Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • سائفر کیس،اٹک جیل میں سماعت ،عمران کے ریمانڈ میں توسیع

    سائفر کیس،اٹک جیل میں سماعت ،عمران کے ریمانڈ میں توسیع

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت ،جج ابوالحسنات ذوالقرنین اٹک جیل پہنچ گئے

    سائفر کیس کی سماعت سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی،ایف آئی اے پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر اٹک جیل میں موجود تھے، عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواستِ ضمانت بعد ازگر فتاری دائر کر دی ،ان کیمرہ سماعت کے باعث میڈیا نمائندوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، عمران خان کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جج ابوالحسنات ذولقرنین نے عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 دن کی توسیع کر دی،چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 13 ستمبر تک توسیع کر دی گئی،

    پی ٹی آئی وکیل شیرافضل مروت نے جج ابوالحسنات ذوالقرنین سےکمرہ عدالت میں مکالمہ کیا اور کہا کہ کیا آپ کوعدالت اٹک جیل میں لگانےکا این او سی ملا تھا؟جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ مجھے اٹک جیل میں سائفرکیس کی سماعت کرنےکا این او سی ملا تھا، وکیل نے کہا کہ کیا آپ سے حکومت نے اٹک جیل سماعت منتقلی پر رائے لی تھی؟ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ مجھ سے حکومت نے سماعت اٹک جیل منتقلی پر رائے نہیں لی، پی ٹی آئی وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ پھر آپ نے کیسے اٹک جیل منتقل کرکے سائفرکیس کی سماعت کرلی،

    چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے تین درخواستیں دائر کیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت دائر کی گئی،وزارت قانون کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی گئی،چیئرمین پی ٹی آئی کا اوپن کورٹ میں ٹرائل کرنےکی درخواست بھی دائر کی گئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ستمبر کو جواب طلب کر لیا ،جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے فریقین سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر 2 ستمبر کو دلائل طلب کر لیے

    اٹک جیل میں لگائی گئی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت مکمل ہوگئی، عمران خان کے وکلاء کچھ دیر بعد آکر سماعت سے متعلق مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے، جج بھی سماعت کے بعد واپس روانہ ہو گئے ہیں،دوسری جانب وکیل لطیف کھوسہ عمران خان سے ملنے اٹک جیل پہنچ گئے

    وزارت قانون نے سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں کرنے کی اجازت دی تھی ،سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا تھا

    قبل ازیں پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کو جیل جانے سے روک دیا ،پولیس کا کہنا ہے کہ صرف ایک وکیل کو جیل کے اندر جانے کی اجازت ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے تمام ممبران کا جیل کے اندر جانے پر اسرار ہے،عمران خان کی لیگل ٹیم میں بیرسٹر گوہر، بیرسٹر عمیر نیازی، خالد یوسف چوہدری، پنجوتھہ برادران شامل ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کی جانب سے ضمانت کی داخواست تیار کر لی گئی ،بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا مقدمہ بنتا ہی نہیں،یہ سٹیج ضمانت کی بنتی ہے اس لیے آج ضمانت کی درخواست دائر کریں گے ،ٹرائل شروع نہیں ہوا ثبوت ٹرائل کے دوران دیئے جاتے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی مقدمات بنائے جا رہے ہیں،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تھی، جس کے بعد عمران خان جنکو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا تھا وہ جوڈیشیل ریمانڈ پر تھے، آج انکا ریمانڈ ختم ہو رہا ہے، آج انکو عدالت پیش کیا جانا تھا تا ہم اب کیس کی سماعت اٹک جیل میں ہی ہو گی،

    سائفر کیس میں عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تحقیقاتی ٹیم عمران خان سے اٹک جیل میں تحقیقات بھی کر چکی ہے، ، تحقیقاتی ٹیم ایک گھنٹے تک اٹک جیل میں عمران خان کے پاس رہی، عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیا ہے،ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کی سربراہی میں چیئرمین پی ٹی آئی سے پوچھ گچھ کے لیے اٹک جیل گئی تھی،، چیئرمین پی ٹی آئی اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہوئی ہے،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عمران خان کیخلاف سائفر کیس کی عدالت کل اٹک جیل میں لگے گی

    عمران خان کیخلاف سائفر کیس کی عدالت کل اٹک جیل میں لگے گی

    عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی عدالت کل اسلام آباد کچہری کے بجائے اٹک جیل میں لگے گی جس میں آفیشل سیکرٹ عدالت کے جج کو اٹک جیل لے جایا جائے گا اور نگران وزارت قانون و انصاف نے این او سی جاری کردیا گیا ہے. جبکہ خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی تین سال قید کی سزا اور جرمانے کو معطل کر دیا تھا، لیکن رہائی کیلئے انہیں ابھی بھی انتظار کرنا ہوگا کیونکہ سابق وزیر اعظم کے خلاف متعدد دیگر مقدمات بھی موجود ہیں۔

    عدالتی فیصلہ آنے کے فوری بعد یہ بحث چھڑ گئی کہ عمران خان مضبوط دلائل کی وجہ سے اس جج سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جسے ان کی اپنی جماعت نے بدنام کیا یا عدالتوں نے انہیں بچایا لیکن وجہ ان میں سے کوئی بھی نہیں، اصل وجہ یہ ہے کہ عمران کی سزا بہت مختصر تھی اور عمران خان کی سزا معطلی پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری کا تحریری حکم نامہ نو صفحات پر مشتمل ہے اور کارروائی میں جو کچھ ہوا اس کا خلاصہ ہے۔

    جبکہ اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے ٹرائل کورٹ کے توشہ خانہ فیصلے میں کئی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے دلیل دی کہ اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کرانے کے 120 دنوں کے اندر شکایات درج کی جا سکتی ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن نے ایسا کرنے میں بہت تاخیر کی۔

    جبکہ اس میں یہ بھی شامل کیا گیا کہ درخواست منتخب شخص کے ذریعے فائل نہیں کی گئی تھی اور لطیف کھوسہ نے استدلال کیا کہ دائرہ اختیار کے مسائل کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کو مقدمے کے فوائد پر بات کرنے سے پہلے کرنا چاہیے تھا اور آخر میں لطیف کھوسہ نے دلیل دی کہ عمران کو اپنے دفاع کا مناسب موقع نہیں دیا گیا کیونکہ ان کے گواہوں پر ’غیر متعلقہ‘ لیبل لگا دیا گیا تھا۔

    انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو یہ بھی بتایا کہ اس معاملے کا فیصلہ ’غیر ضروری‘ جلد بازی میں کیا گیا تھا، جواب میں الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے بھی تکنیکی نکات پر بحث کی اور انہوں نے کہا کہ جب سے عمران خان کو قید کیا گیا ہے، انہیں ریاست کے حوالے کر دیا گیا ہے لیکن ریاست کو کیس میں فریق نہیں بنایا گیا تاہم امجد پرویز نے یہ بھی دلیل دی کہ اس معاملے میں اپیل کو سیدھا اسلام آباد ہائیکورٹ جانے کے بجائے سیشن کورٹ کے سامنے دائر کیا جانا چاہیے تھا۔

    علاوہ ازیں انہوں نے دفاع کے حق کے بارے میں لطیف کھوسہ کے نکتہ کے خلاف بھی دلیل دی اور کہا کہ عمران نے متعدد مواقع ملنے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے کا انتخاب کیا جبکہ انہوں نے کہا کہ عمران نے کارروائی کو ’ناکام‘ بنانے کی کوشش کی، تاہم وکلاء کے تمام دلائل کے بعد معاملہ ایک نقطہ پر آگیا کہ کیا عمران خان کی سزا کو معطل کیا جا سکتا ہے، یا ضمانت دی جاسکتی ہے؟ کیونکہ یہ سزا ’مختصر‘ تھی۔

    جبکہ لطیف کھوسہ نے دلیل دی کہ سزا معطلی کی اپیل دراصل ضمانت کے لیے اپیل کرنے کے مترادف ہے اور عمران ضمانت کے حقدار ہیں کیونکہ تین سال کی سزا مختصر ہے جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے جس کیس کا حوالہ دیا ان میں سے ایک نواز شریف بمقابلہ چیئرمین نیب (2019) تھا، امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ ہر سزا معطل کی جائے اس کے جواب میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے معطلی یا ضمانت کے معاملات میں طویل دلائل کو نظر انداز کیا ہے۔

    علاوہ ازیں عدالت نے لطیف کھوسہ سے بھی اتفاق کیا کہ اس معاملے کے لیے تین سال، یا یہاں تک کہ پانچ سال، ایک مختصر سزا ہے اور عام طور پر معطل کی جاتی ہے جبکہ عدالت نے مزید کہا کہ اس مرحلے پر کیس کے میرٹ پر دلائل کی ضرورت نہیں ہے اور تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ دائرہ اختیار اور دیگر مسائل کے بارے میں دونوں فریقوں کی طرف سے اٹھائے گئے دلائل میں اس معاملے کی گہری تعریف شامل ہے جس کی معطلی کے مرحلے پر کوئی جواز نہیں ہے، خاص طور پر جہاں سزا مختصر ہو، بالآخر عمران خان کو دی گئی سزا کی مختصر طوالت ان کی رہائی کے احکامات کی وجہ بن گئی۔

  • چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف مہم کی تحقیقات کیلئےجے آئی ٹی تشکیل

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف مہم کی تحقیقات کیلئےجے آئی ٹی تشکیل

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کے خلاف سوشل میڈیا مہم کی تحقیقات کے لیے خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

    جبکہ نوٹیفکیشن کے مطابق خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بدنیتی پر مبنی مہم کے پس پردہ حقائق کا تعین کرےگی اور ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے کنوینر ہوں گے، آئی ایس آئی اور آئی بی کےگریڈ 19 کے افسر بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان ہوں گے، اسلام آباد پولیس کے گریڈ 19 کے افسر بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی
    علاوہ ازیں‌نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہےکہ خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کرے گی۔ تاہم خیال رہے کہ اس سے قبل وزارت قانون نے پی ٹی آئی کی جانب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کے خلاف مہم کی مذمت کی تھی۔

    ایک بیان میں وزارتِ قانون و انصاف نے کہا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو ملکی اداروں پر حملے سے پرہیز کرنا چاہیے جبکہ وزارت قانون نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذموم مقاصد پر مبنی مہم چیف جسٹس عامر فاروق کی ساکھ کو داغ دار کرنے کی کوشش ہے۔

    تاہم واضح رہے کہ تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پر براہ راست الزام لگایا گیا تھا جس میں جسٹس عامر فاروق پر منافقت کا الزام لگایا گیا جبکہ اس حوالے سے سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا تھا کہ ججز کو ایسی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کچھ دنوں سے ججز کے خلاف زور و شور سے منظم مہم چلائی جا رہی ہے، اُمید ہے کہ ججز تمام تر تنقید کے باوجود حلف کی پاسداری کریں گے۔

  • عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال

    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پر ویلاگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے توقع تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطل کر دی ہے،اسکی دو وجہ ہیں ،سپریم کورٹ نے جو ریمارکس دیئے تھے اسکے بعد ماتحت عدالت کس طرح سپریم کورٹ کی امیدوں کے خلاف فیصلہ دے،اس فیصلے میں دوچیزیں ہیں، کہ سزا معطل ، جب تک تحریری فیصلہ نہیں آتا تب تک سزا رہے گی

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں دو چیزیں ہیں ایک ہے جرم اور دوسرا ہے سزا، اس نے مال سرکار میں مداخلت کی اور اس نے پیسے بٹورے، یہ اسکا جرم ثابت ہو گیا،جرم کی سزا جو جج دلاور نے دی تھی وہ دی تھی تین سال،عدالت نے سزا کو معطل کیا ہے، جرم کو نہیں، عدالت جرم کو معطل نہیں کر سکتی، جرم جب وہیں پر ہے اور سزا وہیں پر ہے ،تو اب عدالت نے یہ تعین کرنا ہے کہ تین سال کی سزا غلط ہے اصل میں ہونی کتنی چاہئے،ہونی چاہئے یا نہیں ہونی چاہئے، لیکن جرم وہیں پر ہے، اسلئے عمران خان نہ الیکشن لڑ سکتے ہیں اور نہ ہی پارٹی کے چیئرمین رہ سکتے ہیں اور نہ ہی ٹی وی پر آ سکتے ہیں کیونکہ وہ سزا یافتہ ہیں، اگر اسکو ختم کروانا ہے تو نئے سرے سے عمران خان کو اپیل دائر کرنا پڑے گی،مجرم ہونے کے خلاف اپیل جب وہ دائر کرےگا تو پھر کیس ایک مہینہ، ایک سال یا جب تک چلتا ہے پھر تعین ہو گا کہ وہ جرم رہتا ہے یا نہیں، جو لوگ خوشیاں منا رہے ہیں وہ یہ سن لیں کہ اگلے الیکشن میں عمران خان نہیں ہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی ٹیم اٹک جیل میں پہنچی اور عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ ایف آئی اے والے عمران خان کو اٹک جیل میں ہی رکھتے ہیں یا اپنی کسی جیل میں لے کر جاتے ہیں،

    توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری

     لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پہلے دن معطل ہو جانا چاہئے تھی ،

  • سزا معطلی سے قیدی نمبر804 صادق اورامین نہیں بنا،فردوس عاشق اعوان

    سزا معطلی سے قیدی نمبر804 صادق اورامین نہیں بنا،فردوس عاشق اعوان

    استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سزا معطلی سے قیدی نمبر 804 صادق اور امین نہیں بنا

    اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ قیدی نمبر 804 کو جیل میں جو سہولتیں میسر ہیں دیسی گھی میں مٹن فراہم کیا جارہا ہے ، کیا عمران خان کی طرح دیگر قیدیوں کو بھی کھابے دیئے جائیں گے، آج ہائیکورٹ اسلام آباد میں گڈ ٹو سی یو کی دوسری قسط دیکھنے کو ملی،سزا معطلی کسی مجرم کو محترم نہیں بنا سکتی،مجرم ہر حال میں مجرم ہی رہے گا،نطام انصاف میں پائے جانے والے خلا اسیر اٹک جیل کو جیل بدر کروانے کا باعث بن رہے ہیں،اسوقت ملک کو آفات اور مراعات نے تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کر دیا ہے

    فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ آج ایک فیصلہ آیا جس کی گونج کئی دن سے سوشل میڈیا پر تھی ایک جماعت کئی دن پہلے ہی فیصلہ سنا چکی تھی فیصلے سے متعلق مبارکبادوں کا سلسلہ کئی روز سے جاری تھا ثابت ہو گیا طاقتور جب چاہے آئین اور قانون کو روند سکتا ہے دہرا معیار کب تک چلے گا، قیدی 804 کے ساتھ چہیتوں والا سلوک ہو رہا ہے  ،جیل میں فرمائشی کھانے کھائے جا رہے پھر بھی قیدی کا رونا بند نہیں ہو رہا،نگران حکومت عوامی مسائل کے حل کے لئے کوئی لائحہ عمل مرتب کرے

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری

     لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پہلے دن معطل ہو جانا چاہئے تھی ،

  • عمران خان کی سزا معطلی بشری بی بی کی ملاقاتوں کا نتیجہ تو نہیں؟

    عمران خان کی سزا معطلی بشری بی بی کی ملاقاتوں کا نتیجہ تو نہیں؟

    عمران خان کی سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کی ہے،اس پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ردعمل جاری ہے

    جے یو آئی کے رہنما حافظ حمداللہ نے عمران خان کی سزا معطلی پر کہا ہے کہ کیا عمران خان کی سزا معطلی بشری بی بی کی ملاقاتوں کا نتیجہ تو نہیں؟ سیاسی مخالفین کو این ار او کا طعنہ دینے والا عمران خان تھوڑا سا اپنی اہلیہ کی طرف نظرڈال کر بھی دیکھے ،اب بشری بی بی کس کے لیے دوست اسلامی ملک سے این ار او مانگ رہی ہیں ؟

    حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ایک تحقیقاتی صحافی کی خبر نے عمران خان کا اصل چہرہ قوم کے سامنے بے نقاب کیا تھا .بشری بی بی اسلام اباد کے فائیو اسٹار ہوٹل میں اسلامی ملک کی اہم شخصیت سے کیوں ملی؟ بشری بی بی نے اس اہم شخصیت کو یہ بھی کہا کہ عمران خان ملک سے باہر جانےکو تیار ہے ،اج میں ساری قوم کو بتا دوں عمران خان اب باہر جانے کے لیے منتیں کررہا ہے

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری

     لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پہلے دن معطل ہو جانا چاہئے تھی ،

  • امریکا کی غلامی کرتے ہوئے عمران خان کو اندرکیا گیا،لطیف کھوسہ

    امریکا کی غلامی کرتے ہوئے عمران خان کو اندرکیا گیا،لطیف کھوسہ

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے توشہ خانہ کیس فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پہلے دن معطل ہو جانا چاہئے تھی ،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ایک دن بھی توشہ خانہ کیس میں اند نہیں رہنا چاہیے تھا ،سائفر کیس سے زیادہ واہیات کیس نہیں ہوسکتا ،امریکا ہمیں معاف کرنے والا کون ہوتا ہے،پاکستان پچیس کروڑ عوام کی ریاست اور ایٹمی طاقت ہے ڈونلڈ لو کا بیان سر اسر توہین ہے دو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میٹنگز میں اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا گیا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں کے بعد پاکستان نے سخت سفارتی رد عمل دیا دوسرے قومی سلامتی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف تھا ،کون سے سائفر کو منظر عام پر لایا گیا ؟

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ جو کابینہ نے ڈی کلاسیفائی کیا تو کوئی سیکریسی باقی نہیں رہتی ،سائفر دفتر خارجہ کی عمارت سے باہر جا ہی نہیں سکتا ،سائفر کے ترجمے کے کاغذ پوری دنیا کے پاس موجود ہیں ،بھٹو کو ایٹم بم پروگرام بند نہ کرنے کی پاداش میں پھانسی چڑھا دیا گیا ،امریکا کی غلامی کرتے ہوئے عمران خان،شاہ محمود قریشی کو اندرکیا گیا

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس، عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر،کل پیشی کا امکان

    سائفر کیس، عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر،کل پیشی کا امکان

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری ہو گئی

    جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے حکم دیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں ہی قید رکھا جائے،چیئرمین پی ٹی آئی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں،30 اگست کو عدالت پیش کیا جائے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سپریٹنڈٹ اٹک جیل کو مراسلہ ارسال کر دیا،

     سائفر کیس میں عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تحقیقاتی ٹیم عمران خان سے اٹک جیل میں تحقیقات بھی کر چکی ہے، ، تحقیقاتی ٹیم ایک گھنٹے تک اٹک جیل میں عمران خان کے پاس رہی، عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیا ہے،ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کی سربراہی میں چیئرمین پی ٹی آئی سے پوچھ گچھ کے لیے اٹک جیل گئی تھی،، چیئرمین پی ٹی آئی اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہوئی ہے،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • لاڈلے کو بچانے کے لئے خود چیف جسٹس مانیٹرنگ جج بن گئے،شہباز شریف

    لاڈلے کو بچانے کے لئے خود چیف جسٹس مانیٹرنگ جج بن گئے،شہباز شریف

    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے عمران کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی پر کہا ہے کہ لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی

    شہبازشریف کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کا "گُڈ ٹو سی یو” اور "وشنگ یو گڈ لک” کا پیغام اسلام آباد ہائی کورٹ تک پہنچ گیا ،فیصلہ آنے سے پہلے ہی سب کو پتہ ہو کہ فیصلہ کیا ہوگا تو یہ نظام عدل کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ،اعلی عدلیہ سے واضح پیغام مل جائے تو ماتحت عدالت یہ نہ کرے تو اور کیا کرے؟ نوازشریف کی سزا یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ جج لگا تھا، لاڈلے کو بچانے کے لئے خود چیف جسٹس مانیٹرنگ جج بن گئے نظامِ عدل کا یہ کردار تاریخ کے سیاہ باب میں لکھا جائے گا

    شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ایک طرف جھکے ترازو اور انصاف کو مجروح کرتا نظام عدل قابلِ قبول نہیں ،خانہ کعبہ کے عکس والی گھڑی بیچ کھانے والے کے سامنے قانون بے بس ہے ،چور اور ریاستی دہشت گرد کی سہولت کاری ہوگی توملک میں عام آدمی کو انصاف کہاں سے ملے گا 9 مئی ہو، جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ ہو، پولیس پر پٹرول بم کی برسات ہو، سب معاف

    اگر جج خود وکیل صفائی بن جائیں تو پھر وکیل صفائی کی کیا ضرورت ہے،عطا تارڑ
    دوسری جانب رہنما مسلم لیگ (ن) عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سنایا جو سپریم کورٹ پہلے دے چکی تھی،یہ قانون کے مطابق نہیں بلکہ فیملی کی مرضی سے فیصلے ہو رہے ہیں،جج مظاہرعلی نقوی صاحب خود اپنےکیس میں پیش نہیں ہوئے مگر ایک پارٹی کے وکیل بن کر کیس سنتے رہے، اگر جج خود وکیل صفائی بن جائیں تو پھر وکیل صفائی کی کیا ضرورت ہے،سپریم کورٹ نے جیسے کیس سنا یہ ایسے ہے جیسے سیمی فائنل سے پہلے فائنل کا فیصلہ آجائے،کسی اور کو یہ سہولت دستیاب نہیں ہے جو ان کو میسر ہیں،ملزم خود تسلیم کرتا ہے تحفے لیے اوربیچے،ان کے وکیل نے الیکشن کمیشن کے سامنے اعتراف کیا،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عمران خان کی سزا معطل، توشہ خانہ کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    عمران خان کی سزا معطل، توشہ خانہ کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    عمران خان کی سزا معطل، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے، سزا معطلی کی درخواست منظور کرکے 5 اگست کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جاتا ہے، درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرانے پر ضمانت پر رہا کیا جائے،ٹرائل کورٹ نے الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کی کمپلینٹ پر سزا کا فیصلہ سنایا

    سزا معطلی کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے قائم علی شاہ کیس کا حوالہ بھی شامل،اس کیس میں دی گئی سزا کم دورانیے کی ہے،عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے،” سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر کیس میں سزا معطل ہو ، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ضمانت دینا یا انکار کرنا ہائی کورٹ کی صوابدید ہے ، اس کیس میں دی گئی سزا کم دورانیے کی ہے ، عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے ، سزا معطلی کی درخواست منظور کر کے پانچ اگست کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جاتا ہے درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرانے پر ضمانت پر رہا کیا جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی، عدالت نے ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہفیصلہ باضابطہ طور پر کمرہ عدالت میں نہیں سنا رہے، عدالت نے پی ٹی آئی کے وکلا سے کہا کہ تحریری فیصلے میں سزا معطلی کی وجوہات بتائی جائیں گی ،

    عدالت نے فیصلہ سنایا تو وکلا کی بڑی تعداد عدالت کے اندر موجود تھی، عمران خان کی بہنیں عظمیٰ خان اور علیمہ بھی کمرہ عدالت میں آئیں تا ہم 12 بج کر پچاس منٹ پر عمران خان کی بہنیں فیصلہ سنے بغیر ہی واپس چلی گئیں،،اس موقع پر عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری کمرہ عدالت کے باہر بھی تعینات کی گئی تھی،درخواست پر 9 کو اگست پہلی سماعت ہوئی تھہ آج 20 روز بعد فیصلہ سنایا گیا، عدالت نے فیصلہ سنانے کا وقت گیارہ بجے کا مقرر کیا تھا مگر فیصلہ تاخیر سے سنایا گیا،

    فیصلے کے انتظار کے دوران وکلا کمرہ عدالت میں ویڈیو بناتے رہے جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے عدالتی عملے کی جانب سے تنبیہ کی گئی اور کہا گیا کہ ویڈیو نہ بنائیں، موبائل سائلنٹ کردیں، سیٹوں پر بیٹھ جائیں، کچھ ہی دیر میں ججز آنے والے ہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    عمران خان نے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی جانب سے لطیف کھوسہ پیش ہوئے، سپریم کورٹ نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کو حکم دیا تھا کہ ایک دن میں فیصلہ کریں تا ہم ایک دن میں فیصلہ نہ ہو سکا، آج عدالت نے فیصلہ سنایا ہے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاڈلے کو بچانے کے لئے خود چیف جسٹس مانیٹرنگ جج بن گئے،شہباز شریف
    عدالتی فیصلے پر سابق وزیراعظم، ن لیگ کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس کا "گُڈ ٹو سی یو” اور "وشنگ یو گڈ لک” کا پیغام اسلامآباد ہائی کورٹ تک پہنچ گیا۔ فیصلہ آنے سے پہلے ہی سب کو پتہ ہو کہ فیصلہ کیا ہوگا تو یہ نظام عدل کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ۔ اعلی عدلیہ سے واضح پیغام مل جائے تو ماتحت عدالت یہ نہ کرے تو اور کیا کرے؟

    سزا معطل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سزا ختم ہو گئی،مجرم ابھی بھی مجرم ہے
    صحافی فیصل عباسی کہتے ہیں کہ سزا معطل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سزا ختم ہو گئی ہے اور کیس سے بری کر دیا گیا ہے۔ مجرم ابھی بھی مجرم ہے اور الیکشن کے لیے نااہل ہے۔ قانون کے مطابق ٹرائل کورٹ سے تین سال کی سزا تک کو اعلی عدلیہ اس وقت تک معطل کر سکتی ہے جب تک اس کیس کا کوئی فیصلہ نہیں سنایا جاتا۔ اس عمل میں سزا پھر بھی قائم رہتی ہے اور مجرم ، مجرم ہی رہتا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرمنل پروسیجر کوڈ کے تحت عمران خان کی سزا تب تک معطل کرے گی جب تک ان کی اپیل کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ سیکشن 426 کے مطابق یہ معطلی صرف اُس وقت تک ہے جب تک اسکی مین اپیل کورٹ میں پینڈنگ ہے.