Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس پر جیل ٹرائل کے لئے قانونی پراسس پورا نہ ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست پر سماعت کی،وکیل سکندر ذوالقرنین سلیم نے عدالت میں کہا کہ چار دسمبر کے ٹرائل کورٹ کے آرڈر کو چیلنج کیا گیا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی یہ آرڈر میں کیا کہہ رہے ہیں؟ وفاقی حکومت کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن کدھر ہے؟عمران خان کے وکیل نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کیوں نہیں پتہ جیل ٹرائل ہو رہا ہے؟وکیل نے کہا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے جیل ٹرائل کے پراسس نہ ہونے کو چیلنج کر رکھا ہے، یہ حکومت کا کام ہے، جج کا نہیں کہ وہ کورٹ کے لیے جگہ کا انتخاب کرے،جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ جج کا ہی اختیار ہے، جج ٹرائل کے لیے جیل کا انتخاب کر سکتا ہے مگر وہ اوپن کورٹ ہونی چاہیے

    وکیل نے کہا کہ جج کے پاس جیل ٹرائل کی منظوری کا نوٹیفکیشن ہی نہیں تھا جب چار دسمبر کو آرڈر پاس کیا، جج نے آرڈر میں لکھا کہ نوٹیفکیشن جمع کرا دیا جائے،عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد ایف آئی اے کو 20 دسمبر کے لئے نوٹس جاری کر دیا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی حکم امتناع کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کردیا گیا،عمران خان کے وکیل نے استدعاکی کہ عدالت آئندہ سماعت تک ٹرائل روک دے جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ آ جائے پھر دیکھتے ہیں،عمران خان کے وکیل کی سائفر ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد کردی گئی

    دوسری جانب ایف آئی اے پراسیکیوٹر رضوان عباسی اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں، انکا کہنا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے تاہم کسی بھی دستاویز پر ملزمان کے دستخط ضروری نہیں ہیں،فریم چارج کرنے کا ایک طریقہ ہے فرد جرم عدالت میں پڑھ کر سنائی گئی ہے، عدالت نے ملزمان سے پوچھا کہ یہ الزامات ہیں آپ پر، ملزمان نے فرد جرم میں لگے الزامات کی صحت جرم سے انکار کیا ہے۔ فرد جرم عائد ہونے کی کارروائی گزشتہ روز مکمل کرلی گئی ہے۔ ہم نے گزشتہ روز آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 14 کے تحت ان کیمرا ٹرائل کی درخواست دی ہے، آج پراسیکیوشن کی جانب سے چار گواہان کو پیش کیا جائے گا

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی،دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ عدالت نے ایف آئی اے سے شہادتیں طلب کر لیں۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • عمران خان کا چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد،درخواست پر اعتراض عائد

    عمران خان کا چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد،درخواست پر اعتراض عائد

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کااسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد کا اظہار،چیف جسٹس عامر فاروق کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کر دیئے

    رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست میں قابل اعتراض اور عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے والی لینگوئج استعمال کی گئی،مقدمات کی منتقلی سے متعلق ایسی درخواست کو انٹرٹین نہیں کیا جا سکتا،بانی پی ٹی آئی نے اپنے کیسز میں چیف جسٹس عامر فاروق کو بینچ سے الگ ہونے کے لیے درخواست دائر کی تھی

    عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مقدمات سے الگ ہونے کے لئے درخواست دائر کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ اسلام آبا ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق عمران خان کے تمام کیسز سے خود کو علیحدہ کریں ان سے انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے، چیف جسٹس کا آفس سنبھالنے کے بعد جسٹس عامر فاروق نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے معاملے میں ون مین ہائیکورٹ کا تاثر دیا، انٹرا کورٹ اپیلوں کے علاوہ ہر سنگل اور ڈویژن بنچ میں چیف جسٹس عامر فاروق نے خود کو شامل کیا.

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آباد میں پڑی ہے۔

  • عمران خان غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت ہونےکا  تحریری حکمنامہ جاری

    عمران خان غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت ہونےکا تحریری حکمنامہ جاری

    اسلام آباد: عمران خان کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت ہونےکا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی: سینیئرسول جج قدرت اللہ نے4 صفحات کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے حکمنامے میں کہا گیا ہےکہ ریکارڈ کے مطابق بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عدالت میں کمپلینٹ دائر کی، خاور مانیکا نے الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی سے پیری مریدی کے چکر میں رابطہ استوار کیا، خاور مانیکا کے مطابق وقت کے ساتھ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے درمیان ‘ناجائز’ تعلقات قائم ہوگئے۔

    عدالت کا کہنا ہےکہ خاور مانیکا کے مطابق ان تعلقات کی بنا پر انہوں نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کو نومبر 2017 میں طلاق دی، خاور مانیکا کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے عدت گزرنے سے پہلے ہی نکاح کرلیا، گواہان مفتی سعید، عون چوہدری اور محمد لطیف کے بیانات ان الزامات کو سپورٹ کرتے ہیں، گواہان کے بیانات کی روشنی میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے بادی النظر میں جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

    القسام بریگیڈز نے اسرائیلی فوج پر حملوں کی نئی ویڈیو جاری کردی

    حکمنامہ میں کہا گیا ہےکہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہےکہ ٹرائل کے آغاز کےلیے مناسب گراؤنڈ موجود ہیں لہٰذا خاور مانیکا کی کمپلینٹ سماعت کے لیے منظور کی جاتی ہے، خاور مانیکا کی کمپلینٹ پر سماعت کا باقاعدہ آغاز 14 دسمبر کو کیا جائے گا بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، لہٰذا ان سے الیکٹرانک ذرائع سے رابطہ کیا جائےگا جب کہ بشریٰ بی بی ذاتی حیثیت میں 14 دسمبر کو عدالت میں پیش ہوں۔

    واضح رہے کہ 25 نومبر کو اسلام آباد کے سول جج قدرت کی عدالت میں پیش ہو کر بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف دوران عدت نکاح و ناجائز تعلقات کا کیس دائر کیا تھا، درخواست سیکشن 494/34، B-496 ودیگر دفعات کے تحت دائر کی گئی۔

    عمران خان توشہ خانہ کیس میں بھی گرفتار

    درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ میراتعلق پاک پتن کی مانیکا فیملی سے ہے، بشریٰ بی بی سے شادی 1989 میں ہوئی تھی، جو اس وقت پر پُرسکون اور اچھی طرح چلتی رہی جب تک عمران خان نےبشریٰ بی بی کی ہمشیرہ کےذریعےاسلام آباد دھرنے کے دوران مداخلت نہیں کی، جو متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر اور درخواست گزار کو یقین ہے کہ اس کے یہودی لابی کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں چیئرمین پی ٹی آئی شکایت کنندہ کے گھر میں پیری مریدی کی آڑ میں داخل ہوا اور غیر موجودگی میں بھی اکثر گھر آنے لگا، وہ کئی گھنٹوں تک گھر میں رہتا جو غیر اخلاقی بلکہ اسلامی معاشرے کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ عمران خان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ازدواجی زندگی میں بھی گھسنا شروع ہوگیا، حالانکہ اسے تنبیہ کی اور غیر مناسب انداز میں گھر کے احاطے سے بھی نکالا، ایک دن جب اچانک وہ اپنے گھر گئے تو دیکھا کہ زلفی بخاری ان کے بیڈ روم میں اکیلا تھا، وہ بھی عمران خان کے ہمراہ اکثر آیا کرتا تھابشریٰ بی بی نے میری اجازت کے بغیر بنی گالا جانا شروع کر دیا، حالانکہ زبردستی روکنے کی کوشش بھی کی اس دوران سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

    جہلم کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا ہونیوالے تنویر سپرا

    مزید لکھا کہ بشریٰ بی بی کے پاس مختلف موبائل فونز اور سم کارڈز تھے، جو چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر فرح گوگی نے دئیے تھے نام نہاد نکاح سے قبل دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ غیر قانونی تعلقات قائم کیے، یہ حقیقت مجھے ملازم لطیف نے بتائی فیملی کی خاطر صورتحال کو بہتر کرنے کی کوشش کی لیکن یہ سب ضائع گئیں، اور شکایت کنندہ نے 14 نومبر 2017 کو طلاق دے دی۔

    خاور مانیکا کی درخواست کے مطابق دوران عدت بشریٰ بی بی نے عمران خان کے ساتھ یکم جنوری 2018 کو نکاح کر لیا، یہ نکاح غیر قانونی اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے دوران عدت نکاح کی حقیقت منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کر لیا، لہٰذا یہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 496/ 496 بی کے تحت سنگین جرم ہے، دونوں شادی سے پہلے ہی فرار ہوگئے تھے، درخواست میں استدعا کی گئی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طلب کیا جائے اور انہیں آئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے-

    ایران کی آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی

  • عمران خان توشہ خانہ کیس میں بھی گرفتار

    عمران خان توشہ خانہ کیس میں بھی گرفتار

    راولپنڈی: احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت خارج کرتے ہوئے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا، نیب ٹیم کل عمران خان کا ریمانڈ حاصل کرے گی۔

    باغی ٹی وی: توشہ خانہ کیس نیب تحقیقات میں بانی چیئر مین پی ٹی آئی کی عبوری ضمانت خارج کر دی،بانی چیئر مین پی ٹی آئی توشہ خانہ کیس میں بھی گرفتاری ڈال دی گئی-

    احتساب عدالت کے جج نے عمران خان کی عبوری ضمانت سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جو کچھ دیر بعد سنادیا گیا جج محمد بشیر نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت خارج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا ہے کہ بادی النظر میں توشہ خانہ تحائف وصولی میں بے قاعدگیاں ہوئیں۔

    جہلم کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا ہونیوالے تنویر سپرا

    حکم کے بعد نیب نے سابق وزیر اعظم کی توشہ خانہ کیس میں بھی گرفتاری ظاہر کردی ہے نیب کے پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا ہے کہ کل ہم سابق وزیر اعظم کا توشہ خانہ کیس میں جسمانی ریمانڈ حاصل کریں گے۔

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا ہے کہ رات 8 بجے عبوری ضمانت خارج کرنا عجب تماشہ ہے تاہم ریمانڈ کے باوجود عمران خان اڈیالہ جیل میں ہی رہیں گے تاہم نیب ان سے تفتیش یہیں کرسکے گی۔

    موسم شدید سرد اور مطلع جزوی ابر آلودرہے گا ،محکمہ موسمیات

  • سائفر کیس، فرد جرم عائد نہیں ہوئی،عمران خان کے وکلا کا انکار

    سائفر کیس، فرد جرم عائد نہیں ہوئی،عمران خان کے وکلا کا انکار

    اڈیالہ جیل: بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکلاء نے فرد جرم عائد ہونے کی خبر کو غلط قرار دے دیا

    بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارے سامنے کوئی فرد جرم عائد نہیں ہوئی ملزمان نے دستخط بھی نہیں کئے، پراسیکیوٹر نے غلط بتایا کہ فرد جرم عائد ہوئی کل اس پر احتجاج کرینگے، ہماری آج صرف درخواستوں پر بحث ہوئی، شاہ محمود قریشی کی وکیل بیرسٹر تیمور ملک نے بھی فرد جرم عائد ہونے کی خبر کو غلط قرار دیا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بانی چیئرمین سے تفصیلی ملاقات ہوئی مکمل گائیڈ لائن لی ہے، پی ٹی آئی کے خلاف سازش کامیاب نہیں ہوگی، الیکشن کمیشن فوری ہمارا انتخابی نشان الاٹ کرے، سات دن میں الاٹمنٹ لازم تھا آج دس دن ہوگئے،حالیہ دہشت گردی پر بانی چیئرمین نے افسوس کا اظہار کیا، شفاف انتخابات کے تقاضے پورے کئے جائیں،پی ٹی آئی کو ائیسولیٹ کرنے کی سازش کی جارہی ہے، شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، قیمتی انتخابی اوقات میں پورا الیکشن کمیشن سب کچھ چھوڑ کر جیل پہنچ گیا،ہمیں انتخابی مہم کے لیے لیونگ پلیئنگ فیلڈ دی جائے،الیکشن کمیشن سے انتخابی کنونشن کی اجازت مانگی ہے، الیکشن کمیشن فوری انتخابی شیڈول کا اعلان کرے، بلے کا نشان ہم سے واپس لینے کا ہمیں سب سے بڑا خدشہ ہے، انتخابی ٹکٹوں پر ٹکٹ جاری کرنا آخری مرحلہ میں ہے، پی ڈی ایم کی کسی جماعت سے انتخابی اتحاد نہیں ہوگا،الیکشن کمیشن کسی بھی سیاسی جماعت کا انتخابی نشان ختم نہیں کر سکتا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بھی سائفر کیس میں فرد جرم کی نفی کر دی اور کہا کہ ہماری درخواستوں پر بحث ہوئی اس کا فیصلہ آئے گا تو فرد جرم کی طرف عدالت بڑھے گی،

    عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اوپن ٹرائل کے نام پر صرف من پسند افراد کو اندر جانے کی اجازت دی گئی، فیملی کے لوگوں کو بھی سماعت کے دوران آواز نہیں آتی، مخصوص لسٹ سے اسکرینگ کی جاتی ہے اور صرف انہی لوگوں کو اندر بلایا جاتا ہے، نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کے لوگوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، فرد جرم عائد ہونے سے قبل کسی کو بھی مجرم نہیں کیا جاتا،سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پہلے طے کیا جائے کہ وہ مجرم ہے بھی یا نہیں، انٹرنیشنل میڈیا کے 4 لوگوں کے نام دیئے لیکن کسی کو بھی اندر نہیں جانے دیا گیا، اوپن ٹرائل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کلئیرنس کروانا لازمی ہے،

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی،دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ عدالت نے ایف آئی اے سے شہادتیں طلب کر لیں۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    سائفر کیس، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    سائفر کیس،سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی،دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ عدالت نے ایف آئی اے سے شہادتیں طلب کر لیں۔ عدالت نے استغاثہ کو آئندہ سماعت پر 3 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے 14 دسمبر کو گواہان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں طلب کر لئے،ملزمان نےعدالتی کارروائی پر احتجاج اور فرد جرم کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا،ایف آئی کے اسپیشل پراسیکیوٹرز شاہ خاور اور ذوالفقار عباسی نقوی عدالت میں پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عثمان گل اور شاہ محمود قریشی کے وکیل بیرسٹر تیمور ملک عدالت میں پیش ہوئے،

    باجوہ اور ڈونلڈ لو کو بچانے کے لیے تمام ڈرامہ ہورہا ،سزائے موت سے نہیں ڈرتا،عمران خان
    سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خفیہ سائفر کو جلسہ میں لہرایا گیا اور اس کے مندرجات کو زیربحث لایا گیا، ایسا کرنا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت جرم ہے، بطور وزیراعظم عمران خان کو سائفر رکھنے کا کوئی اختیار نہ تھا، سائفر کو جان بوجھ کر اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا گیا، اس عمل سے ملک کے تشخص اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچا،دوران سماعت سابق وزیراعظم عمران خان نے عدالت میں کہا کہ جج صاحب اس میں ایک اور فقرہ شامل کردیں۔ بڑا ظلم کیا جو جنرل باجوہ اور ڈونلڈلو کو ایکسپوز کیا، باجوہ اور ڈونلڈ لو کو بچانے کے لیے تمام ڈرامہ ہورہا ہے، سزائے موت سے ڈر نہیں لگتا۔ سائفر حکومت گرانے کے لیے لکھا گیا جو گرا دی گئی، سائفر کے اندر سازش ہے جو چھپائی جارہی ہے، میڈیا کو بولنے کی اجازت نہیں تو فئیر ٹرائل کیسے ہوسکتا ہے، فئیر ٹرائل نہ ہوا تو اس کی ذمہ داری تمام عمر آپ پر رہے گی، قانون کے تحت دستاویزات اور ویڈیو دیکھنے کے لیے سات دن کا وقت دیا جائے۔

    ملزمان پر فرد جرم تین مختلف الزامات کے تحت سنائی گئی،چارج شیٹ کے مطابق عمران خان نےبطور وزیراعظم اور شاہ محمود قریشی نے بطور وزیر خارجہ سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی۔ ملزمان نے 27 مارچ 2022 کو سیکرٹ ڈاکومنٹ کو عوامی ریلی میں لہرایا۔ ملزمان نے جان بوجھ کر ذاتی مفادات کے لیے سائفر کو استعمال کیا،ملزمان کے غیر قانونی اقدام سے ملکی تشخص، سیکیورٹی اور خارجہ معاملات کو نقصان پہنچا، بطور وزیر اعظم سائفر آپکے قبضہ اور کنٹرول میں تھا،جو وزارت خارجہ کو واپس نہیں کیا گیا۔

    فرد جرم سنتے ہی شاہ محمود قریشی نے صحت جرم سے انکار کردیا، عمران خان نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ملکی اور غیر ملکی اسٹیبلشمینٹ کو بے نقاب کرکے ظلم کیا میرے جرم میں یہ بھی شامل کریں، ہماری حکومت کو گرا کر ہمیں ہی ملزم بنادیا گیا، یہ کیسے ہوسکتا ہے جس کی حکومت گری ہو وہی ملزم ہو، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    آپ ایسا نہ کریں، غلط بات نہ کریں، یہ عدالت ہے، آپ کا لہجہ مناسب نہیں، آپ پہلے عدالت کی بات سن لیں،
    عمران خان کے بار بار بولنے پر عدالت نے انہیں خاموش کرادیا

    شاہ محمود قریشی نے عدالت کے روبرو بیان میں کہا کہ سینکڑوں سائفر دیکھے لیکن یہ ان میں سے منفرد تھا، وزیر خارجہ کو دنیا بھر میں چیف ڈپلومیٹ کہا جاتا ہے،ایک مراسلہ آتا ہے جو چیف ڈپلومیٹ کی نظر سے نہیں گزارا جاتا، میری نظر سے سائفر اوجھل رکھنے کی کوئی تو وجہ ہوگی، آٹھ مارچ کو فون پر اسد مجید سے بات ہوئی، اسد مجید کو بلائیے اور پوچھیے، پھر حقائق قوم کے سامنے آئیں گے۔ چیزوں کو خفیہ رکھ کر یک طرفہ ٹرائل نہ چلایا جائے،دو محب وطن شہریوں کو اس مقدمہ میں پھنسایا جارہا ہے میں بے گناہ ہوں، مجھے سزا دینا چاہتے ہیں ہم نے اسی مٹی میں جانا ہے

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • قوم کے دشمن کو مجھے معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ،نواز شریف

    قوم کے دشمن کو مجھے معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ،نواز شریف

    سابق وزیراعظم، ن لیگ کے قائد نواز شریف نے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی مقدمات میں بریت پر اللہ کا شکر گزار ہوں ،تینوں مقدمات میں نہ شواہد تھے نہ ثبوت تھے،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ میں مقدمات کا کھوکھلا پن دنیا کے سامنے ظاہر ہو گیا،جب کچھ نہ ملا تو پانامہ کے نام پر اقامہ نکال لائے، ایک ایسا فیصلہ سنایا گیا جو دنیا میں مذاق بن کر رہ گیا،جو دکھ ہمیں دیئے گئے ان کا مداوا ہے؟ کیا مداوا ہے؟،ایک وزیراعظم کی بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر چھٹی کرا رہے ہیں،سسلین مافیا، گاڈ فادر کہتے ہیں ، کیا ججز کبھی ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ؟،کہاں کہاں سے سازشی عناصر نکل کر روز شام کو دکانداری چمکاتے تھے، جس جج نے میرے خلاف فیصلہ سنایا جسٹس اعجازالالحسن کو مانیٹرنگ جج لگا دیا گیا، جج سے کہا آپ بیٹھیں ، ساری کاروائی کو مانیٹر کریں کہ نواز شریف کو جلد ازجلد سزا ہو، یہ اس ملک کیخلاف اتنی بڑی سازش ہے کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے،

    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ میں نے کیا بگاڑا تھا، اس بینچ کا، جس نے سسلین مافیا بھی کہا، ان میں سے ایک جج تھا جس کا نام شیخ عظمت تھا، اسکی عزیزہ کا پروموشن کا کیس تھا جو میرٹ پر ہونا تھا ، وہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کو پتہ ہونا چاہئے کہ اڈیالہ جیل میں بہت جگہ ہے، میں ملک کا وزیراعظم تھا انکی خواہش تو اس وقت سے تھی نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ڈالنے کی، ایسا ہوتا رہا تو ملک کا کیا حال ہو گا ،بہت افسوسناک بات ہے یہ، جو ملک و قوم نے قیمت ادا کی اس کا حساب ہونا چاہئے ،انتقام نہ سہی، میں ذاتی طور پر کسی کو نہ معاف کر سکتا ہو ں نہ رائے دے سکتا ہوں لیکن جنہوں نے قوم کے خلاف اس طرح کے کام کئے انکو نہیں بھول سکتا جوذمہ دار ہے اسکا حساب لیا جانا چاہئے ورنہ یہ کھیل تماشا جاری رہے گا،میں یہ سمجھتا ہوں کہ 25 کروڑ عوام کیخلاف یہ سازش ہوئی ، عوام کو نوٹس لینا چاہیئے،میں کسی انتقامی جذبے سے بات نہیں کر رہا لیکن یہ بہت سیریس معاملہ ہے،ہم نے 4 سال ڈالر کو باندھ کے رکھا تھا، آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہا تھا،قوم کے دشمن کو مجھے معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، آٹھ فروری کو سب سے بڑی جے آئی ٹی اور عدالت بنے گی اور تاریخی فیصلہ دے دی، باتوں کو غور سے صرف سننا نہیں چاہئے بلکہ پلے باندھنا چاہئے،ہم نے ملک کو ایسے ہاتھوں میں نہیں چھوڑنا جو کھیل کھیلیں ،کبھی بھی نہیں ورنہ کھلنڈرے آتے رہیں گے اور پاکستا ن کو تباہی کی جانب دھکیلتے رہیں گے، مجھے اللہ نے جھوٹے مقدموں سے بری کیا،کل عدالت کی اگر کاروائی سنی ہو تو صاف صاف کہہ دیا کہ یہاں تو کوئی ثبوت ہی نہیں، کوئی کاغذات ہی نہیں،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پشاور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کی تقریب میں شرکت کی

    اس موقع پر بلاول زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ڈی آئی خان میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کرتا ہوں،پاکستان میں دہشتگردی ایک بار پھر سراٹھا رہی ہے،آپس میں لڑنے سے مسائل مزید پیدا ہونگے،قومی مفاد کے لیے ہمیں اپنا سیاسی اختلاف بھول کر اکٹھا ہونا ہوگا،دہشتگردی کیخلاف ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں،پاکستان نے دہشتگردی کی کمرتوڑی ہے،جب ہم آپس میں لڑتے ہیں تو دہشتگرد اس کافائدہ اٹھاتے ہیں،پورا پاکستان ایک ہوکر دہشتگردی کامقابلہ کرے گاتب ہی فتح ملے گی،قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،ہم سب نے ملکر اتنی قربانیاں دیں تاکہ ملک سے دہشتگردی ختم ہو،خیبرپختونخوا کی پولیس،عوام اور وکلا نے دہشتگردی کیخلاف صف اول کاکردار ادا کیا،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ عوام سے پوچھے بغیر، پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر دہشتگردوں سے بات چیت کی گئی،سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان کو جیل سے نکالا گیا،افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد جیلوں سے پاکستان مخالف لوگ آزاد ہوئے ،افغانستان میں آزاد ہونے والے پاکستان مخالف لوگوں کویہاں آنے کی دعوت دی گئی،اس ایک فیصلے نے پاکستان کو 10سال پیچھے کردیا ، زندہ ہے بھٹو کے نعرے کامذاق اڑانے والوں کو شاید اب اندازہ ہورہا ہوگا،اس وقت مہنگائی، غربت اور بیروزگاری ملک کابڑا مسئلہ ہے،چاہتے ہیں کہ کوئی مینڈیٹ لیکر وزیراعظم بنے تو اس کیساتھ ایسا نہ ہو،ذوالفقار علی بھٹو کاجو ریفرنس چل رہا ہے ،انہیں ضرور انصاف دلاؤں گا،عدلیہ پر پورا اعتماد ہے، تاریخ،قانون اور جمہوریت کے مطابق فیصلہ کرے گی،

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

  • انتخابات میں کوئی بندیال ، فیض, کھوسہ نہیں صرف پاکستان کے عوام ہوںگے،جاوید لطیف

    انتخابات میں کوئی بندیال ، فیض, کھوسہ نہیں صرف پاکستان کے عوام ہوںگے،جاوید لطیف

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ کل سے پاکستان بھر میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں،دو سال قید کاٹنے کے بعد انصاف کا چہرہ دیکھنے کو ملا،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ سات سال پہلے منصوبہ بندی کرنے والے فیصلہ لینے اور دینے والے آج آرام سے زندگی گزار رہے ہیں، 74 سالہ رنگیلا بابا شادیوں کا شوقین جیل میں بیٹھ کر لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کر رہا، دباؤ میں غلط فیصلے دیتے ہیں, پھر ملک کس طرح ترقی کر سکتا، آج نواز شریف کو سات سال بعد صرف بری کیا جائے تو وہ کافی نہیں، ذوالفقار علی بھٹو ووٹ کی عزت کے لیے پھانسی چڑھ گئے، سی پیک اور پاکستان میں خوشحالی دینے کی وجہ سے نواز شریف تاحیات نااہل ہو گئے، بیٹے سے تنخواہ نا لینے پر نااہل کر دیا گیا، عوام کو بتایا جائے کہ وہ کردار کون تھے،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں میں ن لیگ مقامی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر انتخابات میں حصہ لے گی، ہماری ترجیحات 25 کروڑ عوام کی ترجیحات ہیں، فیض آباد دھرنے کی ججمنٹ سب کے سامنے ہے،9 مئی کے واقع کو ہی دیکھ لیں ، عمران خان کو جو سہولیات جیل میں میسر ہیں کیا وہ کسی اور قیدی کو میسر ہیں ،یہ ناانصافی ہے، جیل کے دیگر قیدیوں کو بھی ملنی چاہیں، سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے چوہدری شجاعت سے دو تین سیٹ کی ہو سکتی ہیں، دیگر جماعتوں کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوگا، آدھی صدی گزرنے کے بعد آج ذولفقار علی بھٹو کا کیس سنا جا رہے ، تو قوم کو حق ہے کہ وہ پوچھیں کہ ہمیں کیوں دو وقت کی روٹی میسر نہیں ، نواز شریف سڑکوں پر آکر سوال کرتا تھا کہ مجھے کیوں نکالا،ایک نوجوان لیڈر سولہ ماہ کی حکومت میں شامل تھے ان سولہ ماہ میں ان کو علم تھا کہ ان کو کیوں نکالا ،بینظیر بھٹو شہید کو معلوم تھا کہ کیوں اور کیسے نکالا جاتا ہے،ان کو علم رہنا چاہیے کہ ووٹ کا تقدس ہونا چاہیے ، ذوالفقار علی بھٹو کو ووٹ کے تقدس کی وجہ سے پھانسی چڑھے، کیا وجہ تھی کہ پاکستان کے اندر سے منصوبہ بندی تھی یا پاکستان کو خوشحال نہ دیکھنے والی بیرون ملک کی قوتیں تھیں،2024 کے انتخابات میں کوئی بندیال ، فیض, کھوسہ نہیں ہو گا صرف پاکستان کے عوام ہوں گے،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان پر فرد جرم عائد کروانے کے لیے جج صاحب کے پیچھے پولیس کی بھاری نفری کھڑی ہوتی ہے تاکہ جج کو ڈرایا جائے اور اس سے اپنی مرضی کا فیصلہ لیا جائے

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ کمرہ عدالت میں ڈبے بنا دیئے گئے، اندر خوف کس چیز کا ہے؟ شیشے لگا دیئے ہیں، کس چیز کا خو ف ہے، سمجھ نہیں آ رہی، ہم اندر اور باہر سے تالے لگا دیئے جو کچھ ہو رہا انصاف ملتا نظر نہیں آ رہا، ایسے لگ رہا کسی اور ملک میں بیٹھے ہوں،کیا ہم دہشت گرد ہیں، ہمیں تکلیف ہوتی ہےدیکھ کر جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے، گھر سے نکلتے ہیں تو فالو کیا جاتا ہے، بے شک ہمیں جیل میں ڈال دیں‌کوئی ڈر نہیں، میڈیا کو کیوں اجازت نہیں دی جا رہی، میڈیا عوام کے نمائندے ہیں، سب کو نظر آ رہا ہے، یہ آگے چل کر کیا کریں گے،ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے،

    علیمہ خان کے ہمراہ وکیل کا کہنا تھا کہ جج کے پیچھے پولیس کیوں تھی، ڈرانا مقصد تھا؟ درخواست دی تھی،عمران خان جیل میں موجود ہیں،یہ ہمیں بارہاعمران خان اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم آئین و قانون کو مانتے ہیں، جب ہم کہتے تھے ہمیں خطرہ ہے اس وقت ہمیں عدالتوں میں بلایا جاتا تھا، جب تک اوپن ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کرتے تب تک فرد جرم کیسے لگ سکتی ہے، ایسا کیس جس میں سزائے موت ہو سکتی ہے اس میں اوپن ٹرائل ہونا چاہئے،

    واضح رہے کہ عمران خان پر آج سائفر کیس میں فرد جرم عائد ہونی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس میں بھی فرد جرم عائد ہونی ہے،توہین الیکشن کمشنر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں شروع ہو گئی ہے،کیس کی سماعت ممبر الیکشن کمیشن نثار احمد درانی کر رہے ہیں،عمران خان اور فواد چودھری کمرہ عدالت میں موجود ہیں،توہینِ الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کے موقع پر فواد چوہدری کی اہلیہ حبا چوہدری اور وکیل ایڈووکیٹ فیصل چوہدری اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں،بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہیں

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند