Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا

    راولپنڈی کی احتساب عدالت میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا محفوظ شدہ فیصلہ کل سنایا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا کل صبح ساڑھے 11 بجے فیصلہ سنائیں گے۔ عدالت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے وکلا کو فیصلے کے وقت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔اس سے قبل، ملزمان اور ان کے وکلا کی عدم دستیابی کے باعث فیصلہ موخر کر دیا گیا تھا۔ تاہم، عدالتی حکم کے مطابق، فیصلے کے وقت بانی پی ٹی آئی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں موجود ہوں گی۔استغاثہ کی نمائندگی کرتے ہوئے سردار مظفر عباسی اور امجد پرویز عدالت میں پیش ہوں گے۔دوسری جانب، اڈیالہ جیل میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

    لڑکی بن کر دوستی، فحش ویڈیوزبنوانے والاگینگ بے نقاب

    ملتان سلطانز نے احسان اللہ کو بڑی آفر کر دی

    ملتان سلطانز نے احسان اللہ کو بڑی آفر کر دی

    ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے لیے قومی ٹیم کا اعلان

  • عمران نیازی کا سورس آف انکم بتا دیں، لاہور میں پچیس کروڑ   کا گھر کیسے بنایا ،عطا تارڑ

    عمران نیازی کا سورس آف انکم بتا دیں، لاہور میں پچیس کروڑ کا گھر کیسے بنایا ،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ 190 ملین پاﺅنڈ کرپشن سکینڈل پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل ہے، آزاد مبصرین اور تجزیہ کار بھی 190 ملین پاﺅنڈ کرپشن کے حوالے سے کسی کو بری الذمہ قرار نہیں دے رہے، یہ میگا کرپشن کا ایسا بڑا سکینڈل ہے کہ تاریخ میں بڑی رقم کی خورد برد سرکاری سطح پر کی گئی،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ مہنگائی کم ہو کر 3.9 فیصد پر آ گئی ہے، ڈیفالٹ رسک مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، پچھلے چند ماہ کے دوران اچھی خبریں آئیں،ماضی میں ایک ایسی حکومت تھی جو سارا دن اس کھوج میں رہتی تھی کہ ہم نے کہاں سے پیسے کمانے ہیں، پوری پی ٹی آئی کو چیلنج ہے کہ اس ایک پوائنٹ کی وضاحت کر دیں کہ اگر یہ پیسہ حکومت پاکستان کی ملکیت نہیں تھی تو نیشنل کرائم ایجنسی نے یہ پیسہ حکومت پاکستان کو کیوں دیا؟ یہ پیسہ اس لئے حکومت پاکستان کو دیا گیا کہ یہ پاکستان کے عوام کی امانت تھی،پوری پی ٹی آئی کو چیلنج ہے کہ وہ عمران احمد خان نیازی کا سورس آف انکم بتا دیں، لاہور میں پچیس کروڑ روپے کا گھر کیسے بنایا گیا؟ یہ رقم اسی پراپرٹی ٹائیکون سے آیا۔

    ہم چاہتے ہیں کہ یہ مذاکرات آگے بڑھیں لیکن کرپشن پر ڈیل نہیں ہو سکتی۔عطا تارڑ
    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے مذہب کے نام کو استعمال کیا، میاں بیوی مل کر القادر ٹرسٹ کے ٹرسٹی بن گئے، اگر انہوں نے ٹرسٹ بنانا ہی تھا تو ایدھی اور چھیپا سے مل کر بناتے۔ پیسہ بزنس ٹائیکون کا اور ٹرسٹ یہ بنا رہے ہیں،شہزاد اکبر بند لفافہ لے کر آیا اور انہوں نے کابینہ میں بیٹھ کر اس کی منظوری دی، حکومت پاکستان کا پیسہ نیشنل کرائم ایجنسی نے پاکستان کے عوام کے لئے دیا، ان لوگوں نے پیسہ ہتھیا کر لاہور میں گھر بنایا۔ ایک فرد کو 80 سے 90 ارب روپے کا فائدہ دیا اور خود اربوں روپے کمائے۔ پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کو چیلنج ہے کہ وہ بتائے کہ نیشنل کرائم ایجنسی نے یہ پیسہ پاکستان کی حکومت کو کیوں دیا؟ دن دیہاڑے تاریخ میں اتنی بڑی ڈکیتی کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، ان کے پاس کیا جواز تھا کہ کابینہ سے بند لفافہ منظور کروایا؟ کابینہ کا کیا کام ہے کہ وہ بند لفافہ منظور کرے، میگا کرپشن سکینڈل پر کوئی بات نہیں ہو سکتی، مذاکرات اچھے طریقے سے جاری ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یہ مذاکرات آگے بڑھیں لیکن کرپشن پر ڈیل نہیں ہو سکتی۔ سنا ہے بانی چیئرمین اپنے لوگوں سے کہتے ہیں کہ مجھے جیل سے نکالو، فرح گوگی ملک سے فرار ہیں، اقتدار وقت کا دھارا ہوتا ہے، پورے پاکستان کے سیاستدانوں پر کیسز بنانے والا شہزاد اکبر آج بیرون ملک بیٹھا ہے، آج ان میں ہمت اور حوصلہ نہیں ہے کہ وہ پاکستان آ کر اپنے خلاف کیسز کا سامنا کریں، ان فنکاروں نے پاکستان کی سیاست کو زہر آلود کیا، آج کل پاکستان کے اداروں کے خلاف بیٹھ کر بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں،

    جمائما گولڈ اسمتھ کی برطانیہ میں جنسی جرائم کو مسلمانوں سے جوڑنے والوں پر تنقید

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،دو ملزمان پر فردجرم عائد کرنے کا حکم

  • بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق

    بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بالآخر تصدیق کر دی ہے کہ انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق اڈیالہ جیل کے کمر ہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر نے اس بات کی وضاحت کی کہ ان کی اور علی امین گنڈا پور کی آرمی چیف سے ملاقات علیحدگی میں ہوئی تھی، اور اس ملاقات کے دوران انہوں نے پی ٹی آئی کے تمام اہم معاملات اور مطالبات آرمی چیف کے سامنے رکھے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس ملاقات میں ملکی استحکام سے متعلق تمام اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی، اور انہیں دوسری طرف سے بھی مثبت جواب موصول ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست مذاکرات ایک خوش آئند قدم ہے اور اس سے صورتحال میں بہتری کی اُمید ہے۔

    یاد رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف نے گزشتہ روز آرمی چیف سے ملاقات کی تردید کی تھی، تاہم اب بیرسٹر گوہر نے اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل کو آرمی چیف کے سامنے پیش کرنے کا مقصد ملکی مسائل کو حل کرنے کی کوشش تھا۔

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    ہم چاہتے تھےمذاکرات ہوں، جس میں پاکستان کے استحکام پر بات ہو،عمران خان
    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ اڈیالہ جیل کے کمرۂ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے اس ملاقات کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔ ابتدائی طور پر جب صحافیوں نے بیرسٹر گوہر اور آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے اس کی تردید کی اور کہا کہ انہیں اس ملاقات کی تفصیلات کا علم نہیں تھا۔ تاہم بعد میں عمران خان نے اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بات چیت شروع ہوئی ہے تو یہ ایک خوش آئند بات ہے اور پاکستان کے لیے اچھا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے تھے کہ مذاکرات ہوں، جس میں پاکستان کے استحکام پر بات ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو پی ٹی آئی سے بات کرنی چاہیے، اور ان کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے تھا، تاہم دوسری طرف سے ہمیشہ دروازے بند رہے ہیں۔ اب اگر بات چیت کا آغاز ہو رہا ہے تو یہ پاکستان کے استحکام کے لیے بہتر ثابت ہو گا۔

  • نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نو مئی کے دوران درج ہونے والے 8 مقدموں میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جن میں استدعا کی گئی ہے کہ اے ٹی سی (انسداد دہشت گردی عدالت) نے حقائق کے برعکس ان کی ضمانتوں کو مسترد کیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ضمانتوں کی درخواستوں کو مسترد کرنا قانونی طور پر غلط ہے۔عدالت نے پولیس کو نوٹسز جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر مزید سماعت کا اعلان کیا گیا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے کو زیر غور رکھتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔

    بانی پی ٹی آئی نے عدالت سے درخواست کی کہ آٹھ مقدموں میں ان کی ضمانتیں منظور کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارروائی غیر قانونی اور زیادتی پر مبنی ہے، جس کے باعث ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔عدالت نے پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے.

    مریم نواز نے کیا "آسان کاروبار فنانس” اور "آسان کاروبار کارڈ” پروگرام کا افتتاح

    مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کمیٹی میں پیش

  • عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے شروع کیا گیا القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک اور ناکامی کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔

    سیاسی پشت پناہی اور بھرپور تشہیر کے باوجود، اس یونیورسٹی میں گزشتہ چار سالوں کے دوران صرف 200 طلباء نے داخلہ لیا۔ اس منصوبے کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے "خوابوں کا منصوبہ” سمجھا جا رہا تھا، لیکن اس کا عملی طور پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑا۔ روزنامہ جنگ میں فخر درانی کی شائع رپورٹ کے مطابق اس یونیورسٹی کی بنیاد پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ القادر یونیورسٹی کے حوالے سے ان دونوں شخصیات کے خلاف مختلف الزامات سامنے آ چکے ہیں جن میں اختیارات کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیاں شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت نیب (قومی احتساب بیورو) نے ایک کیس دائر کیا ہے جس میں ان پر 190 ملین پاؤنڈز کی مالی بے ضابطگیوں کا الزام ہے۔

    اس کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مالی وسائل کو غلط طریقے سے استعمال کیا ، اس کیس میں ان دونوں کی قانونی مشکلات اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انہیں اس معاملے کی وجہ سےسزا سنائی جائے گی،

    واضح رہے کہ القادر یونیورسٹی سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ اس کیس کا فیصلہ تین بار مؤخر ہو چکا ہے، لیکن اب احتساب عدالت کے جج نے 17 جنوری کو اس کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ کیس عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک طرف جہاں سیاسی شہرت کے حصول کے لیے شروع کیا گیا تھا، وہیں دوسری طرف اس کے جال میں پھنس کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت ان کی مستقبل کی سیاست اور قانونی حیثیت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

    شیخ حسینہ کے خاندان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت

  • عمران کو سزا سنانے والے ججز  اسلام آباد ہائیکورٹ میں لگائے جا رہے،اسد قیصر

    عمران کو سزا سنانے والے ججز اسلام آباد ہائیکورٹ میں لگائے جا رہے،اسد قیصر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ کو متنازعہ بنانے پر تلی ہوئی ہے اور عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ حکومت نے 17 جنوری کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلایا ہے، جس میں ہائی کورٹ کے نئے ججز کی تقرری کی جانی ہے۔ اس اجلاس میں توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو سزا دینے والے ججز، شاہ رخ ارجمند اور ہمایوں دلاور کو ہائی کورٹ کے نئے ججز بنانے کا امکان ہے تاکہ وہ سزا سنانے کے بعد اپیلوں کی سماعت بھی کر سکیں۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ حکومت عدلیہ کے فیصلوں کو متنازعہ بنانے کے لیے مختلف حکمت عملی اپناتے ہوئے اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عدلیہ کو اتنا کمزور بنانا چاہتی ہے کہ وہ ایگزیکٹو کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کر سکے۔ اس سے ملک میں انصاف کا نظام متاثر ہوگا اور جب انصاف حقدار تک نہیں پہنچے گا تو ملک کیسے ترقی کر سکے گا۔علدیہ حکومت کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے، تاکہ عوام کو عدلیہ پر اعتماد بحال ہو سکے۔

    اس کے ساتھ ہی، اسد قیصر نے کہا کہ اگر عدلیہ کو حکومت کے اثر و رسوخ سے آزاد نہیں رکھا گیا، تو ملک میں عدلیہ کا کردار کمزور ہو جائے گا اور اس کا اثر ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال پر پڑے گا۔

    اسد قیصر نے مزید بتایا کہ القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ جج ناصر جاوید رانا نے تیسری بار مؤخر کیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ کو دباؤ میں لا کر فیصلے کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود، اسد قیصر نے کہا کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ عدالتیں اپنے فیصلے جلد سنائیں گی تاکہ انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔اسد قیصر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عدلیہ کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرے اور ملک میں عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنائے تاکہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے ہو سکیں۔

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

  • ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان بالکل بھی خوش نہیں ہیں کہ ان کا مقدمہ ابھی تک مؤخر ہوا ہے۔

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ فیصلہ جلد آ جائے تاکہ پوری دنیا کو یہ پتا چلے کہ القادر یونیورسٹی کے حوالے سے اصل حقیقت کیا ہے۔ علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان کا خواب تھا کہ سیرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سٹوڈنٹس کو تعلیم دی جائے۔علیمہ خان نے الزام عائد کیا کہ جج صاحب کو اس معاملے کا فیصلہ سنانے میں بہت مشکلات پیش آ رہی ہیں اور اس کا ایک بڑا سبب حکومت کا موجودہ پریشر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا اور پاکستان جانتا ہے کہ اس وقت کس قسم کی سزا سنائی جا سکتی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ لفظ "ڈیل” کو سن سن کر ہم تھک چکے ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے صرف نیوٹرل ایمپائر لگانے کی بات کی تھی، نہ کہ کسی ڈیل کا حصہ بننے کی۔ مذاکراتی کمیٹی کے ممبران نے بھی بتایا کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی مطالبہ نہیں آیا ہے۔علیمہ خان نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ 17 جنوری کو اگر حکومت کی جانب سے ہمت ہو تو فیصلہ سنایا جا سکتا ہے، اور اس دن کے بعد ہی صورتحال واضح ہو گی۔

    مغوی کی عدم بازیابی پر لاہور ہائیکورٹ حکام پر برہم

    تباہی پر میرا دل ٹوٹ گیا ،لاس اینجلس میں آگ پرپریتی زنٹا کا آنکھوں دیکھا حال

  • جے یو آئی، پی ٹی آئی،رابطے ٹوٹ گئے

    جے یو آئی، پی ٹی آئی،رابطے ٹوٹ گئے

    جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے سیاسی رابطے ٹوٹ گئے، 26 ویں آئینی ترمیم وجہ بنی

    مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے درمیان سیاسی تعلقات مکمل طور پر ٹوٹ چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ 26 ویں آئینی ترمیم ہے۔ نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان یہ تعلقات اس وقت ختم ہوئے جب جے یو آئی کو اڈیالہ جیل سے حکومت کی جانب سے ہونے والے مذاکرات میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

    جے یو آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ کیے گئے مذاکرات میں انہیں اس معاملے پر بالکل آگاہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان بیک وقت حکومت اور اپوزیشن میں شامل ہیں، جس وجہ سے پی ٹی آئی کے لیے ان سے بات کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کی فضا قائم تھی، تاہم اب یہ تعلقات تلخ یادوں کے ساتھ ختم ہو چکے ہیں۔ سیاسی رابطوں کی اس سرد مہری کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ترمیم بنی ہے، جس پر جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات گہرے ہو گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ جو مذاکرات کر رہی ہے، اس میں جے یو آئی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ ان کی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

    معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ڈاکوؤں کی فرار کی کوشش ناکام ،دو ہلاک

  • مذاکرات کسی بھی عدالتی فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے،سلمان اکرم راجہ

    مذاکرات کسی بھی عدالتی فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے،سلمان اکرم راجہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کا حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    انہوں نے یہ بات اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا مقصد صرف اور صرف جمہوریت ہے، اور اس کا کیس کے فیصلے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ کوئی ڈیل ہو رہی ہے جس کی وجہ سے القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ مؤخر ہو رہا ہے، بالکل غلط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت حکومت کے ساتھ اپنے مذاکرات جاری رکھے گی، لیکن یہ مذاکرات کسی بھی عدالتی فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں فیصلہ تیسری بار مؤخر ہونے کے بعد یہ سننے میں آیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تیسری نشست 15 جنوری کو ہونے جا رہی ہے، جس کا پی ٹی آئی کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامی،پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف ہمارے موقف کو دیکھتے ہوئے یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔ اگر واقعی انصاف ہوتا تو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف القادر ٹرسٹ کا فیصلہ بہت پہلے آ چکا ہوتا۔بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ کیس کے فیصلے کو جلدی سنائے جانے کی اپیل کی ہے۔ ان کے مطابق، 11 بجے فیصلے کی توقع کی گئی تھی، مگر جج صاحب نے اپنی مرضی سے فیصلہ مؤخر کر دیا، جو کہ سیاسی نوعیت کا فیصلہ لگتا ہے۔

    کراچی: 105 ہندوجوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب کا انعقاد

    جالندھر میں خودساختہ نبی سامنے آ گیا،عیسائیت کی پرچار،لوگ مذہب بدلنے لگے

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

    190ملین پائونڈ ریفرنس کا فیصلہ ایک بار پھر موخر کر دیا گیا ،

    190ملین ریفرنس کا فیصلہ 17جنوری بروز جمعہ کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے،عمران خان آج کمرہ عدالت میں پیش نہ ہوئے، بشریٰ بی بی بھی عدالت نہ پہنچیں جس کی وجہ سے عدالت نے آج فیصلہ نہ سنایا،فیصلہ سنانے کا وقت ساڑھے دس بجے کا تھا، پی ٹی آئی رہنما اڈیالہ جیل پہنچ گئے تھے تاہم عمران خان اپنے سیل سے کمرہ عدالت نہ آئے اور نہ ہی بشریٰ بی بی عدالت پہنچیں.

    آج امکان تھا کہ کیس کا فیصلہ سنایا جائے گاتاہم عدالت نے فیصلہ نہیں سنایا، قبل ازیں اسی ضمن میں اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،اڈیالہ جیل کے باہر راولپنڈی پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات تھے،پولیس کی اضافی نفری اڈیالہ جیل کے باہر تعینات تھی، یکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ بھی عدالت میں موجود تھے،عمران خان کی بہنیں علیمہ خان و دیگر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،

    احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،اسکے بعد 13 جنوری کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم آج بھی فیصلہ نہ سنایا جا سکا،

    اس کیس میں نیب نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا