Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادریونیورسٹی نہیں بلکہ کالج ہے،پی ٹی آئی عوام کو بیوقوف بناتی رہی اور حکومتی اراکین نے بھی گوارہ نہیں کیا کہ وہ چیک کریں یونیورسٹی ہے بھی سہی یا نہیں، یہ ڈگری کالج ہے، اس جگہ پرزمین کی خریدوفروخت 3 ہزار روپے کنال میں ہوئی، سوہاوہ میں ریکارڈ موجود ہے،کئی افراد کی زمین تھی ،کھنڈرات، یا غیر زرعی زمین کی وجہ سے تین ہزار کنال فروخت ہوئی،بعد ازاں دس لاکھ کنال کے حساب سے حکومت نے کرپشن کی، پنجاب میں وزیر اطلاعات ہیں، وفاق میں وزیر اطلاعات ہیں، وہ ویسے تو شور کرتے رہتے ہیں لیکن کسی نے اس چیز کو دیکھنا گوارہ نہیں کیا کہ پی ٹی آئی القادر یونیورسٹی کے نام پر عوام کو بیوقوف بناتی رہی،القادر نامی کوئی یونیورسٹی نہیں ہے ، جہلم میں قائم جی سی یونیورسٹی سے الحاق شدہ کالج کو کرپشن کے دو سو ملین پاؤنڈ ہضم کرنے کے لیے القادر یونیورسٹی کا نام دیا گیا ۔

    عدالت نے گزشتہ روز عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی اور القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا جس کے بعد سوہاوا شہر کے قریب القادر یونیورسٹی کے باہر جمعہ کے روز پولیس کی نفری تعینات کی گئی۔ خبر رساں ادارے ڈان سے بات کرتے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی تعیناتی صرف ادارے کی حفاظت کے لیے کی گئی تھی، جمعہ کی دوپہر کو یونیورسٹی کے کیمپس کا دورہ کرنے والے کئی میڈیا نمائندے موجود تھے، اور اس دوران تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری نظر آئیں۔ کیمپس میں کچھ طلباء کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آئے کیونکہ یہاں کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے، اور یہ کیمپس 458 کنال زمین پر پھیلا ہوا ہے جو زیادہ تر پتھریلے ٹیلوں اور پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔

    یونیورسٹی کے دو اہم بلاک ہیں جن میں ایک تعلیمی اور دوسرا رہائشی حصہ شامل ہے، اور ان کے سامنے ایک نامکمل آڈیٹوریم واقع ہے۔ کلاس رومز، لائبریری، آئی ٹی لیب اور دفاتر جدید معیار کے ہیں اور ان میں بہترین ساز و سامان اور فرنیچر موجود ہے۔ یونیورسٹی میں تقریباً 200 طلباء زیر تعلیم ہیں، جن میں 130 لڑکے اور 70 لڑکیاں بی ایس اسلامی اسٹڈیز اور بی ایس مینجمنٹ کے شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ایک فیکلٹی ممبر نے ڈان کو بتایا کہ ہوسٹل میں رہنے والے طلباء بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس فیکلٹی ممبر کے مطابق، بیشتر طلباء کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ 60 کے قریب طلباء کے میس کے اخراجات فلاحی افراد کے ذریعے پورے کیے جا رہے ہیں۔

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ
    تاہم میڈیا کی کچھ رپورٹس کے برخلاف، یہ کیمپس ایک خودمختار یونیورسٹی نہیں ہے۔جہلم کے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز، ڈاکٹر حبیب الرحمان نے بتایا کہ القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور اس کا الحاق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ہے۔جب ان سے ادارے کے کنٹرول پر قبضہ کرنے کے حوالے سے فیصلے میں کسی منصوبے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ڈاکٹر حبیب الرحمان نے کہا کہ "ہمیں ابھی تک اعلیٰ حکام سے اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں ملی ہیں۔ حکومت جو بھی ہدایت دے گی، ہم اس کی پیروی کریں گے”۔

    القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔خواجہ آصف
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ہے، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔ یہ بنیادی طور پر یونیورسٹی نہیں ہے، نہ کبھی عمران خان نے اس کی رجسٹریشن کے لیے اپلائی کیا۔ یہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے رجسٹرڈ صرف ایک کالج ہے، جس میں بنیادی طور پر صرف 2 سیبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں،اس یونیورسٹی میں 200 طلبا زیرتعلیم ہیں۔ القادر ٹرسٹ کے پاس 400 ایکڑ زمین ہے، یہ یونیورسٹی نہیں ہے، اس کو یونیورسٹی کا نام ویسے دیا گیا ہے، روحانیات کی تعلیم کے لیے یہ یونیورسٹی بنائی گئی لیکن وہاں پر روحانیات کی کوئی تعلیم نہیں دی جاتی، یہ ایک قسم کا کمپیوٹر کالج ہے، جو عام شہروں میں بنائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، اس میں جو پیسہ استعمال ہوا وہ بھی اس کیس میں سامنے آگیا۔

    پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد
    القادر یونیورسٹی میں چار سال کے دوران صرف 200؍ اسٹوڈنٹس نے داخلہ لیا، القادر یونیورسٹی کو تاحال پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیا۔ یہ ادارہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سالانہ الحاق کے سرٹیفکیٹ پر انحصار کرتا ہے، جس سے یونیورسٹی کی سرکاری ایکریڈیٹیشن کے حصول کیلئے جدوجہد واضح ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد نے اعتراف کیا ہے کہ پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، چونکہ پنجاب ایچ ای سی کی جانب سے ڈگری عطا کرنے کا اسٹیٹس نہیں دیا گیا، لہٰذا یہ یونیورسٹی اب تک ایک کالج کی حیثیت میں کام کر رہی ہے۔

    روزنامہ جنگ میں‌فخر درانی کی شائع ہونے والے رپورٹ کے مطابق داخلوں کے حوالے سے ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے پہلے سال میں 41؍ جبکہ دوسرے سال میں 60؍ اسٹوڈنٹس کو داخلہ دیا گیا، 2021ء سے اسٹوڈنٹس کی اب تک کی تعداد 200؍ ہے۔ یونیورسٹی کو ایکریڈیٹیشن کے حصول میں ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا ہے۔ کالج میں ریگولر اساتذہ کی تعداد 12؍ ہے جن میں سے سات پی ایچ ڈی ہولڈرز جبکہ پانچ ماسٹر ڈگری ہولڈرز ہیں۔ وزٹنگ فیکلٹی کے ساتھ ملا کر تدریسی عملے کی تعداد 80؍ ہے۔ ایکریڈیٹیشن اور محدود داخلوں کے چیلنجز کے باوجود تعلیمی معیار کو بہتر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کل طلبہ کے 95؍ فیصد حصے کو اسکالرشپ دیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ معیاری تعلیم تک مستحق طلباء کی رسائی ہو۔ اسٹوڈنٹس کو مفت کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے جس سے 50؍ اسٹوڈنٹس مستفید ہو رہے ہیں، مقامی عطیہ دہندگان کی طرف سے ملنے والے فنڈز سے ماہانہ 5؍ لاکھ روپے اس مد میں خرچ ہوتے ہیں۔ 95؍ فیصد اسٹوڈنٹس ہاسٹل میں رہتے ہیں جن کا تعلق تمام صوبوں سے ہے۔ 2021 میں دیے گئے داخلوں کے پہلے بیچ میں میں 23 طلباء تھے جن میں 16 خواتین اور 7 مرد ہیں۔ یہ اسٹوڈنٹس 2025ء میں گریجویٹ ہو جائیں گے۔ 2024 میں 100؍ طلباء کو داخلہ دیا گیا جن میں سے 70 نے مینجمنٹ سائنسز کا انتخاب کیا اور 30 ​​نے بی ایس اسلامک اسٹڈیز کا انتخاب کیا۔ زیادہ تر طلباء اسلامی علوم پر مینجمنٹ کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ کالج کے سالانہ اخراجات تقریباً 60؍ سے 70؍ لاکھ روپے ہیں۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

  • عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

    امریکا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے بانی عمران خان کے خلاف جوابی مہم شروع ہوگئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے احتجاجی سرگرمیاں اور ڈیجیٹل نعروں سے مزین ٹرکوں کی گشت کی مہم کے بعد واشنگٹن میں عمران خان اور پی ٹی آئی کے مخالفین نے بھی جوابی احتجاجی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے خلاف اس مہم کو امریکا میں سیاست کا نیا میدان کہا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کے حامی سڑکوں پر احتجاجی ٹرکوں کی صورت میں نکلے ہیں، تو دوسری طرف ان کے مخالفین نے بھی اپنی آواز بلند کرنے کے لیے اسی حکمت عملی کو اختیار کیا ہے۔ واشنگٹن میں ٹرمپ حلف برداری کی تقریب کے قریب آتے ہی پی ٹی آئی کے حامیوں نے حکومت کے خلاف ڈیجیٹل نعروں اور تصاویر کے ساتھ احتجاجی ٹرکوں کے ذریعے اپنے مطالبات کی آواز بلند کی۔

    اسی دوران، پی ٹی آئی کے مخالفین نے بھی جوابی حکمت عملی اپناتے ہوئے کرایہ پر ٹرک حاصل کر کے ان پر مخالفانہ نعرے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصاویر آویزاں کر دیں۔ ان ٹرکوں پر اسامہ بن لادن، طالبان کی حمایت اور عمران خان کے ان بیانات کو اجاگر کیا گیا ہے جن میں انہوں نے طالبان اور اسامہ بن لادن کی حمایت کی تھی۔پی ٹی آئی کے مخالفین نے واشنگٹن کی سڑکوں پر ان ٹرکوں کے ذریعے ان بیانات کو عوامی سطح پر پیش کیا تاکہ امریکی عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ بانی پی ٹی آئی دہشت گردوں کے حامی ہیں اور ان کے بیانات امریکی مفادات کے خلاف ہیں۔ ان ٹرکوں پر درج نعرے "اسامہ بن لادن کو شہید” اور "طالبان کی افغان جنگ کو جائز” جیسے نعرے شامل ہیں، جو کہ امریکی عوام کی نظر میں انتہائی متنازعہ ہیں۔

    اس طرح، پاکستان کی داخلی سیاست کی جنگ اب واشنگٹن کی سڑکوں پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی اور اس کے مخالفین نے سوشل میڈیا اور احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے ایک نئی نوعیت کی سیاسی کشمکش کا آغاز کیا ہے جو دونوں فریقین کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

  • بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    بشریٰ بی بی طبی معائنہ کے بعد اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل

    احتساب عدالت سے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنانے کے بعد بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل کی خواتین بیرک میں منتقل کر دیا گیا

    ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی کو خواتین بیرک میں منتقل کرنے سے قبل ان کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا۔ طبی معائنہ کے بعد انہیں کچھ ضروری دوائیں فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ، بشریٰ بی بی کا ضروری سامان بھی بیرک میں پہنچا دیا گیا، جس میں کپڑے، جوتے، چادریں، کھانے پینے کی اشیاء، بیڈ شیٹس، تکیے اور دیگر سامان شامل تھا۔بشریٰ بی بی کا سامان بیرک میں پہنچانے سے قبل مکمل طور پر چیک کیا گیا تھا تاکہ کسی قسم کی غیر ضروری اشیاء بیرک میں نہ پہنچیں۔

    آج راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔ ساتھ ہی ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ عمران خان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔ فیصلے کے مطابق، اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو عمران خان کو مزید 6 ماہ قید اور بشریٰ بی بی کو 3 ماہ قید کی سزا ہو گی۔

    عمران خان کو کرپٹ پریکٹسز اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جب کہ بشریٰ بی بی کو اپنے خاوند کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے 7 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔اس فیصلے کے بعد، عمران خان، بشریٰ بی بی اور ان کی بہنیں کمرۂ عدالت میں موجود تھیں۔

    چورچور کے نعرے لگانے والا خود ہی چور نکلا.تحریر:حنا سرور

    بے حس سناٹے میں گم ہوتی ہوئیں معصوم زہرہ کی چیخیں

  • تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے القادر ٹرسٹ کے فیصلے کے حوالے سے نجی ٹی وی چینلز کی جانب سے غلط خبروں پر ردعمل ظاہر کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں اور اینکر پرسن منصور علی خان ایئرپورٹ پر موجود تھے جب انہیں پہلی بار "القادر ٹرسٹ کیس” کے حوالے سے خبر ملی ،بریکنگ نیوز دی گئی کہ عمران خان کو اس کیس میں رہا کر دیا گیا ہے۔ ہم دونوں پرواز میں سوار ہوئے اور جب اترے تو ہم نے یہ سنا کہ تین چینلز نے سب سے پہلے "عمران خان کی رہائی” کی خبر بریک کی تھی۔ تاہم، بعد میں یہ چینلز اپنی خبریں تبدیل کر گئے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1880212338932084749

    مبشر لقمان نے اس واقعے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت تعجب کی بات ہے کہ تین چینلز اتنی بڑی خبر کیسے بغیر کسی مستند ذریعہ کے نشر کر سکتے ہیں؟ کیا اس کے پیچھے کوئی گہری سازش یا وجہ ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ تین چینلز یکساں طور پر ایسی خبر نشر کریں، جب تک کہ انہیں یہ کہانی ایک ہی ذریعے سے نہ دی گئی ہو۔ ان چینلز کی اس غیر ذمہ دارانہ صحافتی عمل کے پیچھے ایک اور بڑا سوال ہے کہ آیا ان کے پاس اس خبر کی تصدیق کرنے کا کوئی مناسب ذریعہ تھا یا نہیں؟ جب محسن نقوی کے چینل پر ایسی خبر نشر کی جاتی ہے، تو یہ بات زیادہ اہمیت اختیار کرتی ہے کیونکہ محسن نقوی وزیر داخلہ بھی ہیں اور ان کے چینل کو دیگر چینلز کی نسبت زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1880212983726362969

    مبشر لقمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب ان تمام چینلز پر یہ الزام عائد کیا جائے گا کہ وہ اس خبر کے حوالے سے عدالت کے رپورٹر کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے، لیکن اس نوعیت کے جھوٹے یا مسخ شدہ خبریں دینے سے صحافتی معیار پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عدالت نے آج فیصلہ سنا یا ہے اور عمران خان کو 14 برس، بشریٰ بی بی کو سات برس قید کی سزا سنائی ہے، بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے ہی گرفتار کر لیا گیا ہے،فیصلہ آنے کے بعد اے آر وائی نے سب سے پہلے عمران خان کی رہائی کی خبر چلا دی، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شمع جونیجوکہتی ہیں کہ پاکستانی الیکٹرونک میڈیا تاریخ کی سب سے بڑی فیک نیوز! آج ARY نے عمران خان کے بری ہونے کی جعلی خبر کیوں چلائی ،تاکہ PTI اسے پروپیگنڈہ کے لئے استعمال کرے اور وہی ہورہا ہے!

    https://x.com/ShamaJunejo/status/1880174060291903779

    دنیا کے سب سے بڑے راکٹ کی آزمائشی پروازایک بار پھر ناکام

    پی آئی اے کا اشتہار،رسوائی کا باعث بن گیا

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

  • القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

    القادریونیورسٹی میرے پاس آ گئی،جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا، مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ کل القادر یونیورسٹی کی طالبات کی ویڈیو میرے پاس آئی کہ ہمیں بھی اسکالر شپ دیں اور آج یونیورسٹی میرے پاس آ گئی، اب وہاں مذہب کی تعلیم بھی دی جائےگی، دنیاوی بھی، جادو ٹونا نہیں سکھایا جائے گا،

    اوکاڑہ یونیورسٹی میں تقریب کے دوران خصوصی طلبہ نےمریم نواز سے ہاتھ ہلا کر محبت کا اظہارکیا،وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میرے والد نے 45 سال ملک کی خدمت کی ہے، نواز شریف کو اقامہ پر نکالا گیا، مجھے اپنے والد کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی گئی،آج 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آیا، القادر ٹرسٹ کیس میں چوری ثابت ہوئی یہ پہلا وزیراعظم ہے جو چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، بانی پی ٹی آئی پہلے وزیراعظم ہیں جن کو کرپشن پر سزا سنائی گئی ہے، آج کے فیصلے کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی، یہ شخص اسی اڈیالہ جیل میں قید ہے جس میں نوازشریف اور میں قید تھے،میرے سیل میں کیمرے لگائے گئے تھے، وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، اس شخص کو جیل میں اچھا کھانا اور دیگرسہولتیں مل رہی ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں

    ہمیں چور ثابت کرنے پر تل جانے والوں پر چوری ثابت ہو گئی،مریم نواز
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ کل میں فیصل آباد میں تھی، ایک بچے نے کہا کہ ہم نے سُنا تھا کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، آج ہم نے وزیراعلیٰ کے روپ میں یہ دیکھ بھی لیا ہے کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، جن بچوں کو پٹرول بم چلانا سکھایا ہے، وہ آج جیلوں میں سڑ رہے ہیں،اللہ کا فضل دیکھو، آج 190 ملین پائونڈ کیس کا فیصلہ آیا، ہمیں چور ثابت کرنے پر تل جانے والوں پر چوری ثابت ہو گئی ہے، القادر یونیورسٹی سرکاری تحویل میں دے دی گئی، اب وہ یونیورسٹی میرے پاس آگئی ہے، القادر یونیورسٹی کے طلبا کو بھی اسکالرشپ دی جائے گی، نوجوانوں کو ترغیب دی گئی کہ سوشل میڈیا پر جو دیکھیں اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کرلیں، جنہیں آج ورغلایا گیا وہ آج جیلوں میں ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اوکاڑہ یونیورسٹی میں بھی تصاویر لانے والی طالبات کو سٹیج پر بلا لیا،مریم نواز نے طالبات کو دیکھا اور کہا کہ کیا ہے بیٹا، آ جائو، ہائو نائس، آپ نے بنائی ہے، تھینک یو سو مچ، طالبہ نے سٹیج پر آ کر مریم نواز کو ہاتھوں میں گجرا پہنا دیا، مریم نواز بولیں اوہ سو سویٹ،

    دھوکہ دہی،تھائی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کو پیسے مانگنے کی جعلی کال کا انکشاف

    پی آئی اے کا اشتہار،رسوائی کا باعث بن گیا

  • ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القادر یونیورسٹی کیس کا فیصلہ آچکا ہے اور اس سے متعلق اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ فرح گوگی جو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر رقم لے کر بیرونِ ملک فرار ہوئی، اس نے ریاستی وسائل کا غلط استعمال کیا اور چوری کے مال کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ریاستی رقم کسی کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے، اور ایسا عمل پوری قوم کے لیے باعث شرم ہے۔وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی، عمران خان، جو کہ ہمیشہ مخالفین کو چور اور بدعنوان قرار دیتے رہے، انہوں نے خود ریاست کے وسائل کا غلط استعمال کیا اور عوام کے ساتھ ظلم کیا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف جو کچھ ہوا، وہ سب سامنے آچکا ہے اور ان کی حکومت نے عوام کو صرف دھوکہ دیا۔

    میڈیا والے بتائیں ملک ریاض کا نام کیوں نہیں لیتے؟خواجہ آصف
    خواجہ آصف نے نواز شریف کے بارے میں کہا کہ ان پر کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا، اور مخالفین کے پاس ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔ مذاکرات میں پی ٹی آئی کی ڈیمانڈ ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت قیدی رہا کیے جائیں لیکن یہ نہیں ہوگا۔عدالتیں ہی قیدیوں کو رہا کر سکتی ہیں،کسی کوغلط فہمی نہیں ہونی چاہئےکہ القادر کوئی یونیورسٹی نہیں ہے،190 ملین پاؤنڈز پاکستانی عوام اور حکومت کا پیسہ ہے،ٹی وی پر سنا ہے کہ یونیورسٹی سرکاری تحویل میں لی جا رہی ہے، سوکالڈ یونیورسٹی، کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے،یہ یونیورسٹی نہیں ہے، ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے کیونکہ مقدمے میں سب سامنے آگیا ہے،برطانیہ سے آنے والا پیسہ عمران خان نے ملک ریاض کے اکاؤنٹ میں ڈالا گیا، وہ پیسہ پاکستانی حکومت کا تھا،میڈیا والے بتائیں ملک ریاض کا نام کیوں نہیں لیتے؟ جیو والے بیپ، بیپ کرتے ہیں، جہاں سے مال ملے وہاں کوئی نہیں بولتا،

    عمران خان نجات دہندہ نہیں، نوسرباز فراڈیا ہے،کوئی بزدار ہوتا ہے کوئی گوگی ،نام ہی شریفوں والے نہیں، گوگا، گوگی، کن ٹٹے نام ہیں،خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ مذاکراتی ٹیم میں کوئی بتادےمیں نےمذاکرات سےمنع کیاہو،پی ٹی آئی والوں نےخودکہاہےفیصلےکامذاکرات پراثرنہیں پڑےگا،اللہ کرے ملک کیلئے خلوص کیساتھ مذاکرات جاری رہیں، عمران خان نجات دہندہ نہیں، نوسرباز فراڈیا ہے، کوئی بزدار ہوتا ہے کوئی گوگی ہوتی ہے، عجیب عجیب نام ہیں،نام ہی شریفوں والے نہیں، گوگا، گوگی، کن ٹٹے نام ہیں،

    واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو ثابت ہوچکا ،عطا تارڑ

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

  • جب سزا ہوئی تو عمران خان نے ہمیں کہا حوصلہ کرو،علیمہ خان

    جب سزا ہوئی تو عمران خان نے ہمیں کہا حوصلہ کرو،علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کے بعد علیمہ خان کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ آج صحافیوں نے جیل میں تماشہ کیا تاکہ وہ میڈیا سے بات نہ کرسکیں، عمران خان نے کہا ہے سب حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پڑھیں، تاریخ بتاتی ہے آج جو ہورہا ہے وہ پہلے ہوچُکاہے، جج پر مجھے ترس آرہا ہے جو تاریخ میں یاد رکھی جائے گی، القادر یونیورسٹی میں سیرت نبی پڑھائی جاتی ہے، سزا کے اندر یہ شامل ہے یونیورسٹی پر قبضہ کرلیا جائے، جب سزا ہوئی تو عمران خان نے ہمیں کہا حوصلہ کرو، شکل کیوں بن رہی ہے، جزا سزا اللہ نے دینی ہے، آپ کا اللہ پر یقین کیا کم ہوگیا ہے؟

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ 15سے 20 دن میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزائیں ختم ہوجائیں گی،پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس سیاسی انتقام اور انصاف کا قتل ہے، اس کیس میں کرپشن کیا ہے؟ ایک ٹرسٹ کے تحت یونیورسٹی بنائی گئی، یہ ہائیکورٹ کی پہلی پیشی میں ختم ہونے والا کیس ہے.

    واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو ثابت ہوچکا ،عطا تارڑ

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

  • کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،عمران خان

    کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،عمران خان

    190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کے بعد عمران خان کا ردعمل سامنے آ گیا

    عمران خان نے کمرہ عدالت میں فیصلہ سنا، فیصلے کے بعد عمران خان نے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج کے فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کوخراب کردیا ،اس کیس میں نہ مجھے فائدہ ،نہ حکومت کو نقصان ہوا،مجھے کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،ایک آمر اپنی ذات کیلئے یہ سب کررہا ہے، چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والے پولیس والوں کوپلاٹ دیئے گئے،جوساتھ ہے وہ آزاد اور جو مخالف ہے انہیں سزائیں، میری بیوی گھریلو عورت ہے ،اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، بشریٰ بی بی کو سزا مجھے تکلیف دینے کیلئے دی گئی،غور سے سُن لیں کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کروں گا، چاہے مذاکرات ہوں یا کچھ بھی،سزا جتنی بھی سُنائیں فرق نہیں پڑتا،

    جج کے فیصلہ سنانے پر عمران خان کا فوری ردعمل کیا تھا؟
    دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب جج نے فیصلہ سُنایا تو عمران خان ہنس پڑے، عمران خان نے کہا جو ناانصافی پر فیصلے کرتے ہیں اُن کو پروموشن ملتی ہے، عمران خان کا پیغام ہے لوگوں کے لئے مایوسی گناہ ہے، مایوسی نہیں ہونا،ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے،

    واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو ثابت ہوچکا ،عطا تارڑ

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

  • عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج بھی کیا

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے، عمر ایوب
    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائے جانے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں، ہم اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج بھی کریں گے، سوال تو پوچھنا چاہیے نواز شریف کے بیٹے حسن نواز سے کہ تم نے جس پیسے سے لندن میں ون ہائیڈ پارک کی عمارت خریدی وہ پیسہ کس طرح باہر لیکر گئے اور آگے پھر بیچی، اس رقم کا تم نے کیا کیا؟ آج وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔

    چور دندناتے پھر رہے اور یونیورسٹی بنانے پر سزا سنا دی گئی، شبلی فراز
    دوسری جانب سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اس ملک میں چور دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ معصوم اور ایماندار لوگ جو کہ اس ملک میں نبی کریم ﷺ کو سیرت کو پڑھانے کے لیے القادر یونیورسٹی جیسا ادارہ بناتے ہیں انہیں سزا سنا دی جاتی ہے، القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے معاملے پر نا تو حکومت کو ایک دھیلے کا نقصان ہوا اور نا ہی عمران خان یا بشریٰ بی بی کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم گئی، نیت ٹھیک تھی، مقصد بھی ٹھیک تھا لیکن اس ملک میں یہ رواج بنایا جا رہا ہے کہ ایک شخص جو شوکت خانم کینسر اسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے ادارے بناتا ہے اسے القادر یونیورسٹی بنانے پر سزا دی جا رہی ہے جس میں نوجوان نسل کو سیرت النبی ﷺ پڑھائی جانی تھی اور پاکستان کے نوجوانوں کو مستفید ہونا تھا۔

    فیصلہ تاریخ کے کوڑے دان میں بدترین فیصلے کے طور پر جائے گا، فیصل چوہدری
    پی ٹی آئی رہنما، وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایک شرمناک فیصلہ ہے، آج انصاف کا قتل عام ہوا، نواز شریف کے بیٹے نے نو ارب روپے کی پراپرٹی خریدی، آپ ایون فیلڈ بنائیں اور لندن میں پراپرٹی بنائیں اور اپنے کیس معاف کرائیں، میں اس فیصلے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں،آپ کی بھول ہے کہ آپ بانی پی ٹی کو سزا دے کر آپ کچھ بگاڑ سکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی ایک نظریے کا نام ہے، عمران خان جیل میں بیٹھا تم پر بھاری ہے، عمران ایک نظریہ اور تحریک کا نام ہے، اس تحریک کو پی ٹی آئی کا ہر ورکر اپنے خون سے سینچے گا، آج عوام کے کھڑے ہونے کا دن ہے، آج کا دن سیاہ ترین دن ہے، یہ فیصلہ تاریخ کے کوڑے دان میں بدترین فیصلے کے طور پر جائے گا،

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    پی ٹی آئی نے القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کو سیاہ فیصلہ قرار دیدیا، پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا، احتجاج میں زرتاج گل بھی شریک تھیں، شرکا نے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی اور عمران خان کو رہا کرو کے نعرے لگائے،شرکا نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے

    القادر ٹرسٹ کیس میں فیصلے کے بعد عمران خان کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے، عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کوخراب کردیا ،اس کیس میں نہ مجھے فائدہ ،نہ حکومت کو نقصان ہوا،مجھے کوئی ریلیف نہیں چاہیے ،تمام کیسزکا سامنا کروں گا ،ایک آمر اپنی ذات کیلئے یہ سب کررہا ہے، چاردیواری کا تقدس پامال کرنے والے پولیس والوں کوپلاٹ دیئے گئے،جوساتھ ہے وہ آزاد اور جو مخالف ہے انہیں سزائیں، میری بیوی گھریلو عورت ہے ،اس کیس سے کوئی تعلق نہیں، بشریٰ بی بی کو سزا مجھے تکلیف دینے کیلئے دی گئی،غور سے سُن لیں کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کروں گا، چاہے مذاکرات ہوں یا کچھ بھی،سزا جتنی بھی سُنائیں فرق نہیں پڑتا، 1971 میں جنرل یحییٰ نے ملک تباہ کیا آج آمر بھی اپنے فائدے کیلئے یہی کام کر رہا ہے،

    پی ٹی آئی رہنما مشعال یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے جیل میں اپنی گرفتاری دیدی ہے، اڈیالہ جیل کے حکام انکی گرفتاری نہیں لے رہے، ہمیں اندیشہ ہے کہ پچھلی بار کی طرح اُنہیں بنی گالہ منتقل کرنے کیلئے سازش رچائی جارہی ہے، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں ہی رہنا چاہتی ہیں، وہ بنی گالہ نہیں جانا چاہتیں،ہم اڈیالہ کے باہر موجود ہیں، میڈیا کے توسط سے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بشریٰ نے خود گرفتاری دی، نہ خان نے بنی گالہ جانا ہے نہ بشریٰ نے، یہ پھر سے کچھ کریں گے تو ہم دوبارہ اسلام آباد ہائیکورٹ جائیں گے، بشریٰ کی گرفتاری قبول کی جائے اور اسے اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جائے،

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب جج نے فیصلہ سُنایا تو عمران خان ہنس پڑے، عمران خان نے کہا جو ناانصافی پر فیصلے کرتے ہیں اُن کو پروموشن ملتی ہے، عمران خان کا پیغام ہے لوگوں کے لئے مایوسی گناہ ہے، مایوسی نہیں ہونا،ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کریں گے،

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس ، عدالت نے فیصلہ سنا دیا، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنا دی گئی

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا گیا،بانی پی ٹی آئی کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنا دی گئی،بشری بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی،عدالت نے عمران وبشریٰ پر جرمانے کی سزا بھی سنائی، عدالت نے عمران خان پر دس لاکھ جبکہ بشریٰ پر 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی،احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا،

    ریفرنس کا فیصلہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں سنایا۔،عدالت نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کی عدالت موجودگی میں فیصلہ سنایا، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی عدالت میں موجود تھے،نیب ٹیم بھی عدالت میں موجود تھی، علیمہ خان سمیت عمران خان کی بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،سلمان صفدر، شعیب شاہین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے.

    کیس کا فیصلہ آنے کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

    عمران خان بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹس کے مرتکب،بشریٰ معاون،تحریری فیصلہ جاری
    احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹس کے مرتکب پائے گئے، بانی پی ٹی آئی کو نیب آرڈیننس 1999 کے تحت مجرم قرار دیا جاتا ہے،عمران خان کو 14 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے ،بشریٰ بی بی کو کرپشن میں سہولت کاری اور معاونت پر مجرم قرار دیا جاتا ہے، بشریٰ بی بی کو 7 سال قید بامشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے،القادر ٹرسٹ کی پراپرٹی وفاقی حکومت کے سپرد کی جاتی ہے، دونوں مجرموں کو 4 مارچ 2021 میں ڈونیشن قبولیت کی دستاویز پر دستخط کرنے پر نتائج بھگتنا ہوں گے، عمران خان اور بشری بی بی القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے جوائنٹ اکاونٹ کے دستخط کنندہ ہیں،اس مقدمے کا زیادہ تر دار و مدار دستاویزی ثبوتوں پر ہے، شہادتوں کے جواب میں ملزمان کے وکلاء دفاع فراہم نہیں کر سکے جبکہ القادر ٹرسٹ کیس میں پراسیکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب ہوئی۔

    احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،اسکے بعد 13 جنوری کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم فیصلہ نہیں سنایا گیا، آج 17 جنوری جمعہ کو فیصلہ سنایا گیا

    بشریٰ بی بی فیصلہ سننے کے لئے اڈیالہ جیل پہنچیں تو بشریٰ بی بی کی گاڑیاں اڈیالہ جیل کے اندر انہیں اُتارکر واپس باہر آگئیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی اور داماد بھی فیصلہ سننے کے لئے کمرہ عدالت میں موجود تھے،اڈیالہ جیل کے گیٹ پر قیدی وین بھی پہنچائی گئی، میڈیا نمائندگان کی بھی بڑی تعداد اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھی،رہنما مسلم لیگ ن طاہرہ اورنگزیب بھی فیصلے سے قبل اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئی تھیں،انکا کہنا تھا کہ فیصلے تو سارے انصاف پر مبنی ہوتے ہیں، ہر ادارہ اپنا کردار ادا کر رہا ہے، میں فیصلے کا انتظار کر رہی ہوں،رضوان رضی، حسن ایوب، گوہر بٹ، شفقت عمران بھی فیصلہ سننے اڈیالہ جیل کے عدالت پہنچے،تاہم بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری، بشریٰ بی بی کی بیٹی کو داخلے کی اجازت نہ ملی،سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مجھے آج نہیں جانے دیا گیا، پہلے میں سب سماعتوں پر آتا رہا ہوں مجھے نہیں علم کہ کیوں نہیں جانے دیا گیا،

    ن لیگی رہنما طاہرہ اورنگزیب اور دانیال چوہدری بھی فیصلہ سُننے اڈیالہ جیل پہنچ گئے، کمرہ عدالت میں 22 صحافی آج موجود تھے،

    اس کیس میں نیب نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    قبل ازیں احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں۔190ملین پاؤنڈ ریفرنس کے تفتیشی آفیسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم سمیت نیب پراسیکیوشن ٹیم کے تین ممبران عرفان احمد،سہیل عارف،اویس ارشد اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہیں، عمران خان کے وکیل بھی عدالت پہنچ گئے ہیں

    فیصلے سے قبل پولیس نے انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔پولیس حکام کے مطابق سکیورٹی پلان کے تحت اڈیالہ جیل کے اطراف کی نگرانی ایس پی صدر نیبل کھوکھر نے کی، جبکہ ایس ڈی پی او صدر دانیال رانا کو سکیورٹی انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایس ایچ او صدر اعزاز عظیم کو سکیورٹی انتظامات کے سب انچارج کے طور پر ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ایس ایچ او تھانہ چونترہ ثاقب عباسی اور انسپیکٹر محمد سلیم کو اڈیالہ جیل کے اطراف میں سکیورٹی کے فرائض انجام دینے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ اڈیالہ جیل کے علاقے میں 6 تھانوں کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے تاکہ سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اس کے علاوہ، سکیورٹی کے امور کی نگرانی کے لیے ایلیٹ اور ڈولفن فورس کی بھی تعیناتی کی گئی ہے تاکہ تمام اہم مقامات پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ انسپیکٹر نسرین بتول کی نگرانی میں خواتین پولیس اہلکار بھی سکیورٹی امور کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔ سکیورٹی معاملات پر نظر رکھنے کے لیے سادہ کپڑوں میں بھی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری کارروائی کی جا سکے۔پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فیصلے کے دوران کسی بھی غیر ضروری پریشانی سے بچنے کے لیے محتاط رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا