Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عدالت نے بشری بی بی کی گرفتاری سے روک دیا

    عدالت نے بشری بی بی کی گرفتاری سے روک دیا

    190 ملین پاونڈ کیس میں بشری بی بی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی
    بشریٰ بی بی عدالت میں پیش ہوئیں،جج محمد بشیر نے استفسارکیا کہ بشری بی بی کے وارنٹ تو جاری نہیں ہوئے، تفتیشی افسر کہاں ہیں، ادھر کھڑے ہو جائیں،سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ابھی گرفتار کرنے کے حوالے سے کوئی آرڈر نہیں ہیں، بشریٰ بی بی کے وکیل نے کہا کہ مستقبل کے حوالے سے کوئی ضمانت دے دیں،جج محمد بشیرنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے، لگ بھی نہیں رہا، جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ یہ کیس انکوائری کی سٹیج پر ہے یا انوسٹیگیشن کی؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ اب انویسٹی گیشن میں تبدیل ہو گیا ہے، سردار مظفر عباسی نے کہا کہ کیا ملزم تین سال جیل میں رہے تو کیا تین سال تک اس کا انتظار کیا جائے گا، خواجہ حارث نے کہا کہ ہماری آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمیں ایک موقع دیں،ہم کوئی جان بوجھ کر ایسا نہیں کر رہے،

    عدالت نے بشری بی بی کی گرفتاری سے روک دیا ،جج محمد بشیرنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ نا ہو کہ شام کو انہیں پکڑ لیں، سردار مظفر عباسی ، شرجیل میمن کیس میں ان کی گرفتاری کا حوالہ پیش کر رہے ہیں،سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ملزم اگر ایک کیس میں گرفتار ہو یہ نہیں کہ اسے دوسرے مقدمات میں گرفتار نہیں کر سکتے، خواجہ حارث نے کہا کہ ہم ایک ایسے کی بات کر رہے ہیں جس میں درخواست گزار ایک مقدمے میں گرفتار ہے، خواجہ حارث نے دونوں مقدمات کی سماعت سے استثنی کی درخواست دائر کر دی اور کہا کہ میری عدالت سے استدعا ہے کہ کیس کی سماعت ملتوی کی جائے،

    القادر ٹرسٹ کیس ،توشہ خانہ نیب کیس، عمران خان کی درخواست ضمانت خارج
    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ، جو اب سنا دیا ہے، عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں عمران خان کی ضمانت خارج کر دی، اسلام آباد کی احتساب عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس اور توشہ خانہ نیب کیس میں عمران خان کی ضمانت خارج کردی

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • بشری بی بی نے زمان پارک چھوڑ دیا، کالی گاڑیوں میں روانہ

    بشری بی بی نے زمان پارک چھوڑ دیا، کالی گاڑیوں میں روانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی زمان پارک سے اسلام آباد روانہ ہو گئی ہیں دوسری جانب زمان پارک میں سیکیورٹی کے لئے تعینات پولیس نفری کو ہٹا لیا گیا

    بشری بی بی اسلام آباد روانہ ہوئی ہیں،عمران خان کے وکلاء کی کوشش ہے کہ بشریٰ کی عمران خان سے جیل میں ملاقات ہو جائے تاہم گزشتہ روز عدالت نے کہا تھا کہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے، آج بشریٰ بی بی اسلام آباد کہاں جا کر ٹھہرتی ہین اور کس کس سے ملاقاتیں ہوتی ہیں اس بارے ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا، بشری بی بی کالی گاڑی پر زمان پارک سے روانہ ہوئی ہیں ، عمران خان کی گرفتاری کے بعد بشری بی بی نے مبینہ طور پر کالے کپڑے ہی پہن رکھے ہیں

    دوسری جانب زمان پارک میں پولیس نے آپریشن کرتے ہوئے گھر کے باہر لگے سیکورٹی بیرئر ہٹا دیئے،لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے کاروائی کی اور کرین کی مدد سے بیریئر، کنکریٹ ہٹا دئئے، اور ٹرک میں رکھ کر لے گئے، زمان پارک جو عمران خان کے ہوتے ہوئے نو گو ایریا بنا ہوا تھا اسکو کلیئر کروا لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ پانچ اگست کو توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو عدالت نے سزا سنائی،جس کے بعد انہیں زمان پارک سے گرفتار کیا گیا، عدالت نے عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی عمران خان کو پانچ سال کے لئے نااہل کر دیا،

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • جناح ہاؤس حملہ کیس کی تحقیقات،268 شرپسندوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

    جناح ہاؤس حملہ کیس کی تحقیقات،268 شرپسندوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

    انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت،پولیس نے جناح ہاؤس حملہ کیس کی تحقیقات مزید تیز کردیں

    پولیس نے پی ٹی آئی کے 268 روپوش کارکنوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست دائر کردی ،انسداد دہشتگری کی خصوصی نے پولیس کی درخواست منظور کرلی ،عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے 268 کارکنوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے .جج اے ٹی سی اعجاز احمد بٹر نے 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا

    عدالت نے فیصلہ میں کہا کہ جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملزمان کے بیانات کی روشنی میں مزید 268 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، ملزمان روپوش ہیں اور گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان کے مطابق شواہد موجود ہیں پولیس کی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست منظور کی جاتی ہے

    دوسری جانب انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی، اسد عمر کی عبوری ضمانتوں پر تحریری حکم جاری کر دیا، عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ درخواست گزاروں نے دلائل کے لیے مہلت مانگیدرخواست گزاروں کی استدعا پر کارروائی ملتوی کی جاتی ہے درخواست گزاروں کے وکیل 18 اگست کو عبوری ضمانتوں پر دلائل دیں شاہ محمود قریشی ،اسد عمر پر جناح ہاؤس حملہ کیس سمیت متعدد مقدمات درج ہیں

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • سائفردستاویز: بظاہر یہ کام بہت شرانگیز ہے، یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے،رانا ثنااللہ

    سائفردستاویز: بظاہر یہ کام بہت شرانگیز ہے، یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے،رانا ثنااللہ

    اسلام آباد: سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللّٰہ نے بین الاقوامی میڈیا پر سامنے آنے والی دستاویز سے متعلق کہا ہےکہ اس اطلاع کی تصدیق کے لیے تحقیقات ہونی چاہیے۔

    باغی ٹی وی: ایک بیان میں رانا ثنا اللّٰہ نےکہا کہ بظاہر یہ کام بہت شرانگیز ہے، یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سائفر کی کاپی چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس تھی جو انہوں نے واپس بھی نہیں کی،چیئرمین پی ٹی آئی یہ بات بھی ریکارڈ پر کہہ چکے ہیں کہ ان سے وہ سائفر کاپی گم ہوگئی ہے، اگر چیئرمین پی ٹی آئی اس سلسلےمیں قصوروار ثابت ہوتے ہیں تو ان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کر دیا ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ دعوی کیا ہے کہ ان کو موصول ہونے والی خفیہ دستاویز کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے 7 مارچ 2022 کو ہونے والے ایک اجلاس میں عمران خان کو یوکرین پر روسی حملے پر غیر جانبداری پر وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پاکستانی حکومت کی حوصلہ افزائی کی-

    امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کردیا؟

    امریکہ میں پاکستانی سفیر اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دو عہدیداروں کے درمیان ہونے والی ملاقات گزشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستان میں شدید چھان بین، تنازعات اور قیاس آرائیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کےمخالفین اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سیاسی کشمکش 5 اگست کو اس وقت شدت اختیار کر گئی جب عمران خان کو بدعنوانی کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی اور ان کی برطرفی کے بعد دوسری بار حراست میں لیا گیا۔ عمران خان کے حمایتی ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق لیک ہونے والی دستاویز میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کے ایک ماہ بعد پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا ووٹ لیا گیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹادیا گیا۔ خان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امریکہ کی درخواست پر اقتدار سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ پاکستانی کیبل کا متن، جو سفیر کی جانب سے اس ملاقات سے تیار کیا گیا تھا اور پاکستان منتقل کیا گیا تھا، اس سے قبل شائع نہیں کیا گیا تھا۔ اندرونی طور پر ‘سائفر’ کے نام سے جانی جانے والی اس کیبل میں ان گاجروں اور لاٹھیوں کو ظاہر کیا گیا ہے جو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے عمران خان کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے تعینات کی تھیں، جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر عمران خان کو ہٹایا گیا تو تعلقات بہتر ہوں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا-

    اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے بہت خدمات ہیں. وزیراعظم

    دوسری جانب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ سفارتی سائفر کے مبینہ متن سے ثابت ہوگیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی تھی،سائفر کی بنیاد بننے والی پاکستانی سفیر سے امریکی وزارتِ خارجہ کے افسر کی گفتگو میں امریکی اہلکار کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے 2022 میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ سائفر میں امریکی معاون وزیر برائے جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو اور پاکستانی سفیر اسد مجید کے درمیان ملاقات کی تفصیلات موجود ہیں اور ڈونلڈ لو نے سفیر کو متنبہ کیا تھا کہ اگر عمران خان اقتدار میں رہے تو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    سائفر کیا ہوتا ہے؟
    سائفر کسی بھی اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ خفیہ طریقہ کار ہے جس میں عام زبان کے بجائے کوڈز پر مشتمل زبان کا استعمال کیا جاتا ہےکسی عام سفارتی مراسلے یا خط کے برعکس سائفر کوڈ کی زبان میں لکھا جاتا ہے۔ سائفر کو کوڈ زبان میں لکھنا اور اِن کوڈزکو ڈی کوڈکرنا کسی عام انسان نہیں بلکہ متعلقہ شعبےکے ماہرین کا کام ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے پاکستان کے دفترخارجہ میں ایسے افسران ہیں ، جنھیں سائفر اسسٹنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ سائفر اسسٹنٹ پاکستان کے بیرون ملک سفارتخانوں میں بھی تعینات ہوتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کا آج یومِ تشکّر و نجات منا نے کا اعلان

  • پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ

    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ

    سائفر کی بنیاد بننے والی پاکستانی سفیر سے امریکی وزارتِ خارجہ کے افسر کی گفتگو پر ترجمان امریکی محکمہ میتھیو ملر کا ردعمل آیا ہے،

    ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ امریکی اہلکار کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے میں اس دستاویز کے مصدقہ ہونے پر بات نہیں کر سکتا جن باتوں کے بارے میں رپورٹ کی گئی وہ سو فیصد بھی درست نہیں جو باتیں رپورٹ کی گئیں کسی بھی طرح سے یہ ظاہر نہیں کرتیں کہ امریکہ نے یہ موقف اختیار کیا ہو کہ پاکستان میں قیادت کس رہنما کے پاس ہونی چاہیے امریکہ نے پاکستان کے ساتھ نجی اور سرکاری سطح پر عمران خان کی جانب سے روس کی یوکرین پر چڑھائی کے دن ماسکو کا دورہ کرنے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا،امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر کہہ چکے ہیں کہ یہ الزامات درست نہیں

    ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت نے پاکستان کے داخلی فیصلوں میں دخل اندازی نہیں کی اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ الزامات غلط ہیں اس مراسلے میں موجود باتوں کو اگر سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے پالیسی کے انتخاب پر اپنے خدشے کا اظہار کر رہی ہے اس مبینہ مراسلے سے یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ امریکی قیادت اپنی ترجیح بیان کر رہی ہے کہ پاکستان کا لیڈر کسے ہونا چاہیے میرے خیال میں بہت سے لوگوں نے (امریکی اہلکار) کے تبصرے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے یہ دانستہ کوشش تھی یا نہیں اس بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتا میں کسی کی نیت پر بات نہیں کر سکتا لیکن میرے خیال میں ایسا ہی ہوا ہے میں پہلی بات یہ کہوں گا کہ کس طرح سیاق و سباق سے ہٹ کر مطلب نکالا جا سکتا ہے دوسری بات یہ ہےکہ کچھ لوگوں کی خواہش ہو سکتی ہے کہ اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر کسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کریں :

    کوہ سلیمان پرشدید بارشیں،کار ندی میں بہہ گئی، 4 افراد جاں بحق

    غیر ملکی صحافی نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب یہ ہے کہ امریکا نے یہ نہیں کہا کہ عمران خان کو جانا چاہیے؟ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ قریب قریب یہی مطلب ہے،انہوں نے کہا کہ سامنے آنے والی دستاویزات بھی ثابت نہیں کرتیں کہ امریکا نے کسی پاکستانی رہنما کا انتخاب کیا یا نہیں۔ہم نے سابق وزیر اعظم پاکستان کےدورہ روس پر تشویش کا اظہار کیا تھا، سابق وزیر اعظم پاکستان نے روس کے یوکرین پر حملے والے دن دورہ کیا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی متعلقہ جمہوری اصولوں، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا مطالبہ کرتے ہیں، پاکستانی حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت جاری رکھیں گے۔

    اوچ شریف: دریائے چناب عبور کرتے ہوئے نوجوان ڈوب گیا

    واضح رہے کہ 16 ماہ پر محیط 13 جماعتی مخلوط حکومت ختم ہوگئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی ایوان صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر مملکت نے 15 ویں قومی اسمبلی کی تحلیل وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت کی ۔ صدر مملکت نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر لاہور میں دستخط کیے۔

    قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی البتہ وزیر اعظم شہباز شریف نگران وزیر اعظم کی تقرری تک کام جاری رکھیں گے۔آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیےمشاورت کریں گے اور نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنے کیلئے 3 دن کاوقت ہوگا، آئین کے آرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا-

    تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گےپارلیمانی کمیٹی تین دن کےاندرنگران وزیراعظم کےنام کو فائنل کرےگی،پارلیمانی کمیٹی کےنگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پرمعاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا،الیکشن کمیشن دیےگئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرے گا۔

    13 جماعتی اتحادی حکومت 15 ماہ 28 روزقائم رہی،مدت مکمل ہونے سے تین روزپہلے توڑی گئی۔ آئین کے مطابق اگر اسمبلی مدت پوری ہونے سے پہلے توڑ دی جائے تو عام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوتےہیں۔

  • وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورہ پر قومی اسمبلی توڑ دی ہے جس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی، وفاقی کابینہ اور حکومت تحلیل ہوگئی ہے۔ جبکہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی تحلیل کرنےکی سمری پر دستخط کردیے ہیں اور وزیراعظم نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیجی تھی۔ جس پر صدر آئین کے آرٹیکل 58 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔اور ان کے دستخط کرتے ہی اسمبلی ٹوٹ گئی.

    اگر ایسا نہ ہوتا تو یعنی صدر کے دستخط نہ ہونے کی صورت میں 48 گھنٹوں میں ازخود اسمبلی تحلیل ہوجائے گی، اسمبلی ٹوٹتے ہی کابینہ تحلیل ہوجائے گی اور نگران وزیراعظم کی تقرری تک وزیراعظم شہباز شریف عہدے پر برقرار رہیں گے، قومی اسمبلی تحلیل کے بعد آئین کےآرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیے مشاورت کریں گے اور اسمبلی تحلیل ہونےکے بعدنگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنےکےلیے 3 دن کا وقت ہوگا۔

    جبکہ ان تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین دن کے اندر نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرے گی تاہم پارلیمانی کمیٹی کے نگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس بھی جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن دیے گئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرےگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    واضح رہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن آرٹیکل224 ون کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا اور مدت پورے ہونے سے قبل اسمبلی توڑے جانے پرعام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوں گے۔ جبکہ عام انتخابات کےبعدالیکشن کمیشن آئین کے تحت14دن میں نتائج کا اعلان کرےگا۔

  • سپریم کورٹ؛ جج سے تلخ کلامی، امان اللہ کنرانی نے وجہ بتا دی

    سپریم کورٹ؛ جج سے تلخ کلامی، امان اللہ کنرانی نے وجہ بتا دی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا کہنا ہے کہ بدھ 9 اگست 2023 کو سپریم کورٹ کے بنچ 3 میں جناب جسٹس یحی آفریدی کے سامنے دو دیگر جج صاحبان مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس حسن رضا رضوی، عمران احمد خان نیازی کی درخواست جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق ممبر ایگزیکٹو کمیٹی کے کمیٹی کے قتل میں ایف آئ آر کے خلاف برائے استرداد فوجداری کیس کی سماعت کی ابتداء میں درخواست گزار کے وکیل سردار محمد لطیف کھوسہ نے معمول کے مطابق اپنے دلائل کا آغاز کیا اس دوران بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب چونکہ آپ کے موکل گرفتار ہوچکے ہیں لہذا مزید اس کیس میں کاروائی کیسے جاری رکھی جائے.

    جبکہ اس پر شہید وکیل عبدالرزاق شر کے صاحبزادے سراج شر مدعی مقدمہ کے وکیل امان اللہ کنرانی نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو اس کیس میں صرف جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے لئے کہاگیا ہے جس پر وہ مسلسل پیش نہیں ہورہے ہیں حالانکہ 2017 میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کو میاں نواز شریف کے کیس میں قانونی جواز فراھم کردیا PLD 2017 SC 265 عدالت نے فرمایا اب چونکہ ملزم گرفتار ہے تو جے آئی ٹی اس سے باز پرس و تفتیش کرسکتی ہے جبکہ اس خوشگوار ماحول میں کاروائی میں مداخلت کرتے ہوئے اچانک بنچ کے ممبر جناب جسٹس مظاہر اکبر نقوی صاحب نے توھین آمیز انداز میں غصے سے انگلی کے اشارے سے مدعی کے وکیل امان اللہ کنرانی کو مخاطب کرتے ھوئے کہا کہ آپ کے کیس میں کیا ہے.

    اعلامیہ کے مطابق انہوں نے جواب دیا اس کیس میں، میں نے پوری تیاری کی ہے جبکہ آپ کا اپنا فیصلہ بھی لایا ہوں مگر وہ اپنی آواز اونچی رکھے ہوئے تھے اس پر وکیل نے کہا اگر آپ جج و عدالت ہیں تو مجھے آپ کا احترام ہے اور میرٹ پر میرے کیس کی شنوائی کریں اگر دھمکی آمیز رویہ اپنائیں گے تو ہم بھی غلام نہیں ہیں اور آپ بھی PLD 1998 SC 161 کے تحت اسد علی ایڈوکیٹ کے کیس کی روشنی میں سینارٹی کے برعکس جج بننے کے اہل نہیں اور یہ معاملہ کوئٹہ میں بنچ کے سامنے اٹھایا گیا بعد میں فل کورٹ نے وکیل کے اعتراض کو قابل سماعت قرار دیکر جونئیر چیف جسٹس کو فارغ کردیا تھا.

    لہذا اُس کی روشنی میں آج اِس کیس میں بھی جناب جسٹس مظاہر نقوی صاحب کو مخاطب کرتے ھوئے استدعا کی کہ ایسے ہی از خود کاروائی کریں جیسے غلام محمود ڈوگر ڈی آئی جی کے تبادلے کے کیس میں آپ نے پنجاب کے الیکشن کا نوٹس لیکر چیف جسٹس کو بنچ بنانے کا لکھا تھا اس کیس میں بھی سینٹارٹی اصول کو طے کرنے کیلئے بڑا بنچ تشکیل دینے کیلئے کاروائی کیلئے چیف جسٹس کو نوٹ بھیج دیا جائے جس پر بنچ کے سربراہ جناب جسٹس یحی آفریدی نے فرمایا آپ کو اپنی شکایت و تحفظات لکھ کر دینی چاہئیے تھے.

    تاہم اس پر کنرانی عرض کیا کہ میرا مدعا اس موقع پر یہ کہنے کا نہ تھا میں نے میرٹ پر دلائل کیلئے تیاری کررکھی ہے جس پر دائیں و بائیں بیٹھے بنچ کے جونئیر جج صاحبان برھم ہوئے تووکیل نے یاد دلایا سندھ ہائی کورٹ میں جونئیر ججز کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کے خلاف پٹیشن بھی زیرالتوء ہے جس پر بنچ کے دوسرے جج حسن رضا رضوی نے توھین عدالت نوٹس کی بات کی تو بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کنرانی سے غیر مشروط معافی مانگنے کی ہدایت کی جو یہ کہہ کر مان لی کہ ججوں کے سامنے گذشتہ 35 سالوں سے ادب احترام کے ساتھ پیش ہوتا رہا ہوں اب بھی مجھے معافی تو کیا ھاتھ جوڑنے پر بھی عار نہیں مگر عدالت اپنی کاروائ میرٹ پر چلائے فریق نہ بنے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    جبکہ وکیل نے مزید کہا کہ فریق بنے گی تو ہم بھی کھڑے ہیں اور پھر کوئی معافی نہیں مانگیں گے معزز جناب جسٹس یحی آفریدی نے دوسرے معزز جج جناب جسٹس حسن رضا رضوی کی رضامندی سے میرے معافی مانگنے کو قبول کرتے ہوئے مناسب تحریری حکم بعد میں جاری کرنے کا بتاکر عدالت کی کاروائ 24.8.23 تک ملتوی کردی تاہم جے آئی ٹی کو کاروائی کا کام جاری رکھنے کی ہدایت کے ساتھ سابقہ حکم کے تسلسل میں ملزم عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کے عبوری حکم کی توسیع کردی.

  • عدلیہ سیاسی رول ختم کرے،خواجہ آصف

    عدلیہ سیاسی رول ختم کرے،خواجہ آصف

    وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فخر ہے 33 سال سے اس ایوان میں ہوں، ہم عوام کے نمائندے ہیں، ان کی خدمت ہمارا فرض ہے۔

    قومی اسمبلی کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہمیں عوام کے ساتھ رشتے قائم رکھنے چاہئیں۔ آج اسمبلی اپنی مدت پوری کر کے رخصت ہو رہی ہے اسمبلی کی مدت کے دوران کئی ایسے واقعات ہوئے جن سے ہمیں شرمندگی ہے 9 مئی کے واقعات نے ہماری تاریخ کو داغدار کیا ایک شخص اپنے اقتدار کیلئے کچھ بھی کر سکتا ہے پارلیمنٹ کے تقدس کو ہر صورت بحال رکھنا ہو گا ،آئندہ دنوں میں معیشت سب سے بڑا مسئلہ ہوگا،ملک کے خود کفیل ہونے کے تمام تر وسائل اس ملک میں موجود ہیں، اگر عدلیہ سیاسی رول ختم کرے اور اپنے کام توجہ دے تو کئی ارب روپے آپ کے پاس آ جائیں گے ایک کیس میں سات سو ارب کا اسٹے دیا ہوا ہے،اس طرح اور بھی کیسز ہیں،اگر یہ بات باہر کروں تو توہین عدالت لگ جائے گا ،چار ہزار ارب سے زائد گردشی قرضے ہیں،

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ سے تحائف لینا جرم نہیں تحائف یادگار کے طور پہ ہوتے ہیں آگے دینا یا بیچنا غلط ہے ایف بی آر کے 2670 ارب کے کیسز عدلیہ کے پاس التوا میں پڑے ہوئے ہیں لیکن ان میں سے کسی پر فیصلہ ہی نہیں دیا جارہا اگر ان میں سے آدھے کا بھی فیصلہ کردیں تو پاکستان کو چھ سے سات ارب ڈالر مل سکتے ہیں۔ اسی عدلیہ نے 700 ملین ڈالر کا ایک ٹائیکون کا دہائیوں سے اسٹے دیا ہوا ہے، ۹۰ کی دہائی کے بعد جو پچھلے ۲۳ سال گزرے ہیں پارلیمانی تاریخ کے اس میں تمام اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی ہے، مجھے اس بات کا فخر ہے کہ پچھلے ۳۳ سال سے ان ایوانوں میں ہوں،محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور میاں محمد نواز شریف نے اتفاق رائے سے 58 (2b) کا خاتمہ کیا،جس کی وجہ سے اسمبلیوں کو پانچ سال کی مدت پوری کرنے کا موقع فراہم کیا

    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    لیڈر آف اپوزیشن راجہ ریاض احمد نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر آئے تھے پچھلے وزیرِ اعظم کا حکومت کرنے کا طریقہ پاکستان کے لئے ٹھیک نہیں تھا آج جو ملک ڈیفالٹ نہیں ہوا اِس میں ہماری اپوزیشن کا بھی بھرپور کردار ہے ،میاں شہباز شریف نے پوری کوشش سے اس ملک کو بچایا اور درست سمت کی طرف لے کر گئے ہم دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں ،ہم نے حکومت کے تمام جائز معاملات میں حکومت کا ساتھ دیا اور جو صحیح نہیں لگے اُن کی مخالفت کی نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کر کے غریب عوام کے لئے آسانی پیدا کرنی ہوگی لیڈر آف اپوزیشن نے مزید اسپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کو ایوان کی کاروائی کواعلیٰ طریقے سے چلانے پر خراج تحسین پیش کیا

    بلوچستان کے مسائل حل کرنے کی طرف مزید توجہ دینے کی ضرورت تھی،اختر مینگل
    بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خوش آئند بات ہے کہ موجودہ اسمبلی کا شمار ان چند اسمبلیوں میں ہوگا جنہوں نے اپنی مدت پوری کی،ہمیشہ اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا،وزیراعظم کا مشکور ہوں کہ جنہوں نے احسن طریقے سے ایک مخلوط حکومت کو چلایا، بلوچستان کے مسائل حل کرنے کی طرف مزید توجہ دینے کی ضرورت تھی،

    وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات محترمہ مریم اورنگزیب نے پیمرا آرڈیننس بل 2023 پیش کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ، وزیرِ اعظم پاکستان ، تمام میڈیا ورکرز ، پی آر اے ، پی ایف یو جے ، پی پی اے، سی پی اے، اے پی این ، اور تمام تنظیموں کو جنہوں نے اِس بل کی ترمیم میں کردار ادا کیا سب کو مباکباد پیش کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات محترمہ مریم اورنگزیب نے ایوان کو بل کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس بل کے مطابق اب چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کا اختیار اِس ایوان کو حاصل ہوگا اور یہ انتخاب انتہائی شفاف اور جمہوری طریقے سے ہوگا ۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے خطاب کرتے ہوئے ملکی مفاد میں یکجہتی اور سلامتی پر زور دیا ۔

  • عمران خان کی اپیل پر نوٹسز جاری، فوری سزا معطلی کی درخواست مسترد

    عمران خان کی اپیل پر نوٹسز جاری، فوری سزا معطلی کی درخواست مسترد

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی ٹرائل کورٹ سے سزا کے خلاف اپیل پراسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری نے اہیل پر سماعت کی،روسٹرم پر 35 سے زائد وکلاء موجود تھے، عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے وکلاء کو حراساں کرنے کا معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اٹھا دیا ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی اور سسٹم کی بحالی کے لیے قربانیاں دیں، وکلاء کو ہراساں کیا جارہا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر کو چیمبر میں بلا لیا ، چیف جسٹس عامر فاروق نے وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی سماعت کے بعد آپ میرے چیمبر میں آجائیں،

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے جج ہمایوں دلاور کے خلاف کارروائی کی استدعا کردی. لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ ملزم کے حق دفاع ختم کرنے کے خلاف اپیل آپ کے سامنے زیر التوا ہے،جب ایک کیس میں حق دفاع کی اپیل زیر التوا ہو تو ماتحت جج کیسے کیس کا فیصلہ سنا سکتا ہے، جج نے دو دن کا انتظار تک نہیں کیا، کل آپ حق دفاع ختم کرنے کے خلاف درخواست سنیں گے، ملزم کو سزا ہوچکی ہے اب آپ کیا درخواست سنیں گے؟ ایک ایڈشنل سیشن جج اگر عدالت کے حکم کی پاسداری نہیں کرے گا تو پھر یہاں کونسا نظام انصاف ہے؟ لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کی سزا آج ہی معطل کردی جائے،

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیل کی درخواست پر لطیف کھوسہ نے روسٹرم پر آکر دلائل شروع کیے تو کیس کے مرکزی وکیل خواجہ حارث اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گئے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کر دیا، عدالت نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا،عدالت نے ٹرائل کورٹ سے کیس کا سارا ریکارڈ طلب کر لیا

    عمران خان کے وکلا نے عدالت میں کہا کہ نوٹسز کررہے ہیں تو سماعت کل کے لیے رکھیں، جس پر عدالت نے کہا کہ ریکارڈ منگوانا ہے، کل سماعت ممکن نہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ عام حالات میں ، میں آخری آدمی ہوں جو کیس چھوڑ کر کسی جج پر بات کروں گا، دکھ ہوتا ہے جب ایسی چیزیں سامنے آتی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی تمام گزارشات آرڈر میں آبزرو کریں گے، خواجہ حارث نے کہا کہ اس کیس میں سزا معطلی عمران خان کا آئینی حق ہے، ٹرائل جج نے تیسرے ہی دن فیصلہ کردیا،تیسرے نہ صحیح، پانچویں دن فیصلہ کر دیتے،کیا جلدبازی تھی؟ اگر چھ ماہ بعد آپ نے اس سزا کو ختم کرنا ہے تو ایک دن بھی عمران خان جیل کیوں رہیں؟ توشہ خانہ کیس میں ایک بھی گواہ نے یہ نہیں کہا عمران خان نے جرم کیا ہے،اس کیس میں صرف جج صاحب نے کہا جرم ہوا ہے، اس کیس میں جرم کی نیت کا پہلو ہی موجود نہیں جس کی عدم موجودگی میں سزا ہو نہیں سکتی،

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ اپیل اسی طرح سنی جائے جیسے روزانہ کی بنیاد پر جج ہمایوں دلاور نے ٹرائل چلایا، 5 اگست کو کیا کچھ ہوا؟ خواجہ حارث نے عدالت میں بتایا خواجہ حارث نے اپنے ایسوسی ایٹ کے وٹس ایپ وائس نوٹ کا ٹرانسکرپٹ ججز کے سامنے رکھ دیا ،خواجہ حارث نے اہم تصاویر ججز کے سامنے رکھ دیں ،میں 5 اگست کو جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں لیٹ کیوں پہنچا؟ خواجہ حارث نے عدالت میں ثبوت دے دیئے،اور کہا کہ میرے منشی کو ہائیکورٹ داخلے سے روکنے والے افراد کی تصویر موجود ہے، میں نے منشی سے کہا کہ خود کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا آڈیو نوٹ بھیج دو، میں آڈیو نوٹ کا ٹرانسکرپٹ عدالت کے سامنے لایا ہوں، اب عدالت دیکھ لے کہ یہ سزا معطلی کا مثالی کیس ہے یا نہیں۔جج نے کہا کہ فیصلہ کر چکا ہوں، اب آپ کو نہیں سن سکتا، جج نے مجھے مکمل نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ سنانا شروع کر دیا،ہم نے کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف دو درخواستیں دائر کیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کیا،ٹرائل کورٹ نے ہمیں سماعت کا مناسب موقع دیے بغیر ہی فیصلہ سنا دیا،

    عمران خان کی توشہ خانہ میں سزا کو فوری طور پر معطلی کی درخواست مسترد کر دی گئی،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کل میں نے میڈیکل چیک اپ کروانا ہے شاید میں کل دستیاب نہ ہوں، چھٹیوں کے بعد درخواست کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کر رہے، آپ فکر نہ کریں اگلے چار پانچ دنوں میں درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کردیں گے،

    قبل ازیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہائیکورٹ بار روم آمد ہوئی،چیف جسٹس نے ہائیکورٹ سے بار روم جانے کے راستے کا افتتاح کیا ،بار روم سے ہائیکورٹ کی جانب جانے والے گیٹ افتتاح کے بعد کھول دیا گیا .گیٹ کھلنے سے بار روم سے بآسانی ہائیکورٹ تک رسائی ہوسکے گی صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار نوید ملک کی دعوت پر ججز نے بار روم کا دورہ کیا ، چیف جسٹس کے ساتھ دیگر ججز بھی شامل تھے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ،جسٹس طارق محمود جہانگیری بھی افتتاحی تقریب میں شریک تھے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی افتتاحی تقریب میں شریک تھیں ،بار روم میں ججز سے ہائیکورٹ بار کے وکلاء کی ملاقات بھی ہوئی

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • پی ٹی آئی حکومت نے جیل میں خود اے کلاس ختم کی تھی، فیاض الحسن

    پی ٹی آئی حکومت نے جیل میں خود اے کلاس ختم کی تھی، فیاض الحسن

    لاہور: استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما فیاض الحسن چوہان نے کہا ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل میں اے کلاس ڈیمانڈ غیر قانونی اور غیر منطقی ہے۔

    باغی ٹی وی :سابق وزیر اور سابق پی ٹی آئی رہنما فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں جیلوں میں اے کلاس ختم کردی گئی تھی، پی ٹی آئی حکومت نے جیل قوانین تبدیل کرکے خود اے کلاس ختم کی تھی پنجاب جیل رولز کے مطابق اب عام کلاس اور بی کلاس ہوتی ہے، بی کلاس میں ٹی وی، بیڈ، ٹیبل، کرسی اور اخبار کی سہولت ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وکلا نے عمران خان سے جیل میں ملاقات کی تھی، عمران خان نے وکلا سے میٹنگ میں کہا کہ مجھے باہر نکالو، جیل میں نہیں رہنا چاہتاجیل ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان جیل میں رہنے پرپریشان اورناخوش ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پرپھیلائی گئی مختلف ویڈیوز جعلی ہیں۔

    وکیل قتل کیس، عمران خان کو 24 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم

    یاد رہے کہ 5 اگست کو ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے عمران خان کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا تھا اور وہ وہاں سزا کاٹ رہے ہیں۔

    قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے،عدالت