Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • نواز شریف کو ہی نہیں بلکہ عمران خان کو بھی سیکورٹی دی گئی . محسن نقوی

    نواز شریف کو ہی نہیں بلکہ عمران خان کو بھی سیکورٹی دی گئی . محسن نقوی

    مسلم لیگ (نواز) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف گزشتہ روز بیرون ملک سے وطن واپسی کے بعد سخت سکیورٹی میں پہلے مینار پاکستان پہنچ تھے اور پھر اس کے بعد جاتی امراء گئ تھے جبکہ اس حوالے سے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف نوازشریف کو ہی سکیورٹی نہیں دی جارہی جبکہ اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی مکمل سکیورٹی دی گئی تھی اور جب ضرور پڑتی انہیں بھی دی جاتی ہے۔

    خیال رہے کہ پنجاب میں ترقیاتی کاموں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں اسپتالوں کی اپ گریڈیشن کا کام جاری ہے اور چلڈرن اسپتال ملتان کا کام بھی جلد مکمل ہو جائے گا جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، اب لبرٹی سے 15منٹ میں ڈیفنس پہنچا جا سکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پولیس نے پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا
    عون چودھری کی نواز شریف کے استقبال کرنے پر وضاحت
    ایوارڈ شوز میں‌ریما ریشم نرگس سے گانوں پر پرفارم کروانا چاہیے یاسر حسین
    واضح رہے کہ محسن نقوی نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود ہماری ترجیح ہے، 750 تھانوں کی بہتری کیلئے بھی کام جاری ہے۔

  • عمران خان کی جیل میں بیٹوں سے بات کروا دی گئی

    عمران خان کی جیل میں بیٹوں سے بات کروا دی گئی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اڈیالہ جیل سے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروا دی گئی

    عمران خان کی بیٹوں سے بات واٹس ایپ پر کروائی گئی،عمران خان نے تین منٹ تک بیٹوں سے بات کی،سلیمان اور قاسم جیل میں قید والد سے گفتگو کرتے جذباتی ہوگئے،عمران خان نے مسکراتے اپنے بیٹوں کو تسلی دی،عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کا حکم عدالت نے دیا تھا

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کی عدالت نے دی اجازت
    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کرنے کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت جاری کرتاہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے،سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت ہے، میں آپ کے حق میں کہہ رہاہوں، میں ٹیلیفونک گفتگو کی اجازت دےدیتاہوں،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سائفر کیس میں اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اور خصوصی عدالت نے شاہ محمود قریشی اور عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ بھی مقرر کردی ہے۔

  • شیخ رشید نے غائب رہنے سے متعلق 40 دن چلہ لگانے کا دعویٰ دیا

    شیخ رشید نے غائب رہنے سے متعلق 40 دن چلہ لگانے کا دعویٰ دیا

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور تحریک انصاف کے حامی شیخ رشید نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میں 40 دن کے چلے پر چلا گیا تھا اور انہوں نے کہا مجھے اس دوران کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے اور نہ کسی نے نقصان پہنچایا ہے اس دوران لہذا میں خود کو بہت خوش نصیب سمجھتا ہوں.

    میں سائفر کی میٹنگ میں شامل تھا اور جس وقت یہ حالات پیدا ہورہے تھے تو میں نے عمران خان کو سمجھایا تھا کہ اداروں بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے کہ کسی ادارے کے خلاف جائے.

    انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک میں اداروں کے بغیر کوئی سکت نہیں رہ گئی ہے اور یہ ملک اداروں کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے. اور میں ہمیشہ اداروں سے محبت کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ہم ان سے ہیں اور وہ ہم سے ہیں لہذا سیاستدانوں کو فوج سے متعلق بات نہیں کرنی چاہئے. اور جو لوگ فوج کیساتھ بات کررہے تھے انہوں نے خود اپنی جماعت بنا لی ہے.
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے سری لنکن فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کی ملاقات
    آسٹریلیا کی پانچویں وکٹ 339 رنز پر گرگئی،جوش انگلس 13 رنز بناکر آؤٹ
    نواز شریف ،شہباز شریف کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان استقبال کیلئے تیار ہے، شہباز شریف
    ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباکا اسرائیل کیخلاف احتجاج،ڈونرز نے فنڈ بند کر دیئے

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہماری اسٹبلشمنٹ سے لڑائی بنتی تھی جبکہ سیاست دانوں اور اداروں کو مل جل کر چلنا چاہئے اسی میں ہی ملک کی ترقی ہوگی، اور اسی لیئے میں خود کو فوج کا ترجمان کہتا ہوں اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں گیٹ نمبر 4 کی پیداوار ہوں اور ان کا ترجمان ہوں.

    نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ خاموشی کا چِلہ کاٹ رہا تھا اس لیے منظر عام سے غائب ہوگیا تھا، اس چلے کے دوران بہت کچھ سوچنے کا موقع ملا جبکہ 9 مئی کے واقعات ہوئے تو اگلے ہی دن ان واقعات کی مذمت کی تھی اور عمران خان کو ہمیشہ کہا ہےکہ فوج سے بناکر رکھنی چاہیے جبکہ میں نے دومرتبہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو مذاکراتی عمل میں شامل کرلیں مگر انہوں نے منع کیا۔

    تاہم واضح رہے کہ شیخ رشید نے مزید کہاکہ اداروں کی لڑائی ہوتی ہے تو ہمیشہ ادارے ہی جیتتے ہیں جبکہ مجھے ایکس ( سابقہ ٹوئٹر) لے ڈوبا،مجھ دکھایا گیا کہ یہ یہ چیزیں آپ نےکہی ہیں، ٹوئٹر میں خود تو نہیں چلاتا تھا لیکن وہ ساری باتیں میری ہی تھیں، میرے خلاف سوائے ٹوئٹس کے کچھ نہیں نکلا اور ہم نے جنرل عاصم منیر کے معاملے میں ملوث ہو کر غلطی کی تھی جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے لوگ سمجھتے تھے کہ فوج کے اندر بھی ان کے لوگ ہیں، میں درخواست کروں گا کہ 9 مئی واقعات میں ملوث عام لوگوں کو معافی دی جائے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی ضدی سیاستدان ہیں اور آج بھی فوج کے ساتھ کھڑا ہوں، الیکشن لڑوں گا،سپورٹ ملتی ہے یا نہیں،وہ اللہ کوپتا ہے۔

  • عمران خان ایک متکبر شخص ہے. پرویز خٹک

    عمران خان ایک متکبر شخص ہے. پرویز خٹک

    پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کے سربراہ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں ہم نے تاریخی کام کئے تھے اور صحت انصاف کارڈ ہم نے دیا تھا جبکہ یہ پی ٹی آئی چیئرمین کا ویژن نہیں تھا اور عمران خان میں غرور تھا اس لئے ڈوب گئے تاہم پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب میں پرویز خٹک نے کہا کہ پاکستان کو اس حال تک کس نے پہنچایا، ملک کا امن کس نے تباہ کیا پھر دعوے کر رہے ہیں کہ ہم آئینگے اور حالات ٹھیک کریں گے۔

    تاہم ان کا مزید کہا تھا کہ قصور ملک یا عوام کا نہیں سارا قصور نا اہل رہنماؤں کا ہے ایسے ہی افراد کو بے نقاب کرنے کے لئے میں نے پارٹی بنائی ہے، ہم عوام کو ان کے مکروہ چہرے دکھائیں گے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ساڑھے تین سال حکومت میں ایک وعدہ پورا نہیں کیا، اسی لئے مجھے سوچنا پڑا کہ کب تک ان جھوٹوں کا ساتھ دیتا رہوں گا۔ ہم خیال دوستوں کے ساتھ مشورہ کرکے جھوٹوں کے خلاف میدان میں نکلے ہیں۔
    ہفتہ اور اتوار کو الیکشن کمیشن نے دفاتر کھلے رکھنے کا اعلان کردیا
    آسٹریلیا کی پانچویں وکٹ 339 رنز پر گرگئی،جوش انگلس 13 رنز بناکر آؤٹ
    نواز شریف ،شہباز شریف کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان استقبال کیلئے تیار ہے، شہباز شریف
    ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباکا اسرائیل کیخلاف احتجاج،ڈونرز نے فنڈ بند کر دیئے
    سربراہ پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کا کہنا تھا کہ ڈرنے والا ہوں اور نہ ہی کسی کی منت سماجت کرنے والا ہوں، پرویز خٹک بھوکا رہے گا لیکن حرام نہیں کھائے گا۔

