Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • بلوچستان ہائیکورٹ ،عمران خان کے خلاف  ایف آئی آر منسوخ

    بلوچستان ہائیکورٹ ،عمران خان کے خلاف ایف آئی آر منسوخ

    بلوچستان ہائیکورٹ نے جلاؤ گھیراؤ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف ایف آئی آر کو منسوخ کردیا ہے

    بلوچستان ہائیکورٹ ںے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا ،بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل بینچ نے فیصلہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر سنایا،جلاؤ گھیراؤ کیس میں عمران خان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کر دیا گیا ہے، وارنٹ بھی ختم کر دیئے گئے ہیں

    تاہم دوسری جانب وکیل قتل کیس میں ابھی تک عمران خان کے خلاف مقدمہ ختم نہیں ہوا ،سینیر وکیل عبدالرزاق شر ایڈووکیٹ کے قتل کے مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ ون نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے ،وکیل قتل کیس سپریم کورٹ میں بھی چل رہاہے،عمران خان نے سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی،،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • پی ٹی آئی چیئرمین ایک بار پھر 9 مئی کے واقعات سے منحرف ہو گئے

    پی ٹی آئی چیئرمین ایک بار پھر 9 مئی کے واقعات سے منحرف ہو گئے

    اٹک: 9 مئی کو ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ کے واقعات پر جے آئی ٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی سے 6 مقدمات میں تفتیش کی ،جس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین ایک بار پھر 9 مئی کے واقعات سے منحرف ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے 9 مئی کے واقعات سے متعلق 6 مقدمات میں تفتیش کی ڈی آئی جی انویسٹی گیشن عمران کشور سمیت پوری جے آئی ٹی ٹیم نے سابق وزیر اعظم سے سوالات کیے۔

    جے آئی ٹی نے پوچھا کہ 9 مئی کے بارے میں آپ کی جانب سے اشتعال دلانے کے شواہد موجود ہیں چیئرمین پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ میں گرفتار ہو گیا تھا، کسی کو فون کر کے اشتعال نہیں دلایا۔

    یوکرین میں دوران پرواز 2 فوجی تربیتی طیارے آپس میں ٹکرا گئے،3 پائلٹ ہلاک

    ذرائع کا بتانا ہے کہ جے آئی ٹی نے سوال کیا کہ ایسی ویڈیوز اور کلپس ہیں جن میں مظاہرین آپ کا نام لیتے نظر آتے ہیں، جس پر سابق وزیر اعظم نے جواب دیا کہ کسی کو نہیں اکسایا سب اپنے طور پر کنٹونمنٹ کے علاقے میں گئے، جلاؤ گھیراؤ میں میری پارٹی کے کارکن نہیں، کوئی اور افراد تھے جے آئی ٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی سے جمعے کو 30 منٹ اٹک جیل میں ملاقات کی۔

    آسٹریلیا کے ساحل کے قریب فوجی ہیلی کاپٹر گر کرتباہ

    سوال کیا گیا کہ لوگ کنٹونمنٹ کے علاقے میں کیوں گئے تھے چیئرمین نے جواب دیا کہ جنہوں نے پکڑا تھا انہی کی طرف جانا تھا آپ کے لوگ پکڑتے تو تھانوں کی طرف جاتےسوال کیا گیا کہ آپ کے اشتہاری ملزمان اسلم اقبال، حماد اظہر اور مراد سعید سے بھی رابطوں کے کچھ شواہد ملے ہیں چیئرمین نے جواب میں کہا کہ شواہد ہیں تو رابطے کرنا کون سا جرم ہے، آپ کو جو بات کرنی ہے میرے وکیل سے کریں جے آئی ٹی نے کہا کہ وکیل کو عدالت میں بلایئے گا ہم تفتیش کرنے آئے ہیں۔

    امریکا میں سفید فام شخص کی فائرنگ،3 سیاہ فام ہلاک

    واضح رہے کہ چئیر مین پی ٹی آئی پر 9 مئی سے متعلق دہشت گردی کے 6 مقدمات درج ہیں جس پر جے آئی ٹی چئیرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کر رہی ہے۔

  • سائفر مجھ سے گم ہو گیا ،عمران خان کا تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اعتراف

    سائفر مجھ سے گم ہو گیا ،عمران خان کا تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اعتراف

    تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان سے اٹک جیل میں سائفر کے حوالہ سے تحقیقات کی گئی

    سائفر گم کرنے اور مبینہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے اٹک جیل میں تحقیقات کی ، تحقیقاتی ٹیم ایک گھنٹے تک اٹک جیل میں عمران خان کے پاس رہی، عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیا ہے،

    ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کی سربراہی میں چیئرمین پی ٹی آئی سے پوچھ گچھ کے لیے اٹک جیل گئی تھی،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی بھی گرفتار ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہوئی ہے،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سائفر جلسے میں لہرایا تھا اور پھر کہا تھا کہ وہ گم ہو گیا ہے، سائفر کی ایف آئی اے میں تحقیقات جاری ہیں، چند روز قبل ایک امریکی ویب سائٹ نے سائفر شائع کرنے کا دعویٰ کیا ہے،عمران خان نے سائفر کو ہی بنیاد بنا کر امریکہ کے خلاف تحریک چلائی تھی،عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان بھی سائفر کے حوالہ سے عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں، اعظم خان نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے، اعظم خان اور عمران خان کی ایک آڈیو بھی سائفر کے حوالہ سے لیک ہوئی تھی جس کے بعد ایف آئی اے نے عمران خان کو طلب کیا تھا تا ہم عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی اور تحقیقات رکوانے کی کوشش کی، گزشتہ سماعت پر عدالت نے تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا،

    سائفر انکوائری اور مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے پانچ کیسز پر سماعت

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

     اعظم خان نے سائفر ڈرامہ بے نقاب کر دیا

    عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے عمران خان کے خلاف بیان ریکارڈ کروایا تھا، اعظم خان نے کہا کہ عمران خان نے مجھ سے سائفر 9 مارچ کو لیا اور پھر کہا سائفر گم ہو گیا ہے، ایک خفیہ سرکاری دستاویز کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا اور جھوٹا بیانیہ بنایا،سائفر کے جھوٹے بیانیے کا پلان عمران خان، شیریں مزاری اور دو مزید لوگوں نے بنایا

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تھی تو اسوقت عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے ایک جلسے میں ایک خط لہرایا تھا اور اس خط کو انکی حکومت کے خلاف بیرونی سازش کہا تھا، بعد ازاں بتایا گیا تھا کہ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم کی جائے، عمران خان اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد ابھی تک اسی بیانئے کو لے کر چل رہے تھے تا ہم سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں واضح کہا گیا کہ کسی قسم کی دھمکی نہیں دی گئی، عمران خان اسی سائفر کو لے کر اپنی تحریک چلا رہے ہیں اور عمران خان کا غیر ملکی سازش و مداخلت کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو چکا ہے تا ہم سائفر کے حوالہ سے عمران خان کی دو آڈیو لیک ہو چکی ہیں جس کے بعد سائفر کا بیانیہ پٹ گیا

    سائفر کے حوالہ سے 25 اپریل کو ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار سے سوال کیا گیا کہ مراسلہ سے متعلق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کے بعد بہت کنفیوژن ہے،جس کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں ہونے والی بحث کو دیکھنا ہو گا،این ایس سی کے دونوں اجلاسوں میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے سب کچھ واضح کیا ہے،سیکیورٹی ایجنسیز نے بتایا کہ کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی،اسد مجید کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد تھیں، اور ہیں کمیٹی اجلاس میں سفیر اسد مجید ہو کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا کسی سفیر پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا.ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخارکا مزید کہنا تھا کہ مراسلے کوکئی روز تک کو دبانے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔ ٹیلیگرام جیسے ہی دفترخارجہ پہنچا اور قانون کے مطابق متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا اور پھر ڈی مارش دیا گیا

    پیپلز پارٹی کے رہنما علی موسیٰ گیلانی نے 30 مارچ کو دعویٰ کیا تھا کہ دھمکی آمیز خط شاہ محمود قریشی نے خود دفتر خارجہ کے سفارت کار سے لکھوایا،علی موسیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ فارن آفس کے ڈپلومیٹ نے شاہ محمود قریشی کے کہنے پر یہ خط وزیر خارجہ شاہ محمود کو بھجوایا,ڈپلومیٹ سے خود ساختہ خط موصول ہونے کے بعد شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو خط پہنچایا,اس معاملے کے حقائق جلد قوم کے سامنے آئیں گے, شاہ محمود قریشی اور فارن آفس اس جعلی سازی کے اصل کرادر ہیں,شاہ محمود قریشی اور فارن آفس لیڑ گیٹ سکینڈل میں بری طرح پھنس چکے ہیں,ہم عمران خان، شاہ محمود قریشی اور فارن آفس کے ملوث کرداروں کو اس کیس سے نہیں نکلنے دیں گے

  • جب لفٹ میں بند ہوا تو کلمہ پڑھ لیا تھا ،لطیف کھوسہ

    جب لفٹ میں بند ہوا تو کلمہ پڑھ لیا تھا ،لطیف کھوسہ

    سابق گورنر پنجاب، عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب لفٹ میں بند ہوا تو کلمہ پڑھ لیا تھا ،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا جب محسوس ہوا کہ اللہ کو پیارا ہونے لگا ہوں ،وکلا کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا ہے اب تحریک چلے گی، وکلا تحریک کا آغاز پشاور سے ہوگا،میری پوری فیملی کو ٹارگٹ کیا جاچکا ہے مگر میں آئین کی بات کرتا رہوں گا ،آج جو پیپلز پارٹی الیکشن کا مطالبہ کررہی ہے یہی ہمارا مطالبہ تھا،جنہوں نے مجھ پر اور اعتزاز پر تنقید انہیں بلاول نے شٹ اپ کال دی،ہمیشہ آئین اور جمہوریت کی بات کی ،بے نظیر کے تینوں بچوں کا مختار خاص میں ہوں، اٹک جیل میں بی کلاس کی سہولت موجود نہیں ہے،توشہ خانہ کیس ایک کھوکھلا کیس ہے جس میں الیکشن کمیشن فریق بن چکا ہے ،

    واضح رہے کہ لطیف کھوسہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کی چیئر لفٹ میں پھنس گئے تھے،لطیف کھوسہ چالیس منٹ تک لفٹ میں پھنسے رہے تھے، لفٹ میں زائد افراد سوار ہونے کی وجہ سے لفٹ رک گئی تھی،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں پیش آنے والے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، عابد زبیری کا کہنا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ سردار لطیف خان کھوسہ سمیت دیگر وکلاء جو لفٹ میں پھنسے تھے بغیر کسی نقصان کے بچ گئے، چیف جسٹس اسلام باد ہائی کورٹ سے لفٹ خرابی کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • مختلف مقدمات میں ضمانتیں خارج،عمران خان نے اپیل کر دی

    مختلف مقدمات میں ضمانتیں خارج،عمران خان نے اپیل کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے مختلف مقدمات میں ضمانتیں خارج ہونے والے مقدمات کو اسلام ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    چیرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں درج مختلف مقدمات میں ضمانت خارج ہونے پر ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا منو مئی سے متعلقہ مقدمات میں بھی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، عمران خان نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیسز ، دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے کیس میں بھی ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،

    چیرمین پی ٹی آئی کی دہشتگردی کے مقدمات اور توشہ خانہ جعلی سازی کیس سمیت 9 مقدمات میں عدم پیروی ضمانتیں خارج ہوئیں تھیں .چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ضمانتیں خارج ہونے والے مقدمات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ،درخواست میں عدالت سے پولیس کو ان مقدمات میں گرفتاری سے روکنے کی استدعا کی گئی ،عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سیشن کورٹ اور انسدادِ دہشت گردی عدالت کے ضمانت خارج کرنے کے فیصلے کالعدم قرار دے ،ہائیکورٹ ضمانت کی درخواستیں دوبارہ میرٹ پر سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کرے

    عمران خان کو باہر بھیجنے سے متعلق مختلف ذرائع سے رابطے ہوئے، علیمہ خان

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    ،جیل میں عمران خان کے بازوؤں کے پٹھے بہت کمزور ہو چکے ہیں 

    واضح رہے کہ پانچ اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے بعد انہیں لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا، عمران خان اٹک جیل میں ہی قید ہیں، انہیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لئے بشریٰ بی بی نے پنجاب کے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست دائر کی گئی تھی،بشریٰ نے وزارت داخلہ پنجاب کو لکھے گئے خط میں عمران خان کو زہر دیئے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر پر دو قاتلانہ حملے ہوئے لیکن ملزمان گرفتار نہ ہوئے، خدشہ ہے کہ انکو جیل میں زہر نہ دے دیا جائے، اسلئے انہیں گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے،

  • عمران خان کو باہر بھیجنے سے متعلق مختلف ذرائع سے رابطے ہوئے، علیمہ خان

    عمران خان کو باہر بھیجنے سے متعلق مختلف ذرائع سے رابطے ہوئے، علیمہ خان

    چیئرمین تحریک انصاف کی بہن علیمہ خان اور عظمیٰ خان نے میڈیا سے گفتگو کی ہے،

    علیمہ خان کا کہنا ہے کہ آج ہائیکورٹ آ کر پریشانی ہوئی، سنا ہے کہ وکیل کا پیٹ خراب ہو گیا اور وہ بستر پر پڑ گئے ہیں، جتنے دن چیئرمین تحریک انصاف جیل میں ہیں ان کے پیٹ خراب ہوتے رہیں گے ،یہ انصاف نہیں دے سک رہے اس پر قوم سے معافی مانگنی چاہیئے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ بے بس ہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کا تحفظ حکام کی ذمہ داری ہے ،یہ پیٹ خراب کا ڈرامہ ختم ہونے تک ذمہ داری متعلقہ حکام کی ہے یہ پنگ پانگ گیم کھیلی جا رہی ہے ،میں بولی ہوں تو مجھے بھی اب جیل میں ڈال دیں گے ،ڈال دیں ہم سب کو بھی جیل میں

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ میرے اُوپر 4 اور عظمیٰ خان پر 6 کیسز بنا دیئے گئے ہیں ،ہم نے بیگ پیک کر رکھا ہے ڈال دیں جیل میں ،چیئرمین پی ٹی آئی نہیں جھکے گا ،اس کو تو وقت مل گیا ہے قرآن پڑھ رہا ہے ،عدالت نے یقین دہانی کرائی ہے پیر کو ملاقات کا موقع ملے گا ،اب ہم نے نام سے اجازت کی درخواست کی ہے .اگر پیر کو اجازت نہ دی گئی تو پیر کو اٹک جیل کے باہر جا کر بیٹھ جائیں گے ،چیئرمین پی ٹی آئی ان کے مہمان ہیں ،وہ جیل میں ان پر بوجھ بنتے جائیں گے .سب کو معلوم ہے کیا ہو رہا ہے ،شوکت خانم اور نمل کے دفتر میں آ کر ہراساں کرتے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی کو باہر بھیجنے سے متعلق مختلف ذرائع سے رابطے کیے گئے ہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بھلا اپنا ملک کوئی چھوڑ کر جاتا ہے

    واضح رہے کہ پانچ اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے بعد انہیں لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا، عمران خان اٹک جیل میں ہی قید ہیں، انہیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لئے بشریٰ بی بی نے پنجاب کے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست دائر کی گئی تھی،بشریٰ نے وزارت داخلہ پنجاب کو لکھے گئے خط میں عمران خان کو زہر دیئے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر پر دو قاتلانہ حملے ہوئے لیکن ملزمان گرفتار نہ ہوئے، خدشہ ہے کہ انکو جیل میں زہر نہ دے دیا جائے، اسلئے انہیں گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • 9 مئی واقعات،عمران خان سے تفتیش کے لیے جے آئی ٹی اٹک جیل پہنچ گئی

    9 مئی واقعات،عمران خان سے تفتیش کے لیے جے آئی ٹی اٹک جیل پہنچ گئی

    چیرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کا معاملہ ،جوائنٹ انوسٹی گیشن کی ٹیم اٹک پہنچ گئی

    5 رکنی ٹیم میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشنز لاہور شامل ہیں ،انسداد دہشتگردی کی عدالت سے گزشتہ روز اجازت ملنے کے بعد جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم آج چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کا بیان قلمبند کرے گی ،تھانہ سرور روڈ میں درج مقدمات سمیت دیگر مقدمات کے حوالے سے بھی سوال جواب کیے جائیں گئے

    چئیرمین پی ٹی آئی اس سے قبل جے آئی ٹی کے سامنے لاہور میں پیش ہوچکے ہیں ،چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں پر بھی جے آئی ٹی نے انکے خلاف مقدمہ درج کروایا ہوا ہے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    گزشتہ روزتفتیشی افسران کو چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کو چھ مقدمات میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت مل گئی تھی،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے تفتیشی افسران کی درخواست منظور کر لی ،چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کو شادمان تھانہ جلانے ، کلمہ چوک کینٹینر جلانے ، مسلم لیگ ن ہاوس حملہ کیس میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت دے دی گئی،چئیرمین تحریک انصاف کوعسکری ٹاور حملہ کیس اور پولیس تشدد کیس میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت مل گئی، پولیس کو مقدمہ1271/23 گلبرگ ، 366/23 ماڈل ٹاؤن ، 768/23 شادمان ، 1078/23 نصیر آباد ، 1280/23 گلبرگ اور 367/23 تھانہ ماڈل ٹاون میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت مل گئی

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • حسان نیازی کیس، سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

    حسان نیازی کیس، سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کے بھانجے حسان نیازی کی بازیابی کے لیے درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی ،عدالت نے مزید دلائل کیلئے فریقین کے وکلا کو طلب کرلیا،چوہدری اشتیاق اے خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے درخواست گزار کی بیٹے حسان نیازی سے ملاقات کرانے کی ہدایت کی، عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ سے استفسار کیا کہ کیا بنا ملاقات کے حوالے سے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کے روبرو اسی نوعیت کے کیسز زیر سماعت ہیں،بہتر حل یہی ہے کہ یہ سپریم کورٹ میں جائیں،اشتیاق اے خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی گئی، سپریم کورٹ میں یقین دہانی کے باوجود ملاقات نہیں کرائی گئی،

    جسٹس سلطان تنویر احمد نے استفسار کیا کہ کیا وہ یقین دہانی صرف 102 گرفتار افراد سے متعلق تھی؟ اشتیاق اے خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر ان تمام افراد کیلئے تھا جو آرمی کی کسٹڈی میں ہوں، عدالت عالیہ آرمی کسٹڈی میں آفراد سے ملاقات کیلئے حکم جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہے، عدالت عظمٰی کو بتایا گیا کہ کوئی صحافی اور وکیل آرمی کسٹڈی میں نہیں، عمران ریاض خان، حسان نیازی ودیگر آرمی کسٹڈی میں موجود ہیں،آرمی ایکٹ آئین میں دئیے گئے حقوق نہیں چھین سکتا،بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی اہلخانہ سے ملاقات کرائی گئی،ایک صحافی اور ایک وکیل سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جاسکتی،

    عدالت نے کہا کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ صاحب آپ کیا کہتے ہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کا معاملہ زیرِ سماعت ہے، سپریم کورٹ میں ملاقات کا معاملہ سامنے آیا، سپریم کورٹ نے ابھی تک اس کیس میں کوئی فیصلہ نہیں دیا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کوئی صورت ہے کہ آرمی کسٹڈی میں ملاقات کرائی جاسکتی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ نے کہاکہ سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل نے انڈر ٹیکنگ دی عدالت کا فیصلہ نہیں آیا، سپریم کورٹ تو انڈرٹیکنگ سے زیادہ سہولیات دینے کا حکم بھی دے سکتی ہے، کسی قانون میں آرمی کسٹڈی میں آفراد سے ملاقات کی گنجائش نہیں،عدالت عالیہ کی طرف سے کوئی بھی مزید پیچیدگی پیدا کریگا،

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اٹارنی جنرل ملاقات کرا سکتے ہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ نے کہا کہ جی اٹارنی جنرل ملاقات کرا سکتے ہیں، عدالت نے کہا کہ کیا اٹارنی جنرل جو سپریم کورٹ میں انڈرٹیکنگ دیں ان سے انحراف ہوسکتا ہے، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ انڈرٹیکنگ میں ملاقات کیلئے ایس او پیز بنانے کا کہا گیا لیکن پتہ نہیں ابھی ایس او پیز بنے ہیں یا نہیں، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ سر حکومتی رپورٹ میں حسان نیازی کی گرفتاری، راہداری ریمانڈ، عدالت میں پیش کرنے کا نہیں بتایا گیا،حسان نیازی کو آرمی کے حوالے کرنے کیلئے قانون سے انحراف کیا گیا، عدالت نے کہا کہ آپ کو بھی سنیں گے آپ مزید تیاری کریں،

    جسٹس سلطان تنویر احمد نے حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی کی درخواست پر سماعت کی ،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ حسان نیازی کا کیس ملٹری کورٹ میں چلایا جائیگا، پولیس نے حسان نیازی کو آرمی کے حوالے کر دیا ہے، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ حسان نیازی کی والدین سے ملاقات کرانے کا حکم دیا جائے،حفیظ اللہ نیازی نے بیٹے کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں حبس بے جا کی درخواست دائر کی درخواست گزار نے حسان نیازی کو بازیاب کرکے پیش کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    حسان نیازی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعہ کے بعد حسان نیازی روپوش ہو گئے تھے، انہیں دوست کے گھر سے پولیس نے گرفتار کیا تھا،حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی، تحریک انصاف کے خلاف ہیں،انہوں نے ٹویٹر پر تصدیق کی کہ حسان نیازی کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے شرپسندوں نے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، لاہور میں جناح ہاؤس سمیت دیگر عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہیں ن لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگائی گئی تھی، شرپسند عناصر کے‌ خلاف کاروائیاں جاری ہیں، کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کئی روپوش ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب کارکنان اظہار لاتعلقی کر رہے ہیں، عمران خان خود توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد اٹک جیل میں ہیں،

    حسان خان نیازی کو 18 اگست کو عدالت پیش کرنے کا حکم

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • ریسکیو ٹیم نے لفٹ کھول لی، لطیف کھوسہ و دیگر باہر آ گئے

    ریسکیو ٹیم نے لفٹ کھول لی، لطیف کھوسہ و دیگر باہر آ گئے

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی لفٹ میں پھنس گئے

    لطیف کھوسہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں پیش ہوئے تھے، اب لطیف کھوسہ لفٹ میں پھنس گئے، دیگر وکلاء بھی اندر بند ہو گئے تھے، معاون وکیل سوزین جہاں نے لفٹ کے باہر احتجاج کیا اور کہا کہ 15 منٹ سے کھوسہ صاحب لفٹ کے اندر بند ہیں،خان صاحب کو تو اندر بند رکھا ہے اب وکلاء کو بھی بند کردیا ہے، 20 لوگ لطیف کھوسہ کے ساتھ ہیں، اندر پنکھا بھی موجود نہیں،

    لطیف کھوسہ چالیس منٹ لفٹ کے اندر موجود رہے، وکلا نے لفٹ کھولنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، ہائیکورٹ عملے کی جانب سے لطیف کھوسہ کو لفٹ سے نکالا نہ جا سکا ،لطیف کھوسہ کی زائد عمری کے باعث وکلاء میں اضطراب کی کیفیت تھی، وکلا کا کہنا ہے کہ لطیف کھوسہ کی عمر 70 سال سے زائد ہے، لفٹ میں پنکھا بھی موجود نہیں، 

    ریسکیو ٹیم اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچی اور اسکے بعد ریسکیو عملے نے کاروائی کرتے ہوئے لفٹ کھول لی ،لطیف کھوسہ اور دیگر لوگ لفٹ سے باہر آ گئے، لطیف کھوسہ تقریبا 45 منٹ تک دیگر وکلا کے ہمراہ لفٹ میں پھنسے رہے ،لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا کو 45 منٹ بعد لفٹ سے نکال لیا گیا ،نعیم حیدر پنجوتھا، علی اعجاز بٹر سمیت پندرہ افراد کو بحفاظت باہر نکالا گیا ،تمام افراد چیف جسٹس کی کورٹ سے نکل کر تھرڈ فلور پر لفٹ میں سوار ہوئے،لفٹ گراؤنڈ فلور پر آنے کے بجائے سیکنڈ فلور پر پھنس گئی تھی ،بارہ بجے لفٹ میں سوار ہونے والے دس سے زائد وکلا کو 12:45 پر لفٹ سے نکالا گیا

    صحافی ثاقب بشیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سردار لطیف کھوسہ سمیت دس سے زائد وکلا اسلام آباد ہائیکورٹ کی لفٹ پچھلے آدھے گھنٹے سے پھنس ہوئے ہائی کورٹ انتظامیہ کے پاس ان کا نکالنے کا کوئی انتظام نہیں، بعد ازاں ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ تمام وکلا کو لفٹ سے بحفاظت نکال لیا گیا

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہائی کورٹ کی لفٹ میں پھس گئے ہیں،سانس بند ہو رہا ہے،ابھی تک کوئی بندہ نہیں آرہا اوپر سے سے لائٹ بھی بند کر دی گئی ہے ,بار بار کال کر رہے انتظامیہ کو لیکن آدھے گھنٹے سے ہماری طرف کو ئی نہیں آرہا.سانس بند ہو رہا.

    صحافی اعزاز سید کہتے ہیں کہ لطیف کھوسہ کو اپنے کم و بیش 19 ساتھیوں سمیت لفٹ سے نکال لیا گیا ۔ لفٹ میں استعداد سے زائد افراد سوار تھے ۔

    سپریم کورٹ بار کا لفٹ خرابی کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں پیش آنے والے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، عابد زبیری کا کہنا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ سردار لطیف خان کھوسہ سمیت دیگر وکلاء جو لفٹ میں پھنسے تھے بغیر کسی نقصان کے بچ گئے، چیف جسٹس اسلام باد ہائی کورٹ سے لفٹ خرابی کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں،

    عمران خان کی قانونی ٹیم کے اراکین کو لفٹ میں محصور کرنے پرپی ٹی آئی کا تحقیقات کا مطالبہ
    پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی واقعہ پر اہم اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سینئر قانون دان لطیف کھوسہ سمیت چیئرمین عمران خان کی قانونی ٹیم کو حبسِ بے جا میں رکھنے کی شدید مذمت کرتے ہیں، پی ٹی آئی نے لطیف کھوسہ اور چیئرمین عمران خان کی قانونی ٹیم کے اراکین کو لفٹ میں محصور کرنے اور حبسِ بے جا میں رکھنے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ صدرِمملکت اور چیف جسٹس آف پاکستان معاملے کی فوری تحقیقات کا اہتمام کریں اور ذمہ داروں کا کڑا محاسبہ کریں،پاکستان تحریک انصاف آئین و قانون پر سختی سے کاربند، اشتعال و انتشار کی بجائے خود کو جمہوری معیار پر سیاسی جدوجہد تک محدود رکھے ہوئے ہے،تحریک انصاف کی آئین، جمہوریت اور ریاست سے ٹھوس وابستگی کو کمزوری شمار کرتے ہوئے اسے بدترین ریاستی شرانگیزیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے،پہلے چیئرمین تحریک انصاف کو تاریخ کے بدترین جعلی ٹرائل کے ذریعے سزا سنائی گئی اور تمام بنیادی حقوق سے محروم کرکے جیل میں قید کیا گیا، اب انہیں نشانہ انتقام بنانے اور تحریک انصاف کو سیاسی عمل سے باہر کرنے کیلئے ان کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ بار بار التواء کا شکار کیا جارہا ہے،آج سینئر قانون دان لطیف کھوسہ سمیت چیئرمین کی قانونی ٹیم کے اراکین کو ہائیکورٹ کی لفٹ میں پون گھنٹے سے زائد تک محصور رکھ کر ہراساں کرنے کی بھی کوشش کی گئی، صدرِمملکت بطور سربراہِ ریاست اور چیف جسٹس آف پاکستان عدلیہ کے سربراہ کے طور پر ملک میں جاری بدترین ریاستی شرانگیزیوں کا نوٹس لیں،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    lift

  • جیل میں عمران خان کی صحت خراب،بشریٰ بی بی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    جیل میں عمران خان کی صحت خراب،بشریٰ بی بی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جیل میں ہیں، توشہ خانہ کیس میں انہیں سزا ہوئی، جیل میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی تین الگ الگ ملاقاتیں ہو چکی ہیں،کل سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی تو سپریم کورٹ نے عمران خان کو دی جانے والی سہولیات بارے رپورٹ طلب کی آج عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے سپریم کورٹ میں بیان حلفی جمع کروایا ہے جس میں انہوں نے عدالت سے عمران خان کی خراب صحت کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

    بشریٰ بی بی نے اپنے شوہر عمران خان سے آخری ملاقات 22 اگست کو اٹک جیل میں کی تھی، بشریٰ کی جانب سے بیان حلفی حامد خان ایڈوکیٹ نے جمع کروایا جس مین کہا گیا ہے جیل میں قید عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے، عمران خان کا وزن بھی کم ہو گیا ہے، بیان حلفی میں بشریٰ بی بی نے کہا کہ مشکلات کے بعد 22 اگست کو اپنے شوہر سے ملاقات کی اجازت ملی،جیل میں عمران خان کے بازوؤں کے پٹھے بہت کمزور ہو چکے ہیں 70 سال کی عمر میں یہ خطرناک ہے اس سے عمران خان کی جان کو خطرہ لاحق ہے

    بشریٰ بی بی نے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے بیان حلفی میں مزید کہا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لئے کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہوں، سپریم کورٹ عمران خان کی خراب حالت کا نوٹس لے،

    واضح رہے کہ پانچ اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے بعد انہیں لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا، عمران خان اٹک جیل میں ہی قید ہیں، انہیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لئے بشریٰ بی بی نے پنجاب کے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست دائر کی گئی تھی،بشریٰ نے وزارت داخلہ پنجاب کو لکھے گئے خط میں عمران خان کو زہر دیئے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر پر دو قاتلانہ حملے ہوئے لیکن ملزمان گرفتار نہ ہوئے، خدشہ ہے کہ انکو جیل میں زہر نہ دے دیا جائے، اسلئے انہیں گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے، جیل قوانین کے مطابق 48 گھنٹوں میں تمام سہولیات ملنی تھیں جو ابھی تک نہیں دی گئیں، بشریٰ بی بی نے عمران خان کو پرائیویٹ ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کی بھی استدعا کی اور کہا کہ شوہر کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات نہ دینے پر قانونی انکوائری کا مطالبہ کرتی ہوں میرے شوہر کو بی کلاس، اڈیالہ جیل منتقلی، پرائیویٹ ڈاکٹر اور گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،