Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • بشریٰ بی بی کی درخواست، وکیل ہی عدالت پیش نہ ہوا

    بشریٰ بی بی کی درخواست، وکیل ہی عدالت پیش نہ ہوا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل میں سیکورٹی اور تحفظ کی درخواست جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی متفرق درخواست پر سماعت ہوئی

    درخواست گزار بشری بی بی کی جانب سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بشری بی بی کی درخواست پہلے ہی 25 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر ہے، رجسٹرار آفس کا رول ہے، کیس 25 اکتوبر کو ہی سنا جائے گا ،

    بشری بی بی نے سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا ،دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ پانچ اکتوبر کو سماعت ہوئی تو عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کیے،عدالت نے درخواست کو دو ہفتوں میں دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کا کہا، رجسٹرار آفس نے درخواست کو 25 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے، استدعا ہے کہ درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل میں سیکورٹی اور تحفظ کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے،

    واضح رہے کہ عمران خان سائفر کیس میں جیل میں جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں، عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل شفٹ کر دیا گیا ہے، سائفر کیس میں عمران خان کو عدالت نے چار اکتوبر کو طلب کر لیا ہے، ایف آئی اے نے سائفر کیس میں چالان جمع کروا دیا ہے،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • جیل میں عمران خان کا ہاضمہ خراب ہو گیا

    جیل میں عمران خان کا ہاضمہ خراب ہو گیا

    تحریک انصاف کے چیئرمین ،سابق وزیراعظم عمران خان کو توشہ خان کیس میں عدالت نے سزا سنائی تو انہیں زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا، توشہ خانہ کیس کی سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کی تو انہیں سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، اٹک جیل سے عمران خان کو اڈیالہ جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے،عمران خان سے جیل میں انکی اہلیہ بشریٰ بی بی، اور وکلاء کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، عمران خان سے انکی بہنوں کی بھی ملاقات ہوئی ہے، آج بھی عمران خان کے وکیل اور ذاتی معالج جیل میں عمران خان کو ملنے گئے

    عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد ڈاکٹر عثمان یوسف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں، انکو صرف ہاضمے کا مسئلہ ہے،وہ پہلے بھی ہوتا ہے،جیل اتھارٹی کو ایک ٹیسٹ کا کہا ہے اسکے لئے دوا بتائی ہے، انکی خوراک سادہ رہی ہے، انکی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں، میں نے آج انکا تفصیلی معائنہ کیا، مجھے خوشی ہوئی انکی صحت اچھی لگی،جب سے انکو گولی لگی پچھلے برس سے تب سے وہ ورزش کم کر رہے تھے تو انکا وزن کم ہو گیا تھا،عمرا ن خان کی فزیکل اور مینٹل صحت کے حوالہ سے مطمئن ہوں، ماشاء اللہ وہ صحت یاب ہیں،

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام بیوقوف ہیں،انکو کسی بھی طرح گمراہ کیا جا سکتا ہے ایسی افواہیں اڑائی جاتی ہیں کہ سب یقین کر لیتے ہیں،عمران خا ن کےوکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ عمران خان کل کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہیں،عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ ملک معاشی بحران کا شکار ہے اور اسوقت ملک کو مقبول رہنما کی ضرورت ہے، مقبول لیڈر ہی معیشت کو ٹھیک کر سکتا ہے،عمران خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے الیکشن نہیں کروائے، اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر ہیں، اپیل کے حق کا فیصلہ درست فیصلہ ہے،

    عمران خان جیل میں ہیں لیکن انکا ٹویٹر اکاؤنٹ ایکٹو ہے اور مسلسل چل رہا ہے، آج عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ کی گئی ہے جس کا عنوان ہے،جیل سے عمران خان کا اپنے خاندانی ذرائع سے عوام کیلئے پیغام:

    عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا گیا ہے کہ جب پانچ اگست کو مجھے اٹک جیل میں قید کیا گیا تھا تو پہلے چند روز میرے لئے خاصے مشکل تھے۔ سونے کیلئے میرے پاس بستر نہیں تھا اور مجھے فرش پہ لیٹنا پڑتا تھا جہاں دن کے وقت کیڑے مکوڑے اور رات کو مچھر ہوتے تھے۔ لیکن اب میں اس میں ایڈجسٹ ہوگیا ہوں۔

    آج کے عمران خان میں اور اُس عمران خان میں جسے پانچ اگست کے روز قید کیا گیا تھا، زمین آسمان کا فرق ہے۔ میں آج روحانی، ذہنی اور جسمانی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوں کیونکہ جیل کی تنہائی میں مجھے قرآنِ پاک کا بغور مطالعہ کرنے کا موقع ملا جس نے میرے ایمان کو مزید مستحکم کیا۔ اور قرانِ پاک کے ساتھ ساتھ میں دیگر کتب کا مطالعہ بھی کررہا ہوں اور اپنی سیاسی زندگی کے گذشتہ چند سالوں کے واقعات پہ غور بھی کررہا ہوں۔

    یہ لوگ مجھے جس جیل میں بھی رکھیں، جیسے حالات میں بھی رکھیں آپ نے گھبرانا نہیں ہے اور نہ ہی میرے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں سے پریشان ہونا ہے۔ میں عوام کے حقِ حاکمیت اور آئینِ پاکستان کی بنیادی ترین شرط، صاف شفاف الیکشن، کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ جو لوگ مجھے کہ رہے ہیں کہ آپ ملک چھوڑ کر چلے جائیں انکو میراایک ہی جواب ہے کہ میرا جینا مرنا پاکستان کیساتھ ہے اور میں اپنی دھرتی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔

    جہاں تک سائفر مقدمے کا تعلق ہے، یہ مقدمہ سابق آرمی چیف جرنیل باجوہ، ڈونلڈ لو کو بچانے کیلئے گھڑا گیا ہے۔ ملک کا منتخب وزیراعظم تو میں تھا، جنرل باجوہ کے ساتھ مل کر غداری تو میرے ساتھ کی گئی اور آج مجھ پہ مقدمہ اسلئے قائم کیا گیا کہ میں نے پاکستانی عوام کو، جو کہ اس ملک کے اصل حاکم ہیں، اس غداری کی خبر دی۔

    مجھے اگر کسی چیز کی تکلیف ہے تو اُن کارکنان، خصوصاً خواتین کارکنان، کی اسیری کی تکلیف ہے جنہیں طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا چند افراد نے اپنی انا کی تسکین کیلئے کئی ماہ سے قید کیا ہوا ہے۔ میری عدلیہ سے اپیل ہے کہ ہمارے کارکنان کو رہائی دلائی جائے ۔

    آخر میں, آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔ آپ ثابت قدمی سے ڈٹے رہیں۔ یہ آزمائش کا وقت ختم ہو کر رہے گا کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ "ہر مشکل کیساتھ آسانی ہے”۔ آپ ہر فورم پہ اس غیر منتخب حکمران ٹولے اور انکے سہولتکاروں کیخلاف آواز اُٹھاتے رہیں اور ملک میں صاف شفاف الیکشن کا مطالبہ کرتے رہیں۔

    میں پیشنگوئی کررہا ہوں کہ جس دن بھی الیکشن ہوا، انشاءاللہ پاکستانی عوام کروڑوں کی تعداد میں نکلیں گے اور تحریکِ انصاف کو ووٹ ڈال کر لندن پلان والوں کو شکست دیں گے۔ یہ لوگ جتنی مرضی دھاندلی کرلیں، انکا مقدر صرف اور صرف شکست ہے۔

    پاکستان زندہ باد

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفرکیس، ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،چیف جسٹس

    سائفرکیس، ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،چیف جسٹس

    سائفر کیس میں چیرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیر سے آنے پر معذرت کرتا ہوں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرے 60 فیصد دلائل مکمل ہو گئے ہیں ،تینوں اسپیشل پراسیکیوٹرز عدالت میں پیش ہوئے،اسپیشل پراسکییوٹر راجہ رضوان عباسی، شاہ خاور اور ذوالفقار نقوی بھی روسٹرم پر موجود تھے،اسپیشل پراسکییوٹر رضوان عباسی نے جیل میں ٹرائل کے دوران نقول کی فراہمی کا معاملہ اٹھا دیا

    اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ جیل ٹرائل کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء نے نقول وصول کیں لیکن دستخط نہیں کیے،9 اکتوبر کو نقول ملزمان کو دیں گئیں،ملزمان کے وکلا نے کہا ہے کہ جیل سماعت کیلئے ان کی درخواست زیر التوا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل سماعت کیخلاف درخواست پر فیصلہ کل یا پیر کو آ جائے گا،اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت ان کیسز کو اکٹھا کرکے ہی سن لے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،ٹرائل کے حوالے سے کوئی اسٹے آرڈر موجود نہیں، ٹرائل کورٹ نے ٹرائل اپنے لحاظ سے چلانا ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ ٹرائل کو چلنے نہیں دے رہے،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا ،وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے، سیکشن فائیو کا اطلاق مسلح افواج کے معاملے پر ہوتا ہے ، اس کیس میں کوئی نقشے کوئی تصویر اور قومی سلامتی کا مواد لیک نہیں کیا گیا ، آج سے پہلے کسی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے خلاف سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی نہیں ہوئی، یہ بہت بدنامی کی بات ہے، یہ قانون صرف فوجیوں کے لیے ہے، میں نے یہ سوال اٹھایا یہ کیس وزارت خارجہ نے کیوں نہیں کیا، وزارت داخلہ اس کیس میں فریق کیسے ہو سکتا ہے ؟ مارچ میں چیئرمین پی ٹی آئی نے ایک جلسے میں صفحہ لہرایا ، ایف آئی آر میں اسکا بھی ذکر نہیں ،
    اس کیس میں کہیں یہ ثابت نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ملکی راز دشمن کیساتھ شیئر کیا ، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سائفر کی لینگویج پر ایک غیر ملکی سفیر کو ڈیمارش کیا گیا ، چیئرمین پی ٹی آئی سیاسی قیدی ہیں،ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ سائفر کو ریکور کرنا ہے۔ان کے الزامات ہیں کہ سائفر کو اپنے پاس رکھا اور ٹوئسٹ کیا۔انہوں نے سائفر کو ریکور ہی نہیں کیا تو یہ کیسے پتہ چلا کہ اس کو ٹوئسٹ کیا۔ایف آئی آر میں نہیں بتایا گیا کہ یہ معاملہ کابینہ اجلاس اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں رکھا گیا، سائفر والا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی لے جایا گیا، میں حیران ہوں یہ اس معاملے کو کریمنل ڈومین کو کیسے لے آئے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ معاملہ چار فورمز پر رکھا گیا اور بعد میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ، کابینہ اجلاس، نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ اور سپریم کورٹ میں بھی معاملہ ڈسکس ہوا،یہ معاملہ دو مرتبہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے پاس گیا،
    اس کے متن کے اوپر فارن ڈپلومیٹ کو بلا کر احتجاج کیا گیا، پراسیکیوشن کے سائفر کیس میں بہت سے لنکس مسنگ ہیں۔ سوموٹو کیس میں سائفر کا سارا معاملہ ڈسکس ہوا ، سپریم کورٹ میں اس کو کہیں نہیں کہا گیا کرمنل ایکٹ ہوا ہے۔
    نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے پاس گیا کابینہ کے پاس گیا انہوں نے نہیں بتایا ،سائفر کی جو لینگوئیج ہے وہ قابل مذمت ہے نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ کا لب لباب تھا ،سائفر کی زبان کے استعمال پر احتجاج کیا گیا ،سات مارچ 2022 کو سائفر وصول ہوا ،عدالت نے استفسار کیا کہ سائفر امریکہ سے وصول ہوا ؟ اسپیشل پراسیکیوٹرنے کہا کہ پاکستان ہائی کمیشن امریکہ سے وصول ہوا ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ 27 مارچ کا یہ کہتے ہیں بتایا نہیں لہرایا ایف آئی آر میں نہیں ہے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ میں اس کے سامنے رکھا گیا ،9 اپریل 2022 کو کابینہ کی میٹنگ میں ڈی کلاسیفائیڈ کیا گیا ، چیف جسٹس ، اسپیکر ، صدر کے پاس بھیجا گیا ،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ سائفر سات مارچ 2022 کو آیا اور گیارہ مارچ تک پٹیشنر کے پاس رہا، گیارہ اپریل کو شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم حلف لیا، وزیراعظم کی سربراہی میں 24 اپریل کو نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی،پانچ ماہ بعد کابینہ ایف آئی اے کو آگاہ کرتی ہے کہ سائفر وزیراعظم ہاؤس سے غائب ہے،ایف آئی اے چھ دن بعد اس معاملے پر انکوائری سٹارٹ کر دیتی ہے،اگر سائفر وزیراعظم ہاؤس میں تھا تو کیا شہباز شریف اس کیس میں ملزم ہیں؟ انہیں شامل تفتیش کر کے بیان لیا گیا؟ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ سائفر کے بغیر کیوں کی گئی تھی؟ ایف آئی اے کا کیس ہے 33 دن سائفر عمران خان کے پاس رہا جبکہ یہی سائفر سابق وزیراعظم شہباز شریف کے پاس 169 دن رہا کیا شہباز شریف اس کیس میں ملزم ہیں ؟ کیا شہباز شریف کا بیان ریکارڈ کیا گیا ؟

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ریکارڈ مینٹین کرنا اس کے آفس کی ذمہ داری ہوتی ہے ،اگر یہ کرمنل ایکٹ اعظم خان کو معلوم تھا تو وہ مدعی کیوں نہیں ؟اعظم خان 15 اگست کو ملزم ٹھہرتے ہیں ، پھر اعظم خان لاپتہ ہوتے ہیں پریشر دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، یہ ڈاکومنٹری ثبوتوں کا کیس ہے کہاں ہیں وہ دستاویزات ؟ فزیکل ریمانڈ تو ان کو ملا نہیں ،نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ کی پریس ریلیز عدالت کے سامنے پڑھی گئی ،وکیل نے کہا کہ میں صرف ضمانت کے کیس پر دلائل دے رھا ہوں کہ یہ مزید انکوائری کا کیس ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ
    کیا کابینہ کے میٹنگ منٹس سپریم کورٹ کے سامنے تھے ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ کابینہ کے میٹنگ منٹس بھی کلاسیفائیڈ ہوتے ہیں ،سپریم کورٹ کے سامنے بھی پریس ریلیز ہی تھیں وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جب پراسیکیوشن کے پاس کچھ نا ہو تو پھر شریک ملزمان کے بیانات کا سہارا لیا جاتا ہے ،اعظم خان کا بیان انہوں نے شامل کیا ہے حالانکہ وہ ایف آئی آر میں نامزد ہے ،عدالت اس معاملے سے آگاہ ہے کہ اعظم خان کے لاپتہ ہونے پر ایف آئی آر درج ہوئی تھی ،بیرسٹر سلمان صفدر نے اعظم کی گمشدگی کی ایف آئی آر عدالت میں پیش کردی اور کہا کہ قانون کے مطابق ایسے بیان کی کوئی حیثیت نہیں جو غیر قانونی حراست کے دوران دیا گیا ہو، ریکارڈ کی دیکھ بھال پرنسپل سیکرٹری کی ذمہ داری ہوتی ہے ، الزام ہے کہ سابق وزیر اعظم سائفر کو اپنے ساتھ لے گئے ،ایسی صورتحال میں تو اس مقدمے کا مدعی اعظم خان کو ہونا چاہئیے تھا ،

    سائفر کیس عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ، سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہو گئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت پلیز آج ضمانت پر فیصلہ کر دے ، پیر کے روز ٹرائل کورٹ فرد جرم عائد کرنے لگے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا جب دلائل مکمل ہو جائیں گے دو تین دن فیصلے میں لگیں گے جتنا وقت آپ کو دیا ہے اتنا وقت پراسیکیوشن کو بھی دوں گا

    اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل کا آغاز کر دیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ شروع کریں سوا چار بجے تک ، پھر آئندہ دلائل ہوں گے ،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ” قانون کے پرانے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا عمل نہیں ہو گا 1960 میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کو آرمی ایکٹ کا حصہ بنا دیا گیا اگر وہ چاہییں تو فوجی عدالتوں میں بھی ٹرائل ہو سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں "، عدالت نے استفسار کیا کہ کوئی وزیر اعظم ، صدر ، گورنر آتے ہیں کیا پوری زندگی وہ آفیشل سیکرٹ کو ظاہر نہیں کر سکتے؟اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ بالکل پوری زندگی وہ ڈسکلوز نہیں کر سکتے،یہ ایسا ڈاکومنٹ ہے جس کو آپ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے وہ واپس جانا ہے، یہ سیکریٹ ڈاکومنٹ تھا ڈی کلاسیفائیڈ بھی نہیں ہوا اور ہو بھی نہیں سکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چالان کے ساتھ جو ڈاکومنٹ ہیں کیا سائفر کی کاپی اس کے ساتھ منسلک ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ چالان کے ساتھ سائفر کی کاپی نہیں لگ سکتی ،گواہوں کے بیانات بھی ہیں وزارت خارجہ سے متعلق بھی گواہ ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ نا کوڈڈ نا ہی ڈی کوڈڈ سائفر چالان کا حصہ ہے؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ سیکریٹ ہونے کی وجہ سے اس کو چالان ہے ساتھ منسلک کر نہیں سکتے،

    سائفر کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی، اسپیشل پراسیکیوٹر دلائل جاری رکھیں گے

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • 16جون کے بعدبشریٰ بی بی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا،حکومت

    16جون کے بعدبشریٰ بی بی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا،حکومت

    لاہور ہائیکورٹ، چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر مقدمات، انکوائریوں کی تفصیلات کے حصول کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست موثر قرار دے کر نمٹا دی،عدالت میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت نے جوابات داخل کرا دیئے،وفاقی و صوبائی حکومت نے عدالت میں جواب جمع کرواتے ہوئے کہا کہ 16جون کے بعد درخواست گزار کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا،درخواست گزار بشری بی بی کے وکیل نے درخواست پر زور نہ دیا اورواپس لے لی،جسٹس عالیہ نیلم نے سابق وزیراعظم کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں حکومت پاکستان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی درخواست گزار کے خاوند اور جیل میں قید ہیں،درخواست گزار کیخلاف ملک بھر میں کیسز درج ہیں،درخواست گزار کیخلاف مختلف حکام کی جانب سے نظربندی کے احکامات جاری کیے گئے، نیب، ایف آئی اے، انٹی کرپشن اور پولیس میں ایف آئی آرز، انکوائرئیز زیر التوا ہیں، عدالت تمام معلوم اور نامعلوم کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے،عدالت تمام کیسز میں درخواست گزار کی حفاظتی ضمانت منظور کرے ،عدالت درخواست گزار کو کسی بھی کیس میں گرفتاری سے روکنے کا حکم دے

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    نیب گرفتاری سے قبل بشریٰ بی بی کو آگاہ کرنے کی پابند نہیں،عدالت
    دوسری جانب احتساب عدالت اسلام آباد،بشریٰ بی بی کی گرفتاری سے متعلق درخواست کو قبل از وقت قرار دے دیا گیا،احتساب عدالت نے بشریٰ بی بی کی درخواستِ ضمانت کو بھی نمٹا دیا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا ، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب کو بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلےکےمطابق نیب گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کی پابند نہیں، احتساب عدالت نے بشریٰ بی بی کی گرفتاری سے پہلے آگاہ کرنے کی درخواست کو نمٹا دیا

  • سائفر کیس کا ٹرائل روکنے اور اخراج مقدمہ کی درخواستیں یکجا

    سائفر کیس کا ٹرائل روکنے اور اخراج مقدمہ کی درخواستیں یکجا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سائفر کیس کا ٹرائل روکنے اور اخراج مقدمہ کی درخواستیں یکجا کر دیں۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے سائفر ختم کرنے اور ٹرائل روکنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی،وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دئیے ہوئے کہا کہ معاملہ ہائیکورٹ میں چل رہا ہے اور فیصلہ محفوظ ہے، لاہور ہائیکورٹ نے بھی ایف آئی اے کے کیس میں حکم امتناع جاری کیا ہوا ہے، سائفر کیس ٹرائل کورٹ میں کارروائی روکنے، فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست ہے۔

    وکیل سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا ہم نے بار بار کہا کہ جلدی نہ کی جائے معاملہ ہائیکورٹ میں چل رہا ہے، ہمیں آفیشل سیکریٹ ایکٹ سے متعلق کافی خدشات ہیں، کون سی سکیورٹی کا خطرہ ہے یا سیکریسی لیک ہو رہی ہے؟بھٹو صاحب نے بھی راجہ بازار میں تقریر میں ایسے ہی بتایا تھا تو کیا ہوا، میرے مؤکل قومی ہیرو ہیں اور دنیا جانتی مانتی ہے اب وہ بے گناہ جیل میں ہیں۔

    سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی،مدد علی سندھی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا آج صرف متفرق درخواست لگی ہے، آپ کہیں تو میں مین کیس کے ساتھ لگا لوں، جس پر سردار لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ بالکل آپ سائفر کیس اخراج کی درخواست کے ساتھ لگا دیں لیکن 17 تاریخ سے پہلے لگائیں۔

    جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا اُس روز یعنی 17 اکتوبر کو کیا ہونا ہے؟ جس پر وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا 17 اکتوبر کو بڑی بدمزگی ہونی ہے، ٹرائل چل رہا ہے، فرد جرم عائد ہونی ہےچیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا میں دیکھ لیتا ہوں اور اس پر آرڈر بھی کردوں گا، 17 اکتوبر سے پہلےکیس لگادوں گا۔

    سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    بعد ازاں عدالت نے ٹرائل روکنے کی درخواست سائفر کیس اخراج مقدمہ کی درخواست کے ساتھ یکجا کرنے کے احکامات جاری کر دیئے-

  • دورانِ عدت میں نکاح غیرشرعی نکاح کے زمرے میں آتا ہے،پراسیکیوٹر رضوان عباسی

    دورانِ عدت میں نکاح غیرشرعی نکاح کے زمرے میں آتا ہے،پراسیکیوٹر رضوان عباسی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،چیئرمین پی ٹی آئی، بشری بی بی کے خلاف غیرشرعی نکاح میں کیس کی سماعت ہوئی

    سول جج قدرت اللہ کی عدالت میں پرایسکیوٹر رضوان عباسی پیش ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیرافضل مروت عدالت پیش نہیں ہوئے، وکیل صفائی کے معاون وکیل پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت اسلام آباد ہائیکورٹ میں مصروفیات کے باعث پیش نہ ہوئے ،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے غیرشرعی نکاح سے متعلق مختلف اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے عدالت میں جمع کروائے

    رضوان عباسی نے عدالت میں کہا کہ دورانِ عدت کوئی خاتون نکاح کرے تو خاتون کی جانب سےقانون کی خلاف وزری ہے، طلاق کے بعد عدت کا دورانیہ مکمل کرنا ضروری ہے،دورانِ عدت میں نکاح غیرشرعی نکاح کے زمرے میں آتا ہے، غیرشرعی نکاح کو قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا،کوئی بھی عدالتی فیصلہ نہیں کہتا کہ دوران عدت نکاح جائز ہے،غیرشرعی نکاح کیس کی سماعت کے لیے 22 اکتوبر کی تاریخ دے دیں

    معاون وکیل صفائی نے کہا کہ شیر افضل مروت نے بیرون ملک جاناہے، پوچھ کر عدالت کو آگاہ کرتا ہوں، سول جج قدرت اللہ نے غیرشرعی نکاح کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

  • سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا 9 اکتوبر کا فیصلہ جاری کردیا ہے، اڈیالہ جیل کی سماعت کا تحریری فیصلہ جج ابوالحسنات نے جاری کیا ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 9 اکتوبر کو چالان کے نقول فراہم کرنے کیلئےسماعت مقرر کی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو کمرہ عدالت میں لانے کی ہدایت کی گئی۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے وکلا سماعت روکنے کیلئے کوئی عدالتی حکم سامنے نہیں لاسکے، اور انہوں نے معمول کے مطابق دلائل دینے کی استدعا کی، تاہم پی ٹی آئی وکلا کے مطابق ٹرائل ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے، ان کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستِ ضمانت زیرالتوا ہے شاہ محمود قریشی کے وکلا نے اوپن کورٹ میں سماعت سننے کی نئی درخواست دائر کی ہے۔

    تیز رفتار مسافر بس الٹ جانے سے متعدد افراد زخمی

    تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے ملزمان کو چالان کے نقول فراہم کیے، دستخط کرنے بھی کی ہدایت کی، چالان کے نقول قانون کے مطابق فراہم کردیئے گئے، اور ملزمان کو آئندہ سماعت پر دستخط کرنے کا حکم دیا جاتا ہے، ملزمان نے اگر نقول پر دستخط نہ بھی کیے تو دستخط غیر مؤثرسمجھے جائیں گے کیونکہ چالان وصول ہوچکا ہے آئندہ سماعت پر سختی سے قانون کے مطابق فردجرم عائد کی کاروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

    نواز شریف کا سعودی عرب میں والہانہ استقبال

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وکلا نے چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کے سیل کا مسلہ اُٹھایا، جس پر جج نے مسائل کو حل کرنے کیلئے اڈیالہ جیل میں سیل کا دورہ کیا، اور عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے سیل کے سامنے قائم دیوار کو توڑنے کا حکم دیا 17 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی اورشاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کیا جائے گا۔

    سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی،مدد علی سندھی

  • ہم نے جیل ہسپتال کا وزٹ کیا وہ تو خود بیماریوں سے بھرا ہوا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ

    ہم نے جیل ہسپتال کا وزٹ کیا وہ تو خود بیماریوں سے بھرا ہوا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کو اڈیالہ جیل میں سہولیات فراہمی اور فیملی ، وکلا ذاتی معالج سے ملاقات کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی، وکیل شیر افضل مروت نے دلائل میں کہا کہ سنگل بنچ کے فیصلے میں کوئی ہدایت نہیں کہ وہ جس سہولت کے اہل ہیں وہ دی جائیں ، سنگل بنچ نے فیصلے میں بی کلاس دینے کا حکم نہیں دیا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےاستفسار کیا کہ ابھی کتنے مقدمات عمران خان کے خلاف چل رہے ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ ابھی وہ سائفر کیس میں جیل میں ہیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی عبوری حکم میں آپ کیا مانگ رہے ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ ہم ورزش کے لئے جیل میں مشین مانگ رہے ہیں ، عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس کا طریقہ کار کیا ہو گا ؟ اٹک جیل میں تو آپ کو سہولیات حاصل تھیں ؟ وکیل نے کہا کہ اٹک جیل میں بھی ہمیں سہولیات حاصل نہیں تھیں نا اڈیالہ جیل میں ہیں ، ذاتی معالج ، فیملی ، وکلا کی ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جا رہی ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم دوسری طرف کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیتے ہیں ، ہم ان سے عمل در آمد رپورٹ بھی طلب کر لیتے ہیں ، جیل رولز کیا کہتے ہیں ؟ آپ اس حوالے سے بھی عدالت کی معاونت کریں ، وکیل شیر افضل مروت کی جانب سے جیل رولز عدالت کے سامنے پڑھے گئے،وکیل نے کہا کہ سنگل بنچ کا فیصلہ آئے ایک ماہ گزر گیا لیکن جیل حکام نے اجازت نہیں دی ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے جیل کا وزٹ کیا وہ تو خود بیماریوں سے بھرا ہوا ہے ، آپ کی درخواست کے حوالے سے تحریری آرڈر پاس کریں گے ،

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

  • سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا حکم چیلنج

    سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا حکم چیلنج

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا حکم چیئرمین پی ٹی آئی نے چیلنج کر دیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے 9 اکتوبر کے ٹرائل کورٹ حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی،چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے زریعے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے لکھا کیس کی نقول وصول کر لیں حالانکہ نقول وصول نہیں کیں ، جیل سماعت کے خلاف ہائیکورٹ کے فیصلے کا بھی ٹرائل کورٹ نے انتظار نہیں کیا ، 9 اکتوبر کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے ،

    دوسری جانب توشہ خانہ نیب تحقیقات اور القادر ٹرسٹ کیسز میں بھی عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی ، عمران خان نے عدم حاضری پر ضمانت کی درخواستیں خارج کرنے کا احتساب عدالت کا فیصلہ پہلے ہی چیلنج کررکھا ہے سردار لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر متفرق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ” دس اگست کے احتساب عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد روکا جائے اپیل پر حتمی فیصلے تک عمران خان کی گرفتاری سے بھی روکنے کے احکامات جاری کئے جائیں ”

    واضح رہے کہ خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سائفر کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی۔

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • چیئرمین پی ٹی آئی  کو عہدے سے ہٹانے اور پارٹی کا انتخابی نشان واپس لینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    چیئرمین پی ٹی آئی کو عہدے سے ہٹانے اور پارٹی کا انتخابی نشان واپس لینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    باغی ٹی وی: چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے پی ٹی آئی ممنوعہ بیرونی فنڈنگ کیس کی سماعت کی ،دوران سماعت درخواست گزار خالد محمود نے موقف اپنایا کہ ابھی تک بیرونی فنڈنگ لینا تشویش ناک ہے، سکندر سلطان راجہ نے ریمارکس دیئے کہ درخوست گزار کی خواہش پر انکوائری کمیٹی نہیں بن سکتی، اسی لئے کوئی ثبوت دیں گے تو معاملہ آگے بڑھے گا۔

    ممبران الیکشن کمیشن نے بھی بغیر شواہد کے درخواست جمع کرنے کا سوال اٹھایا اور سماعت نومبرکے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی، اس کے علاوہ چیئرمین پی ٹی آئی کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت میں درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا ہو چکی ہے، نواز شریف کیس میں سپریم کورٹ کا آرڈر موجود ہے۔

    افغانستان زلزلہ: ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار ہو گئی

    اگر ہائی کورٹ میں عمران خان کی اپیل منظور ہو جاتی ہے تو کیا ہوگا؟ رالیکشن کمیشن کے استفسار پت وکیل نے بتایا کہ اگر اپیل منظور ہو جاتی ہے تو عمران خان عہدے پر واپس آجائیں گے، چیف الیکشن کمشنر نے نواز شریف اور چیئرمین پی ٹی آئی کیس میں فرق پوچھا تو وکیل نے کہا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل کیا جب کہ عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن نے اور ٹرائل کورٹ نے فیصلہ دیا،بعد ازاں الیکشن کمیشن نے درخواست قابل سماعت یا ناقابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا-

    اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

    دوسری جانب الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لینے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، رہنما استحکام پاکستان پارٹی عون چوہدری کے وکیل نے پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لینے کی استدعا کردی،الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کو پہلے ہی بلے کا نشان دیا جا چکا ہے اور نشان سے متعلق کیس زیر سماعت بھی ہے، کمیشن میں درخواست قابل سماعت ہونے پر بھی فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت جاری