  • عمران خان کو  عہدے سے ہٹانے کی درخواست منظور

    عمران خان کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست منظور

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی جبکہ توہین الیکشن کمیشن کیس میں پی ٹی آئی رہنماوں کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا جبکہ الیکشن کمیشن نے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ جاری کردی جس کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نوٹس جاری کردیا ہے اور 26 اکتوبر کو عمران خان کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر باضابطہ سماعت کی جائے گی اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ عمران خان کے خلاف سماعت کرے گا اور الیکشن کمیشن نے درخواست گزار خالد محمود کو بھی نوٹس جاری کردیا، توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛

    یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے بینک اکاؤنٹس منجمد
    نواز شریف کی آمد،چار افراد ایئر پورٹ پر پھول پھینک سکتے،ایوی ایشن کی اجازت
    سابق وزیر قانون اور سینیٹر ایس ایم ظفر وفات پاگئے
    واضح رہے کہ اسی طرح چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ، اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیسز بھی سماعت کے لیے مقرر کردیے گئے ہیں اور الیکشن کمیشن کا 4 رکنی بینچ 24 اکتوبر کو توہین الیکشن کمیشن کیسز پر سماعت کرے گا جبکہ عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری پر توہین الیکشن کمیشن کیسز میں فرد جرم عائد کی جائے گی اور الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

    جبکہ الیکشن کمیشن نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں چیئرمین پی ٹی ائی عمران خان کے پروڈکشن ارڈر جاری کر دیے اور الیکشن کمیشن کی سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کو چیئرمین پی ٹی ائی کو 24 اکتوبر کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اور الیکشن کمیشن کا چیئرمین پی ٹی ائی کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے لیے ائی جی اسلام اباد اور ائی جی پنجاب کو مراسلہ بھیج دیا گیا جبکہ توہین الیکشن کمیشن کے اس میں 24 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی ائی پر فرد جرم عائد کی جائے گی اور الیکشن کمیشن نے گزشتہ سماعت کا تحریری ارڈر بھی جاری کر دیا

  • عمران خان کی سائیکل اڈیالہ جیل پہنچا دی گئی

    عمران خان کی سائیکل اڈیالہ جیل پہنچا دی گئی

    سابق وزیراعظم عمران خان کی ورزش کیلئے سائیکل اڈیالہ جیل کے باہر منگوا لی گئی

    سائیکل جب اڈیالہ جیل کے اندر لے جانے کی کوشش کی گئی تو جیل سپرنٹنڈنٹ نے سائیکل اندر لے جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ عدالتی آرڈر ابھی تک نہیں ملا، عدالتی آرڈر ملے گا تو اسکے بعد سائیکل اندر جائے گا، جس پرعمران خان کے وکلاء نے کہا کہ عدالتی آرڈر کچھ دیر میں پہنچ جائے گا

    واضح رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سائیکل مہیا کرنے سے متعلق درخواست منظور کی جس پر پی ٹی آئی وکلاء سائیکل لے کر اڈیالہ جیل پہنچے تھے،دوران سماعت جج اور عمران خان کی بہن علیمہ خان کے مابین دلچسپ مکالمہ بھی ہوا تھا,علیمہ خان عدالت پیش ہوئیں اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں، اڈیالہ جیل میں جِم کی سہولت موجود ہے عمران خان کے گھر میں سائیکل ہے جو وہ استعمال کرتے ہیں میرے بھائی نے سائیکل کے علاؤہ اور کچھ نہیں مانگا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے فیملی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو فیور دےدی ہے، ٹینشن نہ لیں، علیمہ خان نے کہا کہ ہمارا بھائی اور کچھ نہیں مانگتا، بس ایک سائیکل مانگی ہے کیا ایسا ہوسکتاہے کہ ایک مخصوص شخص گھر سے سائیکل خود جیل میں مہیا کردے؟ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اہم شخصیت ہیں، اہم زندگی ہے، سائیکل پہنچاتے ہوئے دوران راستہ کچھ ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ علیمہ خان نے جج ابوالحسنات سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ صاف سی بات ہے! جیل کا کنٹرول آپ کے پاس ہے، سائیکل پر آپ جب حکم جاری کریں گے توجیل پہنچا دی جائے گی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے جیل میں جا کر دیوار تڑوا دی، کون جج ایسا کرتاہے؟ جیل سے دیوار توڑ دی، اب چیئرمین پی ٹی آئی کی چہل قدمی آرام سے جاری ہے، علیمہ خان نے عدالت میں بار بار اسرار کیا کہ جتنی جلدی ہو جائے سائیکل دےدیں،جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل کیا موٹر سائیکل بھی دےدیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے علیمہ خان سے سوال کیا کہ کچھ بتائیں کہ پٹشنر نے مانگا ہو اور میں نے نہ دیا ہو، علیمہ خان نے جواب دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو انصاف مل جائے تو بہت شکر ادا کریں گے،چیئرمین پی ٹی آئی نے زندگی میں صرف اپنی صحت مانگی ہے،جج صاحب!! آپ سے ہی امید ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل بھی پہنچادیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سوئمنگ پول کے علاوہ باقی سب کچھ مہیا کردیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ سائیکل کا خیال رکھیےگا کہیں پنکچر نہ ہو،علیمہ خان یہ کہتے ہوئے کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئیں کہ جج صاحب آرڈر کریں، سائیکل ہم ابھی بھیج رہے ہیں،

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عمران خان کی بیٹوں سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی، عمران خان اسوقت اٹک جیل میں تھے، اب عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، سائفرکیس میں ایف آئی اے نے چالان جمع کروا دیا ہے جس میں عمران خان کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے سزا دینے کی استدعاکی گئی ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ایک صارف نے ٹویٹ کرتےہوئے کہاکہ چیک کیجئے اڈیالہ جیل کو سسرال بنانے والے جنہیں دیسی گھی میں مرغے بھون کر کھلائے جاتے فرمائش پر دیواریں توڑی جاتیں اور ورزش کا جدید ترین سامان مہیا کیا جاتا انہیں بھی دو دن کی ضمانت پر دندل پڑے ہوئے غشی کی حالت ہے

  • عمران خان کے قریبی طاہر جاوید وزیراعظم کے معاون خصوصی، تحفظات کا اظہار

    عمران خان کے قریبی طاہر جاوید وزیراعظم کے معاون خصوصی، تحفظات کا اظہار

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی طاہر جاوید کو حالیہ دنوں میں نگران وزیراعظم کامعاون خصوصی مقرر کیا گیا ہے،طاہر جاوید کی بطور غیر ملکی مندوب اور خصوصی تقرری پر تحفظات کا اظہار کیاگیا ہے

    باخبر ذرائع کے مطابق طاہر جاوید کی بطور معاون خصوصی تقرری سے کئی مسائل جنم لے سکتے ہے لہذا فوری طور پر انکو عہدے سے ہٹا دیا جائے، طاہر جاوید کےاس عہدے پر رہنے کی وجہ سے شفافیت، سالمیت اور ہمارے ملک کے مفادات کو خطرہ لاحق ہے ، نگران وزیراعظم کے معاون خصوصی بننے والے طاہر جاوید ہیلتھ کمپنی رائس لینڈ کے مالک ہیں۔کئی سیاسی جماعتوں میں شمولیت کی بھی انکی تاریخ ہے، عمران خان سے وہ ملاقاتیں کر چکے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ جب انکو معاون خصوصی مقرر کیا گیا تو میڈیا نے عمران خان کے قریبی دوست طاہر جاوید لکھ کر خبریں نشر کیں،

    طاہر جاوید کی پی ٹی آئی سے وابستگی ہے ، وہ عمران خان کے انتہائی قریب ہیں، ایسے میں نگران حکومت میں انکی تقرری کیسے ہو گئی،نگران حکومت غیر جانبدار ہوتی ہے لیکن انکا جھکاؤ عمران خان اور تحریک انصاف کی جانب ہے،13 ستمبر 2022 کو جب سابق وزیراعظم بن چکے تھے اور عدم اعتماد کے بعد انکی حکومت ختم ہو چکی تھی، ملک میں وزیراعظم شہباز شریف تھے، اس روز طاہر جاوید نے عمران خان سے ملاقات کی تھی،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا،

    طاہر جاوید کی ماضی کی وابستگی سیاسی جماعت سے رہی ہے، ضروری ہے کہ غیر ملکی مندوب کے طور تقرری صاف ،شفاف ہونی چاہئے،میرٹ، اہلیت کا بھی جائزہ لینا چاہیے، سیاسی جماعت کی طرف جھکاؤ رکھنے والا کیسے غیر جانبدار ہو سکتا ہے؟عمران خان تو سائفر کیس میں اب جیل میں اور ایف آئی اے سپیشل پراسیکیوٹر کے مطابق جس جرم میں عمران خان جیل میں ہیں اس میں عمر قید یا سزائے موت ہو سکتی ہے،طاہر جاوید امریکہ میں مقیم ہیں اور عمران خان نے پروپیگنڈہ کے لئے امریکہ میں لابنگ فرم بھی ہائر کر رکھی ہیں،جو نہ صرف پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ میں مصروف ،بلکہ پاکستانی مفادات کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں،

    یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ طاہر جاوید غیر ملکی ایجنٹوں کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ لہذا رجسٹریشن ایکٹ (FARA)، ایک غیر ملکی مندوب کے طور پر اپنے کردار کے باوجود FARA شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے موجود ہے۔ مندوب طاہر جاوید کی سرگرمیوں اور ان سے قومی مفادات کو لاحق ممکنہ خطرات کے بارے میں خدشات موجود ہیں، ایسی سرگرمیاں جو اسے اس طرح کے باوقار عہدے پر فائز ہونے سے نااہل قرار دے دیں،سب کو آئین اور قانون کی پاسداری کرنی چاہئے،

    طاہر جاوید کی تقرری کے حوالے سے سرکاری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا جو کہ تشویش ناک ہے اس عمل میں شفافیت کا فقدان صرف شکوک و شبہات کو ہوا دیتا ہے اور عوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے معروف بیرون ملک مقیم پاکستانی طاہر جاوید کو معاون خصوصی مقرر کرتے ہوئے انہیں سرمایہ کاری کا قلمدان سونپا ہے۔ طاہر جاوید نے فوری طور پر باضابطہ طور پر کابینہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور وہ بطور وزیر مملکت وہی مراعات اور مراعات حاصل کریں گے۔

    طاہر جاوید اپنے سوشل میڈیا پروفائلز پر خود کو ایک پاکستانی امریکی کاروباری، سرمایہ کار، کاروباری شخصیت اور مخیر شخصیت کے طور پر لکھتے ہیں،طاہر جاوید نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے اس وقت مہم چلائی جب تحریک انصاف اقتدار میں تھی،انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے عمران خان کے لیے اپنی پوری کوشش کی اور ان کے لیے مہم چلائی، خاص طور پر نومبر 2019 میں عمران خان کے دورہ امریکا کے دوران ، طاہر جاوید نے عمران خان کو ان کے "کامیاب” دورہ امریکہ پر بھی سراہا تھا،

    نومبر 2019 میں، عمران خان نے بھی خاص طور پر طاہر جاوید کو ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا، "مسٹر طاہر جاوید نے پاکستان کانگریس فاؤنڈیشن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے جس نے 116 ویں کانگریس میں کانگریسی پاکستان کاکس کی بحالی اور فعال کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ”

  • عمران خان کہتے  کھانا گھر سے منگوایا جائے لیکن ذمہ داری کون لےگا؟عدالت

    عمران خان کہتے کھانا گھر سے منگوایا جائے لیکن ذمہ داری کون لےگا؟عدالت

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد،چئیر مین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروانے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیرازاحمدرانجھا جج ابو الحسنات ذولقرنین کی عدالت میں پیش ہوئے، جج ابوالحسنات ذولقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اڈیالہ جیل سپرینڈنٹ کی جانب سے ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے ایس او پیز نہیں آئیں،جیل میں ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے ایس او پیز آجائیں تودیکھ لیتے ہیں، وکیل صفائی شیرازاحمدرانجھا نے کہا کہ آج بھی ایس او پیز نہیں آئیں آپ کہیں تو میں عدالت کی معاونت کر دیتا ہوں،چئیرمین پی ٹی آئی کو جیل میں ورزش کے لئے سائیکل مہیا کرنا چاہتے ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ سائیکل کے حوالے سے تو میں پہلے ہی جیل حکام کو کہہ چکا ہوں، وکیل شیراز احمد رانجھا نے کہا کہ اگر عدالت اجازت دے تو سائیکل آج ہی مہیا کر دیتاہوں،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ سائیکل کا غلط استعمال نہ ہو، ایسا نہ ہوکہ سائکل جیل سپرینڈنٹ چلاتا رہے، جیل مینوئل بھی دیکھنا ہوتا ہ، ہمارے لئے انڈر ٹرائل ملزم کی سیکیورٹی اہم ہے، وکیل صفائی شیراز احمد رانجھا نے کہا کہ اگر خدشات ہیں تو ایک بندہ مقرر کر دیں جس کی نگرانی میں سائیکل استعمال ہو، جج ابوالحسنات ذولقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کہتے ہیں کھانا گھر سے منگوایا جائے لیکن ذمہ داری کون لےگا؟ اگر کھانا جیل میں تیار ہو تو جیل حکام ذمہ دار ہوتے ہیں،میں سائیکل والے معاملے پر آرڈر کر دیتا ہوں، معاملے کو حل کر دیتے ہیں،

    وکیل صفائی شیراز احمد رانجھا نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے عدالت آج آنا ہے، جج ابو الحسنات نے استفسار کیا کہ کیوں آپ چاہتے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کی موجودگی میں ریلیف دوں؟ چلیں علیمہ خان کو پہنچ جانے دیں، میرے لئے قابل احترام ہیں، جب تک علیمہ خان آتی ہیں، تب تک میں چائے پی لیتاہوں،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کے آنے تک وقفہ کردیا

    عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کی عدالت نے دی اجازت
    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کرنے کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت جاری کرتاہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے،سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت ہے، میں آپ کے حق میں کہہ رہاہوں، میں ٹیلیفونک گفتگو کی اجازت دےدیتاہوں،

    جج نے کہا کہ ایس او پیز آگئےہیں جن کے مطابق ملزم کو بات کرنے کی اجازت نہیں، میں پھر بھی جیل مینوئل کے مطابق ٹیلیفونک گفتگو کے معاملے کو دیکھ لیتاہوں،وکیل شیراز نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کو اپنی فیملی سے ٹیلیفونک گفتگو کروانے پر پابندی نہیں، پریزنرز رولز کے مطابق 12 گھنٹے اہلیہ، بچوں سے جیل میں ملاقات کروانے کی اجازت ہے،دیگر ملزمان کو ٹیلیفونک گفتگو کروانے کی بلکل اجازت ہے،جج نے کہا کہ مجھے جیل مینوئل میں بیرونِ ملک بات کرنے کی اجازت تحریر ہوئی دکھا دیں، وکیل نے کہا کہ جیل مینوئل میں اجازت نہیں لیکن فیڈرل شریعت کورٹ نے اس حوالے سے فیصلہ جاری کیاہے،

    وکیل شیرازاحمدرانجھا کی جانب سے فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کو عدالت میں جمع کروا دیا اور کہا کہ ہفتے کو تمام قیدیوں کی ٹیلیفونک گفتگو کروائی جاتی ہے،جج نے کہا کہ مجھے بیرون ملک بات کروانے کی اجازت کے حوالے سے بتائیں، وکیل نے کہا کہ اٹک سپرٹنڈنٹ جیل نے غلط بیانی کی، شو کاز نوٹس دینا چاہیے،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین اور چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے درمیان سائیکل پر دلچسپ گفتگو ہوئی،علیمہ خان عدالت پیش ہوئیں اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں، اڈیالہ جیل میں جِم کی سہولت موجود ہے عمران خان کے گھر میں سائیکل ہے جو وہ استعمال کرتے ہیں میرے بھائی نے سائیکل کے علاؤہ اور کچھ نہیں مانگا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے فیملی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو فیور دےدی ہے، ٹینشن نہ لیں، علیمہ خان نے کہا کہ ہمارا بھائی اور کچھ نہیں مانگتا، بس ایک سائیکل مانگی ہے کیا ایسا ہوسکتاہے کہ ایک مخصوص شخص گھر سے سائیکل خود جیل میں مہیا کردے؟ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اہم شخصیت ہیں، اہم زندگی ہے، سائیکل پہنچاتے ہوئے دوران راستہ کچھ ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ علیمہ خان نے جج ابوالحسنات سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ صاف سی بات ہے! جیل کا کنٹرول آپ کے پاس ہے، سائیکل پر آپ جب حکم جاری کریں گے توجیل پہنچا دی جائے گی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے جیل میں جا کر دیوار تڑوا دی، کون جج ایسا کرتاہے؟ جیل سے دیوار توڑ دی، اب چیئرمین پی ٹی آئی کی چہل قدمی آرام سے جاری ہے، علیمہ خان نے عدالت میں بار بار اسرار کیا کہ جتنی جلدی ہو جائے سائیکل دےدیں،جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل کیا موٹر سائیکل بھی دےدیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے علیمہ خان سے سوال کیا کہ کچھ بتائیں کہ پٹشنر نے مانگا ہو اور میں نے نہ دیا ہو، علیمہ خان نے جواب دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو انصاف مل جائے تو بہت شکر ادا کریں گے،چیئرمین پی ٹی آئی نے زندگی میں صرف اپنی صحت مانگی ہے،جج صاحب!! آپ سے ہی امید ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل بھی پہنچادیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سوئمنگ پول کے علاوہ باقی سب کچھ مہیا کردیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ سائیکل کا خیال رکھیےگا کہیں پنکچر نہ ہو،علیمہ خان یہ کہتے ہوئے کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئیں کہ جج صاحب آرڈر کریں، سائیکل ہم ابھی بھیج رہے ہیں،

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عمران خان کی بیٹوں سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی، عمران خان اسوقت اٹک جیل میں تھے، اب عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، سائفرکیس میں ایف آئی اے نے چالان جمع کروا دیا ہے جس میں عمران خان کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے سزا دینے کی استدعاکی گئی ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سابق سیکرٹری خارجہ اسد مجید سابق وزیر اعظم عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے ہیں اور 161 کا بیان سامنے آگیا ہے جبکہ ،اسد مجید کا بیان میں کہنا ہے عمران خان کے سائفر معاملے نے پاکستان کے کمیونیکیشن سسٹم کو نقصان پہنچایا ہے اور انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا جیسا انہوں نے کہا ہے.


    جبکہ تحریک انصاف کے سابق کارکن فرحان ورک نے کہا کہ ” تحریک انصاف والے تو اسد مجید کو دن رات سلیوٹ پیش کرتے تھے؟ لیکن اب اسد مجید تو انکے خلاف سب سے مضبوط گواہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ؛ وہ اعظم خان جس کے پیچھے عمران خان نے اپنی پارٹی تباہ کی، اب وہ بھی کھل کر ان پر فوج کی ہائی کمان پر پلاننگ کا الزام لگا رہا ہے۔


    سائفر کیس میں مرکزی گواہ اعظم خان کا تحریری بیان سامنے آگیا ہے اور سائفر کیس میں مرکزی گواہ اعظم خان نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے فوج کے خلاف ٹارگٹڈ پلان بنایا تھا اور عمران خان نے سیاسی مقاصد کے لیے پلان بنایا جبکہ سائفر سے متعلق اسپیکر نے رولنگ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر دی تھی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستانیوں کا بائیکاٹ میکڈونلڈ ویران
    ورلڈ کپ 2023: 256 رنز کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کے 8 کھلاڑی آؤٹ
    سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ میں اہم ہیشرفت
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت
    واضح رہے کہ سابق پرسنل سیکرٹری عمران خان، اعظم خان نے کہا ہے اکہ سائفر جس چینل سے آتا ہے اسی چینل سے واپس بھیجا جاتا ہے اور 8 مارچ کو سائفر سے متعلق فارن سیکرٹری کا ٹیلی فون آیا، ٹیلی فون پر سائفر کی کاپی وزیراعظم آفس بھجوانے کا بتایا گیا، فارن سیکرٹری نے کہا سائفر کی کاپی وزیراعظم کے حوالے کریں علاوہ ازیں مرکزی گواہ نے مزید کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے 9 مارچ کو سائفر پر رائے دی،شاہ محمود قریشی سائفر کا عمران خان کو آگاہ کرچکے تھے، سابق وزیراعظم نے سائفر پر اداروں کے خلاف بیانیہ بنانے کو کہا۔

  • پی ٹی آئی کی ایسی صورتحال نہیں کہ اس سے اتحاد کیا جائے ،سعید غنی

    پی ٹی آئی کی ایسی صورتحال نہیں کہ اس سے اتحاد کیا جائے ،سعید غنی

    پیپلز پارٹی کے رہنمائوں سعید غنی، وقار مہدی نے پریس کانفرنس کی ہے،سعید غنی کا کہنا تھا کہ کل اٹھارہ اکتوبر ہے سانحہ کارساز کو سولہ برس ہوگئے، اس سال ملک بھر میں تعزیتی اجتماع ہو رہے ،کراچی میں بلاول ہائوس کے باہر تعزیتی اجتماع ہوگا ، آج شام شہداء کے یادگار پر دیئے جلائیں گے ،کل شہداء کی یادگار پر جائیں گے ، کل اجتماع میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے،

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ سانحہ کارساز کی یاد فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی ہوگی ، کل کے اجتماع سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خطاب کریں گے، اس پر امریکہ کے رویہ کی مذمت بھی کریں گے، 18 اکتوبر کے شہدا کی قربانی ہے، یہ دنیا کی بہت بڑی دہشت گردی تھی،شاہراہِ فیصل پر ہمارے کارکنان پر دھماکے ہوئے،اس واقعہ کے بعد بھی پیپلز پارٹی کے کارکنان نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا ، یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک درد ناک واقعہ تھا،اگلے روز محترمہ نے بہادری کا مظاہرہ کیا، بی بی اگلے روز جناح اسپتال گئی تھی ، لیاری بھی گئی اور شہدا کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کی،

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمت کم زیادہ ہونے سے انتخابات کے عمل کا تعلق نہیں ہونا چاہئے ،پاکستان اس وقت جس عدم استحکام اور معاشی بحران ہے اس کا حل عام انتخابات میں ہیں ،اگر انتخابات وقت پر نہ ہوئے تو حالات مزید خراب ہوں گے، انتخابات نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ، جنوری کے آخری ہفتے سے آگے نہیں جانا چاہئے ، مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ کیا یہ کہے گی کہ انتخابات آگے ہوں ، تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ انتخابات ہونے چائیں، معاشی بد حالی کا آغاز عمران خان کی حکومت سے ہوا تھا ، سندھ کی سیاست میں جو الائنس کا شور مچ رہا ہے، یہ الائنس ہر الیکشن میں پیپلز پارٹی کے خلاف بنتے ہیں ،2018 میں بھی تمام جماعتیں پیپلز پارٹی کے خلاف تھیں ،پیپلز پارٹی نے ہر الیکشن میں اپنی سیٹوں میں اضافہ کیا ، دو چار آچکے ہیں دو چار مزید پی پی میں آئیں گے ،پی ٹی آئی کی ایسی صورتحال نہیں کہ اس سے اتحاد کیا جائے ،مرتضی وہاب تینوں نشستوں پر جیتیں گے ، بلدیاتی الیکشن میں ہمارے امیدوار پہلے سے زیادہ ووٹ لیں گے ، ہمیں کوئی خوف نہیں وہ تمام نشستیں پیپلز پارٹی پہلے ہی جیت چکی ہے، موسم کو بنیاد بنا کر الیکشن کو روکا نہیں جاتا، الیکشن ہر حال میں جنوری میں ہونے چائیں ،کہیں سردی ہوتی ہے کہیں گرمی ہوتی ہے پہلے بھی دسمبر اور جنوری میں الیکشن ہوئے ہیں ،

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ نگران حکومت میں مسلم لیگ ن کی نمائندگی موجود ہے ،نگران حکومت کا کام صرف الیکشن کرانا ہے ، نگران حکومت دس سالہ منصوبے بنا رہی ہے ، طویل المدتی منصوبے نہ بنائے جائیں،صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں سارے افسران تبدیل ہوئے ، ایس ایچ اور پٹواری بھی سندھ میں تبدیل ہوئے ، وہاں پر الزام ہے کہ پیپلز پارٹی کے لوگ ہیں ، کسی اور صوبے یا پنجاب میں ایسی بات کی جائے ، جو مخالفین ہیں وہ اپنے لوگ لگوانے چاہتے ہیں، ہر الیکشن سے پہلے بہت سارے لوگ شیروانیاں سلوا کر بیٹھے ہیں ، لیول پلینگ فیلڈ سب کو ملنی چائیے ،پی ٹی آئی ایم کیو ایم کو بھی لیول پلئینگ فیلڈ ملنی چاہئے ، کراچی میں لوگوں کو ایم کیو ایم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ،کسی جماعت کے لیئے یہ مناسب نہیں، ایم کیو ایم سیاست کرے دھمکیاں نہ دے ، ضمنی الیکشن میں ایم کیو ایم کا برا حشر ہوا تھا ،آج ایم کیو ایم جو دعوے کر رہی ہے وہ غلط ہیں ، ہم اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کریں گے،محسن نقوی کا نام حمزہ شہباز نے پیش کیا تھا ، پیپلز پارٹی کا ان کی نامزدگی یا وزیر اعلی بنانے میں کردار نہیں،آصف زرداری سے آپ بھی ملوگے تو بیٹا بولے گا ، جس شخص نے جرم کیا ہے ، وہ استحکام پاکستان پارٹی یا کسی بھی پارٹی میں جائے تو سزا ختم نہیں ہونی چاہئے، یہ پارٹی ڈرائی کلین مشین نہیں ہونی چاہئے