Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    تحریک انصاف کے حالیہ اسلام آباد احتجاج کی ناکامی کے بعد پارٹی میں شدید اختلافات نے جنم لیا ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق سینئر رہنماؤں کے درمیان ناقص منصوبہ بندی اور مظاہرے کی غیر مؤثر حکمت عملی پر الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔

    پارٹی کے کچھ رہنما بشریٰ بی بی کو احتجاج کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، جنہوں نے ڈی چوک جانے پر اصرار کیا تھا۔پارٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والا یہ احتجاج عمران خان کی رہائی اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تھا، تاہم پارٹی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ اس ناکامی کے نتیجے میں مختلف دھڑوں میں اختلافات بڑھ گئے ہیں۔کچھ سینئر رہنماؤں نے مرکزی قیادت پر حکمت عملی کی کمی کا الزام عائد کیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پارٹی میں اختلافات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کامیاب رہا، اور انھوں نے اسے پاکستان کا سب سے بڑا مارچ قرار دیا، حالانکہ اس دوران کئی مشکلات اور طاقت کے استعمال کا سامنا کرنا پڑا۔ان کا کہنا تھا کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکنان ڈی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، لیکن حکومت کی جانب سے براہ راست فائرنگ کی گئی،پی ٹی آئی خونریزی کی حمایت نہیں کرتی، اور وفاقی و پنجاب حکومت کے غیر قانونی اور جابرانہ رویے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ کے ترجمان اور مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے پہلے ہی انکشاف کیا تھا کہ عمران خان سنگجانی میں جلسے پر راضی تھے، مگر بشریٰ بی بی نے اختلاف کیا جس کے باعث پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا۔

    پارٹی کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی بھی اس صورتحال پر ناراض نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ عمران خان نے سنگجانی میں جلسے پر رضامندی ظاہر کی تھی، مگر بشریٰ بی بی نے ڈی چوک جانے کی ضد کی، جس سے پارٹی کو بھاری نقصان ہوا۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی بشریٰ بی بی چلائیں گی یا قیادت چلائے گی؟ اگر قیادت کے پاس اتنا اختیار نہیں تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ڈی چوک واقعے پر بہت افسوس ہوا، اور پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت کہاں غائب تھی؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ڈی چوک میں بیٹھ بھی جاتے تو ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ پشاور سے روانہ ہونے سے پہلے مشاورتی کمیٹی کیوں نہیں بنائی گئی؟ بدقسمتی سے جو لوگ پارٹی کی قیادت کر رہے تھے، وہ جلوس کی قیادت کے لیے نہیں آئے۔ علی امین گنڈاپور نے پارٹی اور کارکنوں کے دباؤ کو برداشت کیا، اور اب پارٹی کو سوچنا چاہیے کہ جو اصل چہرے ہیں، وہ کیوں پیچھے دھکیل دیے گئے؟شوکت یوسفزئی نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں کیے گئے؟ حکومت کو اتنا ظلم اور بربریت نہیں کرنی چاہیے تھی۔

    پارٹی کے ایک اہم رہنما نے بتایا کہ اختلافات کا ایک بڑا سبب احتجاج کی منصوبہ بندی تھی۔ بعض رہنماؤں نے زیادہ جارحانہ موقف اختیار کرنے پر زور دیا، جبکہ دیگر نے قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے کسی ایک مقام پر جلسے کی حمایت کی۔ اسلام آباد میں مظاہرے میں شریک افراد کی کم تعداد اور ناکافی انتظامات نے بھی احتجاج کی کامیابی پر منفی اثر ڈالا۔ دور دراز سے آنے والے کارکنوں نے انتظامات کی کمی اور ناقص سہولتوں پر مایوسی کا اظہار کیا۔

    علاوہ ازیں علی محمد خان احتجاج میں کیوں نہیں آئے؟ سینئر لیڈر شپ کہاں تھی؟ سیاسی کمیٹی نے احتجاج کیلئے کونسی جگہ منتخب کی؟؟ علی محمد خان کی آڈیو سامنے آئی ہیں جس میں علی محمد خان کہتے ہیں کہ شروع میں آڈیالہ جاتا رہا ہوں، مسائل میں مصروف تھا،ہم چاہتے تھے کہ مذاکرات کیساتھ بانی چیئرمین کی رہائی کا مسئلہ حل کرے، سیاسی کمیٹی نے عارضی طور پر احتجاج موخر کرنے کا کہا تھا،سیاسی کمیٹی نے اسلام آباد کے باہر احتجاج کرنے کا کہا تھامیری رائی تھی اسلام آباد میں داخل ہوکر احتجاج نہ کیا جائے، مجھے بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد رکنے کا کہا تھا،بانی چیئرمین سے ملاقاتوں اور مذاکرات کیلئے مجھے اسلام آباد میں رکوایا گیا تھا، اسلام آباد سے باہر احتجاج کرتے تو ہائیکورٹ کا آرڈر ہم پر لاگو نہ ہوتا،

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان ، دیگر ملزمان پر چوتھی بار فردجرم کی کاروائی مؤخر

    جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان ، دیگر ملزمان پر چوتھی بار فردجرم کی کاروائی مؤخر

    نومئی ،جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم چوتھی بار مؤخر ہوگئی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کیس کی سماعت کی۔ کیس میں مزید 10 ملزمان نے عدم ثبوت کی بنیاد پر بریت کی درخواستیں دائر کر دی ہیں۔آج بھی عمران خان سمیت دیگر ملزمان پر فردجرم عائد نہ ہو سکی،ملزمان کی عدم حاضری کے باعث فرد جرم کی کاروائی ایک بار پھر موخر کر دی گئی، پراسیکیوٹر نوید ملک نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کر کے گرفتاری کا حکم دیا جائے،

    عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سپیشل پراسیکیوٹر راجہ اکرام امین منہاس کا کہنا تھاکہ ہمارے پاس مکمل ثبوت ہیں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جی ایچ کیو پر حملہ نہیں ہوا، اگر آپ سچے ہیں تو عدالت کا سامنا کیوں نہیں کر رہے۔ آج بھی ملزمان کی کوشش ہے کہ سماعت میں تاخیر ہو، ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں، ملزمان نے آج بھی حاضری سے استثنا کی درخواست کی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ عدالت کے ماحول کو خراب کیا جائے اس کیس میں 119 ملزمان ہیں اور حاضری مکمل نہ ہو تو فرد جرم نہیں لگ سکتی، ہم نے عدالت سے کہا ہے کہ ان کی ضمانتیں منسوخ کی جائیں کیونکہ یہ ضمانتوں کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب ناکام ہو چکے ہیں، سب بے آبرو ہو چکے ہیں، ایک شخص سب کی آبرو کیلئے کھڑا ہے، عمران خان نے کال دی تو دوبارہ اسلام آباد کی جانب رخ کریں گے احتجاج شہریوں کا بنیادی حق ہے، پاکستان کے آئین سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے، ہارے ہوئے لشکر کی حکومت کو بٹھایا گیا، ماڈل ٹاؤن اور اسلام آباد جیسے واقعات کیے، جن لوگوں کو بٹھایا گیا ان لوگوں نے سرعام قتل کیے، سپریم کورٹ بار کونسل کی حمایت کرتا ہوں، ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے، خون کو چھپایا نہیں جا سکتا، یہ لوگ اللہ کی عدالت میں بھی پیش ہوں گے،

    قلات میں دہشت گردوں کا حملہ، 7 سیکیورٹی اہلکار شہید

    برطانیہ سے آئے شخص کے قتل میں بیوی ملوث نکلی

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے لیے شاہ محمود کو عدالت پہنچا دیا گیا

  • پر تشدد احتجاج،عمران،بشریٰ،گنڈاپور و دیگر پر اسلام آباد میں 8 مقدمے درج

    پر تشدد احتجاج،عمران،بشریٰ،گنڈاپور و دیگر پر اسلام آباد میں 8 مقدمے درج

    وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے بعد پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سمیت پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مجموعی طور پر 8 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں انسداد دہشت گردی، اسمبلی ایکٹ کی خلاف ورزی، پولیس پر حملوں، اور اغوا کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج کیے جانے والے مقدمات میں تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور، سلمان اکرم راجہ، اور شیخ وقاص سمیت پارٹی کے بانی عمران خان کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ، ہزاروں نامعلوم افراد بھی ان مقدمات میں شامل کیے گئے ہیں۔اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج کیے جانے والے مقدمات میں درج دفعات میں کار سرکار میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی، پولیس اہلکاروں پر حملے اور عوامی تحفظ کے لئے نافذ قوانین کی خلاف ورزی جیسے الزامات شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران سرکاری عملے کو ہراساں کرنے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے کے حوالے سے کارروائی کی گئی۔

    یہ مقدمات اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج کیے گئے ہیں،تھانہ شہزاد ٹاؤن،تھانہ سہالہ،تھانہ بنی گالہ،تھانہ کھنہ،تھانہ شمس کالونی،تھانہ ترنول،تھانہ نون،تھانہ نیلور میں درج ایف آئی آرز میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں عوامی امن کو متاثر کرنے اور ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم کی کوششیں شامل ہیں۔مظاہروں کے دوران دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے تحت اسلام آباد میں کسی بھی قسم کے عوامی اجتماع کو منع کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اس پابندی کو نظرانداز کرتے ہوئے شہر میں احتجاج کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کی۔

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • عمران خان جیل میں ،ولیم ہیگ آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر منتخب

    عمران خان جیل میں ،ولیم ہیگ آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر منتخب

    ٹوری کے سابق سیکرٹری خارجہ لارڈ ولیم ہیگ کو آکسفورڈ یونیورسٹی کا اگلا چانسلر منتخب کر لیا گیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق لارڈولیم ہیگ آکسفورڈ یونیورسٹی کی 800 سالہ تاریخ میں160 ویں چانسلر منتخب ہوئے ہیں، وہ آئندہ برس کےآغاز میں 10 برس کے لیے چانسلرکا عہدہ سنبھالیں گے۔ولیم ہیگ نے 50 فیصد ووٹ حاصل کرکے چار دیگر شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کو شکست دی، ولیم ہیگ برطانیہ کے سابق وزیرخارجہ اور کنزرویٹو پارٹی کے مرکزی لیڈر بھی رہ چکے ہیں۔خیال رہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے بھی آکسفورڈ یونیورسٹی کی چانسلر شپ کے لیے کاغذات جمع کروائے تھے، تاہم یونیورسٹی کی جانب سے جاری ہونے والی حتمی فہرست میں عمران خان کا نام شامل نہیں تھا۔

    فضل الرحمان کی اسلام آباد میں پرتشدد واقعات کی مذمت

    ایف آئی اے چھاپہ، مینیجر سمیت 2 ملزمان گرفتار

    جلا ہوا پی ٹی آئی کا کنٹینر لوگ دیکھنے پہنچ گئے

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کی کاز لسٹ منسوخ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کی کاز لسٹ منسوخ

    اسلام آباد: توشہ خانہ ون کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف تاجروں کی درخواست پر سماعت کی کازلسٹ بھی منسوخ کردی گئی ہے مقدمات پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہیں ہو سکی۔

    توشہ خانہ ون کیس میں اپیلوں پر چیف جسٹس اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کرنا تھی ، جس کے لیے نیب ٹیم پراسیکیوٹر رافع مقصود اور دیگر ہائیکورٹ پہنچے تھےنیب پراسیکیوٹر کے مطابق عدالتی عملے نے آگاہ کیا کہ چیف جسٹس دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے آج توشہ خانہ ون کیس کی سماعت کی کازلسٹ منسوخ ہوگئی ہے۔

    چیف جسٹس کی عدالت کے سنگل اور ڈویژن بینچ کی تمام کاز لسٹ منسوخ ہونے کے بعد نئی کاز لسٹ بعد میں جاری کی جائے گی۔

  • عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : 9 مئی کے 8 مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت میں ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل کے روبرو پیش ہوئے۔

    بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رائے کا غلط ری ایکشن عوام کی طرف سے آیا، بانی پی ٹی آئی کے 240 سے زائد مقدمات میں وکالت میں دے چکا ہوں ایک ملزم کے خلاف ہر طرح کے کیس رجسٹر ہوئے، کوئی ایسی دفعہ نہیں جس کے تحت مقدمہ درج نہ ہوا ہو۔ سائفر کا مقدمہ سپریم کورٹ تک گیا، باقی تمام میں ریلیف ماتحت عدالتوں سے ملا۔

    بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ میں آپ سے ڈسچارج یا مقدمے کا اخراج نہیں مانگ رہا، آپ یہ سہولیات دے بھی نہیں سکتے۔ کافی عرصے سے ملزم قید ہے، میں عدالت سے ضمانت مانگ رہا ہوں، پرویز مشرف کے میڈیکل پیش کیے، ان کو سچ ثابت کرنے کے لیے انہیں دنیا چھوڑنی پڑی اس کے بعد سب کو یقین آیا کہ تمام میڈیکل درست تھے بانی پی ٹی آئی کی 9 تا 12 مئی نیب کی تحویل میں ہونے پر ججز نے ریلائے کیا ہے۔

    اسپیشل پراسیکیوٹر راؤ عبدالجبار نے اپنے دلائل میں کہا کہ تمام کیسز سرکار سے بغاوت اور حساس تنصیبات پر حملے کے ہیں۔ جو فیصلے پیش کیے گئے ان کا ان کیسز سے تعلق نہیں ہے برطانوی قانون کے مطابق بادشاہ قابل مواخذہ نہیں ہے ملزم کوئی بادشاہ نہیں ہے ملزم کے اشارے پر 200 تنصیبات پر حملے کیے گئے سوشل میڈیا پر کہا گیا کہ آج حقیقی جہاد کا دن ہے بھارت کے ٹی وی چینل بھی یہی خبر چلاتے رہے۔

    پراسیکیوٹر نے دلائل میں کہا کہ کینٹ کی مخصوص جگہوں پر عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے ماڈرن ڈیوائس ہر شخص کے پاس ہے جو لوکیشن اور پیغامات بتاتی ہے، پی سی ہوٹل، آواری ہوٹل یا انارکلی میں دودھ دہی کی دکان پر حملہ کیونکر نہیں کیا گیا، فوجی تنصیبات ہی پر حملے کیے گئے کرنل شیر خان شہید کے مجسمے کو لاتیں ماری گئیں، جنہوں نے ملک کی حفاظت کے لیے جان کی قربانی دی یہ جنگ اور حملے آج بھی جاری ہیں، رینجر اور پولیس اہلکار شہید ہوئے، جب کہ ملزم کہتا ہے کہ میں تو جیل میں ہوں۔

    پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے مزید کہا گیا کہ ملزم 7 مئی کو جب سازش ہوئی جیل میں نہیں تھا، ملزم کی درخواست ضمانت خارج کی جائے، بعد ازاں عدالت نے پراسیکیوشن اور ملزم کے وکیل کے ضمانت کی درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • بشریٰ بی بی کی ہٹ دھرمی،تحریک انتشار کا فساد، حساب کون لے گا

    بشریٰ بی بی کی ہٹ دھرمی،تحریک انتشار کا فساد، حساب کون لے گا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لئے بشریٰ بی بی ،علی امین گنڈا پور اسلام آباد پہنچ چکے ہیں،
    خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل سے ہزاروں افراد کے ساتھ اسلام آباد پہنچنے والی پی ٹی آئی قیادت نے اس بار پھر سانحہ نومئی کو دوہرا دیا،دو پولیس اہلکار شہید ہوئے تو وہیں پی ٹی آئی شرپسند نے تین رینجرز اہلکاروں کو گاڑی کے ذریعے کچل کر شہید کر دیا،اسلام آباد میں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، پنجاب میں داخل ہوتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا اور پھر اپنے کارکنان کو چھڑوانے کے بعد انکو چھوڑا گیا، پی ٹی آئی مظاہرین نے اسلام آباد میں درختوں کو آگ لگائی، تو وہیں میڈیا ہاؤسز پر بھی حملے کئے، صحافیوں پر بھی تشدد کیا،22 پولیس گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ، ، پنجاب پولیس کے 2اہلکار شہید،119 کےقریب زخمی ہوئے،اسلام آباد پولیس کے 11 اہلکار شدید زخمی ہوئے،

    پاکستان تحریک انصاف نے24 دسمبر کو عمران خان کی رہائی کے نام پر احتجاج شروع کیا لیکن عمران خان کے کہنے پر سنگجانی میں جلسہ کرنے کی بجائے پی ٹی آئی کے لوگ بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ڈی چوک پہنچ گئے جس کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ سارا احتجاج نما فساد کس کے لیے اور کس کے کہنے پر کیا جا رہا ہے، احتجاج تو پر امن ہوتا ہے لیکن یہ قافلہ پشاور سے نکلنے کے بعد رستے میں آنے والی ہر جگہ سے لوٹ مار اور چوری کرتا رہا کہیں سیب کے باغات اجاڑ دیے تو کہیں پولیس کی وین ہی چوری کر لی گئی، دوسری جانب مارچ کے شرکاء کے پاس مبینہ طورپر امریکن اسلحہ اور ہتھیار موجود ہیں، یہاں سوال اٹھتا ہے کہ یہ سارا مارچ اور احتجاج جس شخص کے نام پر شروع کیا گیا اب اسی شخص کی بات کیوں نہیں مانی گئی اور بشری بی بی جو خود کو گھریلو خاتون اور سیاست سے دور بتاتی تھیں وہ شروع سے ہی اس سارے احتجاج اور مارچ کی قیادت کر رہیں ہیں آخر کیوں وہ خون خرابے اور عمران کی بات نہ مان کر اپنی بات پر ڈٹی ہوئیں ہیں

    پی ٹی آئی کے احتجاج کی قیادت بشریٰ بی بی کر رہی ہیں، بشریٰ بی بی نے ہی اعلان کیا کہ ڈی چوک جائیں گے، بشریٰ بی بی کے کہنے پر علی امین گنڈا پور چل رہے ہیں اور بشریٰ ہی پارٹی رہنماؤں کو ہدایات دے رہی ہیں،عمران خان اسلام آباد کے کسی مضافاتی علاقے میں احتجاج کے لئے مان گئے تھے تا ہم بشریٰ نہ مانی، بشریٰ کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے نہ صرف پولیس اہلکاروں کی جانیں گئیں بلکہ اسلام آباد شہر میں کاروبار زندگی بند ہونے کی وجہ سے معیشت کو بھی کڑا نقصان پہنچا،پی ٹی آئی احتجاج کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ اربوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوا۔

    پی ٹی آئی کے احتجاج کا مقصد حالیہ سیاسی حالات میں عمران خان کی قیادت کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمات کی نوعیت کے بارے میں آواز اٹھانا تھا۔ لیکن اس احتجاج کے دوران جو واقعات رونما ہوئے، انہوں نے اس سوال کو جنم دیا کہ آیا یہ احتجاج کسی جواز پر مبنی تھا یا محض سیاسی مقاصد کے لیے تھا۔پی ٹی آئی اس شخص کے لئے احتجاج کر رہی جس کو عدالتوں نے سزا سنائی، گھڑی چوری کا مقدمہ ہوا، توشہ خانہ ٹو کا مقدمہ چل رہا ،بشریٰ بی بی پر بھی مقدمہ زیر سماعت ہے،190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آنا باقی ہے، نو مئی کے مقدمے چل رہے ہیں،بشریٰ و عمران نے اپنے دو ر اقتدار میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اور اب قانون کا سامنا کرنے کی بجائے خود قانون ہاتھ میں لے رہے ہیں، بشریٰ بی بی کی خواہش ہے کہ عمران خان کو جیل سے عدالتی فیصلوں کی بجائے دھرنا دے کر رہا کروایا جائے تا ہم ایسا ہو نہیں سکتا، کیونکہ حکومت عمران خان کو این آر او دینے سے انکار کر چکی ہے.

    اس تمام صورتحال کے بعد، حکومت اور ریاستی اداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کسی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور کسی قسم کی رعایت نہ دینے کا اصول اپنایا جائے گا ، پی ٹی آئی کے احتجاج کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی کےعوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے، پی ٹی آئی والے احتجاج میں مبینہ طور پر ماضی کی طرح افغان شرپسندوں کو بھی ساتھ لائے ہیں،احتجاج کے دوران ہونے والی اموات اور مالی نقصان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ احتجاج کا مقصد کچھ بھی ہو، لیکن اس کی نوعیت اور طریقہ کار بہت اہمیت رکھتا ہے۔ پرامن احتجاج کی ضرورت ہے، نہ کہ ریاستی اداروں اور عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش، ریاستی ادارے اب اس احتجاج کے بعد کسی قسم کی رعایت دینے کو تیار نہیں ہیں اور یہ وقت آ گیا ہے کہ قیادت اپنے اقدامات کا حساب دے۔

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • مضافات میں جلسے کی تجویز  پر عمران خان آمادہ،بشریٰ بی بی ڈی چوک جانے پر بضد

    مضافات میں جلسے کی تجویز پر عمران خان آمادہ،بشریٰ بی بی ڈی چوک جانے پر بضد

    اسلام آباد: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ ہمارے مطالبات پورے کیے بغیر مسئلہ خوشگوار انداز میں حل ہونا ممکن نہیں-

    باغی ٹی وی: نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہ بیرسٹر سیف نے کہا کہ ہمارا اعلان ڈی چوک سے متعلق تھا لیکن انتظامیہ کی طرف سے ڈی چوک کی اجازت نہیں مل رہی تھی،انتظامیہ کی تجویز آئی کے اسلام آباد کے مضافات میں جلسہ کریں یہ تجویز ہم بانی پی ٹی آئی کے پاس لے کر گئے جس پر انہوں نے آمادگی کا اظہار کیا، جب مضافات میں جلسے کی تجویز ساتھیوں سے ڈسکس کی تو ساتھیوں نے ماننے سے انکار کیا، بشریٰ بی بی نے کہا کہ وہ ڈی چوک ہی جائیں گی، اس وجہ سے تجویز قبول نہ ہوسکی۔

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ ہمارے مطالبات پورے کیے بغیر مسئلہ خوشگوار انداز میں حل ہونا ممکن نہیں،گزشتہ رات کے مذاکرات میں احتجاج اور رہائی سے متعلق مثبت پیشرفت نہ ہوسکی، بانی پی ٹی آئی کی رہائی قانونی عمل سے ہونی ہے، اس قانونی عمل کا بٹن حکومت کے ہاتھ میں ہے، یہ مقدمات پر اثرانداز ہورہے ہیں، احتجاج کی وجہ یہی ہے کہ ہماری قیادت کے خلاف قانون کو غیر قانونی طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے۔

    دوسری جانب جمیعت علماء اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بشریٰ بی بی کو اسٹبلشمنٹ سے سپورٹ حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے،’مجھ سے اگر پوچھیں گے تو کہیں نہ کہیں پر ایسا ممکن ہے، اس کے بغیر شاید یہاں تک آنا ممکن نہیں تھا-

  • کارکن پرامن رہیں،عمران  کی جلد رہائی کے لیے بہت پر امیدہیں،بیرسٹر گوہر

    کارکن پرامن رہیں،عمران کی جلد رہائی کے لیے بہت پر امیدہیں،بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین، بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنی حالیہ ٹویٹ میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بے گناہ افراد پر مقدمات درج کرنے سے باز رہے۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنے پیغام میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور سپورٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی جدوجہد میں پرامن رہیں اور قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔ موجودہ حالات میں ہمیں اپنی تحریک کو امن و آشتی کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا، تاکہ کسی بھی قسم کی مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وہ خان صاحب (عمران خان) کی جلد رہائی کے حوالے سے پر امید ہیں اور پارٹی کی تمام قیادت اور کارکنان اس معاملے پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اپنے قائد کی رہائی کے لیے تمام قانونی اور جمہوری ذرائع استعمال کرے گی اور اس مقصد کے حصول میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔

    گوہر علی خان نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ پی ٹی آئی اپنے حامیوں اور کارکنوں کی آزادی اور حقوق کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ حکومت کو عوامی رائے کا احترام کرنا چاہیے اور ایسی سرگرمیاں جن سے سیاسی کشیدگی بڑھے، ان سے گریز کرنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا احتجاجی قافلہ ڈی چوک پہنچ گیا ہے، بشری بی بی نے ڈی چوک پر دھرنے کا اعلا ن کیا اور کہا کہ ہم عمران خان کی رہائی تک ڈی چوک پر ہی رہیں گے، بشریٰ بی بی نے کارکنان سے حلف لیا کہ وہ خان کی رہائی تک واپس نہیں جائیں گے،

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

  • 9مئی کے مجرموں کو سزاہوتی تو آج  اسلام آباد پر چڑھائی نہ ہوتی، جاوید لطیف

    9مئی کے مجرموں کو سزاہوتی تو آج اسلام آباد پر چڑھائی نہ ہوتی، جاوید لطیف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کئی بار یہ ثابت ہو چکا ہے کہ پی ٹی آئی ایک تربیت یافتہ دہشت گرد گروہ ہے۔ دو دن سے پی ٹی آئی کے کارکن پنجاب میں خون و آگ کی ہولی کھیلتے ہوئے اسلام آباد کی جانب بڑھ چکے ہیں، جو کہ نہ صرف ملک کے امن و امان کے لیے خطرہ ہے، بلکہ ریاستی اداروں کی اس بات کو چیلنج کرنے کی کوشش بھی ہے۔

    میاں جاوید لطیف نے 9 اور 10 مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس وقت پالیسی ساز اور آئینی ادارے پی ٹی آئی کے مجرموں کو سزا دیتے تو آج ملک میں ان حالات کا سامنا نہ ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف سیاسی ورکر نہیں ہیں بلکہ یہ منظم طور پر ملک میں انتشار اور تشویش پیدا کرنے والے افراد ہیں۔میاں جاوید لطیف نے مزید کہا کہ قوم کو بتا دیا جائے کہ یہ دباؤ کہاں سے آ رہا ہے، اور کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکنان آئین اور قانون کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں۔   موجودہ حالات میں آئینی اداروں کو اپنی ذمہ داریوں کو پوری شدت کے ساتھ نبھانا ہوگا تاکہ ملک میں مزید افراتفری نہ ہو اور قومی مفاد کا تحفظ کیا جا سکے۔اگر حکومت اور ادارے مناسب وقت پر ایکشن لیتے تو آج پاکستان اس بحران سے دوچار نہ ہوتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں بدامنی اور تشویش کے پیچھے وہ قوتیں ہیں جو پاکستان کے آئین و قانون کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا