Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عمران خان کی  آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کیخلاف دائر درخواست کی جلد سماعت کی استدعا

    عمران خان کی آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کیخلاف دائر درخواست کی جلد سماعت کی استدعا

    اسلام آباد: سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سپریم کورٹ میں آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف دائر درخواست کی جلد سماعت کی استدعا کردی۔

    باغی ٹی وی: سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراضات کیخلاف اپیل پرجلدسماعت کی استدعا کرتے ہوئے درخواست دائر کی، عمران خان نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کو آئینی درخواست میں چیلنج کیا تھا، رجسٹرار آفس نے درخواست اعتراضات لگا کرواپس کر دی تھی،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ رجسٹرار آفس اعتراضات کے خلاف اپیل دائرکر چکے ہیں، جس پر جلد سماعت کی جائے گی-

    دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت جاری ہے، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین اڈیالہ جیل میں سماعت کر رہے ہیں، سفارتی سائفر گمشدگی کیس کی سماعت کے دوران آج دونوں ملزمان کو کیس کے چالان کی نقول فراہم کی جائیں گی سابق چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی سمیت عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان و دیگر کمرہ عدالت میں موجود ہیں، اس کے علاوہ خصوصی عدالت کی جانب سے میڈیا کے چھ نمائندگان کو عدالتی کارروائی دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    کندھ کوٹ میں ٹریفک حادثہ،7 افراد جاں بحق 9 زخمی

    اسٹاک مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم، 100 انڈیکس 62 ہزار کی سطح عبور کرگیا

    بلاول ،نواز شریف کا مقابلہ نہیں کرسکتے،رہنما مسلم لیگ ن

  • چیف جسٹس کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے نہ کسی کی حمایت کرینگے،سپریم کورٹ کا اعلامیہ

    چیف جسٹس کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے نہ کسی کی حمایت کرینگے،سپریم کورٹ کا اعلامیہ

    عمران خان کے چیف جسٹس پاکستان کے نام خط پر سپریم کورٹ کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کا ادراک ہے،چیف جسٹس فائز کسی کو نہ دباو میں لایا جا سکتا ہے نہ کسی کی حمایت کرینگے۔ چیف جسٹس فائزعیسی اللہ کے فضل سے اور اپنے حلف کے مطابق فرائض کی انجام دہی کرتے رہیں گے۔یکم دسمبر کو 84 صفحات کی درخواست موصول ہوئی جو زرد رنگ کی پیپر بک میں ہے۔دستاویز تیار کرنے والے وکیل کا نام اور رابطہ کی تفصیلات نہیں دی گئی۔لفافے کے مطابق دستاویز انتظار حسین پنجھوتہ نے کورئیئر کی تھی۔دستاویز بظاہر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے بھیجی گئی ہے۔اس جماعت کی اچھی نمائندگی وکلاء کرتے رہے ہیں۔پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں اس جماعت کے وکلاء فوجی عدالتوں اور انتخابات کیس کو تکمیل تک لے گئے۔یہ امر حیران کن ہے کہ سربمہر لفافہ موصول ہونے سے پہلے ہی دستاویز کس نے میڈیا کو جاری کیا.

    واضح رہے کہ عمران خان کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے نام خط لکھا گیا تھا،خط میں پی ٹی آئی کی سیاسی تشہیر،اغوا اور گمشدگیوں کےخلاف نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے،خط میں چیف جسٹس سے وفاق وصوبائی حکومتوں کو لیول پلئنگ فیلڈ دینے کیلئے ہدایات جاری کرنے کی استدعا بھی کی گئی،خط میں چیف جسٹس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا گیا، خط میں کہا گیا کہ تحریک انصاف سے وابستہ افراد کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،تحریک انصاف سے وابستہ رہنماؤں کو جبری گمشدہ کیا جارہا ہے،بڑی تعداد میں لوگوں کی سیاسی وفاداریاں زبردستی تبدیل کروائی جارہی ہیں،ضمانت ہونے کے باوجود سیاستدانوں کی گرفتاریاں روکی جائیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کردیا،خط میں کہا گیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت الیکشن کمیشن کو حکم دیا جائے کہ پی ٹی آئی امیدواروں کو الیکشن مہم کی اجازت دیں،پیمرا کو حکم دیا جائے کہ دیگر جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی کو بھی میڈیا کوریج فراہم کی جائے، سینئیر وکیل اعتزاز احسن نے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں سے متعلق پٹیشن دائر کی،اس خط کو آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت پٹیشن کے طور پر لیا جائے،

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    قانونی جنگ جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی کے نام خط

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

  • عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں آنے والے صحافیوں نے میڈیا نمائندگان کی زبردست انداز میں آواز بلند کی ،

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان پر جو دفعات لگائی گئی ہیں اس میں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے ، جب بھی ڈونلڈ لو کا نام لیا جاتا ہے تو سب پر خوف طاری ہو جاتا ہے ، ڈونلڈ لو نے جنرل باجوہ کو پیغام بھجوایا تھا وہ پیغام وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے تھا ،اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ملکی سازش میں ڈونلڈ لو کا نام تھا وہ نوکری سے فارغ ہو جائے گا ،ہم امریکہ جا کر ڈونلڈ لو پر کیس چلائیں گے، جنرل باجوہ بتائیں وہ کہاں ہیں اب ، عمران خان نے لندن ایگریمنٹ تھا کہ عمران خان کو ہٹایا جائے ،ایگریمنٹ کے مطابق پی ٹی آئی کو کرش کیا جائے اور نواز شریف کے کیسسز ختم کیئے جائیں ،ہمارے لوگوں کو کسی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، سزائے موت کے کیس میں یہ مجرم نہیں، ان لوگوں کا جرم ڈونلڈ لو کا پیغام عوام کو بتانا ہے،ڈونلڈ لو کا نام لیتے ہوئے چینل گھبراتے ہیں،ڈونلڈ لو نوکری سے برطرف ہو سکتا ہے، ہمیں یہاں انصاف نہ ملا تو ہم باہر جا کر کیس کریں گے،امریکہ میں مقدمہ کریں گے کہ اسکو بچانے کے لئے ادھر سزائیں دی جا رہی ہیں،

    سائفر کیس کے حوالے سے تمام حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیے،زین قریشی
    دوسری جانب شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ آج کی سماعت کا اوپن ٹرائل کیا جائے ،سیکورٹی خدشات کو بہانہ بنا کر شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش نہیں کیا گیا ، آج کی سماعت تاخیر سے شروع ہوئی، پبلک اور میڈیا آج کی سماعت میں موجود نہیں تھے ، انٹرنیشنل میڈیا اور پاکستان کا سارا میڈیا موجود تھا کسی کو اجازت نہیں دی گئی ،کمرہ عدالت میں 200 سے 250 افراد بیٹھ سکتے ہیں ، ہمارے شور کرنے پر 4 سے 5 افراد کو بیٹھایا گیا،وہ بظاہر پبلک کے لوگ نہیں تھے ،آج کی سماعت میں اوپن ٹرائل کا تقاضا پورا نہیں کیا گیا، ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ سماعت پر میڈیا اور پبلک کے لوگ موجود ہوں گے ،پاکستان کے سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خارجہ کو ٹرائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، سائفر کیس کے حوالے سے تمام حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیں ، انٹرا پارٹی الیکشن میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا یہ کسی اور جماعت میں نہیں ہوا،ہم الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی عزت کرتے ہیں اور ہمیشہ کی ہے ، انٹرا پارٹی الیکشن پر سوالیہ نشان ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ، الیکشن کمیشن میں فیصلہ محفوظ ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارا انتخابی نشان بلا آلاٹ کیا جائے،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • انٹرا پارٹی الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے،یہ جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے، اکبر ایس بابر

    انٹرا پارٹی الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے،یہ جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے، اکبر ایس بابر

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کے حوالہ سے سیاسی جماعتوں کا ردعمل سامنے آیا ہے

    بانی رہنما پی ٹی آئی اکبر ایس بابر نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں ،میں نے گزشتہ روز اپنے تحفظات کااظہار کیاتھا، میرے گزشتہ روز کےتحفظات سچ ثابت ہوئے ہیں،کیسے الیکشن ہوئے ،کیسے نتائج آئے ہیں سب کے سامنے ہیں،ہم نے گزشتہ روز ووٹر لسٹ مانگی تھی جونہیں دی گئی ، تیار شدہ نتائج کا اعلان کرکے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ،انٹرا پارٹی الیکشن کا جو بھی حصہ تھا اس نے خود کو بے نقاب کیا،انٹراپارٹی الیکشن کہاں ہوئے ،مقام بھی چھپایا گیا ،ہم انٹرا پارٹی الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے ،انٹراپارٹی الیکشن جمہوریت کے ساتھ مذاق ہے ،پی ٹی آئی شفاف ادارہ بننے تک ہماری جنگ جاری رہے گی ،

    آر۔ٹی۔ایس‘ بٹھا کر اقتدار میں آنے والوں کی عادت نہیں بدلی،مریم اورنگزیب
    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے چئیرمین پی ٹی آئی کا انتخاب ”سلیکشن“ قرار دے دیا،مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں ایک بار پھر سلیکشن کا عمل صرف پندرہ منٹ میں مکمل ہوگیا، پریس ریلیز ڈیڑھ گھنٹے تک روک کر عوام، الیکشن کمشن اور اپنے پارٹی ورکرز کی آنکھوں میں ”مٹی ڈالنے“ کی کوشش کی گئی، نامعلوم اور خفیہ مقام پر یہ کیسا الیکشن تھا جس کا نہ کوئی تجویز کنندہ تھا نہ تائید کنندہ، نہ ووٹرز تھے نہ ووٹر لسٹ، نہ پرائیذائیڈنگ افسر تھا نہ الیکشن پراسیس؟ بانی راہنماﺅں اور کارکنوں کے خوف سے انہیں الیکشن پراسیس سے ہی باہر کردیاگیا،اسے کہتے ہیں ”دھاندلا“، اسے کہتے ہیں ”آمریت“، اسے کہتے ہیں ”سلیکشن“ یہ جمہوریت ، الیکشن کمیشن اور پارٹی ورکرز سے سنگین مذاق اور انتخابی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، پارٹی میں بانی راہنماﺅں اور کارکنوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہ دینے والے ملک میں لیول پلئینگ فیلڈ کے مطالبوں کے ڈرامے کررہے ہیں، ’آر۔ٹی۔ایس‘ بٹھا کر اقتدار میں آنے والوں کی عادت نہیں بدلی،اب الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کو دھمکیاں اور گالیاں دیں گے، الزام لگائیں گے، روئیں گئے، پیٹیں گے، مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اپنے پارٹی ورکرز کا سامنا کرنے کی بھی ہمت نہیں، عوام کا سامنا کیسے کریں گے ؟ جو کچھ ہوا ، جو کچھ ہورہا ہے اور جو کچھ ہوگا، اس سب کا ذمہ دار 9 مئی کا منصوبہ ساز خود ہے،

    ن لیگی رہنما طلال چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی،یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہوئی ہے،الیکشن پراسیس پر عمل نہیں کیا گیا ،

    کیسا الیکشن جس میں ووٹر ہے نہ ریکارڈ ،انٹرا پارٹی الیکشن فراڈ ہے،پرویز خٹک
    تحریک انصاف کے سابق رہنما ،سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا ایک انتخاب 2012کا تھا جو صحیح ہوا، یہ کیسا الیکشن ہے جس میں ووٹر ہے نہ ریکارڈ اور نہ کسی کو موقع دیا گیا ،انٹرا پارٹی الیکشن فراڈ ہے جو آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کیا گیا ،بیرسٹر گوہر خان کو ہم نے ڈیڑھ سال پہلے پارٹی میں شامل کرایا،پہلے بھی اسی طرح جعلی الیکشن کرائے گئے ہیں ،کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ پی ٹی آئی کے لوگ کہاں گئے،

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن بوگس او ر پری پلان ریگنگ ہے،مرتضی جاوید عباسی
    مسلم لیگ ن کے پی کے، کے سیکرٹری جنرل مرتضی جاوید عباسی نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن پر ردعمل میں کہا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن بوگس او ر پری پلان ریگنگ ہے، ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن کی آنکھوں میں دھول جھونکا گیا ،
    کسی امیدوار کو کاغذات نامزدگی جاری کیے گئے اور نہ ہی جمع کیے گئے، پھر نتائج کیسے آگئے؟ پچھلے 22 سالوں کی طرح یہ بھی عمران خان کا ایک ٹوپی ڈرامہ تھا، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن بھی فارن فنڈنگ کیس کا تسلسل ہے،الیکشن کمیشن اس جعلسازی کافوری نوٹس لے اور لوٹے کو فارغ کرے،

    واضح رہےکہ ،بیرسٹر گوہر علی خان بلامقابلہ تحریک انصاف کے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن میں ایک پینل سامنے آیا ، قواعد کے مطابق اعلان کر رہے ہیں، قانون کی بالا دستی اور پاسداری پر ملک قائم ہوگا ،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کا بلے کا نشان برقرار رکھتے ہوئے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے رکھا ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف 20 دن میں انٹرا پارٹی الیکشن یقینی بنائے،الیکشن کے 7 دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے، اگر پارٹی الیکشن نہ کرائے گئے تو تحریک انصاف انتخابی نشان کے لیے نااہل ہو گی.

  • سائفر کیس،سماعت ملتوی،میڈیا کو کمرہ عدالت تک جانے کی اجازت نہ ملی

    سائفر کیس،سماعت ملتوی،میڈیا کو کمرہ عدالت تک جانے کی اجازت نہ ملی

    راولپنڈی سائفر کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی
    جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، چیئرمین پی ٹی آئی کی بہن علیمہ ، اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں موجود ہیں، صحافیوں کو سماعت سننے کی اجازت مل گئی ہے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں.میڈیا کو جیل میں داخل ہونے اور سائفر کیس کے ٹرائل کی کوریج کی اجازت مل گئی، اسپشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی بھی عدالت میں موجود ہیں،پراسیکیوٹر شاہ خاور اور ذوالفقار عباس نقوی ایڈووکیٹ بھی عدالت میں موجود ہیں،شاہ محمود قریشی کی فیملی میں عدالت میں موجود ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ اور عمیر نیازی بھی عدالت میں موجود ہیں،

    سائفر کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی، پراسیکیوٹر رضوان عباسی اور ذوالفقار عباس نقوی اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئے،سائفر کیس میں آج صرف ملزمان کی حاضری لگائی گئی، میڈیا کو اندر جیل میں بلایا گیا تاہم کمرہ عدالت تک نہیں جانے دیا گیا، عدالتی حکم کے باوجود میڈیا نمائندوں کو سماعت کی کارروائی دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی

    سائفر کیس،عدالت صدر مملکت کو طلب کرے،شاہ محمود قریشی کی استدعا
    سماعت کے دوران شاہ محمود قریشی نے عدالت میں دو گزارشات کیں اور کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا ٹرائل آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 یا 2023 کس قانون کے تحت کیا جا رہا ہے،ہمیں کبھی بھی سیکورٹی خدشات نہیں رہے،اکیلا گاڑی میں آتا جاتا رہا،ہمارے پروڈکشن آرڈر پر جیل انتظامیہ نے حکم عدولی کی،ہماری ضمانت پر انتطامیہ نے ریکارڈ پیش نہ کیا،ہمیں اس کیس میں ٹرائل کرنے کی کوشش جاری ہے جسکا نہ سر ہے نہ پاؤں،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے ترمیمی قانون سے صدر پاکستان بھی انکاری ہے،میری گذارش ہے کہ صدر پاکستان کو عدالت طلب کیا جائے،وہ عدالت میں حلف دے کر بتائیں انہوں نے یہ ترمیم منظور کی یا نہیں،میرے پاس جہانگیر ترین جیسے لوگ نہیں کہ بڑے وکیل کی خدمات حاصل کر سکیں،چیئرمین مشہور شخص ہیں بڑے نامور وکلاء انکے کیس کی پیروی کرنے کو تیار ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ بات سن لیں آپ کا اعتراض ختم ہو گیا میڈیا اور پبلک آج موجود ہے ۔انتظار پنجوتھہ نے اعتراض کیا تو عدالت نے روک دیا،عدالت نے کہا کہ آپ کو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عدالت پیش نہیں کیا گیا، آپ اور چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل الگ نہیں ہو سکتا یہ کیس انٹر لنک ہے۔ آپ پر عارف علوی والے ترمیمی قانون کی کوئی شق لاگو نہیں ہو گی ۔ آپ کا ٹرائل آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شک نو اور پانچ کے تحت ہو گا ۔ہم میرٹ پر کاروائی کرینگے ۔

    ہمیں بکریوں کی طرح بند کر کے نواز شریف کو لے آئے، عمران خان
    تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان نے کہا کہ میں نے بطور وزیراعظم اس معاملے کی انکوائری کا آرڈر کیا ۔ اس میں جو لوگ ملوث ہیں وہ طاقتور ہیں انہیں بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اللہ کے سوا مجھے کسی کا ڈر نہیں ۔
    ہمیں بکریوں کی طرح بند کر دیا گیا نواز شریف کو وہاں سے یہاں لے آئے ۔

    سماعت کے بعد بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ آج کی سماعت میں حاضری لگائی گئی،صرف 3 میڈیا نمائندگان کو بلایا گیا،ہم نے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کو کہا کہ یہ کیسا اوپن ٹرائل ہے جس میں کسی کو نہیں بلایا گیا ، پی ٹی آئی چیرمین نے بھی کہا کہ کیس کا اوپن ٹرائل کیا جانا چاہیئے، کورٹ اپنا تعین کرئے گی کہ آئندہ سماعت پر کیا کرنا ہے،

    آج کی سماعت کے دوران عدالت میں بیٹھے افراد کو کبھی نہیں دیکھا،وکیل عمران خان
    عمران خان کے وکیل انتظار پنجوتھا نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کی سماعت میں ہائی کورٹ کے آرڈر کی خلاف ورزی کی گئی سابق وزیرِ اعظم کے وکلاء کو اندر تک رسائی نہیں تھی اور پبلک کے نام پر مخصوص لوگوں کو لایا گیا، آج کی سماعت کے دوران عدالت میں بیٹھے افراد کو کبھی نہیں دیکھا میڈیا نمائندگان نے عدالت میں کہا کہ ہم سارے میڈیا کی نمائندگی نہیں کرتے اور جب میڈیا کے لوگوں کو اندر بلایا گیا تب تک آج کی سماعت ہو چکی تھی، اوپن ٹرائل سے متعلق سابق وزیرِ اعظم نے اپنا مؤقف دیا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں کسی کا خوف نہیں، ہم بالکل بے گناہ ہیں

    گزشتہ روز ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا عندیہ دیا تھا,جج آفیشیل سیکرٹ ایکٹ عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کا ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دے چکی ہے،

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس، عدالت کا چار ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا عندیہ

    سائفر کیس، عدالت کا چار ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا عندیہ

    سائفر کیس میں بڑی پیش رفت ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا عندیہ دے دیا

    جج آفیشیل سیکرٹ ایکٹ عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کا ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دے چکی ہے،سائفر کیس کی مزید سماعت دو دسمبر کو صبح نو بجے جیل میں ہوگی،چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کیخلاف کیس کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا، عدالت نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، گزشتہ سماعت پر عدالت نے آئی جی اور احساس اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں جیل ٹرائل کا حکم دیا تھا، چیف کمشنر اسلام آباد اور سپرٹینڈنٹ جیل کو قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی تھی ، وزارت قانون نے 29 نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جیل سپرٹنڈنٹ کا 30 نومبر کو خط عدالت کو موصول ہوا، اب 28 نومبر کے حکم کے مطابق سائفر کیس میں جیل ٹرائل ہوگا، چیئرمین پی ٹی آئی کی عدالت پیشی کے لیے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر دیئے گئے

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • القادر ٹرسٹ کیس،عمران خان،بشری،فرح گوگی،ملک ریاض و دیگر کیخلاف نیب ریفرنس دائر

    القادر ٹرسٹ کیس،عمران خان،بشری،فرح گوگی،ملک ریاض و دیگر کیخلاف نیب ریفرنس دائر

    عمران خان، شہزاد اکبر،زلفی بخاری، فرح گوگی و دیگر کے وارنٹ جاری

    نیب نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے،نیب نے شہزاد اکبر،ضیا المصطفی،زلفی بخاری،فرح گوگی کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے،ملزمان پر کرپشن، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے،نیب نے ملزمان کو کرپشن، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر وارنٹ گرفتاری کیے،نیب نے آئی پنجاب کو ملزمان کی گرفتاری کی تعمیل کیلئے ہدایت کر دی، نیب نے کہا کہ ملزمان کو گرفتار کر کے متعلقہ عدالت پیش کیا جائے،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی مشکلات میں مزید اضافہ، 190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کردیا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا،احتساب عدالت رجسٹرار آفس نے ریفرنس کی جانچ پڑتال شروع کردی

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔

    2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • بشریٰ بی بی،خاورمانیکا،طلاق کا ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست مسترد

    بشریٰ بی بی،خاورمانیکا،طلاق کا ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ : سابق خاتون اول بشری بی بی اور خاور مانیکا کی طلاق کا معاملہ،بشری بی بی اور خاور مانیکا کی طلاق کا ریکارڈ طلب کرنے کیلیے درخواست پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی، عدالت نے کہا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے ،صرف متاثرہ فریق ہی عدالت آسکتا ہے ،عدالت نے دوران سماعت درخواست گزار کو غیر متعلقہ گفتگو کرنے سے روک دیا ،عدالت نے کہا کہ آپ متاثرہ فریق نہیں ہیں ،آفاق احمد نے کہا کہ اگر حکومت ایکشن نہیں لیتی تو شہری عدالت آ سکتا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کس طرح متاثرہ فریق ہیں، آفاق ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ مفاد عامہ کی درخواست ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے کس قانون کے تحت درخواست دائر کی ۔یہ فریقیں کے درمیان گھریلو جھگڑا ہے ،عدالت سوشل میڈیا کی خبروں پر انحصار نہیں کر سکتی، آپکو کس چیز کی ٹینشن ہے جو یہاں آ گئے،درخواست گزار نے کہا کہ یہاں اس طرح کے معاملات پر کوئی ٹینشن نہیں لیتا ،عدالت نے کہا کہ یہ مفاد عامہ کی درخواست نہیں بنتی،آپ بھی اسطرح کی شادی کر لیں، درخواست گزار نے کہا کہ شرعی عدت ا ور لیگل عدت میں فرق ہوتا ہے ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خبریں غور سے نہیں پڑھتے ،

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب غلام سرور نہنگ عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس علی باقر نجفی نے آفاق ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی،درخواست میں چیئرمین پی ٹی آئی، بشری بی بی، خاور مانیکا کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں حکومت پنجاب، الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قانون کے مطابق طلاق یونین کونسل میں رجسٹرڈ ہونے کے بعد موثر ہوتی ہے،طلاق کی دستاویزات متعلقہ یو سی جمع ہونے کے بعد عدت کا دورانیہ شروع ہوتا ہے ،خاور مانیکا اور بشری بی بی کی طلاق میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، خاور مانیکا نے ٹی وی پروگرام میں عدت پوری نہ ہونے کا انکشاف کیا ،عدالت خاور مانیکا کو وضاحت کیلئے طلب کرے ،عدالت حکومت پنجاب سے یونین کونسل کا ریکارڈ طلب کرے،

    پی ٹی آئی میں بشریٰ بی بی کی ڈکٹیٹر شپ،تحریک انصاف کا سیاسی کلچر تباہ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

  • سائفر کیس، انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا، جج

    سائفر کیس، انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا، جج

    افیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت،چئیرمین پی ٹی آئی اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کے خلاف کیس سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں کمرہ عدالت میں موجود تھیں،شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری عدالت پیش ہوئے،جج نے استفسار کیا کہ کیا اڈیالہ جیل میں ٹرائل کا کوئی نوٹیفکیشن آیا ہے؟ عدالتی عملہ نے کہا کہ ابھی تک جیل میں ٹرائل کا کوئی نوٹیفکیشن نہیں آیا ، جج نے کہا کہ جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن آجائے پھر دیکھ لیتے ہیں، وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی حد تک کوئی رپورٹ نہیں، انہیں تو پیش کریں، بیرسٹر تیمور ملک نے کہا کہ عدالتی حکم پر چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو آج عدالت پیش کرنا چاہیے تھا، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ آپ گزشتہ سماعت کا فیصلہ پڑھیں،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا سائفرکیس کی گزشتہ سماعت کا آرڈر پڑھا گیا، عدالت نے کہا کہ جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن آجائے تو ہم دیکھ لیتے ہیں، جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن نہیں آیا تو ہم پروڈکشن آرڈر کروایں گے، وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت کا 23 نومبر کو چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کی پروڈکشن کا آرڈر تھا، پھر خصوصی عدالت نے اپنے ہی آرڈر پر نظر ثانی کردی ، سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے گزشتہ سماعت پر عدالت کو خط بھیجاتھا،آپ کا آرڈر جیل میں ٹرائل کے حوالے سے قانونی طور پر درست نہیں ہے، اڈیالہ جیل ممنوعہ علاقہ ہے جہاں ویڈیو اور فوٹوگرافی ممنوع ہے، یہ طے ہونا چاہیے کہ صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے استفسار کیا کہ کیا خطرات کے حوالے سے دیکھنا عدالت کا اختیار ہے ؟ وکیل صفائی نے کہا کہ اگر کوئی ایڈیشنل آئی جی کہہ دے تو ناکافی ہے، منسلک رپورٹس بھی ہونی چاہیے ،جج نے کہا کہ جیل سپرنٹینڈنٹ کے خط کے ساتھ سیکیورٹی رپورٹس بھی منسلک ہیں،وکیل صفائی نے کہا کہ جیل مینوئل میں لکھا ہے اڈیالہ جیل ممنوعہ جگہ ہے، موبائل استعمال نہیں ہوسکتا ،جج نے کہا کہ صحافیوں کی موجودگی جیل میں ٹرائل کے دوران ضروری ہوگی ،وکیل صفائی نے کہا کہ آپ کو جیل کو عدالت ڈیکلیئر کرنے کے ساتھ اس کو غیر ممنوعہ جگہ بھی ڈیکلیئر کرنا پڑے گا ، جج نے کہا کہ بالکل ہوگا اور صحافیوں کی موجودگی بھی جیل میں ٹرائل کے دوران ہوگی ، وکیل علی بخاری نے کہا کہ آپ کا آرڈر مکمل نہیں ہے کیونکہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے کچھ نہیں لکھا، اس آرڈر میں وجوہات کا ذکر موجود نہیں کہ آخر کیوں جیل میں سماعت ہورہی، وزارتِ قانون نے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، خصوصی عدالت ہائیکورٹ کے احکامات کی پابند ہے،شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے کی زمہ داری سیکیورٹی کی ہے،فردجرم، نقول کی تقسیم سب کچھ ملزم کی موجودگی میں ہونا چاہیے،سائفرکیس کی آج کی سماعت کا اختتام کیا ہوگا؟ کیا وزارتِ قانون کو ڈائریکشن عدالت دے سکتی؟ نہیں دے سکتی،شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے پر اب بھی سوالیہ نشان ہے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا،
    خصوصی عدالت جیل میں ٹرائل کرنے کی پابند تھی لیکن سماعت جیل سے مشروط ہے، میں وزارت قانون کے نوٹیفیکیشن کا انتظار کررہاہوں، اگر نوٹیفیکیشن نہ آیا تو میں ملزمان کو عدالت پیش کرنے کا نوٹس جاری کروں گا، وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت ہی ادھر لے جائیں،جج نے کہا کہ عدالت لے چلیں گے جیل میں فکر نہ کریں، ٹرائل پینڈنگ ہے، چیئرمین پی ٹی آئی اصل ملزم ہے، شاہ محمود قریشی شریک ملزم ہیں، عدالتی سماعت کی وجہ سے ہائیکورٹ نے اب تک کی سماعتیں غیرقانونی قرار نہیں دیں، اوپن کورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہائیکورٹ نے اب تک کے ٹرائل کو غیرقانونی قرار دیاتھا، وکیل صفائی نے کہا کہ خصوصی عدالت کے گزشتہ آرڈر کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو قید رکھنا غیرقانونی ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر زولفقار نقوی نے کہا کہ وزارتِ قانون کے نوٹیفیکیشن کا آج انتظار کرلیں،جج نے کہا کہ دھوپ سیکیں، نوٹیفیکیشن کا انتظار کریں،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت ،چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن آگیاہے، اس کیس کو کل کیلئے رکھ لیتے ہیں۔ وکلاء نے کہا کہ کل کیسے مینج ہوگا۔عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ احکامات بھی ہیں، کل حاضری لگا لیں گے۔علی بخاری ایڈووکیٹ کی استدعا پر عدالتی عملہ نے نوٹیفکیشن پڑھا، جج ابوالحسنات نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے بھی نوٹیفکیشن میں تحریر کیاگیاہے، درخواست نمٹادی ہے۔وکیل نے کہا کہ ابھی تو اس پر دلائل بھی نہیں ہوئے۔عدالت نے کہا کہ کل جیل میں دے دینا پھر۔ان کی پروڈکشن کا مسئلہ ہے، کل اگلی تاریخ دے دیں گے۔وکیل نے کہا کہ کچھ وکلاء لاہور سے آئے ہوئے، ہماری بھی دیگر کیسز میں تاریخیں ہوتی ہیں۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ آج کی کرلیں حاضری ہی لگانی ہے۔
    اسپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے آج ہی اڈیالہ جیل میں سماعت مقرر کرنے کی استدعا کردی،عدالت میں کہا کہ میں تو آج ہی اڈیالہ جیل میں سماعت مقرر کرنے کے حق میں ہوں،عدالت نے کہا کہ میں نے اطلاع دینی ہے دوسرے اقدامات ہونے ہیں آج ہی کیسے کریں۔نوٹیفکیشن کے بغیر بھی کیسے جاسکتا ہوں۔ وکلاء نے کہا کہ اگلے ہفتے کیلئے رکھ لیں۔وکیل علی بخاری نے کہا کہ کبھی نہیں کہتے تاخیر کریں، لمبی تاریخیں رکھیں۔ ہفتے کو ہائیکورٹ، سپریم کورٹ بند ہوتی ہیں، لیکن ٹرائل کورٹس میں ہمارے کیسز ہوتے ہیں، ہفتہ اور پیر کے روز ہمارے لیے اہم ہوتے ہیں، 5 دسمبر رکھ لیں۔
    پی ٹی آئی وکلاء کی جانب سے 5 دسمبر تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی، جج نے کہا کہ 5 دسمبر کو سماعت رکھ لیں گے لیکن حاضری کے حوالے سے تو سماعت رکھنی ہے نا، پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ آج چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری مقرر تھی، اس بات پر کیا کہیں گے؟ جج نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو اطلاع کرنی تھی اور وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کا انتظار تھا آج، پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ہم انتظار کرلیتےہیں، آپ آج ملزمان کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کروا دیں،اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کہا کہ چاہتےکیا ہیں؟ ڈیڑھ گھنٹے سے یہی باتیں کررہےہیں، وکیل علی بخاری نے کہا کہ کوئی اسٹے نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے، اسلام ہائیکورٹ اور نہ آپ نے اپنا آرڈر پر عملدرآمد کروایا، انٹراکورٹ اپیل پر حکم کے خلاف سپریم کورٹ جانا پڑتا ہے۔سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی گئی.

    چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے جیل ٹرائل کے حکم نامے کیخلاف درخواست دائر
    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے جیل ٹرائل کے حکم نامے کیخلاف درخواست دائر کر دی گئی،خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت میں درخواست دائر کردی گئی،درخواست میں کہا گیا کہ اس عدالت نے 23 نومبر 2023 کو حکم دیا کہ 28 نومبر کو ملزمان کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کیا جائے، عدالت نے 28 نومبر کو جیل ٹرائل کا حکم دے دیا، 23 نومبر کے حکم نامے کی موجودگی میں 28 نومبر کا حکم نامہ غیر قانونی ہے، عدالت 23 نومبر 2023 کے حکم نامے پر عملدرآمد کروائے، 21 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ٹرائل کو اوپن کورٹ نہ ہونے کے باعث کالعدم قرار دے دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں 23 نومبر کو خصوصی عدالت نے ملزمان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے،28 نومبر کو اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے خط کے ذریعے عدالت کو پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد سے روکا، خصوصی عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خط پر انحصار کرتے ہوئے ٹرائل جیل میں کرنے کے احکامات جاری کردیئے، خصوصی عدالت کا 28 نومبر کا جیل ٹرائل کا حکم نامہ 23 نومبر کے پروڈکشن آرڈر کے حکم نامے پر نظر ثانی ہے، اپنے احکامات پر نظر ثانی کرنا اس عدالت کا مینڈیٹ نہیں ہے،خصوصی عدالت نے جیل ٹرائل کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی ملحوظ خاطر نہ رکھا کہ اس سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوگی،خصوصی عدالت کا جیل ٹرائل کا حکم نامہ نہ صرف غیر قانونی بلکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے، جیل ایک ممنوعہ جگہ ہے جہاں فوٹوگرافی، بغیر اجازت داخلہ منع ہے، ایک ہائی سکیورٹی جیل کو اوپن عدالت اور عوام کی رسائی میں قرار دینا سمجھ سے بالا تر ہے،

  • القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء انتظار حسین پنجوتھا اورشہباز کھوسہ نے کہا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی پربے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں،القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ذاتی فائدہ نہیں لیا،القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری بیگم کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،ہائرنگ فائرنگ میں چیئرمین پی ٹی آئی کا کوئی کردار نہیں،القادر ٹرسٹ کو شوکت خانم کی طرح آزاد بورڈ چلا رہا ہے،یہ کیس چیئرمین پی ٹی آئی کی کریڈیبلٹی کو خراب کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر ٹرسٹ ڈیڈ پبلک کرنے جارہے ہیں،یہ ادارے عام عوام کے لیے ہیں انکو نقصان پہنچا کر عوام کا نقصان کیا جارہا ہے،

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اپنے دیگر وکلاء ساتھیوں نعیم حیدر پنجوتھا اور علی اعجاز بھٹرکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انتظار حسین پنجوتھا اورشہباز کھوسہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار ہیں آج ہم نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری دائر کی ہے،چیئرمین پی ٹی ٹی کے اوپر القادر ٹرسٹ کیس میں بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں،میڈیا میں جو عدالتی کاروائی رپورٹ ہوتی ہے وہ عدالتی کارروائی کے برعکس ہوتی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر ٹرسٹ ڈیڈ پبلک کرنے جارہے ہیں،عمران خان کی زندگی کھلی کتاب کی طرح ہے،القادر ٹرسٹ کیس میں زمین سے متعلق گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ شاید عمران خان نے اپنے زاتی استعمال کے لیے وہ زمین لی ،القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ذاتی فائدہ نہیں لیا،القادر ٹرسٹ کو شوکت خانم کی طرح آزاد بورڈ چلا رہا ہے،اس ٹرسٹ کو بنانے کا مقصد ایک اسلامی یونیورسٹی کی بنیاد رکھنا ہے اورملک میں تعلیم کے فروغ کے لیے سکول اور کالج قائم کرنا شامل ہے،اگر اس یونیورسٹی کی کسی وجہ سے تکمیل نہیں ہوتی تو بھی یہ زمین صرف ٹرسٹ کے مقاصد کے لیے ہی استعمال ہونا تھی،اس یونیورسٹی کے قیام کا مقصد صرف دینی اور سائنسی تعلیم فراہم کرنا ہوگا،عمران خان اور ان کی فیملی اس کو اپنے نام کر ٹرانسفر نہیں کرسکتے،القادر ٹرسٹ کا مقصد خیراتی ادارہ قائم کرنا تھا،

    وکلا کا کہنا تھا کہ پیسہ ملک ریاض کا تھا جو سپریم کورٹ میں آیا ،مشرق بینک کی سٹیٹمنٹ بھی اس معاملے میں سامنے آئےیہ ثابت کرنا ہے کہ عمران خان نے 190 ملین پائونڈ نہیں کھائے،یہ کیس عمران خان کی کریڈیبلٹی کو خراب کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، یہ ادارے عام عوام کے لیے ہیں ان اداروں کو نقصان پہنچا کر عوام کا نقصان کیا جارہا ہے،حسن نواز کی پراپرٹی جب بکی تو 50 ملین پاؤنڈ میں ملک ریاض نے خریدی، اس پراپرٹی کی اصل حقیقت 25 ملیں پاؤنڈ تھی،جب یہ پراپرٹی دگنی قیمت میں بکی تو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی حرکت میں آئی ملک ریاض کی ایک بہو کے اکاؤنٹ میں 190 ملین پاؤنڈ پڑے ہوئے تھےبرطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ان 190 ملین پائونڈ کو سیز کردیا ،ملک ریاض کی کمپنی کے ساتھ سپریم کورٹ کے ساتھ سیٹلمنٹ ہوئی،ملک ریاض کی کمپنی نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے طے کیا کہ یہ پیسہ ہم پاکستان کی سپریم کورٹ میں جمع کروائیں گے،اس تمام پراسیس سے پاکستان تحریک انصاف یا حکومت پاکستان کا کوئی تعلق نہیں تھا یہ رقم پہلے آئی اور اس پر کابینہ کی میٹنگ بعد میں ہوئی،جس میں فیصلہ ہوا کہ پیسہ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں، پیسے ڈائریکٹ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع ہوئے،سپریم کورٹ نے خود ہی یہ پیسے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ سے نکال کر حکومت کے حوالے کردئیے ہیں،ایک سیاسی لیڈر کو جیل میں رکھ کر انتخابات کروائے گئے تو کوئی انتخابی نتائج کو کوئی نہیں مانے گااس سے ملک میں مزید سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگا۔

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند