Baaghi TV

Tag: عدالت

  • وزیرآباد ،کمرہ عدالت میں گولیاں چل گئیں، ایک شخص کی موت

    وزیرآباد ،کمرہ عدالت میں گولیاں چل گئیں، ایک شخص کی موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرآباد میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے

    وزیرآباد جوڈیشل کمپلیکس میں کمرہ عدالت کے اندر گولیاں چل گئیں، عدالت کے اندر ہی فائرنگ سے قتل کا ملزم جان کی بازی ہار گیا، پولیس کے مطابق گولیاں چلانے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے.ملزم سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے، ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے. واقعہ کے بعد عدالت کی سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، ملزم اسلحہ لے کر عدالت کیسے پہنچا اسکی بھی تحقیقات ہوں گی اور جو بھی غفلت کا مرتکب ہو گا اسکے خلاف کاروائی ہو گی

    واضح رہے کہ عدالت نومبر 2021 میں بھی گجرات کی عدالت میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا، عدالت کے باہر پسند کی شادی کرنے والی لڑکی پر گولیاں چلائی گئی تھیں جس کے بعد لڑکی کی موت ہو گئی تھی

    اس سے قبل فیصل آباد میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جب عدالت کے باہر گولیاں چل گئی تھیں، لاہور میں بھی ایسے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، پولیس کئی بار ملزمان کو عدالت کے باہر سے گرفتار کر چکی ہے جن سے اسلحہ برآمد ہوا ہے،جڑانوالہ عدالت میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جب مخالفین نے فائرنگ کرکے نوجوان ملزم کو قتل اور اسکے ساتھی کو زخمی کردیا تا ہم بعد میں زخمی کی بھی موت ہو گئی

    واضح رہے کہ عدالت میں اسلحہ لے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی کئی واقعات پیش آ چکے ہیں، اس سے قبل 4 جولائی کو بھی پولیس نے کاروائی کی تھی, عدالت کے باہر سے پولیس نے دس مسلح افراد کو گرفتار کر لیا جو عدالت میں داخل ہونا چاہتے تھے، ملزمان کے قبضہ سے اسلحہ برآمد ہوا ہے. پولیس کے مطابق 3مسلح افرادپارکنگ میں کھڑے تھے جبکہ 7 عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے.

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل،مفتی عزیز الرحمان کے بیٹوں کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت

  • عمران خان عدالت جانے سے پہلے جادو ٹونہ کراتے ہیں،شرجیل میمن

    عمران خان عدالت جانے سے پہلے جادو ٹونہ کراتے ہیں،شرجیل میمن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما، سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ کل کے افسوسناک واقعے کی مذمت کرتا ہوں ،کمپنی زکوۃ کی تقسیم کر رہی تھی،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ فیکٹری مالکان نے زکوات کی تقسیم کی اطلاع کسی ادارے کو نہیں دی ،گورنمنٹ نے فوری طور پر ایف آئی آر کاٹ کر گرفتاریاں کی ،وزیر اعلی سندھ نے پانچ لاکھ روپے انتقال کرنے والوں کے لواحقین اور ایک لاکھ روپے زخمیوں کے لیے اعلان کیا ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اٹھتر لاکھ خاندانوں کو دو ہزار روپے آٹے کی مد میں دیے جائیں گے، زکواۃ کی تقسیم کا کام نیکی کا ہے، انتظامات ضروری ہوتے ہیں انتظامیہ کو نہیں بتایا، 78لاکھ فیملیز کو آٹے کی سبسڈی کے لئے 2000 روپے دیئے جائیں گے،38لاکھ 245 لوگوں کو میسیج جاچکے ہیں جن میں سے دس لاکھ سے زائد افراد کو دو ارب پچیس لاکھ 64ہزار روپے عوام لے چکی ہے،

    ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ ملک کے آئین اور قانون کے بلڈوز کیا جا رہا ہے تاریخ میں اس قبل قانون کی بے توقیری نہیں دیکھی ،ہم یہ دیکھ رہے ہیں قانون اور آئین کی کوئی اہمیت نہیں، اس ملک میں ڈنڈے کے زور پر فیصلے ہونگے ،پولیس کے اوپر پیٹرول بم پھینکے گئے اگر پولیس اہلکار شہید بھی ہو جاتے تو بھی کجھ نہیں ہوتا ، معزز جج صاحبان پیٹرول بم پھینکے والوں کو ضمانت دے رہے ہیں ، عمران خاں نے ایک دفہ نہیں بولا ہم کارکنان کو روک رہے ہیں ،اس سے بڑی لاقانونیت کہیں نہیں ہے ،پیٹرول بم کے ماسٹر مائنڈ کو ضمانت دی جا رہی ہیں عدالتوں سے بھی کلین چٹ مل جاتی ،عمران خان کبھی بھی عدالت کے بلانے پر نہیں گیا، عمران خان موڈ کے حساب سے عدالت جاتے ہیں ،عمران خان عدالت جانے سے پہلے جادو ٹونہ کراتے ہیں،عارف علوی اور یاسمین راشد کی آڈیو لیک کی آج تک کوئی تردید نہیں آئی،فیصلہ دوسروں کے لیے مثال بننے چاہیئے،قانون سب کے لیے ایک جیسا ہوگا تو ملک چل سکتا ہے،

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

    سندھ حکومت نے گوٹھوں کی لیزکے لئے کمیٹی بنائی ہے،

    ،پانی میں کرنٹ کے کوئی شواہد نہیں ملے،

  • آشیانہ اقبال ریفرنس کی سماعت ملتوی،شریک ملزم کی بریت کی درخواست

    آشیانہ اقبال ریفرنس کی سماعت ملتوی،شریک ملزم کی بریت کی درخواست

    احتساب عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف اور یگر کے خلاف آشیانہ اقبال ریفرنس کی سماعت 8 اپریل تک ملتوی کر دی

    لاہور کی احتساب عدالت نمبر 5 کے جج ساجد علی اعوان نے آشیانہ اقبال ریفرنس پر سماعت کی ،عدالت نے ملزمان میں ضمنی ریفرنس کی کاپیاں تقسیم کر دیں نیب نے شریک ملزمان کی حد تک ضمنی ریفرنس دائر کیا ،شریک ملزم کامران کیانی نے بریت کی درخواست دائر کر دی جس میں کامران کیانی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ نیب تفتیش میں شامل ہوا میرے خلاف کوئی شواہد نہیں مجھے کیس سے بری کیا جائے

    وزیراعظم شہباز شریف کے پلیڈر انوارحسین حاضری کے لیے پیش ہوئے عدالت نے شہباز شریف کو حاضری سے مستقل استثنیٰ دے رکھا ہے فواد حسن فواد کے پلیڈر بھی عدالت میں حاضری کیلئے پیش ہوئے سابق ڈی جی ایل ڈی اے اور وزیرِ اعظم کے مشیر احد خان چیمہ، شریک ملزم ندیم ضیا پیرزادہ، کامران کیانی اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    نیب ریفرنس کے مطابق 16ہزار غریب شہریوں نے آشیانہ اقبال کیلئے 61 کروڑ روپے جمع کروائے ،پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی نے 20 جنوری 2015 کو معاہدہ کیا، تین سال گزرجانے کے باوجود منصوبہ مکمل نہ ہو سکا، کمپنیوں کی نااہلی کی وجہ سے پنجاب حکومت کو 64 کروڑ 50لاکھ روپے سے زائد رقم کا نقصان اٹھانا پڑا

  • بشری بی بی کی طبیعت خراب

    بشری بی بی کی طبیعت خراب

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے

    بشریٰ بی بی کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں علاج کے لئے نجی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سیف اعوان نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے، کہ بشریٰ بی بی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی زمان پارک میں ہی عمران خان کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں، عمران خان جب اسلام آباد پیشی کے لئے گئے تو پولیس نے زمان پارک میں آپریشن کیا اسوقت عمران خان نے کہا تھا کہ بشریٰ بی بی گھر پر اکیلی ہیں اور کوئی گھر میں نہیں تھا

    عمران خان کی بشریٰ بی بی سے تیسری شادی ہے اس سے قبل انہوں نے پہلی شادی جمائما سے کی جو طلاق پر ختم ہوئی جمائما سے ان کے دو بیٹے ہیں بعد ازاں دوسری شادی ریحام خان سے کی وہ بھہ طلاق پر ختم ہو گئی تھی، بشریٰ بی بی بھی شادی شدہ تھیں تا ہم عمران خان سے شادی سے قبل انہوں نے طلاق لی اور عدت کے دوران ہی نکاح ہو گیا تھا جس کا اعتراف نکاح خواں نے بھی کیا بعد ازاں دوسری بار بھی نکاح پڑھایا گیا تھا پی ٹی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے رکن اور نکاح خوان مفتی سعید خان نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح دو مرتبہ پڑھایا گیا-انہوں نے بتایا کہ پہلا نکاح عدت کے دوران ہونے کی وجہ سے فاسد تھا، علم ہونے پر دوسری بار نکاح پڑھانا پڑا ،پہلے نکاح کےموقع پر بشریٰ بی بی کی عدت کی مدت مکمل نہیں تھی، نکاح کے موقع پر مجھے اس متعلق لاعلم رکھا گیابعد میں علم ہونے پرمیں نے نکاح کو فاسد قرار دے کر شریعت کے مطابق دوسرا نکاح پڑھایا۔

    بشریٰ بی بی اور تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری کی ایک آڈیو بھی سامنے آئی تھی،عمران خان کہتے ہیں کہ بشریٰ بی بی گھریلو خاتون اور باپردہ ہیں تاہم زلفی بخاری کے ساتھ آنیوالی آڈیو نے عمران خان کے دعووں کو ہوا میں اڑا کر رکھ دیا تھا،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

  • ہم آئین پر عمل چاہتے ہیں،شاہ محمود قریشی

    ہم آئین پر عمل چاہتے ہیں،شاہ محمود قریشی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما، شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فل کورٹ بنائیں،

    شاہ محمود قریشی نے عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین پر عمل نہ کیا گیا تو ملک کو بہت نقصان ہو گا،چیف جسٹس نے آئین و قوانین کے مطابق 3 رکنی بینچ بنایا، تحریک انصاف چیف جسٹس آف پاکستان کیساتھ ہے، حکومت آئین پر حملہ کر رہی ہے، ہم آئین پر عمل چاہتے ہیں، مجھ پر الزام ہے کہ میں نے لوگوں کو اکسایا،میں اکسانے والوں میں سے نہیں سمجھانے والوں میں سے ہوں،کل کور کمیٹی میٹنگ میں سپریم کورٹ کی آُب بیتی بیان کی، سیاسی جماعتوں سے رجوع کر نے کا فیصلہ کیا ہے علی ظفر نے عدالت میں ہمارا نقطہ نظر پیش کر دیا،متفقہ آئین پر حملہ ہو رہا ہے اور بلاول خاموش ہیں اگر کسی قسم کی آئین شکنی کی کوشش کی گئی تو پوری قوم، وكلا برادری اور اوورسیز پاکستانی ان کا محاسبہ کریں گے

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

    شاہ محمود قریشی کا مید کہنا تھا کہ عدلیہ آئین کا تحفظ کررہی ہے تو خود کو تنہا نہ سمجھے، ہم عدالتی فیصلے کے منتظر ہیں، عدالت آئین کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے تو انتخابات کی توقع کی جا سکتی ہے حکومت عدالتی فیصلہ کیسے نہیں مانے گی؟ یہ کون ہوتے ہیں نہ ماننے والے، پوری قوم ان کا محاصرہ اور محاسبہ کرے گی

  • سیشن کورٹ، تحریک انصاف کے رہنما عدالت پیش نہ ہوئے

    سیشن کورٹ، تحریک انصاف کے رہنما عدالت پیش نہ ہوئے

    سیشن کورٹ میں پریس کانفرنس کے دوران اشتعال انگیز گفتگو اورسڑک بلاک کرنے کے مقدمہ کی سماعت ہوئی

    سیشن کورٹ میں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی، فواد چودھری سماعت 3 ملزموں کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی،ایڈیشنل سیشن جج ندیم حسن وسیرنے عبوری ضمانتوں پرسماعت کی،فواد چودھری ،شاہ محمود قریشی اور شبلی فراز عدالت پیش نہ ہوئے،پولیس کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کر دی گئی، ملزموں کے وکلا نے سماعت کچھ دیر تک ملتوی کرنے کی استدعا کردی،جس کے بعد عدالت نے وکیل کی استدعا کو منظور کرلیا ،عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی،

    بعد ازاں دوبارہ سماعت ہوئی تو تحریک انصاف کے رہنما عدالت پش ہو گئے،عدالت نے فواد چوہدری کی عبوری ضمانت میں 13 اپریل تک توسیع کر دی

    عدالت پیشی کے موقع پر تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پرچے کاٹنے کا ماحول بنا دیا گیا ہے،عمران خان پر 40 پرچے تو صرف دہشتگردی کے ہیں،مجھ پر تقریباََ 7 کیسز ہیں کسی کا کوئی سر پیر نہیں ،ایک اور مقدمے میں ضمانت کیلئے پیش ہوا ہوں،زمان پارک کے باہر پریس کانفرنس کرنے پر مقدمہ بنا دیا گیا،مقدمے میں آج عدالت سے ضمانت ملی ،اظہر مشوانی اور شاہد حسین کو اغوا کیا گیا، ریمنڈڈیوس 2 بندے مار کر چلا گیا، ایک دن کی بھی سزا نہیں ہو سکی، میرے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا جب میں لاہور میں تھا ہی نہیں ۔

    ملزموں کے خلاف تھانہ ریس کورس پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے ،تحریک انصاف کے رہنما مقدمے میں تحقیقات کے لئے نہیں گئے بلکہ گرفتاری کے ڈر سے انہوں نے درخواست ضمانت دائر کر رکھی ہے،

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

  • وزیراعظم کی ڈگری کی تفصیل مانگنے والے درخواست گزار پر جرمانہ

    وزیراعظم کے پاس کونسی ڈگری؟ عدالت میں درخواست پر عدالت نے درخواست گزار پر جرمانہ عائد کر دیا اور فیصلے میں کہا کہ وزیراعظم کے پاس جو بھی ڈگری ہے کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں

    فیصلہ بھارت کی عدالت نے دیا، گجرات ہائیکورٹ مین درخواست دائر کی گئی تھی جس پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے وزیراعظم آفس کو حکم دیا کہ انکی ڈگری کا سرٹفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں نہ ہی کسی کو وزیراعظم کی ڈگری بارے بتایا جائے، جسٹس بیرین نے فیصلے میں چیف انفارمیشن کمیشن کے پی ایم او کے پی آئی او کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا جس میں کہا گیا تھا کہ گجرات یونیورسٹی اور دہلی یونیورسٹی مودی کی ڈگریوں کی تفصیلات فراہم کریں،گجرات ہائیکورٹ نے وزیراعظم کی ڈگری بارے کسی بھی قسم کی تفصیلات سے روک دیا،

    گجرات ہائیکورٹ نے فیصلہ کے ساتھ درخواست گزار دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجیریوال پر 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا، جنہوں نے مودی کی ڈگری کے لئے تفصیلات طلب کی تھی، عدالت نے درخواست گزارکی درخواست کو گمراہ کن قرار دے دیا

    عدالتی فیصلے کے بعد درخواست گزار اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ کیا بھارت میں کسی کو یہ جاننے کا حق بھی حاصل نہیں کہ بھارت کا وزیراعظم پڑھا لکھا ہے یا نہیں؟ اگر مودی پڑھا لکھا ہے تو ڈگری سامنے لائے اگر ایسا نہیں کرتا تو ان پڑھ وزیراعظم ملک کے لئے بہت خطرناک بات ہے، عدالت نے ہماری درخواست کی مخالفت کیوں کی،

    علاوہ ازیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے جج اتُل سری دھرن نے گزشتہ دنوں سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ میری بیٹی آئندہ برس اسی عدالت سے جہاں میں ابھی فرائض انجام دے رہا ہوں وکالت کا آغاز کرے گی اس لیے میرا تبادلہ کسی اور ریاست میں کردیا جائے بطور جج اسی ہائی کورٹ میں رہنا مفادات کا ٹکراؤ ہوگا اس لیے اس سے بچنے کے لیے میرا تبادلہ کردیا جائے سپریم کورٹ نے جج کی استدعا منظور کرتے ہوئے ان کا تبادلہ مقبوضہ جموں کشمیر ہائی کورٹ میں کردیا ،

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

  • سپریم کورٹ،انتخابات کیس، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خزانہ  آٸندہ سماعت پر طلب

    سپریم کورٹ،انتخابات کیس، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خزانہ آٸندہ سماعت پر طلب

    پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کا آغاز کر دیا ،پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کونسل عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو بعد میں سنیں گے ، حسن رضا پاشا نے کہا کہ بار کا کسی کی حمایت سے کوئی تعلق نہیں ہے ،اس پر فل کورٹ نہیں بن رہا تو فل کورٹ میٹنگ بنا دیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر ہم سوچ رہے ہیں ججز کے آپس میں تعلق اچھے ہیں۔ کل اور آج دو ججوں نے سماعت سے معذرت کی باہمی اعتراف اور شائستہ گفتگو پہلے بھی ہوئی اور بعد میں بھی۔کچھ نقاط پر ہماری گفتگو ضروری ہے سیاسی معاملات سامنے آئے جس پر میڈیا اور پریس کانفرسنز سے تیل ڈالا گیا۔ عدالت نے سارے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کیا۔ کچھ لوگ چند ججز پر تنقید کررہے ہیں کچھ دوسرے ججز پر تنقید کررہے ہیں۔ ہم اس معاملہ کو بھی دیکھیں گے۔ اس معاملہ پر مجھے چیمبر میں ملیں،آج پہلی بار آپ عدالت آئے ہیں، باتوں سے نہیں عمل سے خود کو ثابت کریں،چیمبر میں آئیں آپ کا بہت احترام ہے،سپریم کورٹ بار کے صدر مجھ سے رابطے میں رہے ہیں،معاملہ صرف بیرونی امیج کا ہوتا تو ہماری زندگی پرسکون ہوتی، میڈیا والے بھی بعض اوقات غلط بات کردیتے ہیں،عدالت ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، سماعت کے بعد کچھ ملاقاتیں کروں گا، تو قع ہے کہ پیر کا سورج اچھی نوید لے کر طلوع ہوگا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب جو نکتہ اٹھانا چاہیں اٹھا سکتے ہیں، عدالت نے کچھ مقدمات میں حالات کی پیروی کے لیے فریقین کو ہدایت کی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے گزارش ہے کہ پہلے درجہ حرارت کم کریں،ملک میں ہر طرف درجہ حرارت کم کرنا چاہیئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ درجہ حرارت کم کرنے کے لیے آپ نے کیا کیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ہی درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ہمیشہ آئین کو ہی فوقیت دی ہے،ججز کو دفاترسے نکال کر گھروں میں قید کیا گیا،معجزہ ہوا کہ ججز واپس دفاتر میں آ گئے،نوے کی دہائی میں کئی بہترین ججز واپس نہیں آ سکے آئین، جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے، کل تک جیلوں میں رہنے والے آج اسمبلی میں تقاریر کر رہے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں، اسمبلی کی مدت ہوتی یے، ہاؤس کے سربراہ کو تحلیل کا ختیار ہے، نوے دن کا وقت اپریل میں ختم ہو رہا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے نوے دن کی مدت کے پندرہ دن بعد تاریخ دی،صدر کو الیکشن کمیشن نے حالات نہیں بتائے تھے،صدر کو حالات سے اگاہ کیا ہوتا تو شاید 30 اپریل تاریخ نہ آتی عدالت کے سامنے مسئلہ اٹھ اکتوبر کی تاریخ کا ہے ،عدالت مشکلات پیدا کرنے نہیں بیٹھی عدالت کو ٹھوس وجہ بتائیں یا ڈائیلاگ ،ایک فریق پارٹی چیئرمین کی گارنٹی دے رہا ہے، شاید حکومت کو بھی ماضی بھلانا پڑے گا،اسمبلیوں کی مدت ویسے بھی اگست تک مکمل ہورہی ہے،اگر حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہوں تو کچھ دن وقفہ کرلیں گیے،اگر مذاکرات نہیں ہونے تو آئینی کردار ادا کریں گے،عدالتی فیصلہ دیکھ کر کہیں گے کہ بااختیار فیصلہ ہے۔ ہر فریق کے ہر نقطے کا فیصلے میں ذکر کریں گے، بیس ارب کی اخراجات پر پہلے عدالت کو بتائیں۔ اخراجات کم کرنے کی تجویز دی تھی،دوسرا مسئلہ سیکیورٹی کا ہے ،نصف پولنگ سٹیشن انتہائی حساس یا حساس ہیں، صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ملک میں دہشتگردی ہے، دہشتگردی تو 90 کی دہائی سے ہے عدالت کو بتایا گیا کہ افواج بارڈر پر مصروف ہیں، اس معاملے کو بھی دیکھنا ہو گا،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ آج عدالت کا جاری سرکلر دیکھا یے، جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ بھی پڑھا ہے، جسٹس جمال مندوخیل بینچ سے الگ ہو چکے ہیں ،دوسرا نقطہ یکم مارچ کے فیصلے کے تناسب کا ہے،تیسرا نکتہ یکم مارچ کے فیصلے کی بنیاد پر ہی ہے، موجودہ درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی حکم یے، نو رکنی بینچ کے دو اراکین نے رضا کارانہ بینچ سے علیدگی اختیار کی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو کس نے کہا کہ دو ججز بینچ سے الگ ہوئے تھے، عدالت کا ستائس فروری کا حکم پڑھیں اس میں کہاں لکھا ہے،؟ اٹارنی جنرل نے ستائیس فروری کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ چیف جسٹس کو بینچ کی ازسر نو تشکیل کے لیے بھیجا گیا تھا،چاہتا تو تمام ججز کو بھی تبدیل کر سکتا تھا،اگر آپ وہی کرنا چاہتے ہیں جس سے مسئلہ بنا تو یہ ہماری پرائیوسی میں مداخلت ہوگی۔آرڈر میں دوبارہ بینچ کی تشکیل کا کہا گیا، بینچ کی تشکیل دینا چیف جسٹس کا اختیار ہے، دوبارہ 9 رکنی بینچ بنایا جاسکتا تھا، کتنے رکنی بینچ بنا یا ٹوٹا اس میں مت جائیں، ایسا کر کے آپ ہماری حدود میں مداخلت کر رہے ہیں۔ بینچ کی تشکیل ہمارا اندرونی معاملہ ہے، سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات کو پبلک پر اچھالا جانا بدقسمتی ہے، بینچ کی تشکیل سپریم کورٹ کا اندرونی اختیار ہے ایک دوسرے کی عزت کریں تاکہ معاملات حل ہوں .دوبارہ بینچ کے معاملات میں مت جائیں،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ نے کہا کہ ججز نے سماعت سے معذرت نہیں کی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا،سماعت روکنے والا حکم ہم ججز آپس میں زیر بحث لائیں گے، آپ درجہ حرارت کم کرنے والی بات کر رہے تھے، ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے دن فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نکتے پر آپ دلائل ضرور دیں ،فل کورٹ والا معاملہ میرے ذہن میں تھا ،عدالتننگ بینچ بناتے وقت بہت کچھ ذہن میں رکھنا ہوتا ہے،ایک بات یہ زہن میں ہوتی ہے کہ معمول کے مقدمات متاثر نہ ہوں،موجودہ دور میں روز نمٹائے گیے مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے، بعض اوقات تمام ججز دستیاب نہیں ہوتے،گزشتہ ہفتے کویٹہ کراچی اور لاہور میں بھی بینچ تھے اس ہفتے بھی لاہور میں بینچ تھا .فل کورٹ بنانے سے قبل کئی معاملات کو زیر غور رکھنا ہوتا ہے، دیکھنا ہوتا ہے بینچ بنانے سے دیگر کام نہ رکے، فل کورٹ بنانے سے دیگر کیسز متاثر ہوتے ہیں کئی مواقع پر ججز کی عدم موجودگی کے باعث فل کورٹ کا کام متاثر ہوتا ہے،نو رکنی بینچ تشکیل دیتے وقت تمام ججز کے بارے میں سوچا،جسٹس اطہر من اللہ کو آئین سے ہم آہنگ پایا، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی آئین کے ماہر ہیں،آپ پوچھ سکتے ہیں جسٹس مظاہر نقوی کیوں شامل کیے گئے، جسٹس مظاہر نقوی کو شامل کرنا خاموش پیغام دینا تھا،دو سال جسٹس فائز عیسیٰ کیس چلا اور عدالت کو سزا ملی ،جسٹس فائز عیسیٰ کے لیے بھی مقدمہ سزا ہی تھا، ہمارے ایک ساتھی کا دو سال ٹرائل کیا گیا،دو سال کے ٹرائل کے بعد بھی کچھ نہیں نکلا۔ سپریم کورٹ میں آج بھی اتفاق ہے، طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو اندازہ نہیں سپریم کورٹ کتنا متاثر ہورہی ہے، آج ججز کی آڈیوز لیک کی جارہی ہیں۔ سیاسی معاملات اور سنی سنائی باتوں پر نشانہ ججز کو بنایا جا رہا ہے، سپریم کورٹ متحد تھی کچھ معاملات میں اب بھی ہے، اہم عہدوں پر تعینات لوگ کس طرح عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں، مجھے کہا جا رہا ہے کہ ایک اور جج کو سزا دوں، جا کر پہلے ان شواہد کا جائزہ لیں۔سپریم کورٹ میں بیس سال کی نسبت بہترین ججز ہیں ،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کے فیصلے پڑھیں، جسٹس شاہد وحید نے بہترین اختلافی نوٹ لکھا،آڈیو لیک کی بنیاد پر کیسے نشانہ بنایا جائے ،قانون پر بات کریں تو میں بطور جج سنوں گا، میرے ججز کے بارے میں بات کریں گے تو میرا سامنا کرنا پڑے گا،میرا بھی دل ہے میرے بھی جذبات ہیں، جو کچھ کیا پوری ایمانداری سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر کیا ،جو کچھ آج تک کیا آئین اور قانون کے مطابق کیا ،ٹیکس کا معاملہ ہے تو متعلقہ افسر کو کہیں ٹریس کریں ٹیکس معاملے پر کیسے جج کا ٹرائل کریں، جسٹس اقبال حمید الرحمان کو استعفی سے روکا تھا، جسٹس اقبال حمید الرحمان نے کہا مرحوم باپ کو کیا منہ دکھاوں گا،چیف جسٹس کی کمرہ عدالت میں جذبات سے آواز بھر آئی

    دوران ریمارکس چیف جسٹس عمر عطا بندیال جذباتی ہوگئے، عرفان قادر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سماعت کے دوران جذباتی نہیں ہونا ہے،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی چاہیے، درجہ حرارت کم کرنے والی آپشن پر ہی رہیں،ہمارے سامنے فاروق نائیک، اکرم شیخ اور دیگر سینئر وکلا موجود ہیں،ہم پہلے حکومت کا موقف سننا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت کو معاشی صورتحال پر آگاہی دی گئی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارا بجٹ میں خسارہ ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ فرض کریں کہ اگر خسارہ اکتوبر تک رہا تو پھر کیا ہوگا،

    عرفان قادر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف پورا نہیں سنا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو بات مکمل کرنے دیں، عرفان قادر نے کہا کہ میں صرف 3 منٹ بات کرتا ہوں،روز مجھے گھنٹوں بیٹھنا پڑتا ہے،آپ جذباتی ہوسکتے ہیں تو ہم بھی ہوسکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سنیں گے آپ نے 3 منٹ کا کہا ہے،عرفان قادر نے کہا کہ 3 منٹ نہیں بلکہ مختصرا بات مکمل کرنے کی کوشش کرونگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیس کی بات کریںادھر ادھر کی باتوں سے میں جذباتی ہوگیا تھا،اٹارنی جنرل صاحب سکیورٹی اور فنڈز پر بات کریں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے سیاسی جماعتوں کو سن لیں، بعد میں دلائل دوں گا،معاشی حالات پر عدالت کو آگاہ کروں گا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آٹھ اکتوبر تک انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں اس پر جواب دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فاروق ایچ نائیک ، اکرم شیخ اور کامران مرتضیٰ کو بھی سنیں گے، پہلے ریاست پاکستان کو سننا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ بیس ارب کا نہیں پوری معیشت کا یے،ملک کو پندرہ سو ارب خسارے کا سامنا ہے، تیس جون تک شرح سود بائیس فیصد تک جا سکتی ہے،شرح سود بڑھنے سے قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ماضی کے قرضوں پر بھی نئی شرح سود لاگو ہوتی ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ حکومت کے پاس اس وقت کتنا پیسہ موجود ہے،فیڈرل کونسلیڈیٹڈ فنڈز میں کتنی رقم موجود ہے، اگر بیس ارب خرچ ہوتے ہیں تو خسارہ کتنے فیصد بڑھے گا،پندرہ سو ارب خسارے میں بیس ارب سے کتنا اضافہ ہو گا، الیکشن اخراجات شاید خسارے کے ایک فیصد سے بھی کم ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپلیمنٹری بجٹ میں 170 ارب کی توقع ہے، اگر پورا جمع ہو گیا،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ فیڈرل کونسلیڈیٹڈ فنڈز کس کے کنٹرول میں ہوتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ فنڈز وزارت خزانہ کے کنٹرول میں ہوتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2019 کے رولز پڑھ کر بتائیں فنڈ کس کے کنٹرول میں ہوتا ہے، پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ کے تحت رولز کا جائزہ لیں، رولز کے مطابق تو کونسلیڈیٹڈ فنڈز سٹیٹ بینک میں ہوتا ہے، سٹیٹ بینک کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں ان کے پاس کتنا پیسہ ہے، الیکشن کمیشن حکومت کی جانب دیکھ رہا ہے ،کمیشن کہتا ہے کہ فنڈز مل جائیں تو تیس اپریل کو الیکشن کروا سکتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فنڈز میں رقم ہونا اور خرچ کے لیے دستیاب ہونا الگ چیزیں ہیں ، سٹیٹ بینک کو رقم اور سونا ریزرو رکھنا ہوتا ہے،

    اٹارنی جنرل نے دوبارہ فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تین دن سے آپ کو سن رہے ہیں،عدالت کا ایک ایک دن اہم ہے،آپ چاہتے ہیں بینچ میں مزید ججز شامل کریں تاکہ دلائل دوبارہ سے شروع کرنے پڑیں ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بار بار فل کورٹ کے مطالبات کرنے کا کیا مقصد ہے؟ دنیا کے کسی عدالتی سسٹم میں ایسے مطالبات نہیں کیے جاتے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ فل کورٹ پر اعتماد ہوگا یہ رویہ درست نہیں،عدالت کا ایک ایک لمحہ اہم ہے،ہمیں بتایا جائے کب الیکشن کرانے ہیں،ہم سیاسی جماعتوں سے بھی الیکشن سے متعلق یقین دہانیاں لیں گے، لگتا ہے اٹارنی جنرل کے پاس مزید کہنے کو کچھ نہیں،الیکشن کرانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، ہمیں حکومت کی مشکلات کا اندازہ ہے، 90 روز کے اندر الیکشن نہیں کرائے جاسکے صرف یہ دیکھنا ہے مزید کتنے دن درکار ہوں گے الیکشن کیلئے،ہم اس عدالت میں تمام فریقین کو بلائیں گے، تمام فریقین سے معاونت کیلئے یقین دہانیاں لیں گے،سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت ہر سیکریٹری خزانہ کو نوٹس جاری کردیے سیکرٹری دفاع اور سیکریٹری خزانہ سوموار کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا گیا،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ بنانے کی درخواست فی الحال مسترد کردی،

    سپریم کورٹ سماعت پیر صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی، سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خزانہ کو آٸندہ سماعت پر طلب کر لیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار ٹوٹنے پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نئی صورتحال کے پیش نظر اٹارنی جنرل کو ایک بار پھر فل کورٹ کی استدعا کرنے کی ہدایت کر دی ، وزیر قانون نے انتخابات التوا کیس میں سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹنے پر قانونی ٹیم سے تفصیلی مشاورت کی، انہوں نے الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر سے قانونی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک اور ن لیگ کے وکیل اکرم شیخ بھی اس دوران گفتگو میں شریک رہے

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

  • بیکریز کو رات ایک بجے تک کام کرنے کی ملی اجازت

    بیکریز کو رات ایک بجے تک کام کرنے کی ملی اجازت

    لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک کے حوالہ سے کیس کی سماعت ہوئی،

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سماعت کی، عدالت نے دوران سماعت انڈر پاسز کی بجائے سڑکوں کی ری ماڈلنگ سے متعلق رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کی ری ماڈلنگ کی بجائے انڈر پاسز بنائے جا رہے ہیں مسائل پھربھی حل نہیں ہورہے بلکہ بڑھ رہے ہیں ٹریفک پولیس کی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے انکے پاس کیمرے اور دیگر آلات ہونے چاہئے ، عدالت نے بیکریز کو رات ایک بجے تک کام کرنے کی اجازت دے دی اور ساتھ ہی ماحولیاتی سفیر مقرر کرنے کا حکم بھی دیا ہے

    عدالت نے کہا کہ واٹراینڈ انوائرمنٹل کمیشن آئندہ سماعت پر ماحولیاتی سفیر کے لیے نام تجویز کرے ،عدالت نے ایل ڈی اے کو جوہرٹاؤن کے مال کے اطراف غیر قانونی پارکنگ ہٹانے اور غیر قانونی پارکنگ کرنے والوں کے خلاف جرمانے کا بھی حکم دیا

    سموگ سے بچاؤ،چار ماہ میں 1730 مقدمے درج، نوکروڑ جرمانہ

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    نرسری وارڈ میں 4 بچوں کے جاں بحق ہونے پر وزیراعلیٰ کا نوٹس

    پسند کی شادی جرم بن گئی، سفاک ملزمان نے بچوں،خواتین سمیت سات افراد کو زندہ جلا ڈالا

    عدالت نے اسموگ کے خاتمے کے لیے کیمروں پر آنے والی لاگت کی رپورٹ طلب کر لی۔ کہا محکمہ زراعت تخمینہ لگا کر رپورٹ پیش کرے۔ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسموگ کی روک تھام سے متعلق ہم قانون سازی کروا رہے ہیں سموگ کے تدارک کے لیے بڑے شہروں میں انڈسٹریل ایریاز بنائے جائیں۔عدالتی کمیشن نے کہا ہے کہ حکومت کو ماحولیات کے بارے ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے۔حکومت دانستہ رقم نہیں دے رہی۔

  • پہلے استعفی پھرمکر جانا،پاکستان کی عوام کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے؟ عدالت برہم

    پہلے استعفی پھرمکر جانا،پاکستان کی عوام کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے؟ عدالت برہم

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،ممبر قومی اسمبلی شکور شاد کے استعفے کی منظوری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے سیکرٹریٹ قومی اسمبلی سے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے شکور شاد کے استعفی منظور کرنے کا آرڈر 28 اپریل کو طلب کر لیا،کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی. دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق وکیل درخواست گزار پر برہم ہو گئے، اور کہا کہ آپ نے استعفی دیا اس ہر دستخط کیے تھے ، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی ہمارے دستخط تھے لیکن وہ استعفی پارٹی پریشر میں دیا گیا تھا ،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا دستخط بس ایسے ہی کیے گئے کیا کوئی جوق ہے یہ ، کیا ہو رہا ہے آج آپ یہ کر رہے ہیں کل آپ ملک کے لیے کیا کریں گے، آپ آرٹیکل 62 پر کیسے پورا اتریں گے،آپ اپنے لوگوں اور ووٹرز کے امانت دار ہیں آپ کیا کر رہے ہیں،9 مارچ کا آدڈر تھا کہ آپ نے اپنے استعفے سے انکار کیا تھا، وہ لیٹر ہے آپ کے پاس.وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 29 جولائی کو استعفیٰ منظور ہوا، اس کورٹ نے ستمبر میں فیصلہ معطل کیا.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے دستخط اصلی نہیں تھے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ دستخط تو اصلی تھے، مگر پارٹی پالیسی پر استعفیٰ دیا تھا. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استعفے پر پارٹی پالیسی کے خلاف جانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا، وہ تو منی بجٹ بل اور عدم اعتماد پر فرق پڑتا ہے. آپ نے پارٹی پریشر پر استعفیٰ دے دیا آپ ملک کے لیے کیسے سٹینڈ لے سکتے ہیں. پہلے استعفی پھر مکر جانا،پاکستان کی عوام کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے؟ آپ کی ٹرسٹ والی کیا پوزیشن ہے، کیا آپ سسٹم کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں،آپ سسٹم کو فن سمجھ رہے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہم مانتے ہیں اصل سٹیک ہولڈر عوام ہے،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر مذاق بھی تو عوام کے ساتھ ہو رہا یے،اسی طرح کی دیگر رٹ پر بھی ابھی آنا ہے ہم نے کہ اس ملک میں کیا ہورہا ہے ،وکیل شکور شاد نے کہا کہ ہم نے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہا کہ پارٹی پریشر پر استعفیٰ دیا، مگر اسپیکر نے کہا کہ وہ جواب سے مطمئن نہیں. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اسپیکر نے ایسا کوئی لیٹر جاری کیا ہے؟ 3 مارچ 2023 کے لیٹر کو ریکارڈ پر لے کر آئیں. پارٹی لیڈر شپ نے آپ کو پریشرائیز کیا اس کے خلاف دعویٰ دائر کریں.رٹ میں میں شہادتیں نہیں لے سکتا.ہر چیز کو ہم نے مزاق بنا کر رکھ دیا یے آپ نے پورے ملک کے لیے قانون سازی کرنی ہوتی ہے،اس پر کیا سب کو شاباش ملنی چاہیے،آپ قبول کریں کہ آپ نے غلط کیا ہے.