Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عمرا ن خان نے علی امین گنڈاپور سے پارٹی کی صوبائی صدارت واپس لے لی

    عمرا ن خان نے علی امین گنڈاپور سے پارٹی کی صوبائی صدارت واپس لے لی

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان وزیراعلیٰ خیبرپختوانخوا علی امین گنڈاپور سے پارٹی کی صوبائی صدارت واپس لے لی۔

    باغی ٹی وی :ذرائع کے مطابق عمران خان نے جنید اکبر کو تحریک انصاف خیبر پختوانخوا کا صدر مقرر کر دیا ہے،جبکہ بانی پی ٹی آئی نے سلمان اکرم راجہ کو جنید اکبر کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی ہے،جنید اکبر آج بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے والوں میں شامل ہیں۔

    پاکستان میں اس وقت دو طرح کی سیاست ہورہی ہے،عظمیٰ بخاری

    اس کے علاوہ عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کو پنجاب میں پارٹی کی تشکیل نو کے لیے مشاورت کی ہدایت بھی کی ہے۔

    اس حوالے سے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ علی امین خود بھی چاہتے تھے وہ پارٹی صدارت اپنے پاس نہ رکھیں، بانی پی ٹی آئی نے علی امین کو کہا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی اور گورننس کے معاملات پر فوکس کریں۔

    گوہر رشید اور کبریٰ خان نے شادی کا باضابطہ طور پر اعلان کردیا

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہےکہ عمران خان نے کے پی میں کرپشن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور علی امین کو پیغام دیا ہےکہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان کی سیاست سے باہر آئیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب پولیس کی کارکردگی سے ناخوش، سینئر افسران کو سخت تنبیہ جاری

  • شیر افضل مروت میرا وکیل نہیں ہے اسے جیل میں داخل نہ ہونے دیا جائے،عمران خان

    شیر افضل مروت میرا وکیل نہیں ہے اسے جیل میں داخل نہ ہونے دیا جائے،عمران خان

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے شیر افضل مروت کو بطور وکیل صفائی پیش ہونے سے روک دیا، بانی پی ٹی ائی نے جیل انتظامیہ اور عدالت کو آگاہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی :بانی پی ٹی آئی نے حکام کو آگاہ کیا کہ شیر افضل مروت میرا وکیل نہیں ہے اسے جیل میں داخل نہ ہونے دیا جائےبانی پی ٹی ائی نے شیر افضل مروت سے متعلق تحریر بھی لکھوا دی۔

    شیر افضل مروت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تھے شیر افضل مروت گیٹ نمبر پانچ سے اڈیالہ جیل ڈیوڑھی تک پہنچے تو انہیں وہاں سے واپس بھجوا دیا گیا شیر افضل مروت کے اڈیالہ جیل پہنچنے پر جیل انتظامیہ نے بانی پی ٹی آئی کو آگاہ کیا تھا۔

    جرمنی میں ڈے کیئر سینٹر سے آئے ہوئے بچوں پر چاقو سے حملہ

    دوسری جانب عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا،اڈیالہ جیل میں غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو وقت دیا تھا کہ وہ جوڈیشل کمیشن بنائے لیکن انہوں نے ہمارے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں دکھائی لہذا آج کے بعد کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکھٹا کریں گے اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    چیئرمین سینیٹ کمیٹی کا وزیرخزانہ کو ایف بی آر کیلئے گاڑیوں کی خریداری روکنےکیلئےخط

  • عمران خان کا حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

    عمران خان کا حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

    عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    اڈیالہ جیل میں غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو وقت دیا تھا کہ وہ جوڈیشل کمیشن بنائے لیکن انہوں نے ہمارے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں دکھائی لہذا آج کے بعد کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکھٹا کریں گے اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے آج جیل میں مزاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ،حکومت نے 7 روز میں کمیشن بنانا جو آج تک تھا ،حکومت کی جانب سے آج تک کمیشن نہیں بنایا گیا اس لئے بانی پی ٹی آئی نے مزاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ،آج عمران خان سے میری، میڈیا کی ملاقات ہوئی، عمران خان نےد و ٹوک اعلان کر دیا، اب مذاکرات کا کوئی دور نہیں ہو گا، حکومت نے بھی تک کمیشن کا اعلان نہیں کیا،ہماری خواہش تھی کہ مذاکرات آگے چلیں لیکن برف پگھل نہیں رہی، جس پر افسوس ہے، آج سے ہمارے مذاکرات ختم،اگر کمیشن بننا ہے تو سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے 3 ججز پر بنایا جائے، مستقبل کالائحہ عمل بھی عمران خان نے دے دیا ہم جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے، سیاسی پارٹیوں کو ساتھ ملائیں گے، ہمیں بیرون ملک مدد کی ضرورت نہیں، البتہ عمران خان کی رہائی کے لئے جو لوگ کوشش کر رہے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، بہت جلد عمران خان باہر ہوں گے، ترجمانی کی لڑائی نہیں چل رہی،مسئلہ حل ہو جائے گا

    وزیراعلیٰ سندھ سے چین کی سرکاری انجنیئرنگ کارپوریشن کے وفد کی ملاقات

    کپل شرما ، ریمو ڈی سوزا سمیت 4 معروف فنکاروں کو قتل کی دھمکی

  • توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ 2 کیس میں عمران خان اوربشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستوں پر ایف آئی اے سے جواب طلب کرلیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام منہاس نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس ٹو میں بریت کی درخواستوں پر سماعت کی،دوران سماعت عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے توشہ خانہ کیس 2 کے ٹرائل پر حکمِ امتناع کی استدعا کی جس پر جسٹس راجہ انعام نے کہا کہ کرمنل کارروائی کو اس موقع پر اسٹے کرنےکی کوئی عدالتی نظیر نہیں، ہم آپ کی درخواست پرنوٹس کرکے دوسرے فریق کوبھی سن لیتے ہیں۔

    وکیل سلمان صفدر نے بینچ تبدیل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس گل حسن اورنگزیب اس کیس سے متعلق 5 درخواستیں سن چکے ہیں، مناسب ہو گاکہ یہ عدالت بریت کی درخواستیں بھی اسی عدالت میں بھیج دے، جس پر جسٹس راجہ انعام نے درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے بینچ تبدیل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضمانت کی درخواستیں تھیں، یہ الگ معاملہ ہے، یہ عدالت کیس سُنے گی، آپ کیس کے میرٹس پر دلائل دیں،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ دو درخواستوں کےآرڈر بھی ہیں، ٹرائل کورٹ کو سماعت روکنے کا حکم دیاجائے، اس پر جج نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں فرد جرم عائد ہوچکی،گواہان کے بیانات ہورہے ہیں، ابھی ایسا کرنا درست نہیں ہوگا، اس میں نوٹس کرتے ہیں، لمبی تاریخ نہیں دیں گے، عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 28 جنوری تک ملتوی کردی۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    پی آئی اے عملہ سمگلنگ میں ملوث،78 موبائل فونز برآمد

  • بانی پی ٹی آئی سے فیملی کی  اہم ملاقات

    بانی پی ٹی آئی سے فیملی کی اہم ملاقات

    راولپنڈی:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان سے ان کی فیملی کی ملاقات ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں فیملی کی ملاقات ہوئی، جس میں عدالت کی جانب سے قید کی سزا سنائے جانے کے معاملے پر بات چیت ہوئی، کانفرنس روم میں ہونے والی یہ اہم ملاقات تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہے، جس کے بعد عمران خان کی فیملی اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہوگئی۔

    ذرائع کے مطابق عمران خان کے ساتھ فیملی کی ہونے والی ملاقات میں 190ملین پاؤنڈز ریفرنس میں عدالت کی جانب سے قید کی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی ملاقات میں دیگر زیر سماعت مقدمات کے قانونی دفاع کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی جبکہ ملاقات کرنے والوں میں علیمہ خان، نورین خان اور دیگر شامل تھے۔

    پارلیمانی شفافیت پر فافن کی نئی جائزہ رپورٹ جاری

    بعد ازاں اڈیالہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے بتایا کہ آج بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشری بی بی سے ملاقات نہیں ہو سکی، اس پر پٹیشن فائل کریں گے، جیل انتظامیہ سے اس ضمن میں بات ہوئی کہ قانون کے مطابق یہ ملاقات کیوں نہیں کروائی گئی، ملاقات نہ کروانا بانی پی ٹی ائی پر پریشر ڈالنے کے لیے ہے، بانی پی ٹی آئی نے ڈونلڈ ٹرمپ پر بات نہیں کی، گزشتہ امریکی حکومت نے عافیہ صدیقی کی پٹیشن بھی دستخط نہیں کیے، ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر بننے پر مبارکباد دیتے ہیں۔

    حماس کی قید سے رہا اسرائیلی قیدیوں کے ابتدائی بیانات سامنے آگئے

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس:عمران خان اوربشریٰ بی بی نے وکالت نامے پر دستخط کر دیئے

    190 ملین پاؤنڈ کیس:عمران خان اوربشریٰ بی بی نے وکالت نامے پر دستخط کر دیئے

    راولپنڈی: 190 ملین پاؤنڈ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے وکالت نامے پر دستخط کر دیئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے وکالت نامے پر دستخط کر دیئے،دونوں ملزمان کی جانب سے وکالت نامے پر جیل کی کمرہ عدالت میں دستخط کیے گئے جبکہ جیل حکام نے وکالت نامے پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری کے حوالے کردیئے۔

    اپیل آئندہ ایک دو دن میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کردی جائے گی، 190 مین پاؤنڈ اپیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر سلمان اکرام راجہ اور خالد یوسف چوہدری وکلاء ہوں گے۔

    ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل بٹ کوائن ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    واضح رہے کہ 17 جنوری کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید اور ان کی اہلیہ مجرمہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

    ریکھا کا ایک مرتبہ پھر امیتابھ بچن سے اعترافِ محبت

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے عمران خان پر 10 لاکھ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا، جرمانے کی عدم ادائیگی پر عمران خان کو مزید 6 ماہ جب کہ بشریٰ بی بی کو 3 ماہ کی قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔

    ڈھاکہ یونیورسٹی میں شیخ مجیب کی تصویر بناکر اسے نفرت کا مینار قرار دیدیا گیا

  • علیمہ خان کی غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ذریعے سازش کے شواہد منظر عام پر

    علیمہ خان کی غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ذریعے سازش کے شواہد منظر عام پر

    علیمہ خان کے غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ساتھ واٹس ایپ پیغامات منظر عام پر آگئے،

    پیغامات، ریاست کو کمزور کرنے کیلئے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ سازش کو بے نقاب کرتے ہیں، پیغامات میں بانی پی ٹی آئی کو مظلوم ظاہر کرتے ہوئے ریاست اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے، پیغامات کے پہلے حصے میں برطانوی صحافی چارلس گلاس اور علیمہ خان کی گفتگو سامنے آئی ہے،

    برطانوی صحافی چارلس گلاس علیمہ خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ;”کیا میں جیل میں بانی پی ٹی آئی کو اپنی کچھ کتابیں دستخط کے ساتھ بھیج سکتا ہوں“”برطانیہ کی سخت حفاظتی جیلوں میں دستخط شدہ کتابیں بھیجنے کی اجازت نہیں ہے“، علیمہ خان نے جواب میں چارلس گلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ;”میں نے بانی پی ٹی آئی کو آپ کا پیغام پہنچا دیا ہے، وہ آپ کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں“”میں نے انہیں مطلع کیا ہے کہ آپ (چارلس گلاس) انہیں اپنی دستخط شدہ کتابیں بھیجیں گے“،”انہیں لازماً کتابیں مل جائیں گی“،

    چارلس گلاس کے حوالے سے علیمہ خان اور اعلی ٰ برطانوی اہلکار کی گفتگو بھی سامنے آئی ہے،برطانوی اہلکار نے علیمہ خان کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ;”میری چارلس سے چند گھنٹے قبل بات ہوئی ہے، میں نے بہت کوشش کی مگر کامیابی نہ مل سکی“علیمہ خان نے برطانوی اہلکار کو جواباً کہا کہ ;”جب چارلس کسی سے ملاقات کر رہا تھا تو پولیس نے چارلس کو واپس ہمارے کمپاؤنڈ میں جانے کا کہا“”وہ (چارلس گلاس) میری بہن کے گھر میں رہائش پذیر ہے“، ”انہوں (پولیس)نے اسے (چارلس گلاس) کو پہلی دستیاب فلائٹ سے جانے کا کہا ہے“،

    علیمہ خان نے برطانوی اہلکار سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ;”کیا آپ کے پاس کو لیگل کونسل نہیں جو اس مسئلے سے نمٹ سکے؟“

    علیمہ خان نے ”ٹائم میگزین“ کے جنوبی ایشیا کے ایڈیٹر چارلی کیمبل کو بھی واٹس ایپ کے ذریعے پیغامات ارسال کئے،چارلی کیمبل کو بھیجے گئے پیغام میں نام نہاد انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ ;”پی ٹی آئی کارکنوں کوہراساں کیا جا رہا ہے، کب تک کارکنان ہراسگی کا سامنا کرتے رہیں گے“جواباً چارلی کیمبل نے علیمہ خان کو کہا کہ;”یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے“

    علیمہ خان کا ایک واٹس ایپ رابطہ وال سٹریٹ جنرل جریدے کے صحافی سعید شاہ کے ساتھ بھی سامنے آیا ہے،صحافی سعید شاہ نے علیمہ خان سے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ آئندہ ملاقات میں کچھ سوالات کے جوابات مانگے،پوچھے گئے سوالات میں بانی پی ٹی آئی سے دنیا بالخصوص امریکا کیلئے پیغام مانگا گیا،سعید شاہ نے سوال کیا کہ ”آپ (بانی پی ٹی آئی) کی اقتدار میں واپسی کیسے ممکن ہے؟“”کیا آپ (بانی پی ٹی آئی) اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جنگ چل رہی ہے؟“، علیمہ خان نے اشاراتاً جواب دیتے ہوئے کہا کہ;”کس نے دو بار بانی پی ٹی آئی کو قتل کرنے کی سازش کی“سعید شاہ نے اس کے جواب میں کہا کہ ;”ہاں۔۔ اسی لئے میں ان سے پوچھنا چاہا رہا ہوں مجھے امید ہے کہ اس کی کوئی وجہ سامنے آئے گی“

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علیمہ خان مسلسل غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ساتھ رابطوں کے ذریعے ریاست مخالف چھوٹا پروپیگینڈا پھیلا رہی ہے،2024 ء میں پاکستان کیلئے ویزہ درخواست میں چارلس گلاس نے خود کو سیاح ظاہر کرتے ہوئے کسی صحافتی مہم کا حصہ نہ بننے کا بیان حلفی دیا تھا،برطانوی صحافی چارلس گلاس کو اگست2024ء میں ویزہ کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان سے ڈی پورٹ کیا گیا،

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق چارلس گلاس کا پیغام کے ساتھ کتاب کا بھیجنا بانی پی ٹی آئی کی منفی ذہن سازی اور خفیہ پیغام رسانی ہوسکتا ہے،اس حوالے سے علیمہ خان کا استعمال اور کتابوں کو پیغام کا ذریعہ بنانا قابل غور اور تشویشناک ہے،چارلس گلاس کا برطانوی جیلوں کے سخت قوانین کی حمایت اور پاکستان میں غیر قانونی ذرائع استعمال کرنا بھی تشویشناک ہے، علیمہ خان کا پاکستانی ویزہ قوانین کی خلاف ورزی پر چارلس گلاس کی حمایت ذاتی مفادات کیلئے غیر قانونی عمل ہے، علیمہ خان کی جانب سے چارلی کیمبل کیساتھ نام نہاد انسانی حقوق کا واویلا پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی سازش ہے، صحافی سعید شاہ کا عسکری قیادت کو بغیر شواہد کے سوالات کے ذریعے سیاست سے جوڑنا صحافتی اقدار کے منافی ہے، علیمہ خان کا صحافی سعید شاہ کو اشارتاًبانی پی ٹی آئی پر حملے کو اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنا ملک دشمنی اور گمراہ کن ہے،بانی پی ٹی آئی کا غیر ملکی مداخلت کا بیانیہ اور علیمہ خان کا مسلسل غیر ملکی لابیز سے مداخلت کی درخواستیں کرنا دوغلے پن کی نشانی ہے،

    ڈیرہ غازیخان:ہم 9 مئی والے نہیں، 28 مئی والے ہیں،مریم نواز

    الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    نیرج چوپڑا کی دلہن کون؟تفصیلات سامنے آ گئیں

  • ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

    ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

    پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے تحریک انصاف کے اس خیال کو محض خوش گمانی قرار دیا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان کی رہائی میں کسی قسم کا کردار ادا کریں گے۔

    حسین حقانی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف یہ سمجھتی ہے کہ ٹرمپ اور عمران خان دونوں ہی پاپولسٹ لیڈر ہیں اور اس لئے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ٹرمپ کے دل میں عمران خان کے لیے ہمدردی ہو گی، لیکن حقیقت میں ایسا کوئی اشارہ ابھی تک نہیں ملا کہ نئی امریکی انتظامیہ اس معاملے میں کوئی اثر انداز ہو گی۔بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حسین حقانی نے کہا کہ تحریک انصاف کا یہ خیال بھی ہے کہ انہوں نے امریکہ میں مضبوط لابنگ کی ہے اور اس کا اثر عمران خان کی رہائی کے معاملے پر پڑے گا۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کا تیسرا گمان یہ ہے کہ امریکہ پاکستان پر عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے اور چوتھا یہ کہ صدر ٹرمپ کے دل میں عمران خان کے لیے ہمدردی موجود ہے۔

    حسین حقانی نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ نئی امریکی انتظامیہ اس معاملے میں کچھ کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں بھی پاکستان کے معاملات پر امریکہ کی مداخلت یا دباؤ کی کوئی مثال نہیں ملتی، جیسے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے وقت امریکہ نے مخالفت کی تھی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح نواز شریف کی قید کے دوران بھی امریکی صدر بل کلنٹن کی مداخلت کے باوجود انہیں رہائی نہ مل سکی تھی، بلکہ سعودی عرب کی مداخلت پر نواز شریف کو سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    حسین حقانی نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ واقعی پاکستان پر کوئی دباؤ ڈالنا چاہیں تو ان کے پاس کوئی خاص طریقہ نہیں ہے۔ جمی کارٹر کے دور میں بھی جب انہوں نے بھٹو کی پھانسی کی مخالفت کی تھی، امریکہ کے پاس پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے کوئی امدادی پیکیج یا پابندیاں نہیں تھیں جن کو وہ منسوخ کر سکتے۔ ان کے مطابق 2007 میں بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کے دوران امریکہ کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی قوت اس لئے تھی کہ پاکستان کو امریکہ سے سالانہ امداد ملتی تھی جو پاکستان کی معیشت اور مشرف حکومت کے لیے ضروری تھی۔

    حسین حقانی نے کہا کہ اس وقت امریکہ کے پاس پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایسا کوئی آلہ نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ آئی ایم ایف میں امریکہ کے ووٹ کے ذریعے پاکستان کے خلاف کچھ موقف اختیار کریں، لیکن وہ بھی بعید لگتا ہے کیونکہ ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔انہوں نے اس بات کو واضح کیا کہ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایسا کوئی عنصر نہیں ہے جو عمران خان کی رہائی کے حوالے سے امریکہ کے کردار کو مؤثر بنائے۔

    طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے ،ٹرمپ

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

  • القادر ٹرسٹ کیس:عمران خان اوراہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیل تیار کرلی گئی

    القادر ٹرسٹ کیس:عمران خان اوراہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیل تیار کرلی گئی

    اسلام آباد:القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کے خلاف پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیل تیار کرلی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائی کورٹ میں دو وکلا عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے سزاؤں کے خلاف اپیل دائر کریں گے، مذکورہ درخواست 21 جنوری کو ہائیکورٹ میں دائر کئے جانے کا امکان ہےوکلا میں بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ شامل ہیں، جن کے وکالت نامے مجرموں سے دستخط کرانے کیلئے اڈیالہ جیل حکام کے حوالے کردئے گئے ہیں جیل حکام وکالت نامے پیر کو وکلا کو واپس کریں گے۔

    وکیل خالد یوسف کا کہنا ہے کہ وکالت نامے جیل حکام نے لے لئے ہیں اور ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا۔

    امریکا میں ٹک ٹاک بند،ایپل اور گوگل ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا

    واضح رہے کہ 17 جنوری کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید اور ان کی اہلیہ مجرمہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    عمران خان پر 10 لاکھ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جرمانے کی عدم ادائیگی پر عمران خان کو مزید 6 ماہ جبکہ بشریٰ بی بی کو 3 ماہ کی قید کی سزا بھگتنا ہوگی جبکہ احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی بھی سرکاری تحویل میں لینے کا حکم جاری کیا ہے۔

    پہلا مرحلہ عارضی،دوسرا مرحلہ بے نتیجہ رہا تو جنگ کا دوبارہ آغاز کریں گے،نیتن یاہو

  • عمران ،بشریٰ کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کیخلاف پی ٹی آئی پروپیگنڈہ کی حقیقت

    عمران ،بشریٰ کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کیخلاف پی ٹی آئی پروپیگنڈہ کی حقیقت

    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنانے والے جج کے خلاف پی ٹی آئی نے پروپیگنڈہ شروع کر دیا وہیں، اسلام آباد سے سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے بھی ایکس پر پوسٹ کی ہے

    حامد میر کا کہنا تھا کہ یہ 2004 میں جج ناصر جاوید رانا کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے سول جج ناصر جاوید رانا کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا اور ان کے عدالتی اختیارات واپس لے لیے گئے۔ انہیں جوڈیشل سروس کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا لیکن اسی جج کو دوبارہ ملازمت پر رکھا گیا۔

    پی ٹی آئی کا جج کے خلاف پروپیگنڈہ اور حامد میر کی پوسٹ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں،عمران خان کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا عدلیہ کے ایک قابل احترام جج ہیں جنہوں نے 2004 میں راولپنڈی میں سول جج کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں، ان کے بارے میں کچھ سال قبل سپریم کورٹ کی طرف سے شروع کی گئی انکوائری کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ انکوائری میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے وکیل وہاب خیری کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ کے لیے ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر ریمانڈ دیا تھا۔ تاہم، انکوائری کے دوران جج کی معطلی کے باوجود، انہوں نے اپیل میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے جوڈیشل سروس ٹریبونل سے تمام مراعات کے ساتھ دوبارہ بحالی حاصل کی تھی۔

    اس کے بعد جج ناصر جاوید رانا کو لاہور میں سول جج کے طور پر تعینات کیا گیا اور انہوں نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں کامیابی سے اپنی خدمات انجام دیں۔ 2014 میں انہیں سینئر سول جج کے طور پر ترقی دی گئی اور 2015 میں ایڈیشنل سیشن جج کے طور پر ترقی ملی۔ 2019 میں انہیں اسلام آباد ویسٹ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر تعینات کیا گیا اور 2021 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پرتعیناتی کی گئی۔ اس کے بعد جج ناصر جاوید رانا نے اسلام آباد ویسٹ اور اسلام آباد ایسٹ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر کامیابی کے ساتھ خدمات انجام دیں اور اب وہ نیب کے جج کے طور پر کام کر رہے ہیں۔جج ناصر جاوید رانا کی عدلیہ میں خدمات کی مدت 27 سال ہے، جس دوران انہوں نے تقریباً 35 ضلعی ججز کے تحت کام کیا، اور ان کے خلاف نہ تو کوئی کرپشن کا الزام عائد ہوا اور نہ ہی ان کی کارکردگی پر کبھی کوئی منفی رپورٹ درج کی گئی۔ ان کے خلاف 2004 کی انکوائری کا موجودہ مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جج ناصر جاوید رانا کی زندگی کی یہ تفصیلات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ عدلیہ کے وقار کو بلند رکھا اور اپنے فیصلوں میں مکمل دیانتداری کا مظاہرہ کیا۔

    جج ناصر جاوید رانا نے ہزاروں مقدمات کا فیصلہ کیا اور ہمیشہ میرٹ پر قانون کے مطابق دیا۔ اب عمران اور بشریٰ کو سزا سنائی گئی تو عمران خان اور ان کے وکلاء نے ان کے فیصلے پر تنقید کی اور جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کیا تو ان کا مقصد صرف اپنے ناپاک عزائم کو آگے بڑھانا تھا، اسکے باوجود کہ جج ناصر جاوید رانا کا فیصلہ ہمیشہ حق و انصاف پر مبنی رہا۔

     

    پاکستان کے عدالتی نظام میں جج ناصر جاوید رانا کے بارے میں جو پراپیگنڈا اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں، ان کے پس منظر میں کئی اہم حقائق پوشیدہ ہیں۔ خاص طور پر ان نام نہاد صحافیوں کے لیے جو اس معاملے پر منفی بیانیہ پھیلا رہے ہیں، یہ ضروری ہے کہ  حقیقت سامنے آئیں تاکہ صحیح صورتِ حال واضح ہو سکے۔

    سب سے پہلی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے۔ جب جج رانا کے خلاف الزامات لگائے گئے، تو لاہور ہائی کورٹ کو تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم، اس معاملے میں جج رانا کے حق میں تمام کورٹ کے عملے نے affidavits جمع کرائے، جن میں یہ کہا گیا کہ جج رانا کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں ہیں، بلکہ وہ بالکل صحیح ہیں۔ اس کے باوجود، سیاسی دباؤ کی وجہ سے، کمزور چیف جسٹس نے بغیر کسی ثبوت اور ٹرائل کے لاہور ہائی کورٹ کو کارروائی کا حکم دیا۔

    جب جج رانا ایک جونیئر جج تھے، تو انہوں نے سپریم کورٹ کی طرف سے کی جانے والی سوموٹو کارروائی میں کسی بھی قسم کے دباؤ کو مسترد کیا، اس کے بعد معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے حوالے کیا گیا، جہاں جج رانا کے حق میں فیصلہ آیا اور وہ اپنے عہدے پر بحال ہوئے۔

    ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ جناب ناظم حسین اگر جسٹس راشد عزیز خان کو راستے سے نہ ہٹاتے تو شاید وہ خود کبھی چیف جسٹس نہ بن پاتے۔ ان کی جانب سے برادر جسٹس راشد کے بارے میں ایسے ریمارکس دئیے گئے تاکہ ان کا کیریئر ختم ہو سکے اور ناظم حسین صدیقی کے چیف جسٹس بننے کا راستہ ہموار ہو۔ اس بات کو ریکارڈ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    اگر جج رانا لاہور ہائی کورٹ کی انکوائری میں قصوروار پائے جاتے تو انہیں فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا۔ تاہم، جج رانا نے اپیل کے ذریعے اپنے آپ کو ثابت کیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں ہیں۔ اس طرح وہ اپنی نوکری پر قائم رہے اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔

    پی ٹی آئی نے ہمیشہ سچ اور حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا بیانیہ بنایا اور پھیلایا۔ اس بیانیہ کی حقیقت یہ ہے کہ جج رانا کو جب پی ٹی آئی کی حکومت میں نوکری سے فارغ نہیں کیا گیا، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر ان پر واقعی کوئی الزام تھا، تو انہیں 2019 میں اسلام آباد کیوں پوسٹ کیا گیا؟ اگر جج رانا کی سروس میں کوئی مسئلہ تھا تو انہیں کیوں نہیں نکالا گیا؟

    ان تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ جج ناصر جاوید رانا کے بارے میں جو پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت سے بعید ہے۔ انہیں سیاسی دباؤ کے باوجود اپنی خدمات میں تسلسل ملا اور انہوں نے کسی بھی قسم کے غیر قانونی عمل سے خود کو دور رکھا۔ ان کی سروس اور ان کے فیصلے ان کے کردار کو سچائی کے آئینے میں ثابت کرتے ہیں۔

    سیف علی خان چاقو حملہ کیس،مشتبہ شخص چھتیس گڑھ میں گرفتار

    ہر کسی کا ذریعہ آمدن ہوتا ہے عمران خان کا ذریعہ آمدن بتادیں ،عطاتارڑ