Baaghi TV

Tag: عدالت

  • وزیراعظم کی ڈگری کی تفصیل مانگنے والے درخواست گزار پر جرمانہ

    وزیراعظم کے پاس کونسی ڈگری؟ عدالت میں درخواست پر عدالت نے درخواست گزار پر جرمانہ عائد کر دیا اور فیصلے میں کہا کہ وزیراعظم کے پاس جو بھی ڈگری ہے کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں

    فیصلہ بھارت کی عدالت نے دیا، گجرات ہائیکورٹ مین درخواست دائر کی گئی تھی جس پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے وزیراعظم آفس کو حکم دیا کہ انکی ڈگری کا سرٹفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں نہ ہی کسی کو وزیراعظم کی ڈگری بارے بتایا جائے، جسٹس بیرین نے فیصلے میں چیف انفارمیشن کمیشن کے پی ایم او کے پی آئی او کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا جس میں کہا گیا تھا کہ گجرات یونیورسٹی اور دہلی یونیورسٹی مودی کی ڈگریوں کی تفصیلات فراہم کریں،گجرات ہائیکورٹ نے وزیراعظم کی ڈگری بارے کسی بھی قسم کی تفصیلات سے روک دیا،

    گجرات ہائیکورٹ نے فیصلہ کے ساتھ درخواست گزار دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجیریوال پر 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا، جنہوں نے مودی کی ڈگری کے لئے تفصیلات طلب کی تھی، عدالت نے درخواست گزارکی درخواست کو گمراہ کن قرار دے دیا

    عدالتی فیصلے کے بعد درخواست گزار اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ کیا بھارت میں کسی کو یہ جاننے کا حق بھی حاصل نہیں کہ بھارت کا وزیراعظم پڑھا لکھا ہے یا نہیں؟ اگر مودی پڑھا لکھا ہے تو ڈگری سامنے لائے اگر ایسا نہیں کرتا تو ان پڑھ وزیراعظم ملک کے لئے بہت خطرناک بات ہے، عدالت نے ہماری درخواست کی مخالفت کیوں کی،

    علاوہ ازیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جج اتُل سری دھرن نے گزشتہ دنوں سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ میری بیٹی آئندہ برس اسی عدالت سے جہاں میں ابھی فرائض انجام دے رہا ہوں وکالت کا آغاز کرے گی اس لیے میرا تبادلہ کسی اور ریاست میں کردیا جائے بطور جج اسی ہائی کورٹ میں رہنا مفادات کا ٹکراؤ ہوگا اس لیے اس سے بچنے کے لیے میرا تبادلہ کردیا جائے سپریم کورٹ نے جج کی استدعا منظور کرتے ہوئے ان کا تبادلہ مقبوضہ جموں کشمیر ہائی کورٹ میں کردیا ،

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

  • سپریم کورٹ،انتخابات کیس، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خزانہ  آٸندہ سماعت پر طلب

    سپریم کورٹ،انتخابات کیس، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خزانہ آٸندہ سماعت پر طلب

    پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کا آغاز کر دیا ،پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کونسل عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو بعد میں سنیں گے ، حسن رضا پاشا نے کہا کہ بار کا کسی کی حمایت سے کوئی تعلق نہیں ہے ،اس پر فل کورٹ نہیں بن رہا تو فل کورٹ میٹنگ بنا دیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر ہم سوچ رہے ہیں ججز کے آپس میں تعلق اچھے ہیں۔ کل اور آج دو ججوں نے سماعت سے معذرت کی باہمی اعتراف اور شائستہ گفتگو پہلے بھی ہوئی اور بعد میں بھی۔کچھ نقاط پر ہماری گفتگو ضروری ہے سیاسی معاملات سامنے آئے جس پر میڈیا اور پریس کانفرسنز سے تیل ڈالا گیا۔ عدالت نے سارے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کیا۔ کچھ لوگ چند ججز پر تنقید کررہے ہیں کچھ دوسرے ججز پر تنقید کررہے ہیں۔ ہم اس معاملہ کو بھی دیکھیں گے۔ اس معاملہ پر مجھے چیمبر میں ملیں،آج پہلی بار آپ عدالت آئے ہیں، باتوں سے نہیں عمل سے خود کو ثابت کریں،چیمبر میں آئیں آپ کا بہت احترام ہے،سپریم کورٹ بار کے صدر مجھ سے رابطے میں رہے ہیں،معاملہ صرف بیرونی امیج کا ہوتا تو ہماری زندگی پرسکون ہوتی، میڈیا والے بھی بعض اوقات غلط بات کردیتے ہیں،عدالت ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، سماعت کے بعد کچھ ملاقاتیں کروں گا، تو قع ہے کہ پیر کا سورج اچھی نوید لے کر طلوع ہوگا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب جو نکتہ اٹھانا چاہیں اٹھا سکتے ہیں، عدالت نے کچھ مقدمات میں حالات کی پیروی کے لیے فریقین کو ہدایت کی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے گزارش ہے کہ پہلے درجہ حرارت کم کریں،ملک میں ہر طرف درجہ حرارت کم کرنا چاہیئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ درجہ حرارت کم کرنے کے لیے آپ نے کیا کیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ہی درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ہمیشہ آئین کو ہی فوقیت دی ہے،ججز کو دفاترسے نکال کر گھروں میں قید کیا گیا،معجزہ ہوا کہ ججز واپس دفاتر میں آ گئے،نوے کی دہائی میں کئی بہترین ججز واپس نہیں آ سکے آئین، جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے، کل تک جیلوں میں رہنے والے آج اسمبلی میں تقاریر کر رہے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں، اسمبلی کی مدت ہوتی یے، ہاؤس کے سربراہ کو تحلیل کا ختیار ہے، نوے دن کا وقت اپریل میں ختم ہو رہا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے نوے دن کی مدت کے پندرہ دن بعد تاریخ دی،صدر کو الیکشن کمیشن نے حالات نہیں بتائے تھے،صدر کو حالات سے اگاہ کیا ہوتا تو شاید 30 اپریل تاریخ نہ آتی عدالت کے سامنے مسئلہ اٹھ اکتوبر کی تاریخ کا ہے ،عدالت مشکلات پیدا کرنے نہیں بیٹھی عدالت کو ٹھوس وجہ بتائیں یا ڈائیلاگ ،ایک فریق پارٹی چیئرمین کی گارنٹی دے رہا ہے، شاید حکومت کو بھی ماضی بھلانا پڑے گا،اسمبلیوں کی مدت ویسے بھی اگست تک مکمل ہورہی ہے،اگر حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہوں تو کچھ دن وقفہ کرلیں گیے،اگر مذاکرات نہیں ہونے تو آئینی کردار ادا کریں گے،عدالتی فیصلہ دیکھ کر کہیں گے کہ بااختیار فیصلہ ہے۔ ہر فریق کے ہر نقطے کا فیصلے میں ذکر کریں گے، بیس ارب کی اخراجات پر پہلے عدالت کو بتائیں۔ اخراجات کم کرنے کی تجویز دی تھی،دوسرا مسئلہ سیکیورٹی کا ہے ،نصف پولنگ سٹیشن انتہائی حساس یا حساس ہیں، صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ملک میں دہشتگردی ہے، دہشتگردی تو 90 کی دہائی سے ہے عدالت کو بتایا گیا کہ افواج بارڈر پر مصروف ہیں، اس معاملے کو بھی دیکھنا ہو گا،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ آج عدالت کا جاری سرکلر دیکھا یے، جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ بھی پڑھا ہے، جسٹس جمال مندوخیل بینچ سے الگ ہو چکے ہیں ،دوسرا نقطہ یکم مارچ کے فیصلے کے تناسب کا ہے،تیسرا نکتہ یکم مارچ کے فیصلے کی بنیاد پر ہی ہے، موجودہ درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی حکم یے، نو رکنی بینچ کے دو اراکین نے رضا کارانہ بینچ سے علیدگی اختیار کی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو کس نے کہا کہ دو ججز بینچ سے الگ ہوئے تھے، عدالت کا ستائس فروری کا حکم پڑھیں اس میں کہاں لکھا ہے،؟ اٹارنی جنرل نے ستائیس فروری کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ چیف جسٹس کو بینچ کی ازسر نو تشکیل کے لیے بھیجا گیا تھا،چاہتا تو تمام ججز کو بھی تبدیل کر سکتا تھا،اگر آپ وہی کرنا چاہتے ہیں جس سے مسئلہ بنا تو یہ ہماری پرائیوسی میں مداخلت ہوگی۔آرڈر میں دوبارہ بینچ کی تشکیل کا کہا گیا، بینچ کی تشکیل دینا چیف جسٹس کا اختیار ہے، دوبارہ 9 رکنی بینچ بنایا جاسکتا تھا، کتنے رکنی بینچ بنا یا ٹوٹا اس میں مت جائیں، ایسا کر کے آپ ہماری حدود میں مداخلت کر رہے ہیں۔ بینچ کی تشکیل ہمارا اندرونی معاملہ ہے، سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات کو پبلک پر اچھالا جانا بدقسمتی ہے، بینچ کی تشکیل سپریم کورٹ کا اندرونی اختیار ہے ایک دوسرے کی عزت کریں تاکہ معاملات حل ہوں .دوبارہ بینچ کے معاملات میں مت جائیں،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ نے کہا کہ ججز نے سماعت سے معذرت نہیں کی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا،سماعت روکنے والا حکم ہم ججز آپس میں زیر بحث لائیں گے، آپ درجہ حرارت کم کرنے والی بات کر رہے تھے، ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے دن فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نکتے پر آپ دلائل ضرور دیں ،فل کورٹ والا معاملہ میرے ذہن میں تھا ،عدالتننگ بینچ بناتے وقت بہت کچھ ذہن میں رکھنا ہوتا ہے،ایک بات یہ زہن میں ہوتی ہے کہ معمول کے مقدمات متاثر نہ ہوں،موجودہ دور میں روز نمٹائے گیے مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے، بعض اوقات تمام ججز دستیاب نہیں ہوتے،گزشتہ ہفتے کویٹہ کراچی اور لاہور میں بھی بینچ تھے اس ہفتے بھی لاہور میں بینچ تھا .فل کورٹ بنانے سے قبل کئی معاملات کو زیر غور رکھنا ہوتا ہے، دیکھنا ہوتا ہے بینچ بنانے سے دیگر کام نہ رکے، فل کورٹ بنانے سے دیگر کیسز متاثر ہوتے ہیں کئی مواقع پر ججز کی عدم موجودگی کے باعث فل کورٹ کا کام متاثر ہوتا ہے،نو رکنی بینچ تشکیل دیتے وقت تمام ججز کے بارے میں سوچا،جسٹس اطہر من اللہ کو آئین سے ہم آہنگ پایا، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی آئین کے ماہر ہیں،آپ پوچھ سکتے ہیں جسٹس مظاہر نقوی کیوں شامل کیے گئے، جسٹس مظاہر نقوی کو شامل کرنا خاموش پیغام دینا تھا،دو سال جسٹس فائز عیسیٰ کیس چلا اور عدالت کو سزا ملی ،جسٹس فائز عیسیٰ کے لیے بھی مقدمہ سزا ہی تھا، ہمارے ایک ساتھی کا دو سال ٹرائل کیا گیا،دو سال کے ٹرائل کے بعد بھی کچھ نہیں نکلا۔ سپریم کورٹ میں آج بھی اتفاق ہے، طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو اندازہ نہیں سپریم کورٹ کتنا متاثر ہورہی ہے، آج ججز کی آڈیوز لیک کی جارہی ہیں۔ سیاسی معاملات اور سنی سنائی باتوں پر نشانہ ججز کو بنایا جا رہا ہے، سپریم کورٹ متحد تھی کچھ معاملات میں اب بھی ہے، اہم عہدوں پر تعینات لوگ کس طرح عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں، مجھے کہا جا رہا ہے کہ ایک اور جج کو سزا دوں، جا کر پہلے ان شواہد کا جائزہ لیں۔سپریم کورٹ میں بیس سال کی نسبت بہترین ججز ہیں ،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کے فیصلے پڑھیں، جسٹس شاہد وحید نے بہترین اختلافی نوٹ لکھا،آڈیو لیک کی بنیاد پر کیسے نشانہ بنایا جائے ،قانون پر بات کریں تو میں بطور جج سنوں گا، میرے ججز کے بارے میں بات کریں گے تو میرا سامنا کرنا پڑے گا،میرا بھی دل ہے میرے بھی جذبات ہیں، جو کچھ کیا پوری ایمانداری سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر کیا ،جو کچھ آج تک کیا آئین اور قانون کے مطابق کیا ،ٹیکس کا معاملہ ہے تو متعلقہ افسر کو کہیں ٹریس کریں ٹیکس معاملے پر کیسے جج کا ٹرائل کریں، جسٹس اقبال حمید الرحمان کو استعفی سے روکا تھا، جسٹس اقبال حمید الرحمان نے کہا مرحوم باپ کو کیا منہ دکھاوں گا،چیف جسٹس کی کمرہ عدالت میں جذبات سے آواز بھر آئی

    دوران ریمارکس چیف جسٹس عمر عطا بندیال جذباتی ہوگئے، عرفان قادر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سماعت کے دوران جذباتی نہیں ہونا ہے،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی چاہیے، درجہ حرارت کم کرنے والی آپشن پر ہی رہیں،ہمارے سامنے فاروق نائیک، اکرم شیخ اور دیگر سینئر وکلا موجود ہیں،ہم پہلے حکومت کا موقف سننا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت کو معاشی صورتحال پر آگاہی دی گئی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارا بجٹ میں خسارہ ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ فرض کریں کہ اگر خسارہ اکتوبر تک رہا تو پھر کیا ہوگا،

    عرفان قادر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف پورا نہیں سنا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو بات مکمل کرنے دیں، عرفان قادر نے کہا کہ میں صرف 3 منٹ بات کرتا ہوں،روز مجھے گھنٹوں بیٹھنا پڑتا ہے،آپ جذباتی ہوسکتے ہیں تو ہم بھی ہوسکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سنیں گے آپ نے 3 منٹ کا کہا ہے،عرفان قادر نے کہا کہ 3 منٹ نہیں بلکہ مختصرا بات مکمل کرنے کی کوشش کرونگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیس کی بات کریںادھر ادھر کی باتوں سے میں جذباتی ہوگیا تھا،اٹارنی جنرل صاحب سکیورٹی اور فنڈز پر بات کریں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے سیاسی جماعتوں کو سن لیں، بعد میں دلائل دوں گا،معاشی حالات پر عدالت کو آگاہ کروں گا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آٹھ اکتوبر تک انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں اس پر جواب دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فاروق ایچ نائیک ، اکرم شیخ اور کامران مرتضیٰ کو بھی سنیں گے، پہلے ریاست پاکستان کو سننا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ بیس ارب کا نہیں پوری معیشت کا یے،ملک کو پندرہ سو ارب خسارے کا سامنا ہے، تیس جون تک شرح سود بائیس فیصد تک جا سکتی ہے،شرح سود بڑھنے سے قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ماضی کے قرضوں پر بھی نئی شرح سود لاگو ہوتی ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ حکومت کے پاس اس وقت کتنا پیسہ موجود ہے،فیڈرل کونسلیڈیٹڈ فنڈز میں کتنی رقم موجود ہے، اگر بیس ارب خرچ ہوتے ہیں تو خسارہ کتنے فیصد بڑھے گا،پندرہ سو ارب خسارے میں بیس ارب سے کتنا اضافہ ہو گا، الیکشن اخراجات شاید خسارے کے ایک فیصد سے بھی کم ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپلیمنٹری بجٹ میں 170 ارب کی توقع ہے، اگر پورا جمع ہو گیا،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ فیڈرل کونسلیڈیٹڈ فنڈز کس کے کنٹرول میں ہوتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ فنڈز وزارت خزانہ کے کنٹرول میں ہوتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2019 کے رولز پڑھ کر بتائیں فنڈ کس کے کنٹرول میں ہوتا ہے، پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ کے تحت رولز کا جائزہ لیں، رولز کے مطابق تو کونسلیڈیٹڈ فنڈز سٹیٹ بینک میں ہوتا ہے، سٹیٹ بینک کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں ان کے پاس کتنا پیسہ ہے، الیکشن کمیشن حکومت کی جانب دیکھ رہا ہے ،کمیشن کہتا ہے کہ فنڈز مل جائیں تو تیس اپریل کو الیکشن کروا سکتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فنڈز میں رقم ہونا اور خرچ کے لیے دستیاب ہونا الگ چیزیں ہیں ، سٹیٹ بینک کو رقم اور سونا ریزرو رکھنا ہوتا ہے،

    اٹارنی جنرل نے دوبارہ فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تین دن سے آپ کو سن رہے ہیں،عدالت کا ایک ایک دن اہم ہے،آپ چاہتے ہیں بینچ میں مزید ججز شامل کریں تاکہ دلائل دوبارہ سے شروع کرنے پڑیں ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بار بار فل کورٹ کے مطالبات کرنے کا کیا مقصد ہے؟ دنیا کے کسی عدالتی سسٹم میں ایسے مطالبات نہیں کیے جاتے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ فل کورٹ پر اعتماد ہوگا یہ رویہ درست نہیں،عدالت کا ایک ایک لمحہ اہم ہے،ہمیں بتایا جائے کب الیکشن کرانے ہیں،ہم سیاسی جماعتوں سے بھی الیکشن سے متعلق یقین دہانیاں لیں گے، لگتا ہے اٹارنی جنرل کے پاس مزید کہنے کو کچھ نہیں،الیکشن کرانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، ہمیں حکومت کی مشکلات کا اندازہ ہے، 90 روز کے اندر الیکشن نہیں کرائے جاسکے صرف یہ دیکھنا ہے مزید کتنے دن درکار ہوں گے الیکشن کیلئے،ہم اس عدالت میں تمام فریقین کو بلائیں گے، تمام فریقین سے معاونت کیلئے یقین دہانیاں لیں گے،سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت ہر سیکریٹری خزانہ کو نوٹس جاری کردیے سیکرٹری دفاع اور سیکریٹری خزانہ سوموار کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا گیا،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ بنانے کی درخواست فی الحال مسترد کردی،

    سپریم کورٹ سماعت پیر صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی، سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خزانہ کو آٸندہ سماعت پر طلب کر لیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار ٹوٹنے پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نئی صورتحال کے پیش نظر اٹارنی جنرل کو ایک بار پھر فل کورٹ کی استدعا کرنے کی ہدایت کر دی ، وزیر قانون نے انتخابات التوا کیس میں سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹنے پر قانونی ٹیم سے تفصیلی مشاورت کی، انہوں نے الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر سے قانونی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک اور ن لیگ کے وکیل اکرم شیخ بھی اس دوران گفتگو میں شریک رہے

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

  • بیکریز کو رات ایک بجے تک کام کرنے کی ملی اجازت

    بیکریز کو رات ایک بجے تک کام کرنے کی ملی اجازت

    لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک کے حوالہ سے کیس کی سماعت ہوئی،

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سماعت کی، عدالت نے دوران سماعت انڈر پاسز کی بجائے سڑکوں کی ری ماڈلنگ سے متعلق رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کی ری ماڈلنگ کی بجائے انڈر پاسز بنائے جا رہے ہیں مسائل پھربھی حل نہیں ہورہے بلکہ بڑھ رہے ہیں ٹریفک پولیس کی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے انکے پاس کیمرے اور دیگر آلات ہونے چاہئے ، عدالت نے بیکریز کو رات ایک بجے تک کام کرنے کی اجازت دے دی اور ساتھ ہی ماحولیاتی سفیر مقرر کرنے کا حکم بھی دیا ہے

    عدالت نے کہا کہ واٹراینڈ انوائرمنٹل کمیشن آئندہ سماعت پر ماحولیاتی سفیر کے لیے نام تجویز کرے ،عدالت نے ایل ڈی اے کو جوہرٹاؤن کے مال کے اطراف غیر قانونی پارکنگ ہٹانے اور غیر قانونی پارکنگ کرنے والوں کے خلاف جرمانے کا بھی حکم دیا

    سموگ سے بچاؤ،چار ماہ میں 1730 مقدمے درج، نوکروڑ جرمانہ

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    نرسری وارڈ میں 4 بچوں کے جاں بحق ہونے پر وزیراعلیٰ کا نوٹس

    پسند کی شادی جرم بن گئی، سفاک ملزمان نے بچوں،خواتین سمیت سات افراد کو زندہ جلا ڈالا

    عدالت نے اسموگ کے خاتمے کے لیے کیمروں پر آنے والی لاگت کی رپورٹ طلب کر لی۔ کہا محکمہ زراعت تخمینہ لگا کر رپورٹ پیش کرے۔ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسموگ کی روک تھام سے متعلق ہم قانون سازی کروا رہے ہیں سموگ کے تدارک کے لیے بڑے شہروں میں انڈسٹریل ایریاز بنائے جائیں۔عدالتی کمیشن نے کہا ہے کہ حکومت کو ماحولیات کے بارے ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے۔حکومت دانستہ رقم نہیں دے رہی۔

  • پہلے استعفی پھرمکر جانا،پاکستان کی عوام کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے؟ عدالت برہم

    پہلے استعفی پھرمکر جانا،پاکستان کی عوام کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے؟ عدالت برہم

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،ممبر قومی اسمبلی شکور شاد کے استعفے کی منظوری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے سیکرٹریٹ قومی اسمبلی سے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے شکور شاد کے استعفی منظور کرنے کا آرڈر 28 اپریل کو طلب کر لیا،کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی. دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق وکیل درخواست گزار پر برہم ہو گئے، اور کہا کہ آپ نے استعفی دیا اس ہر دستخط کیے تھے ، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی ہمارے دستخط تھے لیکن وہ استعفی پارٹی پریشر میں دیا گیا تھا ،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا دستخط بس ایسے ہی کیے گئے کیا کوئی جوق ہے یہ ، کیا ہو رہا ہے آج آپ یہ کر رہے ہیں کل آپ ملک کے لیے کیا کریں گے، آپ آرٹیکل 62 پر کیسے پورا اتریں گے،آپ اپنے لوگوں اور ووٹرز کے امانت دار ہیں آپ کیا کر رہے ہیں،9 مارچ کا آدڈر تھا کہ آپ نے اپنے استعفے سے انکار کیا تھا، وہ لیٹر ہے آپ کے پاس.وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 29 جولائی کو استعفیٰ منظور ہوا، اس کورٹ نے ستمبر میں فیصلہ معطل کیا.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے دستخط اصلی نہیں تھے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ دستخط تو اصلی تھے، مگر پارٹی پالیسی پر استعفیٰ دیا تھا. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استعفے پر پارٹی پالیسی کے خلاف جانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا، وہ تو منی بجٹ بل اور عدم اعتماد پر فرق پڑتا ہے. آپ نے پارٹی پریشر پر استعفیٰ دے دیا آپ ملک کے لیے کیسے سٹینڈ لے سکتے ہیں. پہلے استعفی پھر مکر جانا،پاکستان کی عوام کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے؟ آپ کی ٹرسٹ والی کیا پوزیشن ہے، کیا آپ سسٹم کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں،آپ سسٹم کو فن سمجھ رہے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہم مانتے ہیں اصل سٹیک ہولڈر عوام ہے،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر مذاق بھی تو عوام کے ساتھ ہو رہا یے،اسی طرح کی دیگر رٹ پر بھی ابھی آنا ہے ہم نے کہ اس ملک میں کیا ہورہا ہے ،وکیل شکور شاد نے کہا کہ ہم نے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہا کہ پارٹی پریشر پر استعفیٰ دیا، مگر اسپیکر نے کہا کہ وہ جواب سے مطمئن نہیں. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اسپیکر نے ایسا کوئی لیٹر جاری کیا ہے؟ 3 مارچ 2023 کے لیٹر کو ریکارڈ پر لے کر آئیں. پارٹی لیڈر شپ نے آپ کو پریشرائیز کیا اس کے خلاف دعویٰ دائر کریں.رٹ میں میں شہادتیں نہیں لے سکتا.ہر چیز کو ہم نے مزاق بنا کر رکھ دیا یے آپ نے پورے ملک کے لیے قانون سازی کرنی ہوتی ہے،اس پر کیا سب کو شاباش ملنی چاہیے،آپ قبول کریں کہ آپ نے غلط کیا ہے.

  • پی ٹی آئی رہنما کی ایف آئی اے طلبی کی درخواست پر فریقین سے جواب طلب

    پی ٹی آئی رہنما کی ایف آئی اے طلبی کی درخواست پر فریقین سے جواب طلب

    لاہورہائیکورٹ میں فواد چوہدری کی ایف آئی اے کی طلبی کے نوٹس کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالت نے اہف آئی اے کو فواد چوہدری کے خلاف تادیبی کاروائی سے روکنے کے حکم میں 7 اپریل تک توسیع کردی ،عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلاء کو حتمی بحث کے لئے طلب کرلیا ،عدالتی حکم پر ایف آئی اے کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے رپورٹ جمع کرا دی ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ فواد چوہدری کی ٹویٹ کے حوالے سے انکوائری جاری ہے۔

    فواد چودھری کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز نے ری ٹویٹ میں ایف آئی اے سائبر کرائم کو فواد چوہدری کے خلاف کاروائی کا لکھا۔ اگلے ہی روز ایف آئی اے نے فواد چوہدری کو طلبی کا نوٹس بھجوا دیا۔ ایف آئی اے نے سیاسی دباو پر غیر قانونی کاروائی کرتے ہوئے نوٹس بھجوایا۔ ایف آئی اے کے ذریعے انتخابی مہم سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عدالت ایف آئی اے کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس کوکالعدم قرار دے۔

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    لاہورہائیکورٹ، پولیس، ایف آئی اے کوعمران خان کیخلاف کاروائی سے روکنے کا حکم واپس

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کوجلسے کی اجازت کے باوجود شہر میں کنٹیرز لگا کرراستوں کی بندش کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے درخواست غیر موثر ہونے کی بناء پر نمٹا دی، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ جلسہ ہوچکا اور راستے بھی کلئیر درخواست غیر موثر ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے حماد اظہر کی درخواست پر سماعت کی ، عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت نے مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت دی عدالتی حکم پر ضلعی انتظامیہ نے این او سی بھی جاری کیا۔ جلسے کو ناکام بنانے کے لئے شہر کےداخلی راستوں اور اہم شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا۔راستوں کی بندش سے عام شہریوں کی نقل وحرکت بھی محدود کردی گئی۔
    جلسے کی اجازت کے باوجود رکاوٹوں کا لگایا جانا عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے عدالت راستوں کو فوری طور پر کھولنے اور کنٹینرز ہٹانے کے احکامات صادر کرے۔

  • سپریم کورٹ، انتخابات کیس،بینچ پھر ٹوٹ گیا، جسٹس جمال مندوخیل الگ ہو گئے

    سپریم کورٹ، انتخابات کیس،بینچ پھر ٹوٹ گیا، جسٹس جمال مندوخیل الگ ہو گئے

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل دے دیا ہے.

    کیس پر سماعت جمعہ کے بعد دو بجے ہو گی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ دوپہر دو بجے دوبارہ سماعت کا آغاز کر ے گا، بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں

    قبل ازیں پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق پی ٹی آئی درخواست پر پانچویں سماعت آج ہونی تھی، چار رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا مگر آج پھر بینچ ٹوٹ گیا، جسٹس جمال خان مندوخیل بھی بینچ سے الگ ہو گئے ،الیکشن التوا کیس ، سپریم کورٹ کا 4 رکنی بینچ ٹوٹ گیا . جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس سننے سے معذرت کر لی ،سپریم کورٹ نے کل کی سماعت کا فیصلہ جاری کردیا جس میں جسٹس جمال نے اختلافی نوٹ لکھا اور کہا کہ چیف جسٹس نے مجھ سے مشاورت نہیں کی تھی چیف جسٹس نے عدالت میں آرڈر نہیں لکھوایا تھا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چار رکنی بینچ سماعت کیلئے کمرہ عدالت میں آیا تو جسٹس جمال مندو خیل نے کیس سننے سے معذرت کی اور کہا کہ مجھے گزشتہ روز کے حکم نامے کا انتظار تھا عدالتی حکم نامہ مجھے کل موصول ہوا، میں نے الگ سے اختلافی نوٹ بھی لکھا ہے جسٹس مندو خیل نے اٹارنی جنرل کو اختلافی نوٹ پڑھنے کیلئے کہا جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میں بینچ کا ممبر تھا تحلیل کرتے ہوئے مشاورت نہیں کی گئی میں کل بھی کچھ کہنا چاہ رہا تھا فیصلہ لکھواتے وقت مجھے مشورے کے قابل ہی نہیں سمجھا گیا میں سمجھتا ہوں کہ بینچ میں مس فٹ ہوں

    قبل ازیں پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے لئے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے چار رکنی بنچ تشکیل دیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے سپریم کورٹ نے باقاعدہ کیس کی کاز لسٹ جاری کردی تھی پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق پی ٹی آئی درخواست پر پانچویں سماعت آج ہونی ہے تا ہم آج پھر بینچ ٹوٹ گیا،

    مقدمے میں پی ٹی آئی وکیل علی ظفر اور الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں۔اٹارنی جنرل ، نگران حکومتوں اور گورنرز کے وکلاء دلائل دیں گے۔اٹارنی جنرل، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی نے فل کورٹ کی استدعا کر رکھی ہے۔

    پنجاب اور کے پی عام انتخابات کا معاملہ ،وزیراعظم شہبازشریف نے تیسرے روز بھی اٹارنی جنرل منصور عثمان کو طلب کرلیا.وزیراعظم کی جانب سے اٹارنی جنرل کو مسلسل تین روز سے مشاورت کیلئے طلب کیا جا رہا ہے.اٹارنی جنرل سپریم کورٹ سے وزیراعظم ہاؤس کیلئے روانہ ہوگئے اٹارنی جنرل وزیراعظم سے زیر سماعت مقدمے پر ہدایات لیں گے.چیف جسٹس نے گزشتہ روز اٹارنی جنرل کو وزیر اعظم سے معاملہ پر ہدایات لینے کا کہا تھا

    واضح رہے کہ ایک رو قبل سپریم کورٹ میں کے پی کے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا 5 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا ہے،بینچ میں شامل شامل جج جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کرلی ہے-

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • 16 اگست کو عبوری حکومت آ جائے گی الیکشن کرانا انکا کام ہے،وزیر داخلہ

    16 اگست کو عبوری حکومت آ جائے گی الیکشن کرانا انکا کام ہے،وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹنے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ساری باتوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئینی اور قانونی طور پر درست ہے،عمران خان نے اسمبلی اسلیے توڑی تاکہ وقت سے پہلے الیکشن ہوں عمران خان چاہتے ہیں دو اسمبلیوں کا الیکشن الگ اور تین کا الگ،عمران خان کا یہ اقدام ملک کے لیے بہتر نہیں اس سے ملک میں انارکی آئے گی،عدالت عظمٰی جو فیصلہ کرے گی اسکا احترام ہوگا،8 اکتوبر کو جنرل الیکشن ہوں گے،12 یا 16 اگست کے بعد ہماری حکومت نہیں ہوگی،16 اگست کو عبوری حکومت آ جائے گی الیکشن کرانا انکا کام ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل قاضی فائز عیسیٰ صاحب کی جانب سے فیصلہ آیا کہ ازخود نوٹس کیسز کی سماعت روک دی جائے،ایک جج کے خود کو بینچ سے الگ کرنے کے بعد حل یہی تھا،چیف جسٹس جو فیصلہ کریں ہمیں تسلیم ہے، پی ٹی آئی کو چیف جسٹس کے کسی فیصلے پر اعتراض نہیں ہو گا، اس کیس پر مختلف جج صاحبان کے مختلف نظریات ہیں، مسلئہ بینچ کا نہیں آئین کا ہے،اصل سوال الیکشن کمیشن کے انتخابات ملتوی کرنے کے اختیار کا ہے،یقین ہے بہت جلد نیا بینچ بن جائے گا،ہمیں ساری امید سپریم کورٹ سے ہے ،سپریم کورٹ سے متعلق بل جلدبازی میں پیش کیا جا رہا ہے، مجھے اس بل پر آئینی اعتراض ہے،بل میں کچھ اچھی چیزیں بھی ہیں مگر کئی چیزیں غلط ہیں، ہمیں پراسیس اور قانون دونوں کو مدنظر رکھنا ہے، ان تمام مسائل کا حل عدالت کے پاس ہی ہے،

    ممتاز قانوندان اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ہر کوئی اب بے لباس ہو گیا ہے ،فل کورٹ بنا دیا گیا تو چیف جسٹس کے مخالف ججز بیٹھنے سے انکار کر دیں گے ،شناخت ہو چکی ہے کہ کون کون سے ججز نواز شریف کے ساتھ ہیں، سپریم کورٹ کو انھوں نے مفلوج کر دیا ہے ججز بہت زیادتی کر رہے ہیں ، عوام بھگتے گی ،اب کوئی آئین کی حاکمیت کی توقع نہ رکھے،اب تو ججز کی شناخت ہو سکتی ہے ، ماتھے پر مہر لگ چکی ہے،وزیراعظم نے خود کہا تھا جو ججز ہمارے خلاف ہیں ان کے پاس کیس نہ لگائیں،

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ‌ آصف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا آئین کی حفاظت کی خاطر متحد نظر آنا چاہئے ایک جج کے دستبردار ہونے سے نیا بینچ بنے گا سپریم کورٹ خود کو سیاست کی دلدل سے محفوظ رکھے سیاست کو سیاست دانوں تک محدود رہنے دیا جائے ، کوئی اس میں مداخلت نہ کرے سپریم کورٹ پاکستان میں انصاف کا سب سے بڑا ادارہ ہے ججز ادارے کی عزت کی حفاظت کریں عدلیہ اپنے کنڈکٹ اور فیصلوں سے پہنچانی جاتی ہے عدالت عظمی وہاں کھڑی ہے جہاں ان کا کردار تاریخ ساز ہو گا شدید اختلاف رائے ملک اور جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے انصاف کے پلڑے برابر ہوں تو تاریخ یاد رکھے گی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں کے پی کے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا 5 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا ہے،بینچ میں شامل شامل جج جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کرلی ہے

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم 

  • ظل شاہ کیس، راجہ شکیل زمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    ظل شاہ کیس، راجہ شکیل زمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    پی ٹی آئی رہنما راجہ شکیل زمان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    راجہ شکیل زمان کی جانب سے برھان معظم ملک عدالت میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ ڈی ایس پی پولیس نے کہا ظل شاہ کا قتل ہوا ،وکیل برہان معظم ملک نے عدالت میں کہا کہ راجہ شکیل زمان کیخلاف کوئی شواہد موجود نہیں ،راجہ شکیل زمان اور دیگر نے ظل شاہ کی لاش کو سڑک سے اٹھایا کوئی جرم نہیں کیا،پہلے پولیس نے کہا پی ٹی آئی کارکنان کے تشدد سے ظل شاہ قتل ہوا پھر کیا ظل شاہ ٹریفک حادثے میں قتل ہوا ، راجہ شکیل زمان کیخلاف الزامات جھوٹ ہیں ضمانت منظور کی جائے، راجہ شکیل زمان پر قتل کی معلومات چھپانے کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے

    وکیل نے کہا کہ راجہ شکیل زمان پر اصل ملزمان کو چھپانے اور قاتلوں کو پرچہ ڈالنے کا بھی الزام ہے،یہ سب الزامات بد نیتی کی وجہ سے لگائے گئے کیس سے 302 کی دفعہ ختم ہو چکی ہے دفعہ 322 ٹریفک حادثہ سے موت کی دفعہ شامل کر دی گئی ہے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ راجہ شکیل زمان کے ڈالے میں ظل شاہ کا خون لگا ہوا تھا ظل شاہ کا خون ڈالے سے صاف کرایا گیا ،راجہ شکیل زمان دیگر قاتلوں کے نام چھپا رہے ہیں ،وکیل راجہ شکیل نے کہا کہ ایک ہی کہانی درست ہو سکتی ہے ٹریفک حادثہ میں موت ہوئی یا تشدد سے ،عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا جو بعد میں سنا دیا گیا، زمان پارک میں پولیس آپریشن کے روزمرنیوالے پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ کیس میں حسان نیازی اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنما راجہ شکیل زمان کی ضمانت منظور ہو گئی ہے انسداد دہشتگردی عدالت کے جج اعجاز احمد نے ضمانت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزموں کو ایک ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا

    واضح رہے کہ ظل شاہ کی موت لاہور میں ہوئی تھی، ظل شاہ تحریک انصاف کا کارکن تھا، ظل شاہ کی موت پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر نے الزام پولیس پر لگایا تھا کہ دوران حراست ظل شاہ کی موت ہوئی تا ہم پولیس نے تحقیقات کے بعد واضح کیا تھا کہ ظل شاہ کی موت ٹریفک حادثے میں ہوئی اور تحریک انصاف کے ہی رہنما کی گاڑی کی ٹکر سے ظل شاہ کی موت ہوئی،

    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے

    واضح رہے کہ آئی جی پنجاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ تمام تکنیکی مسائل کو بروئے کار لارے ہوئے بیک ٹریک کیا گیا گاڑی کو 31 کیمروں کی مدد سے گلبہار سیکیورٹی کی بیسمنٹ سے ٹریک کیا گیا گاڑی کی بیک سیٹ پر ظل شاہ کا خون بھی موجود ہے،6 بجکر24 منٹ پر یہ گاڑی فورٹریس اسٹیڈیم کے قریب ظل شاہ سے ٹکرائی ،پنجاب پولیس تمام تفتیش انکے والد کے سامنے خود رکھے گی گاڑی میں جہانزیب اورعمر فرید نامی افراد تھے گاڑی کا مالک راجہ شکیل ہے اور یہ پی ٹی آئی کا سینٹرل پنجاب کے وائس پریزیڈنٹ ہیں

    زمان پارک میں عورتوں کے ساتھ زیادتی

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    زمان پارک بارے آڈیو لیک،مولانا فضل الرحمان بھی خاموش نہ رہ سکے

  • اسلام ہائیکورٹ کے احاطہ میں صحافیوں پر تشدد کیس،عدالت کا حکم جاری

    اسلام ہائیکورٹ کے احاطہ میں صحافیوں پر تشدد کیس،عدالت کا حکم جاری

    اسلام ہائیکورٹ کے احاطہ میں صحافیوں پر تشدد کے کیس میں بڑا حکم جاری کر دیا گیا،

    مقدمہ درج کرنے کی صحافیوں کی درخواست پر عدالت نے پولیس کو قانون کے مطابق کاروائی کا حکم دے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ پولیس صحافیوں کی درخواست پر جلد کاروائی کرے ، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے صحافیوں کی درخواست پر الگ سے مقدمہ درج کرنے کی حمایت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ پولیس کاروائی کرتے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کے موقف کو مدنظر رکھے ،

    اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس اہکاروں کے خلاف اندراج مقدمہ کی صحافیوں کی درخواست پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی ،صحافیوں کی جانب سے وکیل زاہد آصف عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،صحافی ثاقب بشیر ، ذیشان سید ، شاہ خالد ، ادریس عباسی نے درخواست دائر کر رکھی ہے ،ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر رضوان قاضی ، سیکرٹری حسین احمد چوہدری پیش ہوئے ،بیرسٹر جہانگیر جدون نے عدالت میں کہا کہ صحافیوں کا وقوعہ الگ تھا پولیس کے خلاف الگ مقدمہ درج ہونا چاہیے ،پولیس شہریوں کی محافظ ہے قانون سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کر سکتی ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے پولیس کو کہتے ہیں اس درخواست پر قانون کے مطابق کاروائی کرے ، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کا موقف بھی آگیا ہے پولیس نے اس کو بھی دیکھ کر کاروائی کرنی ہے ،

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ پہلے پولیس نے الگ سے ایف آئی آر درج کرنی ہے تفتیش کا عمل بعد کا ہے ، بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ ایف آئی آر درج کرنے کے بعد جس کا جو کردار ہے پولیس اس متعلق رپورٹ دے سکتی ہے ،جب وقوعہ مکمل مختلف ہے تو پولیس ایف آئی آر کیوں درج نہیں کر رہی ؟ وکیل زاہد آصف نے کہا کہ جسٹس آف پیس نے ہمارا موقف تسلیم کیا ہے پولیس نے بھی اعتراف کیا ہے ، جب وقوعہ مکمل الگ ہے تو اس پر الگ مقدمہ درج ہونا ہے ، عدالت نے پولیس کو قانون کے مطابق جلد کاروائی کا حکم دے کر درخواست نمٹا دی

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     کیا عمران خان کی گرفتاری کا امکان ہے؟

  • بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ

    بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ نے بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ سنا دیا

    عدالت نے بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کے قانون کو کالعدم قرار دے دیا ،عدالت نے بغاوت کے قانون سکیشن 124 اے کو کالعدم قرار دیدیا ،جسٹس شاہد کریم نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے دفعہ 124 اے کو آئین سے متصادم قرار دیا ،جسٹس شاہد کریم نے درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا

    درخواست ابوذر سلمان نیازی سمیت دیگر کی جانب سے داٸر کی گٸیں، دائر درخواست میں کہا گیا کہ بغاوت کا قانون 1860 میں بنایا گیا جو انگریز دور کی نشانی ہے.بغاوت کا قانون غلاموں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا. کسی کے کہنے پر بھی مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے،آئین پاکستان ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے،اب بھی بغاوت کے قانون میں حکمرانوں کے خلاف تقاریر کرنے پر دفعہ 124 اے لگا دی جاتی ہے، بغاوت کے قانون کو اب بھی سکیشن 124 اے کے ذریعے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے.حکومت وقت کے خلاف تقاریر پر غداری کا سیکشن 124 اے لگانا آزادی رائے کے سیکشن دس اے کے خلاف ہے، عدالت پی پی سی 1860 کی دفعہ 124-A کو خلاف آئین قرار دے کر کالعدم قرار دے ،

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل