Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت،ایف آئی اے نے جواب کیلئے مہلت مانگ لی

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت،ایف آئی اے نے جواب کیلئے مہلت مانگ لی

    چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے،سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت کی ،وکیل شیرافضل نے کہا کہ اٹک جیل میں بی کلاس ہی نہیں ہے، یہ صرف تکلیف دینے کیلئے کیا جا رہا ہے، حکام کہتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اٹک جیل میں رکھا گیا ہے،اڈیالہ جیل زیادہ محفوظ ہے یا اٹک جیل، یہ سب کو معلوم ہے، سردار لطیف کھوسہ نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کیلطیف کھوسہ نے کہا کہ اٹک جیل بے شمار نامعلوم قیدی ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو جہاں رکھا گیا وہاں چھت نہیں، پانی گرتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو رات کو نیند نہیں آتی، وہاں مکھیاں ہیں، سپریٹنڈنٹ جیل نے میرے خلاف ایف آئی آر کرائی کہ میں نے اسے مارا ہے،
    اس سپریٹنڈنٹ نے بھی اللہ کو جان دینی ہے میں تو اس سے ملا بھی نہیں تھا،

    اٹک جیل کی طرف سے اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ حسرت عدالت میں پیش ہوئے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ جگہ نہ ہونے کے باعث اٹک جیل منتقل کیا گیا ، صرف اور صرف زیادہ تکلیف دینے کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل منتقل کیا گیا ، اڈیالہ جیل میں سکیورٹی انتظامات بہتر ہیں ،بی کلاس بھی موجود ہے ، ہمارا حق ہے ہمیں اڈیالہ جیل منتقل کرکے بی کلاس فراہم کی جائے ، بشری بی بی جیل میں ملنے گئیں تو ان پر بھی مقدمہ بنانے کی کوشش کی گئی ،الزام لگایا گیا کہ بشری بی بی نے جیل اہلکار کو 20ہزار روپے رشوت دینے کی کوشش کی ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ جیل میں اے اور بی کلاس ختم کر دی گئی ہے،جیل میں اب عام اور بیٹر کلاسز موجود ہیںچیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں بیٹر کلاس دی گئی ہے، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیٹر کلاس کا یہ حال ہے تو عام کا کیا ہو گا؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں جو مسائل تھے وہ دور کر دیے گئے ہیں، باتھ روم کا مسئلہ تھا اسکی دیواریں اونچی کر کے سفیدی کروا دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کو بیڈ، کرسی، 21 انچ ٹی وی اور پانچ اخبار فراہم کئے گئے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو کھانا بھی انکی مرضی سے دیا جاتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے پانچ ڈاکٹر تعینات کیے گئے ہیں، اانہیں دو دن چکن اور مٹن دیسی گھی میں بنا کر دیا جاتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو بیڈ، کرسی، 21 انچ ٹی وی اور پانچ اخبار فراہم کئے گئے ہیں

    ایف آئی اے وکلا نے جواب جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے یہ ساری باتیں بتائیں لیکن درخواست گزار کا بنیادی اعتراض کچھ اور ہے، ٹرائل کورٹ نے اڈیالہ جیل میں رکھنے کا کہا تو اٹک جیل منتقل کیوں کیا گیا؟ کیا اڈیالہ جیل سپریٹنڈنٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کی درخواست کی؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آئی جی کے پاس کسی بھی قیدی کو ایک سے دوسری جیل میں منتقل کرنے کا اختیار ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی اپنی کوئی جیل نہیں تو قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں رکھا جاتا ہے، وکیل شیرافضل نے کہا کہ جب یہ درخواست دائر کی گئی تب چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا ہوئی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا اب معطل ہو چکی اور ضمانت مل چکی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کا دوران حراست سٹیٹس اب تبدیل ہو چکا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت سزا نہیں کاٹ رہے، چیئرمین پی ٹی آئی ایک اور انڈر ٹرائل کیس میں حراست میں ہیں، اسلام آباد کے اندر ٹرائل قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جاتا ہے، اگر اٹک سے اٹھا کر کوٹ لکھپت لے جاتے ہیں تو کیا ہر پیشی پر لایا جا سکتا ہے؟ کوٹ لکھپت سے تو پانچ چھ گھنٹے کا سفر ہے، اٹک جیل سے اسلام آباد کا سفر کتنا ہے؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ اٹک سے اسلام آباد کا ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس گاڑی میں یہ لاتے ہیں اس میں دس پندرہ منٹ زیادہ ہی لگتے ہونگے، کیا سزا معطل ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل رکھنے کا کوئی فیصلہ ہوا؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ میں اس حوالے سے ہدایات لے کر آگاہ کر سکتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شیر افضل صاحب کو ملاقات کرنے دیں اور یقینی بنائیں کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سائفر کیس کی آئندہ تاریخ کیا ہے؟ وکیل شیرافضل نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا 13 ستمبر کو کوئی نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ اس حوالے سے ہم ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کر دینگے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کیس اُس سماعت سے پہلے رکھ لیتے ہیں، عدالت کو آگاہ کیا جائے، چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر عدالت ایف ایٹ کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کی گئی، وزارت داخلہ متعلقہ وزارت بنتی ہے، وزارت قانون نے یہ نوٹیفکیشن کیسے کیا؟ پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں بھی اسی نوعیت کی درخواست زیرسماعت ہے،تو ٹرائل کورٹ اس درخواست پر فیصلہ کرے ہائیکورٹ نے تو نہیں روکا ،ٹرائل کورٹ فیصلہ کر دے تو ہائیکورٹ میں درخواست غیرموثر ہو جائے گی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ فیصلہ کرے جو متاثرہ فریق ہوا وہ اپیل کر لے گا، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کر دی،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جزوی دلائل سماعت شد، بارہ ستمبر کو دلائل مکمل ہوگئے تو اسی دن فیصلہ کردیں گے،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • چیئرمین پی ٹی آئی کی تکنیکی بنیاد پر ضمانت خارج کی گئی،وکیل

    چیئرمین پی ٹی آئی کی تکنیکی بنیاد پر ضمانت خارج کی گئی،وکیل

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی چھ مقدمات میں عدم پیروی پر ضمانت کی درخواستیں خارج ہونے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سیشن عدالت نے چیرمین پی ٹی آئی کے چھ ضمانت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دیں تھیں ،چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکلا ایسوسی ایٹس کو روسٹرم آنے سے روک دیا ،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس نے دلائل دینے ہیں صرف وہی وکیل روسٹرم پر کھڑے ہوں ،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدرنے دلائل دیئے اور کہا کہ متعلقہ عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی پیش ہوتے رہے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کی تکنیکی بنیاد پر ضمانت خارج کی گئی،جب ملزم گرفتار ہوئے تو وہ خود سے پیش نہیں ہوسکتا، پھر ریاست کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنی زمہ داری نبھائے،چیئرمین پی ٹی آئی اٹک جیل میں قید ہیں ، ایسا نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی جان بوجھ کر عدالت میں پیش نہیں ہوئے ، چالیس کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہو چکی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی عدم موجودگی کی وجوہات پر مبنی ہماری درخواست پر کوئی نوٹس جاری نہیں کیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی نوعیت کی درخواست دو رکنی بینچ کے روبرو بھی زیر سماعت ہے ، دو رکنی بینچ کے روبرو یہ درخواست بھی سن لینگے ،کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا

    عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں عدم پیروی خارج کرنے کے خلاف درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ جمعرات تک جواب طلب کر لیا

    عمران خان کو باہر بھیجنے سے متعلق مختلف ذرائع سے رابطے ہوئے، علیمہ خان

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    ،جیل میں عمران خان کے بازوؤں کے پٹھے بہت کمزور ہو چکے ہیں 

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے مختلف مقدمات میں ضمانتیں خارج ہونے والے مقدمات کو اسلام ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ،چیرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں درج مختلف مقدمات میں ضمانت خارج ہونے پر ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ،نو مئی سے متعلقہ مقدمات میں بھی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، عمران خان نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیسز ، دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے کیس میں بھی ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،چیرمین پی ٹی آئی کی دہشتگردی کے مقدمات اور توشہ خانہ جعلی سازی کیس سمیت 9 مقدمات میں عدم پیروی ضمانتیں خارج ہوئیں تھیں .چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ضمانتیں خارج ہونے والے مقدمات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ،درخواست میں عدالت سے پولیس کو ان مقدمات میں گرفتاری سے روکنے کی استدعا کی گئی ،عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سیشن کورٹ اور انسدادِ دہشت گردی عدالت کے ضمانت خارج کرنے کے فیصلے کالعدم قرار دے ،ہائیکورٹ ضمانت کی درخواستیں دوبارہ میرٹ پر سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کرے

  • عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر گہری نظر ہے،امریکا

    عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر گہری نظر ہے،امریکا

    واشنگٹن: امریکا کا کہنا ہے کہ ہم عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین کی گرفتاری اور سائفر پر سوال کیا گیا جس پر ویدانت پٹیل نے کہا کہ ہم عمران خان کی گرفتاری اور اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کسی ایک خاص معاملے کے بارے میں نہیں بولیں گےجیسا کہ ہمیں بات کرتے سنا گیا، ہم اپنے کانگریس کے شراکت داروں کے ساتھ بہت سے معاملات پر مشاورت کرتے ہیں۔

    اس سے قبل ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ امریکا کسی ملک کے اندرونی سیاسی معاملات میں خود کو ملوث نہیں کرتا اور ہم پاکستان یا کسی دوسرے ملک کی سیاسی جماعتوں کا ساتھ نہیں دیتے سیاست دانوں کے خلاف کیسز پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، جمہوری اصولوں کا احترام لازم ہے۔

    برطانیہ نےروسی ملیشیا ویگنر گروپ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا

    دوسری جانب گزشتہ روز پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں جس میں انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے احترام پر بات چیت کی گئی۔

    اوچ شریف: مساجدکیلئے دفعہ 144،پھیری والوں کوکھلی چھٹی، لاؤڈ سپیکر سے عوام کا جینا محال

  • شکریہ پی ٹی آئی،امریکہ پاکستان کے فنڈز بند کرے گا؟

    شکریہ پی ٹی آئی،امریکہ پاکستان کے فنڈز بند کرے گا؟

    2023 میں، پاکستان تحریک انصاف نے واشنگٹن میں ایک پی آر فرم کی خدمات حاصل کیں، تحریک انصاف کی جانب سے یہ الزام لگایا کہ امریکی حکومت کی جانب سے سائفر کے ذریعے ان کی حکومت کو گرانے کی ہدایت کی گئی جس کی وجہ سے ان کی حکومت غیر مستحکم ہو گئی ہے ، یہ متنازعہ مسئلہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی دونوں کے لئے قانونی کارروائی کا باعث بنا ہے۔ پی آر فرم Praia Consultants LLC واشنگٹن میں قائم ادارہ ہے،جس نے چھ ماہ کی مدت کے لیے $8,333 ماہانہ کی شرح سے معاہدہ کیا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد رائے عامہ پر اثر و رسوخ حاصل کرنا ہے

    تحریک انصاف کی جانب سے امریکہ میں پی آر فرم ہائر کرنے کے فیصلے کے نتائج اب عوام کے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن کو ایک خط لکھا گیا تھا، جس میں پی ٹی آئی کی کوششوں کے ابتدائی نتائج کو ظاہر کیا گیا تھا۔ سجاد برکی نے ایک ٹویٹ میں کانگریس مین گریگ کیسر کی میزبانی کرنے پر طارق مجید کا شکریہ ادا کیا۔ اس ملاقات کے دوران کانگریس مین کیسر نے پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی حمایت کا وعدہ کیا۔ برکی کے ٹویٹ میں یہ بھی روشنی ڈالی گئی کہ بلنکن ایک ایسے بل کی مشترکہ سرپرستی کر رہا ہے جس کا مقصد فوجی امداد کو ملک میں انسانی حقوق کے حالات سے جوڑنا ہے۔

    sajjad bark

    2 ستمبر 2023 کو ڈان اخبار نے رپورٹ کیا کہ ٹینیسی کے ریپبلکن اینڈی اوگلس نے ایوان نمائندگان کی سالانہ تخصیصی قانون سازی میں ترمیم کی تجویز پیش کی۔ مجوزہ ترمیم کسی بھی "سیاسی اختلاف کے خلاف کریک ڈاؤن” کی حوصلہ شکنی کے ارادے سے پاکستان کے فنڈز میں کمی کی کوشش کرتی ہے۔

    کانگریس کو یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو سراہا نہیں جا سکتا، چاہے بل پاس ہو یا نہ ہو۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نے گرمجوشی اور تناؤ دونوں کے ادوار کا تجربہ کیا ہے، جو کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد سے جاری چیلنج میں ختم ہوا۔

    ہلیری کلنٹن پاکستان میں امریکی مداخلت کے حوالے سے اپنے تحفظات کے بارے میں آواز اٹھاتی رہی ہیں، جیسا کہ درج ذیل ویڈیو میں ثبوت ہے:

    آج پاکستان کے قریبی اتحادی امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے مقابلے کی وجہ سے دو طرفہ تعلقات کو مزید پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ مزید برآں، تعلقات کو پاکستان کے موجودہ "پولی کرائسس” کو نیویگیٹ کرنا چاہیے، جس کی خصوصیات اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی چیلنجز ہیں۔ {رائے}

    بہت سے پاکستانیوں میں امریکہ مخالف جذبات بہت گہرے ہیں، اور ان جذبات کا علما کرام نے فائدہ اٹھایا اور حال ہی میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس میں شدت پیدا کی۔ امریکہ کے لیے یہ نازک وقت ہے کہ وہ اس خطے میں اپنے اقدامات اور پالیسیوں پر احتیاط سے غور کرے۔

    جیسا کہ جغرافیائی سیاسی منظر نامے کا ارتقا ہو رہا ہے، دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کثیر الجہت مسائل کو حل کرنے کے لیے امریکی براہ راست مداخلت کے بغیر تعمیری بات چیت اور سفارتی امور میں مشغول ہوں،

  • سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی بل کیس کا فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں نیب ترمیمی بل کیس کا فیصلہ محفوظ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں، چئیرمن پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ نے حارث دلائل دیئے،خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ ترامیم کے بعد بہت سے زیر التواء مقدمات کو واپس کردیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ان ترامیم میں کوئی ایسی شق ہے جس کے تحت مقدس مقامات دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں ؟ان ترامیم کے بعد نیب کا بہت سا کام ختم ہوگیا، خواجہ حارث نے کہا کہ پہلے تحقیقات ہوں گئیں جن کے جائزہ کے بعد مقدمات دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واپس ہونے والے فورمز کا مستقبل بارے کسی کو معلوم نہیں ،نہیں معلوم کہ یہ مقدمات دوسرے فورمز پر بھی جائیں گے ؟ کیا نیب کے پاس مقدمات دوسرے فورمز کو بھجنے کا کوئی اختیار ہے ؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم کے بعد ان مقدمات کو ڈیل کرنے کا اختیار نیب کے پاس نہیں، مقدمات دوسرے اداروں کو بھجوانے کا بھی کوئی قانونی اختیار نہیں،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے دفتر میں قتل ہوگا تومعاملہ متعلقہ فورم پر جائے گا، مقدمات دوسرے فورمز کو بھجوانے کیلئے قانون کی ضرورت نہیں، جو مقدمات بن چکے وہ کسی فورم پر تو جائیں گے، دوسرے فورمز کو مقدمات بھجوانے کا اختیار نہیں مل رہا اس بارے ضرور پوچھیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مجموعی طور پر 52 ویں سماعت کی، اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے کوئی بھی عدالت میں پیش نہ ہوا ،عدالت نے دلائل کیلئے اٹارنی جنرل کی درخواست پر آج کا دن مقرر کیا تھا

    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے عدالت میں کہا کہ تحریری گزارشات عدالت کو جمع کروا دی ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے نیب کی رپورٹ پڑھی ہے؟ نیب نے مئی تک واپس ہونے والے ریفرنسز کی وجوہات بتائی ہیں،ریفرنس واپسی کی وجوہات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قانون کا جھکاؤ کس جانب ہے،مئی تک کن شخصیات کے ریفرنس واپس ہوئے سب ریکاڑد پر آ چکا ہے، نیب قانون کے سیکشن 23 میں ایک ترمیم مئی دوسری جون میں آئی، مئی سے پہلے واپس ہونے والے ریفرنس آج تک نیب کے پاس ہی موجود ہیں، نیب کی جانب سے ان سوالات کے جواب کون دے گا؟

    سپیشل پراسیکیوٹر ستار اعوان نے عدالت میں کہا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کچھ دیر تک پہنچ جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کہاں ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل ملک سے باہر ہے، ان کی جانب سے تحریری دلائل دینگے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو پہلے بتا دیا جاتا توریگولر بنچ لگا لیتے، نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی،

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ابھی تک نیب مقدمات واپس ہونے سے تمام افراد گھر ہی گئے ہیں یہ بھی کہا گیا کہ نیب ترامیم وہی ہیں جن کی تجویز پی ٹی آئی دور حکومت میں دی گئی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے کنڈ کٹ سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن بنیادی انسانی حقوق سے ہے، وکیل عمران خان نے کہا کہ کہا گیا نیب ترامیم سے میں ذاتی طور پر فائدہ اٹھا چکا ہوں، اگر میں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھانا ہوتا تو اسی قانون کیخلاف نہ کھڑا ہوتا، چیئرمین پی ٹی آئی نیب ترامیم سے فائدہ نہیں اٹھا رہے، ترامیم کے تحت دفاع آسان ہے لیکن نیب کو بتا دیا ہے کہ فائدہ نہیں اٹھائیں گے،نیب کو جمع کرایا گیا بیان بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ زیرالتواء تحقیقات اور انکوائریاں ترامیم کے بعد سردخانے کی نظر ہوچکی ہیں، تحقیقات منتقلی کا مکینزم بننے تک عوام کے حقوق براہ راست متاثر ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو بھی 62 ون ایف کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے، منتخب نمائندے اپنے اختیارات بطور امین استعمال کرتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی افسران کو نیب قانون سے استثنی دیا گیا ہے، وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ فوجی افسران کے حوالے سے ترمیم چیلنج نہیں کی، فوجی افسران کیخلاف آرمی ایکٹ میں کرپشن پر سزائیں موجود ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سزائیں تو سول افسران اور عوامی عہدیداروں کیخلاف بھی موجود ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ سول سروس قانون میں صرف محکمانہ کارروائی ہے کرپشن پر فوجداری سزا نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کرپٹ آرمی افسر کا عوام سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا؟ آرمی افسر فوج کے علاوہ کسی ادارے کا سربراہ ہو تو نیب قانون کی زد میں آتا ہے، اعلی عدلیہ کے ججز کو نیب قانون میں استثنی نہیں ہے،آرٹیکل 209 کے تحت صرف جج برطرف ہوسکتا ہے ریکوری ممکن نہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ جج برطرف ہو جائے تو نیب کو کارروئی کرنی چاہیے،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اثاثے کرپشن کی نذرہوں اسمگلنگ یا سرمائے کی غیرقانونی منتقلی ہو،کارروائی ہونی چاہیے، قانون میں ان جرائم کی ٹھوس وضاحت نہ ہونا مایوس کن ہے، عوام کو خوشحال اور محفوظ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب رپورٹ کے مطابق کراچی میں 36 اور لاہور میں 21 ریفرنس زیر التوا ہیں ،نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ یہ ان ریفرنسز کے تفصیل یےجو ترمیم سے متاثر نہیں ہوئے جن کا ٹرائل چل رہا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی طارق اعوان ہیں ان کے کیسز 8 سال سے چل رہے ہیں ،نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ یہ غیر قانونی الائمنٹ کے کیسز تھے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ پشاور میں تو کچھ باقی نہیں بچا ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمارے سامنے اس وقت ان کیسز کا ہے جو نہیں چل رہے ،جو مقدمات واپس ہوئے وہ ابھی تک نیب کے پاس پڑے ہیں؟ نیب پراسیکوٹرنے کہا کہ جی وہ ہمارے ہاس ہی ہیں سال 2022 میں 386 ریفرنس ہمیں واپس ہوئے

    عمران خان کی درخواست پر نیب ترامیم پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ۔ کر لیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ جلد سنایا جائے گا۔

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • بشریٰ بی بی کی درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری

    بشریٰ بی بی کی درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ، چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ پر مقدمات، انکوائریوں کی تفصیلات کے حصول کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیئے،عدالت نے حکم دیا کہ جو محکمہ جس روز رپورٹ جمع کرائے اس کے بعد ایف آئی آر یا انکوائری نہیں نکلنی چاہئے،اگر عدالت کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو متعلقہ افسران ذمہ دار ہونگے، لاء افسران متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کو یقینی بنائیں، عدالت نے درخواست کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی جسٹس عالیہ نیلم نے سابق وزیراعظم کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں حکومت پاکستان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی درخواست گزار کے خاوند اور جیل میں قید ہیں، درخواست گزار کیخلاف ملک بھر میں کیسز درج ہیں،درخواست گزار کیخلاف مختلف حکام کی جانب سے نظربندی کے احکامات جاری کیے گئے، نیب، ایف آئی اے، انٹی کرپشن اور پولیس میں ایف آئی آرز، انکوائرئیز زیر التوا ہیں، عدالت تمام معلوم اور نامعلوم کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے، عدالت تمام کیسز میں درخواست گزار کی حفاظتی ضمانت منظور کرے، عدالت درخواست گزار کو کسی بھی کیس میں گرفتاری سے روکنے کا حکم دے،

     بشریٰ بی بی کی 12 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    عدلیہ،فوج،حکومت پر کب دباؤ ڈالنا؟ بشریٰ بی بی کی ہاتھ سے لکھی ڈائری پکڑی گئی

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    رات کے اندھیرے میں بشریٰ بی بی،بزدار یتیم خانوں میں کیا کرتے تھے؟

    واضح رہے کہ عمران خان سائفر کیس میں اٹک جیل میں ہیں، عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا ہوئی تھی تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی تھی، عمران خان اب بھی جیل میں ہیں، توشہ خانہ کیس میں نیب نے بشریٰ کو طلب کیا تھا مگر وہ پیش نہیں ہوئیں، نیب نے القادر یونیورسٹی کس میں بھی بشریٰ کو طلب کیا تھا، بشریٰ نے عدالت سے ضمانت کروا رکھی ہے تا ہم پھر بھی انکو گرفتاری کا خوف کھائے ہوئے ہے، بشریٰ بی بی جیل میں عمران خان سے ملنے بھی جا چکی ہیں

  • 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل نیب تحقیقات،بابر اعوان کو ملا ریلیف

    190 ملین پاؤنڈ سکینڈل نیب تحقیقات،بابر اعوان کو ملا ریلیف

    احتساب عدالت: 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل نیب تحقیقات،ڈاکٹر بابر اعوان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    بابر اعوان کی گرفتاری کی ضرورت نہیں ، تفتیشی افسر کے بیان پر عبوری ضمانت کی درخواست نمٹا دی گئی ،نیب تفتیشی افسر عمر ندیم اور نیب پراسیکیوٹر سہیل عارف عدالت میں پیش ہوئے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے، تفتیشی افسر عمر ندیم نے عدالت میں کہا کہ ڈاکٹر بابر اعوان کے تاحال کوئی وارنٹ جاری نہیں ہوئے ،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ نیب کے مطابق آپ کی گرفتاری درکار نہیں لہٰذا وارنٹ بھی نہیں،بابراعوان نے عدالت میں کہا کہ مجھے نوٹس موصول ہوا جس میں نیب نے طلبی کر رکھی تھی میں نے جواب بھیجا میرے پاس 190 ملین پاؤنڈ سے متعلق کوئی دستاویز نہیں میں باہر تھا دوسرا نوٹس نیب کی جانب سے مجھے موصول ہوا ، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کوئی پیسہ لیا ہو تو نیب بتائے، کچھ کرپشن کی تو بتائیں،نیب کو دیکھنا چاہئے کہ کتنے طلبا اس وقت القادر یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں،11سو ارب روپے کھا کر لوگ بھاگ گئے ہم پر الزام لگا یا جا رہا ہے کہ پیسے کھا گئے میں نے نیب کے دفتر میں بیان دیا،جواب دیا،نیب کا یہ کہنا کہ وارنٹ نہیں،تو یہ کوئی جواب نہیں، ایسا ہے تو ضمانت کنفرم کر دیں،نیب کو بھی معلوم ہے کہ جو میں نے جواب دیا ٹھیک دیا

    نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ بابراعوا ن کو صرف بطور گواہ بلایا گیا تھا،وارنٹ گرفتاری نہیں ہے،تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کا بیان احتساب عدالت میں جمع کروا دیا گیا،بابراعوان نے کہا کہ نیب نے میرا جواب بھی بطور گواہ موصول کیا ہوا ہے، نیب سے پوچھیں میرے خلاف ثبوت ہے،ثبوت دکھائیں،ابھی ضمانت واپس لیتا ہوں، نیب کے ساتھ چلتا ہوں،مجھے نیب سے کوئی گلہ شکوہ نہیں، ان کی مجبوریاں معلوم ہیں،ان کو تجویز دیتا ہوں کہ جہلم جا کر ایک بار دیکھ لیں،احتساب عدالت نے تفتیشی افسر کے بیان کی روشنی میں بابراعوان کی درخواست ضمانت نمٹا دی، تفتیشی افسر نے کہاکہ بابراعوان کے وارنٹ نہیں ، صرف تفتیش کیلئے بلایا۔

    تفتیشی افسر کے بیان کے بعد عدالت نے بابر اعوان کی عبوری ضمانت کی درخواست نمٹا دی

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    نیب 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کی تحقیقات کر رہا ہے، نیب نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، شہزاد اکبر، زلفی بخاری،فیصل واوڈا سمیت دیگر کو بھی طلب کیا تھا،نیب نے اس کیس میں شیخ رشید کو بھی طلب کیا تھا، شہزاد اکبر،زلفی بخاری بھی طلبی کے باوجود پیش نہ ہوئے،فیصل واوڈا نیب میں پیش ہوئے تھے، اسکے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ مجھے نیب نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں طللب کیا تھا، مجھ سے بہت تفصیل سے سوالات ہوئے، اب تک بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا آیا ہوں، اپنی بات پر قائم ہوں ، قانون اپنا راستہ لے گا،کرپشن اسکینڈل میں سب سے زیادہ فائدہ لینے والا فیض حمید ہے، اس کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے، ابھی تک کسی نے فیض حمید کا نام تک نہیں لیا، شہراد اکبر اور دیگرکو فیض حمید نے باہر فرار کرایا، فیض حمید کی باقیات سینٹ میں موجود ہیں،

    نگران پنجاب حکومت نے صوبہ پنجاب میں فوری الیکشن کی مخالفت کر دی

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    کابینہ کی خصوصی کمیٹی کا ملک ریاض کو منتقل ہوئے 179 ملین پاؤنڈ معاملے پر غور

  • اعتزاز احسن کا وکلا تحریک چلانے کا اعلان

    اعتزاز احسن کا وکلا تحریک چلانے کا اعلان

    نامور وکلا،پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن اور سردار لطیف کھوسہ نے لاہور ہائیکورٹ بار میں پریس کانفرنس کی ہے

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ حالات یہ ہوچکے ہیں کہ ملک کو آئین پاکستان کے بغیر چلانے کی کوشش کی جارہی ہے دو صوبوں میں 90 روز کے اندر الیکشن نہیں کروائے گئے ،سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف وزری ہوئی ، ہائیکورٹ ججز کے احکامات نہیں مانے جارہے صحافی عمران ریاض لاپتہ ہیں پرویز الہی کو دن دیہاڑے اغوا کرلیا جاتا ہے ، اگر الیکشن وقت پر ہو جائیں تو ملک ٹھیک چل سکتا ہے۔ ہم موجودہ صورتحال میں خاموش نہیں رہیں گے بلکہ وکلا تحریک چلائیں گے، وکلا تحریک کا آغاز پشاور سے ہوگا

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ 15 اپریل کو ایک راونڈ ٹیبل کانفرنس ہوئی تھی، ہم اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وکلا کا کردار اس میں اب ادا ہونا چاہیئے، وکلا راہنماوں سے مشاورت کرکے اسی کانفرنس کے تسلسل میں مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، طوائف الملوکی چل رہی ہے،نگران حکومت نگران نہیں بلکہ چیئر ٹیکر ہے ، مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے ،ابجلی اور چینی کی قیمتوں میں چئیر ٹیکر حکومت کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ،آج ہم اپنا لائحہ عمل دے رہے ہیں پاکستان لائرز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ،جس میں ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ جو کیسز سنے جا چکے ہیں ہماری درخواست ہے کہ عمر عطا بندیال ریٹائرمنٹ سے پہلے پہلے اُن کے فیصلے سنا کر جائیں، بندیال صاحب کے پاس دو اوور ہیں چھکے ماریں اور میچ جیت جائیں،

    دوسری جانب پاکستان لائیرز ایکشن کمیٹی نے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھ دیئے ، وکلا ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صدر کی جانب سے جن بلوں پر دستخط نہیں کیے گئے وہ پارلیمنٹ کے ایکٹ نہیں ہیں ۔آئین کو بحال کر کے سب اسکے تابع ہوں ۔ ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل نہیں ہو سکتے ۔ نوے دن کے اندر قانون کے مطابق الیکشن کروائے جائیں ۔ الیکشن میں ہر سیاسی جماعت کو حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ بجلی کے بلوں میں عائد اضافی ٹیکسز کو فوالفور واپس لیا جائے

    پاکستان بار کونسل نے 5 ستمبر کو وکلا تنظیموں کی کانفرنس کا اعلان کیا ہے،

    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی

  • حسان نیازی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    حسان نیازی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    حسان نیازی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی کی جانب دائر کی گئی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواستگزار کے بیٹے حسان نیازی کے ملٹری اتھارٹی کے زیر حراست ٹرائل کو غیر آئینی قرار دیا جائے،آئین میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی اجازت نہیں،سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل آرٹیکل 10اے کی خلاف ورزی ہے، درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ کسی عدالت کی اجازت کے بغیر حسان نیازی کو ملٹری کورٹس ٹرائل کیلئے حوالے کردیا گیا ،سپریم کورت میں درائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ آرمی ایکٹ ترامیم 2023 کو آئین کے آرٹیکل 3,4,9,10,13,14,اور 24 کے برخلاف قرار دیا جائے،

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں، عمران خان خود توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد اٹک جیل میں ہیں،

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • گرفتاری کا خوف،بشریٰ بی بی عدالت پہنچ گئی

    گرفتاری کا خوف،بشریٰ بی بی عدالت پہنچ گئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے مقدمات، انکوائریوں کی تفصیلات کے حصول کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    سابق وزیراعظم کی اہلیہ بشری بی بی نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ،عدالت میں دائر درخواست میں حکومت پاکستان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی درخواست گزار کے خاوند اور جیل میں قید ہیں،درخواست گزار کیخلاف ملک بھر میں کیسز درج ہیں، درخواست گزار کیخلاف مختلف حکام کی جانب سے نظربندی کے احکامات جاری کیے گئے، نیب، ایف آئی اے، انٹی کرپشن اور پولیس میں ایف آئی آرز، انکوائریز زیر التوا ہیں، عدالت تمام معلوم اور نامعلوم کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے عدالت تمام کیسز میں درخواست گزار کی حفاظتی ضمانت منظور کرے عدالت درخواست گزار کو کسی بھی کیس میں گرفتاری سے روکنے کا حکم دے

     بشریٰ بی بی کی 12 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    عدلیہ،فوج،حکومت پر کب دباؤ ڈالنا؟ بشریٰ بی بی کی ہاتھ سے لکھی ڈائری پکڑی گئی

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    رات کے اندھیرے میں بشریٰ بی بی،بزدار یتیم خانوں میں کیا کرتے تھے؟

    واضح رہے کہ عمران خان سائفر کیس میں اٹک جیل میں ہیں، عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا ہوئی تھی تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی تھی، عمران خان اب بھی جیل میں ہیں، توشہ خانہ کیس میں نیب نے بشریٰ کو طلب کیا تھا مگر وہ پیش نہیں ہوئیں، نیب نے القادر یونیورسٹی کس میں بھی بشریٰ کو طلب کیا تھا، بشریٰ نے عدالت سے ضمانت کروا رکھی ہے تا ہم پھر بھی انکو گرفتاری کا خوف کھائے ہوئے ہے، بشریٰ بی بی جیل میں عمران خان سے ملنے بھی جا چکی ہیں