Baaghi TV

وزیراعظم کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے،عطاتارڑ

pak

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ ٹیکس نہ دینے والے شعبوں سے وصولی یقینی بنائی جائے-

وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کے ہمراہ وزیر اطلاعات عطا تارڑنے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ موجودہ حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مکمل طور پر جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد ٹیکس کلیکشن کے نظام کو شفاف، مؤثر اور خودکار بنانا ہے –

عطا تارڑ نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیزی سے مکمل کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف ٹیکس وصولی میں بہتری آئی ہے بلکہ بدعنوانی اور انسانی مداخلت کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں، پہلے کسٹمز اور انکم ٹیکس کے شعبوں میں سفارش اور کرپشن کے مسائل موجود تھے، تاہم اب تمام تقرریاں مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائےبلکہ ٹیکس نہ دینے والے شعبوں سے وصولی یقینی بنائی جائے اصلا حات کے بعد کسٹمز کلیئرنس اور دیگر امور مکمل طور پر خودکار نظام کے تحت انجام پا رہے ہیں، جہاں جی ڈی نمبر کے اندراج سے ہی پورا عمل ڈیجیٹل طریقے سے مکمل ہو جاتا ہے پہلے جو کام ہفتوں میں ہوتا تھا اب وہ چند دنوں میں مکمل ہو رہا ہے، جس سے کاروباری طبقے کو سہولت ملی ہے۔

انہوں نے مختلف صنعتی شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شوگر، تمباکو، سیمنٹ اور بیوریجز جیسے بڑے سیکٹرز میں ٹیکس چوری اور کم رپورٹنگ کی شکایات تھیں، جنہیں اب جدید آئی ٹی سسٹمز کے ذریعے کنٹرول کیا گیا ہے شوگر انڈسٹری میں کیمروں اور بارکوڈ سسٹم کے ذریعے پیداوار اور فروخت کو ٹریس کیا جا رہا ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے صرف شوگر سیکٹر سے 60 ارب روپے کی اضافی ریکوری ممکن ہوئی ہے جبکہ تمباکو انڈسٹری میں تقریباً 200 ارب روپے کی ممکنہ لیکیج کو روکا گیا ہے، دیگر شعبوں میں بھی اسی طرز کے اقدامات سے ریونیو میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس نظام واضح اور منصفانہ بنایا گیا ہے، جہاں 50 ہزار روپے ماہانہ تک آمدن رکھنے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں جبکہ اس سے زیاد ہ آمدن پر معمولی شرح سے ٹیکس عائد کیا گیا ہے،پانچ اور دس مرلے کے گھروں اور پلاٹس کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے تاکہ عام شہریوں کو سہولت مل سکے اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرگرمی بڑھے ہاؤسنگ سیکٹر کو ریلیف دینے سے تعمیراتی صنعت سے جڑی درجنوں ذیلی صنعتیں بھی فعال ہوں گی، جس سے مجموعی طور پر معیشت کو تقویت ملے گی ایکسپورٹ ری فنانسنگ اسکیم پر شرح سود صرف 4 فیصد مقرر کی گئی ہےجو مارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہےاس سے برآمدی صنعت کو سستی فنانسنگ میسر آئے گی اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔

عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت کے یہ اقدامات ایک جامع معاشی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ہاؤسنگ، صنعت اور برآمدات تینوں شعبوں کو بیک وقت فروغ دینا ہےاس پالیسی سے معیشت میں بہتری، سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گےیہ اصلاحات کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ پوری معیشت کو متحرک کرنے کے لیے ہیں، اور آنے والے دنوں میں ان کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ٹیکس تنازعات اور قانونی معاملات کے لیے بھی نئے ٹریبیونلز قائم کیے گئے ہیں، جس سے اربوں روپے کی ریکوری میں مدد ملی ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً 800 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہوئی ہےایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن میں بین الاقوامی اداروں اور ماہرین نے بھی تعاون کیا ہے، جبکہ بعض عالمی فاؤنڈیشنز اور ٹیکنالوجی ادارے اس عمل میں شریک رہے ہیں۔

More posts