Baaghi TV

Tag: عدالت

  • 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ،وزیراعظم  شہباز شریف کی ویڈیو لنک پر پیشی

    10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ،وزیراعظم شہباز شریف کی ویڈیو لنک پر پیشی

    لاہور: عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے دعوے کی سماعت کے دوران شہباز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے عدا لت میں پیش ہوئے جن پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے جرح کی،جب کہ ان پر جرح کے دوران بجلی بند ہوگئی۔

    ایڈیشنل سیشن جج نے شہباز شریف کے دائر دعوے پر سماعت کی، وزیر اعظم بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش ہوئے، عمران خان کے وکیل میاں محمد حسین چوٹیا نے شہباز شریف پر جرح کی، وزیر اعظم نے کمرہ عدالت میں جرح سے پہلے حلف لیا۔

    ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی ہرجانے کے دعوے پر سماعت کر رہے ہیں جبکہ عمران خان کے وکیل میاں محمد حسین جرح کر رہے ہیں۔

    شہباز شریف نے جرح سے پہلے حلف لیا اور کہا کہ جو کہوں گا سچ کہوں، غلط بیانی نہیں کروں گا، یہ درست ہے کہ دوران جرح اس وقت میرا وکیل میرے ساتھ بیٹھا ہے، یہ درست ہے کہ جہاں میں بیٹھا ہوں، وہاں مدعا علیہ کا وکیل نہیں، وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ کیا آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کا دعوی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر نہیں ہوا، شہباز شریف نے کہا کہ یہ میرے پاس لکھا ہے کہ دعوی ڈسٹرکٹ جج کے پاس دائر ہوا ہے۔

    انہوں نے عدالت کو بتایا کہ صدر مملکت کو منظوری کیلئے بھجوانے سے پہلے تمام قوانین اور رولز کا کابینہ جائزہ لیتی ہے، میں نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف ہرجانے کے دعوے پر خود دستخط کیے۔

    ان کا کہنا تھا یاد نہیں کہ دعویٰ دائر کرنے سے پہلے ہتک عزت کاقانون پڑھا تھا کہ نہیں، دعوے کی تصدیق کیلئے اسٹام پیپر میرے و کیل کے ایجنٹ کے ذریعے خریدا گیا، دعوے کی تصدیق کیلئے اوتھ کمشنر خود میرے پاس آیا تھا، اوتھ کمشنر کا نام، تصدیق کا دن اور وقت یاد نہیں لیکن وہ خود ماڈل ٹاؤن آیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے آج تک میرے آمنے سامنے یہ الزام نہیں لگایا، یہ درست ہے میں نے دعو یٰ ڈسٹرکٹ جج کے روبرو دائر کیا ہے، ڈسٹرکٹ کورٹ میں نہیں، دعوے میں میڈیا ادارے، ملازم، افسر کو فریق نہیں بنایا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی نے تمام الزام 2 ٹی وی چینلز کے پروگرام پر لگائے، مجھے علم نہیں کہ دونوں نیوز چینلز کے یہ ٹی وی پروگرام کس شہر سے نشر ہوئے، دعویٰ دائر کرنے سے پہلے میں نے دونوں چینلز کے پروگرام کے نشر کرنے کے شہروں کی تصد یق نہیں کی۔

    دوران سماعت وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ کیا میں پنجابی میں سوال کرسکتا ہوں، وزیراعظم نے کہا کہ آپ بڑے شوق سے کریں، و کیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جن ٹی وی پروگرامز میں آپ پر الزام عائد کیے گئے وہ اسلام آباد سے آن ایئر ہوئے تھے؟ شہباز شریف نے جواب دیا کہ مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے کہ پروگرام کہاں سے آن ایئر ہوئے۔

    عمران خان کے وکیل نے شہباز شریف سے سوال کیا کیایہ درست ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے آج تک آپ کے خلاف خود بیان شا ئع نہیں کیا،شہباز شریف نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے ٹی وی چینلز پر تمام الزامات خود ہی لگائے ہیں، مجھے علم نہیں دونوں چینلز کا مالک یا ملازم بانی پی ٹی آئی نہیں۔

    وکیل نے استفسار کیا کیا یہ درست ہے بطور ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کو سماعت کا یا شہادت ریکارڈ کرنے کا اختیار نہیں، جس پر شہباز شریف کے وکیل مصطفیٰ رمدے نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا یہ قانونی نکتہ طے ہو چکا ہے۔

    عدالت نے شہباز شریف سے سوال کیا کیا آپ اس نکتے کا جواب دینا چاہتے ہیں؟ جس پر شہباز شریف نے کہا یہ غلط ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو بطور ڈسٹرکٹ جج دعوےکی سماعت یا شہادت ریکارڈ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

    وزیر اعظم سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ درست ہے کہ عمران خان نے آج تک آپ کے خلاف ازخود بیان نشر یا شائع نہیں کیا، انہوں نے جواب دیا کہ عمران خان نے ٹی وی چینلز پر تمام الزامات خود ہی لگائے ہیں، مجھے علم نہیں ہے کہ عمران خان روزنامہ جنگ، پاکستان جیسے اخبارات کا مالک ہے یا نہیں۔

    عمران خان کے وکیل نے سوال کیا کیا یہ درست ہے کہ بطور ایڈیشنل سیشن جج آج کی عدالت کو سماعت کا، شہادت ریکارڈ کرنے کا اختیار نہیں، وزیر اعظم کے وکیل مصطفی رمدے نے عمران خان کے وکیل کے سوال پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ قانونی نقطہ طے ہو چکا ہے۔

    عدالت نےشہباز شریف سےسوال کیا کہ کیا آپ اس نقطے کا جواب دینا چاہتے ہیں، وزیر اعظم نے جواب دیا کہ یہ غلط ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو بطور ڈسٹرکٹ جج دعوی سماعت کرنے، شہادت ریکارڈ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا مجھے یاد نہیں، 2017 میں جب الزام لگا تو مسلم لیگ ن کا صدر تھا یا نہیں، یہ درست ہے کہ 2017 میں میرا مسلم لیگ ن سے تعلق تھا، آج بھی ہے، یہ درست ہے کہ جب 2017 میں الزام لگا تو بانی پی ٹی آئی چیئرمین پی ٹی آئی تھے، جب سے بانی پی ٹی آئی نے سیاست شروع کی تب سے مسلم لیگ ن کے حریف رہے ہیں۔

    دوران جرح عدالت کی بجلی چلی گئی اور جرح روک دی گئی، وزیر اعظم پر دوبارہ جرح 11 بج پر 50 منٹ پر شروع ہوئی، وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے علم نہیں کہ دونوں چینلز کا مالک یا ملازم عمران خان نہیں ہے، مجھے علم نہیں ہے کہ ہتک عزت قانون سے مواد شروع یعنی Originator کا لفظ حذف کر دیا گیا ہے۔

    عدالت نے شہباز شریف پر مزید جرح آئندہ سماعت تک ملتوی کرتے ہوئے سماعت 25 اپریل تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پاناما کیس واپس لینے کے لیے 10 ارب کی پیشکش کا الزام لگایا تھا جس کے خلاف شہباز شریف بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔

  • 26 نومبر احتجاج : وزیراعظم و دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    26 نومبر احتجاج : وزیراعظم و دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: 26 نومبر احتجاج میں بیٹے ہلاکت کے خلاف وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر اعلی پنجاب، آئی جی و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: ایڈیشنل یشن جج افضل مجوکا نے 9 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا کہ مقدمہ اندراج درخواست میں ایف آئی آر کی ہدایت دیتے عدالت مطمئن ہونی چاہیے کافی مواد ریکارڈ پر موجود ہے، قانونی طور پر درخواست گزار وکیل کی اس دلیل کی کوئی حیثیت نہیں۔

    عدالت نے کہا کہ پٹیشن کی سپورٹ میں کوئی مواد ضروری نہیں ، فیصلہ درخواست گزار کے دعوی کے مطابق 26 نومبر کو ان کے بیٹے محمد علی سمیت 9 ہلاکتیں ہوئیں، درخواست گزار کی جانب سے کوئی ڈیتھ سرٹیفکیٹ پوسٹمارٹم رپورٹ ریکارڈ پر موجود نہیں، درخواست گزار نے کہا پولیس اور اسلام آباد کی اتھارٹیز نے انہیں کوئی ریکارڈ نہیں دیا جو پیش کرتے۔

    ”ٹی کرونا بوریالس“ نامی ستارہ آئندہ ہفتے تباہ ہونیوالا ہے

    فیصلے کے مطابق درخواست کے مطابق 9 ہلاک ہونے والوں کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہیں، 9 افراد کی موت کی وجہ جانچنے کے لیے مجسٹریٹ کو قبر کشائی درخواست بھی دے سکتے تھے، درخواست گزار کے وکیل نے کہا موت کی وجہ معلوم کرنا درخواست گزار کی نہیں پولیس کی ذمہ داری تھی۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پٹشنر نے الزام لگایا ہے پولیس نے ڈیڈ باڈی حوالے کرتے زبردستی سادہ کاغذ پر دستخط کروائے، درخواست گزار کے مطابق دیگر ہلاک شدگان کے لواحقین کے ساتھ تھانے مقدمہ درج کرانے گیا، درخواست کے مطابق تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے اسے اور دیگر کو وہیں حراست میں لے لیا۔

    چوتھا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان کا نیوزی لینڈ کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق دیگر افراد سے بیان حلفی لیکر رہا کر دیا گیا، درخواست گزار کے مطابق رہا ہونے کے بعد ایس ایچ او کو بیان ریکارڈ کرانے گیا تو اس نے انکار کر دیا ،پولیس حکام کے مطابق ملزمان کے نام کا درخواست میں ذکر ہی موجود نہیں، فرانزک میڈیسن ، لیگل میڈیسن اور میڈیکو لیگل رپورٹ کرمنل جسٹس سسٹم کے ساتھ جڑی ہوئیں ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ یہ تمام رپورٹ آرٹیکل 10 اے فئیر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کے لیے بھی ضروری ہیں، کرمنل جسٹس سسٹم اور میڈیکو لیگل سسٹم میں میڈیکل ایگزیمینر بہت کلیدی کردار ہے، درخواست گزار کی بات سے واضع ہوتا ہے اسے اور دیگر کو ڈیڈ باڈیز حوالے کی گئیں تھیں، ایک دلیل کے طور یہ کہہ سکتے ہیں اسلام آباد اتھارٹیز نے پوسٹمارٹم نہیں کرایا تھا۔

    دریائے سندھ میں کوٹری کے مقام پر پانی کی سطح گر گئی

    فیصلے میں کہا گیا کہ اس صورت حال میں لواحقین اپنی پسند کی جگہ سے پوسٹ مارٹم کرا سکتے تھے ، لواحقین قبر کشائی کی درخواست بھی مجسٹریٹ کو دے سکتے تھے، نا درخواست گزار نا کسی اور نے موت کی وجہ جانچنے کے لیے کوئی درخواست دائر کی، محمد علی اور دیگر 8 کی موت کے حوالے سے کوئی مواد موجود نہیں کہ ان کی غیر طبعی موت ہوئی، وزیراعظم و دیگر کے خلاف مقدمہ اندراج کی 22 اے کی درخواست خارج کی جاتی ہے۔

  • سائلین سے رشوت،اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحقیقات کا حکم

    سائلین سے رشوت،اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحقیقات کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جسٹس بابر ستار کے پرائیویٹ سیکرٹری کے خط پر انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کی ہدایت پر رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو ایک خط ارسال کیا گیا۔ اس خط میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہو کر آئے اسٹاف کے بارے میں شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ وہ سائلین سے رشوت لے رہے ہیں۔خط میں مزید کہا گیا کہ کورٹ کا اسٹاف سائلین اور وکلا سے رقم کا مطالبہ کرتا ہے، جس کے باعث عدالت میں بدعنوانی کی فضا بن گئی ہے۔ اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے انکوائری کا حکم دے دیا۔

    انکوائری کے لیے رجسٹرار یار محمد ولانہ اور ایڈیشنل رجسٹرار اسٹیبلشمنٹ رائے محمد خان کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس نے تین دن میں انکوائری رپورٹ طلب کی ہے تاکہ معاملے کی تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔یاد رہے کہ رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس معاملے کو قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے سامنے پیش کیا تھا، جس کے بعد یہ انکوائری شروع کی گئی۔اس اقدام کا مقصد عدالتوں کے اندر بدعنوانی کو روکنا اور انصاف کے نظام کو صاف ستھرا بنانا ہے۔ انکوائری کے بعد اگر کوئی فرد ملوث پایا گیا تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت،جے یوآئی نے پی ٹی آئی کو شرائط بتا دیں

    بھارتی فضائیہ کے دو طیارے ایک دن میں تباہ

    ڈیرہ غازی خان :ادویات اسکینڈل، معطلیوں کی گونج، بڑی مچھلیاں محفوظ؟

  • شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر ترمیمی فرد جرم عائد

    شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر ترمیمی فرد جرم عائد

    اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے جناح ہاؤس کے قریب پولیس کی گاڑیاں جلانے کے تین مقدمات میں تحریک انصاف کے رہنماؤں پر ترمیمی فرد جرم عائد کر دی۔

    باغی ٹی وی : لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں کیس کی سماعت کی، جہاں شاہ محمود قریشی، عمر سرفراز چیمہ، ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر ملزمان کو پیش کیا گیا۔

    ملزمان نے فرد جرم کی صحت سے انکار کیا، جس کے بعد عدالت نے تینوں مقدمات میں ترمیمی فرد جرم عائد کر دی عالیہ حمزہ، صنم جاوید اور خدیجہ شاہ سمیت دیگر ملزمان بھی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ عدالت نے 6 مارچ کو گواہوں کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر لیا۔

    امریکی صدر کا دنیا تباہ کرنے کا دعویٰ .تحریر:غنی محمود قصوری

    پراسیکیوشن کی درخواست پر عدالت نے فرد جرم میں ترمیم کی اجازت دی، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں پر بغاوت اور فسادات پر اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں کے شیڈول کے بارے میں درخواست پر فیصلہ بھی محفوظ کر لیا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت میں اس درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عمران خان کی ملاقاتوں کے شیڈول میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالنے کی درخواست کی گئی تھی۔

    عمران خان کا جیل میں طبی معائنہ

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس :اہم گواہ نے ملزمان رمغان اور شیراز کو شناخت کرلیا

    مصطفیٰ عامر قتل کیس :اہم گواہ نے ملزمان رمغان اور شیراز کو شناخت کرلیا

    کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس کے اہم گواہ اور ملزم ارمغان کے ملازم نے قتل کیس میں نامزد ارمغان اور شیراز کو عدالت میں شناخت کرلیا۔

    باغی ٹی وی : کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں مصطفیٰ عامرقتل کیس کی سماعت ہوئی جس دوران ملزم ارمغان کے ملازم اور کیس کے اہم گواہ غلام مصطفیٰ کا بیان قلمبند کیا گیاگواہ غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ 6 جنوری کی رات 9 بجے ایک لڑکا آیا تھا جس کے لئے ہم نے دروازہ کھولا تھا، لڑکے نے ٹراؤزر پہنا ہوا تھا اور جیکٹ میں تھا مگر میں نے شکل نہیں دیکھی تھی۔

    ملازم نے عدالت کو بتایا کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد گالم گلوچ کی آواز آئی اور پھر دو یا تین فائر کی آواز آئی، ہم دونوں کمرے سے باہر آگئے تھے، میں اپنے کمرے میں جاکر سوگیا، نیند نہیں آرہی تھی، فجر کی نماز پڑھی اور پھر دن ایک ڈیڑھ بجے اٹھے تو ارمغان اور اس کا دوست موجود تھے، ہمیں اوپر جانے کی اجازت نہیں تھی،پانی اورکھانے کے لیے فون کرتے تھے۔

    جنرل ساحر شمشاد مرزا کی ازبک نائب وزیرِ دفاع سے ملاقات

    گواہ نے مزید بتایا کہ کچھ دن بعد پولیس کا چھاپہ پڑا اور فائرنگ ہورہی تھی، ہم اپنے روم میں تھے، ہم چھپ گئے تھے اور پھر باہر نکل کر چلے گئے ، 10 تاریخ کو سامان اٹھانے بنگلے کے آس پاس آئے تو پولیس نے ہمیں پکڑ لیاارمغان کے ملازم نے عدالت میں کہا کہ جو واقعہ ہوا ہم نے پولیس کو سچ سچ بتا دیا تھا، پولیس اسی رات ہمیں بنگلے پر لے کر گئی تھی، ہم نے پولیس کوخون کے نشانات دکھائے، پولیس ہمیں اس رات تھانے لے گئی اور موبائل نمبر لے کر چھوڑ دیا تھا مگر پھر بعد میں پولیس نے ہمیں فون کرکے بلایا تھا۔

    آئینہ دکھانا مرا کام ہے.تحریر:نمرہ ملک

    بعد ازاں عدالت نے گواہ سے پوچھا کہ دیکھو ملزمان یہاں موجود ہیں؟ اس پر گواہ غلام مصطفیٰ نے عدالت میں ملزم ارمغان اور شیراز کو شناخت کرلیا۔

  • توشہ خانہ ٹو کیس، سماعت بغیر کاروائی کے ملتوری

    توشہ خانہ ٹو کیس، سماعت بغیر کاروائی کے ملتوری

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 27 فروری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

    سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے تصدیق کی کہ عدالتی عملہ نے صبح باضابطہ طور پر اس بات سے آگاہ کیا کہ کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ اس کیس میں اب تک مجموعی طور پر 8 گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں، اور ان میں سے 7 گواہوں پر جرح مکمل کی جا چکی ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے آٹھویں گواہ پر جرح کی تھی۔

    اس کے علاوہ، بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے جیل ٹرائل کی بجائے اوپن ٹرائل کی درخواست بھی عدالت میں دائر کی ہے۔ اس درخواست میں یہ استدعا کی گئی کہ اوپن ٹرائل کی درخواست پر فیصلہ ہونے تک توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت روکی جائے۔ اس درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں، اور اس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، ایف آئی اے، اور محکمہ داخلہ پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔

  • رانی پور فاطمہ قتل کیس: والد نے صلح کی تردید کردی

    رانی پور فاطمہ قتل کیس: والد نے صلح کی تردید کردی

    خیر پور: مقتولہ فاطمہ کے والد نے ملزمان کے ساتھ کئے گئے کسی بھی صلح نامے کی تردید کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: جمعرات کو خیرپور میں فورتھ ایڈیشنل سیشن جج ثمینہ منگی کی عدالت میں رانی پور فاطمہ قتل کیس کی سماعت ہوئی، جہاں مرکزی ملزم پیر اسد شاہ سمیت دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا عدالت نے ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت 15 فروری تک ملتوی کردی، کیس کے چار ملزمان پیر اسد شاہ، حنا شاہ، فیاض شاہ اور امتیاز جیل میں ہیں۔

    ادھر، مقتولہ فاطمہ کے والد ندیم فرڑو نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملزمان سے صلح کے دعوے کی تردید کی ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی تک کسی سے کوئی صلح نہیں کی، ہمیں عدالتوں پر مکمل اعتماد ہے اور جو بھی فیصلہ عدالت کرے گی، وہی قبول ہوگا،اگر کسی عدالت میں صلح نامہ جمع کروایا گیا ہے تو اسے سامنے لایا جائے۔

    جنگ بندی معاہدہ برقرار،حماس کا یرغمالیوں کی رہائی کا اعلان

    قبل ازیں ایڈووکیٹ قربان ملاح نے بتایا تھا کہ مقتولہ کی ماں شبنم فرڑو نے کیس ختم کرنے کی استدعا کی ہے اور عدالت میں ملزمان سے صلح ہونے کا بیان دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ سے پیسوں کی لین دین کے اطلاعات آرہی تھیں۔ بااثرافراد کی مداخلت پرپہلے بھی مدعی نے صلح کا بیان جمع کرایاتھا اس سے قبل بچی کے والدین نے کئی باردباؤڈالےجانےکاانکشاف کیا۔

    عمران خان سے علی امین کی ملاقات،شیر افضل مروت سے متعلق کیا گفتگو کی؟

    واضح رہےکہ 16اگست 2023 کو خیرپورمیں واقعہ پیش آیا، جہاں بااثرپیرکی حویلی میں کم سن ملازمہ 10 سالہ فاطمہ پراسرارطورپرجاں بحق ہوگئی، بچی کو پوسٹ مارٹم کے بغیرہی دفن کردیا گیاتھا، اورپولیس نے جاں بحق بچی کا میڈیکل اورپوسٹ مارٹم کروائےبغیرہی کیس داخل دفترکیا۔

    ابتدامیں بچی کے والدین نے بیان دیاتھا کہ ان کی بیٹی مرشد کے گھرمیں کام کرتی تھی، اورغربت کی وجہ سے وہ خود اپنی بچی کو وہاں چھوڑکرآئے تھے متوفی فاطمہ کے والدین نے کہا کہ ہماری بچی 3 روزسے بیمارتھی اوربیماری کے باعث وہ فوت ہوگئی ہے پیرکے گھرمیں بچی کی لاش کی ویڈیوسوشل میڈیا پروائرل ہوئی جس کے بعد یہ واقعہ میڈیا کے سامنے آیا فاطمہ فرڑو کی والدہ شبانہ نے ابتدائی طورپرمقدمہ درج کرانے سے انکار کیا تھا۔

    رنویر الٰہ آبادیہ کا متنازع بیان ، عرفی جاوید، راکھی ساونت بھی مشکل میں پڑ گئیں

    بعد ازاں رانی پورمیں بااثرپیرکی حویلی میں ہلاک ہونے والی 10 سالہ گھریلو ملازمہ فاطمہ فروڑ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کی گئی رپورٹ میڈیکل بورڈ حیدرآباد نے جاری کی، پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ فاطمہ کی موت طبعی نہیں بلکہ اس پر تشدد کیا گیا تھا جس کہ وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی۔

  • لاہور ہائیکورٹ،پیکا ایکٹ کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ،پیکا ایکٹ کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائی کورٹ میں پیکا ترمیمی ایکٹ کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے فوری طور پر پیکا ترمیمی آرڈیننس کی مختلف شقوں پر عملدرآمدروکنے کی استدعا مسترد کر دی، جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ پہلے فریقین کا موقف آ جائے پھر فیصلہ کریں گے ،جسٹس فاروق حیدر نے تین ہفتوں میں تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ،جسٹس فاروق حیدر نے صحافی جعفر بن یار کی درخواست پر سماعت کی

    عدالت نے درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی ،عدالت نے وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ پیکا بل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور صحافتی تنظیموں کی مشاورت کے بغیر لایا گیا ،پیکا ترمیمی بل کی منظوری سے آئین میں دی گئی آزادی اظہار شدید متاثر ہوگی،پیکا ترمیمی ایکٹ غیر آئینی اور آئین میں دی گئی آزادی اظہار کے تحفظ سے متصادم ہے،عدالت پیکا ترمیمی ایکٹ کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دے،عدالت پیکا ترمیمی ایکٹ کے تحت ہونے والی کارروائیوں کو درخواست کے حتمی فیصلے سے مشروط کرے

    واشنگٹن فضائی حادثہ،پاکستانی خاتون بھی جاں بحق

    سیالکوٹ:اسمارٹ پولیسنگ،سنیپ چیکنگ کے لیے جدید ٹیمیں تشکیل

  • سندھ ہائیکورٹ کا بھکاریوں ،خواجہ سراؤں کے خلاف کارروائی کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ کا بھکاریوں ،خواجہ سراؤں کے خلاف کارروائی کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے شہر بھر کے ٹریفک سگنلز پر بھکاریوں اور خواجہ سراؤں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے پولیس کو سخت احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ حکم عدالت میں دائر ایک درخواست پر سنایا گیا جس میں ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگنے والے افراد کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

    عدالتی حکم میں کہا گیا کہ شہر کے کسی بھی سگنل پر خواجہ سرا، مرد، خواتین یا بچے نہیں ہونے چاہئیں۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگنے والے افراد نہ صرف شہریوں کو پریشان کرتے ہیں بلکہ انہیں ہراساں بھی کرتے ہیں۔ اس پر فوری طور پر پولیس کو حکم دیا گیا کہ وہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرے جو شہریوں کو ذہنی اذیت کا سامنا کروا رہے ہیں۔عدالت نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی طرف سے شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ یہ فیصلہ شہر میں عوامی سہولت کو بہتر بنانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

    پولیس کو تاکید کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کرے اور ایسے افراد کو قانون کے دائرے میں لائے۔ اس حکم کے بعد پولیس نے کارروائی شروع کر دی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہوگی، جس سے شہریوں کو راحت ملے گی۔

    کرم میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت کا مسئلہ برقرار

  • جی ایچ کیو  حملہ کیس: دو ملزمان کی بریت کی درخواست مسترد

    جی ایچ کیو حملہ کیس: دو ملزمان کی بریت کی درخواست مسترد

    راولپنڈی: انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے 9 مئی کو جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کے دو ملزمان کی بریت کی درخواست مسترد کر دی۔

    باغی ٹی وی: عدالت کے جج امجد علی شاہ کی زیر صدارت کیس کی سماعت ہوئی، جس میں ملزمان کرنل اجمل صابر اور سہیل عرفان عباسی کی بریت کی درخواست پر غور کیا گیا۔

    پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت میں اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے خلاف استغاثہ کے پاس کافی شواہد موجود ہیں اور ان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے انہوں نے مزید کہا کہ استغاثہ کے گواہان اپنے بیانات ریکارڈ کروا رہے ہیں، جو کہ مقدمے کی تفتیش میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

    مہاکمبھ میلے کی مونا لیزا کو بالی ووڈ سے بڑی آفر مل گئی

    بعد ازاں، انسداد دہشت گردی عدالت نے دونوں ملزمان کی بریت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ شواہد کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا کرنل اجمل صابر اور سہیل عرفان عباسی نے عدالت میں 265 کے تحت بریت کی درخواست دائر کی تھی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔

    یاد رہے کہ 9 مئی 2025 کو جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کے حوالے سے ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کر دی