Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عمران خان  کی رہائی کیلئے زیک گولڈ اسمتھ کی عالمی برادری سے اپیل

    عمران خان کی رہائی کیلئے زیک گولڈ اسمتھ کی عالمی برادری سے اپیل

    لندن: بانی نی پی ٹی آئی عمران خان کیلئے زیک گولڈ اسمتھ نے عالمی برادری سے اپیل کردی۔

    باغی ٹی وی زیک گولڈ اسمتھ نے اپنے ایکس اکائونٹ پر کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان پاکستانی عوام کے پسندیدہ ترین لیڈر ہیں،اس وقت پاکستان میں عمران خان کے لئے صورتحال کافی خطر ناک ہوچکی ہے، یہ لوگ اقتدار اور طاقت کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں ان عناصر کی کوئی بھی حرکت عمران خان اور پاکستان کے لئے خطرناک ہوسکتی ہے، اب وقت آچکا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے لئے بھرپور آواز اٹھائی جائے۔

    واضح رہے کہ زیک گولڈ اسمتھ کا ایکس اکاؤنٹ پرٹوئٹ ڈینئیل حنان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کی گئی پوسٹ کے بعد کی گئی جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے آرمی کی جیل میں بھیج دیا گیا ، ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

  • یقین دلاتا ہوں  عمران خان کی پوری حفاظت ہوگی، رانا ثنا اللہ

    یقین دلاتا ہوں عمران خان کی پوری حفاظت ہوگی، رانا ثنا اللہ

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے، بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں-

    باغی ٹی وی: رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے، بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں،حکومت کی جانب سے یقین دلاتا ہوں ان کی پوری حفاظت ہوگی، کھانے اور سہولیات کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کراتے ہیں، پی ٹی آئی والوں کو گرفتار کرنا ہماری ترجیح نہیں تھی، آنسو گیس شیل فائر ہوتے ہی لیڈرشپ نکل گئی، قیادت کے فرار ہونے سے ہمارے لیے آسانی پیدا ہو گئی۔

    انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے فرار پی ٹی آئی قیادت کی بزدلی ہے، ان کا فیصلہ ہی غلط تھا، یہ پروپیگنڈا پارٹی ہے، انہوں نے آج تک اسکے علاوہ کیا کیا ہے؟اپنی حکومت کو رائے دوں گا کہ کے پی میں گورنرراج نہ لگائیں، یہ آئینی اور کسی اور صورت میں اچھا فیصلہ نہیں ہوگا، گورنر راج لگانا صوبے کی صورتحال کو مزید خراب کرنا ہے، علی امین بڑھکیں مارتے رہیں گے، بشری بی بی اور گنڈا پور کے فرار ہونے پر تنقید ہورہی ہے، جذباتی بیانات سے گنڈا پور اپنی پوزیشن بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اسلام آباد کی کوشش تو ہَنُوز دِلّی دُوراَست ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کو کوئی ایسی چیز دی گئی ہے، جس سے ان کا ذہنی توازن بگڑنے کا خطرہ ہے اور ان کی جان کو بھی ’شدید خطرات‘ لا حق ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف کی نگرانی میں عمران خان کا شفاف طبی معائنہ کرواکر ان کی صحت کے حوالے سے آگاہ کیا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کا اس وقت اپنے خاندان سے رابطہ مکمل منقطع ہے، انہیں ضروری طبی سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جارہیں، ان کی خیریت سے متعلق ٹھوس اور قابل اعتماد ثبوت بھی نہیں ہے، عمران خان کی ’تنہائی‘ کے باعث انسانی حقوق کے حوالے سے سنجیدہ تحفظات جنم لیتے دکھائی دیتے ہیں۔

  • عمران  ‏خان کی زندگی کو  بشریٰ بی بی، گنڈا پور اور ان کے حواریوں سے خطرہ ہے،فیصل واوڈا

    عمران ‏خان کی زندگی کو بشریٰ بی بی، گنڈا پور اور ان کے حواریوں سے خطرہ ہے،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر اور موجودہ سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور اور اُن کے حواریوں سے خطرہ ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ میں آج بھی اپنی بات پر کھڑا ہوں کہ ‏خان کی زندگی کو بی بی، گنڈا پور اور ان کے حواریوں سے خطرہ ہے عمران خان کی جان کو خطرے کا پہلا ثبوت مفرور بھگوڑے قاسم سوری کا ٹویٹ ہے جس میں اُس نے خان کے ذہنی توازن کھو بیٹھنے یعنی خان کو پاگل قرار دینے کا بیانیہ بنانے کی شروعات کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اب قوم سمجھ رہی ہے کہ یہ سب مل کر کیا کرنا چاہ رہے ہیں؟ لیکن ہمیں خان کی زندگی عزیز ہے اور ہمیں بانی پی ٹی آئی کو ان لوگوں سے بچانا ہے، دوسری جانب علیمہ خان نے قاسم سوری کے اس گھٹیا ٹویٹ کی تردید کی ہے۔

    فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ گنڈاپور کا جیمز بانڈ کی طرح فرار ہونا ڈرامے بازی ہے بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے منتقل کیا جانا ممکن ہے، بانی کی جان بچانی ہے تو بی بی سے جان چھڑانا ہوگی،جب تک بی بی کی رسائی نہیں ہے خان محفوظ ہے یہ کھلاڑی بڑے عقلمند لوگ ہیں، خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں لگ رہا، پی ٹی آئی اب کئی ماہ تک احتجاج نہیں کرے گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کو کوئی ایسی چیز دی گئی ہے، جس سے ان کا ذہنی توازن بگڑنے کا خطرہ ہے اور ان کی جان کو بھی ’شدید خطرات‘ لا حق ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ میں قاسم خان سوری نے لکھا کہ قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ ’عمران خان کو ایک چھوٹے سے کمرے میں بند کرکے کسی زہریلی چیز کا سپرے کیا گیا ہے، جس کی بو ان کے ذہن پر اثر کر رہی ہے، عمران خان کی طبیعت خراب ہے اور جان کو شدید خطرات لاحق ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف کی نگرانی میں عمران خان کا شفاف طبی معائنہ کرواکر ان کی صحت کے حوالے سے آگاہ کیا جائے۔

  • بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    عمران خان کی بڑی بہن روبینہ خان نے بشریٰ بی بی کی سیاست میں بڑھتی ہوئی مداخلت پر ردعمل دیتے ہوئے ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کا سیاست میں کردار ادا کرنا کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ روبینہ خان کے مطابق، بشریٰ بی بی کا سیاسی عمل میں شامل ہونا اور فیصلوں میں حصہ لینا پچھلے کچھ سالوں سے جاری ہے، اور اس کا آغاز پنجاب میں سسٹم چلانے کے عمل سے ہو چکا تھا، جہاں بشریٰ بی بی نے عثمان بزدار اور فرح گوگی کے ذریعے سیاسی معاملات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

    روبینہ خان نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ بشریٰ بی بی کا سیاست میں بڑھتا ہوا کردار کوئی نیا معاملہ نہیں ہے، بلکہ مشال یوسفزئی کو بشریٰ بی بی کی "نئی فرح گوگی” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو کہ ایک تشویشناک اشارہ ہے۔ جیل میں قید ہونے کے باوجود بشریٰ بی بی نے مشال یوسفزئی کے ذریعے سیاست میں مداخلت کرنا جاری رکھا، اور اس کے ذریعے نہ صرف فیصلے کیے بلکہ حکومتی عہدوں پر تقرریاں بھی کیں۔ بشریٰ بی بی علی امین گنڈاپور کے ساتھ سیاسی اعلانات اور خطابات کرتی رہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی سیاسی سرگرمیاں صرف ایک محض عہدے کی حد تک محدود نہیں رہیں، بلکہ وہ اہم فیصلوں میں شریک رہی ہیں۔

    پرانے پاکستان کی گندگی سے نیا پاکستان نہیں بن سکتا۔ روبینہ خان
    عمران خان کی بڑی بہن روبینہ خان نے ایک اور اہم نکتہ اٹھایا کہ پی ٹی آئی کے بانی کی بہنوں کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے، اور نہ ہی ان کا سیاست میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف اپنے بھائی کو سیاست میں ہونے والے نقصان سے بچانا اور اس کی ساکھ کو برقرار رکھنا ہے۔ روبینہ خان نے یہ بھی کہا کہ ان کی بہنوں کا کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ مقابلہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ حکومتی عہدوں کے ذریعے مال کمانا چاہتی ہیں۔روبینہ خان نے نیا پاکستان اور پرانے پاکستان کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ کہا ہے کہ پرانے پاکستان کی گندگی سے نیا پاکستان نہیں بن سکتا۔

    روبینہ خان نے اپنے بیان میں بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت، ان کے ذریعے فیصلوں کی منظوری اور تقرریوں کے عمل پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بہنوں کا سیاست میں کسی قسم کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اور ان کا واحد مقصد اپنے بھائی کی ساکھ کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، روبینہ خان نے نیا پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پرانے پاکستان کی گندگی کو دور کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

    اس بیان سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ روبینہ خان بشریٰ بی بی کی بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کر رہی ہیں اور اپنے بھائی کی ساکھ کو محفوظ رکھنے کے لیے کسی بھی سیاستی سازش یا خلفشار کا حصہ نہیں بننا چاہتیں۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • اڈیالہ جیل،وکلا کی عمران خان سے ملاقات نہ ہو سکی

    اڈیالہ جیل،وکلا کی عمران خان سے ملاقات نہ ہو سکی

    اڈیالہ جیل جانے والی عمران خان کی وکلاء ٹیم کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔

    ایڈوکیٹ فیصل چودھری اور محمد فیصل ملک اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئے،اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے مختصر بات چیت میں فیصل چودھری کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کےمطابق اڈیالہ جیل کے باہر پہنچے ہیں جیل حکام عدالتی آرڈر لینے سے ہچکچارہے ہیں میں نےعرض کیاہےکہ حکم کیمطابق عمران خان تک رسائی دی جائے۔تاکہ انکی اصل صورتحال کاپتہ چل سکے اور ان سے مقدمات کے سلسلے میں مزید ہدایات لی جا سکیں وکلاء سے ملاقات انکا آئینی حق ہے،

    گزشتہ روز سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور آج انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں عمران خان سے ملاقات کی درخواست دی گئی تھی،انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے وکلاء کی ملاقات کیلئے جیل سپرینڈنٹ کو ہدایت کردی تھی،بانی پی ٹی آئی کے وکلاء نے اے ٹی سی میں ملاقات کیلئے درخواست دی تھی۔ عدالت نے ایڈووکیٹ محمد فیصل ملک، غلام حسنین، اور راجہ متین کی ملاقات کیلئے احکامات جاری کردئیے تھے، عدالت نے حکم نامہ میں کہا کہ ملزم اس وقت عدالتی تحویل میں نہیں راولپنڈی پولیس کی تحویل میں ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل وکلاء کو تھانہ نیو ٹاون کے مقدمے کے تفتیشی افسر تک رسائی دے، وکلاء ملزم کا حالیہ جسمانی ریمانڈ چیینج کرنا چاہتے ہیں تفتیشی افسر سے ملاقات کروائی جائے

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    تحریک انصاف کی 27 نومبر کو ہونے والی ایک اہم زوم میٹنگ کی اندر کی کہانی سامنے آئی ہے، جس میں پارٹی کے اہم رہنماؤں،عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور آج استعفیٰ دینے والے پارٹی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے درمیان سخت لفظی جنگ ہوئی۔ سینئر صحافی عمار سولنگی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں پی ٹی آئی زوم اجلاس کی ساری تفصیلات شیئر کی ہیں

    ذرائع کے مطابق، زوم پر پی ٹی آئی میٹنگ کے دوران بشری بی بی نے سلمان اکرم راجہ کو انتہائی بدتمیزی سے یہ کہا کہ "میں تو ڈی چوک پر تھی، تم کہاں تھے؟” جس پر سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا: "بی بی! میں عمران خان کا حکم مانوں گا، تمہارا نہیں! عمران خان کے حکم کے مطابق ہم نے سنگ جانی میں جلسہ کرنا تھا، ڈی چوک میں نہیں!”اس پر بشری بی بی نے انتہائی غصے میں آ کر کہا: "ڈی چوک جانے کا فیصلہ میرا تھا! تم کون ہوتے ہو میرا فیصلہ نہ ماننے والے؟ جب علی امین گنڈا پور نے میرا فیصلہ مانا اور پارٹی کے ہزاروں کارکنوں نے میرا فیصلہ مانا تو تم بدمعاش ہو؟”

    اس پر سلمان اکرم راجہ نے جوابی ردعمل دیتے ہوئے کہا: "بی بی، بدمعاش تو تم ہو! نہ صرف بدمعاش ہو بلکہ بدکردار بھی ہو! تمہارے ماضی سے میں پوری طرح واقف ہوں! میرا منہ مت کھلواؤ، ورنہ میں بتاؤں گا کہ تمہارے پیچھے کون سی اندرونی اور بیرونی عوامل کار فرما ہیں! صرف عمران خان کی بیوی ہونے کی وجہ سے ہم تمہاری عزت کرتے ہیں۔”

    بشری بی بی نے سلمان اکرم راجہ سے کہا: "عمران خان میری وجہ سے تمہاری عزت کرتا ہے۔ اگر میں عمران خان کو کہوں تو وہ تمہیں اپنی جوتی کی نوک پر بھی نہ رکھے۔ تم وکیلوں کی اوقات کیا ہے؟ چار ٹکے کے وکیلوں نے پوری پارٹی پر قبضہ جمایا ہوا ہے! نہ تم سے لوگ نکلتے ہیں، نہ تم سے کیس جیتے جاتے ہیں اور تم ہمارے لیے مفت کام نہیں کرتے، ہم تمہیں پیسے دیتے ہیں!”اس پر سلمان اکرم راجہ نے برہمی کے ساتھ کہا: "اپنی سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے کہ میں سروسز بھیجتا ہوں یا نہیں۔ اس لیے اپنی بکواس اپنے پاس رکھیں اور میرے ساتھ منہ نہ لگائیں!”

    بشریٰ بی بی کور کمیٹی اجلاس میں تھوڑی دیر شریک ہوئیں تا ہم وہ بہت غصے میں تھیں، بشریٰ بی بی نے پارٹی رہنماؤں کے لئے بے شرم اور بے غیرت کے الفاظ استعمال کئے، پی ٹی آئی رہنما خاموشی سے سنتے رہے تاہم سلمان اکرم راجہ نے بشریٰ بی بی کو کھری کھری سنائیں،سلمان اکرم راجہ نے بشریٰ کے جانےکے بعد پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ وہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل ہیں، کسی خاندان کےملازم نہیں ہیں.

    اس کے بعد باقی قیادت نے معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی، مگر صورتحال کشیدہ رہی۔ سلمان اکرم راجہ نے شکایت لے کر عمران خان کے پاس جانے کی کوشش کی، مگر عمران خان نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا،بعد ازاں، سلمان اکرم راجہ نے پارٹی سے استعفیٰ جمع کر دیا۔

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • گرفتاری کا خوف،کوئی پی ٹی آئی رہنما ملاقات کے دن بھی عمران کو ملنے نہ آیا

    گرفتاری کا خوف،کوئی پی ٹی آئی رہنما ملاقات کے دن بھی عمران کو ملنے نہ آیا

    گرفتاری کا خوف،عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لئے کوئی پارٹی رہنما نہ آیا، آج جمعرات کو عمران خان سے ملاقات کا دن تھا لیکن کوئی بھی ملاقات کے لیے نہ پہنچا، جیل ذرائع کے مطابق، جنرل سیکریٹری پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے جیل حکام سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، لیکن انہیں عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے ابھی تک کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔

    عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے جیل انتظامیہ سے ملاقات کے لیے درخواست کی ہے۔ فیصل چوہدری نے اس حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ عمران خان کی خیریت سے متعلق شدید تشویش کا شکار ہیں اور ان سے فوری طور پر ملاقات کروانے کی درخواست کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ درخواست کو واٹس ایپ کے ذریعے بھی جیل حکام تک پہنچایا گیا ہے تاکہ ملاقات کی اجازت حاصل کی جا سکے۔

    جیل ذرائع کے مطابق، عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل کی تحویل میں نہیں ہیں، بلکہ وہ راولپنڈی پولیس کی حراست میں ہیں۔ عمران خان جسمانی ریمانڈ پر راولپنڈی پولیس کے پاس ہیں، اس صورت حال کے پیش نظر جیل انتظامیہ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ عمران خان سے ملاقات کرائیں۔اگر کوئی شخص عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتا ہے، تو انہیں راولپنڈی پولیس سے رابطہ کرنا ہو گا کیونکہ اس وقت ان کی حراست راولپنڈی پولیس کے پاس ہے، نہ کہ اڈیالہ جیل کے انتظامیہ کے پاس۔

    ڈی چوک کے بھگوڑوں نے عمران خان کو بھی اڈیالہ جیل میں تنہا چھوڑ دیا ،جیل میں ملاقات کا دن عمران خان بشریٰ ،علیمہ اورپارٹی رہنماؤں کی راہ تکتے رہے،مگر کوئی بھی ملنے نہ آیا، پی ٹی آئی رہنماؤں نے گرفتاری کے ڈر کے پیش نظر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی زحمت نہ کی، بانی پی ٹی آئی سے پارٹی رہنماؤں کے علاوہ اہل خانہ میں سے کوئی بھی نہیں آیا ، سیاسی جانشینی کی دوڑ میں شامل بشریٰ بی بی اور علیمہ خان بھی ملنے نہ آئیں ،کچھ عرصے سے ملاقات کے لئے آنے والے موقع پر ہی درخواست دے کر بانی پی ٹی آئی سے مل رہے تھے،تاہم آج کوئی بھی ملاقات کے لئے نہ آیا.

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • پی ٹی آئی احتجاج،عمران،بشریٰ،گنڈاپور سمیت 75 رہنماؤں پر مقدمہ درج

    پی ٹی آئی احتجاج،عمران،بشریٰ،گنڈاپور سمیت 75 رہنماؤں پر مقدمہ درج

    پی ٹی آئی احتجاج،عمران خان، بشریٰ بی بی اور گنڈاپور سمیت 75 پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا،

    علیمہ خان، حماد اظہر، اسد قیصر، شہریار ریاض سمیت 75 پی ٹی آئی رہنماؤں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔تحریک انصاف کے احتجاج پر راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد میں ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں عارف علوی عمر ایوب خورشید خان سمیت کئی رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔مقدمہ تھانہ صادق آباد میں انسداد دیشتگردی ایکٹ کی دفعات کے تحت درج کیاگیا،مقدمہ میں اقدام قتل،کارسرکار مزاحمت سمیت تعزیرات پاکستان کی 14دفعات بھی شامل کی گئی ہیں

    مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے 22 نومبر کو اڈیالہ جیل میں پارٹی رہنماؤں سے ملاقات میں عوام کو اسلام آباد میں چڑھائی کیلئے اکسایا جبکہ بشریٰ بی بی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان سے کارکنان کو اشتعال دلایا،ملزمان نے سازش کے تحت سڑکیں بلاک کر کے عوام کا راستہ روکا، ملزمان نے پولیس افسران پر ڈنڈوں، غلیل، کانچوں اور پتھروں سے حملہ کیا،مقدمے میں دہشت گردی سمیت مجموعی طور پر 16 دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    قبل ازیں وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے بعد پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سمیت پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مجموعی طور پر 8 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں انسداد دہشت گردی، اسمبلی ایکٹ کی خلاف ورزی، پولیس پر حملوں، اور اغوا کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج کیے جانے والے مقدمات میں تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور، سلمان اکرم راجہ، اور شیخ وقاص سمیت پارٹی کے بانی عمران خان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ، ہزاروں نامعلوم افراد بھی ان مقدمات میں شامل کیے گئے ہیں۔اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج کیے جانے والے مقدمات میں درج دفعات میں کار سرکار میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی، پولیس اہلکاروں پر حملے اور عوامی تحفظ کے لئے نافذ قوانین کی خلاف ورزی جیسے الزامات شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سرکاری عملے کو ہراساں کرنے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے کے حوالے سے کارروائی کی گئی۔

    احتجاج سے گرفتار پی ٹی آئی شرپسند کھل کر بول پڑے،سب بتا دیا

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    تحریک انصاف کے حالیہ اسلام آباد احتجاج کی ناکامی کے بعد پارٹی میں شدید اختلافات نے جنم لیا ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق سینئر رہنماؤں کے درمیان ناقص منصوبہ بندی اور مظاہرے کی غیر مؤثر حکمت عملی پر الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔

    پارٹی کے کچھ رہنما بشریٰ بی بی کو احتجاج کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، جنہوں نے ڈی چوک جانے پر اصرار کیا تھا۔پارٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والا یہ احتجاج عمران خان کی رہائی اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تھا، تاہم پارٹی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ اس ناکامی کے نتیجے میں مختلف دھڑوں میں اختلافات بڑھ گئے ہیں۔کچھ سینئر رہنماؤں نے مرکزی قیادت پر حکمت عملی کی کمی کا الزام عائد کیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پارٹی میں اختلافات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کامیاب رہا، اور انھوں نے اسے پاکستان کا سب سے بڑا مارچ قرار دیا، حالانکہ اس دوران کئی مشکلات اور طاقت کے استعمال کا سامنا کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکنان ڈی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، لیکن حکومت کی جانب سے براہ راست فائرنگ کی گئی،پی ٹی آئی خونریزی کی حمایت نہیں کرتی، اور وفاقی و پنجاب حکومت کے غیر قانونی اور جابرانہ رویے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ کے ترجمان اور مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے پہلے ہی انکشاف کیا تھا کہ عمران خان سنگجانی میں جلسے پر راضی تھے، مگر بشریٰ بی بی نے اختلاف کیا جس کے باعث پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا۔

    پارٹی کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی بھی اس صورتحال پر ناراض نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ عمران خان نے سنگجانی میں جلسے پر رضامندی ظاہر کی تھی، مگر بشریٰ بی بی نے ڈی چوک جانے کی ضد کی، جس سے پارٹی کو بھاری نقصان ہوا۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی بشریٰ بی بی چلائیں گی یا قیادت چلائے گی؟ اگر قیادت کے پاس اتنا اختیار نہیں تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ڈی چوک واقعے پر بہت افسوس ہوا، اور پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت کہاں غائب تھی؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ڈی چوک میں بیٹھ بھی جاتے تو ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ پشاور سے روانہ ہونے سے پہلے مشاورتی کمیٹی کیوں نہیں بنائی گئی؟ بدقسمتی سے جو لوگ پارٹی کی قیادت کر رہے تھے، وہ جلوس کی قیادت کے لیے نہیں آئے۔ علی امین گنڈاپور نے پارٹی اور کارکنوں کے دباؤ کو برداشت کیا، اور اب پارٹی کو سوچنا چاہیے کہ جو اصل چہرے ہیں، وہ کیوں پیچھے دھکیل دیے گئے؟شوکت یوسفزئی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں کیے گئے؟ حکومت کو اتنا ظلم اور بربریت نہیں کرنی چاہیے تھی۔

    پارٹی کے ایک اہم رہنما نے بتایا کہ اختلافات کا ایک بڑا سبب احتجاج کی منصوبہ بندی تھی۔ بعض رہنماؤں نے زیادہ جارحانہ موقف اختیار کرنے پر زور دیا، جبکہ دیگر نے قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے کسی ایک مقام پر جلسے کی حمایت کی۔ اسلام آباد میں مظاہرے میں شریک افراد کی کم تعداد اور ناکافی انتظامات نے بھی احتجاج کی کامیابی پر منفی اثر ڈالا۔ دور دراز سے آنے والے کارکنوں نے انتظامات کی کمی اور ناقص سہولتوں پر مایوسی کا اظہار کیا۔

    علاوہ ازیں علی محمد خان احتجاج میں کیوں نہیں آئے؟ سینئر لیڈر شپ کہاں تھی؟ سیاسی کمیٹی نے احتجاج کیلئے کونسی جگہ منتخب کی؟؟ علی محمد خان کی آڈیو سامنے آئی ہیں جس میں علی محمد خان کہتے ہیں کہ شروع میں آڈیالہ جاتا رہا ہوں، مسائل میں مصروف تھا،ہم چاہتے تھے کہ مذاکرات کیساتھ بانی چیئرمین کی رہائی کا مسئلہ حل کرے، سیاسی کمیٹی نے عارضی طور پر احتجاج موخر کرنے کا کہا تھا،سیاسی کمیٹی نے اسلام آباد کے باہر احتجاج کرنے کا کہا تھامیری رائی تھی اسلام آباد میں داخل ہوکر احتجاج نہ کیا جائے، مجھے بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد رکنے کا کہا تھا،بانی چیئرمین سے ملاقاتوں اور مذاکرات کیلئے مجھے اسلام آباد میں رکوایا گیا تھا، اسلام آباد سے باہر احتجاج کرتے تو ہائیکورٹ کا آرڈر ہم پر لاگو نہ ہوتا،

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان ، دیگر ملزمان پر چوتھی بار فردجرم کی کاروائی مؤخر

    جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان ، دیگر ملزمان پر چوتھی بار فردجرم کی کاروائی مؤخر

    نومئی ،جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم چوتھی بار مؤخر ہوگئی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کیس کی سماعت کی۔ کیس میں مزید 10 ملزمان نے عدم ثبوت کی بنیاد پر بریت کی درخواستیں دائر کر دی ہیں۔آج بھی عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فردجرم عائد نہ ہو سکی،ملزمان کی عدم حاضری کے باعث فرد جرم کی کاروائی ایک بار پھر موخر کر دی گئی، پراسیکیوٹر نوید ملک نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کر کے گرفتاری کا حکم دیا جائے،

    عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سپیشل پراسیکیوٹر راجہ اکرام امین منہاس کا کہنا تھاکہ ہمارے پاس مکمل ثبوت ہیں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جی ایچ کیو پر حملہ نہیں ہوا، اگر آپ سچے ہیں تو عدالت کا سامنا کیوں نہیں کر رہے۔ آج بھی ملزمان کی کوشش ہے کہ سماعت میں تاخیر ہو، ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں، ملزمان نے آج بھی حاضری سے استثنا کی درخواست کی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ عدالت کے ماحول کو خراب کیا جائے اس کیس میں 119 ملزمان ہیں اور حاضری مکمل نہ ہو تو فرد جرم نہیں لگ سکتی، ہم نے عدالت سے کہا ہے کہ ان کی ضمانتیں منسوخ کی جائیں کیونکہ یہ ضمانتوں کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب ناکام ہو چکے ہیں، سب بے آبرو ہو چکے ہیں، ایک شخص سب کی آبرو کیلئے کھڑا ہے، عمران خان نے کال دی تو دوبارہ اسلام آباد کی جانب رخ کریں گے احتجاج شہریوں کا بنیادی حق ہے، پاکستان کے آئین سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے، ہارے ہوئے لشکر کی حکومت کو بٹھایا گیا، ماڈل ٹاؤن اور اسلام آباد جیسے واقعات کیے، جن لوگوں کو بٹھایا گیا ان لوگوں نے سرعام قتل کیے، سپریم کورٹ بار کونسل کی حمایت کرتا ہوں، ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے، خون کو چھپایا نہیں جا سکتا، یہ لوگ اللہ کی عدالت میں بھی پیش ہوں گے،

    قلات میں دہشت گردوں کا حملہ، 7 سیکیورٹی اہلکار شہید

    برطانیہ سے آئے شخص کے قتل میں بیوی ملوث نکلی

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے لیے شاہ محمود کو عدالت پہنچا دیا گیا