Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • توشہ خانہ کیس،فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی درخواست،سماعت ملتوی

    توشہ خانہ کیس،فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی درخواست،سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،توشہ خانہ کیس میں فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپیل واپس لینے کی دوسری سماعت ہے، ابھی آپ کیا چاہ رہے ہیں؟پہلے ہفتے میں ہی آپ کی درخواستیں سماعت کیلئے رکھ لیتے ہیں، الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی دوسری درخواست پر اعتراضات برقرار ہیں،عدالت نے دیگر کیس 13 ستمبر کو مقرر کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن سے نا اہلی اور پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی نے مرکزی درخواست واپس لینے کیلئے متفرق درخواست دائر کردی ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے 21 اکتوبر 2022 کے آرڈر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، درخواست کے زیر سماعت ہونے کے دوران الیکشن کمیشن نے ایک اور شوکاز نوٹس جاری کردیا،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 7 دسمبر 2022 کو شوکاز نوٹس جاری کیا، شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ بتائیں کیوں آپ کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تناظر میں چیئرمین شپ سے ہٹایا نہ جائے، یہ دونوں معاملات لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ کے سامنے بھی زیر سماعت ہیں،ان دونوں معاملات پر لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں،  چیئرمین پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے بجائے لاہور ہائیکورٹ میں پیروی کرنا چاہتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس قبل بھی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی، تاہم اب تک درخواست گزار کو اپنی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے واپس لینے کی اجازت نہیں دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے اپنی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے،تاکہ درخواست گزار لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی پیروی کر سکیں،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس میں تحریری فیصلے جاری

    سائفر کیس میں تحریری فیصلے جاری

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف 16 اور 30 اگست کو سائفر کیس کی سماعتوں کے تحریری فیصلے جاری کردیے ہیں جبکہ ان میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ منظور نہیں کیا جاسکتا، جوڈیشل کمپلیکس پیش نہ کرنے کی وجہ عمران خان کی جان کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت سے جاری دو دو صفحات پر مشتمل الگ الگ تفصیلی فیصلوں میں عدالت کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس کی 16 اگست کی سماعت جوڈیشل کمپلیکس میں ہوئی تھی، ایف آئی اے نے تفتیش کے لیے 16 اگست کو چیرمین پی ٹی آئی کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا تھا.

    جبکہ فیصلے کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی پہلے سے ہی توشہ خانہ کیس میں بطور مجرم اٹک جیل میں قید تھے، سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ ملزم کا جسمانی، جوڈیشل یا ضمانت منظور کرے اور عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ زندگی اہم ہے، معلوم نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے باہر لانے پر کوئی حادثہ پیش آجائے، غیر معمولی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ منظور نہیں کیا جاسکتا۔

    مزید براں کہا گیا کہ جوڈیشل کمپلیکس پیش نہ کرنے کی وجہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو تحفظ فراہم کرنا ہے، فیصلے میں کہا گیا سائفر کیس عام نوعیت کا نہیں، سائفر جیسے حساس کیسز میں ریاست کی خود مختاری بھی شامل ہوتی ہے جبکہ فیصلے کے مطابق، سپرنٹنڈنٹ جیل کو چیئرمین پی ٹی آئی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اپنی تحویل میں لینے کا حکم دیا جاتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو خطرہ اور عوام کو لاحق خدشات کے پیش نظر عمران خان کو حاضری سے استثنیٰ دیا گیا۔

    علاوہ ازیں عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری جوڈیشل کمپلیکس میں تصور کی جاتی ہے، ان کی غیر حاضری پر ان سے قانونی حق نہیں چھینا جائےگا، عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے بھی اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری کی یقین دہانی لی جبکہ فیصلے میں کہا گیا کہ اٹک جیل سے جوڈیشل کمپلیکس منتقلی کی صورت میں سپرنٹنڈنٹ کو سخت سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کا حکم ہے، 30 اگست کے فیصلے کے مطابق عدالت کو وزارت قانون سے چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل اٹک جیل میں کرنے کا نوٹیفکیشن موصول ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    تاہم خیال رہے کہ عدالتی فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ 30 اگست فیصلہ کے مطابق عدالت نے گزشتہ سماعت پر چیئرمین پی ٹی آئی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو اٹک جیل میں سیکرٹ ایکٹ عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنےکا حکم دیا تھا، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی سے جیل میں حالات، مسائل اور ٹریٹمنٹ کے حوالے سے پوچھا، عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل قانون کے مطابق تمام سہولیات مہیا کرنے کی ہدایت کی جبکہ فیصلے کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی صحت بہت اہم ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل تمام تر اقدامات اٹھائے، وکیل صفائی نے وزارت قانون کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دینے اور سائفر کیس کو اوپن کورٹ میں کرنے کی درخواست دائر کی۔

  • ہماری کوشش ہے انتخابات میں تاخیر نہ ہو۔ ایمل ولی خان

    ہماری کوشش ہے انتخابات میں تاخیر نہ ہو۔ ایمل ولی خان

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ ماحول انتخابات میں تاخیر کا نظر آرہا ہے، غیرسیاسی عناصر انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں، ہماری کوشش ہے انتخابات میں تاخیر نہ ہو جبکہ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماحول اور بات چیت انتخابات کے ڈیلے (تاخیر) کی چل رہی ہے، ہم کوشش کریں گے کہ انتخابات ڈیلے نہ ہوں، جو میں دیکھ رہا ہوں، جو پاکستان کی قوتیں ہیں وہ کوشش میں ہیں کہ انتخابات کسی طرح ڈیلے ہوجائیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ آج کی بات نہیں 1947 سے لے کر ابھی تک ، یہ اس ایک اختیار پر بہت بڑا مسئلہ ہے، یہ اختیار جو عوام کا ہے، ایک طرف ایک فورس (طاقت) ہے جو چاہتی ہے کہ یہ اختیار عوام کا ہو، عوام اسے استعمال کرے، پاکستان میں ایک جمہوری نظام ہو جہاں پر پارلیمنٹ سب سے بالا ہو۔ اس کے اگینسٹ (مخالف) ایک لابی ہے جو ڈے ون (روزِ اول) سے جو قیوم خان صاحب سے شروع ہے وہ اب تک اسی میں کہ نہیں پاور کا محور عوام نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    جبکہ انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے علاوہ ازیں‌انہوں نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹیرینز جیسی پارٹیاں کون بنا رہا ہے جبکہ ایمل ولی خان نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کوئی نیوٹرل نہیں ہے، لگتا ہے ہم نے استحکام پاکستان سے لے کر سایہ خدائے ذوالجلال تک پارٹیاں بنانی ہیں۔ الیکٹیبلز کو فون کرکے کہا گیا کہ پرویز خٹک کی پارٹی جوائن کریں، ایسے میں شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے۔

  • توشہ خانہ فیصلہ؛  اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نیازی کی توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لینے کی درخواست کل سماعت کیلئے مقرر کردی گئی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق درخواست پر جمعہ کو سماعت کریں گے۔

    جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے توشہ خانہ فیصلے کےخلاف اپیل واپس لینے کی درخواست دائر کی گئی ہے، ہائیکورٹ کی جانب سے اپیل اعتراض کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر کی گئی ہے اور رجسٹرار کی جانب سے عائد اعتراض میں کہا گیا تھا کہ اپیل واپس لینے کی درخواست پہلے بھی زیر التوا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روزاسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کیا گیا تھا جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کی درخواست منظور کرنے کا 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا تھا

    جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی 3 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانے کی سزا معطل کر تے ہوئے 1 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    تاہم عدالت نے تحریری فیصلے میں لکھا تھا کہ قائم علی شاہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ضروری نہیں ہر کیس میں سزا معطل ہو، ضمانت دینا یا انکار کرنا ہائی کورٹ کی صوابدید ہے جبکہ عدالت نے کہا کہ اس کیس میں دی گئی سزا کم دورانیے کی ہے، عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے۔

  • عمران خان کو بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت

    عمران خان کو بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دے دی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اٹک جیل میں ہیں ،ایک دن قبل عدالت نے انکا سائفر کیس میں چودہ دن کا ریمانڈ دیا،آج عمران خان نے بیٹوں سے بات کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی، عمران خان نے اپنے وکیل عمیر اور شیراز احمد کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے ٹیلی فون یا وٹس ایپ پر بات کرنا چاہتے ہیں ،

    جج خصوصی عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو بیٹوں سے والد کی ورچوئل ملاقات کرانے کی ہدایت کردی

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تھی، جس کے بعد عمران خان جنکو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا تھا وہ جوڈیشیل ریمانڈ پر تھے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس میں عمران خان نے کی متفرق درخواست دائر

    پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس میں عمران خان نے کی متفرق درخواست دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ، توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن سے نا اہلی اور پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی نے مرکزی درخواست واپس لینے کیلئے متفرق درخواست دائر کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے 21 اکتوبر 2022 کے آرڈر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، درخواست کے زیر سماعت ہونے کے دوران الیکشن کمیشن نے ایک اور شوکاز نوٹس جاری کردیا،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 7 دسمبر 2022 کو شوکاز نوٹس جاری کیا، شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ بتائیں کیوں آپ کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تناظر میں چیئرمین شپ سے ہٹایا نہ جائے، یہ دونوں معاملات لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ کے سامنے بھی زیر سماعت ہیں،ان دونوں معاملات پر لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے بجائے لاہور ہائیکورٹ میں پیروی کرنا چاہتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس قبل بھی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی، تاہم اب تک درخواست گزار کو اپنی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے واپس لینے کی اجازت نہیں دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے اپنی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے،تاکہ درخواست گزار لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی پیروی کر سکیں،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • ذرائع آمدن اگر ملزم نے نہیں بتاتے تو جرم ثابت کیسے ہو گا؟ چیف جسٹس

    ذرائع آمدن اگر ملزم نے نہیں بتاتے تو جرم ثابت کیسے ہو گا؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ: نیب ترامیم کیخلاف چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ میں شامل ہیں، سماعت کا آغاز ہوتے ہی سرکاری وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آ گٸے،حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کردیا،وفاق کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کے آغاز میں حمیدالرحمٰن چوہدری کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حمید الرحمٰن مشرقی پاکستان کے سیاست دان تھے جنہوں نے اپنے ٹرائل کی کہانی لکھی، انہیں اس بات پرسزا دی گئی تھی کہ پبلک آفس سے پرائیویٹ کال کیوں کی؟ مغربی پاکستان سے تفتیشی افسران اورجج لے کرجاتے تھے۔ یہی وہ حالات تھے جومشرقی اورمغربی پاکستان کوآمنے سامنے لائے۔ آئین قانون سازوں کو بااختیار بناتا ہے کہ وہ آج ایسے قوانین کونہ پنپنے دیں ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس ہمارے لیے ایجوکیشنل بھی ہے

    مخدوم علی خان نے ججز کو تین مختلف ملکی و غیرملکی کتابیں مطالعہ کیلئے پیش کر دیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے نیب ترمیمی کیس ہمارے علم میں کافی اضافے کا باعث بنے گا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت نے ترامیم کے ماضی سے اطلاق پر دلائل دینے کا کہا تھا، احتساب کے تمام قوانین کا اطلاق ہی ماضی سے کیا جاتا رہا ہے،سال 1996 میں احتساب آرڈیننس آیا اطلاق 1985 سے کیا گیا،1997 میں دو احتساب آرڈیننس آئے انکا اطلاق بھی 1985 سے ہوا، نیب قانون 1999 میں بنا اس کا اطلاق بھی 1985 سے ہی کیا گیا، چیلنج کی گئی 2022 کی دونوں ترامیم کا اطلاق بھی 1985 سے کیا گیا، پی ٹی آئی دور میں ہونے والی ترامیم کا اطلاق بھی 1985 سے ہی کیا گیا تھا،

    مخدوم علی خان نے آئین کے آرٹیکل 12 کا حوالہ دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ نیب ترامیم اور ان کا ماضی سے اطلاق غیر آئینی نہیں ،بے نامی دار کے کیس میں معاملہ آمدن سے زائد اثاثوں کا ہوتا ہے اب کہا گیا ہے آپ پہلے ثابت کریں کہ وہ اثاثے کرپشن سے بنائے ،یہ ایک نئی چیز سامنے آئی ،اب نئے قانون کے مطابق بے نامی جائیداد رکھنا مسئلہ نہیں ،اب مسئلہ اس رقم کا بن گیا ہے کہ وہ کرپشن سے آئی یا نہیں ایسا کرنا ہے تو پھر معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کو جرم کی کیٹگری سے نکال دیں ،یہ احتساب کی تو ریڑھ کی ہڈی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب نے لوگوں کے لاکرز توڑے گھروں میں گھسے اور پھر ملا بھی کچھ نہیں ،مخدوم علی خان کی جانب سے جسٹس منصور شاہ کے لکھے خورشید شاہ کیس میں فیصلے کا حوالہ دیا گیا،اورکہا گیا کہ فیصلے میں عدالت نے کہا تھا پراپرٹی کسی کے قبضے میں ہے اور اس کا منافع کون لے رہا ہے دونوں چیزوں کا تعین ضروری ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ آمدن سے زائد اثاثوں پر پہلے ثابت کیا جائے وہ کرپشن سے بنے ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پراسیکیوشن اگر الزام لگا رہی ہے تو اس کے پاس ثبوت ہونا لازمی ہے ہر بے نامی ٹرانزیکشن یا پراپرٹی کرپشن نہیں ہوتی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ذرائع آمدن ملزم نے نہیں بتائے تو جرم ثابت نہیں ہو گا ، آپ یہ کہ رہے ہیں کہ نیب ترمیم سے کوئی بنیادی حقوق متاثر نہیں ہو رہے
    .وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ میری گزارش یہی ہے کہ بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوئے ،،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ اب آمدن سے زائد اثاثے رکھنا کوئی سیریس جرم رہ نہیں گیا ،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ برطانیہ میں سزائے موت آخری دو جرائم پر بھی ختم کی جا چکی ہے اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ مجرموں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے مختلف ادوار میں جرائم سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقہ اپنایا جا سکتا ہےن

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • سائفر کیس اٹک جیل منتقل کرنے پر فریقین کو نوٹس جاری

    سائفر کیس اٹک جیل منتقل کرنے پر فریقین کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کا سائفر کیس وزارت قانون کی جانب سے اٹک جیل منتقلی کا نوٹیفکیشن ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت منتقلی کے وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کر رکھا ہے ،وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری درخواست پر رجسٹرار آفس نے دو اعتراضات عائد کئے ہیں، اعتراض ہے کہ ہم نے ایک ہی درخواست میں ایک سے زیادہ استدعا کی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ میں اعتراضات دور کر دیتا ہوں، آپ میرٹ پر دلائل دیں، کیا عدالت کا وینیو تبدیل کیا گیا ہے؟

    وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیسز کی متعلقہ عدالت مجسٹریٹ کی ہے، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمات کا اختیار دینا غلط ہے، استدعا ہے کہ نوٹس جاری کر کے اس پر بھی جواب طلب کر لیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں آپکی درخواست پر نوٹس جاری کر دیتا ہوں، وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ یہ جلدی والا معاملہ ہے تو کیس آئندہ ہفتے دوبارہ مقرر کر دیا جائے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیس کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے ہی کر لیں گے، سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،چیف جسٹس

    کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم سے متعلق پچاسویں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بینچ کا حصہ ہیں ، دوران سماعت اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب گڈ ٹو سی یو ،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے عدالت کے دو منٹ چاہیے ،میرے حوالے سے خبر میں کہا گیا کہ میں نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں خامیوں کو تسلیم کیا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو عدالتی حکم کا حصہ ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے متعلقہ حکم پڑھنا چاہتا ہوں، میڈیا رپورٹس کے مطابق مجھ سے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل میں غلطیوں کا اعتراف منسوب کیا گیا، آٹھ جون کے عدالتی حکم کے مطابق میں نے کہا تھا دو قوانین کو ہم آہنگ کرنا ہے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اور ریویو ایکٹ کی دو شقیں ایک جیسی تھیں، ریویو ایکٹ کیس پر سماعت شروع ہوئی تو پارلیمان نے عدالتی فیصلے کا انتظار کیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریویو ایکٹ کیس پر عدالتی فیصلہ اگست کے دوسرے ہفتے میں آیا ہے، قانون میں ترمیم نہ کرنے کی یہ دلیل قابل قبول نہیں، پارلیمان قانون سازی میں کافی مصروف رہی، پریکٹس اینڈ پروسیجر بل شاید پارلیمان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھا، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون میں چیف جسٹس کو ربڑسٹیمپ بنایا گیا، میڈیا میں کیا رپورٹ ہوا اس حوالے سے کچھ نہیں کہ سکتے،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ میں نے کہا تھا پریکٹس اینڈ پروسیجراور ریویو ایکٹ اوورلیپ کرتے ہیں، میرے سامنے اخبار ہے جس میں مجھ سے منسوب بات چھپی ہے، خبر کے مطابق مجھ سے منسوب کیا گیا میں نے نقائص تسلیم کئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی انگریزی اخبارات میں خبر رپورٹر کے نام سے شائع کیوں نہیں کی جا رہی، معلوم نہیں کیا یہ کوئی سنسر شپ کا نیا طریقہ آیا ہے؟ اٹارنی جنرل صاحب آپ نے تو تسلیم کیا قوانین میں مطابقت نہیں، جو قانون سازی کی گئی اس سے چیف جسٹس پاکستان کو ربڑ اسٹمپ بنا دیا گیا، اٹارنی جنرل صاحب ہم آپ کی وضاحت کو تسلیم کرتے ہیں،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پارلیمان ریویو ایکٹ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی منتظر تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کی ہر بات مانیں گے مگر یہ بات تسلیم نہیں کریں گے، کچھ نیب ترامیم بہت ذہانت کے ساتھ کی گئیں،

    نئے نیب قانون سے کس کس نے فائدہ اٹھایا چیف جسٹس نے فہرستیں طلب کر لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترمیم کے بعد کتنے کیسز عدالتوں سے واپس ہوئے فہرست فراہم کی جائے، ایک فہرست نیب جمع کرا چکا ہے لیکن اسے مزید اپڈیٹ کر کے دوبارہ جمع کرائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاقی حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ نئے نیب قانون میں کون سی ایسی پرانی شقیں ہیں جنہیں ختم نہیں کیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئے نیب قانون میں کئی اچھی چیزیں بھی ہیں،نیب قانون کی وجہ سے کئی لوگوں نے بغیر جرم جیلیں کاٹیں، ہم نے دیکھنا ہے کہ نئے نیب قانون سے کس کس نے فائدہ اٹھایا، نیب ترامیم سے کئی جرائم کو ختم کیا گیا کچھ کی حیثیت تبدیل کی گئی،نیب ترامیم سے کچھ جرائم کو ثابت کرنا ہی انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے، کم سے کم حد پچاس کروڑ کرنے سے کئی مقدمات نیب کے دائرہ اختیار سے باہر کیے گئے، نیب ایک ہی ملزم پر کئی مقدمات بنا لیتا ہے جن میں سینکڑوں گواہان ہوتے ہیں،سیکڑوں گواہان کی وجہ سے نیب مقدمہ کئی کئی سال چلتے رہتے ہیں،اصل چیز کرپشن کے پیسے کی ریکوری ہے، ریکوری نہ بھی ہو تو کم از کم ذمہ دار کی نشاندہی اور سزا ضروری ہے،یہ درست ہے کہ نیب قانون میں کئی خامیاں ہیں اور اس کا اطلاق بھی درست انداز میں نہیں کیا گیا

    سپریم کورٹ نیب ترامیم کیس میں اب تک انچاس سماعتیں کرچکی ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے پی ڈی ایم حکومت کی نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • سائفر کیس،سماعت اٹک جیل میں کرنے کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا

    سائفر کیس،سماعت اٹک جیل میں کرنے کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں کرنے کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    دوسری جانب سائفرکیس،سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین اٹک جیل سے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے، شاہ محمود قریشی کے عدالت پہچنے پر سائفرکیس کی سماعت شروع ہوگی،

    اٹک جیل میں سائفر کیس کی سماعت کے بعد عمران خان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ یہ پروسیڈنگ جیل میں نہیں ہوسکتی، ہم نے ٹرائل کو چیلنج کیا ہے ،جیل ٹرائل انکے ہوتے ہیں جو خطرناک مجرم ہوں،11 ماہ میں چیئرمین پی ٹی آئی سیکڑوں سماعتوں پر آتے رہے ،چیئرمین پی ٹی آئی کو اس کیس میں 15 روز قبل گرفتار کیا گیا،آج 30 اگست ہوگئی ایف آئی اے کی ٹیم صرف 2 مرتبہ آئی، ملزم کو بھی نہیں پتا اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو فری ٹرائل نہیں دیا جارہا،چیئرمین پی ٹی آئی پر سائفر کے حوالے سے 2 الزامات ہیں، کہا گیا سائفر کو چھپا کر رکھا گیا اور اسکا غلط استعمال کیا گیا،

    عمران خان آج بالکل فریش اور صحت مند نظر آئے،وکیل
    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان آج بالکل فریش اور صحت مند نظر آئے، انہوں نے کہا کہ میں حقیقی آزادی کی جنگ جاری رکھوں گا، آزادی کے بغیر پورا پاکستان ایک جیل کی مانند ہے اور اگر آزادی نہ ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انسان جیل میں بند ہے یا باہر ہے کیونکہ اصل آزادی قانون کی حکمرانی اور آئین کی سربلندی میں ہے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اٹک جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس کی جیل میں ٹرائل کی ہر گز ضرورت نہیں ہے، سکیورٹی کی بناء پر صبح 9 بجے سماعت رکھی، ہمیں مشکل سے جیل کے اندر جانے دیا گیا،ہم نے جیل ٹرائل کے خلاف درخواست جمع کرادی ہے، پیر کے روز پر سماعت ہوگی،چیئرمین پی ٹی آئی سے خوشگوار موڈ میں ملاقات ہوئی، چئیرمین پی ٹی آئی کو 15 اگست سے اس کیس میں گرفتار ظاہر کیا گیا جس کا کسی کو علم نہیں تھا ،آج سے 15 دن پہلے چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں جوڈیشل ہو چکے ہیں، اس کا بھی کسی کو علم نہیں ،چیئر مین پی ٹی آئی کو فری ٹرائل کا حق نہ دینا آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے، ہم نے ضمانت کی درخواست بھی دائر کی ہے جس کی 2 ستمبر کو سماعت ہوگی،رانا ثناءاللہ مطابق سائفر انکے پاس ہے تو پھر چیئرمین پی ٹی آئی سے کیا مانگا جا رہا ہے؟ چیئرمین پی ٹی آئی نے جیل میں ایک ہفتہ صرف دال روٹی کھائی، انہیں چھوٹے کمرے میں رکھا گیا ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ ہفتے میں ایک دن مرغی کا پتلا شوربہ دیا جاتا ہے چیئرمین پی ٹی کے نہانے کے لئے کوئی پردہ نہیں، پہلے3 فٹ کی دیوار تھی، اب تھوڑی سی اونچی کی گئی ہے،

    واضح رہے کہ آج اٹک جیل میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی تھی،جج ابوالحسنات ذولقرنین نے عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 دن کی توسیع کر دی،چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 13 ستمبر تک توسیع کر دی گئی،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی