Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • وکیل قتل کیس، عمران خان کو 24 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم

    وکیل قتل کیس، عمران خان کو 24 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے عمران خان کو وکیل قتل کیس میں 24 اگست تک گرفتار کرنے سے روک دیا

    کوئٹہ میں وکیل قتل کیس، چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے 24 اگست تک چیئرمین پی ٹی آئی کو وکیل قتل کیس میں گرفتاری سے روک دیا ،شکایت کنندہ کے وکیل امان اللہ کنرانی نے ججز پر اعتراض اٹھا دیا ،عدالت نے کہا کہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کوگرفتارنہ کرنے کا حکم برقرار رہے گا،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 24 اگست تک ملتوی کردی

    دوران سماعت مدعی مقدمہ کے وکیل امان اللہ کنرانی اور جسٹس مظاہر نقوی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ،دوران سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے وکیل امان اللہ کو بیٹھنے کی ہدایت کی ،جسٹس مظاہر نقوی کی ہدایت کے بعد وکیل امان اللہ کنرانی نے بینچ ممبران پر اعتراضات اٹھا دئیے ،جسٹس مظاہر علی اکبر نے استفسار کیا کہ کیا اپ نے ایف آئی آر پڑھی ہے ؟ وکیل امان اللہ کنرانی نے کہا کہ میں نے آپکا فیصلہ بھی پڑھا ہے ،غلام محمد ڈوگر کیس میں جسٹس مظاہر علی اکبر نے از خود نوٹس لینے کا لکھا جسٹس حسن اظہر رضوی کے خلاف بھی سندھ ہائیکورٹ میں کیس زیر التواء ہے ،

    جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں ایسے بات کرنے والے؟ امان اللہ کنرانی نے کہا کہ جج بنیں گے تو ہم حاضر ہیں، ججز پارٹی بنیں گے تو پھر ہم کیا کریں گے ،جسٹس مظاہر علی اکبرنقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو آج یہ ذمہ داری دی گئی ہے ؟ کیا وکیل کا یہ رویہ ہوتا ہے، جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کہا کہ
    آپ کے جو اعتراضات ہیں وہ تحریری طور پر لکھ کر دیں، ہم کیس ملتوی کررہے ہیں،

    جسٹس مظاہر علی اکبرنے کہا کہ ہم بے جان نہیں اپنی بات کا جواب نہ دیں،امان اللہ کنرانی نے کہا کہ ہم بھی غلام نہیں، ججز تنخواہ لیتے ہیں،اپ ڈنڈا ماریں گے تو پھر ہم کیا ہم کھڑے رہیں

    امان اللہ کنرانی بولے "اگر آپ پارٹی بنیں گے تو ہم بات کریں گے” جس پر جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "آپ کو یہاں یہ سب کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے؟ ہم کمزور نہیں ہیں آپکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ امان اللہ کنرانی بولے ” جج صاحب آپ شاوٹ نا کریں میں کوئی غلام نہیں ہوں”جسٹس مظاہر نقوی نے کہا "ہم بھی غلام نہیں ہیں”

    جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ جب تک عدالت کی عزت نہیں کریں گے ہم آپکو نہیں سنیں گے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اپنے الزامات واپس لیں، ہم نے 35 سال عزت سے گزارے ہیں، آپ نے الزامات لگائے اب بتائیں میرے اوپر کوئی ایف آئی آر ہے، جسٹس یحیی آفریدی نے وکیل امان اللہ کنزانی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بینچ سے معافی مانگیں ،وکیل امان اللہ کنزانی نے کہا کہ میں معافی مانگتا ہوں ،جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہمیں آپکی معافی قبول کرتا ہوں ،جسٹس یحیی آفریدی نے جسٹس مظاہر نقوی سے استفسار کیا کہ آپکی کیا رائے ہے ؟ جسٹس مظاہر نقوی نے جواب دیا کہ میں زبانی معذرت قبول نہیں کرتا ،،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ٹھیک ہے میں قبول کرتا ہوں ،جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ
    امان اللہ کنرانی صاحب آپ بیان تحریری طور پر غیر مشروط معافی مانگیں ،امان اللہ کنرانی نے کہا کہ میں تحریری طور پر معافی نہیں مانگوں گا آپ میرے خلاف کاروائی چلائیں ،جسٹس یحیی آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے پر تحریری حکمنامہ جاری کریں گے،

    وکیل امان اللہ کنرانی نے کمرہ عدالت میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی اور کہا کہ آپ تو بڑے ہیں میں معافی مانگ لیتا ہوں، آپ جج بنیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر پارٹی بنیں گے تو میں بولوں گا، وکیل امان اللہ کنرانی نے جسٹس مظاہر نقوی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی بننا ہے تو آپ کرسی سے اتر جائیں،

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ ہیں۔

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے کے حوالہ سے درخواست،جواب طلب

    اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے کے حوالہ سے درخواست،جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے اور حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر فریقین سے جواب طلب کرلیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے اور حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،درخواست گزارکی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ 1997 کی مردم شماری کے بعد نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا نئی مردم شماری کے نتائج جاری کئے جا چکے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے اسمبلیوں کی نشستیں بڑھا کر حلقہ بندیاں کی جائیں

    شہری کی درخواست پر چیف جسٹس عامر فاروق نے فریقین سے جواب طلب کرلیا، چیف جسٹس عامرفاروق نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں  ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری دے دی گئی ملک بھر میں نئے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہونگے ،پہلی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 میں مکمل ہو چکی ہے

  • قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے،عدالت

    قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی پٹیشنر کی جانب سے شیر افضل مروت ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئےوکیل شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے گزشتہ روز ملاقات کا آرڈر کیا تھا، عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نےاستفسار کیا کہ انہوں نے ملاقات نہ کرانے کی کوئی وجہ بتائی؟وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چھ بجے تک ملاقات کا وقت ہوتا ہے، آرڈر لیٹ جاری ہوا تھا 6 بجے تک ملاقات کا وقت ہوتا ہے، کل ایک اور واقعہ بھی پیش آیا ہے، اور ایف آئی اے نے کل ایک وکیل کو بلایا اور آج خواجہ حارث کو بلایا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تحقیقات کا مطلب کسی کو ہراساں کرنا نہیں ہوتا، میں ایڈمنسٹریٹر سائیڈ پر اس کو دیکھوں گا، خیال رکھیں قانون کی خلاف ورزی نہ ہو، جو قانون میں ہے وہ آپ کو ضرور دیں گے۔

    وکیل شیر افضل نے استدعا کی کہ لسٹ کے مطابق اگر عدالت آرڈر کر دے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آرڈرکردوں گا لیکن سیاسی اجتماع نہ بنائیے گا۔ جس پر وکیل شیر افضل نے یقین دہانی کرائی کہ سارے لوگ ایک دم نہیں جائیں گے، نوازشریف نے بھی اے کلاس سہولت لی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی اے کلاس سہولت کے حقدار ہیں، لیکن انہیں 9×5 کے اٹک جیل سیل میں رکھا گیا ہے ، وہاں مچھر ہیں، حشرات الارض ہیں، بارش کا پانی بھی اندر گیا تھا۔

    جج نے ریمارکس دیئے کہ تفتیش کے نام پر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کو تنگ کیا جائے، قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے، ہر کسی کے حقوق ہیں، وکیل سے ملاقات کرانے سے انکار نہیں کیا جا سکتا، آپ صرف یہ خیال رکھیں کہ اس کو سیاسی معاملہ اور وہاں پر رش نا بنائیں، ایک ایک، دو یا تین وکلاء مل کر چلے جائیں، اسلام آباد کی اپنی جیل نہیں اس لیے قیدیوں کو اڈیالہ جیل راولپنڈی رکھا جاتا ہے، کیا اٹک اور دیگر جیل بھجوانے کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟-

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل رولز کے مطابق اے کلاس کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں، اٹک کی ڈسٹرکٹ جیل میں اے کلاس نہیں اس لیے وہاں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، ان کو بیرک کے بجائے سیل میں رکھا گیا ہے، رات کو بارش کا پانی بھی اس کمرے میں گیا جہاں چیئرمین پی ٹی آئی کو رکھا گیا ہو سکتا ہے سیکیورٹی کے باعث بیرک میں نا رکھا گیا ہوچیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں رکھنے کا کہا گیا تھا مگر اٹک جیل بھجوا دیا گیا۔

    چیف جسٹس استفسار کیا کہ اڈیالہ جیل کے بجائے ڈسٹرکٹ جیل اٹک بھجوانے کا آرڈر کس نے کیا؟ ٹرائل کورٹ نے سزا دی مگر بطور قیدی حاصل حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صرف جیل میں اے کلاس کے حق سے محروم کرنے کے لیے اٹک جیل میں رکھا گیا، سابق وزیرِ اعظم کو گھر کا کھانا فراہم کرنے کی اجازت دینے کا بھی آرڈر کیا جائے۔

    عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ قیدی کی جیل منتقلی کا فیصلہ کون کرتا ہے، پرسوں تک پوچھ کر بتائیں۔وکیل شیر افضل مروت نے استدعا کی کہ اس کیس کو پرسوں کے بجائے کل سماعت کے لیے رکھا جائے چیف جسٹس نے کہا کہ طبیعت خرابی کے باعث شاید کل میں دستیاب نہیں ہوں گا عدالت نے کیس کی سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی۔

  • عمران خان پانچ سال کیلئے نااہل قرار

    عمران خان پانچ سال کیلئے نااہل قرار

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 5 سال کیلئے نا اہل قرار دے دیا-

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹیآئی چئیرمین کی نااہلی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو این اے 45 کُرم سے ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں 3 سال سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوا لہٰذا چیئرمین پی ٹی آئی کو آئین کےآرٹیکل 63 ون ایچ کے تحت نااہل ہوگئے ہیں۔

    عمران خان جیل میں رہنے پرپریشان اورناخوش ہیں،وکلا

    واضح رہے کہ 5 اگست کو ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے عمران خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا تھا اور وہ وہاں سزا کاٹ رہے ہیں۔

    عمران خان پانچ سال کیلئے نااہل قرار

  • تین وکلا کوچیئرمین تحریک انصاف سےجیل میں ملاقات کی اجازت مل گئی

    تین وکلا کوچیئرمین تحریک انصاف سےجیل میں ملاقات کی اجازت مل گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین وکلا کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی۔

    باغی ٹی وی:اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی اٹک جیل سےاڈیالہ منتقلی اورسہولیات فراہمی کی درخواست پررجسٹرارآفس کے اعترا ضات ختم کردیئے گئے عدالت نے رجسٹرار آفس کو درخواست کل سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کردی،اس کے علاوہ ہائی کورٹ نے تین وکلا کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی۔

    وکیل شیر افضل مروت ، عمیر نیازی اور نعیم حیدر پنجھوتھا کو عدالت نے ملاقات کی اجازت دی اور حکم دیاکہ اٹک جیل حکام تینوں وکلا کو چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی سہولت فراہم کرے اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ وکلا وکالت نامہ پر دستخط اور ہدایات لینے کے لیے ملاقات کرنا چاہ رہے ہیں۔

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدرپنجوتھہ گرفتار ہو گئے

    واضح رہے کہ 5 اگست کو ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے عمران خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا تھا اور وہ وہاں سزا کاٹ رہے ہیں۔

    قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھجوا دی گئی

  • عمران خان کے وکیل نعیم حیدرپنجوتھہ گرفتار ہو گئے

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدرپنجوتھہ گرفتار ہو گئے

    اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے وکیل اور قانونی امور کے ترجمان نعیم حیدر پنجھوتہ کو حراست میں لے لیا۔

    باغی ٹی وی:ذرائع ایف آئی اے کے مطابق نعیم حیدرپنجھوتھہ تفتیش کے لیے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز گئے تھے، آج ایف آئی اے نے انہیں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت کرنے والے جج ہمایوں دلاور کی سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق تحقیقات کے لیے بلایا تھا

    تحریک انصاف کے وکیل شیر افضل مروت نے تصدیق کی ہےکہ نعیم حیدر پنجوتھا کو ایف آئی اے نے گرفتار کرلیا ہے وکیل شیر افضل مروت کے مطابق نعیم پنجھوتا کے کلرک نے ان کی حراست کا بتایا ہے، ابھی یہ واضح نہیں کہ نعیم پنجھوتا کو باضابطہ گرفتار کیا گیاہےکہ نہیں۔

    جج ہمایوں دلاورکیخلاف جعلی فیس بک پوسٹ، ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کو طلب کرلیا

    ایف آئی اے نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر سیشن کورٹ کے جج دلاور ہمایوں کی متنازع فیس بک پوسٹس کے معاملے پر تحقیقات شروع میں عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھہ کو انکوائری کے لئے طلب کیا تھا-

  • سیاسی میدان سکڑ رہا ہے

    سیاسی میدان سکڑ رہا ہے

    سیاسی میدان سکڑ رہا ہے
    آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 میں ترمیم کا بل کامیابی سے منظور کر لیا گیا ہے۔ تاہم، مجوزہ ترمیم جو ایجنسیوں کو بغیر وارنٹ کے افراد کو گرفتار کرنے یا احاطے کی تلاشی لینے کی اجازت دیتی تھی اسے بل سے ختم کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا ہے، کیونکہ اس طرح کے نکات ممکنہ طور پر ریاست پاکستان کو پولیس ریاست میں تبدیل کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اس سے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہوتی، جو شخصی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، ماسواے قانونی کاروائی کے ذریعہ۔

    یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ ترمیم شروع میں کیوں تجویز کی گئی تھی۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام عمران خان کی محاذ آرائی والی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر بڑے ہجوم کو جمع کرنے کی اجازت۔ اس کا مقصد ظاہر ہے کہ پولیس کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنا تھا،

    بڑھتی ہوئی محاذ آرائی 9 مئی کے المناک واقعات پر اپنے انجام کو پہنچی، اس دن ریاست پر حملہ بلاشبہ جنگی کارروائی تھی۔ یہاں تک کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ کے معاملے میں، انہیں انتخابی سرٹیفیکیشن میں تاخیر کے لیے قانون سازوں کو متاثر کر کے کیپیٹل تشدد سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی تناظر میں، واقعات میں سرکاری املاک کو خاصا نقصان پہنچا، بشمول جناح ہاوس کے، جو ایک کھنڈر بن کر رہ گیا ہے۔ وہ لاہور میں کور کمانڈر کی سرکاری رہائش گاہ تھی۔ فوجی تنصیبات اور یادگاروں، بشمول جی ایچ کیو پر بھی حملے کئے گئے،

    اس دن کے واقعات نے واضح طور پر ایک سرخ لکیر کو عبور کیا۔ یہ واضح ہے کہ جمہوریت کو آزادی اظہار کے غلط استعمال کے برابر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اصول پوری دنیا میں درست ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان کے ان اقدامات کے طویل مدتی نتائج انتہائی نقصان دہ رہے ہیں۔ اس نے سیاسی میدان کو نمایاں طور پر سکیڑ دیا ہے،سیاستدانوں، عام شہریوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بھروسہ اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کئی دہائیوں میں محنت سے کمائی گئی ترقی کو ایک فرد کے اقدامات نے نقصان پہنچایا اور وہ ہے عمران خان

  • نمل، شوکت خانم کا ماڈل دکھا کر بزداراورفرح گوگی کو لایا گیا،علیم خان

    نمل، شوکت خانم کا ماڈل دکھا کر بزداراورفرح گوگی کو لایا گیا،علیم خان

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی یوتھ کیلئے خصوصی ممبر شپ شروع کر رہی ہے

    عبدالعلیم خان نے نوجوان ڈاکٹروں کے وفد سے گفتگو اور سوال و جواب کے خصوصی سیشن میں کہا کہ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کر کے نوجوانوں کے ساتھ ہاتھ ہوا ،نمل اور شوکت خانم کا ماڈل دکھا کر بزدار اور فرح گوگی کو لایا گیا،پنجاب میں جان بوجھ کر کرپٹ، نالائق اور نا اہل لوگوں کا انتخاب ہوا ،اپنی زندگی آسائش سے گزارنا آسان اور ملکی خدمت کا راستہ مشکل ہے ،سیاست عبادت سمجھ کر کریں تو اس سے بڑی اور کوئی عوامی خدمت نہیں ہو سکتی ،یہ نہیں ہو سکتا کہ ملک نیچے جا رہا ہو اور ہم سب تماشہ دیکھتے رہیں ،اصل چیلنج یہی ہے کہ یوتھ مخلص ہوکر ملک و قوم کے لئے عملی کام کرے ،ہم وہی وعدے کریں گے جو حقیقت پسندانہ اور قابل عمل ہوں

    علیم خان کا کہنا تھا کہ سائفر کو سازش بناکر ملکی سلامتی سے کھیلا گیا،قرار واقعی سزا ملنی چاہیے، اس اعتراف سے ثابت ہوگیا کہ استحکام پاکستان پارٹی کیوں وجود میں آئی ،ہم ایسے ملک دشمن اور مکروہ ذہن کے ساتھ نہیں چل سکتے تھے، واضح ہو گیا کہ سیاسی مقاصد کیلئے رچایا گیاسائفر کا ڈرامہ ایک شخص کا سکرپٹ تھا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

  • توشہ خانہ کیس، سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    توشہ خانہ کیس، سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کی سزا کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے

    عمران خان کی اپیل پر سماعت کل ہو گی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پرمشتمل بینچ عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت کرے گا

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی،عمران خان کی طرف سے وکیل خواجہ حارث نے اپیل دائر کی،عدالت سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ خلاف قانون ہے، کالعدم قرار دیا جائے اور مرکزی اپیل پر فیصلے تک سزا معطل کر کے رہائی کا حکم جاری کیا جائے۔

    اپیل دائر کرنے کے بعد وکیل کا کہنا تھا کہ ہم جلد ہی الیکشن کمیشن کے تمام تحفظات دور کرلیں گے ہم انٹراپارٹی الیکشن کرچکے تھے، جو اسٹیٹمنٹ ریکارڈ ہوا اس کی وضاحت الیکشن کمیشن کو دینگے اپیل فائل کررہے ہیں جس سے چیئرمین پی ٹی آئی کو ریلیف مل جائے گا آج اپیل کیساتھ چیئرمین پی ٹی آئی کی تین سال کی نااہلی واپس لینے کی درخواست بھی دائر کررہے ہیں ہماری استدعا ہے کہ آج اگر کیس کو نہیں سنا گیا تو کل اس کو سن لیا جائے چیئرمین تحریک انصاف ہی چیئرمین رہیں گے ،

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل کو نمبر الاٹ کردیا ،رجسٹرار آفس نے توشہ خانہ کیس کے دائرہ اختیار کے خلاف دائر اپیل کو نمبر ,922, 921 الاٹ کیا ،چیئرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا توشہ خانہ کیس واپس ٹرائل کورٹ بھیجنے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا، رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے اپیل اعتراضات لگا کر واپس کردی تھی ،چیئرمین تحریک انصاف لیگل ٹیم نے اعتراضات دور کرکے اپیل دوبارہ جمع کرادی

    واضح رہے کہ عمران خان کو تین روز قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست،سماعت میں وقفہ

    عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست،سماعت میں وقفہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت میں وقفہ کر دیا گیا، درخواست میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی استدعا کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ،سینئر وکیل شیر افضل مروت کی عدم موجودگی کے باعث سماعت ملتوی کی گئی، معاون وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سینئر وکیل راولپنڈی بنچ میں ہیں اگر آخر میں کیس کال کر لیں ، عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا

    بشریٰ کی عمران خان سے ملاقات کی درخواست، قانون دیکھیں گے، عدالت
    وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر اعتراضات دور کر دیئے گئے، چیف جسٹس عامر فاروق نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج صرف اعتراضات سن رہے ہیں، کل باقاعدہ سماعت رکھ لیتے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو وہ تمام سہولتیں جیل میں فراہم کی جائیں گی جن کے وہ حقدار ہیں، جو 3،4 وکلا ملنا چاہتے ہیں، ان کا نام دے دیں، آرڈر پاس کردوں گا، بشریٰ بیگم کے حوالے سے بھی جو باقاعدہ قانون ہوگا وہ دیکھیں گے،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی کہ عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے جہاں اے کلاس سہولیات دستیاب ہیں اورفیملی، وکلا اورڈاکٹر سلطان کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے

    واضح رہے کہ عمران خان کوتین روز قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی