Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس: احتساب عدالت جیل میں کیسز کی سماعت کرے گی،وزارت قانون و انصاف

    توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس: احتساب عدالت جیل میں کیسز کی سماعت کرے گی،وزارت قانون و انصاف

    باغی ٹی وی: چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل کے حوالے سے وزارت قانون و انصاف نے کہا ہے کہ احتساب عدالت جیل میں کیسز کی سماعت کرے گی۔

    باغی ٹی وی: توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ، چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل سے متعلق وزارت قانون و انصاف نے نوٹیفکیشن جاری کردیا نوٹیفکیشن کے مطابق احتساب عدالت اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیسز کی سماعت کرے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ریمارکس دئیے کہ جیل حکام اور سیکیورٹی اداروں نے عمران خان کے حوالے سے خدشات کااظہار کیا ہے، اس لئے سائفر کیس کی آئندہ سماعت جیل میں ہی ہوگی، اوپن کورٹ ہوگی، اور میڈیا اور پبلک کو بھی شرکت کی اجازت ہوگی۔

    نیب پی ٹی آئی کے 2 رہنماؤں کیخلاف متحرک

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی جانب سے جاری ہونے والے تحریری حکمنامے میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمودقریشی غیرحاضررہے، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے سیکیورٹی رپورٹ پیش کی گئی، اور رپورٹ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو خطرہ ہے عدالت کی جانب سے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ کا بغور جائزہ لیا گیا، رپورٹ سے ظاہر ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے، عدالت سابق وزیراعظم کی جان کو لاحق خطرات کی تشخیص کو ہلکا نہیں لے سکتی۔

    قلات میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن،دو دہشتگرد ہلاک

    حکمنامے کے مطابق ماضی میں چیئرمین پی ٹی آئی کے کارکنان کا جوڈیشل کمپلیس پر دھاوا بولنے کا واقعہ بھی رونما ہو چکا، جوڈیشل کمپلیس میں سماعت چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے محفوظ ہے نہ ہی دیگر افراد کیلئے، ان وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت سائفر کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں کرنے کا حکم دیتی ہے چونکہ چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہورہا ہے، شاہ محمود قریشی کا ٹرائل بھی اڈیالہ جیل میں ہی ہوگا، چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل ایک اوپن ٹرائل ہوگا، ملزمان کے وکلا اور خاندان کے پانچ پانچ افراد کو ٹرائل کی کارروائی دیکھنے کی اجازت ہوگی، عام عوام اور سماعت سننے کے خواہشمد افراد کو کارروائی میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی، تاہم عوام کو جیل رولز اور مینول اور کمرہ عدالت میں گنجائش کی بنیاد پر ٹرائل میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔

    شہباز شریف رمضان شوگر ملز ریفرنس میں احتساب عدالت پیش

  • پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں عمران خان کوملنے گئیں تو آج بشریٰ بی بی کے حق میں نعرے لگانے والے سامنے آ گئے،نہ صرف بشریٰ بی بی کے حق میں نعرے لگائے گئے بلکہ مطالبہ کیا گیا کہ بشریٰ بی بی کو پارٹی چیئرمین بنایا جائے

    عمران خان اڈیالہ جیل میں سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، القادر ٹرسٹ میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں، ایسے میں بشریٰ بی بی عمران خان کو جیل میں ملنے جاتی ہیں،گزشتہ رو ز بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل گئیں تو انکے خلاف نعرے بازی کی گئی تاہم آ ج منگل کو بشری بی بی کی آمد پر ایسے نوجوان موجود تھے جنہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ ز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی بھی کر رہے تھے، مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ علیمہ خان کی جگہ بشریٰ بی بی کو پارٹی کا چیئرمین بنایا جائے، علیمہ خان کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ہے، شرکاء نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ان پر پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،حلیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور لکھے ہوئے تھے،

    الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو انٹر اپارٹی الیکشن کروانے کا حکم دے رکھا ہے، ایسے میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہے، پارٹی چیئرمین کون ہو گا؟ پی ٹی آئی لیگل ٹیم کا کہنا ہے کہ عمران خان ہی چیئرمین ہوں گے، تاہم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا ہو ئی، عمران خان ایسے میں قانونی طور پر پارٹی چیئرمین نہیں بن سکتے،کیونکہ نواز شریف کو سزا ہوئی تو انہیں بھی پارٹی سے ہاتھ دھونا پڑا تھا اور وہ پارٹی قائد بن گئے تھے، اب پی ٹی آئی میں پارٹی چیئرمین شپ پر جنگ شروع ہو گئی ہے، ایک طرف شیر افضل مروت متحرک ہیں ، بشریٰ بی بی کے خلاف احتجاج ہوتا ہے، چودھری سرور دوبارہ پی ٹی آئی میں شمولیت کی ناکام کوشش کرتے ہیں،علیمہ خان روز عدالت کے باہر یا جیل کے باہر جا کر میڈیاٹاک کرتی ہیں،جیل میں موجود شاہ محمود قریشی بھی پارٹی چیئرمین شپ کے خواہشمند ہیں تا ہم اب چیئرمین شپ کی لڑائی، یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا آنے والا وقت ہی بتائے گا،

    بریکنگ،عمران خان پارٹی چیئرمین کا الیکشن نہیں لڑیں گے، اعلان کر دیا گیا
    تحریک انصاف کے نائب صدر، اور عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ قانونی قدغن کی وجہ سے عمران خان چیئرمین پی ٹی آئی کا الیکشن نہیں لڑیں گے ،اتفاق رائے یہ یہ فیصلہ ہوا ہے کہ عدالت کی طرف سے نااہلی ختم ہونے پر دوبارہ چیئرمین منتخب ہونگے، شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ خان نے اِسوقت پاکستان میں حوصلے و ہمت کی نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ وہ جیل میں اپنا وقت اللّٰہ کی عبادت میں گُزار رہے ہیں۔ جب آپ اُنہیں دیکھیں گے تو اُنکے چہرے پر نظر آئیگا کہ اللّٰہ نے اُنہیں جیل میں ہی فاتح بنادیا ہے۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن جمعہ کو متوقع ہیں.

    ایک صارف سعید بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ غالباً کل فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی چار حصوں میں تقسیم ہونے جا رہی ہے اور اب یہ دیکھ کر وہ بات کچھ سچ ہوتی معلوم ہو رہی ہے کہ پی ٹی آئی کو تقسیم کرنے کے کام پر باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، بشریٰ بی بی کے حق میں اور علیمہ خان کے خلاف یہ نعرے بازی کروائی جا رہی ہے،فیصل واوڈا نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی چار حصوں میں تقسیم ہوگی جس میں ایک حصہ بشریٰ بی بی کے ساتھ، ایک علیمہ خان کے ساتھ، ایک شیر افضل مروت کے ساتھ اور ایک حصے کو آصف علی زرداری کی سپورٹ حاصل ہو گی، منصوبے پر برق رفتاری سے کام شروع کر دیا گیا ہے، مقصد پی ٹی آئی کو تقسیم کرنا اور ووٹرز کو بدظن کرنا ہے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے باہر شہریوں کی جانب سے پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف نعرے بازی کی گئی،عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل پہنچیں تو شہریوں نے پی ٹی آئی چیئرمین کی اہلیہ بشری بی بی کی گاڑی کو گھیر لیا ،شہریوں کی جانب سے بشری بی بی کی گاڑی کے آگے شدید نعرے بازی کی گئی، مظاہرین کا کہنا تھا کہ بشری بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کرنے پر فوری کاروائی کی جائے،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کی غیر شرعی نکاح کے خلاف کیس پر سماعت ہوئی

    غیر شرعی نکاح کیس کی سماعت سول جج قدرت اللہ نے کی،درخواست گزار خاور فرید مانیکا کی جانب سے وکیل راجہ رضوان عباسی عدالت پیش ہوئے،عدالتی حکم پر گواہان مفتی سعید، عون چوہدری اور محمد لطیف عدالت پیش ہوئے، عدالت نے گواہ مفتی سعید کا بیان قلمبند کرنا شروع کردیا، جج قدرت اللہ نے استفسار کیا کہ اردو میں بیان قلمبند کروائیں گے؟ مفتی سعید نے کہا کہ میں اردو میں ہی اپنا بیان عدالت میں قلمبند کرواؤں گا،میری عمر 62 سال ہے اور چھترپارک میں ندوت العلماء میں پڑھاتاہوں، سول جج قدرت اللہ نے کہا کہ بیان دینے سے پہلے حلف لینا پڑےگا، مفتی سعید نے بیان قلمبند کرنے سے قبل حلف اٹھایا،مفتی سعید نے حلف اٹھاتے ہوئے کہا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہے جو کچھ عدالت میں بیان دوں گا سچ کہوں گا جھوٹ نہیں کہوں گا

    مفتی سعید نے عدالت میں بیان ریکارڈ کرواتےہوئے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی سے اچھے تعلقات تھے، پی ٹی آئی کور کمیٹی کا ممبر بھی تھا،یکم جنوری 2018 کو چیئرمین پی ٹی آئی نے رابطہ کیا ، مفتی سعید صفحہ سے پڑھ کر بیان قلمبند کروا رہے،عدالت نے استفسار کیا کہ دیکھ کر پڑھنے والے جھوٹ بولتے ہیں آپ نے عہد لیا ہوا زبانی بتائیں ،مفتی سعید نے کہا کہ مجھے چیئرمین پی ٹی آئی نے لاہور بلایا اور کہا نکاح پڑھانا ہے، لاہور ایک گھر میں پہنچے جہاں ایک خاتون بشریٰ بی بی کی بہن ظاہر کررہی تھی، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ شرعی تقاضے پورے ہیں ، اس یقین دہانی کی بعد نکاح پڑھایا ، نکاح کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی بنی گالا رہنے لگے ، نکاح میں شریک لوگوں میں سے دوبارہ فروری میں رابطہ کیا ،سول جج قدرت اللہ نے مفتی سعید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کتنے نکاح اپ پڑھوا چکے ہیں؟مفتی سعید نے عدالت میں کہا کہ بےشمار نکاح پڑھائے، دوستوں کے بھی پڑھا دیتاہوں، جج قدرت اللہ نے کہا کہ اگر رضوان عباسی دوسری شادی کریں تو نکاح پڑھائیں گے؟جج قدرت اللہ کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، سول جج قدرت اللہ نے مفتی سعید سے استفسار کیا کہ عدت کے حوالے سے آپ نے بشریٰ بی بی سے خود کیوں نہیں پوچھا؟ مفتی سعید نے کہا کہ ہمارے ہاں خاتون سے ایسا کچھ پوچھا نہیں جاتا،بشریٰ بی بی، چیئرمین پی ٹی آئی کا نکاح میں نے پڑھا دیاتھا،فروری 2018 میں مجھ سے دوبارہ رابطہ کیا گیا،مجھے بتایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کا نکاح دوران عدت ہوا،عدالت نے استفسار کیا کہ کس نے رابطہ کیا دوبارہ نکاحِ پڑھانے کے حوالے سے؟ مفتی سعید نے کہا کہ مجھے یاد نہیں مجھ سے کس سے نکاح کے حوالے سے دوبارہ رابطہ کیاتھا،بشریٰ بی بی نے کہا خاورمانیکا سے میری طلاق ہو چکی ہے،بشریٰ بی بی کی سہیلیوں نے بھی بتایا کہ خاورمانیکا سے طلاق ہوچکی ہے،نومبر 2017 میں بشریٰ بی بی کو طلاق دی گئی تھی،مجھے بتایاگیاکہ جنوری 2018 کے پہلے دن نکاح ہوگیا تو چیئرمین پی ٹی آئی بڑے عہدے پر فائز ہو جائیں گے، مجھے بشریٰ بی بی کی کہی ہوئی بات چیئرمین پی ٹی آئی نے خود بتائی،میرے نزدیک یکم جنوری 2018 والا نکاح غیرشرعی اور نکاح کی تقریب غیرقانونی تھی،چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کرغیرشرعی نکاح پڑھوایا،چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کو معلوم تھا کہ شرعی نکاح کے لوازمات پورے نہ تھے،

    سول جج قدرت اللہ نے مفتی سعید سے استفسار کیا کہ مجھے بتائیں عدت کی کیا اہمیت ہے اسلام میں ؟ مفتی سعید نے کہا کہ عدت عورت کو شوہرکے گھر پر گزارنی چاہیے تاکہ شوہر کو دوبارہ رجوع کرنے کا موقع مل جائے،عدت پوری کرنے کا مقصد دوران عدت اگر خاتون حاملہ ہو تو معلوم ہو جائے،سول جج قدرت اللہ نے استفسار کیا کہ اگر تین طلاق ہوں ہو تو شوہر کو رجوع کرنے کا موقع مل جائے؟ ایسا ہی ہے؟ مفتی سعید نے کہا کہ اگر شوہر طلاق کے بعد خاتون سے رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرسکتا ہے،اہل تشیع میں رجوع کی بات ہے ہی نہیں، زبانی طلاق بھی نہیں ہوتی،سول جج قدرت اللہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے دونوں نکاح آپ نے بڑھائے تھے؟ مفتی سعید نے کہا کہ میں نے چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے دونوں نکاح پڑھائے ہیں،عدالت نے کہا کہ اگر جھوٹی گواہی عدالت میں دی جائےتو اس کی کیا دین میں حیثیت ہے؟مفتی سعید نے کہا کہ طلاق ثالثہ نہ لکھیں، طلاق ثالث لکھیں ورنہ لوگ ہنسیں گے،عدالت نے کہا کہ لوگ تو اور بھی بہت سی باتوں پر ہنس رہے ہیں، مفتی سعید کا مکمل بیان عدالت میں قلمبند ہوگیا

    بشریٰ بی بی کے کہنے پر عمران خان نے ریحام خان کو طلاق دی تھی،عون چودھری
    عون چوہدری کمرہ عدالت میں پہنچ گئے،عون چوہدری کا بیان عدالت میں قلمبند ہونا شروع ہو گیا.عون چودھری نے کہا کہ میں 45 سال کا ہوں، قوم گجر ہے، استحکام پاکستان پارٹی کا سیکرٹری ہوں،میں چیئرمین پی ٹی آئی کا سیاسی اور پرائیویٹ سیکرٹری تھا،میں چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ نہایت قریب تھا،میں چیئرمین پی ٹی آئی کی آنکھیں اور کان تھا،میں چیئرمین پی ٹی آئی کے سیاسی اور زاتی معاملات بھی دیکھتاتھا،میں چیئرمین پی ٹی آئی کی فیملی کے معاملات بھی دیکھتاتھا،نومبر 2015 میں ریحام خان کے ساتھ چیئرمین پی ٹی آئی کی طلاق ہوئی،ریحام خان کو طلاق دینے کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی سے تجویز لی،بشریٰ بی بی کے کہنے پر چیئرمین پی ٹی آئی نے ریحام خان کو طلاق دی،چیئرمین پی ٹی آئی نے ریحام خان کو بذریعہ ای میل طلاق دی،ریحام خان بیرون ملک تھیں جب چیئرمین پی ٹی آئی نے طلاق دی،چیئرمین پی ٹی آئی کافی پریشان ان دنوں دکھائی دےرہےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی اپنے ازدواجی تعلقات کے حوالے سے پریشان رہتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی اکثر کہتےتھے کہ بشریٰ بی بی کے پاس لے جاؤ تاکہ روحانی سکون حاصل ہو،میں بھی بشریٰ بی بی کے پاس لے کر جاتاتھا، چیئرمین پی ٹی آئی خود بھی جاتےتھے،31 دسمبر 2017 کو چیئرمین پی ٹی آئی نے مجھےکہا بشریٰ بی بی کو لاہور لے کر جاناہے،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا بشریٰ بی بی کے ساتھ نکاح کے انتظامات کرو،میں حیران ہوگیا کیونکہ بشریٰ بی بی تو پہلے سے شادی شدہ ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا بشریٰ بی بی کو طلاق ہو چکی،یکم جنوری 2018 کو میں، زلفی بخاری لاہور گئے،مفتی سعید نے ڈیفینس لاہور میں بشریٰ بی بی کا نکاح چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ پڑھایا،میں چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے نکاح کا گواہ ہوں،میرے سامنے مفتی سعید نے بشریٰ بی بی سے ہوچھا تو بشریٰ نے بتایا مجھے طلاق ہو چکی،بشریٰ بی بی نے کہا شرعی لوازمات پورے ہیں، نکاح پڑھا دیاجائے،میڈیا پر آگیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے شادی ہو چکی،میڈیا پر معلوم ہوا کہ دوران عدت نکاح ہوا، ہم نے خاموشی اختیار کی،چیئرمین پی ٹی آئی ، بشریٰ بی بی کا فروری میں دوبارہ نکاح پڑھایا گیا،میڈیا پر شور مچا کہ دوران عدت چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کا نکاح ہوا،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا خاموشی اختیار کریں، عدت پوری ہونے کے بعد دوبارہ نکاح کرلیں گے،بشریٰ بی بی نے مجھے بتایا عدت 14 سے 18 فروری کے درمیان پوری ہورہاتھی،دوسرا نکاح بنی گالا میں فروری 2018 میں زبانی پڑھایاگیا، میں موجود تھا،چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے نکاح کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے،میں اور زلفی بخاری دونوں دوسرے نکاح کے گواہ تھے،چیئرمین پی ٹی آئی بشریٰ سے شادی کرنا چاہتےتھے،چیئرمین پی ٹی آئی نے مجھے کہا بشریٰ سے نکاح ہوا تو وزیراعظم بن جاؤں گا،پہلا نکاح دوران عدت جان بوجھ کر چیئرمین پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی نے کیا،چیئرمین پی ٹی آئی ، بشریٰ بی بی کا پہلا نکاح پیشگوئی کے زیر اثر تھا،بشریٰ بی بی ، چیئرمین پی ٹی آئی کا پہلا نکاح غیرشرعی، غیرقانونی اور فراڈ پر مبنی تھا، عون چوہدری نے اپنا بیان عدالت میں قلمبند کروادیا

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

  • وزیراعظم کو سیکورٹی مل سکتی تو عمران خان کو کیوں نہیں؟ علیمہ خان

    وزیراعظم کو سیکورٹی مل سکتی تو عمران خان کو کیوں نہیں؟ علیمہ خان

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ ہمیں نہایت افسوس ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش نہیں کیا گیا،

    عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور صدر سڑکوں پر پھرتے ہیں ان کو سیکیورٹی مل سکتی ہے تو عمران خان کو کیوں نہیں، اگر یہی طریقہ رہا تو یہی لگتا ہے کہ عمران خان کو جیل سے سے باہر نہیں نکلنے دیا جائے گا،یہ صرف بہانے بنائے جا رہے ہیں جیل میں رکھنے کے لئے، جج صاحب نے فیصلہ دیا ہے کہ اب اوپن کورٹ میں سماعت ہوگی،کم از کم 200 لوگ وہاں آسکتے ہیں، اگلی سماعت پر امید ہے میڈیا بھی وہاں پر موجود ہوگا، آپ سب ٹرائل کے وقت اڈیالہ جیل ہوں گے تو ہمارے لئے بڑی تسلی کی بات ہو گی،

    مہر بانو قریشی کا کہنا تھا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو روٹ لگا کر جوڈیشل کمپلیکس کیوں نہیں لایا جا سکتا، کس بات سے ڈرتے ہیں کہ لوگ ان کا چہرہ دیکھ لیں گے، ان میں ہمت آجائے گی، وہ سوال پوچھیں گے، کیس تو وہی ہو جیل میں ہو یا اس عدالت میں، لوگ چہرہ دیکھ لیں گے تو کیا ہو جائے گا، سوال تو ہم ابھی بھی پوچھ رہے ہیں،

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ میں الیکشن میں حصہ نہیں لے رہی

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کو سزائے موت سنائی گئی،ہم نہیں بیٹھیں گے

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان بالکل اچھی صحت میں ہیں.

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ حفیظ اللہ نیازی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے

  • سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نےعدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج سائفر کیس کی سماعت ہونے جا رہی تھی ،سپیشل کورٹ کا عمران خان کی پیشی کا حکم تھا،

    وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی پروڈکشن آرڈر تھے،آج دونوں کو پیش نہیں کیا گیا، جیل سپرنٹنڈنٹ نے جج صاحب کو آج کمیونیکیشن بھیجی، کہا گیا کہ سیکورٹی ایجنسی کی طرف سے انفارمیشن موصول ہوئی، یہ سماعت شروع دن سے ہی اوپن کورٹ ہونی چاہیے تھی، آج مایوسی ہوئی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہاتھ کھڑے کر دئیے، اسلام آباد کی پولیس نے چئیرمین پی ٹی آئی کی پیشی کے حوالے سے اپنی نااہلی پیش کی،اب سوال یہ ہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی کی پیشی آخر ہوگی کہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیس اب کہاں چلے گا، آج کا چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو پیش نہ کرنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے،مجھے لگتا ہے کہ سائفر کیس اب چل ہی نہیں سکے گا، ہم نے عدالت کو عندیہ دیا ہے کہ آپ اپنے فیصلے کو منوائیں، ٹرائل جیل میں ہی کروانے کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ آج بضد رہے، امید ہے اب جج صاحب اس حوالے سے سخت فیصلہ دیں گے، جیل سپرنٹنڈنٹ نے جو وجہ پیش کی وہ بالکل بے بنیاد ہے، جب ہائی کورٹ کے دو ججز کا حکم آگیا تو کس کے آرڈرز کا انتظار کیا جا رہا ہے ،

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • خیبر پختونخوا میں دو مقدمے، شیر افضل مروت کی ضمانت منظور

    خیبر پختونخوا میں دو مقدمے، شیر افضل مروت کی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائی کورٹ،پی ٹی آئی لیگل ٹیم کے رکن شیر افضل مروت کے خلاف درج مقدمات،شیر افضل مروت کی کے پی کے کے ضلع دیر میں درج دو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت ہوئی

    شیر افضل مروت کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیئے گئے،عدالت نے شیر افضل مروت کی درخواست پر آج ہی ڈائری نمبر لگانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈائری نمبر آج ہی لگ جائے گا آپکے کیس کو آج ہی سنیں گے ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی

    شیر افضل مروت اپنے وکیل نوید حیات ملک ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے کہا کہ آپکی درخواست پر بائیو میٹرک اور کچھ دستاویزات نہ ہونے پراعتراض لگا ہوا ہے ، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے اعتراض دور کردیے ہیں ،بائیو میٹرک تصدیق بھی کروالی اور دستاویزات بھی لگا دی ہیں ،

    خیبرپختونخوا میں کنونشن کرنے پر ضلع دیر میں شیر افضل مروت کے خلاف دو مقدمات درج ہیں ،عدالت نے درخواست پر ڈائری نمبر لگنے تک سماعت میں وقفہ کردیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیر افضل مروت کی درخواست ضمانت منظور کر لی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی نے خیبرپختونخوا میں درج 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور کی،عدالت نےشیر افضل مروت کی 15 روزہ حفاظتی ضمانت منظور کی،عدالت نے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا.

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی تحریک انصاف کے وائس پریذیڈنٹ شیر افضل مروت کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا مقدمہ ٹریفک میں خلل ڈالنے،ایمپلی فائر ایکٹ،دفعہ 144 سمیت این او سی کی خلاف ورزی پر درج کیا گیا، مقدمہ شکر پڑیاں میں میوزیکل نائٹ پروگرام منعقد کرنے پر درج کیا گیا،پروگرام سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے منعقد کیا تھا-مقدمے کے متن کے مطابق پروگرام میں پاکستان اور حکومت مخالف تقاریر کی گئیں،شیر افضل مروت طلبا کو اشتعال دلاتے رہے، مقدمہ میں شہر افضل مروت سمیت 20 ملزمان کو نامزد کیا گیا، مقدمہ تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او سب انسپکٹر ناصر منظور چوہدری کی مدعیت میں درج کیا گیا-

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • سائفر کیس،ٹرائل جیل میں ہی عوام اور میڈیا کے سامنے ہو گا، عدالت کا فیصلہ

    سائفر کیس،ٹرائل جیل میں ہی عوام اور میڈیا کے سامنے ہو گا، عدالت کا فیصلہ

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    سائفر کیس کے دوبارہ جیل ٹرائل کا فیصلہ ،عوام اور میڈیا کو جیل سماعت میں موجود رہنے کی اجازت ہو گی، جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل حکام اور سیکیورٹی اداروں نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا۔آئندہ سماعت جیل میں ہی ہوگی،اوپن کورٹ ہوگی۔میڈیا اور پبلک کو بھی شرکت کی اجازت ہوگی۔پہلے کی طرح پانچ پانچ فیملی ممبران کو بھی اجازت ہوگی۔آئندہ سماعت جمعہ کو ہوگی۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت،سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا،خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا، حکم نامہ میں کہا گیا کہ آج کی سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی غیر حاضر رہے،23 نومبر کو سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو دونوں ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے عدالت میں سکیورٹی رپورٹ پیش کی گئی،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ اسلام آباد پولیس، آئی بی اور اسپیشل برانچ کی معلومات کی بنیاد پر تھی،رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے، عدالت کی جانب سے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ کا بغور جائزہ لیا گیا، رپورٹ سے ظاہر ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے،عدالت سابق وزیراعظم کی جان کو لاحق خطرات کی تشخیص کو ہلکا نہیں لے سکتی، ماضی میں چیئرمین پی ٹی آئی کے کارکنان کا جوڈیشل کمپلیس پر دھاوا بولنے کا واقعہ بھی رونما ہو چکا، جوڈیشل کمپلیس میں سماعت چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے محفوظ ہے نہ ہی دیگر افراد کیلئے، ان وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت سائفر کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں کرنے کا حکم دیتی ہے،چونکہ چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہورہا ہے، شاہ محمود قریشی کا بھی اڈیالہ جیل میں ہی ہوگا، چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل ایک اوپن ٹرائل ہوگا،ملزمان کے وکلا اور خاندان کے پانچ پانچ افراد کو ٹرائل کی کارروائی دیکھنے کی اجازت ہوگی، عام عوام اور سماعت سننے کے خواہشمد افراد کو ٹرائل کی کارروائی میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی، عام عوام کو جیل رولز اور مینول اور کمرہ عدالت میں گنجائش کی بنیاد پر ٹرائل میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء اور ایف آئی اے پراسکیوشن ٹیم عدالت میں پیش ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں اور شاہ محمود قریشی کی بیٹی عدالت میں موجود تھی، سلمان صفدرایڈوکیٹ نے کہا کہ آج دو مختلف معاملات ہیں، سائفر کیس کا ٹرائل آج سماعت کے لیے مقرر ہے، ہم امید کررہے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کیا جائے گا،ابھی تک چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش نہیں کیا گیا ، یہ ریکارڈ کیس ہے اتنی رفتار سے کبھی کیس نہیں چلا،

    عدالت نے اسٹاف کو کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی،جیل حکام نے عدالت میں رپورٹ پیش کردی ،جج ابولحسنات ذوالقرنین نے رپورٹ کا جائزہ لیا اور کہا کہ جیل حکام کا کہنا ہے عمران خان کو پیش نہیں کرسکتے، جیل حکام نے عدالت میں کہا کہ اسلام آباد پولیس کو اضافی سیکورٹی کے لیے خط لکھا، بتایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سنجیدہ نوعیت کے سیکورٹی خدشات ہیں ، اسلام آباد پولیس کی رپورٹ بھی جیل رپورٹ کیساتھ منسلک ہے

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا جیل حکام کی زمہ داری ہے ، جیل حکام ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا نظر انداز نہیں کر سکتے ، 23 نومبر کو عدالت نے چیئرمین پی ٹی اور شاہ محمود قریشی کو طلب کیا تھا، عدالت نے حکم دیا تھا چیئرمین پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلہ سے معلوم ہوگا کہ استغاثہ کیس کہاں تک متاثر ہوگا ،ہم کہتے رہے ان حالات میں فرد جرم عائد نہ کریں ،ہمیں کہا جاتا تھا کہ حکم امتناع ہے تو دکھا دیں، ہم کہتے رہے ابھی آگے نہ بڑھیں طے ہو لینے دیں کہ یہ کیس کیسے چلنا ہے، کبھی کوئی کیس اتنی جلدی میں چلا ؟ بے نظیر بھٹو کیس کتنے سال چلا؟ اس کیس کو ہم پانچ ہفتوں میں مکمل کرنے کے لیے نکلے ہوئے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے،اس خط و کتابت کی کوئی بنیاد نہیں ہے، ہمیں صبح سے بلکہ کل سے حالات بتا رہے تھے کہ یہ پیش نہیں کریں گے ،یہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ، ہم جان پر کھیل کر عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں،کیا چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں محفوظ نہیں یا راستے میں کوئی خطرہ ہے تو بتا دیں ؟جوڈیشل کمپلیکس کو مکمل طور پر بند کرکے بھی لایا جاسکتا ہے،اس عدالت میں کس سے خطرہ ہے؟ یہاں فیملی سے خطرہ ہے یا قانون کی پاسداری کرنے والے وکلاء سے خطرہ ہے؟ آپ کی بات نہیں مان رہے یا اسلام آباد ہائیکورٹ کی بات نہیں مان رہے تو کیا ہم سپریم کورٹ جائیں ؟آپ کا حکم حتمی ہوتا ہے پھر آج کیا ہوا ہے؟ اگر سکیورٹی تھریٹ ہیں تو اس کیس پر سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی جائے جیل میں کیس نہیں چل سکتا تو یہاں بھی یہ چلانا نہیں چاہ رہے تو ملزمان کو ضمانت دے دی جائے ، یہ ٹرائل کہا چل سکتا یہ بتا دیں،یہ ٹرائل یہاں پر نہیں چل سکتا اور نہ جیل میں چل سکتا ہے تو پھر کہا چل سکتا ہے

    شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا ،علی بخاری نے کہا کہ جیل سپریڈنٹ کا لیٹر ایف آئی اے پراسیکوٹر شاہ خاور نے خود پڑھا ہے،شاہ محمود قریشی کو کیوں ابھی تک پیش نہیں کیا گیا ؟,اب تو کوئی چارج فریم نہیں ہوا اور نہ کوئی نقل تقسیم ہوئی ہے پھر اندر کیوں رکھا ہوا ہے،آپکا اپنا آرڈر تھا جیل سپرنٹینڈنٹ کو کہیں میرے آرڈر پر عملدرآمد کروائیں نہیں تو نتائج بھگتیں،وکیل علی بخاری نے شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ یہ اوپن ٹرائل ہے ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے، ملزم کو عدالت میں پیش کرنا قانونی زمہ داری ہے، ملزمان کی پروڈکشن کروانا عدالت کی ذمہ داری ہے، اگر عدالتی احکامات نہیں مانے جاتے تو سرکاری ملازم کو جیل میں بھیجنے کا اختیار آپ کے پاس ہے، شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل ہوئے عدالت نے کہا کہ عدالت مناسب آرڈر کرے گی، کیا عدالت نے ملزمان کو طلب کیا تھا ؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ آپ نے ملزمان کو طلب کیا تھا ،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ جتھے مرضی نوٹیفکیشن لائیں کوئی فرق نہیں پڑتا ،عوام کو رسائی ہونی چاہیے ، میڈیا کو عدالت تک رسائی ہونی چاہیے ، میں خواہش کا لفظ استعمال کررہا ہوں کہ جو بھی کیس سننے کی خواہش رکھتا ہو کیا آپ اسے اجازت دے سکتے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آپ کی طرف فیصلے کرنے والا جیل سپرٹنڈنٹ کون ہے، جیل سپرٹنڈنٹ کون ہوتا ہے فیصلہ کرنے والا، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے جیل میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے، عدالت میں جیل حکام نے دستاویزی شواہد کیساتھ بتایا کہ سیکورٹی خدشات کی بنیاد پر پیش نہیں کرسکتے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس عدالت کی کارروائی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا ، عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ جیل میں ٹرائل ہوگا یہاں پر,آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ جیل ٹرائل کی صورت میں کتنے لوگ عدالت میں آسکتے ہیں، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ عدالت کو فرق نہیں پڑتا کہاں ٹرائل ہوگا،عدالت چاہتی ہے کہ جو ٹرائل کو دیکھنا چاہے اس کے لیے کیا کریں گے، سیکشن 352 کا اطلاق کرنا ہے اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے،

    وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی حد تک کوئی خط و کتابت نہیں انکو پیش کیوں نہیں کیا گیا ، سلمان صفدر ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہاں کون سا ایسا واقعہ ہوا جس سے کہیں کوئی تھریٹ ہے، روزانہ اڈیالہ جیل سے دہشتگردوں کو لایا جاتا ہے،اب یا تو پیش کیا جائے یا زمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے ،اسکندر ذوالقرنین سلیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہونے پر متعلقہ آئی جی کو طلب کیا جانا چاہیے ، ایف آئی اے پراسکیوٹر کا کام نہیں ہے کہ وضاحتیں دیں ، ایف آئی اے پراسکیوٹر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جیل سپرٹنڈنٹ کے درمیان خط و کتابت سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ،

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت ، سائفر کیس ،چیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش نہ کرنے جیل حکام کی رپورٹ ،عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ اس حوالے سے آرڈر پاس کروں گا ،

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • کتاب میں عمران خان کے بارے میں جو لکھا   سب سچ لکھا اُس کے ثبوت موجود ہیں،ہاجرہ خان

    کتاب میں عمران خان کے بارے میں جو لکھا سب سچ لکھا اُس کے ثبوت موجود ہیں،ہاجرہ خان

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین سے متعلق کتاب لکھنے والی اداکارہ ہاجرہ خان نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی دہرے معیار کے مالک ہیں، میری اُن سے دوستی پلس تھی۔

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی کے پروگرام میں معروف صحافی و میزبان جاوید چوہدری کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی فلم اور ٹی وی اداکارہ ہاجرہ خان پانیزئی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی دہرے معیار کے مالک ہیں، میری اُن سے دوستی پلس تھی چیئرمین پی ٹی آئی نے لوگوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا، میں نے اس کتاب میں عمران خان کے بارے میں جو لکھا سب سچ لکھا اُس کے ثبوت موجود ہیں اور میں ہر لکھی گئی بات کا دفاع کرسکتی ہوں-

    حماس کیجانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کا بہت زیادہ خیال رکھا گیا،اسرائیلی صحافی

    کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی اداکارہ حاجرہ پانیزئی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے میری پہلی ملاقات کراچی میں ہوئی، دوسری ملاقات فنڈ ریزنگ مہم کے دوران ہوئی، میں چیئرمین پی ٹی آئی سےملاقات پرپرجوش اور گھبراہٹ کا شکار تھی،چیئرمین پی ٹی آئی کی شخصیت کے بارے میں تجسس تھا، اس لیے انہیں جاننے کی کوشش کی تو پھر میری اُن سے پہلے دوستی اور پھر دوستی پلس ہوگئی، چیئرمین پی ٹی آئی کا حلقہ احباب متاثرکن نہیں تھا، میں نے دیکھا چیئرمین پی ٹی آئی منشیات استعمال کرتے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی سےاختلافات کی وجہ منشیات نہیں کچھ اورتھی، اللہ تعالیٰ نےچیئرمین پی ٹی آئی کو اتنا نوازا شاید وہ اس کے قابل نہیں تھے-

    واضح رہے کہ اداکارہ ہاجرہ خان پانیزئی نے اپنی سوانح حیات ’Where the opium grows, surviving Pakistan as a woman, an Actress and knowing Imran Khan‘سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک انٹرویو میں بتایا یہ کتاب ایک بائیوگرافی ہے جو 2014 میں لکھی تھی جب وہ شوبز چھوڑ کر لندن چلی گئی تھیں۔

    اعظم خان پر جرمانہ ،نوجوانوں کا احتجاج،چئیرمین پی سی بی کو معطل کرنے کا مطالبہ

    انہوں نے کہ تھا  کہ عمران خان کو نجی طور پر جاننا میرے لیے ایک سیاہ اور خوفناک تجربہ تھا اور انہیں اس وقت جاننے کی وجہ سے میرا کیرئیر شدید مشکلات کا شکار ہوا، بہت سے لوگوں کے کیرئیر اس انسان کی وجہ سے متاثر ہوئے۔ اپنے والد کا تعارف کرانے پر شرمندگی ہے عمران خان عوامی طور پر نامور کرکٹر اور قومی ہیرو ہیں اور ان کے حامی انہیں مسیحا قرار دیتے ہیں تاہم ذاتی زندگی میں وہ بہت مختلف ہیں حامیوں کی طرف سے ان کا ایک مسیحا کا امیج بنانا بہت خوفناک ہے۔

    پانیزئی کا کہنا تھا کہ کتاب 2014 میں عمران خان کے اقتدار میں آنے کے کئی سال پہلے کسی سیاسی ایجنڈے کے بغیر لکھی تب مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ وزیراعظم بن جائیگا اور بدقسمتی سے کتنا بڑا حادثہ ثابت ہوا، عمران خان کو جاننا ان کیلئے مشکلات کا سبب بنا جب وہ واپس آئیں تو ان کے لوگوں نے میرے سوشل میڈیا کو ہیک کر لیا۔

    یو اے ای اور پاکستان کے مابین اقتصادی تعاون کا نیا دور شروع ہو گا، …

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے حالیہ پوڈکاسٹ میں اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے کتاب میں عمران خان سے متعلق کچھ معاملات کی پیشگوئی کی تھی، ان دنوں میں بہت پریشان اور کنفیوز تھی یہ کتاب بنیادی طور پر ایک کتھارسس تھی وہ اپنے اندر کے غصے اور غبار کو کہیں نکالنا چاہتی تھیں تب انہیں احساس ہوا کہ انہیں کتاب لکھنی چاہیے۔

    اداکارہ نے بتایا تھا کہ جب کتاب شائع ہوئی تو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں خاموشی سے کام پر آتی جاتی تھی، بے ہودہ ڈراموں میں برے لوگوں کے ساتھ عجیب سے کردار نبھاتی رہی میرا کیرئیر تباہ ہو گیا میں پہلی انسان تو نہیں ہوں جو یہ بات کر رہی ہوں روز کوئی نہ کوئی ٹی وی پر بیٹھا کچھ کہہ رہا ہوتا ہے کیا سب لوگ ہی جھوٹ بول رہے ہیں کیا سب کی باتیں بے معنی ہیں کیا سب لوگ ڈرے ہوئے ہیں؟ جو آج کا پاکستان ہے میں تو 9 سال پہلے اس کا حصہ نہیں تھی جو آج ہو رہا ہے میں ایک معمولی سی اداکارہ ہو کر کیوں سچ بول رہی ہوں۔

    حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا عارضی معاہدہ اپنے آخری مرحلے میں داخل

  • پی ٹی آئی لیگل ٹیم نے انٹرا پارٹی الیکشن کی تجویز دے دی

    پی ٹی آئی لیگل ٹیم نے انٹرا پارٹی الیکشن کی تجویز دے دی

    تحریک انصاف لیگل ٹیم نے انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کی تجویز دے دی

    تحریک انصاف کی لیگل ٹیم کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا بھی آپشن رکھیں گے، انٹرا پارٹی الیکشن مین چیرمین پی ٹی آئی کو ہی منتخب کیا جائے گا،حامد خان کا کہنا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں وکلاء کو اہم زمہ داریاں سونپی جائیں گی،چیرمین پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی کروانے کی منظوری دے دی ،

    پی ٹی آئی کورکمیٹی اجلاس کے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اہم ترین اجلاس ہوا،اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، تنظیمی سرگرمیوں، تحریک انصاف کے قائدین اور کارکنان کیخلاف جبر و فسطائیت کے جاری سلسلے اور انٹراپارٹی انتخابات سمیت اہم امور پر غور کیا گیا، اڈیالہ جیل کے باہر چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی گاڑی کے گھیراؤ اور اشتعال انگیز نعرہ بازی کی شدید مذمت کی گئی، کورکمیٹی اراکین کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا اور ان کی خواتین کو ہراساں اور غلیظ پراپیگنڈہ کا ہدف بنانا نون لیگ کا پرانا وطیرہ ہے،ایسی مذموم حرکات سے چیئرمین عمران خان یا ان کے اہلِ خانہ کی قوم کی حقیقی آزادی کی جستجو میں کسی قسم کی کمی پیدا کرنا ممکن نہیں،

    کورکمیٹی کی جانب سے خیبرپختونخوا کے سینئر نائب صدر اور سابق رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کی گرفتاری کی بھی شدید مذمت کی گئی اور جنید اکبر کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا، کور کمیٹی نے خیبرپختونخوا میں پرامن کنونشنز کے منتظمین کیخلاف جھوٹے پرچوں کے اندراج کا قابلِ مذمت سلسلہ فوری ترک کرنے کا مطالبہ بھی کیا،کورکمیٹی کی جانب سے چیئرمین عمران خان کی عدالتی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کے مطالبے کا اعادہ کیا،اجلاس میں انٹراپارٹی انتخابات کے الیکشن کمیشن کے دیے گئے ٹائم فریم میں انعقاد کی حکمتِ عملی پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی.مقررہ مدت میں انٹراپارٹی انتخابات منعقد کروانے کے لائحۂ عمل کی باضابطہ منظوری بھی دے دی گئی

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کا بلے کا نشان برقرار رکھتے ہوئے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے رکھا ہے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف 20 دن میں انٹرا پارٹی الیکشن یقینی بنائے،الیکشن کے 7 دن بعد رپورٹ جمع کرائی جائے، اگر پارٹی الیکشن نہ کرائے گئے تو تحریک انصاف انتخابی نشان کے لیے نااہل ہو گی.

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    190ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیشرفت،عمران خان کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی عدالت نے استدعا مسترد کر دی

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کا جوڈیشل ریمانڈ منظور کر لیا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں سماعت کی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے،القادر ٹرسٹ پراپرٹی 190 ملین پاؤنڈ کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر کی سربراہی میں 5 رکنی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچی تھی،نیب ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر میاں عمر ندیم، عبدالستار، عرفان اور تنویر شامل ہیں ،نیب ٹیم نے 23 نومبر سے 26 نومبر تک ہونے والی تفتیش کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا.

    القادر پراپرٹی اور 190 ملین پاؤنڈ کا کیس ، نیب کی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں تحقیقات جاری ہے، نیب ٹیم روزانہ کی بنیاد پر عمران خان سے تحقیقات کر رہی ہے،نیب کی چیئرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے،

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان
    میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے چار دنوں کی تفتیش کے دوران نیب ٹیموں سے عدم تعاون کیا۔سابق وزیراعظم عمران خان کا رویہ دوران تحقیقات انتہائی متکبرانہ رہا ۔اڈیالہ جیل حکام نے تفتیش کےلیے الگ سے کمرہ مختص کر رکھا ہے، عمران خان تفتیشی ٹیم کے سامنے ایک کرسی پر براجمان ہوتے ہیں ،نیب کی ٹیموں نے متعدد بار سابق وزیر اعظم کے سامنے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کی دستاویزات رکھیں ۔اس سکینڈل سے متعلق متعدد سوالات بھی کیے گیے ،سابق وزیراعظم عمران خان نے اکثر سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا ۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان مسلسل اپنے وکلاء کی موجودگی میں سوال و جواب کا مطالبہ کرتے رہے ۔سابق وزیراعظم القادر ٹرسٹ سے متعلق سوالات پر اسے روحانیت اور صوفی ازم کا بڑا منصوبہ قرار دیتے رہے ۔سابق وزیراعظم ہر سوال کے جواب میں لمبی تقریر جھاڑتے ہوئے انتقامی کاروائیوں کا ذکر کرتے رہے ۔190 ملین پاؤنڈ سے متعلق تمام ملبہ شہزاد اکبر اور ایک سابق عسکری عہدے دار پر ڈال دیا ۔عمران خان کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر اور سابق چیئرمین نیب کے پاس جو دستاویزات تھیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔کابینہ نے اس سارے معاہدے کی منظوری دی تھی اب سب مکر گئے ۔نیب ٹیم نے اس وقت اس بارے کابینہ اجلاس کے منٹس سامنے رکھے ،میں بطور وزیراعظم اس سارے معاملے کا اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی دوران تفتیش بہت سے فیصلے غلط کرنے کا اعتراف بھی کرتے رہے ۔نیب دونوں کیسز کا تمام ریکارڈ دستاویزات ماضی کے اجلاسوں کے منٹس ساتھ لیکر جاتی رہی .

    اڈیالہ جیل میں شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ اور وکلاء سے ملاقات ختم
    دوسری جانب اڈیالہ جیل میں شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ اور وکلاء سے ملاقات ختم ہو گئی،ملاقات کرنے والوں میں مہرین قریشی، مہربانو قریشی، گوہر بانو قریشی اور بیرسٹر تیمور ملک شامل تھے، اہلخانہ اور وکلاء کی ملاقات اڈیالہ جیل کی کانفرنس روم میں کروائی گئی، شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ سے جیل سہولیات اور کیسسز کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ملاقات کے بعد شاہ محمود قریشی کے اہلخانہ اور وکلاء اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری