Baaghi TV

Tag: عدالت

  • بچے کے زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مجرم کو 3 بار سزائے موت کا فیصلہ

    بچے کے زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مجرم کو 3 بار سزائے موت کا فیصلہ

    راولپنڈی:عدالت نے بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مجرم کو 3 بار سزائے موت دینے کا فیصلہ سنا دیا۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے فیصلے میں لکھا کہ مجرم عرفان عظیم کو قتل کے جرم میں سزائے موت دی گئی جب کہ زیادتی کے جرم میں بھی سزائے موت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی،اسی طرح اغوا کے جرم میں بھی سزائے موت کے ساتھ 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیامجموعی طور پر مجرم پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    مجرم نے مارچ 2023ء میں تھانہ دھمیال کے علاقے سے 13 سالہ بچے کو اغوا کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا اور چھری کے وار سے قتل کر دیا تھاٹھوس شواہد اور مؤثر پیروی کی بنیاد پر عدالت نے مجرم کو سخت ترین سزا دیتے ہوئے حکم دیا کہ اسے پھانسی پر اس وقت تک لٹکایا جائے جب تک موت واقع نہ ہو۔

    رواں ماہ مکمل چاند گرہن کا مشاہدہ پاکستان میں بھی کیا جاسکے گا

    ادھرکراچی کی عدالت نے اسکول وین میں 7 سالہ بچی کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر ملزم (ڈرائیور) کو 14 سال قید کی سزا سنا دی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وسطی کی عدالت میں وین ڈرائیور کی جانب سے کمسن بچی کو ہراساں کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم اویس خان کو 14 برس قید کی سزا سناتے ہوئے 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا،جرمانے کی عدم ادائیگی پر ملزم کو مزید 3 سال قید بھگتنا ہوگی۔

    بھارت : اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں چوہے نے 2 نومولود بچوں کو کاٹ لیا

    پراسیکیوٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ ملزم نارتھ ناظم آباد میں واقع اسکول سےگھر بچی کو پک اینڈ ڈراپ سروس فراہم کرتا تھا بچی نے اپنے والدین کو بتایا کہ ڈرائیور اس کے ساتھ غیراخلاقی حرکات کرتا ہے، والدین کی شکایت پر ملزم کو گرفتار کیا گیا تھاعدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل صفائی نے نکتہ اٹھایا کہ مقدمے میں وقت اور جگہ نہیں بتائی گئی، بچی 7 سال کی ہے، اس کے لیے یہ یاد رکھنا بہت مشکل ہے،تازہملزم اویس خان کے خلاف تھانہ تیموریہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں پانچویں بار توسیع

    ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں پانچویں بار توسیع

    لاہور کی مقامی عدالت نے مشہور یوٹیوبر سعد الرحمن المعروف ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں پانچویں بار توسیع کری۔

    این سی سی آئی اے نے ڈکی بھائی کو دو روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے تفتیش مکمل نہیں ہوئی، اس لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع دی جائے تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں،عدالت نے ڈکی بھائی کے ریمانڈ میں پانچویں بار توسیع کرتے ہوئے انہیں مزید دو دن تک نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی حراست میں رکھنے کی منظوری دی۔

    عدالت نے ایجنسی کو ہدایت کی کہ وہ یوٹیوبر کے خلاف اپنی تفتیش جلد از جلد مکمل کرے،ڈکی بھائی نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایجنسی اپنی تحقیقات مکمل کرے اور ریمانڈ میں توسیع پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    وینزویلا کی ’منشیات بردار‘ کشتی پر امریکی فوج کا حملہ، 11 افراد ہلاک

    ڈکی بھائی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے غیر قانونی جوا ایپلیکیشنز کی پروموشن کی، جس کے تحت ان کے خلاف 17 اگست کی نصف شب این سی سی آئی اے لاہور نے ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا،مقدمے میں الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی شقیں 13 (الیکٹرانک جعلسازی)، 14 (الیکٹرانک فراڈ)، 25 (اسپیم) اور 26 (اسپوفنگ) کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 294-بی اور 420 بھی شامل ہیں۔

    گلگت بلتستان : 118 جانوروں کے پرمٹ نیلام کرنے کا اعلان

  • سرکاری ملازم پر تشدد کیس: ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان کی عدم پیشی،عدالت  برہم

    سرکاری ملازم پر تشدد کیس: ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان کی عدم پیشی،عدالت برہم

    عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ تفتیشی افسر کو قانون کی سمجھ بوجھ ہوتی تو ضامن کی آج زر ضمانت ضبط ہوجاتی۔

    کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں منتظم عدالت کے روبرو ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر کیخلاف سرکاری ملازمین پر تشدد اور دھمکانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی،پراسیکیوٹر، ملزمان اور مدعی کے وکیل اور تفتیشی افسر پیش ہوئے، تفتیشی افسر نے ملزمان کی رہائی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ مدعی کہاں ہیں؟ وکیل صفائی نے مؤقف دیا کہ مدعی کے وکیل موجود ہیں،عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس نے ملزمان کو ریلیف دے دیا، دیکھنا ہے کہ 497 اس کیس میں بنتا ہے یا نہیں، عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ملزمان سے مچلکے لئے ہیں یا ایسے ہی چھوڑ دیا؟

    کراچی میں 11 اور 12ربیع الاوّل کو ہیوی ٹریفک پر پابندی عائد

    تفتیشی افسر نے کہا کہ جی 10 لاکھ روپے کے مچلکے لیے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کہاں ہیں مچلکے؟ تفتیشی افسر نے مچلکے سے متعلق رپورٹ پیش کی،عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ ضامن ملزمان کو 30 تاریخ کو پیش کرے گا۔

    عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ تفتیشی افسر کو قانون کی سمجھ بوجھ ہوتی تو ضامن کی آج زر ضمانت ضبط ہوجاتی،عدالت یہ دیکھے گی کہ تفتیشی افسر نے جو اختیارات کا استعمال کیا ہے وہ قانون کے مطابق ہے بھی یا نہیں۔

    سیلاب کے بعد بارشوں کا نیا سلسلہ شروع،سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ

    عدالت ملزمان کی رہائی سے متعلق زیر دفعہ 497 رپورٹ پر ملزمان کو نوٹس جاری کردیئے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق اس رپورٹ پر فیصلہ کیا جائے گا،عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان اور ضامن کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 2 ستمبر تک ملتوی کردی۔

  • مدعی نے مقدمہ واپس لے لیا، چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی رہا

    مدعی نے مقدمہ واپس لے لیا، چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی رہا

    ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی اور دیگر ملزمان کے خلاف تشدد اور دھمکیوں کا مقدمہ واپس لے لیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے تینوں ملزمان کو تھانے سے رہا کردیا۔

    ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر کے خلاف تشدد اور دھمکیاں دینےسے متعلق کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت میں ہوئی،دوران سماعت ملزمان کے وکیل وقار عالم عباسی نے عدالت کو بتایا کہ مدعی سہیل نے مقدمہ واپس لے لیا ہے، فرحان غنی سمیت 3 ملزمان کو تھانے سے رہا کر دیا گیا ہے۔

    وکیلِ ملزمان کے مطابق مقدمے کے مدعی سہیل نے تحریری درخواست تفتیشی افسر کو جمع کرائی ہے، جس میں مقدمہ واپس لینے کا مؤقف اختیار کیا گیا، مدعی کی جانب سے مقدمہ واپس لیے جانے کے بعد ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں رہی، صرف تفتیشی افسر رہائی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے۔

    واضح رہے کہ انسدادِ دہشتگردی عدالت نے فرحان غنی اور دیگر ملزمان کا 30 اگست تک جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ فیروزآباد تھانے میں درج کیا گیا تھا۔

  • تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے وزیراعظم کو برطرف کردیا

    تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے وزیراعظم کو برطرف کردیا

    تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے کمبوڈیا کے سابق رہنما کے ساتھ لیک فون کال کے معاملے پر معطل وزیراعظم پائی تونگ تران شینا وتری کو عہدے سے برطرف کر دیا۔

    تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے جمعے کے روز معطل وزیرِاعظم پیتونگتارن شیناواترا کو اخلاقی بدعنوانی کے الزام میں عہدے سے برطرف کر دیا، عدالت نے انہیں کمبوڈیا کے سابق رہنما ہن سین کے ساتھ ایک متنازعہ فون کال پر قصوروار قرار دیا،39 سالہ پیتونگتارن شیناواترا اس طرح 2008 کے بعد عدالتی فیصلے کے ذریعے ہٹائے جانے والی 5ویں وزیرِاعظم بن گئی ہیں۔

    آئینی عدالت کی 9 رکنی بینچ نے، جسے عام طور پر ملک کے قدامت پسند شاہی حلقوں کا حامی سمجھا جاتا ہے، قرار دیا کہ وزیرِاعظم نے سرکاری عہدے کی اخلاقی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی۔

    سائبر کرائم ایجنسی کے اختیارات میں اضافہ

    عدالتی فیصلے کے مطابق، پیتونگتارن کی ہن سین سے جون میں ہونے والی کال کے دوران وہ سابق کمبوڈیائی رہنما کو ’انکل‘ کہہ کر مخاطب کر رہی تھیں جبکہ ایک سینیئر تھائی فوجی کمانڈر کو ’مخالف‘ قرار دے رہی تھیں،یہ گفتگو لیک ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی اور سرحدی جھڑپوں نے درجنوں جانیں لے لیں، جبکہ ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے، بعد ازاں 29 جولائی کو ملائیشیا کی ثالثی میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

    پیتونگتارن شیناوترا کو عدالت نے یکم جولائی کو مقدمے کے فیصلے تک معطل کر دیا تھا، فیصلے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی نیت ہمیشہ ملک کے مفاد میں رہی اور وہ تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتی ہیں کہ قومی استحکام کے لیے مل کر کام کریں۔

    میری نیت ذاتی فائدے کے لیے نہیں تھی، بلکہ عوام اور فوجیوں کی زندگیاں بچانے کے لیے تھی، آج کے فیصلے نے تھائی سیاست کا رخ بدل دیا ہے، اب حکومت، اپوزیشن اور عوام کو مل کر سیاسی استحکام کے لیے کوشش کرنا ہوگی تاکہ دوبارہ کوئی نازک موڑ نہ آئے،یہ فیصلہ پیتونگتارن شیناوترا اور ان کے والد اور سابق تھائی وزیرِاعظم تھاکسن شیناوترا کے خلاف جاری 3 بڑے عدالتی مقدمات میں سے دوسرا ہے، تھاکسن کو گزشتہ ہفتے شاہی خاندان کی توہین کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا،تاہم ان پر اب بھی یہ مقدمہ چل رہا ہے کہ وہ جیل جانے کے بجائے اسپتال کے خصوصی کمرے میں کیوں رہے، جب وہ 2023 میں 16 سالہ جلاوطنی ختم کر کے تھائی لینڈ واپس آئے تھے۔

    قومی مفاد میں ہر خاندان کے تین بچے ہونے چاہئیں، آر ایس ایس سربراہ

    واضح رہے کہ آئینی عدالت نے یکم جولائی کو تھائی وزیراعظم شینا وتری کو معطل کرتے ہوئے معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

  • سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد  بری

    سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد بری

    سپریم کورٹ نے سگی بیٹی سے زیادتی کے الزام میں 12 سال سے جیل میں قید والد کو بری کردیا –

    سپریم کورٹ کے جسٹس علی باقرنجفی کا تحریر کردہ 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا گیا جب کہ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس سنا تھا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ و ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا بھی کالعدم قرار دے دی ہے،عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ اگر ملزم کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔

    حکم نامے کے مطابق 2 اکتوبر 2010 کو متاثرہ بچی، جو اس وقت 6 یا7 برس کی تھی، روتی ہوئی اپنی ماں کے پاس گئی اور انکشاف کیا کہ اس کے والد نے اس کے ساتھ ’فعل بد‘ کیا ہے جس کے بعد اسے شدید تکلیف محسوس ہوئی،اس کے بعد والد کو گرفتار کر لیا گیا اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376(1) کے تحت عمر قید اور 35 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی، 2013 میں لاہور ہائی کورٹ نے بھی یہ سزا برقرار رکھی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متاثرہ بچی کا بیان ریکارڈ کرتے وقت اس کی ذہنی پختگی کا ٹیسٹ نہیں لیا گیا جب کہ قانونِ شہادت کے تحت بچے کا بیان تب معتبر ہے، جب جج اس کی سمجھ بوجھ پر مطمئن ہو، متاثرہ کے بیان میں تضادات پائے گئے اور اس میں واقعے کی تاریخ اور وقت واضح نہیں تھا، ڈاکٹر کی رائے بھی متضاد تھی، پہلے زیادتی کہا پھر جرح میں انکار کیا مدعیہ والدہ اور ماموں واقعے کے عینی شاہد نہیں، صرف افواہی گواہ ہیں، خاندان کے اندر جائیداد اور گھریلو جھگڑوں کا تنازع بھی ریکارڈ پر آیا عدالت نے استغاثہ کے شواہد کو غیر معتبر قرار دے دیا۔

    جسٹس نجفی نے کہا کہ ’اس سے عدالت کے سامنے متاثرہ بچی کے بیان کی ساکھ اور ملزم کے غلط طور پر ملوث کیے جانے کے امکان پر سنگین سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں، ایسے سنگین الزامات کیوں عائد کیے گئے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ریکارڈ میں آیا ہے کہ شکایت کنندہ اور ملزم کے درمیان تنازع موجود تھا-

    واضح رہے کہ 2010 میں چھ سالہ بیٹی نے والد پر زبردستی زیادتی کا الزام لگایا تھا، جس پر ٹرائل کورٹ نے ملزم کو عمر قید اور 35 ہزارروپے جرمانے کی سزا سنائی تھی،لاہورہائیکورٹ نے 2013 میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا تاہم ملزم نے ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

  • کراچی: لیاری گینگ کے عزیر بلوچ اسلحہ برآمدگی اور سہولت کاری کے مقدمے میں بری

    کراچی: لیاری گینگ کے عزیر بلوچ اسلحہ برآمدگی اور سہولت کاری کے مقدمے میں بری

    کراچی کی عدالت نے غیر قانونی اسلحہ برآمدگی اور سہولت کاری کے مقدمے میں لیاری گینگ کے سرغنہ عزیر جان بلوچ کو بری کردیا-

    جوڈیشل مجسٹریٹ ضلع غربی کی عدالت میں لیاری گینگ کے سر غنہ عزیر بلوچ کو پیش کیا گیا، عدالت نے استغاثہ کی جانب سے ناکافی شواہد کی بنیاد پر عزیر جان بلوچ کو غیر قانونی اسلحہ برآمدگی کے مقدمے سے بری کر تےہوئےریلیز آرڈر جاری کر دیے، اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ ملزم اگر کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کر دیا جائے۔

    اس سے قبل وکیل صفائی نے عدالت میں اپنے حتمی دلائل میں بتایا تھا کہ ان کے مؤکل پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، عزیر بلوچ کے خلاف پولیس ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی ہےملزم سیفل نے بیان دیا تھا کہ عزیربلوچ اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ نے اسلحے کی ترسیل میں سہولت فراہم کی تھی۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے عزیر جان بلوچ کو بری کرتے ہوئے ریلیز آرڈر جاری کر دیے، اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ ملزم اگر کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کر دیا جائے،استغاثہ کے مطابق ملزم سے گولا بارود اور گولیاں برآمد کی گئیں تھی، ملزمان کیخلاف تھانہ سی آئی ڈی میں 2012 میں درج کیا گیا تھا، عزیر بلوچ کو 2021 میں اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔

  • سرکاری ملازم پر تشدد :سعید غنی کے بھائی فرحان غنی راہداری ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    سرکاری ملازم پر تشدد :سعید غنی کے بھائی فرحان غنی راہداری ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    سرکاری ملازم پر تشدد اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں گرفتار وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کے بھائی اور چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی کو راہداری ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

    صوبائی وزیر سعید غنی کے بھائی فرحان غنی کو اسپیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کردیا گیا، پولیس نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت فیروز آباد تھانے میں مقدمہ درج ہے، ملزمان کو کل انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا،پولیس نے عدالت سے فرحان غنی اور دیگر ملزمان کے راہداری ریمانڈ کی استدعا کی، جس کے بعد عدالت نے فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان کو ایک روزہ راہداری ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا،تفتیشی افسر نے بتایا کہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کا ہے، ملزمان کو پیر کے روز اے ٹی سی کی منتظم عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا۔

    سعید غنی کے بھائی فرحان غنی سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج

    سعید غنی کے بھائی فرحان غنی کی سرکاری اہکار کے ساتھ لڑائی جھگڑے کی فوٹیج منظر عام پر آگئی،ویڈیو میں شلوار قمیض پہنے شخص کو دیکھا جا سکتا ہے، نیلے کپڑوں میں فرحان غنی اور دیگر کو بھی دیکھا جا سکتا ہےویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص شلوار قمیض پہنے شخص کو گلے سے دبوچا ہوا ہےبعد ازاں ویڈیو میں دیکھا گیا کہ فرحان غنی کے ساتھ موجود افراد نے اس شخص پر تشدد شروع کر دیا،ویڈیو میں تمام افراد کو مار پیٹ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    قبل ازیں پولیس کی جانب سے فرحان غنی اور دیگر ملزمان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

    خیال رہے کہ چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی اور دیگر کے خلاف فیروزآباد تھانے میں سرکاری ملازم کی مدعیت میں درج ہے، مقدمے میں انسداد دہشت گردی، اقدام قتل اور دیگر دفعات شامل ہیں،گرفتار ملزمان میں فرحان غنی، قمر احمد خان، شکیل چانڈیو، سکندر اور روحان شامل ہیں۔

    آرٹیکل 370 کی منسوخی غیر آئینی، بی جے پی وعدہ خلافی کی مرتکب ہوئی، سابق بھارتی وزیر داخلہ

  • لاہور ہائیکورٹ نے قیام پاکستان سے پہلے کا جائیداد کا تنازعہ حل کردیا

    لاہور ہائیکورٹ نے قیام پاکستان سے پہلے کا جائیداد کا تنازعہ حل کردیا

    لاہور ہائیکورٹ نے قیام پاکستان سے پہلے شروع ہونے والا جائیداد کا تنازع حل کردیا-

    جسٹس خالد اسحاق نے جمشید سمیت دیگر کی اپیل پر 29 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیاعدالت نے قرار دیا کہ غفوراں بی بی اپنی زندگی میں کبھی عدالت نہیں گئیں اور ان کی وفات کے بعد اولاد نے 21 برس تک خاموشی اختیار کیے رکھی، اچانک 2009 میں 1952 کے معاہدے کے خلاف دعویٰ دائر کردیا جو قانون کے مطابق قابل سماعت نہیں تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ 1945 میں کریم بخش کی بھارت کے موضع براس میں زمین تھی، قیام پاکستان سے پہلے کریم بخش کا انتقال ہوچکا تھا، ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی پاکستان ہجرت کر کے آئے، کریم بخش کی جائیداد بڑے بیٹے عبدالغفور کے نام ہوئی لیکن وہ قیام پاکستان کے وقت ہی جاں بحق ہو گئے۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عبدالغفور کی بیوہ اور بھائی نے 1948 کے سیٹلمنٹ اینڈ ری ہیبلیٹیشن آرڈیننس کے تحت بھارت کی زمین کے عوض پاکستان میں جائیداد مانگی جس پر 1952 میں کامونکی میں پراپرٹی الاٹ کی گئی اور اس معاہدے میں عبدالغفور کی بیوہ اور بھائی کو شریک کیا گیا، معاہدے میں بہن غفوراں بی بی کا ذکر نہیں تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ غفوراں بی بی 1988 تک زندہ رہیں لیکن انہوں نے کبھی اس معاہدے کو چیلنج نہیں کیا، ان کے بھائی 1985 تک زندہ رہے اور پراپرٹی ان کی اولاد میں تقسیم ہو گئی، غفوراں بی بی کی اولاد نے پہلی بار 2009 میں دعویٰ دائر کیا جو ٹرائل کورٹ نے 2013 میں خارج کردیا، بعدازاں اپیلٹ کورٹ نے یہ دعویٰ منظور کرتے ہوئے بہن کی اولاد کے حق میں فیصلہ دیا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے سامنے تین سوالات تھے، کیا تاخیر سے دائر دعویٰ قابلِ سماعت ہے یا نہیں؟ کیا بھارت سے منتقل شدہ جائیداد پر شریعت کا قانون لاگو ہوتا ہے؟ اور کیا 1952 میں بہن کو حصہ نہ دینا درست تھا؟

    عدالت نے قرار دیا کہ تاخیر سے دائر دعویٰ قانون کے مطابق ناقابل سماعت ہے، 1952 کے معاہدے میں شریعت ایکٹ لاگو تھا اور بہن یا ان کی اولاد نے دہائیوں تک کوئی آواز نہ اٹھا کر دعویٰ کرنے کا حق کھو دیا، اس بنیاد پر ہائیکورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا بہن کی اولاد کے حق میں فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

  • راولپنڈی احتجاج کیس:  غیر حاضری پر عالیہ حمزہ کی عبوری ضمانت خارج

    راولپنڈی احتجاج کیس: غیر حاضری پر عالیہ حمزہ کی عبوری ضمانت خارج

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) نے عدم پیروی اور غیر حاضری پر عالیہ حمزہ کی عبوری ضمانت خارج کر دی۔

    انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے خلاف ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2024 کے احتجاج کے مقدمات میں ضمانتوں کی سماعت کی،دوران سماعت عدالت نے عدم پیروی اور غیر حاضری پر عالیہ حمزہ کی عبوری ضمانت خارج کر دی، عالیہ حمزہ کی پہلے بھی ایک مرتبہ عدم حاضری پر ضمانت خارج کی جا چکی ہے۔

    پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت کو آگاہ کیا ملزمان تفتیش اور ٹرائل میں تعاون نہیں کر رہے، دانستہ طور پر پیش نہیں ہوتے، ملزمان کے ان حربوں سے تفتیش کا عمل متاثر ہوتا ہے، اور تفتیش سمیت عدالتی عمل آگے نہیں بڑھ پا رہا۔

    اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ بننے کا سلسلہ جاری،انڈیکس ایک لاکھ 50 ہزار کی سطح عبور کرگیا

    عدالت نے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کی عبوری ضمانت میں 3 ستمبر تک توسیع کر دی،عدالت نے سینیٹر اعظم سواتی کی درخواست ضمانت پر سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی،اعظم سواتی پشاور ہائی کورٹ میں پیشی کے باعث عدالت حاضر نہیں ہوسکے، اعظم سواتی کی غیر حاضری پر ان کے وکیل کی جانب سے درخواست عدالت پیش کی گئی تھی۔

    ملک کو سیاسی استحکام کی شدید ضرورت ہے،رانا ثنا اللہ