Baaghi TV

Tag: عدالت

  • مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی درخواست واپس

    مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی درخواست واپس

    لاہور ہائیکورٹ ،عدلیہ مخالف بیان بازی کامعاملہ ،لیگی رہنماء مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کےلئے انٹراکورٹ اپیل کی سماعت ہوئی

    عدالت نے اپیل کنندہ کی استدعا پر اپیل واپس کردی ،وکیل اپیل کنندہ نے کہا کہ اپیل واپس لینا چاہتا ہوں اجازت دی جائے۔ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی پر دو رکنی بنچ نے سماعت کی ، عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سنگل بنچ نے قانونی جواز کے بغیر درخواست مسترد کی۔ عدالت سنگل بنچ کے فیصلے کوکالعدم قراردیتے ہوئے اہیل منظور کرے۔ مریم نواز اپنی جماعت کی سینئیر نائب صدر ہیں اور چیف آرگنائزر کا عہدہ سنبھال چکی ہے مریم نواز نے سرگودھا میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئےاعلی عدلیہ مخالف بیان بازی کی مریم نواز نے اپنے خطاب کےذریعے اعلی عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش کی۔ مریم نواز کی تقریر الیکٹرانک میڈیا پر لائیو نشر ہوئی اور اگلے روز اخبارات میں پرنٹ ہوئی۔آئین کےتحت اعلی عدلیہ کے ججز کےخلاف بیان بازی نہیں ہوسکتی۔ عدلیہ مخالف بیان بازی پر مریم نواز کےخلاف آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔عدالت مریم نواز کو عدالت طلب کرتے ہوئے قانون کےمطابق کاروائی کرے۔

    مریم نواز کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے ایک اور درخواست دائر

    توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    ھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب،ہو گی تقریب، وزیراعظم دیں گے مودی کو اہم پیغام

    پاک فضائیہ خطے میں پاکستان کی سالمیت اور وقار کے دفاع کیلئے مکمل تیار ہے: سربراہ پاک فضائیہ

    عسکری قیادت کا پاک فضائیہ کے آپریشنل ایئر بیس پر جاری کثیر ملکی عسکری مشق کا جائزہ

  • ٹرمپ نے عدالتی کارروائی کو انتخابی عمل میں مداخلت اور جج کو متعصب قرار دے دیا

    ٹرمپ نے عدالتی کارروائی کو انتخابی عمل میں مداخلت اور جج کو متعصب قرار دے دیا

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقدمے کے جج Juan Merchan کو متعصب قرار دیا اور کہا کہ یہ ٹرمپ سے نفرت کرنے والا جج ہے۔

    باغی ٹی وی: ٹرمپ نے عدالتی کارروائی کو انتخابی عمل میں مداخلت قرار دے دیا نیویارک عدالت میں پیشی کے بعد فلوریڈا میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر نے کہا کہ 75 ملین ووٹ لینےوالے امریکی صدر پر فرد جرم عائد کی جارہی ہے۔

    ہمیں امریکہ کو سبق سکھانا ہے پھر ہو جائےگا کہ ایک سفیر کے فرائض کیا …

    انہوں نے نیویارک کے ڈسٹرکٹ اٹارنی کو بھی مجرم کہتے ہوئے کہا کہ براگ کو مستعفی ہونا چاہیے اور ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے امریکا بدنظمی کا شکار ہوچکا ہے، امریکا کی معیشت تباہ ہورہی ہے، افراط زر قابو سے باہر ہورہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ روس نے چین سےاور سعودی عرب نےایران سےشراکت کرلی ہے اگر وہ امریکا کے صدر ہوتے تو ایسا کبھی نہ ہوتا میرا واحد جرم اپنی قوم کا ان لوگوں سے بے خوف دفاع ہے جو اسے تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ 2024 میں دوسری بار امریکا کے صدر بننے کے لیے پرامید ہیں، انہوں نے کہا کہ بےشک ہم ہر صورت امریکا کو پھر سے عظیم تر بنائیں گے۔

    واضح رہے کہ ٹرمپ پر اداکارہ کو ادائیگی سے متعلق 3 کیسز میں فردجرم عائد کی گئی، انہیں 2020 کے صدارتی الیکشن کے نتائج الٹنے کی کوشش کے الزام کا بھی سامنا ہے ٹرمپ کے خلاف مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مدعاعلیہ نے کاروباری ریکارڈ میں ہیراپھیری کی تاکہ ووٹرز سے مجرمانہ عمل چھپائے۔

    ٹرمپ کو کرمنل چارجز پر گرفتار کرلیا گیا

    مدعاعلیہ نے17-2015 کے دوران سازش کی تاکہ 2016 کےصدارتی انتخابات پر اثر انداز ہو، ٹرمپ نے اپنے خلاف منفی مواد خریدا تاکہ چھاپا نہ جاسکے، انتخابی عمل میں مدد ملےٹرمپ نےانتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی، ادائیگیوں کو غلط انداز میں دکھایا، ٹرمپ نے وکیل کے ذریعےفحش فلموں کی اداکارہ کو ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر دلوائے۔

    مقدمے میں کہا گیا کہ سابق صدر کا اداکارہ کو رقم دینے کا مقصد اپنے جنسی تعلق کو چھپانا تھا، ان کے وکیل کی جانب سے اداکارہ کو دی گئی رقم غیر قانونی ہے اور ان کا وکیل اس غیرقانونی ادائیگی کا جرم تسلیم کرچکا ہے ٹرمپ ٹاور کا دربان ٹرمپ کے مبینہ بغیر شادی پیدا بچے سے متعلق خبر دینا چاہتا تھا، تاہم ٹرمپ کے حامی میڈیا گروپ نے دربان کی اسٹوری کے حقوق 30 ہزار ڈالر میں خریدے۔

    مقدمہ میں کہا گیا کہ بچے سے متعلق خبر غلط ثابت ہونے پر میڈیا گروپ نے دربان سے ڈیل ختم کرنا چاہی، ٹرمپ کے وکیل نے میڈیا کمپنی پر زور دیا کہ دربان سے ڈیل صدارتی الیکشن تک جاری رکھے۔

    خفیہ رقم کی ادائیگی کا کیس: ڈونلڈ ٹرمپ آج عدالت میں پیش ہوں گے

    جون 2016 میں خاتون نے ٹرمپ سے جنسی تعلق کا دعوی کیا، میڈیا کمپنی نے خاتون کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر دے کر جنسی تعلق پر خاموشی کا سمجھوتہ کیا، جبکہ جنسی تعلق کی دعویدار دوسری خاتون کو 360 ہزار ڈالر دے کر خاموش کرایا گیا۔

    امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ مین ہٹن کی عدالت میں تاریخی سماعت کے بعد روانہ ہوگئے انہیں جج نے ٹرائل سے پہلے کی پابندیوں کے بغیر حراست سے رہا کیا۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ پر اداکارہ کو ادائیگی سے متعلق 3 کیسز میں فردجرم عائد کی گئی، انہیں 2020 کے صدارتی الیکشن کے نتائج الٹنے کی کوشش کے الزام کا بھی سامنا ہےٹرمپ کو وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد خفیہ دستاویز کی مس ہینڈلنگ کےالزام کا بھی سامنا ہے۔

    جاسوسی غبارے نے امریکی فوجی تنصیبات کی خفیہ معلومات چین بھیجیں

  • سپریم کورٹ 6 رکنی لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ازخود نوٹس ختم کردیا

    سپریم کورٹ 6 رکنی لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ازخود نوٹس ختم کردیا

    حافظ قرآن کو ایم بی بی ایس میں اضافی 20 نمبر دینے پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے میڈیکل کے حافظ قرآن کے 20 اضافی نمبر سے متعلق سونو کیس نمٹا دیا۔ ،عدالت نے کہا کہ ازخود نوٹس غیر مؤثر ہونے پر نمٹایا جاتا ہے،ازخود نوٹس اور اس کے دیگر اثرات پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گاپی ایم ڈی سی کے وکیل افنان کنڈی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ 20 اضافی نمبر 2018 تک رولز کے تحت دیئے جاتے تھے،2021 میں نئے رولز بنے اور اضافی نمبرز ختم ہو گئے،20 اضافی نمبرز کا معاملہ عملی طور پر ختم ہو چکا ہے،

    جسٹس اعجازِ الاحسن کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی ،سپریم کورٹ نے کیس کو غیر موثر قرار دے دیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں دیئے تمام آرڈر واپس لیے جاتے ہیں، تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،نئے قواعد آنے کے بعد اضافی نمبروں کا معاملہ ویسے ہی ختم ہو گیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 29 مارچ کا آرڈر بھی ختم ہوگیا

    سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے پر لارجر بینچ تشکیل دیا تھا، بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس سید حسن اظہر رضوی شامل ہیں،بینچ کی تشکیل کا نوٹس سپریم کورٹ کے رجسٹرار عشرت علی کی جانب سے جاری کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک فیصلے میں از خود نوٹس کیس کے حوالہ سے کہا تھا کہ رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری (ازخود نوٹس) کے تمام کیسز ملتوی کیے جائیں ،خصوصی بینچ میں جسٹس امین الدین اور جسٹس شاہد وحید شامل تھے اور فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا تھا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے مقدمات پر سرکولر جاری کر دیا ،جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے میں ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کیا گیا، اس انداز میں بنچ کا سوموٹو لینا پانچ رکنی عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے ،سوموٹو صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہی لے سکتے ہیں،فیصلے میں دی گئی آبزرویشن کو مسترد کیا جاتا ہے،

    رجسٹرار کی جانب سے سرکلر جاری ہونے کے بعد گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک خط میں کہا کہ  رجسٹرار کے پاس جوڈیشل آرڈر کو کالعدم قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔چیف جسٹس بھی جوڈیشل آرڈر کے خلاف کوئی انتظامی آرڈر جاری نہیں کر سکتے۔

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    letter sc

  • رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی نے تا حال عہدے کا چارج نہیں چھوڑا

    رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی نے تا حال عہدے کا چارج نہیں چھوڑا، وہ اپنے دفتر میں موجود ہیں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں آج الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کا فیصلہ سنایا جانا ہے، سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، از خود نوٹس کیس کے حوالہ سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ دیا تھا جس کے بعد رجسٹرار نے ایک سرکلر جاری کرتے ہوئے اسکو مسترد کر دیا تھا، بعد ازاں گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس سمیت رجسٹرار کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ انہیں فیصلہ مسترد کرنے کا اختیار نہیں، رجسٹرار عہدہ چھوڑیں، اس کے بعد وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا جس میں کابینہ نے رجسٹرار کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی مگر آج رجسٹرار عشرت علی سپریم کورٹ میں اپنے دفتر میں موجود ہیں اور انہوں نے اپنا عہدہ ابھی تک نہیں چھوڑا

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی تعیناتی بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج، امان اللہ کنرانی وکیل مقرر

    وفاقی کابینہ اجلاس؛ سپریم کورٹ میں زیرسماعت الیکشن التواکیس پرغور

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

  • اعلی عدلیہ نے اپنی ساخت خود بحال کرنی ہے،شاہد خاقان عباسی

    اعلی عدلیہ نے اپنی ساخت خود بحال کرنی ہے،شاہد خاقان عباسی

    احتساب عدالت لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس پر سماعت ہوئی

    حمزہ شہباز کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی ،عدالت نے حمزہ شہباز کی حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی،آئندہ سماعت پر بیانات کے لیے گواہان کو طلب کر لیا گیا ،جج کے رخصت پر ہونے کے باعث کیس پر کاروائی نہ ہو سکی۔کیس پر مزید کاروائی 27 اپریل تک ملتوی کر دی گئی

    دوسری جانب سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر کے خلاف ایل این جی ریفرنس پر سماعت ہوئی،احتساب عدالت نمبر دو کے جج ناصر جاوید رانا کے تبادلے پر ریفرنس ایڈمنسٹریٹو جج محمد بشیر کو منتقل کر دیا گیا،ایل این جی ریفرنس پر سماعت جج محمد بشیر نے کی، وکیل ملم ڈاکٹر امان اللہ نے کہا کہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی قوانین کا معاملہ زیر التو ہے ،26 اپریل کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بینچ تشکیل دے رکھا ہے ،نیب ترمیمی قوانین سے ملتعلق کیس کا فیصلہ آنے تک سماعت ملتوی کی جائے،ایل این جی ریفرنس پر سماعت کیلئے منگل کا دن مختص تھا کسی بھی منگل کی تاریخ دے دیں

    سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اورنیب پراسیکیوٹر مرزا عثمان عدالت کے روبرو پیش ہوئے عدالت نے وکیل ملزم کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 مئی تک ملتوی کر دی

    فردوس عاشق کالہجہ تلخ تھا،مگرسرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سےچلےجانا،تکبر،انااورافسرشاہی نہیں تواورکیاہے

    فردوس عاشق نے اپنے حلقہ انتخاب میں کیا کارنامہ سرانجام دیا، تہلکہ خیز انکشاف

    مشیر نہیں بلکہ جہنم میں تھی، فردوس عاشق اعوان کی ایک بار پھر گندی گالیاں

    شوکت خانم کے فنڈز سے نجی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کی گئی، عمران خان کا اعتراف

    جوڈیشل کملیکس کے باہر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر ہفتے نیب کے کیسز میں پیش ہوتے ہیں، لیکن یہاں کیس نہیں چلتا،عدالتیں سو موٹو تو لیتی ہیں مگر اس بات پر بھی نوٹس لیں کے کیسز کی سنوائی ہو، آج یہ چوتھا جج تبدیل ہوا ہے مگر ہمارے کیسز کی سنوائی نہیں ہوئی ،اعلی عدلیہ نے اپنی ساخت خود بحال کرنی ہے،جب بینج پر انگلی اٹھ جائے اس پرجج فیصلہ نہیں کر سکتا، سپریم کورٹ کو چاہیے تھا فل کورٹ بینچ بنا دیتی، عدالت وہ فیصلے کرے جس سے ابہام پیدا نہ ہو،عمران خان خود آرام سے گھر بیٹھے ہیں کارکن دھکے کھا رہے ہیں، عمران خان بہت سی باتیں کرتے ہیں لیکن فیصلہ عدالت نے کرنا ہے،

  • آئندہ عدالت میں صرف متعلقہ افراد کو آنے کی اجازت دی جائے گی،جج کے ریمارکس

    آئندہ عدالت میں صرف متعلقہ افراد کو آنے کی اجازت دی جائے گی،جج کے ریمارکس

    انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے پرعمران خان کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جوادعباس نے کیس کی سماعت کی ،عمران خان کے وکیل نعیم اور پراسیکوٹر عدنان علی عدالت پیش ہوئے،وکیل نعیم پنجوتھہ نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی، جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت زیادہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں آگئی ہیں، ایک کے بعد ایک آرہی ہے، ضرورت سے زیادہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں عمران خان کی آرہی ہیں،وکیل علی بخاری نے کہا کہ 6 اپریل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہے، عدالت نے کہا کہ تو پھر 6 اپریل کو انسدادِ دہشت گردی عدالت میں بھی عمران خان کی درخواستِ ضمانت پر سماعت رکھ لیں؟ اپنے کیریئر میں آج تک میں نے ایسی عدالت نہیں چلائی جیسے آپ کی وجہ سے چلانی پڑھی، آج عدالت واقعی عدالت لگ رہی ہے کیونکہ غیر متعلقہ لوگ عدالت میں موجود نہیں،میری عدالت میں 700 ملزمان کے کیس کی سماعت بھی ہو چکی آئندہ عدالت میں صرف متعلقہ افراد کو آنے کی اجازت دی جائے گی،

    اے ٹی سی جج راجہ جواد عباس کی عدالت میں پی ٹی آئی رہنما عاطف خان پیش ہوئے،تفتیشی افسر نے کہا کہ عاطف خان ابھی تک کیس میں شامل تفتیش نہیں ہوئے،جج نے ہدایت کی کہ 11 بجے تک شاملِ تفتیش ہو جائیں ورنہ درخواست ضمانت خارج کردیں گے، انسدادِ دہشت گردی عدالت نےسماعت میں 11 بجے تک وقفہ کردیا

    عمران خان کے خلاف تھانہ سنگجانی میں دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے

  • انسداد دہشتگردی عدالت، عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر آیا فیصلہ

    انسداد دہشتگردی عدالت، عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر آیا فیصلہ

    عمران خان کی تینوں مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی.

    عدالت نے 13 اپریل تک عبوری ضمانت میں توسیع کی، جج عبہر گل نے بند کمرے میں عمران خان کی درخواست پر سماعت کی ،بند کمرے میں جے آئی ٹی سربراہ، عمران خان اور وکلاء موجود تھے،وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان شامل تفتیش ہو گئے ہیں۔

    عمران‌ خان سخت سیکورٹی میں عدالت میں پیش ہوئے،تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی انکے ہمراہ تھے،عمران خان کی عدالت پیشی کی ویڈیو سامنے آئی ہے، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلٹ پروف شیلڈز پہنے پولیس اہلکاروں نے عمران خان کو چاروں اطراف سے گھیر رکھا ہے جبکہ کچھ اہلکاروں نے انہیں چہرے پر بلٹ پروف بالٹی نما کیپ پہنا رکھی ہے، عمران خان کے سر کو ڈھانپا گیا ہے، عمران خان اب جب بھی باہر جاتے ہیں انکے سر کو ڈھانپا جاتا ہے،

    قبل ازیں لاہور انسداد دہشت گردی عدالت ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں کی عبوری درخواست ضمانتوں کا معاملہ ،عمران خان کے وکلاء نے انکی حاضری معافی کی درخواست دائر کر دی ،حاضری معافی کی درخواست عبہر گل خان کی عدالت میں دائر کی گئی ،عمران خان کی متعلقہ عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر رخصت پر ہیں ،وکیل عمران خان کے مطابق اعجاز احمد بٹر کی رخصت کے باعث عمران خان کی حاضری معافی کی درخواست جمع کرائی گئی،عمران خان کا باقاعدہ کیس متعلقہ عدالت میں زیر سماعت ہے،عمران خان جسکے باعث آج پیش نہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے،عدالت عمران خان کی آج کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرے،

    عمران خان نے تین مقدمات میں عبوری درخواست ضمانت دائر کر رکھی ہے عمران خان کی تین مقدمات میں حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان لاہور موجود ہیں ،عمران خان کو سکیورٹی خدشات بھی ہیں

    لاہور انسداد دہشت گردی عدالت،زمان پارک پولیس پر تشدد ،جلاو گھیراؤ اور قتل اقدام قتل کا مقدمہ ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں کی عبوری درخواست ضمانتوں کا معاملہ ہر کیس کی سماعت کا آغازہوا،عدالت میں میاں محمود الرشید،اعجاز چوہدری،مسرت جمشید چیمہ اور جمشید چیمہ نے حاضری مکل کرائی ،انسداد دہشت گردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل خان نے کیس پر سماعت کی

    عدالت نے حماد اظہر کی حاضری معافی کی درخواست خارج کر دی، فاضل جج نے کہا کہ کیا عبوری ضمانت میں حاضری معافی ہوتی ہے،یہ تو ٹرائل کا کیس ہے عدالت نے عمران خان کی حاضری معافی کی درخواست خارج کر دی،عدالت نے عمران خان کو گیارہ بجے پیش ہونے کا حکم دے دیا، فاضل جج نے کہا کہ آپ مجھے یہ بتا دیں کہ عمران خان نے آنا ہے کہ نہیں،میں نے تو قانون کو دیکھنا ہے، آپ دیگر عدالتوں کی مثالیں نہ دیں،اگر عمران خان آئیں گے تو تب ہی انکو ریلیف مل سکتا ہے،عمران خان کے مچلکے بھی نہیں ہیں ،عدالت نے فواد چودھری کی بھی حاضری معافی کی درخواست خارج کر دی

    عدالت نے سیکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے ایس پی سیکورٹی کو طلب کر لیا، فاضل جج نے کہا کہ آپ نے ایک ہفتے میں کیا کیا،آپ عمران خان کو بلا لیں،عدالت نے عمران خان کی سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست منظور کر لی عدالت نے انسداددہشت گردی عدالت کے سیکیورٹی انچارج کو عمران خان کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دے دیا ،انسداددہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل خان نے درخواست پر سماعت کی

    بیان حلفی دیں کہ آپ نے دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ضمانت دائر کی تھی, عمران خان کو بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت
    20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، قائمہ کمیٹی
    سوال یہ ہے کہ اکتوبر میں کیسے ہوں گے الیکشن؟ عمران خان
    راہول گاندھی کو بھارتی پارلیمنٹ نے نااہل قرار دے دیا

  • خفیہ رقم کی ادائیگی کا کیس: ڈونلڈ ٹرمپ آج عدالت میں پیش ہوں گے

    خفیہ رقم کی ادائیگی کا کیس: ڈونلڈ ٹرمپ آج عدالت میں پیش ہوں گے

    نیویارک: امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران خفیہ رقم کی ادائیگی کے ایک کیس میں مجرمانہ فردِ جرم کا سامنا کریں گے۔

    باغی ٹی وی ” وائس آف امریکا ” کے مطابق امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیو یارک پہنچ گئے ہیں جہاں وہ منگل کو 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران خفیہ رقم کی ادائیگی کے ایک کیس میں مجرمانہ فردِ جرم کا سامنا کریں گے۔

    بھارتی فوج میں فضائی حادثے معمول،گزشتہ 30 برس کے دوران 534 چھوٹے بڑے طیارے حادثات …

    امریکہ کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ کسی سابق امریکی صدر کو مجرمانہ الزامات کا سامناہےٹرمپ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موکل پر عائد ہونے والے الزامات میں قصوروار نہ ہونے کی استدعا کریں گے۔

    واضح رہے کہ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2016 کے صدارتی انتخابات میں اپنی فتح سے قبل ایک پورن اداکارہ کو خاموش رہنے کے لیے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر کی ادائیگی کی تھی ٹرمپ نے یہ رقم اسٹارمی ڈینیلئز کو ان کے ٹرمپ کے ساتھ ایک دہائی قبل مبینہ تعلق کے دعوے پر خاموش رہنے کے لیے ادا کی تھی۔ البتہ ٹرمپ ہمیشہ اس دعوے کی تردید کرتے آئے ہیں۔

    فرد جرم سے واقف حکام کا کہنا ہے کہ ایک گرینڈ جیوری نےگزشتہ ہفتے 76 سالہ سابق صدر پرمجرمانہ غلطیوں کے 30 سے زائد الزامات عائد کیے تھے۔ فرد جرم ابھی سرمہر ہے اور اصل الزامات اور ممکنہ طور پر معاون ثبوت اس وقت تک خفیہ رہ سکتے ہیں جب تک ٹرمپ پر منگل کو نیویارک اسٹیٹ سپریم کورٹ کے جج جوآن مرچن کے سامنے پیشی کے موقع پر انہیں عوامی سطح پر سامنے نہیں لایا جاتا۔

    مزید خالی چیک نہیں؛ سعودی حکام کا سخت پیغام

    عدالت میں پیشی کے دوران ٹرمپ کے کسی بھی مجرم مدعا علیہ کی طرح فنگر پرنٹ لیے جائیں گے اور ان کی مگ شاٹ تصویر بھی اتاری جائے گی۔لیکن حکام کا کہنا ہے کہ سابق صدر کے طور پر انہیں ہتھکڑیاں لگانے یا نام نہاد ‘پرپ واک’ میں فوٹوگرافرز کے سامنے پریڈ کا امکان نہیں ہے۔

    منگل کی عدالتی کارروائی سے قبل ٹرمپ ٹاور اور کورٹ ہاؤس کے قریب درجنوں پولیس اہلکار موجود ہیں۔کورٹ ہاؤس کے قریب ٹریفک کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔

    سیکریٹ سروس نے عدالت میں ٹرمپ کے گزرنے کا نقشہ تیار کر لیا ہے جب کہ وائٹ ہاؤس نے حفاظتی انتظامات پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن کہا ہے کہ حکومت کسی بھی صورت حال کے لیے ‘ہمیشہ تیار’ ہے ۔

    عدالتی کارروائی کے بعد ٹرمپ واپس فلوریڈا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں وہ منگل کی شب اپنے حامیوں سے خطاب کریں گے۔

    روس پاکستان کو خام تیل پرکتنی رعایت دے گا؟

    دوسری جانب ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے اور ٹرمپ کے اتحادی مارجوری ٹیلر گرین کا کہنا ہے کہ وہ منگل کی سہ پہر ایلون بریگ کے خلاف ‘پرامن احتجاج’ کا منصوبہ بنا رہے ہیں ٹرمپ پہلے ہی سوشل میڈیا پر بریگ کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

  • وہ لوگ میرے سامنے جب آتے تو نقاب پہن ہوتے تھے،اظہر مشوانی کا عدالت میں بیان

    وہ لوگ میرے سامنے جب آتے تو نقاب پہن ہوتے تھے،اظہر مشوانی کا عدالت میں بیان

    لاہور ہائیکورٹ میں اظہر مشوانی کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست نمٹا دی ، وکیل اظہر صدیق نے عدالت میں کہا کہ مغوی کو اسلام آباد میں چھوڑ دیا گیا ،عدالت نے اظہر مشوانی سے استفسار کیا کہ آپ کو کس نے اغوا کیا تھا ، اظہر مشوانی نے عدالت میں کہا کہ علم نہیں وہ لوگ میرے سامنے جب آتے تو نقاب پہن ہوئے ہوتے تھے ،مجھے ایک کمرے میں منتقل کر دیا گیا اور سوالات کا سلسلہ جاری رہا،اس کمرے اور ملحقہ واش روم میں متعدد کیمرے لگائے گئے تھے،واش روم کے کیمرے احتجاج پر بند کر دئیے گئے،وہ لوگ خود کو ایف آئی اے کا ظاہر کر کے کہتے تھے، رانا ثناءاللہ اور ڈی جی کی طرف سے ہدایات ہیں

    اظہر مشوانی نے مجسٹریٹ کے سامنے تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کروایا ہے،جس میں اظہر مشوانی نے کہا ہے کہ 23 مارچ بروز جمعرات تقریبا 2 بج کر 35 منٹ پر اپنی رہائش گاہ 2C1-454 ، ٹاؤن شپ لاہور ) سے زمان پارک کی جانب In-drive ٹیکسی سروس کی گاڑی بک کر کے روانہ ہوا۔ کالج روڈ پر الجھت شادی ہال اور اکبر چوک کے درمیان میری گاڑی کو چند گاڑیوں نے روکا ایک گاڑی سے پنجاب پولیس کی وردی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس نا معلوم افراد آکر ڈرائیور کو نکال کر خود بیٹھ گئے اور مجھے ہتھکڑی لگا دی، میں نے اپنا موبائل گاڑی کی سیٹ کے نیچے پھینک دیا تھا۔ چند میٹر پر ان افراد نے مجھے گاڑی سے نکال کر اپنی گاڑی میں شفٹ کر دیا اور میرے سر پر کالا کپڑا ڈال کر کالی پٹی باندھ دی ۔ گاڑی میں ساتھ بیٹھے نامعلوم افراد نے میرا موبائل ڈھونڈنا شروع کر دیا، ان کے سرغنہ نے کہا کہ موبائل سب سے ضروری ہے۔ واپس جا کر ٹیکسی سے میرا موبائل ڈھونڈھ کر لائے اس کے بعد وہ گاڑی رونہ ہو گئی اور اندازاً آدھے گھنٹے کے بعد مجھے کسی نامعلوم جگہ پر پہنچا کر وہاں interogation room میں بٹھا دیا وہاں مجھ سے تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم اور زمان پارک کے حوالے سے کئی گھنٹے تک سوالات کئے گئے۔ افطاری کے وقت مجھے ایک کمرے میں لایا جایا گیا اور مزید سوالات جوابات کئے گئے۔ رات کو جب میری فیملی کی جانب سے میرے موبائل کی لوکیشن سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تو فوری طور پر مجھے دوبارہ سے کالی پٹی باندھ کر گاڑی میں بٹھا کر کسی اور نا معلوم مقام کی جانب روانہ کر دیا اور تقریباً 5 گھنٹے میں نئے مقام پر پہنچے جو اندازاً راولپنڈی ۔ اسلام آباد میں تھا۔ مجھے اس مقام پر منگل رات گئے تک رکھا گیا پہلے دن ( بروز جمعہ ) مجھے روزے کی حالت میں 6-8 گھنٹے تک ایک لکڑی کی کرسی پر زنجیروں والی ہتھکڑی سے باندھ کر سوالات کئے گئے اس کے بعد مجھے ایک کمرے میں منتقل کر دیا گیا اور سوالات کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کمرے اور ملحقہ واش روم میں متعدد کیمرے لگائے گئے تھے واش روم کے کیمرے احتجاج پر بند کر دیے گئے سوموار اور منگل کے دن کسی بڑے ماہر کو بلا کر میرا تین بار پولی گراف ٹیکس کیا گیا منگل کی شام کو مجھے 15-20 منٹ کے فاصلے پر کسی اور نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا جہاں مجھے ایک سیل میں رکھا گیا وہاں دیگر اسیران بھی مختلف سیلز میں بند تھے جن کی آہ و بقاء ہر طرف گھونجتی تھی یہاں بھی دو راتیں اور دو دن مجھ سے اسی طرح کی تفتیش جاری رہی اور عدالت میں پیش کرنے کے مطالبے پر دھمکیاں دی گئیں مجھے روزے کی حالت میں یا سونے کے وقت 5-5 گھنٹے مسلسل ہے تکے سوالات کیے جاتے تھے جن کے میں پہلے ہی جوابات دے چکا تھا جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب مجھے دوبارہ پہلے والی بلڈنگ میں شفٹ کیا گیا اور سحری کے بعد وہاں سے نکالا گیا ، 2-1 گھنٹے مختلف سڑکوں پر گھمانے کے بعد چھوڑ دیا گیا اور میری گھڑی ، بٹوا واپس کر دیئے گئے لیکن میرا موبائل واپس نہیں کیا گیا میں وہاں سے بذریعہ ٹیکسی گلگت بلتستان ہاؤس سے اسلام آباد گیا اور وہاں سے اپنے رشتہ دار کے ساتھ دن تین بجے لاہور واپس پہنچ گیا دوران تفتیش مجھ سے پوچھا گیا کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا ٹیم پر کتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں لوگ مفت میں کیسے کام کر لیتے ہیں عمران خان کو کون کون سے لوگ ملنے آتے ہیں زمان پارک کے باہر موجود لوگوں کو کھانا کون دیتا ہے یوٹیو بر ز کو کتنے پیسے دیے جاتے ہیں ، یو ٹیوبرز اور سوشل میڈیا کے لوگوں کو ملاقاتوں میں عمران خان کی جانب سے کیا ٹاسک دیے جاتے ہیں تحریک انصاف کی ٹیم کی سوشل میڈیا ٹیم کو Directions کہاں سے ملتی ہیں سوشل میڈیا ٹرینڈرز کیسے ہوتے ہیں کتنے فالورز اصلی ہیں پاکستان میں جاری فاشزم پر میری ٹوٹیس پر کافی غصے بھرے سوالات کیے گئے مسلسل میرے خلاف ثبوت گھڑنے کی کوشش کی گئی مجھے سے پولی گراف ٹیسٹ میں بار بار پوچھا گیا کہ TraitorQBajwa@ ,Fallibilist1,
    @p4pakipower ، اور “ جو کر “ نامی اکاؤنٹ میں یا بڑی ٹیم یا PTI Social Media ٹیم چلاتے ہیں ۔ پولی گراف ٹیسٹ نے ان کے تمام دعوے جھوٹے ثابت کئے تو کسی ٹیلی کام انڈ سٹری کے ماہر کو بلوا کر میرے موبائل کا سارا ڈیٹا چیک کروایا گیا اور سوالات کیئے گئے میری ذاتی زندگی کے متعلق بچپن سے شادی تک سب کچھ پوچھا گیا.

    اظہر مشوانی کے بھائی نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کارکن اظہر مشوانی کو بازیاب کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے پیر کے روز اظہر مشوانی کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا تھا

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • پنجاب اور کے پی کے انتحابات سے متعلق آئینی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن التوا کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراپی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ، وکلا کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی،وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کےوکیل عرفان قادر روسٹرم پر آگئے،الیکشن کمیشن کےوکیل عرفان قادر کے دلائل شروع ہو گئے، عرفان قادر نے کہا کہ کوشش ہے اپنی بات مختصر رکھوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کتنی دیر دلائل دینگے، عرفان قادر نے کہا کہ میں کوشش کرونگا 30 منٹ میں تک اپنی بات مکمل کرلوں،اگر جج پر اعتراض ہو تو وہ بنچ سے الگ ہوجاتے ہیں،ایک طرف ایک جماعت دوسری طرف تمام جماعتیں ہیں،بنچ سے جانبداری منسوب کی جارہی ہے،پوری پی ڈی ایم ماضی میں بھی فل کورٹ کا مطالبہ کرچکی ہے فل کورٹ پر عدالت اپنی رائے دے چکی ہے،پتہ پتہ بوٹا بوٹا باغ تو سارا جانے ہے، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے،

    وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر کا کہنا تھا کہ عدالت پر عدم اعتماد نہیں انصاف ہوتا نظر آنا چاہیئے میری نظر میں انصاف نہیں ہو رہا، ممکن ہے کچھ غلط فہمی ہو،الیکشن کی تاریخ دینے کا فیصلہ الیکشن کمیشن پر چھوڑنا چاہیے فیصلہ تین دو کا تھا یا 4/3 کا اس پر بات ہونی چاہیے ،9 میں سے 4 ججز نے درخواستیں خارج کیں3 ججز نے حکم جاری کیا، عدالت اس تنازعہ کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرے، فیصلے کی تناسب کا تنازعہ ججز کا اندرونی معاملہ نہیں ہے، درخواستیں خارج کرنے والے چاروں ججز کو بھی بینچ میں شامل کیا جائے، سرکولر سے عدالتی فیصلے کا اثر ذائل نہیں کیا جاسکتا،چیف جسٹس اپنے سرکولر پر خود جج نہیں بن سکتے،عوام کا عدلیہ پر اعتماد ہونا لازمی ہے،یکم مارچ کا عدالتی حکم اقلیتی نوٹ تھا،ایک گروپ کے بنیادی حقوق پر اکثریت کے حقوق کو ترجیح دینی چاہیے،قومی مفاد آئیں اور قانون پر عملدرآمد میں یے، آئین میں 90 دن میں انتخابات ہونا الگ چیز ہے، ملک میں کئی سال سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اکٹھے ہوتے ہیں، ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ ہونا چاہئیں ،ایک ساتھ انتخابات سے مالی طور پر بھی بچت ہو گی،قومی اسمبلی کے انتخابات میں بھی نگران حکومت ضروری یے،صوبائی اسمبلی چند ماہ پہلے تحلیل ہوئی ہے دو سال پہلے نہیں.

    وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر نے الیکشن کی تاریخ دیدی ہے، پنجاب میں صدر کو تاریخ دینے کا حکم قانون کے مطابق نہیں، صدر آزادانہ طور پر کوئی فیصلہ کرنے کے مجاذ نہیں، صدر کو تاریخ دینے کا حکم دینا خلاف آئین ہے، صدر ہر کام میں کابینہ کی ایڈوائس کا پابند ہے، الیکشن ایکٹ میں صدر کو اختیار صرف عام انتخابات کیلئے ہے، ملک بھر میں عام انتخابات ایک ساتھ ہی ہونے ہیں 184/3 تنازعہ حل کرنے تک مقدمے پر سماعت روکی جائے۔جسٹس فائز عیسی سینئر جج ہیں انکے فیصلے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی سے پرسوں ملاقات ہوئی ہے۔ان معاملات پر تمام ججز جلد ملیں گیے، جسٹس فائز عیسی ملاقات میں کچھ ایشوز ہائی لائٹ کیے ہیں، رولز بنانے کے لیے عنقریب فل کورٹ اجلاس بلائیں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ والے فیصلے کے نتیجے میں ایک جج نے سماعت سے معذرت کی، عرفان قادر نے کیس سے متعلق نکات اٹھائے ہیں، آپ نے ایک اہم نقطہ اٹھایا ہے جو میں دوبارہ نہیں اٹھاوں گا،

    وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر نے کہا کہ میں سوشل میڈیا کی بات کر رہا تھا، عرفان قادر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جناب چیف جسٹس سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہیں، چیف جسٹس کے حق میں درخواستوں پر دستخط ہو رہے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم مولا سے خیر مانگتے ہیں، آپ سوشل میڈیا کی بات کر کے اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں،عرفان قادر نے کہا کہ آپ اس وقت عوامی چیف جسٹس ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سوشل میڈیا نہیں دیکھتے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 6 ججز کی رائے کے بعد 3 رکنی بینچ سماعت نہیں کرسکتا، جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ اسمبلی تحلیل درست تھی یا نہیں،وزیر اعلی پرویز الٰہی کی آڈیو لیک آئی جو فواد چوہدری سے متعلق تھی،پرویز الٰہی نے کہا کہ فواد چوہدری پہلے گرفتار ہوتے تو اسمبلی نہ ٹوٹتی، پنجاب اسمبلی نہ وزیر اعلی نے توڑی نہ گورنر نے، جسٹس اعجاز الاحسن کو پانچ رکنی بینچ میں شامل نہیں کیا گیا تھا، مناسب ہوتا شفافیت کے لیے جسٹس اعجاز الاحسن کو بینچ میں شامل نہ کیا جاتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو وجہ میں نے سوچ کر بینچ بنایا وہ بتانے کا پابند نہیں ہوں ، عرفان قادر نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کا بہت مداح ہوں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مداحی پر آپ کا مشکور ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل ریکارڈ سے دکھائیں جسٹس اعجاز الاحسن کب بینچ سے الگ ہوئے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایک جج صاحب نے نوٹ میں لکھا کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے معذرت کی، چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ بینچ سے الگ نہیں ہوئے تھے دو ججز کے نوٹ کے خلاف ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن ججز نے سماعت سے معذرت کی ان کے حکمنامے ریکارڈ کا حصہ ہیں، بینچ سے کسی جج کو نکالا نہیں جاسکتا یہ قانون کا اصول ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہر مرتبہ ججز کی معذرت کرنے کا آرڈر نہیں ہوتا،کئی مرتبہ تین ججز اٹھ کر جاتے تھے اور دو ججز واپس آتے تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تجویز عدالت کو کبھی نہ دیں،وکیل الیکشن کمیشن عرفان قادر نے کہا کہ آپ نے عزت سے اپنا دور گزارا ہے، ون مین شو کس کو کہا گیا ہے اس کی وضاحت ضروری ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پوچھا تھا ون مین شو کس کو کہا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا عمومی بات کی آپ کو نہیں کہا تھا، ماحول پورے ملک کی طرح عدالت اور باہر خراب ہے، ماحول ٹھنڈا کرنے میں اٹارنی جنرل نے مدد نہیں کی، یہ ایشو پارلیمنٹ کو خود حل کرنا چاہیے تھا،الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر کے دلائل مکمل ہوگئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے دلائل سے محظوظ ہوئے ہیں،

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت میں دلائل دینا چاہتا ہوں، پی ڈی ایم کے اعلامیے میں بائیکاٹ کا ذکر نہیں ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینچ پر اعتماد نہیں ہے تو دلائل کیسے دے سکتے ہیں؟ اظہر صدیق نے کہا کہ کہا گیا لاہور اور پشاور ہائیکورٹ میں مقدمات زیر التوا ہیں،کسی ہائیکورٹ میں مقدمہ زیر التوا نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ سیکرٹری دفاع دستاویزات کب تک دیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج کسی بھی وقت عدالت کو دستاویزات دے دیں گے،گورنر کے پی کے وکیل پیروی سے معذرت کر چکے ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کے پی کے کا ذکر نہیں ہے،

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کے جواب الجواب دلائل شروع ہو گئے،علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر کسی نے بات نہیں، الیکشن کمیشن نے نہیں بتایا کہ اسے الیکشن ملتوی کرنے کا اختیار کہاں سے ملا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سجیل سواتی نے سیکشن 58 کا حوالہ دیا تھا ،علی ظفر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتا، الیکشن کمیشن نے اپنے حکم میں آرٹیکل 218/3 کا حوالہ دیا، آرٹیکل 218/3 الیکشن کروانے کا پابند بناتا ہے، الیکشن کمیشن آئین سے بالاتر کوئی کام نہیں کر سکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون واضح ہے کہ انتخابات کی تاریخ کون دے گا ،عرفان قادر نے کہا صدر حکومت کی سفارش کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا ،کیا صدر الیکشن کی تاریخ ایڈوائس کے بغیر دے سکتے ہیں،عدالت آئین اور قانون کے مطابق انصاف کے لیے بیٹھی ہے، سیاسی مقدمات میں سیاسی ایجنڈا سامنے آتا ہے، اکرم شیخ تیاری سے آئے تھے ان کے موکل نے ان کو بولنے نہیں دیا، اکرم شیخ کے موکل کو نظر انداز نہیں کر سکتے،اٹارنی جنرل نے اس نقطے پر گفتگو نہیں کی،اٹارنی جنرل سے گلہ ہے کہ وہ 3/4 پر ہی زور دیتے رہے،اس نقطے پر اپنے تحریری دلائل جمع کروائیں ،علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے طور پر انتخابات کی تاریخ تبدیل نہیں کر سکتا،کے پی کے میں گورنر نے الیکشن کی تاریخ دینی ہے،کیا الیکشن کمیشن گورنر کی تاریخ بدل سکتا ہے؟میری نظر میں الیکشن کمیشن آئین سے بالاتر اقدامات نہیں کرسکتا، بلدیاتی انتخابات میں الیکشن کمیشن تاریخ مقرر کرتا ہے،الیکشن کمیشن نے سارا ملبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر ڈالا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات بھی ہوسکتے ہیں جب انتخابات ملتوی ہوسکیں،وفاقی حکومت نے ایسا کوئی مواد نہیں دیا جس پر الیکشن ملتوی ہوسکیں، انتخابات کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا،عدالت نے توازن قائم کرنا ہوتا ہے، حکومت اور دیگر فریقین کی درست معاونت نہیں ملی، حکومت نے الیکشن کروانے کی آمادگی ہی نہیں ظاہر کی، ماضی میں عدالت اسمبلی کی تحلیل کالعدم قرار دے چکی ہے،

    سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ،فیصلہ کل سنایا جائے گا ،فیصلہ کل ساڑھے گیارہ بجے فیصلہ سنایا جائے گا

    سپریم کورٹ میں وقفے سے قبل کی سماعت کے بارے میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    سیاسی بحران پیچھے رہ گیا، آئینی بحران نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،