Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • سائفر کیس، ان کیمرہ ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد،کل اٹارنی جنرل طلب

    سائفر کیس، ان کیمرہ ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد،کل اٹارنی جنرل طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آگئے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ راجہ صاحب آپ کا کیس ایک گھنٹے بعد سنیں گے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی بلا لیتے ہیں پھر تفصیل سے دیکھ لیتے ہیں ، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا چودہ دسمبر کا فیصلہ ہائیکورٹ کے فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے،کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا،

    وقفے کے بعد کیس کی سماعت ہوئی، سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے سائفر کیس کی تمام کارروائی ان کیمرہ کرا دی ہے ،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب ملک میں ہیں ؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی وہ ملک میں موجود ہیں،سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا کہ ایف آئی آر پڑھ دیتا ہوں کہ اصل میں الزام کیا ہے ،پراسیکیوشن کی درخواست پر عدالت نے ٹرائل ان کیمرہ کرنے کا فیصلہ سنایا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عدالت نے ان کیمرا پروسیڈنگ کی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا ؟ملزمان پر فرد جرم کب عائد ہوئی ؟عدالت نے پوچھا کہ اس کیس میں مسئلہ ہو رہاہے ، ٹرائل کوئی کر رہاہے اور اپیلیں کوئی دوسرا وکیل ، سلمان اکرم راجہ نے عدالت کہا کہ مسٹر پنجوتھا یہاں ہیں ، یہ ٹرائل کر رہے ہیں، مسٹر پنجوتھا نے بتایا 14 دسمبر کو فرد جرم عائد ہوئی ،13 دسمبر کو ان کیمرا کارروائی کی درخواست پر 14 دسمبر کیلئے نوٹس ہوا تھا ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ ان کیمرا کارروائی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ نے نوٹس جاری کیا تھا ، سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا ملزمان کے اہل خانہ کو ٹرائل میں بیٹھنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے اہل خانہ کو پابند بنایا گیا ہے کہ عدالتی کارروائی سے متعلق بات نہیں کر سکتے ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر فرد جرم عائد ہو گئی ہے تو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ فرد جرم عائد ہو گئی ہے ؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بالکل انہیں پابند کیا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی نہیں بتا سکتے ، میڈیا ، سوشل میڈیاپر سائفر کیس کی کارروائی پبلش کرنے کی پابندی لگائی گئی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی ، عدالت نےٹرائل روکنے کی درخواست فوری منظور نہیں کی،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملے پر اٹارنی جنرل کو سننا چاہتے ہیں

    واضح رہے کہ عمران خان نے سائفر کیس کی ان کیمرا سماعت کا ٹرائل کورٹ کا حکم چیلنج کردیا۔عمران خان کی طرف سے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ سائفر عدالت کا 14 دسمبرکا حکم نامہ اسلام آبادہائیکورٹ کے 21 نومبر کے فیصلےکی خلاف ورزی ہے، عدالت نے اپنے حکم میں سائفرکیس کی رپورٹنگ پربھی پابندی عائد کردی جو خلاف آئین ہے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہےکہ بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی، انصاف کو صرف ہونا نہیں بلکہ ہوتا دکھائی دینا چاہیے اس لیے انصاف کے تقاضے پورےکرنے کے لیے عوام اور میڈیا کی موجودگی میں اوپن ٹرائل ضروری ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ ٹرائل کورٹ کا 14دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور اس درخواست کے فیصلے تک ٹرائل کورٹ کو مزید کارروائی سے روکا جائے۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس :عمران خان نےان کیمرا سماعت کا ٹرائل کورٹ کا حکم چیلنج کردیا

    سائفر کیس :عمران خان نےان کیمرا سماعت کا ٹرائل کورٹ کا حکم چیلنج کردیا

    اسلام آباد: عمران خان نے سائفر کیس کی ان کیمرا سماعت کا ٹرائل کورٹ کا حکم چیلنج کردیا۔

    باغی ٹی وی: عمران خان کی طرف سے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ سائفر عدالت کا 14 دسمبرکا حکم نامہ اسلام آبادہائیکورٹ کے 21 نومبر کے فیصلےکی خلاف ورزی ہے، عدالت نے اپنے حکم میں سائفرکیس کی رپورٹنگ پربھی پابندی عائد کردی جو خلاف آئین ہے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہےکہ بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی، انصاف کو صرف ہونا نہیں بلکہ ہوتا دکھائی دینا چاہیے اس لیے انصاف کے تقاضے پورےکرنے کے لیے عوام اور میڈیا کی موجودگی میں اوپن ٹرائل ضروری ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ ٹرائل کورٹ کا 14دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور اس درخواست کے فیصلے تک ٹرائل کورٹ کو مزید کارروائی سے روکا جائے۔

    سارہ انعام کیس، شاہنواز امیر نے سزائے موت کیخلاف اپیل کر دی

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں ٹرائل کورٹ کے آرڈر کیخلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر دیا ، بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو فرد جرم عائد کرنے کے عدالتی حکمنامے کیخلاف درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کی-

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ رجسٹرار آفس کا اعتراض ہے کہ درخواست میں استدعا ٹھیک نہیں کی گئی، جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ آپ اپنے آپ کو عبوری حکم کیخلاف استدعا تک محدود رکھیں،اب میں ہر اعتراض کو تو دور نہیں کر سکتا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ اس پر تو درخواست نامکمل ہونے کا اعتراض بھی لگا ہےآپ اس کو دیکھیں، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر ایک اعتراض ختم کرتے ہوئے وکیل کو ہدایت کی کہ باقی اعتراض دیکھ کر ان کو ختم کریں۔

    تااحیات نااہلی کا معاملہ،سماعت کیلئے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل

    واضح رہےکہ سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس کی کارروائی پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کررکھی ہے جب کہ عمران خان نے اڈیالہ جیل میں چلنے والے سائفر کیس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کررکھا ہے۔

  • عمران خان سائفر کیس،درخواستگزار کو رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرنے کی ہدایت،سماعت ملتوی

    عمران خان سائفر کیس،درخواستگزار کو رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرنے کی ہدایت،سماعت ملتوی

    اسلام آباد: سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد ہونے اور نقول تقسیم کرنے کے ٹرائل کورٹ کے آرڈر کے خلاف سماعت ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس میں فرد جرم عائد ہونے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد ہونے اور نقول تقسیم کرنے کے ٹرائل کورٹ کے آرڈر کے خلاف درخواست پر الگ الگ سماعت کی-

    دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ 12 نومبر کے خصوصی عدالت کے آرڈر کو چیلنج کیا ہے عدالت نے درخواست گزار کو رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    نواز شریف، آصف زرداری کیخلاف توشہ خانہ کیس، نیب سے رپورٹ طلب

    دوسری جانب عمران خان کی نقول تقسیم کرنے کے ٹرائل کورٹ کے آرڈر کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران وکیل نے کہا کہ خصوصی عدالت نے بغیر نوٹیفکیشن کے کارروائی شروع کردی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نوٹیفکیشن وکیل صفائی کو دینے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ سب سے پہلے 352 کا آرڈر ہوتا ہے، جب تک وفاقی حکومت پراسس مکمل نہ کرلے کارروائی نہیں ہو سکتی ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نوٹیفکیشن کی کاپی سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل کو فراہم کی، بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 28 دسمبرتک ملتوی کردی۔

    عام انتخابات: کاغذات نامزدگی کی وصولی کا آغاز کر دیا گیا

  • عمران خان اور بشری بی بی  کیخلاف توشہ خانہ کیس میں بھی ریفرنس دائر

    عمران خان اور بشری بی بی کیخلاف توشہ خانہ کیس میں بھی ریفرنس دائر

    اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : نیب نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس دائر کیا ہے جس میں نیب راولپنڈی کی جانب سے صرف ان دونوں ملزمان کے نام دئیے گئے ہیں، نیب پراسیکیوٹر سہیل عارف نے تفتیشی افسر محسن ہارون اور کیس افسر وقار الحسن کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا جس کے بعد احتساب عدالت کے رجسٹرار آفس نے ریفرنس کی جانچ پڑتال شروع کردی۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل نیب نے عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور دیگر کیخلاف القادر ٹرسٹ کیس میں کرپشن ریفرنس دائر کیا تھا۔ نیب کی مداخلت سے قبل، عمران خان 2 مرتبہ پہلے بھی توشہ خانہ سکینڈل کی وجہ سے متاثر ہو چکے ہیں۔ 21 اکتوبر 2022 کو عمران خان کو قومی اسمبلی سے5 سال کیلئے الیکشن کمیشن نے نا اہل قرار دیا تھا کیونکہ وہ مہنگے تحائف فروخت کرنے کے معاملے میں سچ چھپانے کے مرتکب قرار دیئے گئے تھے۔

    چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان کی سربراہی میں5 رکنی بینچ نےیہ فیصلہ سنایا تھا اور سچ سامنے نہ لانے کی وجہ سے عمران خان کیخلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ سنایا گیا تھا، عمران خان کیخلاف فیصلے کے بعد، الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں عمران خان کیخلاف کیس بھجوا دیا، عدالت نے رواں سال اگست میں عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 3 سال کی سزا سنائی۔

    توشہ خانہ کیس کا تنازع اس وقت سامنے آیا تھا جب ایک صحافی کی جانب سے معلومات کے حصول کے قانون (رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ) کے تحت پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم یہ بتانے سے انکار کر دیا تھا کہ انہیں عہدے پر رہتے ہوئے کتنے تحائف ملے تھے۔ حکومت کی جانب سے یہ کہتے ہوئے جواب دینے سے انکار کیا گیا تھا کہ جواب دینے کی صورت میں دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے۔

  • میری تقریر کے دوران عمران خان کے نعرے لگے جس پر مجھے خوشی ہوئی،بلاول

    میری تقریر کے دوران عمران خان کے نعرے لگے جس پر مجھے خوشی ہوئی،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے لاہور ہائیکورٹ بار میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ امید ہے قائد عوام اور اس ملک کے عوام کو انصاف ملے گا،

    بلاول زرداری آئین کی گولڈن جوبلی کےموقع پر لاہورہائیکورٹ میں خطاب کرنےپہنچے تو وکلاء کی جانب سے انکا شاندار استقبال کیا گیا ، بلاول کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاورکی گئیں،خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہماری 2 نسلیں انصاف مانگنے یہاں آتی رہی ہیں، آج تک لاہور ہائیکورٹ کو کرائم سین کی صورت میں دیکھا جاتا ہے،امید ہے قائد عوام کو اتنے عرصے بعد انصاف ملے گا،آصف علی زراری کا 12 سال پہلے کا ریفرنس آج سنا جارہا ہے،

    بلاول زرداری کے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان کے نعرے لگے جس پر بلاول کا کہنا تھا کہ میں آیا ہوں تو آپ عمران خان کے نعرے لگا رہے تھے، مجھے خوشی ہوئی، میری تقریر کے دوران عمران خان کے نعرے لگے جس پر مجھے خوشی ہوئی،میں سیاسی لیڈر سے مختلف رائے رکھ سکتا ہوں لیکن میں سیاسی کارکن کا احترام کرتا ہوں خواہ وہ پیپلز پارٹی سے ہوں، ن لیگ سے یا تحریک انصاف سے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ آج میں فخر کے ساتھ گولڈن جوبلی نہیں منا سکتا، نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی بیوقوف بنانے کی کوشش کرے تو اسکی بات نہ مانیں، ملک کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے، ہم نے حق چھیننا ہے تا کہ ملک کو،عوام کو مہنگائی، غربت، بے روزگاری سے بچا سکیں، سیلاب سے کتنے خاندان متاثر ہوئے، شرمناک حقیقت ہے کہ پاکستان کی حکومتیں، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے لڑتی رہیں لیکن سیلاب متاثرین کی مدد نہ کر سکیں،عمران خان کے بعد جو معاشی ٹیم آئی وہ بھی مہنگائی پر قابو نہ کر سکی،یہ میرا ملک ہے، آپ کا ملک ہے، ملکر اس ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں، نوجوان نسل کے پاس امید ہے، انکو ہم مایوس نہیں کرنا چاہتے، آج نہیں تو کل ہم مشکل سے نکلیں گے، وہ وعدے جو قائد عوام نے کئے تھے میں اور آپ ملکر وہ وعدے پورے کریں گے،اس موقع پر وکلا کی جانب سے وزیراعظم بلاول کے نعرے لگائے گئے،

    خواتین اگر اسی لگن سے کام کرتی رہیں گی تو جیت انشااللہ پیپلزپارٹی کی ہی ہوگی،

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

  • توہین الیکشن کمیشن کیس، عمران خان،فواد پر فرد جرم ایک بار پھر مؤخر

    توہین الیکشن کمیشن کیس، عمران خان،فواد پر فرد جرم ایک بار پھر مؤخر

    توہین الیکشن کمیشن کیس، بانی پی ٹی آئی اور فواد چوہدری پر فردجرم ایک بار پھر مؤخر کر دی گئی

    توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت 27 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی،فواد چوہدری کی جانب سے توہین الیکشن کمیشن کیس میں اوپن ٹرائل کی استدعا کی گئی ،فواد چودھری نے کہا کہ ہمیں کیس سے متعلق کاپیاں فراہم نہیں کی گئی نہ ہماری دستاویزات اندر آنے دی گئیں، دستاویزات کے بغیر نہیں بتا سکتا کہ مجھ پر کیا کیا الزامات ہیں،

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی ،ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کی ،الیکشن کمیشن کے ممبران شاہ محمود جتوئی، بابر حیسن بھروانہ اور جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ بھی عدالت میں موجود تھے، کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی.

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا

     وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،

     ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی

  • کراچی کو امن ہم نے دیا ووٹ کسی اور کو پڑ گیا،نواز شریف

    کراچی کو امن ہم نے دیا ووٹ کسی اور کو پڑ گیا،نواز شریف

    قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوچا بھی نہ تھا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کردیا جائے گا۔

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ 1999 میں صبح وزیراعظم تھا اور رات کو ہائی جیکر بن گیا، 2017 میں بھی بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی وجہ سے مجھے فارغ کردیا گیا،ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ نہ لینے پر فارغ کردیا گیا، 2017 میں پٹرول سستا تھا، روپیہ بھی مضبوط تھا، 2017 میں ملک میں سی پیک آرہا تھا، دفاع بھی مضبوط تھا، دنیا کہہ رہی تھی پاکستان چند برسوں بعد جی 20 میں آجائے گا،2017 میں آٹا، چینی، دالیں اور گوشت مہنگا نہیں تھا، ملک ترقی میں آگے دوڑ رہا تھا، خطے کے دیگر ممالک ہم سے پیچھے تھے،ہر سال کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے باہر نکل رہے تھے،آج ملک میں سب کچھ ریورس ہوگیا ہے، وہ مومینٹم چلتا رہتا تو آج پاکستان بہت آگے ہوتا، سلیکٹڈ بندے کو لانے کیلئے وزیراعظم کو فارغ کر دیا گیا،ہم وہ کام کرسکتے ہیں جو عام قومیں نہیں کرسکتیں، ہمارا شمار پہلے 10 آبادی والے ممالک میں ہوتا ہے، ہمارے پاس مین پاور ہے، پاکستان 25 کروڑ آبادی والا ملک ہے، یہ کوئی معمولی بات نہیں،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا، پشاور سے سکھر تک ہم نے موٹرویز بنائیں، غیر ملکی قرضے واپس کردیے تھے، ہم نے ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا، ڈیمز بنائے، لواری ٹنل ہم نے بنایا ووٹ کسی اور کو پڑ گیا،کراچی میں ترقیاتی کام کیوں نہیں ہوئے ؟ کراچی کو امن ہم نے دیا ووٹ کسی اور کو پڑ گیا، کام ہم کریں ووٹ کسی اور کو پڑ جائے، کراچی اور چترال والے سوچیں ایسا کیوں کہ ووٹ کسی اور کو دیا؟ نا انصافیاں ہوتی ہیں ہم خاموشی کے ساتھ برداشت کرجاتے ہیں،ہمیں نظر کھا گئی، شاید ہم اپنے ساتھ اتنے مخلص نہیں جتنا ہونا چاہیے تھا، 2018 میں آرٹی ایس بٹھا کر جو حکومت دلائی گئی وہ ایک موٹروے بھی نہیں لاسکی، ہماری حکومت نہ توڑی جاتی تو سکھر سے حیدر آباد موٹروے تیار ہوچکی ہوتی،

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا بارھواں اجلاس ہوا، نواز شریف اور پارٹی صدر محمد شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کی،پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف ارگنائزر مریم نواز شریف، الیکشن سیل کے سربراہ اسحاق ڈار، سیکرٹری جنرل احسن اقبال اور پارٹی کے پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ بھی اجلاس میں شریک تھے،بورڈ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کے علاوہ ڈویژنل کوآرڈینیٹرز بھی شریک ہیں ،مسلم لیگ (ن) کا پارلیمانی بورڈ آج صوبہ سندھ اور کراچی سے موزوں امیدواروں کا انتخاب کر رہا ہے ،صوبہ سندھ اور کراچی سے 135 سے زائد درخواستوں پر آج غور ہو گا ،پارلیمانی بورڈ 2 دسمبر سے اب تک سرگودھا ڈویژن، ڈسٹرکٹ راولپنڈی، ہزارہ، مالاکنڈ ڈویژن، صوبہ بلوچستان، ڈیرہ غازی خان، راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، ملتان، گوجرانولہ، گجرات، سیالکوٹ، نارووال اور بہاولپور سے پارٹی امیدواروں کے ناموں پر غور کرچکا ہے

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • جب بغاوت ناکام ہو جائے تو لیول پلئنگ فیلڈ کا مطالبہ کیا جاتا ہے،جاوید لطیف

    جب بغاوت ناکام ہو جائے تو لیول پلئنگ فیلڈ کا مطالبہ کیا جاتا ہے،جاوید لطیف

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگ کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ آج کل لیول پلئنگ فیلڈ کی بہت بات ہو رہی،جب کوئی بغاوت کرے اور حملہ آور ہو جائے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ جب بغاوت ناکام ہو جائے تو لیول پلئنگ فیلڈ کا مطالبہ کیا جاتا ہے، یہ سلسلہ ظہیر الاسلام سے شروع ہوا اور چلتے چلتے فیض عام ہوا،پھر فیض اور جنرل باجوہ نے منصوبہ بندی کی وہ ثاقب نثار تک گئی، 16 ماہ کی حکومت کا بڑا ذکر کیا جاتا ہے کہ ریلیف نا ملا، 16 ماہ کی قومی حکومت ناکام ہوئی اور 2017 کا پاکستان نا بنا سکی، اگر وہ پلان کامیاب ہو جاتا تو اس کا سب پاکستان عوام نے بھگتنا تھا، آج بغاوت کرنے والے کھلے عام پھر رہے ہیں، جو پکڑا ہوا ہے وہ جیل کے اندر ایسے زندگی گزار رہا جیسے کلبھوشن ہو، آپ سرحد پار سے آکر یہی کام کریں تو دہشتگرد اگر ملک کے اندر سے کریں تو سیاسی معاملہ, یہ نہیں ہو سکتا، سب جماعتیں نواز شریف کی قیادت میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں، سب علاقائی جماعتیں نواز شریف کا ماضی جانتے ہیں،آج بھی جنرل فیض اور باقی لوگ سمجھتے ہیں کہ فیض آباد دھرنا سنا جا سکتا ہے،ہم انتقام پر یقین نہیں رکھتے لیکن پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو کٹہرے میں لانا چاہیے،

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • توہین الیکشن کمیشن کیس،جیل ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد

    توہین الیکشن کمیشن کیس،جیل ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد

    لاہور ہائیکورٹ: بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے اڈیالہ جیل میں ٹرائل کرنے کے اقدام کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کو توہین الیکشن کمیشن کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف فوری ریلیف نہ مل سکا،لاہور ہائیکورٹ نے فوری جیل ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کردی اور الیکشن کمیشن کو نوٹس کر کے کاروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی،
    عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ،الیکشن کمیشن کے وکیل نے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن سے متعلق فل بینچ کو آگاہ کردیا ، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن ہوم ڈیپارٹمنٹ نے 8 دسمبر کو جاری کیا ،عدالت نے کہا کہ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ہے اس عدالت کا دائرہ اختیار اسلام آباد اور راولپنڈی کا ہے،وکیل عمران خان نے کہا کہ درخواست گزار جب لاہور میں تھا اس وقت نوٹسز زمان پارک میں وصول کروائے گئے، کل فرد جرم عائد ہونا ہے حکم امتناعی جاری کیا جائے،عدالت نے کہا کہ درخواست میں جو گروانڈز تھی وہ نوٹیفکیشن کی حد تک تھی ،آپ دوبارہ ترمیمی درخواست دائر کریں

    قبل ازیں فل بنچ نے بانی چیئرمیں پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت تھوڑی دیر تک ملتوی کر دی،عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ اڈیالہ جیل کے ٹرائل کے نوٹیفکیشن کی بابت آگاہ کریں ، جسٹس عالیہ نیلم نےکہا کہ آپ عمران خان کی درخواست چیف جسٹس کے علم میں لاتے، چیف جسٹس ہمارے دائرہ اختیار کا تعین کرتے ۔پھر درخواست ہمارے پاس سماعت کے لیے آتی تو بہتر ہوتی ۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ وہ جیل ٹرائل کرے ،جسٹس اسجد جاوید گورال نے کہا کہ ابھی اڈیالہ جیل کے ٹرائل کا نوٹیفیکیشن نہیں ہوا، مناسب ہے نوٹیفکیشن ہونے کے بعد چیلنج کرتے، جسٹس شہرام نے کہا کہ نوٹیفکیشن کے بغیر جیل ٹرائل نہیں ہو سکتا، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پھر آپ جیل ٹرائل روک دی

    تین رکنی فل بینچ نے فواد چوہدری کی درخواست چیف جسٹس کو بھجوا دی،عدالت نے نوٹ میں کہا کہ معاملہ پنڈی بنچ ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ۔مناسب ہے درخواست کو پنڈی بنچ لگا دیا جائے، جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپکا دائرہ اختیار اسلام آباد کا ہے ،آپ اسلام آباد ہائی کورٹ، یا پنڈی ہائیکورٹ چلے جائیں، وکیل فواد چودھری نے کہا کہ مناسب ہے آپ میری درخواست کو پنڈی بنچ ٹرانسفر کر دیں ، جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپکے کچھ دستاویزات مصدقہ نہیں ہیں، پہلے مصدقہ دستاویزات لے کریں آئیں پھر سنیں گے ،وکلا درخواست گزار نے کہا کہ عدالت جیل ٹرائل کا آرڈر کالعدم قرار دے ،جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں فل بنچ نے بانی چیئرمیں پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی،بنچ کے اراکین میں جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس اسجد جاوید گورال شامل ہیں ،درخواست میں وفاقی حکومت الیکشن کمیشن ۔سیکرٹری الیکشن کمیشن اور ڈی جی لا کو فریق بنایا گیا ہے

    درخواست گزار کی طرف سے اشتیاق احمد خاں اور سمیر کھوسہ ایڈووکیٹس پیش ہوئے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بانی چیئرمین سابق وزیر اعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں ۔الیکشن کمیشن انتظامی ادارہ ہے ،الیکشن کمیشن جوڈیشل اختیارات استعمال نہیں کر سکتا۔الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ کیس میں سیاسی بنیادوں پر نااہل کر دیا، اب پارٹی صدارت سے ہٹانے کا شوکاز دے دیا، الیکشن کمیشن نے شوکاز کی کارروائی جیل میں کرنے کے لیے وزرات داخلہ کو لکھ دیا ،ایسا کیا جانا بدنیتی پر مبنی اور غیر قانونی ہے ،عدالت اسکا جیل ٹرائل کرنے کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد معطل کرے۔عدت الیکشن کمیشن کو دائرہ اختیار میں رہ کر شوکاز نوٹس پر سماعت کا حکم دے،

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • بشریٰ بی بی کی طبیعت ناساز،دوران عدت نکاح کیس میں‌پیش نہ ہوئیں

    بشریٰ بی بی کی طبیعت ناساز،دوران عدت نکاح کیس میں‌پیش نہ ہوئیں

    بشریٰ بی بی بیمار ہو گئیں، دوران عدت نکاح کیس میں عدالت پیش نہ ہوئیں

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد، سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف مبینہ غیر شرعی نکاح کا کیس کی سماعت ہوئی، درخواست گزار کے وکیل رضوان عباسی عدالت پیش ہوئے، اور کہا کہ میں نے اڈیالہ جانا ہے ابھی سماعت کر لیں،رضوان عباسی نے جیل ٹرائل کی استدعا کی، جس پر جج نے کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری اور سماعت کر لیتے ہیں،جج نے سلمان اکرم راجہ کے معاون وکیل رائے محمد علی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہ آپ کیا کہتے ہیں، معاو ن وکیل نے کہا کہ کچھ دیر وقفہ کر لیں دیگر وکلا آرہے ہیں، عدالت نے سماعت میں وقفہ کردیا بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی گئی جس میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی کی طبیعت ناساز ہے، عدالت پیش نہیں ہوسکتیں ،

    بشری بی بی کی طبعیت ناساز ،بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان سے عدت میں نکاح کے کیس میں عدالت پیش نہ ہوسکیں ، بشری بی بی کے وکیل نے عدالت سے کہا ہم نے لاہور سے آنا ہوتا ہے اس لیے تاریخ لمبی رکھ لیں ، اس پر جج قدرت اللہ نے جواب دیا کہ آپ کچھ عرصے کے لیے اسلام آباد میں کرایہ پر گھر لے لیں ، آج میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلیتا ہوں لیکن آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنائیں

    عمران خان کی عدم حاضری پر عدالت نے جیل حکام کی رپورٹ کے لیے سماعت میں وقفہ کیا تو بشری بی بی کے وکیل عثمان گل نے کہا جیل سے جو رپورٹ آنی ہے وہ ہمیں بھی معلوم ہے اور آپ بھی جانتے ہیں۔ جج نے کہا مجھے نہیں معلوم، آپ بتا دیں کہ کیا رپورٹ آنی ہے؟ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ نے انتخابات کا حکم دیا تھا جس پر عمل نہیں ہوا۔جج نے کہا آپ خود کو اپنے کیس تک محدود رکھیں جس کے بعد عمران خان کی حاضری کے لیے جیل حکام کی جانب سے پروڈکشن رپورٹ آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا گیا

    سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے سے معذرت کر لی، جیل حکام کی جانب سے عدالت میں رپورٹ جمع کروائی گئی جس میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی سابق وزیر اعظم ہیں، سیکیورٹی تھریٹس ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت 22 دسمبرتک ملتوی کردی،ڈسٹرکٹ سیشن عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس کے جیل ٹرائل کا حکم دے دیا

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،