Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عمران خان کو سزا سے پاکستان سےٹرمپ انتظامیہ کا تصادم کا امکان بڑھ گیا، برطانوی اخبار

    عمران خان کو سزا سے پاکستان سےٹرمپ انتظامیہ کا تصادم کا امکان بڑھ گیا، برطانوی اخبار

    برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں احتساب عدالت سے سزا سنائے جانے کے بعد سے پاکستان کے ٹرمپ انتظامیہ سے تصادم کا امکان بڑھ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی اخبار ”دی ٹیلی گراف“ کیلئے ممبئی سے سمن لطیف نے لکھتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ملنے والی سزا نے ٹرمپ انتظامیہ کی ان سینئر شخصیات کے ساتھ حکومت پاکستان کا تصادم کا آغاز کر دیا ہے جو ان کی رہائی کیلئے مہم چلا رہے تھے۔

    جج ناصر جاوید رانا نے جمعہ کو راولپنڈی کے گیریژن ٹاؤن میں واقع اڈیالہ جیل کے عارضی کمرہ عدالت میں ان کی اہلیہ کو سات سال قید کی جبکہ بانی پی ٹی آئی کو 14سال قید بامشقت سنائی، 72 سالہ کرکٹر سے سیاست دان بنے اور ان کی اہلیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک رئیل اسٹیٹ ٹائیکون سے زمین کا تحفہ قبول کیا جب خان صاحب اقتدار میں تھے۔

    ہر کسی کا ذریعہ آمدن ہوتا ہے عمران خان کا ذریعہ آمدن بتادیں ،عطاتارڑ

    عمران خان کے خلاف یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری سے پہلے دیا گیا ہے، جن کے اتحادی رچرڈ گرینل اور میٹ گیٹز، عمران خان کی رہائی کے لیے مہم چلا رہے ہیں رچرڈ گرینل خصوصی مشنز کیلئے ٹرمپ کے ایلچی کے طور پر خدمات انجام دیں گے، جبکہ میٹ گیٹز منتخب کردہ اٹارنی جنرل کے طور نامزد ہونے کے بعد یہ عہدہ چھوڑ چکے ہیں۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے چھ گھنٹے بعد دکان سے ہیڈ فون خریدا

    اخبار کے مطابق ٹرمپ نے عمران خان کے ساتھ بھی تعلقات استوار کیے ، جن سے وہ جولائی 2019 میں واشنگٹن میں ملے تھے، دونوں کی ملاقات 2020 میں ڈیووس میں دوبارہ ہوئی، جہاں ٹرمپ نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم کو ”بہت اچھا دوست“ کہا،لیکن عمران خان نے سبکدوش ہونے والے امریکی صدر جو بائیڈن سے کبھی ملاقات نہیں کی۔

    اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

  • 190 ملین پاؤنڈ  کیس کے فیصلے پر بانی پی ٹی آئی ذرا بھی پریشان نہیں، شیخ رشید

    190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے پر بانی پی ٹی آئی ذرا بھی پریشان نہیں، شیخ رشید

    راولپنڈی: سابق وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اگر جوڈیشل کمیشن نہیں بنا تو مذاکرات ختم ہیں-

    باغی ٹی وی: اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ کمرہ عدالت میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی ہے، میں نے بانی پی ٹی آئی کو بوسہ دیا اورانہوں نے مجھے گلے لگایا بانی پی ٹی آئی نے کہا آپ سیاست کو سمجھتے ہیں، اللہ بہت بڑا ہے وہی ہماری مدد کرے گا جس پر میں نے کہا ہائیکورٹ سے آپ کو جلد ریلیف ملے گااور ساتھ ہی ایک شعر’یہ تو چلتی ہے تجھےاونچا اڑانے کے لیے’ بھی کہا ۔

    شیخ رشید نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے پر بانی پی ٹی آئی ذرا بھی پریشان نہیں، اگر جوڈیشل کمیشن نہیں بنا تو مذاکرات ختم ہیں، بیرسٹرگوہر اور آرمی چیف کی ملاقات کےبارے میں مجھے کوئی علم نہیں ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی:بھارت نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا

    واضح رہے کہ احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کو 14 سال قید بامشقت اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی جب کہ دونوں پر بالترتیب 10 لاکھ اور 5 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔

    1 روپے 3 پیسے فی یونٹ واپس کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع

  • پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر ،وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کوشش ہے کہ کوئی ٹرمپ کارڈ کام آجائے لیکن پاکستانی عدالتیں کسی بھی ٹرمپ کارڈ پر نہیں چلیں گی۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انصاف کا نظام کسی کے ذاتی مفادات کے تابع نہیں ہوتا اور وہ اس پر اثرانداز ہونے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ شرجیل میمن نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ جو شخص عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہا تھا، وہ خود اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے۔ وہ شخص جو دوسروں کے لیے گڑھے کھود رہا تھا، اب خود رسوائی کا شکار ہو رہا ہے۔ہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کے سہولت کار بین الاقوامی فورمز پر سرگرم ہیں اور ان کی کوششیں ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک فرد نے ریاست کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے اور اس کی جانب سے کیے گئے اقدامات ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔

    شرجیل میمن نے واضح کیا کہ پاکستانی عدالتیں آزاد اور خودمختار ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی سیاست سے بالا تر ہو کر انصاف فراہم کرنے کی پابند ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا اور قانون کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔

    موریطانیہ کشتی حادثہ ،انسانی اسمگلرگینگ کی مبینہ رکن خاتون گرفتار

    القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    جامعہ نعیمیہ کا ڈنکی لگا کر بیرون ملک جانے والوں کیلیے فتویٰ جاری

  • القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادریونیورسٹی نہیں بلکہ کالج ہے،پی ٹی آئی عوام کو بیوقوف بناتی رہی اور حکومتی اراکین نے بھی گوارہ نہیں کیا کہ وہ چیک کریں یونیورسٹی ہے بھی سہی یا نہیں، یہ ڈگری کالج ہے، اس جگہ پرزمین کی خریدوفروخت 3 ہزار روپے کنال میں ہوئی، سوہاوہ میں ریکارڈ موجود ہے،کئی افراد کی زمین تھی ،کھنڈرات، یا غیر زرعی زمین کی وجہ سے تین ہزار کنال فروخت ہوئی،بعد ازاں دس لاکھ کنال کے حساب سے حکومت نے کرپشن کی، پنجاب میں وزیر اطلاعات ہیں، وفاق میں وزیر اطلاعات ہیں، وہ ویسے تو شور کرتے رہتے ہیں لیکن کسی نے اس چیز کو دیکھنا گوارہ نہیں کیا کہ پی ٹی آئی القادر یونیورسٹی کے نام پر عوام کو بیوقوف بناتی رہی،القادر نامی کوئی یونیورسٹی نہیں ہے ، جہلم میں قائم جی سی یونیورسٹی سے الحاق شدہ کالج کو کرپشن کے دو سو ملین پاؤنڈ ہضم کرنے کے لیے القادر یونیورسٹی کا نام دیا گیا ۔

    عدالت نے گزشتہ روز عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی اور القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا جس کے بعد سوہاوا شہر کے قریب القادر یونیورسٹی کے باہر جمعہ کے روز پولیس کی نفری تعینات کی گئی۔ خبر رساں ادارے ڈان سے بات کرتے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی تعیناتی صرف ادارے کی حفاظت کے لیے کی گئی تھی، جمعہ کی دوپہر کو یونیورسٹی کے کیمپس کا دورہ کرنے والے کئی میڈیا نمائندے موجود تھے، اور اس دوران تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری نظر آئیں۔ کیمپس میں کچھ طلباء کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آئے کیونکہ یہاں کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے، اور یہ کیمپس 458 کنال زمین پر پھیلا ہوا ہے جو زیادہ تر پتھریلے ٹیلوں اور پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔

    یونیورسٹی کے دو اہم بلاک ہیں جن میں ایک تعلیمی اور دوسرا رہائشی حصہ شامل ہے، اور ان کے سامنے ایک نامکمل آڈیٹوریم واقع ہے۔ کلاس رومز، لائبریری، آئی ٹی لیب اور دفاتر جدید معیار کے ہیں اور ان میں بہترین ساز و سامان اور فرنیچر موجود ہے۔ یونیورسٹی میں تقریباً 200 طلباء زیر تعلیم ہیں، جن میں 130 لڑکے اور 70 لڑکیاں بی ایس اسلامی اسٹڈیز اور بی ایس مینجمنٹ کے شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ایک فیکلٹی ممبر نے ڈان کو بتایا کہ ہوسٹل میں رہنے والے طلباء بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس فیکلٹی ممبر کے مطابق، بیشتر طلباء کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ 60 کے قریب طلباء کے میس کے اخراجات فلاحی افراد کے ذریعے پورے کیے جا رہے ہیں۔

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ
    تاہم میڈیا کی کچھ رپورٹس کے برخلاف، یہ کیمپس ایک خودمختار یونیورسٹی نہیں ہے۔جہلم کے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز، ڈاکٹر حبیب الرحمان نے بتایا کہ القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور اس کا الحاق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ہے۔جب ان سے ادارے کے کنٹرول پر قبضہ کرنے کے حوالے سے فیصلے میں کسی منصوبے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ڈاکٹر حبیب الرحمان نے کہا کہ "ہمیں ابھی تک اعلیٰ حکام سے اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں ملی ہیں۔ حکومت جو بھی ہدایت دے گی، ہم اس کی پیروی کریں گے”۔

    القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔خواجہ آصف
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ہے، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔ یہ بنیادی طور پر یونیورسٹی نہیں ہے، نہ کبھی عمران خان نے اس کی رجسٹریشن کے لیے اپلائی کیا۔ یہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے رجسٹرڈ صرف ایک کالج ہے، جس میں بنیادی طور پر صرف 2 سیبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں،اس یونیورسٹی میں 200 طلبا زیرتعلیم ہیں۔ القادر ٹرسٹ کے پاس 400 ایکڑ زمین ہے، یہ یونیورسٹی نہیں ہے، اس کو یونیورسٹی کا نام ویسے دیا گیا ہے، روحانیات کی تعلیم کے لیے یہ یونیورسٹی بنائی گئی لیکن وہاں پر روحانیات کی کوئی تعلیم نہیں دی جاتی، یہ ایک قسم کا کمپیوٹر کالج ہے، جو عام شہروں میں بنائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، اس میں جو پیسہ استعمال ہوا وہ بھی اس کیس میں سامنے آگیا۔

    پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد
    القادر یونیورسٹی میں چار سال کے دوران صرف 200؍ اسٹوڈنٹس نے داخلہ لیا، القادر یونیورسٹی کو تاحال پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیا۔ یہ ادارہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سالانہ الحاق کے سرٹیفکیٹ پر انحصار کرتا ہے، جس سے یونیورسٹی کی سرکاری ایکریڈیٹیشن کے حصول کیلئے جدوجہد واضح ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد نے اعتراف کیا ہے کہ پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، چونکہ پنجاب ایچ ای سی کی جانب سے ڈگری عطا کرنے کا اسٹیٹس نہیں دیا گیا، لہٰذا یہ یونیورسٹی اب تک ایک کالج کی حیثیت میں کام کر رہی ہے۔

    روزنامہ جنگ میں‌فخر درانی کی شائع ہونے والے رپورٹ کے مطابق داخلوں کے حوالے سے ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے پہلے سال میں 41؍ جبکہ دوسرے سال میں 60؍ اسٹوڈنٹس کو داخلہ دیا گیا، 2021ء سے اسٹوڈنٹس کی اب تک کی تعداد 200؍ ہے۔ یونیورسٹی کو ایکریڈیٹیشن کے حصول میں ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا ہے۔ کالج میں ریگولر اساتذہ کی تعداد 12؍ ہے جن میں سے سات پی ایچ ڈی ہولڈرز جبکہ پانچ ماسٹر ڈگری ہولڈرز ہیں۔ وزٹنگ فیکلٹی کے ساتھ ملا کر تدریسی عملے کی تعداد 80؍ ہے۔ ایکریڈیٹیشن اور محدود داخلوں کے چیلنجز کے باوجود تعلیمی معیار کو بہتر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کل طلبہ کے 95؍ فیصد حصے کو اسکالرشپ دیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ معیاری تعلیم تک مستحق طلباء کی رسائی ہو۔ اسٹوڈنٹس کو مفت کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے جس سے 50؍ اسٹوڈنٹس مستفید ہو رہے ہیں، مقامی عطیہ دہندگان کی طرف سے ملنے والے فنڈز سے ماہانہ 5؍ لاکھ روپے اس مد میں خرچ ہوتے ہیں۔ 95؍ فیصد اسٹوڈنٹس ہاسٹل میں رہتے ہیں جن کا تعلق تمام صوبوں سے ہے۔ 2021 میں دیے گئے داخلوں کے پہلے بیچ میں میں 23 طلباء تھے جن میں 16 خواتین اور 7 مرد ہیں۔ یہ اسٹوڈنٹس 2025ء میں گریجویٹ ہو جائیں گے۔ 2024 میں 100؍ طلباء کو داخلہ دیا گیا جن میں سے 70 نے مینجمنٹ سائنسز کا انتخاب کیا اور 30 ​​نے بی ایس اسلامک اسٹڈیز کا انتخاب کیا۔ زیادہ تر طلباء اسلامی علوم پر مینجمنٹ کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ کالج کے سالانہ اخراجات تقریباً 60؍ سے 70؍ لاکھ روپے ہیں۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

  • عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    امریکا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے بانی عمران خان کے خلاف جوابی مہم شروع ہوگئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے احتجاجی سرگرمیاں اور ڈیجیٹل نعروں سے مزین ٹرکوں کی گشت کی مہم کے بعد واشنگٹن میں عمران خان اور پی ٹی آئی کے مخالفین نے بھی جوابی احتجاجی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے خلاف اس مہم کو امریکا میں سیاست کا نیا میدان کہا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کے حامی سڑکوں پر احتجاجی ٹرکوں کی صورت میں نکلے ہیں، تو دوسری طرف ان کے مخالفین نے بھی اپنی آواز بلند کرنے کے لیے اسی حکمت عملی کو اختیار کیا ہے۔ واشنگٹن میں ٹرمپ حلف برداری کی تقریب کے قریب آتے ہی پی ٹی آئی کے حامیوں نے حکومت کے خلاف ڈیجیٹل نعروں اور تصاویر کے ساتھ احتجاجی ٹرکوں کے ذریعے اپنے مطالبات کی آواز بلند کی۔

    اسی دوران، پی ٹی آئی کے مخالفین نے بھی جوابی حکمت عملی اپناتے ہوئے کرایہ پر ٹرک حاصل کر کے ان پر مخالفانہ نعرے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصاویر آویزاں کر دیں۔ ان ٹرکوں پر اسامہ بن لادن، طالبان کی حمایت اور عمران خان کے ان بیانات کو اجاگر کیا گیا ہے جن میں انہوں نے طالبان اور اسامہ بن لادن کی حمایت کی تھی۔پی ٹی آئی کے مخالفین نے واشنگٹن کی سڑکوں پر ان ٹرکوں کے ذریعے ان بیانات کو عوامی سطح پر پیش کیا تاکہ امریکی عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ بانی پی ٹی آئی دہشت گردوں کے حامی ہیں اور ان کے بیانات امریکی مفادات کے خلاف ہیں۔ ان ٹرکوں پر درج نعرے "اسامہ بن لادن کو شہید” اور "طالبان کی افغان جنگ کو جائز” جیسے نعرے شامل ہیں، جو کہ امریکی عوام کی نظر میں انتہائی متنازعہ ہیں۔

    اس طرح، پاکستان کی داخلی سیاست کی جنگ اب واشنگٹن کی سڑکوں پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی اور اس کے مخالفین نے سوشل میڈیا اور احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے ایک نئی نوعیت کی سیاسی کشمکش کا آغاز کیا ہے جو دونوں فریقین کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

  • بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    احتساب عدالت سے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنانے کے بعد بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل کر دیا گیا

    ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی کو خواتین بیرک میں منتقل کرنے سے قبل ان کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا۔ طبی معائنہ کے بعد انہیں کچھ ضروری دوائیں فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ، بشریٰ بی بی کا ضروری سامان بھی بیرک میں پہنچا دیا گیا، جس میں کپڑے، جوتے، چادریں، کھانے پینے کی اشیاء، بیڈ شیٹس، تکیے اور دیگر سامان شامل تھا۔بشریٰ بی بی کا سامان بیرک میں پہنچانے سے قبل مکمل طور پر چیک کیا گیا تھا تاکہ کسی قسم کی غیر ضروری اشیاء بیرک میں نہ پہنچیں۔

    آج راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔ ساتھ ہی ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ عمران خان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔ فیصلے کے مطابق، اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو عمران خان کو مزید 6 ماہ قید اور بشریٰ بی بی کو 3 ماہ قید کی سزا ہو گی۔

    عمران خان کو کرپٹ پریکٹسز اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جب کہ بشریٰ بی بی کو اپنے خاوند کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے 7 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔اس فیصلے کے بعد، عمران خان، بشریٰ بی بی اور ان کی بہنیں کمرۂ عدالت میں موجود تھیں۔

    چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

  • تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے القادر ٹرسٹ کے فیصلے کے حوالے سے نجی ٹی وی چینلز کی جانب سے غلط خبروں پر ردعمل ظاہر کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں اور اینکر پرسن منصور علی خان ایئرپورٹ پر موجود تھے جب انہیں پہلی بار "القادر ٹرسٹ کیس” کے حوالے سے خبر ملی ،بریکنگ نیوز دی گئی کہ عمران خان کو اس کیس میں رہا کر دیا گیا ہے۔ ہم دونوں پرواز میں سوار ہوئے اور جب اترے تو ہم نے یہ سنا کہ تین چینلز نے سب سے پہلے "عمران خان کی رہائی” کی خبر بریک کی تھی۔ تاہم، بعد میں یہ چینلز اپنی خبریں تبدیل کر گئے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1880212338932084749

    مبشر لقمان نے اس واقعے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت تعجب کی بات ہے کہ تین چینلز اتنی بڑی خبر کیسے بغیر کسی مستند ذریعہ کے نشر کر سکتے ہیں؟ کیا اس کے پیچھے کوئی گہری سازش یا وجہ ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ تین چینلز یکساں طور پر ایسی خبر نشر کریں، جب تک کہ انہیں یہ کہانی ایک ہی ذریعے سے نہ دی گئی ہو۔ ان چینلز کی اس غیر ذمہ دارانہ صحافتی عمل کے پیچھے ایک اور بڑا سوال ہے کہ آیا ان کے پاس اس خبر کی تصدیق کرنے کا کوئی مناسب ذریعہ تھا یا نہیں؟ جب محسن نقوی کے چینل پر ایسی خبر نشر کی جاتی ہے، تو یہ بات زیادہ اہمیت اختیار کرتی ہے کیونکہ محسن نقوی وزیر داخلہ بھی ہیں اور ان کے چینل کو دیگر چینلز کی نسبت زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1880212983726362969

    مبشر لقمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب ان تمام چینلز پر یہ الزام عائد کیا جائے گا کہ وہ اس خبر کے حوالے سے عدالت کے رپورٹر کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے، لیکن اس نوعیت کے جھوٹے یا مسخ شدہ خبریں دینے سے صحافتی معیار پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عدالت نے آج فیصلہ سنا یا ہے اور عمران خان کو 14 برس، بشریٰ بی بی کو سات برس قید کی سزا سنائی ہے، بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کر لیا گیا ہے،فیصلہ آنے کے بعد اے آر وائی نے سب سے پہلے عمران خان کی رہائی کی خبر چلا دی، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شمع جونیجوکہتی ہیں کہ پاکستانی الیکٹرونک میڈیا تاریخ کی سب سے بڑی فیک نیوز! آج ARY نے عمران خان کے بری ہونے کی جعلی خبر کیوں چلائی ،تاکہ PTI اسے پروپیگنڈہ کے لئے استعمال کرے اور وہی ہورہا ہے!

    https://x.com/ShamaJunejo/status/1880174060291903779

    دنیا کے سب سے بڑے راکٹ کی آزمائشی پروازایک بار پھر ناکام

    پی آئی اے کا اشتہار،رسوائی کا باعث بن گیا

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

  • القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

    القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ کل القادر یونیورسٹی کی طالبات کی ویڈیو میرے پاس آئی کہ ہمیں بھی اسکالر شپ دیں اور آج یونیورسٹی میرے پاس آ گئی، اب وہاں مذہب کی تعلیم بھی دی جائےگی، دنیاوی بھی، جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا،

    اوکاڑہ یونیورسٹی میں تقریب کے دوران خصوصی طلبہ نےمریم نواز سے ہاتھ ہلا کر محبت کا اظہارکیا،وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میرے والد نے 45 سال ملک کی خدمت کی ہے، نواز شریف کو اقامہ پر نکالا گیا، مجھے اپنے والد کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی گئی،آج 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آیا، القادر ٹرسٹ کیس میں چوری ثابت ہوئی یہ پہلا وزیراعظم ہے جو چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، بانی پی ٹی آئی پہلے وزیراعظم ہیں جن کو کرپشن پر سزا سنائی گئی ہے، آج کے فیصلے کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی، یہ شخص اسی اڈیالہ جیل میں قید ہے جس میں نوازشریف اور میں قید تھے،میرے سیل میں کیمرے لگائے گئے تھے، وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، اس شخص کو جیل میں اچھا کھانا اور دیگرسہولتیں مل رہی ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں

    ہمیں چور ثابت کرنے پر تل جانے والوں پر چوری ثابت ہو گئی،مریم نواز
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ کل میں فیصل آباد میں تھی، ایک بچے نے کہا کہ ہم نے سُنا تھا کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، آج ہم نے وزیراعلیٰ کے روپ میں یہ دیکھ بھی لیا ہے کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، جن بچوں کو پٹرول بم چلانا سکھایا ہے، وہ آج جیلوں میں سڑ رہے ہیں،اللہ کا فضل دیکھو، آج 190 ملین پائونڈ کیس کا فیصلہ آیا، ہمیں چور ثابت کرنے پر تل جانے والوں پر چوری ثابت ہو گئی ہے، القادر یونیورسٹی سرکاری تحویل میں دے دی گئی، اب وہ یونیورسٹی میرے پاس آگئی ہے، القادر یونیورسٹی کے طلبا کو بھی اسکالرشپ دی جائے گی، نوجوانوں کو ترغیب دی گئی کہ سوشل میڈیا پر جو دیکھیں اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کرلیں، جنہیں آج ورغلایا گیا وہ آج جیلوں میں ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اوکاڑہ یونیورسٹی میں بھی تصاویر لانے والی طالبات کو سٹیج پر بلا لیا،مریم نواز نے طالبات کو دیکھا اور کہا کہ کیا ہے بیٹا، آ جائو، ہائو نائس، آپ نے بنائی ہے، تھینک یو سو مچ، طالبہ نے سٹیج پر آ کر مریم نواز کو ہاتھوں میں گجرا پہنا دیا، مریم نواز بولیں اوہ سو سویٹ،

    دھوکہ دہی،تھائی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کو پیسے مانگنے کی جعلی کال کا انکشاف

    پی آئی اے کا اشتہار،رسوائی کا باعث بن گیا

  • ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القادر یونیورسٹی کیس کا فیصلہ آچکا ہے اور اس سے متعلق اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ فرح گوگی جو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر رقم لے کر بیرونِ ملک فرار ہوئی، اس نے ریاستی وسائل کا غلط استعمال کیا اور چوری کے مال کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ریاستی رقم کسی کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے، اور ایسا عمل پوری قوم کے لیے باعث شرم ہے۔وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی، عمران خان، جو کہ ہمیشہ مخالفین کو چور اور بدعنوان قرار دیتے رہے، انہوں نے خود ریاست کے وسائل کا غلط استعمال کیا اور عوام کے ساتھ ظلم کیا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف جو کچھ ہوا، وہ سب سامنے آچکا ہے اور ان کی حکومت نے عوام کو صرف دھوکہ دیا۔

    میڈیا والے بتائیں ملک ریاض کا نام کیوں نہیں لیتے؟خواجہ آصف
    خواجہ آصف نے نواز شریف کے بارے میں کہا کہ ان پر کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا، اور مخالفین کے پاس ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔ مذاکرات میں پی ٹی آئی کی ڈیمانڈ ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت قیدی رہا کیے جائیں لیکن یہ نہیں ہوگا۔عدالتیں ہی قیدیوں کو رہا کر سکتی ہیں،کسی کوغلط فہمی نہیں ہونی چاہئےکہ القادر کوئی یونیورسٹی نہیں ہے،190 ملین پاؤنڈز پاکستانی عوام اور حکومت کا پیسہ ہے،ٹی وی پر سنا ہے کہ یونیورسٹی سرکاری تحویل میں لی جا رہی ہے، سوکالڈ یونیورسٹی، کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے،یہ یونیورسٹی نہیں ہے، ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے کیونکہ مقدمے میں سب سامنے آگیا ہے،برطانیہ سے آنے والا پیسہ عمران خان نے ملک ریاض کے اکاؤنٹ میں ڈالا گیا، وہ پیسہ پاکستانی حکومت کا تھا،میڈیا والے بتائیں ملک ریاض کا نام کیوں نہیں لیتے؟ جیو والے بیپ، بیپ کرتے ہیں، جہاں سے مال ملے وہاں کوئی نہیں بولتا،

    عمران خان نجات دہندہ نہیں، نوسرباز فراڈیا ہے،کوئی بزدار ہوتا ہے کوئی گوگی ،نام ہی شریفوں والے نہیں، گوگا، گوگی، کن ٹٹے نام ہیں،خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ مذاکراتی ٹیم میں کوئی بتادےمیں نےمذاکرات سےمنع کیاہو،پی ٹی آئی والوں نےخودکہاہےفیصلےکامذاکرات پراثرنہیں پڑےگا،اللہ کرے ملک کیلئے خلوص کیساتھ مذاکرات جاری رہیں، عمران خان نجات دہندہ نہیں، نوسرباز فراڈیا ہے، کوئی بزدار ہوتا ہے کوئی گوگی ہوتی ہے، عجیب عجیب نام ہیں،نام ہی شریفوں والے نہیں، گوگا، گوگی، کن ٹٹے نام ہیں،

    واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو ثابت ہوچکا ،عطا تارڑ

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

  • جب سزا ہوئی تو عمران خان نے ہمیں کہا حوصلہ کرو،علیمہ خان

    جب سزا ہوئی تو عمران خان نے ہمیں کہا حوصلہ کرو،علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کے بعد علیمہ خان کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ آج صحافیوں نے جیل میں تماشہ کیا تاکہ وہ میڈیا سے بات نہ کرسکیں، عمران خان نے کہا ہے سب حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پڑھیں، تاریخ بتاتی ہے آج جو ہورہا ہے وہ پہلے ہوچُکاہے، جج پر مجھے ترس آرہا ہے جو تاریخ میں یاد رکھی جائے گی، القادر یونیورسٹی میں سیرت نبی پڑھائی جاتی ہے، سزا کے اندر یہ شامل ہے یونیورسٹی پر قبضہ کرلیا جائے، جب سزا ہوئی تو عمران خان نے ہمیں کہا حوصلہ کرو، شکل کیوں بن رہی ہے، جزا سزا اللہ نے دینی ہے، آپ کا اللہ پر یقین کیا کم ہوگیا ہے؟

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ 15سے 20 دن میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزائیں ختم ہوجائیں گی،پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس سیاسی انتقام اور انصاف کا قتل ہے، اس کیس میں کرپشن کیا ہے؟ ایک ٹرسٹ کے تحت یونیورسٹی بنائی گئی، یہ ہائیکورٹ کی پہلی پیشی میں ختم ہونے والا کیس ہے.

    واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو ثابت ہوچکا ،عطا تارڑ

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا