Baaghi TV

Tag: عدالت

  • محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج

    محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج

    لاہور: سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: اختیارات سے تجاوز کے مقدمے میں اینٹی کرپشن نے محمد خان بھٹی کو گرفتار کرکے عدالت پیش کیا جبکہ محمد خان بھٹی کی جانب سے رانا انتظار ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ ورک نے محمد خان بھٹی پر کرپشن کے کیس میں پہلے سے محفوظ فیصلہ سنایا عدالت نے محمد خان بھٹی کے درج اختیارات سے تجاوز کا مقدمہ خارج کر دیا اینٹی کرپشن حکام نے ملزم محمد خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔

    واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نےمحمد خان بھٹی رواں ماہ 22 تاریخ کو گرفتارکیا تھا ایف آئی اے کےمطابق محمدخان بھٹی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج تھا اینٹی کرپشن عدالت سے محمد خان بھٹی کی ضمانت منظور ہونے کے بعد ایف آئی اے نے کیس میں گرفتارکیا تھا –

    دریں اثنا محمد خان بھٹی کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ بعض اہم عدالتی شخصیات پر پی ٹی آئی کی حمایت کا الزام لگا رہے ہیں ویڈیو میں محمد خان بھٹی کا کہنا تھاکہ ایک عدالتی شخصیت کےدو بیٹے کرپشن کر رہے ہیں، پرویز الٰہی نے کہا یہ حق میں فیصلے کراتے ہیں، اِن کا کام رکنا نہیں چاہیے ویڈیو میں محمد خان بھٹی سے سوال کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کیسے مینج ہورہی ہے؟ اس پر انہوں جواب دیا کہ لاہور ہائیکورٹ علی افضل ساہی کے ذمے ہے۔

    دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزا لٰہی نے اپنے سابق پرنسپل سیکرٹری کے ویڈیو بیان پر رد عمل میں کہا تھا کہ نامعلوم افراد کے ذریعے اٹھا کرمرضی کا بیان لینا وطیرہ بن چکا ہےمریم نواز اور شریف خاندان چاہتاہے ججز ان کے دباؤ میں رہیں، شریف خاندان سمجھتا ہے کہ جو فیصلے ان کے حق میں صرف وہی ٹھیک ہیں۔

  • جسٹس نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس،شکایت کنندہ کا بیان حلفی جمع

    جسٹس نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کا معاملہ ،شکایت کنندہ میاں داؤد ایڈووکیٹ نے تفصیلی بیان حلفی جمع کرا دیا

    بیان حلفی کے ساتھ ریفرنس کے دستاویزی ثبوت بذریعہ متفرق درخواست دوبارہ جمع کرا دیئے گئے، میاں داؤد ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ تمام دستاویزی ثبوت ریفرنس کیساتھ منسلک تھے لیکن اب دوبارہ جمع کروائے جا رہے ہیں،درخواست کے ساتھ جسٹس نقوی، انکے بیٹوں کے نام مشکوک انداز میں خریدی گئی جائیدادوں کی دستاویزات منسلک ہیں درخواست کے ساتھ جسٹس نقوی کی بیٹی نقش فاطمہ کو برطانوی بینک اکائونٹ میں بھیجے گئے پائونڈز کی رسید بھی منسلک ہے

    دستاویزات کے مطابق جسٹس نقوی نے 2021 میں گلبرگ لاہور میں 2کنال4مرلے کا پلاٹ4 کروڑ 44 لاکھ میں خریدا،جسٹس نقوی نے یہ پلاٹ7کروڑ20لاکھ کا ڈکلیئر کیا، جسٹس نقوی نے یہ پلاٹ 2022 میں 13کروڑ کا اپنے مبینہ فرنٹ مین محمد صفدر کو فروخت کر کے 4 کروڑ96 لاکھ کا ڈکلیئر کیا،جسٹس مظاہر نقوی نے سینٹ جونز پارک کینٹ میں 65 کروڑ مارکیٹ ویلیو والا 4کنال کا پلاٹ10 کروڑ 70 لاکھ میں خریدا، فرنٹ مین صفدر نے جج کے بیٹوں مصطفی نقوی، مرتضی نقوی کو ایک ایک کنال کے دو پلاٹ کیپٹل سمارٹ سٹی میں دلوائے ایک بیٹے مصطفی نقوی کوکیپٹل سمارٹ سٹی میں 1کنال کا پلاٹ صرف5 لاکھ 40 ہزار میں دلوایا گیا، مصطفی نقوی کو کیپٹل سمارٹ سٹی انتظامیہ نے ساڑھے سولہ مرلے پلاٹ میں 46لاکھ60ہزار رعایت دی،جج کے دونوں بیٹے مصطفی نقوی اور مرتضی نقوی لاہور سمارٹ سٹی میں دسمبر 2021 میں چار چار مرلے کے دو کمرشل پلاٹوں کے مالک بنے، جج کے دونوں بیٹوں نےکمرشل پلاٹوں کی صرف 9 لاکھ روپے فی پلاٹ رقم کاغذوں میں جمع کروائی ہے،دونوں کمرشل پلاٹس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو تین کروڑ ہے، زاہد رفیق اور صفدر نامی شخص نے جج اور اس کی فمیلی کیلئے سہولت کاری اور فرنٹ مین کا کردار ادا کیا زاہد رفیق نامی پراپرٹی ڈیلر نے جج کی بیٹی کے برطانوی اکائونٹ میں10ہزار پائونڈ بھجوائے ،جج کی بیٹی نقش فاطمہ نقوی کو برطانوی بینک اکائونٹ میں پانچ ہزار پائونڈ کی رسید پر31جنوری2023 کی تاریخ درج ہے جج کی بیٹی کے برطانوی بینک اکائونٹ میں5 ہزار پائونڈ ابوظہبی سے بھجوائے گئے،

    شکایت کنندہ میاں دائود کو جسٹس نقوی کے بیٹوں کی طرف سے بھجوایا گیا لیگل نوٹس بھی متفرق درخواست کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے،لیگل نوٹس میں جج کے بیٹوں نے چند برسوں میں1000کے قریب مقدمات کرنے کا اعتراف کیا ہے شکایت کنندہ میاں دائود کی طرف سے لیگل نوٹس کے جواب کی کاپی بھی متفرق درخواست کے ساتھ منسلک کی گئی ہے

    ریفرنس میں معزز جج کے عدالتی عہدے کے ناجائز استعمال کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ معزز جج کے کاروباری، بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ریفرنس میں معزز جج کےعمران خان اور پرویز الہیٰ وغیرہ کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ خفیہ قریبی تعلقات کی بابت بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    جسٹس نقوی کیخلاف ریفرنس پر ابتدائی کارروائی شروع

  • بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا،رانا ثناء اللہ

    بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا،رانا ثناء اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حاضر ہوئے ہیں کہ عدالت عظمی سے انصاف چاہتے ہیں

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں رواداری رول آف لاء میں عدالت عظمی اپنا کردار ادا کرے ،بد قسمتی سے ایسے فیصلے ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں ان بیلنس ہوا،ان فیصلوں پر لوگوں کو شکوک و شبہات ہے، کہا جارہا ہے یہ تین دو کا فیصلہ کیا، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ چار ایک کا فیصلہ ہے، یہ معاملات ختم ہونے چاہئیے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اندرونی معاملہ نہیں ہوسکتا ،یہ ابہام فل کورٹ ہی ختم کرسکتا ہے،کل پارلیمنٹ میں سوموٹو نوٹس کے متعلق ایکٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوا ہے ، امید ہے وہ آج پاس ہوجائے گا،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا، کورٹ سے انصاف چاہتے ہیں، ملک میں رول آف لاء میں عدالت عظمی کا کرادر چاہتے ہیں،اس سے پہلے جو ناانصافیاں ہوئی لوگوں کو اس پر اعتراض ہے،ججز بھی کہہ رہے ہیں فیصلہ 4 تین سے تھا،آج بھی استدعا ہے سوموٹو کو فل کورٹ کی طرف لے جایا جائے،سپریم کورٹ آف پاکستان قوم کی رہنمائی کرے گی،سپریم کورٹ کے پاس مارل اتھارٹی ہے،جب سپریم کورٹ کے ججز آمنے سامنے ہوں اس وقت پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے،

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کمرہ عدالت میں سو گئے،

  • سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے پارٹی فنڈنگ کیسز کے فیصلے جلد کرنے کی تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کیا ،دوران سماعت پٹیشنر کی جانب سے وکیل انور منصور خان اور ان کی معاون عمائمہ انور عدالت میں پیش ہوئیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ عدالت الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کرسکتی ہے؟ یہ ایک سادہ سا سوال ہے الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کرنے پر کوئی ججمنٹ یا قانون ہے تو پیش کریں الیکشن کمیشن کا طریقہ کار تھوڑا خراب ہوگیا ورنہ یہ مسائل نہ ہوتے پارٹی اکاؤنٹس کے آڈٹ کے بعد پارٹی کو شوکاز کرکے صفائی کا موقع دینا چاہیے تھا الیکشن کمیشن کو باقی کارروائی بعد میں کرنی چاہیے تھی .معاون وکیل عمائمہ انور نے عدالت میں کہا کہ آرٹیکل199 سی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو وسیع اختیارات دیئے ہیں ہمارا کیس یہ ہے کہ ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کتنا وقت لگے گا باقی پارٹیز کی اسکروٹنی کرنے میں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ ہم اس حوالے سے فکس ٹائم نہیں دے سکتے ابھی معاملہ اسکروٹنی کمیٹی میں ہی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی میں ایک اکاؤنٹنٹ کو بھی شامل کرنا چاہیے تھا۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی میں اے جی پی آر سے ایک اکاؤنٹنٹ شامل ہے، معاون وکیل نے کہا کہ گورنمنٹ اکاؤنٹس اور پارٹی اکاؤنٹ میں فرق ہوتا ہے کوئی پرائیویٹ اکاؤنٹنٹ ہائر کرنا چاہیے تھا ، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات کی وجہ سے کام کا بڑا بوجھ ہےعدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن تو آپ کروا ہی نہیں رہے وہ تو اکتوبر میں ہیں تب تک یہ کام مکمل کرلیں ،معاون وکیل عمائمہ انور نے کہا کہ ہمیں اس کیس کی بنیاد پرالیکشن سے ڈی فرنچائز کرسکتے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو کوئی ڈی فرنچائز نہیں کر رہا ، معاون وکیل کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے جو ٹی او آرز تھے وہ باقی پارٹیوں کے لیے نہیں ہیں ہمارے 5 سال کے اکاؤنٹ دیکھےباقیوں کے 6 ماہ کے دیکھ رہے ،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے جلد کرنے کے لئے عدالت میں درخواست دائرکر رکھی ہے، درخواست تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے دائر کی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے، پی ٹی آئی کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرح دیگر جماعتوں کے کیس سننے میں الیکشن کمیشن ناکام رہا پی ٹی آئی کی درخواست میں مزید کہا گیا کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جمہوریت کے تحفظ کیلئے پٹیشن میں اٹھائے گئے سوالات کا فیصلہ کیا جائے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جائے کہ دیگر جماعتوں کے ممنوعہ فنڈنگ کیسز کی روزانہ سماعت کی جائے

  • قاسم علی شاہ کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    قاسم علی شاہ کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں قاسم علی شاہ کو الحمراء آرٹس کونسل کے بورڈ آف گورنر کا چئیرپرسن تعینات کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری کر دیئے ، دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ نگراں وزیر اعلی کو تعیناتی کا کوئی اختیار نہیں ہے قاسم علی شاہ سمیت ممبر بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی کالعدم قرار دی جائیں،نگراں وزیر اعلی کو دائرہ اختیار سے باہر نکل کر تعیناتیاں کرنے سے روکا جائے،

    واضح رہے کہ قاسم علی شاہ کو نگران حکومت نے عہدہ دیا تو تحریک انصاف کے وکیل قاسم علی شاہ کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں گئے تھے اور اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دی تھی تاہم عدالت نے درخواست خارج کر دی تھی اور قاسم علی شاہ کو عہدے پر برقرار رکھا تھا، اب قاسم علی شاہ کے خلاف دوبارہ لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس پر ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں،

    سوشل میڈیا پر وائرل تصاویرلیک ہوئیں‌:اوربھی آسکتی ہیں:

    قاسم علی شاہ کی عمران خان پر تنقید، پی ٹی آئی ٹرولز آگ بگولا ہوگئے.

    خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر جلسوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    اسلام آباد انتظامیہ نے عمران خان کے ہیلی کاپٹر کو پریڈ گراؤنڈ میں لینڈنگ کی اجازت دینے سے انکارکر دیا

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

  • علی امین گنڈا پور کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب

    علی امین گنڈا پور کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور کیخلاف کیس کا دو صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کردیا

    عدالت نے علی امین گنڈا پور کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں اور آئندہ سماعت تک علی امین گنڈا پور کے خلاف تادیبی کارروائی سے روک دیا ،عدالت نے مقدمات کے اندراج کی صورت میں ایف آئی آر کی نقول رپورٹ کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم دیا، عدالت نے علی امین گنڈا پور کیخلاف انکوائریزکی تفصیلات طلب کرتے ہوئے 31 مارچ تک تمام فریقین سے جواب طلب کر لیا،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کردیئے، تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وکیل درخواست گزار کے مطابق علی امین گنڈا پور کو متعدد جعلی مقدمات میں نامزد کیا گیا ،وکیل درخواست گزار کے مطابق ایف آئی آر کی تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے حکمنامہ تحریر کیا عدالت نے کیس کی مزید سماعت31 مارچ تک ملتوی کردی گئی

    علی امین خان گنڈہ پور کی گرفتاری کیلئے ضلعی پولیس کاالامین ہاؤس پر چھاپہ

    پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈہ پور گرفتاری کے ڈر سے روپوش ہوگئے.

    علی امین گنڈا پور کی مشکلات میں اضافہ

    علی امین گنڈا پور کی جانب سے داجل چیک پوسٹ بھکر پر فائرنگ

  • حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،چیف جسٹس

    حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب اورکے پی میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر سپریم کورٹ پہنچ گئے،الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم بھی سپریم کورٹ پہنچ گئی ،وفاقی کابینہ کے ارکان کی کمرہ عدالت آمد ہوئی،وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ بھی عدالت میں موجود تھے،کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل لارجر بینچ نے کی،

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں، فیصلہ چار کا تھا تین کا نہیں،چار ججز نے اس معاملے کو نمٹا دیا تھا، آرڈر اف کورٹ جاری نہیں ہوا تو الیکشن کمیشن کیسے عملدرآمد کرسکتا ہے، آرڈر اف کورٹ چار ججز کا بنتا ہے، اپنے فیصلے پر قائم ہوں، میرے بارے میں غلط تاثر دیا گیا، میرے کل سے منسوب بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، سپریم کورٹ رولز سے متعلق میں نے کہا کہ وہ اندرونی معاملہ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس جمال کو کہا کہ الیکشن کمیشن آرڈر کے بغیر کیسے عمل کررہا ہے،چار ججز میں سے 2 میرے بھی سینئر ہیں چلیں آپ کی وضاحت آ گئی ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میں نےابھی بات کرنی ہےفل کورٹ کیوں وہی 7 ججز بنچ میں بیٹھنے چاہیں،چار ججز نے پی ٹی آٸی کی درخواستیں خارج کی ،ہمارے حساب سے فیصلہ چار ججز کا ہے، ،چیف جسٹس نے آج تک آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں کیا، جب آرڈر آف کورٹ نہیں تھا تو صدر مملکت نے الیکشن کی تاریخ کیسے دی،جب آرڈر آف کورٹ نہیں توالیکشن کمیشن نے شیڈول کیسے دیا؟

    وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر اگئے اور کہا کہ پارٹی بننے کی درخواست دائر کردی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا موقف پیش کرنا چاہتے ہیں، آپ کی درخواست پی ڈی ایم کی طرف سے ہے؟پہلے الیکشن کمیشن کے وکیل کو سنیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے عرفان قادر عدالت میں پیش،کہا میری آج پہلی پیشی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے پہلے سواتی صاحب کمیشن کے وکیل تھے،ہم اس کیس کو اگے لے جانا چاہتے ہیں،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے ماحول کو خراب نہ کیا جائے، سماعت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھائیں تو دیکھیں گے،وکیل پیپلز پارٹی نے کہا کہ آپ فریق بنیں گے تو ہم اعتراض اٹھائیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحمل کا مظاہرہ کریں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں تحمل کا ہی مظاہرہ کر رہا ہوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تاریخ مقرر کرنے کے بعد شیڈول جاری کیا اور انتخابات کی تیاریاں شروع کردیآرٹیکل 218 کی زمہ داری کسی بھی قانون سے بڑھ کر ہے ،انتخابات کےلیے سازگار ماحول کا بھی آئین میں ذکر ہے، آرٹیکل 224 کےتحت الیکشن 90 روز میں ہونا ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اچھی تیاری کی ہے،

    سجیل سواتی نے کہا کہ عدالتی آرڈر میں لکھا ہے کہ فیصلہ 3/2 سے ہے، 3/2 والے فیصلے پر پانچ ججز کے دستخط ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن نے فیصلہ کے پیراگراف 14 اور ابتداء کی سطروں کو پڑھ کرعمل کیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا آپ نے مختصر حکم نامہ دیکھا تھا ، سجیل سواتی نے کہا کہ ممکن ہے کہ ہمارے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا مختصرحکمنامے میں لکھا ہے کہ فیصلہ 4/3 کا ہے،سجیل سواتی نے کہا کہ اسی بات کو دیکھ کر عدالتی حکم پر عمل کیا ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ کے اختلافی نوٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ فیصلہ 4/3 کا ہے،اختلاف رائے جج کا حق ہے،یہ اقلیت کسی قانون کے تحت خود کو اکثریت میں ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی، کھلی عدالت میں پانچ ججز نے مقدمہ سنا اور فیصلے پردستخط کیے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا، مختصرحکم نامے میں لکھا ہے کہ اختلافی نوٹ لکھے گئے ہیں، اختلافی نوٹ میں واضح لکھا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی اور اطہرمن اللہ کے فیصلے سے متفق ہیں،کیا جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے ہوا میں تحلیل ہو گئے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو معاملہ ہمارے چیمبرز کا ہے اسے وہاں ہی رہنے دیں، اٹارنی جنرل اس نقطہ پر اپنے دلائل دیں گے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کا کیا موقف ہے،سجیل سواتی نے کہا کہ 4/3 کے فیصلے پر الیکشن کمیشن سے ہدایات نہیں لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ججز کا احترام ہے مگر اقلیتی فیصلہ اکثریتی فیصلے پرغالب نہیں آ سکتا، قانون واضح ہے کہ اقلیتی فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی،جسٹس منصور اور جسٹس جمال خان کا فیصلہ اقلیتی ہے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ آٹھ فروری کے لیٹرز پر انحصار کر رہے ہیں ، عدالت نے یکم مارچ کو اپنا فیصلہ دیا، کیا آپ کو فروری میں خیال تھا کہ اکتوبر میں الیکشن کروانا ہے، دوسری طرف آپ کہتے ہیں کہ عدالتی فیصلے سے انحراف کا سوچ نہیں سکتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ بہت سارے سوالات ہیں، جسٹس منیب اختر کے سوالات نوٹ کر لیں، آپ دلائل دیں پھر سوالوں کے جواب دیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے فوج کے جوان دینے سے انکار کیا گیا ،آئین کا آرٹیکل 17 پرامن انتخابات کی بات کرتا ہے، آئین کے مطابق انتخابات صاف شفاف پرامن سازگار ماحول میں ہوں ،ایجنسیوں نے الیکشن کمیشن کو خفیہ رپورٹس دیں ،عدالت کہے گی تو خفیہ رپورٹس بھی دکھا دیں گے،رپورٹس میں بھکر میانوالی میں مختلف کالعدم تنظیموں کی موجودگی ظاہر کی گئی،الیکشن کے لیے چار لاکھ بارہ ہزار کی نفری مانگی گئی تھی،دو لاکھ ستانوے ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے، پس منظر کے طور پر ان رپورٹس کا حوالہ دیا،الیکشن کمیشن نے فیصلہ 22 مارچ کو کیا،اس سے پہلے یہ گراؤنڈز دستیاب تھے، اس کے بعد انتخابات کے حوالے سے میٹنگز ہوئیں،وزارت داخلہ نے بھی 8 فروری کے خط میں امن و امان کی خراب صورتحال کا زکر کیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں 20 ارب کا ذکر ہے لیکن کل عدالت کو 25 ارب کا بتایا گیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پانچ ارب روپے پہلے ہی الیکشن کمیشن کو جاری ہو چکے ہیں، وزارت خزانہ نے بتایا کہ موجودہ مالی سال میں الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہیں کر سکتے،پنجاب کیلئے 2لاکھ 97 ہزار سیکورٹی اہلکاروں کی کمی کا بتایا گیا،جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا الیکشن کیلئے قومی اسمبلی نے فنڈز کی منظور دی ہوئی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ وزارت خزانہ اس بات کا تفصیل سے جواب دے سکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ الیکشن تو ہر صورت 2023 میں ہونا تھے، کیا بجٹ میں 2023 الیکشن کیلئے رقم مختص نہیں کی گئی تھی؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ انتخابات کیلئے بجٹ آئندہ مالی سال میں رکھنا ہے، قبل ازوقت اسمبلی تحلیل ہوئی اس کا علم نہیں تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اگر انتخابات پورے ملک میں ایک ساتھ ہوں تو کتنا خرچ ہوگا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ملک بھر میں ایک ہی دفعہ انتخابات ہوں تو 47ارب روپے خرچ ہوں گے،انتخابات الگ الگ ہوں تو 20 ارب روپے اضافی خرچ ہوگا، وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ سپیشل سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ سیاسی شخصیات کو سیکورٹی خطرات ہیں، وزارت داخلہ کے مطابق سیکورٹی خطرات صرف الیکشن کے روز نہیں الیکشن مہم کے دوران بھی ہوں گے،الیکشن کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ فوج کی تعیناتی کے بغیر الیکشن کو سکیورٹی فراہم کرنا ناممکن ہو گا، سپیشل سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ان حالات میں پرامن انتخابات کا انعقاد نہیں ہو سکتا، سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی نے بتایا کہ کے پی کے میں کالعدم تنظیموں نے متوازی حکومتیں بنا رکھی ہیں، خفیہ رپورٹس میں بتایا گیا کہ دو مختلف دہشتگرد تنظیمیں متحرک ہیں، خفیہ رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شیڈو حکومتیں قائم ہیں ،2023 میں سکیورٹی کے 443 تھریٹس کے پی کے میں موصول ہوئے، کے پی کے میں رواں سال دہشگردی کے 80 واقعات ہوئے، 170 شہادتیں ہوئیں، خفیہ رپورٹس کے مطابق ان خطرات سے نکلنے میں چھ سے سات ماہ لگیں گے، رپورٹس کے مطابق عوام میں عدم سکیورٹی کا تاثر بھی زیادہ ہے،خیبرپختونخوا کے 80 فیصد علاقوں سکیورٹی خطرات زیادہ ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسی بات کر رہے ہیں ، دو اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ خفیہ اداروں کی رپورٹس میں جو حقائق بیان کیے گئے وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی طریقہ کار ہے الیکشن کمیشن ان رپورٹس کی تصدیق کروا سکے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا ایشو تو ہے !بیس سال سے ملک میں دہشتگردی کا مسئلہ ہے، اس کے باوجود ملک میں انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ 90کی دہائی میں تین دفعہ الیکشن ہوئے، 90 کی دہائی میں ملک میں فرقہ واریت اور دہشگردی عروج پر تھی،58/2 بی کے ہوتے ہوئے ہر تین سال بعد اسمبلی توڑ دی جاتی تھی، پنجاب میں دہشتگردی کے پانچ واقعات ہوئے ، آخری واقعہ سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملہ تھا،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صدر مملکت کو یہ حقاٸق بتائے بغیر آپ نے الیکشن کی تاریخیں تجویز کر دیں، صدر مملکت نے تاریخ کی تبدیلی پرالیکشن کمیشن کو خط نہیں لکھا ،صدر مملکت نے تاریخ کی تبدیلی پر وزیراعظم کو خط لکھ دیا ، جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر ادارے آپکو معاونت فراہم کریں تو کیا آپ الیکشن کروائینگے؟ بظاہر الیکشن کمیشن کا سارا مقدمہ خطوط پر ہے، الیکشن کمیشن کا مسٸلہ فنڈزکی دستیابی کا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا مقصد سیاسی نظام کو چلنے رہنے دینا ہے۔ سیاسی جماعت بھی سیاسی نظام کو آگے بڑھانے کی مخالفت نہیں کرتی، ایک مسئلہ سیاسی درجہ حرارت کا ہے، علی ظفر اور اٹارنی جنرل کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے پر ہدایت لیکر آگاہ کرنے کا کہا تھا، سیاسی درجہ حرارت کم ہونے تک انتحابات پر امن نہیں سکتے، کسی فریق نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت کو مکمل یقین دہانی کروانے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ یقین دہانی کس کی طرف سے ہے؟ وکیل عی ظفر نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے تحریری یقین دہانی کروائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پارٹی کی باری آئے گی تو ان سے بھی اس حوالے سے بات کریں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں مسئلہ زیادہ ہے اس ضلع میں انتحابات موخر بھی ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کچے کے آپریشن کیوجہ سے پورے پنجاب میں الیکشن ملتوی کردیا ۔کے پی کے میں الیکشن کیُ تاریخ دیکر واپس لی گئی۔ اٹھ اکتوبر کی تاریخ پہلے سے مقرر کی گئی ،آٹھ اکتوبر کو کونسا جادو ہو جائے گا جو سب ٹھیک ہو جائے گا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آٹھ اکتوبر کی تاریخ عبوری جائزے کے بعد دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عبوری جائزے کا مطلب ہے کہ انتحابات مزید تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں۔عدالت کو پکی بات چاہیے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صاف شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن کوئی بھی حکم جاری کرسکتا ہے،ورکرز پارٹی فیصلہ کے مطابق صاف شفاف انتخابات کے لئے وسیع اختیارات ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اداروں سے معاونت نہیں مل رہی،الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری سے کیسے بھاگ سکتا ہے؟ صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے انتخابی شیڈول پر عملدرآمد شروع ہوگیا تھا، اگر کوئی مشکل تھی تو عدالت آ جاتے، الیکشن کمیشن وضاحت کرے کہ انتخابات 6 ماہ آگے کیوں کردیئے؟ کیا ایسے الیکشن کمیشن اپنیذمہ داری پورے کریگا؟ کیا انتخابات میں 6 ماہ کی تاخیر آئینی مدت کی خلاف ورزی نہیں؟

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کرانے کا اختیار کس دن سے شروع ہوتا ہے؟ انتخابی تاریخ مقرر ہونے سے اختیار شروع ہوتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تاریخ مقرر ہوجائے تو اسے بڑھانے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف پولنگ کا دن نہیں پورا الیکشن پروگرام موخر کیا ہے،الیکشن کمیشن شیڈول تبدیل کرسکتا ہے تاریخ نہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن ٹھوس وجوہات پر الیکشن پروگرام واپس لے سکتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ گورنر اور صدر کی دی گئی تاریخ الیکشن کمیشن کیسے تبدیل کر سکتا ہے!آئین میں واضح ہے کہ پولنگ کی تاریخ کون دے گا !کیا الیشکن ایکٹ کا سیکشن 58 آئین سے بالا تر ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ سے رجوع کر کے قائل کرنا چاہئے تھا الیکشن کمیشن کو موقع ہے آج بھی عدالت کو قائل کرسکتا ہے، کیا 8 اکتوبر کوئی جادوئی تاریخ ہے جو اس دن سب ٹھیک ہوجائے گا ،8 اکتوبر کی جگہ 8 ستمبر یا 8 اگست کیوں نہیں ہوسکتی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 6 ماہ کا وقت مکمل ہونے کے بعد 8 اکتوبر کو پہلا اتوار بنتا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا پولنگ کی تاریخ الیکشن پروگرام کا حصہ ہوتی ہے؟ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ صدر کی تجویز کردہ تاریخ کمیشن کی تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتی، صدرکو فروری میں ہونے والے اجلاسوں سے کیوں آگاہ نہیں کیا گیا؟ جب معلوم تھا کہ 30 اپریل کو الیکشن نہیں ہوسکتے تو تاریخ تجویز ہی کیوں کی گئی؟ عدالت نے صدر کو آگاہ کرنے سے نہیں روکا، الیکشن شیڈول پر عمل کرنے کا کیا فائدہ ہوا جب آج پھر عدالت میں کھڑے ہیں؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر صدر تاریخ کا اعلان کردیں تو کیا الیکشن کمیشن اختیار استعمال کرکے انتخابات سے انکار کرسکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پرانا شیڈول ختم کرکے نیا شیڈول جاری نہیں کیا،الیکشن شیڈول کی بجائے الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کو جھنڈا لگا دیا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیکشن 58 الیکشن کمیشن کو تاریخ بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت 8 اکتوبر کی تاریخ پر مہر لگائے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صرف اپنے حکم کا دفاع کرنا ہے،عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں یہ درخواست گذار نے ثابت کرنا ہے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں تو کیا الیکشن کمیشن انتخابات سے معذوری ظاہر کر سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کیلئے حکومت پر انحصار کرتا ہے، حکومت نے بتانا ہے کہ وہ مدد کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں، کیا الیکشن کمیشن حکومت کی بریفنگ پر مطمئن ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر پیسے اور سکیورٹی مل جائے تو 30 اپریل کو انتخابات ہو سکتے ہیں؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن راستہ نہیں ڈھونڈ سکتا تو ہم ڈھونڈیں گے، 1988 میں بھی عدالت کے حکم پر الیکشن تاخیر سے ہوئے تھے، 2008 میں حالات ایسے تھے کہ کسی نے انتخابات ملتوی کرنے پہ اعتراض نہیں کیا، اللہ کرے 2008 والا واقعہ دوبارہ نہ ہو، بنیادی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین کی تشریح ہو گئی ہے، آرٹیکل 218-3 ارٹیکل 224 سے بالاتر کیسے ہوسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 218-3 شفاف منصفانہ انتحابات کی بات کرتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شفاف انتحابات نہیں ہوں گے تو کیا ہو گا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن شفاف نہ ہوں تو جہموریت نہیں چلے گی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساز گار ماحول کا کیا مطلب ہے کہ کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے، چھوٹی موٹی لڑائی جھگڑے تو ہر ملک میں ہوتے ہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلحہ کا استعمال نہ ہو،اگر معمولی جھگڑا بھی نہیں چاہتے تو ایسا نظام بنائیں لوگ گھر سے ہی ووٹ کاسٹ کریں،سمندر پار پاکستانی ووٹ کا حق مانگتے ہیں سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود ہے،الیکشن کمیشن نے ابھی تک سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کے لیے کچھ نہیں کیا،حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،

    ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے دلائل شروع ہو گئے ، عدالت میں کہا کہ گورنر کے پی نے ابھی تک انتخابات کی تاریخ نہیں دی، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ نگران حکومت نے گورنر کو تاریخ دینے کا کیوں نہیں کہا؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی معاونت کے لئے تیار ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا گورنر کے پی نے تاریخ کا اعلان کیا ہے؟ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تاریخ سے آگاہ کردیا ہے، گورنر نے 28 مئی کی تاریخ دی تھی،ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ گورنر کے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ دی ہے،گورنر کا خط کل موصول ہوا ہے ہدایات کےلئے وقت دیں ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فوری اور جلد از جلد تاریخ دینے کا کہا تھا،گورنر کے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ کس بنیاد پر دی ہے؟اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 روز 30 اپریل کو پورے ہورہے ہیں،90 دن سے کم سے کم آگے کی تاریخ 28 مئی کیسے دی گئی؟ وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ کل گورنر کے پی سے ہدایات لیکر آگاہ کرونگا،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کمرہ عدالت میں سو گئے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی سیٹ سے اٹھ کر رانا ثنا اللہ کو نیند سے جگایا ،وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور بھی کمرہ عدالت میں سو گئے

    سماعت کے آغاز سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی جانب سے انتخابات ملتوی کیس میں فریق بننے کی درخواست وصول کرلی،قبل ازیں رجسٹرار آفس نے ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی ف کی پارٹی بننے کی متفرق درخواست لینے سے انکار کر دیا تھا، رجسٹرار آفس نے تینوں سیاسی جماعتوں کو پارٹی بننے کی درخواست دوران سماعت عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی مگر بعد میں رجسٹرار آفس نے درخواست وصول کر لی،

    گزشتہ روز سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایمرجنسی لگا کر ہی الیکشن ملتوی کیے جا سکتے ہیں سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں، اگر الیکشن کمیشن کا اختیار ہوا تو بات ختم ہوجائے گی

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ گزشتہ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش ہونے والے بل کو کمیٹی میں بھجوایا گیا سپریم کورٹ میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے یہ بل پیش کیا گیا 184(3) کے دائر اختیار کو زیر بحث لایا جائے بنیادی حقوق کے حوالے سے وزارت قانون کام کر رہی تھی گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی صورت میں بھی آوازیں آئیں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مناسب وقت ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے

    تحریکِ انصاف کے وکیل علی ظفر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جہاں نظام کو بہتر بنانے کی بات ھے ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اٹارنی جنرل کا بڑا عہدہ ہوتا ہے، مجھے نا کبھی شوق ہوا نا آفر ہوئی،جتنے اٹارنی جنرل آئے ہیں سب اچھے پائے دار وکیل تھے ،مجھے اٹارنی جنرل بننے کا کوئی شوق نہیں

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حاضر ہوئے کہ عدالت عظمی سے انصاف چاہتے ہیںملک میں رواداری رول آف لاء میں عدالت عظمی اپنا کردار ادا کرے ،بد قسمتی سے ایسے فیصلے ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں ان بیلنس ہوا،ان فیصلوں پر لوگوں کو شکوک و شبہات ہے، کہا جارہا ہے یہ تین دو کا فیصلہ کیا، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ چار ایک کا فیصلہ ہے، یہ معاملات ختم ہونے چاہئیے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اندرونی معاملہ نہیں ہوسکتا ،یہ ابہام فل کورٹ ہی ختم کرسکتا ہے،کل پارلیمنٹ میں سوموٹو نوٹس کے متعلق ایکٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوا ہے ، امید ہے وہ آج پاس ہوجائے گا،بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا ، کورٹ سے انصاف چاہتے ہیں،ملک میں رول آف لاء میں عدالت عظمی کا کرادر چاہتے ہیں،اس سے پہلے جو ناانصافیاں ہوئی لوگوں کو اس پر اعتراض ہے،ججز بھی کہہ رہے ہیں فیصلہ 4 تین سے تھا،آج بھی استدعا ہے سوموٹو کو فل کورٹ کی طرف لے جایا جائے،سپریم کورٹ آف پاکستان قوم کی رہنمائی کرے گی،سپریم کورٹ کے پاس مارل اتھارٹی ہے،جب سپریم کورٹ کے ججز آمنے سامنے ہوں اس وقت پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے،

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • کراچی مقدمہ،عدالت نے حسان نیازی کو بری کر دیا

    کراچی مقدمہ،عدالت نے حسان نیازی کو بری کر دیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی درخواست ضمانت پر سندھ ہائیکورٹ میں کل سماعت ہو گی،

    عدالت نے فوری سماعت کی استدعا مسترد کر دی، حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں فوری سماعت کی درخواست کی گئی، جس پر جسٹس کے کے آغا نے آج سماعت سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ کل معمول کے مطابق کارروائی کریں گے، سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے فوری سماعت کی درخواست پر کل دلائل دینے کی ہدایت کر دی

    حسان نیازی کی درخواست ضمانت میں موقف اپنایا گیا ہے کہ بیٹے کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں حسان نیازی کے خلاف مقدمات خارج کیے جائیں ایک ہی معاملے کی ایک سے زیادہ ایف آئی آر نہیں درج کی جا سکتیں، عدالت ضمانت دے گرفتاری کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے

    دوسری جانب سٹی کورٹ کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں اشتعال انگیز تقاریر کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے حسان نیازی کو عدالت میں پیش کردیا ،عدالت نے حسان نیازی کے خلاف مقدمہ ڈسچارج کرتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا ،وکلا پی ٹی آئی نے کہا کہ سیاسی مخالفت ہر جھوٹا کیس بنایا گیا ہے ، تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ملزم سے تفتیش کرنی ہے انتہائی سخت الزامات ہیں،وکلا نے عدالت میں کہا کہ حسان نیازی کو رہا کیا جائے۔ عدالت نے حسان نیازی کی ہتھکڑیاں کھولنے کا حکم دے دیا ،عدالت کے حکم پر حسان نیازی کی ہتھکڑیاں کھل گئیں

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    دوسری جانب کراچی پولیس نے حسان نیازی کو لاہور سے اپنی حراست میں لے کر کراچی منتقل کر دیا ہے، کراچی پولیس کی 4 رکنی ٹیم نے حسان نیازی کو اپنی حراست میں لیا ٹیم میں ایس آئی اور3 پولیس اہلکار شامل ہیں، تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ حسان نیازی کو تفتیش کے بعد کورٹ میں پیش کیا جائے گا، حسان نیازی کے خلاف کراچی کے جمشید کوارٹر تھانے میں مقدمہ درج ہے جس میں ان پر اشتعال انگیز تقاریر کی دفعات شامل ہیں،

  • ماسٹر پلان 2050 پرعملدر آمد روکنے کے حکم میں توسیع

    ماسٹر پلان 2050 پرعملدر آمد روکنے کے حکم میں توسیع

    لاہور ہائیکورٹ نے ماسٹر پلان 2050 پر عملدر آمد روکنے کے حکم میں 6 اپریل تک توسیع کر دی

    لاہور ہائیکورٹ میں ماسٹر پلان 2050 کی منظوری کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی، عدالت نے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات لینے اور ان کی تجاویز کو ماسٹر پلان میں شامل کرنے کا حکم دے دیا،دوران سماعت ایل ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ موجودہ ماسٹر پلان پرعوامی پیسہ خرچ ہوچکا ہے جس پر عدالت نے کہا کہ آپ پی ایس ایل کیلئے اربوں روپے لگاتے ہیں، اب آپ کوعوامی پیسہ یاد آ رہا ہے، مجھےعوامی پیسہ نکلوانا آتا ہے موجودہ ماسٹر پلان بالکل قانون کے برعکس بنایا گیا ہے،ایل ڈی اے کے وکیل نے ماسٹر پلان 2021ء پرعملدرآمد جاری رکھنے کا حکم دینے کی استدعا کی جس پرفاضل جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں پتا ماسٹر پلان 2021 آپ کا ختم ہو رہا ہے آپ نے جو کرنا ہے جا کر کرو عدالت نے صرف ماسٹر پلان 2050ء پرعملدرآمد روکا ہے عدالت نے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے بین الااقوامی ماہرین سے متعلق پیشرفت کی رپورٹ طلب کرلی

    علیم خان اتنے بااثر ہیں کہ ریاست نے اپنی زمین استعمال کیلئے دے دی؟

    آئی بی افسران کا ہاؤسنگ سکیم کے نام پر بڑا دھوکہ، رقم لیکر ترقیاتی کام کروانے کی بجائے مزید زمین خرید لی

    ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے دی حکومت کو مہلت

    فلمسٹار لکی علی کا فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیوں سے عوام کو چونا لگانے کا اعتراف،نیب نے کی ریکارڈ ریکوری

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام شروع کئے جانے کا انکشاف

  • گرفتار اشتہاری مجرم سے دوران تفتیش بھاری مقدارمیں ہیروئن، خنجر،پسٹل برآمد

    گرفتار اشتہاری مجرم سے دوران تفتیش بھاری مقدارمیں ہیروئن، خنجر،پسٹل برآمد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائی جاری ہے

    نیوٹاؤن پولیس کی موثر تفتیش ،گرفتار اشتہاری مجرم ندیم کیانی سے دوران تفتیش بھاری مقدار میں ہیروئن، خنجر اور پسٹل برآمد کر لیا گیا،اشتہاری مجرم ندیم کیانی کے گھر سے دو کلو سے زیادہ ہیروئن برآمد ہوئی، ملزم ندیم کیانی خواتین پر تشدد اور ہراساں کرنے اور اپنے ہی منشیات فروش ساتھی کو خنجر کے وار کر کے زخمی کرنے کے مقدمات میں زیر تفتیش تھا، نیوٹاؤن پولیس نے دوران تفتیش ملزم کے انکشاف پر خنجر اور پسٹل کی برآمدگی کے لئے ملزم کی نشاندہی پر اس کے گھر گئی تھی، وارداتوں میں استعمال ہونے والے خنجر اور پسٹل کی برآمدگی کے دوران ملزم کے گھر سے لاکھوں روپے مالیت کی 2130 گرام ہیروئن بھی برآمد ہوئی، ملزم قبل ازیں بھی منشیات فروشی کے مقدمات میں ریکارڈ یافتہ ہے جس کے بارے میں پولیس کو منشیات فروشی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں،

    ملزم نے جنوری 2023 میں گرفتاری سے بچنے کے لئے پولیس سے مزاحمت کی اور اسی دوران خنجر کے وار سے اپنے ساتھی منشیات فروش ہارون سلیمان کو زخمی کیا تھا، ملزم ندیم کیانی نے جولائی 2022 میں گھر میں داخل ہو کر خواتین کو ہراساں کرنے کے ساتھ اسلحہ کی نوک پر ان پر تشدد کیا جس مقدمہ میں اشتہاری بھی تھا، ملزم سے مزید تفتیش میں اس کے ساتھیوں اور سہولت کاروں کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں جن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی،

    موثر تفتیش، وارداتوں میں استعمال ہونے والے خنجر اور پسٹل کے ساتھ ساتھ بھاری مقدار میں ہیروئن کی برآمدگی پر ایس پی راول نے ایس ایچ اور نیوٹاؤن اور تفتیشی ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ نوجوان نسل کی رگوں میں زہر اتارنے والے معاشرہ کے ناسور قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے،خواتین پر تشدد ناقابل برداشت ہے ملزم کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کر کے قرارواقعی سزا دلوائی جائے گی،

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے والدین بھی عدالت پہنچ گئے

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری

    عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی