Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • چیئرمین پی ٹی آئی کی 3 مقدمات میں ضمانت خارج

    چیئرمین پی ٹی آئی کی 3 مقدمات میں ضمانت خارج

    اسلام آباد: انسداد دہشتگردی عدالت نے عدم حاضری کے باعث چیئرمین پی ٹی آئی کی 3 مقدمات میں ضمانت خارج کردی۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 3 مقدمات سے متعلق محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی 3 مقدمات میں ضمانت خارج کردی اے ٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے محفوظ فیصلہ سنایا اور چیئرمین پی ٹی آئی کی عدم حاضری کے باعث ضمانتیں خارج کیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف دہشتگردی ایکٹ کے تحت تین مقدمات میں ضمانت میں توسیع کی درخواست پر سماعت ہوئی، اے ٹی سی جج ابوالحسنات کی عدالت میں وکیل پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی پیش ہوئے،وکیل نیاز اللہ نیازی نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر راستے میں ہیں،وکیل سلمان صفدر کے آنے تک اے ٹی سی نے سماعت میں وقفہ کردیا۔

    وقفے کے بعد سماعت پروکیل سلمان صفدر نے چیئرمین تحریک انصاف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی،وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ چیئرمین تحریک انصاف اٹک جیل میں اس وقت قید ہیں،عدالت ہدایت دے تو ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر چیئرمین پی ٹی آئی موجود ہیں،اگر عدالت چاہے تو چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی دیگر مقدمات میں بھی ضمانت منظور کی گئی۔پراسیکیوٹر کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت میں توسیع کی مخالفت کردی گئی،پراسیکیوٹر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بے انتہا ریلیف دیاگیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کی جائے ،وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ بہت ہی بے تکی بات کی ہے پراسیکیوٹر نے، چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کرنے پر دلائل دینا چاہتا ہوں،پراسیکیوٹر ثبوت دکھا دیں الزامات ثابت کردیں،چیئرمین پی ٹی آئی کی غیر حاضری جان بوجھ کر نہیں ہے،پراسیکیوشن نے تفتیش ہی مکمل نہیں کی، کس بنیاد پر ضمانت خارج کی جائے؟پراسیکیوٹر نے کہاکہ ہم کرکٹ گراؤنڈ میں نہیں کھڑے، کرمنل کیس میں کھڑے ہیں،تفتیش بعد میں آئے، حاضری چیئرمین پی ٹی آئی کی پہلے بنتی ہے۔

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پر قتل کا مقدمہ دائر کیا گیا، سپریم کورٹ نے ضمانت خارج نہیں کی، سپریم کورٹ نے ضمانت میں توسیع کی تو اے ٹی سی میں کیوں نہیں ہو سکتی؟اے ٹی سی نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا بعد ازاں جج اے ٹی سی نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کی 3مقدمات میں درخواست ضمانت خارج کردی،عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی عدم حاضری پر درخواست ضمانت خارج کی۔

    قبل ازیں انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے نو مئی واقعات میں چیئرمین پی ٹی آئی کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانتیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کردی تھیں۔

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • عمران کی جیل میں دوائی کا بندوبست بھی کریں ،خواجہ عمران نذیر

    عمران کی جیل میں دوائی کا بندوبست بھی کریں ،خواجہ عمران نذیر

    نصیر آباد میں مسلم لیگ ن لاہور کے زیر اہتمام یوم آزادی کی تقریب منعقد کی گئی،

    یوم آزادی کی تقریب میں پرچم کشائی کی گئی اور کیک کاٹا گیا،صدرمسلم لیگ ن لاہور ملک سیف کھوکھر، جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نزیر نے پرچم کشائی کی ،اس موقع پر سیف الملوک کھوکھر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ترقی و خوشحالی راہ پر نواز شریف نے گامزن کیا ترقی کرتے پاکستان کو عمران خان بہروپیے نے کھنڈرات میں تبدیل کیا، موٹرویز، ایئرپورٹس، بجلی کے کارخانے اور سماجی شعبے کی ترقی کا سہرا نواز شریف کے سر ہے،

    جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سولہ میں بہت سے چیلنجز کا سامنا رہا ، شہباز شریف کی قائدانہ صلاحیت سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا ، خدا کی قدرت ہے جوکہتا تھا جیل میں اے سی بند کرونگا اب خود اے سی مانگ رہاہے، پنجاب حکومت سے گزارش ہے عمران کی جیل میں دوائی کا بندوبست بھی کریں ،قائدنواز شریف آئیں گے اور انتخابی مہم کی قیادت کریں گے ، عمران خان اور ثاقب نثار نے انتقامی کارروائیوں کی حدیں پار کیں، ثاقب اور عمران خان مسلم لیگ ن کو توڑنے میں ناکام رہے،

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    یوم آزادی کی مناسبت سے ریلیوں اور کیمپس کا انعقاد

  • قومی پرچم کو نذر آتش کرکےالزام پارٹی پرعائد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، پی ٹی آئی کا الزام

    قومی پرچم کو نذر آتش کرکےالزام پارٹی پرعائد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، پی ٹی آئی کا الزام

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ قومی پرچم کو نذر آتش کرکےالزام پارٹی پرعائد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی: ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق ہمارے قائد عمران خان نے ہم سے کہا ہے کہ یوم آزادی بھرپور جوش و خروش سے منائیں دنیا کو یہ پیغام دیں کہ پاکستانی قوم اور پاکستان تحریک انصاف حب الوطنی کا نام ہے اور ہم امن، انصاف، خوشحالی اور حقیقی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے 14 اگست کو بھرپور طریقے سے منانا ہے،آزادی کا دن ہے آزاد قوم کی طرح منانا ہے،جب تک ایک قوم آزاد نہیں ہوتی، دنیا کی تاریخ میں اس کا کوئی مقام نہیں ہوتا، غلاموں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، غلامی سے بہتر ہے موت-

    تحریک انصاف نے اپنے پیغام کے ساتھ ایک تصویر شئیر کی جس پر ایک سابق امریکی صدر براک اوباما کی اہلیہ مشل اوباما کا ایک جملہ درج ہے کہ جب وہ نیچے جائیں گے، تو ہم اوپرکی سمت میں چلے جائیں گے ساتھ ہی پی ٹی آئی نے سابق امریکی خاتون اول کے جملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی حالیہ سیاست پرنافذ ہوتا کہ حکومتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کرادرکشی کا سہارا لے کر اہل خانہ کی توہین کررہی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما منزہ حسن نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی

    پی ٹی آئی کے مطابق انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع بنوں نے عمران خان کی ہدایت پر 14 اگست جشن آزادی جوش و جذبے کیساتھ منانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں، پاکستان ہمارا ملک ہے اور اسکی آزادی کا جشن ہم بھرپور طریقے سے منائیں گے-

    پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ یہ ایک اور منصوبہ بندی کررہے ہیں کہ قومی پرچم کو نذر آتش کرکے اس کا الزام پی ٹی آئی پرعائد کردیا جائے، اس کے ساتھ لکھا کہ ہمارا عزم ہے کہ یوم آزادی کو جوش و جذبے کے ساتھ منائیں گے۔

    واضح رہے کہ نو مئی کو چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد پارٹی کارکنان نے ملک میں بھرعوامی و سرکاری املاک کے ساتھ ہی حساس تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا تھا-

    وزیراعظم شہباز شریف کے لیےالوداعی گارڈ آف آنر کی تقریب ملتوی

  • عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا حکم

    عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اٹک جیل میں سہولیات،ملاقات اور اڈیالہ جیل منتقلی کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا

    عدالت نےچیئرمین پی ٹی آئی کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا ایک بار پھر حکم دے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جائے نماز اور قرآن پاک کا انگریزی میں ترجمہ بھی فراہم کیا جائے، وکلا، خاندان کے افراد اور دوستوں کو چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں،آئندہ سماعت پر فریقین گھر کے کھانے کی اجازت سے متعلق عدالت کی معاونت کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر عامر فاروق نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے مطابق اڈیالہ جیل میں رش اور سکیورٹی وجوہات پراٹک جیل میں رکھا گیا ہے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اڈیالہ جیل میں رش اور سکیورٹی سے متعلق آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کرائیں، وکیل کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے جانے پر ملنے کی اجازت نہ دی گئی، ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق جیل میں ملاقات کے اوقات 8 سے 2 بجے تک ہیں، 3 بجے تک ملنے دیا جاسکتا ہے،ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق مقررہ اوقات کے بعد ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی، عدالت کو بتایا گیا کہ قیدی سے روزانہ کی بنیاد پر ملاقات میں قانونی طور پر کوئی قدغن نہیں، تاہم روزانہ کی بنیاد پر ملاقات سپریٹنڈٹ جیل کی اجازت سے مشروط ہوتی ہے،بتایا گیا کہ بہتر ہوگا کہ وکلا ہفتے میں ایک یا دو بار ملاقات کیلئے اٹک جیل جائیں تاکہ بندوبست کرنے میں آسانی ہو، وکلاء کے مطابق اٹک جیل میں بی کلاس سہولیات موجود ہی نہیں ہیں، وکلاء نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کا مقصد بی کلاس سہولیات مہیا نہ کرنا ہے، وکلاء کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو چھوٹے کمرے میں قید کر رکھا ہے، گھر کے کھانے کی اجازت بھی نہیں، ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو کھانا جیل مینو کے مطابق جانچ پڑتال کے بعد دیا جاتا ہے

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل،توشہ خانہ کیس کا مکمل ریکارڈ طلب

    عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل،توشہ خانہ کیس کا مکمل ریکارڈ طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف مرکزی اپیل کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا،عدالت نے فریقین کو سزا کیخلاف اپیل کو جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے پر بھی نوٹس جاری کردیئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے حکم نامہ جاری کردیا

    تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل ٹرائل کورٹ کے 5 اگست کے فیصلے کیخلاف ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف الیکشن کمیشن کی شکایت پر ٹرائل چلایا گیا، ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی،فریقین کو نوٹس جاری کیے جائیں، کیس کا ریکارڈ بھی منگوایا جائے، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست جلد مقرر کرنے کی ہدایت کردی

    چیئرمین پی ٹی آئی نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی درخواست استدعا کر رکھی ہے

    واضح رہے کہ عمران خان کو قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • عمران خان کچھ نہیں، 11 سال پی ٹی آئی کیلئے بہت کچھ کیا. علیم خان

    عمران خان کچھ نہیں، 11 سال پی ٹی آئی کیلئے بہت کچھ کیا. علیم خان

    استحکم پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت ہوتے ہوئے کوئی خاص الیکشن نہیں جیتا تھا۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے علیم خان نے بتایا کہ کہ 9 مئی کو یہ معاملہ ہوگیا لیکن اس سے پہلے بھی لوگ پی ٹی آئی سے خوش نہیں تھے۔ جب میں نے چیئرمین پی ٹی آئی کی ٹیم کا حصہ بننا چھوڑا تو وہ ہمارے ملک کے لیڈر تھے۔ اور ہم نے 10 سال پی ٹی آئی کے لیے بہت محنت کی۔ لہٰذا، کوئی بھی ہم پر پی ٹی آئی چھوڑنے کا الزام نہیں لگا سکتا ہے کہ انہوں نے اس وقت چھوڑا جب حالات مشکل تھے بلکہ اس وقت پی ٹی آئی اقتدار میں تھی۔

    ہم چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ اور ان کی بہنوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ تمام خواتین کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آنا ضروری ہے اور ان کے بارے میں یا ان کے خاندان کے افراد کے بارے میں غلط باتیں نہ کہیں۔ جب آپ عورت کی بات کرتے ہیں تو لوگ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی رہنما نے مریم نواز کے بارے میں جلسے اور عدالتی کیس میں کیا کہا اور کیا نہیں کہا۔

    میں اس شخص کے بارے میں نہیں جانتا جو پہلے پی ٹی آئی کا لیڈر ہوا کرتا تھا لیکن اس کی اہلیہ نے لوگوں کو ٹکٹ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ عثمان بزدار نے کچھ برے کام کیے ہیں ان کا جواب پولیس کو لینا چاہیے۔ وہ اپنی ملازمت میں زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرا۔ انہیں اس سے پوچھنا چاہئے کہ اس کے پاس پیسہ کیسے آیا اور کس نے اسے دیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    علیم خان نے مزید کہا پی ٹی آئی کو اپنا پیسہ اس لیے نہیں دیا کہ مجھے کسی نے کہا، بلکہ اس لیے دیا کہ میں واقعی پاکستان کو بہتر بنانے میں مدد کرنا چاہتا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ پاکستان ایک امیر اور ترقی یافتہ ملک ہو، جب دوسرے ممالک نے دیکھا کہ پاکستان اچھا کام کر رہا ہے تو وہ پاکستان کو اس سے بھی بہتر کرنے میں مدد کرنا چاہتے تھے اور میں نے پی ٹی آئی کے لیے بہت کوششیں کی ہیں جو میں نے اس شخص کے لیے نہیں کی جو 2018 سے پہلے پاکستان میں پی ٹی آئی کا لیڈر تھا۔ 2018 کے بعد پی ٹی آئی کے لیڈر بدل گئے اور اب وہ بہت مختلف ہیں۔

  • عدلیہ،فوج،حکومت پر کب دباؤ ڈالنا؟ بشریٰ بی بی کی ہاتھ سے لکھی ڈائری پکڑی گئی

    عدلیہ،فوج،حکومت پر کب دباؤ ڈالنا؟ بشریٰ بی بی کی ہاتھ سے لکھی ڈائری پکڑی گئی

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ڈائرئ منظر عام پر آ گئی، ڈائری سے اہم انکشافات ہوئے ہیں

    عدلیہ، فوج اور حکومت پر کون اور کب دباو ڈالے گا؟ بشریٰ بی بی کی ڈائری نے تہلکہ مچا دیا ،عمران خان اپنی اہلیہ بشری بی بی کے مکمل طور پر زیر تسلط۔ تمام فیصلے اور اقدامات بشری بی بی کے حکم کیمطابق کرتے رہے۔عدلیہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو کب پریشر میں لانا ہے ڈائری میں درج ہے، نیوٹرلز اور ماموں سے نبٹنے کے طریقے بھی درج ہیں

    نجی ٹی وی سماء نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی کیا اور کیسے ہو گی؟ بشریٰ بی بی فیصلے کرتے رہیں، بشریٰ بی بی کی ڈائری کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آئے ہیں، بشریٰ بی بی نے ڈائری اپنے ہاتھ سے لکھی ہے، بشریٰ بی بی کے تخریبی ذہن نے قومی اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،

    سینئر تجزیہ کار جاوید چوھدری کا کہنا ہے کہ ڈائرئ میں نے خود دیکھی ہے، ڈائرئ سبز رنگ کی ہے، کسی دوسرے ملک نے یہ ڈائری گفٹ کی تھی جو بشریٰ کے زیر استعمال تھی، یہ ڈائرئ عمران خان کے گھر سے ملی تھی جب پانچ اگست کو پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے گئی تھی، اسوقت بشریٰ نے ڈائری پھاڑ دی تھی تاہم کچھ صفحات بچ گئے تھے، آدھے صفحات پھٹے ہوئے ہیں، ایک انہوں نے ماموں کا ذکر بار بار کیا، شاید یہ جنرل باجوہ کو کہہ رہے ہیں، ایک صفحہ میں نیوٹرل کا ذکر ہے کہ کس طرح ان سے نمٹنا ہے جلسوں کو ہینڈل کرنے کے لئے کہا گیا کہ گانے صرف حب الوطنی کے ہونے چاہئے

    ڈائرئ کے مطابق بشریٰ بی بی نے دعائیہ الفاظ کے ذریعے عمران خان کی ذہن سازی کی او اس مقصد کیلئے دعا بھی کی،ڈائری سے سامنے آیا کہ بشریٰ بی بی چیئرمین پی ٹی آئی کو ہدایت دیتی رہیں کہ کن الفاظ میں اور کیا دعا کرنی ہے فضا بنا کرعدلیہ پراتنا دباؤ ڈالا جائے کہ منفی فیصلہ نہ آئے۔

    بشریٰ بی بی کے گھر زمان پارک سے ملنے والی ڈائرئ میں لکھی گئی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ بشریٰ بی بی چیئرمین پی ٹی آئی کو سیاسی ڈکٹیشن دیتی رہیں،ڈائری کے مطابق بشریٰ بی بی پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی سے متعلق فیصلے کرتی رہیں اورعمران خان تمام فیصلے و اقدامات انہی کے حکم پرکرتے رہے سابق وزیراعظم مکمل طور پر بشریٰ بی بی کے زیرتسلط تھے وہ انہیں کنٹرول کرتی رہیں

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • عمران خان کو اٹک جیل منتقلی کا خط عدالت میں پیش

    عمران خان کو اٹک جیل منتقلی کا خط عدالت میں پیش

    اٹک جیل میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کرانے کے کیس کی سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل استفسار کیا اور کہا کہ کیا ہو گیا شیر افضل صاحب؟ وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ ہو گیا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا، آپ کے حکم کے باوجود ہمیں نہیں ملوایا گیا،ہم پر ایف آئی آر درج کر دی گئی،کل میں ضمانت پر تھا، پھر بھی مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر ڈیڑھ دو سو کیسز ہیں، ان کے وکیل کو صرف اس کیس میں تو نہیں ملنا جس میں ان کو سزا ہوئی، ان پر جو کیسز ہیں، ان سے متعلقہ وکیل ان کو ملنا چاہے گا،تاکہ وہ اس کیس سے متعلق عمران خان سے ہدایات لے سکے،

    عمران خان کو اڈیالہ منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب راؤ شوکت عدالت کے سامنے پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت عدالت کے سامنے پیش ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار وکلا کا کہنا تھا ٹرائل کورٹ نے اڈیالہ جیل بھیجا آپ نے اٹک بھیج دیا ، عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقلی کا فیصلہ تھا ؟ پنجاب حکومت کی جانب سے اٹک جیل منتقلی کا خط عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ ہمیں بھی لیٹر کی کاپی فراہم کی جائے ،

    وکیل پنجاب حکومت کی جانب سے خط پڑھا گیا ،اٹک جیل منتقلی سے متعلق خط میں وجوہات کا ذکر موجود تھا، عدالت نے استفسار کیا کہ ایک چیز بتائیں کیا وکلا ملزمان سے نہیں مل سکتے ؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ سات اگست کو ایک وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سے ملے ،وکیل صاحب نے پائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے وکالت نامے دستخط کرائے ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا صرف وکالت نامے دستخط کرانے کے لیے وکیل اپنے کلائنٹ سے جیل میں مل سکتا ہے ؟ اس طرح اجازت نا دینا تو عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت میں آ جائے گا ، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ سات اگست کو ہم نے ملنے کی اجازت دی آٹھ کو اور نو اگست کو یہ دیر سے پہنچے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ صبح آٹھ بجے سے دو اور یہ تین بجے تک بھی ہو سکتی ہے کیا یہی ہے ؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ جی بالکل اسی طرح ہی ہے ،اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ صبح 8 سے 2 بجے تک کوئی ملاقات کیلئے آئے تو کوئی قباحت تو نہیں؟ وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ ہائیکورٹ ہے اور اس میں کی جانے والی غلط بیانی کے نتائج ہونگے، وکیل پنجاب حکومت کہہ رہے ہیں کہ میں گزشتہ روز پونے پانچ بجے اٹک جیل پہنچا،گزشتہ روز ڈیڑھ بجے اٹک جیل کے باہر میڈیا کو انٹرویو دیا، ڈیڑھ بجے سپریم کورٹ میں کیس چل رہا تھا اور ہم دونوں وہاں موجود تھے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سابق وزیراعظم اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، ساتھ ہی وہ سزا یافتہ بھی ہیں دونوں چیزوں کو برابری کی بنیاد پر لے کر چلنا ہے، وکیل شیر افضل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو کس کلاس میں رکھنا ہے، سات دن میں یہی فیصلہ نہیں ہو سکا، یہ کام ابتدائی طور پر ٹرائل کورٹ کے جج کا کام ہوتا ہے، ٹرائل جج، سپریٹنڈنٹ جیل اور ڈپٹی کمشنر نے کلاس کی سفارش کرنی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل نہ کرنے کی وجوہات مضحکہ خیر ہیں، جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں تو چیئرمین پی ٹی آئی کے آنے سے کیا فرق پڑ جائے گا؟ اڈیالہ جیل سیکیورٹی کے حوالے سے سب سے مستحکم جیل ہے،
    رولز کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل منتقل کیا ہی نہیں جا سکتا تھا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے اپنے ذاتی معالج سے معائنے کی بھی استدعا کی گئی ہے، نمائندہ پنجاب حکومت نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں معائنہ کے بعد ہی اپنے ذاتی معالج سے معائنے کی درخواست کی جا سکتی ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ نواز شریف سے انکے وکیل ڈاکٹر عدنان روزانہ ملتے تھے، عدالت نے کہا کہ کیا ایک اور ہائی پروفائل قیدی کو اپنے ڈاکٹر سے معائنے کی اجازت نہیں تھی؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہاکہ مجھے اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ آپ اڈیالہ جیل سے ریکارڈ منگوا لیں معلوم پڑ جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی کو انکا اپنا ڈاکٹر چیک کر لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ مجھے سمجھ نہیں آتی یہ اتنا تنگ کیوں کر رہے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ملاقات اور سہولیات سے متعلق میں آرڈر کروں گا، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اس طرح کی شرائط عائد نہ کریں میں نے کہا تھا کہ دو تین وکلاء ملاقات کیلئے جایا کریں زیادہ نہیں،دو چار لوگوں سے کیا فرق پڑتا ہے سو پچاس جائیں تو پھر الگ بات ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ نیب کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت خارج ہو گئی ہے،نیب اب چیئرمین ہی ٹی آئی کو اپنی حراست میں لے کر ریمانڈ لینا ہے،ہم گزشتہ روز بشری بی بی کے ساتھ گئے اُنکی ملاقات ہو گئی لیکن ہمیں ملنے نہیں دیا گیا،
    پولیس نے کہا کہ ایک دن میں ایک ہی ملاقات ہو سکتی ہے،واپسی پر ہمیں وکلاء کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی،عدالتوں سے ہم ریلیف اسی لئے لیتے ہیں کہ ہماری عزت بچی رہے، ہمیں اب پتہ چلا ہے کہ شاندانہ گلزار پر بھی تھری ایم پی او لگا دیا گیا ہے،عدالت اگر سختی نہیں کریگی تو یہ اسی طرح حقوق پامال کرتے رہیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی نے جائے نماز اور قرآن پاک مانگا تھا ہم وہ لے کر گئے، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ جیل میں اُنکے پاس جائے نماز اور قرآن پاک دونوں موجود ہیں، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ انگلش ورژن استعمال کرتے ہیں ہم نے وہ دینا تھا، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ ہم انگلش ورژن بھی فراہم کر دینگے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کوئی دوائیاں وغیرہ بھی استعمال کرتے ہیں؟
    کیا انہیں جیل میں ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے جیل میں پانچ ڈاکٹر موجود ہیں، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہفتے میں اگر دو تین بار ملنا ہو تو اس میں کیا مضائقہ ہے،ایسا نہیں ہوتا پرچے ہوں وکیلوں پر ،جو قید میں ہیں ان کے حقوق ہیں ان کا انکار تو نہیں کر سکتے

    نعیم حیدر ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں ڈپٹی سپریڈنٹ جیل کے دفتر میں ملا ہوں وہاں کوئی سیکورٹی کا مسئلہ نہیں،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ اس عدالت نے حفاظتی ضمانت مجھے دے رکھی ہے ان سے پوچھ لیں پھر بھی ہمیں گرفتار کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ میں نے 7 دن کی حفاظتی ضمانت دے رکھی ہے توہین عدالت کی درخواست دیکھ لوں گا،وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی کی طرف سے یہ خطرہ ہے کہ ان کو زہر دیا جا سکتا ہے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب یہ یاد رکھئے گا چیئرمین پی ٹی آئی کی آپ کی حراست میں ہیں ذمہ داری جیل سپریڈنٹ پر ہے۔
    عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب آرڈر جاری کریں گے

    واضح رہے کہ عمران خان کو قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • پی ٹی آئی کے 57 کارکنان کو رہا کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی کے 57 کارکنان کو رہا کرنے کا حکم

    نومئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد جلاؤ گھیراؤ، فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث شرپسندوں، تحریک انصاف کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا، گرفتاریاں‌ ہوئیں، نظر بندیاں ہوئیں، اب لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ نے تحریک انصاف کے 57 کارکنان کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے

    عدالت نے پی ٹی آئی کارکنان کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ سنایا اور کہا کہ کارکنان کی نظر بندی ختم کی جائے ،جس کے بعد ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے حکم پر احکامات جاری کردئیے ہیں، ڈی سی آفس کی جانب پی ٹی آئی کے 57 کارکنان کی رہائی کے لئے فہرست اڈیالہ جیل حکام کو بھجوا دی گئی ہے،جیل حکام کارکنان کو رہا کریںگے

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • بشریٰ بی بی کی عمران خان سے اٹک جیل میں ملاقات

    بشریٰ بی بی کی عمران خان سے اٹک جیل میں ملاقات

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی وکلاء کے ہمراہ اٹک جیل پہنچ گئیں

    بشری بی بی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد اٹک جیل پہنچیں جہاں انکو پولیس حکام نے آدھے گھنٹے تک روکے رکھا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، بشریٰ کے ہمراہ عمران خان کے وکلا کی ٹیم ہے،اٹک جیل انتظامیہ نے بشری بیگم کو سابق وزیراعم عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیدی بشری بیگم کچھ دیر بعد اٹک جیل کے اندر جائیں گی جیل انتظامیہ نے تحریک انصاف کے وکلاء کو عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دی ،عمران خان کے وکلاء بشیری بیگم کے ہمراہ اٹک جیل کے باہر موجود ہیں

    وکیل نعیم حیدر پنجوتھا نے جیل حکام کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی ہے

    عمران خان سے ملاقات کے بعد بشریٰ بی بی جیل سے باہر آئیں جس کے بعد عمران خان کے وکلا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بشری بی بی کی آدھا گھنٹہ ملاقات ہوئی، بشری بی بی نے بتایا ہے کہ خان صاحب بالکل خیریت سے ہیں لیکن سی کلاس میں ہی عمران خان کو رکھا ہوا ہے.لیگل ٹیم کو ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ملنے نہیں دیا گیا.اس معاملہ کو کل ہم ہائی کورٹ میں اٹھائیں گے

    دوسری جانب زمان پارک میں پولیس نے آپریشن کرتے ہوئے گھر کے باہر لگے سیکورٹی بیرئر ہٹا دیئے،لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے کاروائی کی اور کرین کی مدد سے بیریئر، کنکریٹ ہٹا دئئے، اور ٹرک میں رکھ کر لے گئے، زمان پارک جو عمران خان کے ہوتے ہوئے نو گو ایریا بنا ہوا تھا اسکو کلیئر کروا لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ پانچ اگست کو توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو عدالت نے سزا سنائی،جس کے بعد انہیں زمان پارک سے گرفتار کیا گیا، عدالت نے عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی عمران خان کو پانچ سال کے لئے نااہل کر دیا،

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو