Baaghi TV

Tag: عطا تارڑ

  • آپؐ کی تعلیمات انسانیت کے لیے رہنمائی کا مستقل ذریعہ ہیں،عطا تارڑ

    آپؐ کی تعلیمات انسانیت کے لیے رہنمائی کا مستقل ذریعہ ہیں،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا محمد تارڑ نے کہا ہے کہ نبی کریم حضرت محمدؐ کی سیرتِ طیبہ تمام انسانیت کے لیے رہنمائی اور رحمت کا سرچشمہ ہے-

    اسلام آباد میں سیرت النبیؐ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا محمد تارڑ نے کہا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبیؐ کی شان اور مقام کو بیان فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریمؐ وجۂ تخلیقِ کائنات، رحمت اللعالمین اور خاتم النبیین ہیں، اور آپؐ کو تمام انسانوں اور تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا،قرآن مجید بھی نبی کریمؐ کو عطا کیے گئے عظیم معجزات میں سے ایک ہےاور آپؐ کی تعلیمات انسانیت کے لیے رہنمائی کا مستقل ذریعہ ہیں آج ہمیں آپؐ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ پر عمل کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ نبی کریمؐ کی شخصیت اور تعلیمات سے غیر مسلم بھی متاثر ہوئے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم نے آپؐ کی شان میں تحریریں اور اشعار لکھے،انہوں نے برصغیر کے ایک سکھ شاعر کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عشقِ رسولؐ کسی ایک مذہب یا گروہ تک محدود نہیں آج کے دور میں معاشرے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیرتِ طیبہ سے رہنمائی لینا انتہائی ضروری ہے اور ہمیں نبی کریمؐ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔

  • مؤثر حکومتی ابلاغ عوام کاریاستی اداروں پراعتماد مضبوط بناتا ہے،عطا تارڑ

    مؤثر حکومتی ابلاغ عوام کاریاستی اداروں پراعتماد مضبوط بناتا ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دورمیں غلط معلومات اورگمراہ کن مواد کاتدارک ناگزیر ہے، پیشہ ورانہ، بروقت اورذمہ دارانہ ابلاغی حکمت عملی ضروری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے زیر تربیت افسران نے ڈیجیٹل کمیونی کیشن ڈیپارٹمنٹ کا دورہ کیا، وفد کے ارکان نے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاتارڑ سے ملاقات کی،وفد میں 12مختلف گروپس کے217زیرتربیت افسران شامل تھے، جن میں 117 مرد اور 100 خواتین افسران تھے ،زیر تربیت افسران کو وزارت اطلاعات کے کردار اور حکومتی ابلاغ پر بریفنگ دی گئی۔

    قومی بیانیے،ڈیجیٹل کمیونیکیشن، عوامی آگاہی اورغلط معلومات کےتدارک پربھی بریفنگ دی گئی ، زیرتربیت افسران کوغلط معلومات کےتدارک اورعوامی رابطہ کاری سےآگاہ کیا گیاوفاقی وزیراطلاعات نے زیرتربیت افسران سےبدلتےمیڈیامنظرنامے پرتبادلہ خیال کیا،زیر تربیت افسران نے ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ کومفید قرار دیا۔

    زیرتربیت افسران نے حکومتی ابلاغ اورڈیجیٹل میڈیاکےکردارمیں گہری دلچسپی کا اظہارکیا،اس موقع پر وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑکا کہنا تھا کہ افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اورمؤثرعوامی خدمت کیلئےکامن ٹریننگ پروگرام اہم ہے،مؤثر حکومتی ابلاغ عوام کاریاستی اداروں پراعتماد مضبوط بناتا ہے،ڈیجیٹل دورمیں غلط معلومات اورگمراہ کن موادکاتدارک ناگزیر ہے،پیشہ ورانہ، بروقت اورذمہ دارانہ ابلاغی حکمت عملی ضروری ہےنوجوان افسران عاجزی، عزم اوراحساس ذمہ داری سےپاکستان کی خدمت کریں،افسران دیانتداری، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی مفاد کومقدم رکھیں۔

  • سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن صحت کے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے،عطا تارڑ

    سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن صحت کے معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ صحت کے معاملات میں سیاست نہیں ہونی چاہیے، ہمارا کل اور آج بھی یہی مؤقف ہے۔

    اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد بھی حکومت نے کوئی توہین آمیز رویہ اختیار نہیں کیا صحت کے معاملے کو سیاست سے دور رکھا جائے، حکومت کا واضح مؤقف ہے اور حکومت آئین و قانون کی روشنی میں ہی تمام معاملات آگے بڑھائے گی،کسی قیدی کو خصوصی سہولت دینے سے استثنیٰ کا تاثر نہیں ملنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ریویو درخواست میں بھی یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ کیا یہی سہولت ہر قیدی کو میسر ہے؟ ریویو کے گراؤنڈز قوم کے سامنے ہیں، کسی کو خصوصی رعایت نہیں دی جائے گی، ہر قیدی کے لیے یکساں سہولت ہونی چاہیے، خصوصی ٹریٹمنٹ نہیں ہونی چاہیے، صحت کے معاملے پر حکومت کا مؤقف تبدیل ہوا ہے نہ آئندہ تبدیل ہوگا حکومت نے صحت کے معاملے پر کسی قسم کی طنز یا تضحیک نہیں کی سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل درآمد کرتے ہوئے شفاف طبی معائنہ کرایا گیا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے،سیکیورٹی سمیت تمام انتظامات مکمل تھے انتظامیہ نے آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنایاعدالت کے حکم کی منشا کے مطابق تمام معاملات شفاف طریقے سے آگے بڑھائے گئے۔

    سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پمز میں مکمل اور شفاف طبی معائنہ کرایا گیا معائنے کے دوران شفا ہسپتال کے اوتھمالوجسٹ بھی موجود تھے، جبکہ شفا اسپتال کے آئی اسپیشلسٹ کی موجودگی سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کا ثبوت ہےمعائنہ ہمشیرہ کی موجودگی میں شفاف طریقے سے کرایا گیا اور سپریم کورٹ کے آرڈر پر عمل ہوا میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے بغیر علاج کی جگہ کا تعین ممکن نہیں۔ تمام قیدیوں کو ایسی سہولت میسر نہیں، پھر بھی سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل عمل ہوا اور اس کی روح کے مطابق تمام ضروری اقدامات مکمل کیے گئے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ شفا اسپتال کے باہر لوگوں کو کس نے جمع کیا؟ یہ پہلا سوال ہے،عدالت نے سیاست سے منع کیا تھا لیکن تحریک انصاف نے مجمع اکٹھا کرکے حکم کی خلاف ورزی کی شفا اسپتال کے باہر رکاوٹیں کھڑی کرکے سیاسی جماعت نے معاملہ متنازع بنایا سوشل میڈیا ریلز، ٹک ٹاکس اور مجمع اکٹھا کرنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہےم کورٹ نے سیاسی بیان بازی سے منع کیا تھا، اس کے باوجود پریس کانفرنسز کی گئیں۔

    عطا تارڑ نے کہاکہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن اور پارٹی ذمہ دار ہیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی اور پارٹی عدالت کی توہین کی مرتکب ہوئی سیاسی کارکنوں نے انتظامیہ کے لیے رکاوٹیں پیدا کیں، قیدی کو جیل سے اسپتال منتقل کرنا تھا لیکن خود رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔ پہلی بار دیکھا کہ کسی سیاسی جماعت نے اپنے ہی لیڈر کے علاج میں رکاوٹ ڈالی۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی منتقلی کے راستے میں لوگوں کو جمع کرکے رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کورٹ نے سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن سیاسی کارکنوں نے انتظامیہ کے لیے مشکلات پیدا کیں کنٹیمپٹ کس نے اور کیسے کیا، تمام حقائق قوم کے سامنے رکھوں گاابتدائی رپورٹس کے مطابق طبیعت شاداب ہے، بیماری کی کوئی سنگینی سامنے نہیں آئی، بلڈ پریشر کے علاوہ باقی چیزیں ماشااللہ پرفیکٹ ہیں، آئی سائٹ بھی سکس بائی سکس ہےبیماری کی نوعیت ایسی نہیں کہ اس پر سیاست کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ کس بیماری پر سیاست کر رہے ہیں؟ صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔

    عطا تارڑ نے واضح کیاکہ قانونی معاملہ الگ ہے اور صحت کا معاملہ الگ ہے، دونوں کو اپنی اپنی ڈومین میں رہنے دیں،صحت کے معاملے کو ڈاکٹرز نے دیکھنا ہے، ڈاکٹرز ہی اس بارے میں بہتر رائے دے سکتے ہیں حکومت نے ایک دن بھی علاج نہیں روکا، علاج ہوتا آیا ہے، ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ہوگا ضرورت پڑنے پر علاج کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی،صحت کے معاملے کو سیاست کی نظر نہ کیا جائے، یہ قانونی اور طبی معاملہ ہے.سیاست کرکے توہین عدالت کے مرتکب ہونے سے بھی گریز کریں، اسی میں آپ کی بہتری ہے۔

  • سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا پانی پر حق ناقابلِ تنسیخ ہے،عطا تارڑ

    سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا پانی پر حق ناقابلِ تنسیخ ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کی ناکام کوشش نہ تو قانونی حیثیت رکھتی ہے اور نہ ہی اخلاقی جواز رکھتی ہے-

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں عطا تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا پانی پر حق ناقابلِ تنسیخ ہے اور یہ ملک کی بقا کی شہ رگ ہے جس کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کی ناکام کوشش نہ تو قانونی حیثیت رکھتی ہے اور نہ ہی اخلاقی جواز رکھتی ہے ،اس اقدام سے بھارت کو عالمی سطح پر شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا-

    انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ طرزِ عمل اقوام متحدہ کے توثیق شدہ "One Water, One Vision” اصول کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے جو آبی وسائل کے منصفانہ اور ذمہ دارانہ استعمال پر زور د یتا ہے،پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی اور قانونی اقدام جاری رکھے گا۔

  • سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا،عطا تارڑ

    سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے –

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ طور پر طے پانے والا بین الاقوامی معاہدہ ہے،اور بین الاقوامی برادری نے اس معاہدے کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کو تقویت بخشی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے، لہٰذا اس حوالے سے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، پاکستان میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اپنی نوعیت کا پہلا بین الاقوامی سیمینار منعقد ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر سے آبی وسائل کے ماہرین شریک ہوں گے اس سیمینار سے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مزید تقویت ملے گی۔

  • عطاء اللہ تارڑ   کی  شعیب اختر کے بھائی کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کے آمد

    عطاء اللہ تارڑ کی شعیب اختر کے بھائی کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کے آمد

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ معروف کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے۔

    عطاء اللہ تارڑ نے مرحوم کے اہل خانہ سے ملاقات کی، شعیب اختراور مرحوم کے بیٹے حمزہ شاہد اور دیگر سوگواران سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، انہوں نے شاہد اختر مرحوم کے ایصالِ ثواب، درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعاکی،عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ غم کی اس گھڑی میں شعیب اختر اور ان کے خاندان کے دکھ میں برابر شریک ہیں، اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں بلند مقام عطا فرمائے اور اہل خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ دے۔

  • وزیراعظم کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے،عطاتارڑ

    وزیراعظم کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے،عطاتارڑ

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ ٹیکس نہ دینے والے شعبوں سے وصولی یقینی بنائی جائے-

    وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کے ہمراہ وزیر اطلاعات عطا تارڑنے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ موجودہ حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مکمل طور پر جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد ٹیکس کلیکشن کے نظام کو شفاف، مؤثر اور خودکار بنانا ہے –

    عطا تارڑ نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیزی سے مکمل کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف ٹیکس وصولی میں بہتری آئی ہے بلکہ بدعنوانی اور انسانی مداخلت کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں، پہلے کسٹمز اور انکم ٹیکس کے شعبوں میں سفارش اور کرپشن کے مسائل موجود تھے، تاہم اب تمام تقرریاں مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائےبلکہ ٹیکس نہ دینے والے شعبوں سے وصولی یقینی بنائی جائے اصلا حات کے بعد کسٹمز کلیئرنس اور دیگر امور مکمل طور پر خودکار نظام کے تحت انجام پا رہے ہیں، جہاں جی ڈی نمبر کے اندراج سے ہی پورا عمل ڈیجیٹل طریقے سے مکمل ہو جاتا ہے پہلے جو کام ہفتوں میں ہوتا تھا اب وہ چند دنوں میں مکمل ہو رہا ہے، جس سے کاروباری طبقے کو سہولت ملی ہے۔

    انہوں نے مختلف صنعتی شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شوگر، تمباکو، سیمنٹ اور بیوریجز جیسے بڑے سیکٹرز میں ٹیکس چوری اور کم رپورٹنگ کی شکایات تھیں، جنہیں اب جدید آئی ٹی سسٹمز کے ذریعے کنٹرول کیا گیا ہے شوگر انڈسٹری میں کیمروں اور بارکوڈ سسٹم کے ذریعے پیداوار اور فروخت کو ٹریس کیا جا رہا ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے صرف شوگر سیکٹر سے 60 ارب روپے کی اضافی ریکوری ممکن ہوئی ہے جبکہ تمباکو انڈسٹری میں تقریباً 200 ارب روپے کی ممکنہ لیکیج کو روکا گیا ہے، دیگر شعبوں میں بھی اسی طرز کے اقدامات سے ریونیو میں اضافہ ہوا ہے۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس نظام واضح اور منصفانہ بنایا گیا ہے، جہاں 50 ہزار روپے ماہانہ تک آمدن رکھنے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں جبکہ اس سے زیاد ہ آمدن پر معمولی شرح سے ٹیکس عائد کیا گیا ہے،پانچ اور دس مرلے کے گھروں اور پلاٹس کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے تاکہ عام شہریوں کو سہولت مل سکے اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرگرمی بڑھے ہاؤسنگ سیکٹر کو ریلیف دینے سے تعمیراتی صنعت سے جڑی درجنوں ذیلی صنعتیں بھی فعال ہوں گی، جس سے مجموعی طور پر معیشت کو تقویت ملے گی ایکسپورٹ ری فنانسنگ اسکیم پر شرح سود صرف 4 فیصد مقرر کی گئی ہےجو مارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہےاس سے برآمدی صنعت کو سستی فنانسنگ میسر آئے گی اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت کے یہ اقدامات ایک جامع معاشی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ہاؤسنگ، صنعت اور برآمدات تینوں شعبوں کو بیک وقت فروغ دینا ہےاس پالیسی سے معیشت میں بہتری، سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گےیہ اصلاحات کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ پوری معیشت کو متحرک کرنے کے لیے ہیں، اور آنے والے دنوں میں ان کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

    وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ٹیکس تنازعات اور قانونی معاملات کے لیے بھی نئے ٹریبیونلز قائم کیے گئے ہیں، جس سے اربوں روپے کی ریکوری میں مدد ملی ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً 800 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہوئی ہےایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن میں بین الاقوامی اداروں اور ماہرین نے بھی تعاون کیا ہے، جبکہ بعض عالمی فاؤنڈیشنز اور ٹیکنالوجی ادارے اس عمل میں شریک رہے ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی،عطااللہ تارڑ

    وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی،عطااللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا، پچاس ہزار سے کم تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے،ملک میں میکرو اکنامک استحکام آ چکا ہے، اپوزیشن تسلیم کرے، اپوزیشن کو مثبت اقدامات کی تعریف کرنا چاہیے ۔

    قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ جمہوری روایات کا یہ ہاؤس امین ہے، لیڈر آف اپوزیشن نے جس ماحول میں بات کی ہم نے انہی ڈیسک سے کتابیں جلتی دیکھیں، کاغذ پھینکے جاتے رہے اپوزیشن کو مثبت اقدامات کی تعریف کرنا چاہیے، تنخواہ دار طبقے کو خاطر خواہ ریلیف دیا گیا ہے، پچاس ہزار سے کم تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے،پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک ایک فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے، ملک ڈیفالٹ ہونے پر شرطیں لگ رہی تھیں، کئی افسران چھٹی لے کر چلے گئے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کیلئے سیاست کی قربانی دی، آئی ایم ایف کے ساتھ میٹنگ ہوئی، اگر وہ میٹنگ نہ ہوتی تو آج والی خوشحالی نہ آتی، پاکستان میں ایکسچینج ریٹ ایسے تبدیل ہو رہا تھا جیسے پنکھا چلتا ہے، کاروباری حضرات کی ایل سیز نہیں کھل رہی تھیں مہنگائی 38 فیصد تھی اسی ایوان میں بطور اپوزیشن لیڈر دعوت دی کہ آئیں میثاق معیشت کرتے ہیں، ان کے وزراء خزانہ نے آئی ایم ایف کو خط لکھے، یہ چاہتے تھے کہ ملک دیوالیہ ہو، آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ یہاں سے خط لکھ رہے تھے کہ پاکستان کو بیل آؤٹ نہ ملے، اداروں کی بہت کاوش ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ٹیم کا کردار ہے کہ ملک میں استحکام ہوا، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ پر آ سکتی تھی، شرح سود بائیس فیصد پر رہتا گیارہ فیصد پر نہ آتا تو کیا حالات ہوتے ہم ایسی معیشت بنیں گے کہ ساری دنیا دیکھے گی، پوری دنیا معترف ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے کردار ادا کیا، آج پاکستان کی عزت ہے، معیشت درست سمت میں گا مزن ہے،ہر کوئی بجٹ پر مثبت بات کر رہا ہے، بجٹ پر تنقید اور احتجاج اپوزیشن کا حق ہے، بجٹ میں مثبت اقدامات کی تعریف ضرور ہونی چاہیے،

  • ‏پاکستان کا سرحد پار دہشتگردوں کیخلاف مؤثر وار، فتنہ الخوارج کے 26 دہشتگرد ہلاک، 4 اہم مراکز تباہ

    ‏پاکستان کا سرحد پار دہشتگردوں کیخلاف مؤثر وار، فتنہ الخوارج کے 26 دہشتگرد ہلاک، 4 اہم مراکز تباہ

    ‏وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سرحد پار دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جس میں فتنہ الخوارج کے 26 دہشت گرد ہلاک، 4 اہم مراکز تباہ ہو گئے-

    عطا اللہ تارڑ کے مطابق حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، موسیٰ درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری پوسٹ، شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی اور بنوں پولیس اسٹیشن پر حملوں کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر فتنہ الخوارج کے محفوظ ٹھکانوں اور منصوبہ سازوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    وزیراطلاعات نے بتایا کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں کیے گئے درست اور محدود نوعیت کے حملوں میں 26 بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے خوارج مارے گئے،کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج کے چار اہم مراکز مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے تباہ کیے گئے اہداف میں تربیتی مرکز، اسلحہ ڈپو، محفوظ پناہ گاہیں اور دہشت گردوں کے مراکز شامل ہیں کارروائی میں کمانڈر علیم خان خوشالی اور کمانڈر اختر محمد جانی خیل سے منسلک مراکز کو نشانہ بنایا گیا تمام اہداف کو انتہائی درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہمیشہ کوشاں رہا ہے پاکستانی شہریوں کا تحفظ اور قومی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے“عزمِ استحکام” کے تحت دہشت گردی کے خلاف آپریشن پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے وا لے ادارے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں پاکستان سے دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا-

  • ریاستی اداروں کے درمیان مکمل یکسوئی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے، عطا اللہ تارڑ

    ریاستی اداروں کے درمیان مکمل یکسوئی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے، عطا اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کے طور پر بے مثال قربانیاں دے چکا ہے، جبکہ بھارت اپنے داخلی مسائل اور ناکامیوں کا الزام پاکستان پر عائد کر کے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ’معرکہ حق‘ کے حوالے سے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی سطح پر فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس جنگ میں دی جانے والی قربانیاں ناقابلِ فرا موش ہیں، بھارت میں دہشتگردی اس کا اپنا داخلی مسئلہ ہے، تاہم نئی دہلی حکومت ہمیشہ اپنی ناکامیوں اور داخلی بحرانوں کو بیرونی رنگ دے کر پاکستان پر الزامات عائد کرتی رہی ہے بھارت نے پاکستان پر بلااشتعال جارحیت مسلط کی، لیکن پاکستان نے ذمہ داری، تدبر اور قومی یکجہتی کے ساتھ صورتحال کا مقا بلہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کی تحقیقات کیے بغیر فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کر دیا گیا، جبکہ وزیراعظم پاکستان نے خود شفاف تحقیقات میں تعاون کی پیش کش کی تھی، بھارت کسی غیر جانبدار تحقیقات سے بھاگ گیا کیونکہ پہلگام واقعہ دراصل ایک ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا پہلگام کا علاقہ سرحد سے بہت دور اور بھارتی فوج کے مضبوط کنٹرول والے علاقے میں واقع ہے، اس کے باوجود پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے اس واقعے نے عا لمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔

    انہوں نےکہا کہ جموں و کشمیر ایک عالمی اور بین الاقوامی تنازع ہے،جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو دبایا نہیں جا سکتا اور عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگاریاستی اداروں کے درمیان مکمل یکسوئی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے، پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے اور چیلنجز سے نمٹنے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت قابلِ تحسین ہے۔