Baaghi TV

Tag: عدالت

  • پی ٹی آئی رہنما کی ایف آئی اے طلبی کی درخواست پر فریقین سے جواب طلب

    پی ٹی آئی رہنما کی ایف آئی اے طلبی کی درخواست پر فریقین سے جواب طلب

    لاہورہائیکورٹ میں فواد چوہدری کی ایف آئی اے کی طلبی کے نوٹس کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالت نے اہف آئی اے کو فواد چوہدری کے خلاف تادیبی کاروائی سے روکنے کے حکم میں 7 اپریل تک توسیع کردی ،عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلاء کو حتمی بحث کے لئے طلب کرلیا ،عدالتی حکم پر ایف آئی اے کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے رپورٹ جمع کرا دی ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ فواد چوہدری کی ٹویٹ کے حوالے سے انکوائری جاری ہے۔

    فواد چودھری کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز نے ری ٹویٹ میں ایف آئی اے سائبر کرائم کو فواد چوہدری کے خلاف کاروائی کا لکھا۔ اگلے ہی روز ایف آئی اے نے فواد چوہدری کو طلبی کا نوٹس بھجوا دیا۔ ایف آئی اے نے سیاسی دباو پر غیر قانونی کاروائی کرتے ہوئے نوٹس بھجوایا۔ ایف آئی اے کے ذریعے انتخابی مہم سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عدالت ایف آئی اے کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس کوکالعدم قرار دے۔

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    لاہورہائیکورٹ، پولیس، ایف آئی اے کوعمران خان کیخلاف کاروائی سے روکنے کا حکم واپس

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کوجلسے کی اجازت کے باوجود شہر میں کنٹیرز لگا کرراستوں کی بندش کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے درخواست غیر موثر ہونے کی بناء پر نمٹا دی، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ جلسہ ہوچکا اور راستے بھی کلئیر درخواست غیر موثر ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے حماد اظہر کی درخواست پر سماعت کی ، عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت نے مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت دی عدالتی حکم پر ضلعی انتظامیہ نے این او سی بھی جاری کیا۔ جلسے کو ناکام بنانے کے لئے شہر کےداخلی راستوں اور اہم شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا۔راستوں کی بندش سے عام شہریوں کی نقل وحرکت بھی محدود کردی گئی۔
    جلسے کی اجازت کے باوجود رکاوٹوں کا لگایا جانا عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے عدالت راستوں کو فوری طور پر کھولنے اور کنٹینرز ہٹانے کے احکامات صادر کرے۔

  • سپریم کورٹ، انتخابات کیس،بینچ پھر ٹوٹ گیا، جسٹس جمال مندوخیل الگ ہو گئے

    سپریم کورٹ، انتخابات کیس،بینچ پھر ٹوٹ گیا، جسٹس جمال مندوخیل الگ ہو گئے

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل دے دیا ہے.

    کیس پر سماعت جمعہ کے بعد دو بجے ہو گی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ دوپہر دو بجے دوبارہ سماعت کا آغاز کر ے گا، بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں

    قبل ازیں پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق پی ٹی آئی درخواست پر پانچویں سماعت آج ہونی تھی، چار رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا مگر آج پھر بینچ ٹوٹ گیا، جسٹس جمال خان مندوخیل بھی بینچ سے الگ ہو گئے ،الیکشن التوا کیس ، سپریم کورٹ کا 4 رکنی بینچ ٹوٹ گیا . جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس سننے سے معذرت کر لی ،سپریم کورٹ نے کل کی سماعت کا فیصلہ جاری کردیا جس میں جسٹس جمال نے اختلافی نوٹ لکھا اور کہا کہ چیف جسٹس نے مجھ سے مشاورت نہیں کی تھی چیف جسٹس نے عدالت میں آرڈر نہیں لکھوایا تھا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چار رکنی بینچ سماعت کیلئے کمرہ عدالت میں آیا تو جسٹس جمال مندو خیل نے کیس سننے سے معذرت کی اور کہا کہ مجھے گزشتہ روز کے حکم نامے کا انتظار تھا عدالتی حکم نامہ مجھے کل موصول ہوا، میں نے الگ سے اختلافی نوٹ بھی لکھا ہے جسٹس مندو خیل نے اٹارنی جنرل کو اختلافی نوٹ پڑھنے کیلئے کہا جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میں بینچ کا ممبر تھا تحلیل کرتے ہوئے مشاورت نہیں کی گئی میں کل بھی کچھ کہنا چاہ رہا تھا فیصلہ لکھواتے وقت مجھے مشورے کے قابل ہی نہیں سمجھا گیا میں سمجھتا ہوں کہ بینچ میں مس فٹ ہوں

    قبل ازیں پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے لئے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے چار رکنی بنچ تشکیل دیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے سپریم کورٹ نے باقاعدہ کیس کی کاز لسٹ جاری کردی تھی پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق پی ٹی آئی درخواست پر پانچویں سماعت آج ہونی ہے تا ہم آج پھر بینچ ٹوٹ گیا،

    مقدمے میں پی ٹی آئی وکیل علی ظفر اور الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں۔اٹارنی جنرل ، نگران حکومتوں اور گورنرز کے وکلاء دلائل دیں گے۔اٹارنی جنرل، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی نے فل کورٹ کی استدعا کر رکھی ہے۔

    پنجاب اور کے پی عام انتخابات کا معاملہ ،وزیراعظم شہبازشریف نے تیسرے روز بھی اٹارنی جنرل منصور عثمان کو طلب کرلیا.وزیراعظم کی جانب سے اٹارنی جنرل کو مسلسل تین روز سے مشاورت کیلئے طلب کیا جا رہا ہے.اٹارنی جنرل سپریم کورٹ سے وزیراعظم ہاؤس کیلئے روانہ ہوگئے اٹارنی جنرل وزیراعظم سے زیر سماعت مقدمے پر ہدایات لیں گے.چیف جسٹس نے گزشتہ روز اٹارنی جنرل کو وزیر اعظم سے معاملہ پر ہدایات لینے کا کہا تھا

    واضح رہے کہ ایک رو قبل سپریم کورٹ میں کے پی کے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا 5 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا ہے،بینچ میں شامل شامل جج جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کرلی ہے-

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • 16 اگست کو عبوری حکومت آ جائے گی الیکشن کرانا انکا کام ہے،وزیر داخلہ

    16 اگست کو عبوری حکومت آ جائے گی الیکشن کرانا انکا کام ہے،وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹنے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ساری باتوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئینی اور قانونی طور پر درست ہے،عمران خان نے اسمبلی اسلیے توڑی تاکہ وقت سے پہلے الیکشن ہوں عمران خان چاہتے ہیں دو اسمبلیوں کا الیکشن الگ اور تین کا الگ،عمران خان کا یہ اقدام ملک کے لیے بہتر نہیں اس سے ملک میں انارکی آئے گی،عدالت عظمٰی جو فیصلہ کرے گی اسکا احترام ہوگا،8 اکتوبر کو جنرل الیکشن ہوں گے،12 یا 16 اگست کے بعد ہماری حکومت نہیں ہوگی،16 اگست کو عبوری حکومت آ جائے گی الیکشن کرانا انکا کام ہے،

    بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل قاضی فائز عیسیٰ صاحب کی جانب سے فیصلہ آیا کہ ازخود نوٹس کیسز کی سماعت روک دی جائے،ایک جج کے خود کو بینچ سے الگ کرنے کے بعد حل یہی تھا،چیف جسٹس جو فیصلہ کریں ہمیں تسلیم ہے، پی ٹی آئی کو چیف جسٹس کے کسی فیصلے پر اعتراض نہیں ہو گا، اس کیس پر مختلف جج صاحبان کے مختلف نظریات ہیں، مسلئہ بینچ کا نہیں آئین کا ہے،اصل سوال الیکشن کمیشن کے انتخابات ملتوی کرنے کے اختیار کا ہے،یقین ہے بہت جلد نیا بینچ بن جائے گا،ہمیں ساری امید سپریم کورٹ سے ہے ،سپریم کورٹ سے متعلق بل جلدبازی میں پیش کیا جا رہا ہے، مجھے اس بل پر آئینی اعتراض ہے،بل میں کچھ اچھی چیزیں بھی ہیں مگر کئی چیزیں غلط ہیں، ہمیں پراسیس اور قانون دونوں کو مدنظر رکھنا ہے، ان تمام مسائل کا حل عدالت کے پاس ہی ہے،

    ممتاز قانوندان اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ہر کوئی اب بے لباس ہو گیا ہے ،فل کورٹ بنا دیا گیا تو چیف جسٹس کے مخالف ججز بیٹھنے سے انکار کر دیں گے ،شناخت ہو چکی ہے کہ کون کون سے ججز نواز شریف کے ساتھ ہیں، سپریم کورٹ کو انھوں نے مفلوج کر دیا ہے ججز بہت زیادتی کر رہے ہیں ، عوام بھگتے گی ،اب کوئی آئین کی حاکمیت کی توقع نہ رکھے،اب تو ججز کی شناخت ہو سکتی ہے ، ماتھے پر مہر لگ چکی ہے،وزیراعظم نے خود کہا تھا جو ججز ہمارے خلاف ہیں ان کے پاس کیس نہ لگائیں،

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ‌ آصف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا آئین کی حفاظت کی خاطر متحد نظر آنا چاہئے ایک جج کے دستبردار ہونے سے نیا بینچ بنے گا سپریم کورٹ خود کو سیاست کی دلدل سے محفوظ رکھے سیاست کو سیاست دانوں تک محدود رہنے دیا جائے ، کوئی اس میں مداخلت نہ کرے سپریم کورٹ پاکستان میں انصاف کا سب سے بڑا ادارہ ہے ججز ادارے کی عزت کی حفاظت کریں عدلیہ اپنے کنڈکٹ اور فیصلوں سے پہنچانی جاتی ہے عدالت عظمی وہاں کھڑی ہے جہاں ان کا کردار تاریخ ساز ہو گا شدید اختلاف رائے ملک اور جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے انصاف کے پلڑے برابر ہوں تو تاریخ یاد رکھے گی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں کے پی کے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا 5 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا ہے،بینچ میں شامل شامل جج جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کرلی ہے

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم 

  • ظل شاہ کیس، راجہ شکیل زمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    ظل شاہ کیس، راجہ شکیل زمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    پی ٹی آئی رہنما راجہ شکیل زمان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    راجہ شکیل زمان کی جانب سے برھان معظم ملک عدالت میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ ڈی ایس پی پولیس نے کہا ظل شاہ کا قتل ہوا ،وکیل برہان معظم ملک نے عدالت میں کہا کہ راجہ شکیل زمان کیخلاف کوئی شواہد موجود نہیں ،راجہ شکیل زمان اور دیگر نے ظل شاہ کی لاش کو سڑک سے اٹھایا کوئی جرم نہیں کیا،پہلے پولیس نے کہا پی ٹی آئی کارکنان کے تشدد سے ظل شاہ قتل ہوا پھر کیا ظل شاہ ٹریفک حادثے میں قتل ہوا ، راجہ شکیل زمان کیخلاف الزامات جھوٹ ہیں ضمانت منظور کی جائے، راجہ شکیل زمان پر قتل کی معلومات چھپانے کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے

    وکیل نے کہا کہ راجہ شکیل زمان پر اصل ملزمان کو چھپانے اور قاتلوں کو پرچہ ڈالنے کا بھی الزام ہے،یہ سب الزامات بد نیتی کی وجہ سے لگائے گئے کیس سے 302 کی دفعہ ختم ہو چکی ہے دفعہ 322 ٹریفک حادثہ سے موت کی دفعہ شامل کر دی گئی ہے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ راجہ شکیل زمان کے ڈالے میں ظل شاہ کا خون لگا ہوا تھا ظل شاہ کا خون ڈالے سے صاف کرایا گیا ،راجہ شکیل زمان دیگر قاتلوں کے نام چھپا رہے ہیں ،وکیل راجہ شکیل نے کہا کہ ایک ہی کہانی درست ہو سکتی ہے ٹریفک حادثہ میں موت ہوئی یا تشدد سے ،عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا جو بعد میں سنا دیا گیا، زمان پارک میں پولیس آپریشن کے روزمرنیوالے پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ کیس میں حسان نیازی اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنما راجہ شکیل زمان کی ضمانت منظور ہو گئی ہے انسداد دہشتگردی عدالت کے جج اعجاز احمد نے ضمانت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے دونوں ملزموں کو ایک ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا

    واضح رہے کہ ظل شاہ کی موت لاہور میں ہوئی تھی، ظل شاہ تحریک انصاف کا کارکن تھا، ظل شاہ کی موت پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر نے الزام پولیس پر لگایا تھا کہ دوران حراست ظل شاہ کی موت ہوئی تا ہم پولیس نے تحقیقات کے بعد واضح کیا تھا کہ ظل شاہ کی موت ٹریفک حادثے میں ہوئی اور تحریک انصاف کے ہی رہنما کی گاڑی کی ٹکر سے ظل شاہ کی موت ہوئی،

    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے

    واضح رہے کہ آئی جی پنجاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ تمام تکنیکی مسائل کو بروئے کار لارے ہوئے بیک ٹریک کیا گیا گاڑی کو 31 کیمروں کی مدد سے گلبہار سیکیورٹی کی بیسمنٹ سے ٹریک کیا گیا گاڑی کی بیک سیٹ پر ظل شاہ کا خون بھی موجود ہے،6 بجکر24 منٹ پر یہ گاڑی فورٹریس اسٹیڈیم کے قریب ظل شاہ سے ٹکرائی ،پنجاب پولیس تمام تفتیش انکے والد کے سامنے خود رکھے گی گاڑی میں جہانزیب اورعمر فرید نامی افراد تھے گاڑی کا مالک راجہ شکیل ہے اور یہ پی ٹی آئی کا سینٹرل پنجاب کے وائس پریزیڈنٹ ہیں

    زمان پارک میں عورتوں کے ساتھ زیادتی

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    زمان پارک بارے آڈیو لیک،مولانا فضل الرحمان بھی خاموش نہ رہ سکے

  • اسلام ہائیکورٹ کے احاطہ میں صحافیوں پر تشدد کیس،عدالت کا حکم جاری

    اسلام ہائیکورٹ کے احاطہ میں صحافیوں پر تشدد کیس،عدالت کا حکم جاری

    اسلام ہائیکورٹ کے احاطہ میں صحافیوں پر تشدد کے کیس میں بڑا حکم جاری کر دیا گیا،

    مقدمہ درج کرنے کی صحافیوں کی درخواست پر عدالت نے پولیس کو قانون کے مطابق کاروائی کا حکم دے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ پولیس صحافیوں کی درخواست پر جلد کاروائی کرے ، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے صحافیوں کی درخواست پر الگ سے مقدمہ درج کرنے کی حمایت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ پولیس کاروائی کرتے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کے موقف کو مدنظر رکھے ،

    اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس اہکاروں کے خلاف اندراج مقدمہ کی صحافیوں کی درخواست پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی ،صحافیوں کی جانب سے وکیل زاہد آصف عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،صحافی ثاقب بشیر ، ذیشان سید ، شاہ خالد ، ادریس عباسی نے درخواست دائر کر رکھی ہے ،ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر رضوان قاضی ، سیکرٹری حسین احمد چوہدری پیش ہوئے ،بیرسٹر جہانگیر جدون نے عدالت میں کہا کہ صحافیوں کا وقوعہ الگ تھا پولیس کے خلاف الگ مقدمہ درج ہونا چاہیے ،پولیس شہریوں کی محافظ ہے قانون سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کر سکتی ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے پولیس کو کہتے ہیں اس درخواست پر قانون کے مطابق کاروائی کرے ، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کا موقف بھی آگیا ہے پولیس نے اس کو بھی دیکھ کر کاروائی کرنی ہے ،

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ پہلے پولیس نے الگ سے ایف آئی آر درج کرنی ہے تفتیش کا عمل بعد کا ہے ، بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ ایف آئی آر درج کرنے کے بعد جس کا جو کردار ہے پولیس اس متعلق رپورٹ دے سکتی ہے ،جب وقوعہ مکمل مختلف ہے تو پولیس ایف آئی آر کیوں درج نہیں کر رہی ؟ وکیل زاہد آصف نے کہا کہ جسٹس آف پیس نے ہمارا موقف تسلیم کیا ہے پولیس نے بھی اعتراف کیا ہے ، جب وقوعہ مکمل الگ ہے تو اس پر الگ مقدمہ درج ہونا ہے ، عدالت نے پولیس کو قانون کے مطابق جلد کاروائی کا حکم دے کر درخواست نمٹا دی

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     کیا عمران خان کی گرفتاری کا امکان ہے؟

  • بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ

    بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ نے بغاوت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے خلاف کیس کا فیصلہ سنا دیا

    عدالت نے بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کے قانون کو کالعدم قرار دے دیا ،عدالت نے بغاوت کے قانون سکیشن 124 اے کو کالعدم قرار دیدیا ،جسٹس شاہد کریم نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے دفعہ 124 اے کو آئین سے متصادم قرار دیا ،جسٹس شاہد کریم نے درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا

    درخواست ابوذر سلمان نیازی سمیت دیگر کی جانب سے داٸر کی گٸیں، دائر درخواست میں کہا گیا کہ بغاوت کا قانون 1860 میں بنایا گیا جو انگریز دور کی نشانی ہے.بغاوت کا قانون غلاموں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا. کسی کے کہنے پر بھی مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے،آئین پاکستان ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے،اب بھی بغاوت کے قانون میں حکمرانوں کے خلاف تقاریر کرنے پر دفعہ 124 اے لگا دی جاتی ہے، بغاوت کے قانون کو اب بھی سکیشن 124 اے کے ذریعے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے.حکومت وقت کے خلاف تقاریر پر غداری کا سیکشن 124 اے لگانا آزادی رائے کے سیکشن دس اے کے خلاف ہے، عدالت پی پی سی 1860 کی دفعہ 124-A کو خلاف آئین قرار دے کر کالعدم قرار دے ،

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

  • اظہر مشوانی کو بازیاب کرکے پیش کرنے کا حکم

    اظہر مشوانی کو بازیاب کرکے پیش کرنے کا حکم

    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کارکن اور عمران خان کے فوکل پرسن اظہر مشوانی کی بازیابی کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر کر دی گئی، جسٹس عالیہ نیلم نے اظہر مشوانی کے بھائی مظہر الحسن کی درخواست پر سماعت کی

    لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کارکن اظہر مشوانی کو بازیاب کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے پیر کے روز اظہر مشوانی کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا عدالت نے اظہر مشوانی پر درج مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا

    اظہر مشوانی کے بھائی نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے درخواست دائر کی دائردرخواست میں ایف آئی اے ، آئی جی پنجاب ودیگر کو فریق بنایا گیا ہے درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 23 مارچ کو اظہر مشوانی کو گھر کے باہر سے اغوا کیا گیا،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پولیس کو اظہر مشوانی کو بازیاب کروا کر عدالت پیش کرنے کا حکم دے

    واضح رہے کہ اظہر مشوانی کو غائب ہوئے کئی روز گزر چکے ہیں، کسی بھی ادارے نے اظہر مشوانی کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی، تحریک انصاف اظہر مشوانی کی رہائی کےلئے ٹرینڈ چلا رہی ہے ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ اظہر مشوانی کو لاہور سے دوپہر میں اغوا کیا گیا، کہاں رکھا گیا، پتہ نہیں چل رہا ہے، تحریک انصاف نے جمعہ کو اظہر مشوانی کی بازیابی کے لئے ملک گیر احتجاج کی کال بھی دے رکھی ہے،

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج

    محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج

    لاہور: سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: اختیارات سے تجاوز کے مقدمے میں اینٹی کرپشن نے محمد خان بھٹی کو گرفتار کرکے عدالت پیش کیا جبکہ محمد خان بھٹی کی جانب سے رانا انتظار ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ ورک نے محمد خان بھٹی پر کرپشن کے کیس میں پہلے سے محفوظ فیصلہ سنایا عدالت نے محمد خان بھٹی کے درج اختیارات سے تجاوز کا مقدمہ خارج کر دیا اینٹی کرپشن حکام نے ملزم محمد خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔

    واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نےمحمد خان بھٹی رواں ماہ 22 تاریخ کو گرفتارکیا تھا ایف آئی اے کےمطابق محمدخان بھٹی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج تھا اینٹی کرپشن عدالت سے محمد خان بھٹی کی ضمانت منظور ہونے کے بعد ایف آئی اے نے کیس میں گرفتارکیا تھا –

    دریں اثنا محمد خان بھٹی کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ بعض اہم عدالتی شخصیات پر پی ٹی آئی کی حمایت کا الزام لگا رہے ہیں ویڈیو میں محمد خان بھٹی کا کہنا تھاکہ ایک عدالتی شخصیت کےدو بیٹے کرپشن کر رہے ہیں، پرویز الٰہی نے کہا یہ حق میں فیصلے کراتے ہیں، اِن کا کام رکنا نہیں چاہیے ویڈیو میں محمد خان بھٹی سے سوال کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کیسے مینج ہورہی ہے؟ اس پر انہوں جواب دیا کہ لاہور ہائیکورٹ علی افضل ساہی کے ذمے ہے۔

    دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزا لٰہی نے اپنے سابق پرنسپل سیکرٹری کے ویڈیو بیان پر رد عمل میں کہا تھا کہ نامعلوم افراد کے ذریعے اٹھا کرمرضی کا بیان لینا وطیرہ بن چکا ہےمریم نواز اور شریف خاندان چاہتاہے ججز ان کے دباؤ میں رہیں، شریف خاندان سمجھتا ہے کہ جو فیصلے ان کے حق میں صرف وہی ٹھیک ہیں۔

  • جسٹس نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس،شکایت کنندہ کا بیان حلفی جمع

    جسٹس نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کا معاملہ ،شکایت کنندہ میاں داؤد ایڈووکیٹ نے تفصیلی بیان حلفی جمع کرا دیا

    بیان حلفی کے ساتھ ریفرنس کے دستاویزی ثبوت بذریعہ متفرق درخواست دوبارہ جمع کرا دیئے گئے، میاں داؤد ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ تمام دستاویزی ثبوت ریفرنس کیساتھ منسلک تھے لیکن اب دوبارہ جمع کروائے جا رہے ہیں،درخواست کے ساتھ جسٹس نقوی، انکے بیٹوں کے نام مشکوک انداز میں خریدی گئی جائیدادوں کی دستاویزات منسلک ہیں درخواست کے ساتھ جسٹس نقوی کی بیٹی نقش فاطمہ کو برطانوی بینک اکائونٹ میں بھیجے گئے پائونڈز کی رسید بھی منسلک ہے

    دستاویزات کے مطابق جسٹس نقوی نے 2021 میں گلبرگ لاہور میں 2کنال4مرلے کا پلاٹ4 کروڑ 44 لاکھ میں خریدا،جسٹس نقوی نے یہ پلاٹ7کروڑ20لاکھ کا ڈکلیئر کیا، جسٹس نقوی نے یہ پلاٹ 2022 میں 13کروڑ کا اپنے مبینہ فرنٹ مین محمد صفدر کو فروخت کر کے 4 کروڑ96 لاکھ کا ڈکلیئر کیا،جسٹس مظاہر نقوی نے سینٹ جونز پارک کینٹ میں 65 کروڑ مارکیٹ ویلیو والا 4کنال کا پلاٹ10 کروڑ 70 لاکھ میں خریدا، فرنٹ مین صفدر نے جج کے بیٹوں مصطفی نقوی، مرتضی نقوی کو ایک ایک کنال کے دو پلاٹ کیپٹل سمارٹ سٹی میں دلوائے ایک بیٹے مصطفی نقوی کوکیپٹل سمارٹ سٹی میں 1کنال کا پلاٹ صرف5 لاکھ 40 ہزار میں دلوایا گیا، مصطفی نقوی کو کیپٹل سمارٹ سٹی انتظامیہ نے ساڑھے سولہ مرلے پلاٹ میں 46لاکھ60ہزار رعایت دی،جج کے دونوں بیٹے مصطفی نقوی اور مرتضی نقوی لاہور سمارٹ سٹی میں دسمبر 2021 میں چار چار مرلے کے دو کمرشل پلاٹوں کے مالک بنے، جج کے دونوں بیٹوں نےکمرشل پلاٹوں کی صرف 9 لاکھ روپے فی پلاٹ رقم کاغذوں میں جمع کروائی ہے،دونوں کمرشل پلاٹس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو تین کروڑ ہے، زاہد رفیق اور صفدر نامی شخص نے جج اور اس کی فمیلی کیلئے سہولت کاری اور فرنٹ مین کا کردار ادا کیا زاہد رفیق نامی پراپرٹی ڈیلر نے جج کی بیٹی کے برطانوی اکائونٹ میں10ہزار پائونڈ بھجوائے ،جج کی بیٹی نقش فاطمہ نقوی کو برطانوی بینک اکائونٹ میں پانچ ہزار پائونڈ کی رسید پر31جنوری2023 کی تاریخ درج ہے جج کی بیٹی کے برطانوی بینک اکائونٹ میں5 ہزار پائونڈ ابوظہبی سے بھجوائے گئے،

    شکایت کنندہ میاں دائود کو جسٹس نقوی کے بیٹوں کی طرف سے بھجوایا گیا لیگل نوٹس بھی متفرق درخواست کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے،لیگل نوٹس میں جج کے بیٹوں نے چند برسوں میں1000کے قریب مقدمات کرنے کا اعتراف کیا ہے شکایت کنندہ میاں دائود کی طرف سے لیگل نوٹس کے جواب کی کاپی بھی متفرق درخواست کے ساتھ منسلک کی گئی ہے

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس پر ابتدائی کارروائی شروع

  • بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا،رانا ثناء اللہ

    بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا،رانا ثناء اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حاضر ہوئے ہیں کہ عدالت عظمی سے انصاف چاہتے ہیں

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں رواداری رول آف لاء میں عدالت عظمی اپنا کردار ادا کرے ،بد قسمتی سے ایسے فیصلے ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں ان بیلنس ہوا،ان فیصلوں پر لوگوں کو شکوک و شبہات ہے، کہا جارہا ہے یہ تین دو کا فیصلہ کیا، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ چار ایک کا فیصلہ ہے، یہ معاملات ختم ہونے چاہئیے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اندرونی معاملہ نہیں ہوسکتا ،یہ ابہام فل کورٹ ہی ختم کرسکتا ہے،کل پارلیمنٹ میں سوموٹو نوٹس کے متعلق ایکٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوا ہے ، امید ہے وہ آج پاس ہوجائے گا،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا، کورٹ سے انصاف چاہتے ہیں، ملک میں رول آف لاء میں عدالت عظمی کا کرادر چاہتے ہیں،اس سے پہلے جو ناانصافیاں ہوئی لوگوں کو اس پر اعتراض ہے،ججز بھی کہہ رہے ہیں فیصلہ 4 تین سے تھا،آج بھی استدعا ہے سوموٹو کو فل کورٹ کی طرف لے جایا جائے،سپریم کورٹ آف پاکستان قوم کی رہنمائی کرے گی،سپریم کورٹ کے پاس مارل اتھارٹی ہے،جب سپریم کورٹ کے ججز آمنے سامنے ہوں اس وقت پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے،

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کمرہ عدالت میں سو گئے،