کو نوٹس کی تعمیل سے آگاہ کیا ،پولیس نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو نوٹس کی تعمیل قانون کے مطابق نہیں ہو سکی جس کے بعد عدالت نے نقول فراہم کرنے کے لیے عمران خان کو دوبارہ نوٹس جاری کردیے ، عدالت نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو 30 مئی کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی، کیس کی سماعت سول جج مبشرحسن چشتی نے کی

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    واضح رہے کہ عمران خان پر کئی مقدمات چل رہی ہے، عمران خان نے تمام مقدموں میں ضمانت کروا رکھی ہے، عمران خان ایک دن قبل بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے ، عدالت نے عمران خان کی ضمانت میں‌ توسیع کر دی تھی، عمران خان کے خلاف توشہ خانہ، لانگ مارچ توڑ پھوڑ، غداری سمیت کئی مقدمے قائم ہیں،

  • عمران خان کیخلاف 121 مقدمات،درخواست سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان کیخلاف 121 مقدمات،درخواست سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان کیخلاف 121 مقدمات درج کرنے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس باقر علی نجفی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ 25 مئی کو سماعت کرے گا۔ لارجر بینچ میں جسٹس عالیہ نیلم، جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس انوارالحق اور جسٹس امجد رفیق شامل ہیں۔سابق وزیراعظم عمران خان نے 121 مقدمات کو خارج کرانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا

    لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، وزارت قانون، دفاع، سیکرٹری کیبنیٹ ڈویژن، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، اینٹی کرپشن، نیب، ایف آئی اے، وزیر اعظم، پیمرا اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں مجھ پر 121 ایف آئی آر درج کی گئیں، مقدمات کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں درج کیےگئے ہیں، نگران صوبائی حکومت کی جانب سے انتقامی کاروائیاں کی گئی ہیں تحریک انصاف کے سپورٹرز اوررہنماؤں کو نظربند اور گرفتار کیا جا رہا ہے-درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ درخواست کےفیصلے تک عدالت درج مقدمات میں کارروائی روکنےکا حکم دے پہلے سے درج مقدمات میں تادیبی کارروائی سے روکا جائے، عدالت بغیرنوٹس فوجداری کارروائی کرنے سے روکنےکا حکم جاری کرے۔

    جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    مستحکم افغانستان خطے میں امن کیلئے ضروری

  • توشہ خانہ کیس،جج چھٹی پر،سماعت ملتوی

    توشہ خانہ کیس،جج چھٹی پر،سماعت ملتوی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت نہ ہو سکی،

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کی رخصت کی وجہ سے کیس کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی، آئندہ سماعت پر درخواست کے قابل سماعت پر دلائل دیئے جائیں گے ،الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے معاون وکلاء بیرسٹر گوہرعلی خان اور خالد چودھری عدالت میں پیش ہوئے

    نئے تعینات ہونے والے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور رخصت پر ہونے کے باعث سماعت بغیر کارروائی کے 3 مئی تک ملتوی کی گئی ہے، 27 اپریل کو سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت کیلئے نئے جج کو مقرر کیا گیا تھا

    دوسری جانب توشہ خانہ کیس میں نیب نوٹسز کیخلاف عمران خان، بشریٰ بی بی کی درخواستیں نمٹا دی گئیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ آئندہ نوٹس سپریم کورٹ فیصلوں کے مطابق قانون کے تحت بھیجے جائیں، عدالت نے نیب کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کاروائی آگے بڑھانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے کہا کہ نیب کو کاروائی اور تحقیقات سے نہیں روک سکتے، عمران خان تفتیش میں شامل نہیں ہو رہے تو نیب قانون کے مطابق کاروائی کا مجاز ہے،

  • راولپنڈی رنگ روڑ پروجیکٹ کرپشن کیس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    راولپنڈی رنگ روڑ پروجیکٹ کرپشن کیس،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    اینٹی کرپشن کورٹ میں راولپنڈی رنگ روڑ پروجیکٹ کرپشن کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا

    ملزمان سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود، اور اسسٹنٹ کمشنر وسیم تابش کو بری کر دیا گیا، ملزمان نے اینٹی کرپشن کورٹ میں بریت کی درخواست دائر کی تھی ،عدالت نے دلائل کے بعد ملزمان کی بریت کی درخواست منظور کر لی ،اینٹی کرپشن کورٹ کے جج علی رضا نے فیصلہ سنایا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کیا جاتا ہے پراسیکیوشن ملزمان کیخلاف شواہد پیش نہیں کر سکی

    ملزمان کی جانب سے برھان معظم ملک ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے ،عدالت نے ملزمان پر راولپنڈی رنگ روڑ پروجیکٹ کیس میں فرد جرم عائد کر رکھی تھی چالان میں سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود ،وسیم تابش اور عبداللہ کو ملزم نامزد تھے ملزمان پر راوالپنڈی رنگ روڑ پروجیکٹ میں 2.60 ارب روپے کی کرپشن کرنے کا الزام تھا اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے کیس کا چالان عدالت میں جمع کرا رکھا تھا اینٹی کرپشن کی جانب سے 30 سے زائد گواہ چالان میں نامزد کیے گئے

    سکول سے گھر آنیوالی خاتون کے سامنے نوجوان نے کپڑے اتار دیئے، ویڈیو وائرل،مقدمہ درج

    تقریب کے بہانے بلا کر خاتون کے ساتھ ہوٹل میں اجتماعی زیادتی

    دوران ڈکیتی ماں باپ کے سامنے حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ درندوں کی زیادتی