Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • سائفر کیس،عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم کی کارروائی موخر

    سائفر کیس،عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم کی کارروائی موخر

    سائفر کیس، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے کیس کی سماعت ہوئی
    چئیرمین پی ٹی اآئی کی لیگل ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی ،بریسٹر سلمان صفدر، شیر افضل مروت، راجہ یاسر، عمیر نیازی، نعیم حیدر پنجوتھہ نیاز اللہ نیازی لیگل ٹیم میں شامل ہیں

    عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم کی کارروائی موخر کر دی گئی،چیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو چالان کی نقول تقسیم کر دی گئی،آج فرد جرم عائد نہ ہو سکی،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    شیر افضل مروت نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج جج ابوالحسنات کی صدارت میں سماعت ہوئی ،چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے میں اور سلمان صفدر پیش ہوئے ،جج صاحب کو بتایا کہ چالان کی نقول کے بغیر فرد جرم عائد نہیں ہو سکتی،چیرمین پی ٹی آئی کو پنجرہ نما کمرے میں رکھا گیا ہے ،جج صاحب کو بتایا گیا کہ چیرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے حقوق کی خلاف ورزی ہے ،چیرمین پی ٹی آئی کو 9 مئی کھ واقعات میں پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے .22 افراد کے ذریعے بیان حلفی لیئے گئے، چیرمین پی ٹی آئی کےملٹری کورٹس ٹرائل کی کوشش کی جارہی ہے ،آج تفصیلی پریس کانفرنس کروں اور حقائق سے آگاہ کروں گا ،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میرا ٹرائل جہاں بھی ہو ورکرز اطمینان رکھیں ،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ورکرز خیبر پختونخوا میں کنونشن کا انعقاد کریں ،جیل میں ہونے والی سماعت کو ہم دوبارہ عدالت میں چیلنج کرنے جارہے ہیں

    بیرسٹر سلمان صفدر سماعت کے فورا بعد شیر افضل مروت کی میڈیا ٹاک پر برہم ہوگئے، میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ شیر افضل مروت کو باقی وکلاء کا انتظار کرنا چاہئیے تھا،جیل ٹرائل سے متعلق بریفنگ میں خود دیتا ہوں آئندہ ایسا ہوا تو سخت ایکشن لونگا،سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جیل ٹرائل کے خلاف درخواست مسترد کر دی ہے ،آج کی سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی ہوئی ہے، نقول کی کاپیاں تقسیم کر دی گئی،ہمیں 7 روز کا وقت دیا جانا چاہئے تھا،ہمیں وقت نہیں دیا گیا،ایسا لگ رہا ہے کہ اس کیس کے حوالے سے بہت جلدی فیصلہ کیا جائے گا،سائفر کی اصلی حقیقت کوئی بھی نہیں،چیرمین پی ٹی آئی پر سائفر تبدیلی کا الزام ہے،جیل ٹرائل جلد بازی میں کیا جارہا ہے،رہائی کے بعد جیل ٹرائل ختم ہو جاتا ہے،چیرمین پی ٹی آئی بار بار کہتے رہے کہ عدالتوں میں فئیر ٹرائل کیا جائے،چیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے حوالے سے رشتہ داروں اور وکلاء سے لاعلم رکھا گیا،جیل ٹرائل میں میڈیا کا داخلہ نہیں ہے، سلمان اکرم راجہ اس کو عدالت میں چیلنج کریں گے،جیل ٹرائل کی بجائے اوپن ٹرائل ہونا چاہئے، میڈیا کو بھی اجازت ہونی چاہئے،

    قبل ازیں اسپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے شاہ خاور اڈیالہ جیل پہنچ گئے،اسپیل پراسیکیوٹر ایف آئی اے شاہ خاورنے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج فرد جرم عائد کرنے کیلئے سماعت مقرر ہے، گزشتہ سماعت پر ملزمان نے چالان کی نقول وصول کرنے سے انکار کیا تھا، عدالت کا حکم ہے کہ آج فرد جرم عائد ہوگی اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، فرد جرم عائد ہونے کے بعد استغاثہ کی شہادتیں ریکارڈ اور مقدمہ کا ٹرائل شروع ہوتا ہے، گواہان کی شہادتیں مکمل ہونے کے بعد ملزم کا بیان ہوتا ہے، اگر ملزمان کی شہادت صفائی ہوتی ہے تو انکو دفاع کا پورا موقع دیا جائے گا،زیادہ سے زیادہ سزا کیپیٹل سینٹینس، چودہ سال یا کم سے کم جرم میں دو سال سزا ہوتی ہے،

    چئیرمین پی ٹی آئی کے ترجمان عمیر نیازی نےاڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کی سماعت میں نقول ہی تقسیم ہونی چاہئیے گزشتہ سماعت پر نقول تقسیم نہیں ہوئی،پراسیکیوشن کی سیکشن چودہ کی درخواست عدالت نے منظور نہیں کی، جیل میں سماعت ان کیمرہ نہیں میڈیا کو رسائی ہونی چاہئیے اس پر آج بات کرینگے، یہ چاہ رہے ہیں توشہ خانہ کی طرح اس مقدمے کا فیصلہ بھی سنایا جائے،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • عمران خان نے پرتشدد  مزاحمت کا راستہ اختیار کیا.  فرخ حبیب

    عمران خان نے پرتشدد مزاحمت کا راستہ اختیار کیا. فرخ حبیب

    عمران خان نے مزاحمت اور تشدد کا راستہ اختیار کیا اور عدم اعتماد کے بعد ہمیں چین سے بیٹھنے نہیں دیا گیا،عمران خان کو الیکشن کا انتظار کرنا چاہیے تھا، عوام کے ذہنوں میں نفرت کا بیج بُویا جبکہ جذبات کی وجہ سے میں بہت آگے نکل گیا. فرخ حبیب نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کرتے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں عمران خان پر الزامات کی بوجھاڑ کردی ہے.

    خیال رہے کہ تحریک انصاف کے رہنماء فرخ حبیب استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی دفتر لاہور پہنچے تھے جہاں انہو ں نے عون چوہدری کی موجودگی میں تحریک انصاف اور عمران خان کو خیرباد کہا اور اس پریس کانفرنس میں انہوں نے 9 مئی کے واقعات کی بھی بھرپور مزمت کی ہے، انہوں نے کہا ذرائع ابلاغ کےنمائندگان سے بہت ہی پرانا تعلق ہے جبکہ تقریبا پانچ ماہ سے ہم اپنے گھروں میں نہیں تھے.

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سابق رہنماء فرخ حبیب نے عدم اعتماد کے بارے میں کہا کہ کہ وہ آئینی طریقے سے ہوا تھا اور پی ٹی آئی چیئرمین کو آئینی طور پر اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ جبکہ خود احتسابی کا عمل بہت ضروری ہے اور یہ کوئی کفر یا اسلام کی جنگ نہیں تھی بلکہ 5 ماہ کے دوران دماغ میں ایک ہی سوچ موجود تھی اور وہ یہ کہہ ہم پاکستان کو حقیقی معنوں میں قائداعظم کا پاکستان بنانے میں مصروف تھے تاہم اب کچھ مخلص دوستوں نے اس مشکل وقت میں رہنمائی کی ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سائفر کیس عمران خان کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ
    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات
    سی ڈی اے افسران کے تبادلوں کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے گئے
    اسرائیل کی غزہ پر بمباری سے 11 صحافیوں کی بھی موت
    ان کا مزید کہنا تھا کہ عدم اعتماد کے بعد سیاسی جدوجہد کی بجائے انتشار کا راستہ اپنایا گیا تھا جو انتہائی غلط اقدام تھا، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کارکنوں کو تشدد کی راہ اپنانے کے لیے اکسایا تھا اور پی ٹی آئی کارکنوں کو اداروں کے خلاف بھی بھڑکایا گیا تھا ، سیاسی رہنما پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں لیکن چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کارکنوں کو 9 مئی کے سانحے کے لیے تیار کیا اور عمران خان نے کارکنوں کو بیلٹ کی بجائے پر تشدد کارروائیوں کا درس دیا یہی وجہ ہے کہ پر تشدد کارروائیوں سے املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا جو انتہائی قابل مزمت ہے.

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس عمران خان کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس عمران خان کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی
    ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت پیش ہوئے، عمران خان کے وکیل کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں،
    سائفر کیس میں اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ” قابل دست اندازی جرم پر ایف آئی آر کا اندراج بنتا ہے وفاقی حکومت نے سیکرٹری داخلہ کو کمپلینٹ داخل کرنے کی منظوری دی ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمہ میں دس سال سے کم سزا والی دفعہ میں ضمانت ہو سکتی ہے دس سال سے زائد سزا والی سیکشن لگی ہو تو وہ ناقابل ضمانت ہے مقدمہ اخراج کی درخواست میں کھوسہ صاحب نے تسلیم کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے جرم نہیں بنتا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سائفر آرہے ہوں گے روٹ آف پریکٹس ہوں گے وہ سمجھا دیجئے گا ، یقینا وزارت خارجہ نے ایس او پیز بنائے ہوں گے وہ بتا دیجئے گا ، سائفر کے ذریعے جو بھی معلومات آرہی ہے کیا وہ آگے کمیونیکٹ نہیں کی جا سکتیں ؟ وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ” ایک کیٹگری میں آپ معلومات شئیر کر سکتے ہیں دوسری کیٹگری میں آپ نہیں کر سکتے یہ سائفر ٹاپ سیکرٹ تھا اس کو شئیر نہیں کیا جا سکتا تھا ، جس چینل سے سائفر آیا تھا اسی چینل نے واپس جانا تھا ، سائفر کی کاپی کو آخرکار ضائع ہونا تھا صرف اوریجنل کاپی نے رہنا تھا ، پٹیشنر کے وکیل نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کی درست تعریف یا تشریح نہیں کی، عمران خان نے سائفر کی معلومات پبلک تک پہنچائیں جس کے وہ مجاز نہ تھے ” سیکرٹ ڈاکومنٹ پبلک کرنے پر بطور وزیر اعظم عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنا حاصل نہیں ،

    سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،ایف آئی اے سپشیل پراسیکیوٹر رضوان عباسی
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر آنے کے رولز آف پریکٹس ہوں گے، کچھ ایس او پیز بنائے ہوں گے، پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہاکہ سائفر کی دو کیٹگریز ہوتی ہیں جن میں سے ایک کی کمیونی کیشن کی جا سکتی ہے مگر دوسری کیٹگری کی نہیں،یہ سائفر دوسری کیٹگری کا سیکرٹ ڈاکومنٹ تھا جس کی معلومات پبلک نہیں کی جا سکتی تھیں، اس جرم کی سزا چودہ سال قید یا سزائے موت بنتی ہے ،سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،نعمان سائفر اسسٹنٹ کے پاس سائفر آیا ، ڈپٹی ڈائریکٹر عمران ساجد ، حسیب بن عزیز ، سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کا 161 بیان ہے ، شاموں قیصر وزیر اعظم ہاؤس میں سائفر آفیسر ، ڈی ایس پی ایم آفس حسیب گوہر کا 161 کابیان ہے ،ساجد محمود ڈی ایس وزیر اعظم آفس اور اعظم خان کا 161 کا بیان ہے ،اعظم خان کبھی بھی اس کیس میں ملزم نہیں تھے بلکہ وہ گواہ ہیں ان کے ایک اعتراض کی وضاحت کر دوں ، ان کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر تھانہ کوہسار میں درج ہوئی تھی کچھ دنوں بعد انہوں نے اس کیس کے تفتیشی افسر سے رابطہ کیا کہا پیس آف مائنڈ کے لیے کچھ عرصہ کے لیے وہ کہیں چلے گئے تھے پھر انہوں نے 164 کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا

    عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کا بنیادی گواہ کون ہے ؟اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ اعظم خان ، اسد مجید ، سہیل محمود بنیادی گواہ ہیں ،سائفر اسسٹنٹ نعمان کا 161 کا بیان اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت میں پڑھا سائفر کیس میں ایف آئی اے نے تین ایکسپرٹس کی رائے بھی شامل کی ہے کہ اس ایکٹ کے عالمی سطح پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں تین ایکسپرٹس میں اسد مجید خان ، سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور وزارت خارجہ کے سابق ڈی جی USA فیصل نیاز ترمزی کا بیان بھی شامل ہے ،سائفر کو پبلک میں لہرانا سیاسی تھا یہ آفیشل فنگشن آرٹیکل 248 کے استثنی میں نہیں آتا

    اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی تقریر میں پڑھنا چاہوں گا ، میں اعظم خان کا بیان بھی پڑھنا چاہوں گا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ضرورت ہے پڑھنے کی ؟ آپ ریکارڈ دے دیجیے گا میں دیکھ لوں گا ،سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت میں دلائل کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے بھارتی عدالت کا فیصلہ پڑھا.عدالت نے استفسار کیا کہ بھارت کا آفیشل سیکریٹ ایکٹ ہے آپ کے پاس ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ 90 فیصد بھی ایکٹ ہمارا اور بھارت کا ایک جیسا ہے ،عدالت نے کہا کہ ہم نے بھی انہوں نے بھی کچھ ترامیم کیں ہیں ،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ جن کیسز کے حوالے دیے ان میں زیادہ تر کلاسایفائیڈ ڈاکومنٹس کی معلومات لیک کرنے کے خدشات پر تھے،ان کیسز میں معلومات لیک کرنے کے ثبوت نہیں تھے مگر پھر بھی معلومات لیک ہونے پر سزائیں ہوئیں،
    اس کیس میں تو اعتراف جرم موجود ہے کہ سیکرٹ ڈاکومنٹ کی معلومات کو پبلک کیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ چالان جمع ہو چکا آپ نے گرفتار رکھ کر کیا کرنا ہے ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ایسی ججمنٹ دینا چاہتا ہوں چالان جمع ہو چکا تھا ضمانت خارج ہوئی، رولز آف بزنس 1973 عدالت کے سامنے پڑھا گیا،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ اگر عدالت تھوڑا وقت دے تو میں عدالتی معاونت کر دوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج ہی ختم کرنا ہے روزانہ اس کو لیکر نہیں بیٹھ سکتے، اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ سائفر سیکورٹی کے حوالے سے الگ سے رولز آف بزنس میں باب ہے،اگر کسی بیان سے پاکستان کے سپر پاور امریکا سے تعلقات متاثر ہوں تو یقینا اس کا کسی کو فائدہ بھی ہو گا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی وہ کر رہا ہے جو انتہائی ذمہ دار شخص ہونا چاہئے،اس متعلق معلومات تو وہ اپنی فیملی کے ساتھ بھی شیئر نہیں کر سکتا، یہ کیس بھی نہیں کہ اپنے فرینڈز کے درمیان بیٹھ کر معلومات شیئر کیں،وزارت خارجہ کے امریکہ میں افسر فیصل ترمذی کا بیان ریکارڈ کا حصہ ہے ، جس میں فیصل ترمذی کے بیان میں موجود ہے کیسے ایک ملک سائفر پبلک کرنے سے متاثر ہوا ، کیسے انہوں نے اس ایکٹ کو لیا ، کیسے دوسرے ملک کے تعلقات پر اثر ہوا پاکستان میں 23 مارچ کی او آئی سی کی میٹنگ میں امریکی وفد بطور ابزور بھی آیا ہوا تھا،انہوں نے سیاسی فائدے کے لئے سائفر کو استعمال کیا،سردار لطیف کھوسہ نے کہہ دیا اور تسلیم بھی کر لیا ہے اس وقت کے وزیر اعظم نے یہ سب کیا تھا،

    سائفر کیس میں ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل مکمل کر لیے عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے جوابی دلائل شروع کر دیے، عمران خان کے وکیل کے دلائل مکمل ہوئے تو عدالت نے سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفر کیس،عمران خان کی درخواست مسترد،سماعت جیل میں ہی ہوگی

    سائفر کیس،عمران خان کی درخواست مسترد،سماعت جیل میں ہی ہوگی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سائفر کیس میں جیل سماعت کے خلاف درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نا مل سکا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،سائفر کیس کی سماعت کل جیل میں ہی ہو گی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل ٹرائل سکیورٹی کے مدنظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے ، بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی ، عمران خان خود اپنی سکیورٹی کے حوالے ماضی متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ، عمران خان کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں

    عمران خان سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں ، سائفر کیس کا ٹرائل جیل میں ہو رہا ہے، ابتدائی سماعتیں اٹک جیل میں ہوئی بعد میں عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا، عمران خان نے جیل کی بجائے عدالت میں سماعت کی استدعا کر رکھی ہے جس پر چند روز قبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

  • خاتون جج دھمکی کیس،چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے،وکیل

    خاتون جج دھمکی کیس،چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے،وکیل

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر جوڈیشل مجسٹریٹ مریدعباس کی عدالت پیش ہوئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، ابھی بھی ہورہی، مجھے نہیں معلوم اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت میں موجود ہیں یا نہیں،

    پرایسکیوشن عدالت میں موجود ہے، معاون پراسیکیوٹر روسٹرم پر آگئے ،معاون پراسیکیوٹر نے کہا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی اسلام ہائیکورٹ میں مصروف ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی کو بلا لیں، 2 بجے سماعت رکھ لیتےہیں،میں انتظار کرلوں گا، آج یا کل اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی سےعدالت پیش ہونے کی گارنٹی لیں،جج مریدعباس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے صرف خاتون جج دھمکی کیس کی وجہ سے آج کے دیگر کیسز ملتوی کردیے،

    عدالت پیشی کے موقع پر بھی عمراں خان نے عدالت سے اس کیس میں معافی مانگی تھی،چیرمین پی ٹی آئی عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ 27 سال میں نے قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی ہےمیں نے جوش خطابت میں ایک مظاہرے میں یہ الفاظ کہیں تھے ،میں نے اپنے الفاظ پر معافی مانگنے کے لیے جج زیبا چوہدری کی عدالت بھی گیا، آج تک میں نے کوئی قانون نہیں تھوڑا، عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں عدالت میں کھڑے ہوکر معافی مانگ لی ،کہا کہ اگر میں نے لائن کراس کی ہے تو معذرت چاہتا ہوں،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاتون جج اور انتظامی افسروں کو دھمکی دی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم گزشتہ سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی،عمران خان کے اس کیس میں وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، تا ہم بعد میں منسوخ کر دیئے گئے تھے، عمران خان اس کیس میں ضمانت پر ہیں

  • پی ٹی آئی کی لاہور میں جلسہ کی اجازت کیلئے درخواست پر سماعت ملتوی

    پی ٹی آئی کی لاہور میں جلسہ کی اجازت کیلئے درخواست پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی کی لاہور میں جلسہ کی اجازت کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی،فاضل جج کی رخصت کی بنا پر درخواست پر سماعت نہ ہو سکی،جسٹس راحیل کامران ایڈیشنل سیکرٹری پی ٹی آئی پنجاب عظیم اللہ خان کی درخواست پر سماعت کرنا تھی،درخواست میں ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک میں عنقریب عام انتخابات کا انعقاد ہونے جارہاہے پی ٹی آئی نے الیکشن کیلئے اپنے منشور کا اعلان کیلئے جلسہ کا انعقاد کرنا ہےیہ جلسہ موچی گیٹ یا بابا گراونڈ میں ہونا ہے،ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر ذمہ داران کو جلسے کی اجازت کیلئے درخواستیں دیں جلسے کیلئے پی ٹی ائی کو اجازت نہیں دی گئی،اجازت نہ ملنے سے جلسے کے انتظامات کرنے کیلئے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے الیکشن کیلئے آئین ہر سیاسی جماعت کو عوامی رابطے کی اجازت دیتا ہے عدالت ڈپٹی کمشنر لاہور کو پی ٹی آئی کو موچی گیٹ یا بابا گراونڈ میں جلسہ کرنے اجازت دینےکا حکم دے

    دوسری جانب نواز شریف کی پاکستان واپسی پر ڈی سی لاہور نے ن لیگ کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت دے رکھی ہے

    شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس 

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

  • سابق وزیر اعظم کے بھی حقوق ہیں ان کا بھی وقار ہے،وکیل لطیف کھوسہ

    سابق وزیر اعظم کے بھی حقوق ہیں ان کا بھی وقار ہے،وکیل لطیف کھوسہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سائفر کیس مقدمہ اخراج اور ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیئے ، ایف آئی اے نے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کردی،دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کھوسہ صاحب یہ بتائیں کہ پاکستان میں امریکہ کی طرح دستاویزات ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کا کوئی قانون موجود ہے ؟ لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ اس سائفر کو تو وفاقی کابینہ نے ڈی کلاسیفائیڈ کردیا تھا ، اس ملک میں لیاقت علی خان کا قتل ہوا ، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے ، یہ سائفر امریکہ میں سفیر اسد مجید نے دفتر خارجہ کو بھجوایا تھا ، میرے دوست کہیں گے سیاسی بات کر رہا ہے غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے اسرائیل کے پیچھے امریکہ ہے ، امریکہ کو ہم نے سپر پاور خدا مان لیا ہے ، امریکہ نے اس ملک کے وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے دھمکی دی ، یہ تسلیم شدہ ہے یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت تھی پاکستان نے امریکہ سے احتجاج کیا ، میں نے جب یہ کیس دیکھا تو حیران رہ گیا اس ملک کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور وزیراعظم جو چیف ایگزیکٹو ہے وہ بول بھی نہیں سکتا ، بھٹو صاحب کو بھی مولوی مشتاق کی کورٹ میں جنگلے میں لا کر کھڑا کیا گیا تھا ، یہاں عمران خان کو بھی جنگلے میں لے کر آئے ، ان کو جیل میں بھی ڈر کس چیز کا ہے کیا خوف ہے وہ سابق وزیراعظم ہیں ، سابق وزیر اعظم کے بھی حقوق ہیں ان کا بھی وقار ہے ، یہ اعظم خان کا بیان لیکر آ گئے ہیں جو تین ہفتے لاپتہ رہا ، یہ کہنا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سائفر لے گیا یہ مضحکہ خیز ہے ،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کو ایک ایسے آرڈر کے تحت گرفتار کیا گیا جس پر تاریخ تک نہیں تھی،سولہ اگست کو ایف آئی اے نے جسمانی ریمانڈ مانگا جسے ٹرائل کورٹ نے مسترد کر دیا، چیرمین پی ٹی آئی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ،عدالت کل چیرمین پی ٹی آئی پر فرد جرم عائد کرنے جا رہی ہے، چیرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم اپنا قانونی اور آئینی حق استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا، سابق وزیراعظم نے اپنے آئینی حلف سے غداری نہیں کی، چیرمین پی ٹی آئی پر سائفر میں ردوبدل کا الزام بے بنیاد ہے، سائفر کا کوڈ ملزم نے نہیں بلکہ خود استغاثہ نے ایف آئی آر میں ظاہر کیا،38 ویں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں فارن سیکریٹری کو طلب کیا گیا،فارن سیکریٹری نے سائفر کو کنفرم کیا ، ایک بات واضح ہے کہ بطور وزیراعظم میرے سامنے سائفر آیا ،خان صاحب سائفر کو ہائیئسٹ فارم نینشل سیکیورٹی کمیٹی میں لے کر گئے،نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے سائفر کو بلیٹنٹ انٹرفیئرینس قرار دیا اور سخت ڈیمارش کرنے کا فیصلہ کیا ، پی ڈی ایم غلام رہنا چاہتی ہے تو رہے یہ ان کا سیاسی ہتھیار ہے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سائفر کیس مقدمہ اخراج کی درخواست میں سردار لطیف کھوسہ نے تحریری دلائل بھی عدالت میں جمع کرا دئیے،چیف جسٹس عامر فاروق نے سردار لطیف کھوسہ کے دلائل کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا ،” آپ نے دلائل میں تین نقاط عدالت کے سامنے رکھے ہیں ، پہلی بات آپ کہہ رہے ہیں آرٹیکل 248 کا استثنی حاصل ہے ، دوسری پوائنٹ آپ کا یہ ہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا ، تیسرا پوائنٹ آپ کا یہ ہے کہ وزیر اعظم کی ذمہ داری تھی کہ پبلک کے ساتھ شئیر کرتے ” وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک پوائنٹ یہ بھی ہے سائفر کابینہ میٹنگ میں ڈی کلاسیفائی ہو چکا تھا ،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سائفر کیس میں سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا ،میں نے کہا سازش سے نکالا پی ڈی ایم کا موقف تھا عدم اعتماد کرکے نکالا ، سائفر میرے پاس نہیں ہے وہ موجود بھی وزارت خارجہ میں ہے ،انہوں نے ایف آئی آر میں کوڈ لکھا ہے انہوں نے خلاف ورزی کی ہے ، کس نے ان کو کہا تھا کوڈ ایف آئی آر میں لکھیں ،ٹرائل کورٹ نے آرڈر میں دھمکی بھی لگائی ہوئی ہے ، انگریزی تو جیسی بھی ہے میری بھی انگریزی ایسی ہے ، ٹرائل کورٹ کی انگریزی بھی ایسی ہی ہے ،انگریزی سب کی اسی طرح ہی ہے ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے نا ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے نا سیکشن 5 کا ؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل نا ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے نا سیکشن 5 کا اطلاق ہوتا ہے ، یہ ممنوعہ جگہ نہیں ہے اگر ملک کے خلاف کوئی سازش ہو تو عوام کو بتانا وزیراعظم کا کام ہے ، یہاں انہوں نے بڑی آسانی سے اعلان کر دیا کہ سزا موت بھی ہو سکتی ہے ،

    ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات سے متعلق سردار لطیف کھوسہ نے پڑھا اور کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نگران حکومتیں چل رہی ہیں ،کیا ہم نے پاکستان کو سرزمین بے آئین بنادیا ہے ؟چیئرمین پی ٹی آئی کو آپ کی عدالت کے احاطے سے نو مئی کو گرفتار کیا گیا ،سپریم کورٹ نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے کر چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کا حکم دیا،
    اس کا تو کوئی ذکر نہیں کرتا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت کی حدود سے غیر قانونی گرفتار کیا گیا،نو مئی کو عدالت کی حدود میں عدالتی عملے وکلا کو مارا گیا ،پی ٹی آئی کے دس ہزار کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اس پر تو کوئی بات نہیں کرتا ،آج کے دن سابق وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا تھا ،آج کے دن میں آپ سے ،متجسس ہوں، درخواست کرتا ہوں، قوم آپ کی طرف انصاف کیلئے دیکھ رہی ہے ،کیس کی سماعت میں دو بجے تک کا وقفہ کردیا گیا

    سائفر کیس مقدمہ اخراج کی درخواست پر عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہو گئے ،

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • ہیلی کاپٹر،جہاز یا پھر بکتر بند گاڑی میں لائیں،عمران خان کی پیشی لازمی ہے ،وکیل

    ہیلی کاپٹر،جہاز یا پھر بکتر بند گاڑی میں لائیں،عمران خان کی پیشی لازمی ہے ،وکیل

    چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف تھانہ کھنہ میں دو اور ایک تھانہ بارہ کہو میں درج مقدمات ،انسداد دہشت گردی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے چیئرمین پی ٹی آئی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی استدعا کردی،وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواستیں بحال کی ہیں اس کیس میں ملزم کی پروڈکشن لازمی ہیں، ہیلی کاپٹر پر لائیں ، جہاز میں یا پھر بکتر بند گاڑی میں لائیں چیئرمین پی ٹی آئی کی پیشی لازمی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے ، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری ضرور ہے مگر حقیقت ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں ہیں، اےٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے 24 اکتوبر تک تینوں مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا,عدالت نے سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کردی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ملزم کی عدالت میں موجودگی ضروری ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کل جیل میں درخواست ضمانت سنی جائے،

    پراسکیوٹر ،راجہ نوید نے کہاکہ پہلے چیئرمین پی ٹی آئی سیکورٹی خدشات کے پیش نظر پیش نہیں ہوتے تھے،عدالت سیکورٹی سے متعلق رپورٹ طلب کرلے اس کے بعد فیصلہ کرے،پہلے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کی یہاں موجودگی کی وجہ سے دو مقدمات درج ہوئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن آج کہہ رہی چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی خدشات ہیں، عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیسز کا ریکارڈ کہاں ہے؟ پراسکیوٹر نے کہا کہ آج ریکارڈ نہیں ہے، ریکارڈ پیش کردیں گے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج سیکورٹی خدشات والی ہماری بات پراسکیوشن خود دہرا رہی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو کہتے تھے پیش ہوں ورنہ ضمانت خارج کردی جائے گی،چیئرمین پی ٹی آئی ہر پیشی پر عدالت پیش ہوتے تھے،کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ جج ملزم کے سامنے پیش ہونے جارہاہو،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ اگر چیئرمین پی ٹی آئی کی موجودگی کا مسئلہ ہے تو کل جہاں ہم نے جانا ہے وہیں درخواستِ ضمانت سن لیں، درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری ضرور ہے مگر حقیقت ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں ہیں، آپ چاہتے ہیں کہ ملزم کی عدالت میں موجودگی ضروری ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کل جیل میں درخواست ضمانت سنی جائے،جج ابوالحسن ذوالقرنین نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو ہر ریلیف ملے گا جو آپ کا حق ہوگا، سلمان بھائی آپ بہت بڑے چیمبر سے ہیں، بغیر کسی تفریق کے کیس چلے گا،

    واضح رہے کہ عمران خان کو عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی تھی تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی، جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اٹک جیل میں تھے جہاں سے انہیں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا، عمران خان اڈیالہ جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

  • سائفر کیس،جیل میں ٹرائل ہو گا یا عدالت میں؟ فیصلہ کل

    سائفر کیس،جیل میں ٹرائل ہو گا یا عدالت میں؟ فیصلہ کل

    سائفر کیس کے جیل ٹرائل کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر فیصلہ کل پیر کو سنایا جائے گا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کاز لسٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل ٹرائل کے خلاف درخواست پر محفوظ فیصلہ سنائیں گے،

    عمران خان سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں ، سائفر کیس کا ٹرائل جیل میں ہو رہا ہے، ابتدائی سماعتیں اٹک جیل میں ہوئی بعد میں عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا، عمران خان نے جیل کی بجائے عدالت میں سماعت کی استدعا کر رکھی ہے جس پر چند روز قبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب کل سنایا جائے گا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

  • عمران خان نے استثنیٰ کی بنیاد پر عدالت سے مقدمہ اخراج کی استدعا کردی

    عمران خان نے استثنیٰ کی بنیاد پر عدالت سے مقدمہ اخراج کی استدعا کردی

    پہلی دفعہ سائفر کیس میں عمران خان نے آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ کی بنیاد پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے مقدمہ اخراج کی استدعا کردی ہے جبکہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو attract نہیں کرتی اور 248 کا استثنی بھی حاصل ہے اس لئے فوری طور پر سائفر ٹرائل کی کاروائی روکی جائے اور مقدمہ خارج کیا جائے .

    تاہم چیف جسٹس عامر فاروق نے تحریری حکم نامے میں ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ سے ایک روز قبل 16 اکتوبر کو جواب طلب کر لیا ہے. اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں اخراج مقدمہ اور ٹرائل روکنے کی دونوں درخواستیں یکجا کردیں تھیں اور ریمارکس دیے کہ اس حوالے سے احکامات جاری کردیے جائیں گے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی تھی اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کے سامنے مؤقف پیش کیا تھا کہ کارروائی روکنے اور فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست ہے، معاملہ ہائیکورٹ میں چل رہا ہے اورفیصلہ محفوظ ہے، لاہور ہائیکورٹ نے بھی ایک کیس میں حکم امتناعی جاری کیا ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    زہر پینے کی اجازت مانگنے والے شہری کی درخواست خارج
    ویویک اوبرائے کے ساتھ کروڑوں کا فراڈ
    بھارت کی دوسری وکٹ بھی گرگئی
    انڈونیشین طیارہ پاکستان اور پی آئی اے طیارے وہاں، مزاکرات مکمل
    انڈونیشین طیارہ پاکستان اور پی آئی اے طیارے وہاں، مزاکرات مکمل
    ورلڈ کپ کا کانٹے دار مقابلہ، مودی کے لئے سب سے بڑا سبق

    لطیف کھوسہ نے کہا تھا کہ ہم نے بار بار کہا کہ جلدی نہ کی جائے معاملہ ہائیکورٹ میں چل رہا ہے، ہمیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ سے متعلق کافی خدشات ہیں، کون سی سیکیورٹی کا خطرہ ہے؟ یا سیکریسی لیک ہورہی ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے بھی راجہ بازارمیں تقریر میں ایسے ہی بتایا تھا تو کیا ہوا جبکہ وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ میرے مؤکل قومی ہیرو ہیں اور دنیا جانتی مانتی ہے اب وہ بے گناہ جیل میں ہیں۔