Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عمران خان کیخلاف فیصلہ آنے ہر احتجاج کی ہدایت:پرویز خٹک کی آڈیو

    عمران خان کیخلاف فیصلہ آنے ہر احتجاج کی ہدایت:پرویز خٹک کی آڈیو

    پشاور:عمران خان کیخلاف فیصلہ آنے ہر احتجاج کی ہدایت:پرویز خٹک کا آڈیو پیغام سامنے آیا ہے اور یہ آڈیو پیغام تحریک انصاف کے کارکنوں کے نام ہے ، اس پیغام کا مقصد الیکشن کمیشن کی طرف سے غیرمناسب فیصلے کو قبول نہ کرنے کی تاکید ہے اور سخت لائحہ عمل اپنانے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے

    مبینہ طور پروائرل ہونے والی ویڈیو میں پرویز خٹک کہتے ہیں‌ کہ پرویز خٹک بات کر رہا ہوں ۔ میں پاکستان تحریک انصاف کی جتنی بھی تنظیمیں ہیں اور جتنی یوتھ ونگز ہیں ان سے درخواست ہے کہ اگر فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے حق میں آیا تو ٹھیک ہے اور اگر خلاف آیا تو ہر ضلع میں ایسا احتجاج ہونا چاہیے جس کے نتیجے میں سڑکیں بند ہوں اور پوری دنیا کو پتا چلے کہ ہماری کتنی پاور ہے

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ آج سنانے کا اعلان کر دیا۔

    الیکشن کمیشن کل توشہ خانہ کیس کا فیصلہ آج دوپہر دو بجے سنائے گا، جس کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے۔

    سکیورٹی کیلئے اسلام آباد پولیس کو خط

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کیس کے فیصلے موقع پر ہنگامی بنیاد پر فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے خط لکھ دیا۔

    انسپیکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کے نام خط میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں سماعت کے دوران کمیشن کے اندر اور اطراف میں فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے جو 21 اکتوبر 2022 کو صبح 10 بجے شروع ہوگی۔ درخواست گزار اور مدعا علیہان کو نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں اور اس دوران کسی قسم کے ناخوش گوار واقعے سے بچنے کے لیے پورے دن الیکشن کمیشن کی عمارت کے اندر اور باہر سادہ لباس میں دو اہلکاروں اور ایک ٹریفک وارڈن سمیت فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے۔ اس معاملے کو انتہائی ہنگامی بنیاد پر لیا جائے۔

    عمران خان کا تحریری جواب

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔

    بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔

    جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادائیگی کر کے خریدا۔

    اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔

    توشہ خانہ ریفرنس

    خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر راجا پرویز اشرف نے اگست کے اوائل میں توشہ خانہ کیس کی روشنی میں عمران خان کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن کو ایک ریفرنس بھیجا تھا۔

    ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے اپنے اثاثوں میں توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف اور ان تحائف کی فروخت سے حاصل کی گئی رقم کی تفصیل نہیں بتائی۔

    اپریل کے آغاز میں سابق وزیر اعظم نے توشہ خانہ میں ملنے والے تحائف کے تنازع پر ایک غیر رسمی میڈیا گفتگو کے دوران جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کے تحفے ہیں اور یہ ان کی مرضی ہے کہ انہیں رکھنا ہے یا نہیں۔

  • الیکشن کمیشن عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس پر فیصلہ کل سنائےگا

    الیکشن کمیشن عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس پر فیصلہ کل سنائےگا

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کل (جمعہ کو) سنائے گا۔ ای سی پی نے سابق وزیراعظم عمران خان سمیت تمام فریقین کو آگاہ کردیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کل (جمعہ کو) دو بجے سنایا جائے گا، فیصلہ 19 ستمبر کو محفوظ کیا گیا تھا۔

    ای سی پی نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام فریقین کو آگاہ کردیا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے پی ڈی ایم ارکان اسمبلی کی درخواست پر ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا تھا۔

    الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ تحائف ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کی نااہلی سے متعلق ریفرنس پر درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار تھا کیا کہ عمران خان نے تحائف وصول اور فروخت کرنا تسلیم کیا مگر تاریخ اور قیمت نہیں بتائی۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بتانا ضروری نہیں کہ توشہ خانہ کے تحائف خریدنے کیلئے رقم کہاں سے آئی؟۔

    وکیل خالد اسحاق نے کہا کہ عمران خان نے دعویٰ بھی کیا کہ ایف بی آر میں فروخت شدہ تحائف کی آمدن ظاہر کردی تھی، لیکن دونوں گوشوارے الگ الگ ہیں، لندن فلیٹ کی رسیدیں دینے والا بیچے گئے تحائف کی رسیدیں کیوں نہیں دے رہا۔

    خالد اسحاق نے مؤقف پیش کیا کہ ننکانہ صاحب کے ضمنی انتخاب میں تحائف کا اعتراض اٹھا تو عمران خان نے ریٹرننگ افسر سے کہا کہ یہ فیصلہ کرنے کا مجاز فورم الیکشن کمیشن ہے، اب یہاں الیکشن کمیشن کا اختیار ہی نہیں مان رہے۔ جب کہ اثاثے ظاہر نہ کرنے پر الیکشن کمیشن ہی کسی ممبر کو نااہل کرسکتا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ ممکن ہے اثاثے ظاہر کرنے میں غلطی ہوگئی ہو؟ تب تو نااہلی نہیں بنتی۔خالد اسحاق نے کہا کہ اگر غلطی ہوئی تو تسلیم کی جائے۔ عمران خان بیان حلفی پر جھوٹ بولنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

    عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے اطلاق کے لیے عدالت کا ڈیکلریشن لازمی ہے مگر اسپیکر کے پاس کوئی ڈیکلریشن نہیں تھا۔ وہ ریفرنس بھیجنے کے اہل ہی نہیں، تحائف خریدنے کیلئے رقم کہاں سے آئی اس کا الیکشن کمیشن سے کوئی تعلق نہیں۔

    کمیشن ارکان نے ریمارکس دیئے کہ اگر کمیشن کچھ کرنہیں سکتا تو اسپیکر کے ریفرنس بھیجنے کی شق کیوں ڈالی گئی؟ جہاں شک ہو وہاں الیکشن کمیشن اسکروٹنی بھی کرتا ہے۔

  • عمران خان توہین عدالت کیس، قانون کے مطابق اپنا کام کریں، سپریم کورٹ کی اٹارنی جنرل کو ہدایت

    عمران خان توہین عدالت کیس، قانون کے مطابق اپنا کام کریں، سپریم کورٹ کی اٹارنی جنرل کو ہدایت

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا
    سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف وفاقی حکومت کی طرف سے دائرتوہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی، جسٹس اعجاز الاحسن جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل تھے، جسٹس یحییٰ خان آفریدی اور جسٹس محمد علی مظہر بھی بینچ میں شامل تھے

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ گزشتہ دھرنے کے دوران شہریوں کے حقوق متاثر ہوئے کارروائی میں بیان حلفی دیا گیا تھا کہ شہریوں کو پریشانی نہیں ہوگی،عدالت کا حکم ایک مخصوص جگہ تک تھا لیکن دھرنا ڈی چوک تک لایا گیا، جب مخصوص جگہ پر نہ گئے اور ڈی چوک کی طرف آئے تو مالی نقصان ہوا،عدالت ان کو سزا دے جنہوں نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،اٹارنی جنرل نے عدالت کا 25 مئی کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ عبوری آرڈرز کس لیے دیں؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عمران خان تعلیمی اداروں میں طلبا اور عوام کو اکسا رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک عدالت ہیں،آپ کے مطابق عدالتی احکامات کی پہلے ہی خلاف ورزی کی جاچکی ہے،آپ ایگزیکٹو اتھارٹی ہیں، اس وقت عدالتی احکامات پر انحصارکررہے تھے،موجودہ صورتحال میں آپ کو لبرٹی ہے کہ آپ روکنے کے لیے اقدامات کریں 25مئی واقعے میں 13 افراد زخمی ہوئے،پبلک پراپرٹی کو نقصان ہوا،کیس داخل نہ ہوا، دوسرے دن عمران خان صبح سویرے واپس چلے گئے،ہم اس معاملے میں رپور ٹس کا جائزہ لیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ اپنے آپ کو قانون کے مطابق کام کریں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام آباد میں آزادکشمیر اور خیبرپختونخوا کی پولیس بھی داخل ہوئی تھی عدالت نے اٹارنی جنرل کو پولیس اور انتظامیہ کی جمع کردہ رپورٹس فراہم کردیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ خفیہ رپورٹس ہیں ان کا جائزہ لیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹس کے مطابق 300کے قریب افراد ریڈ زون کی طرف داخل ہوئے تھے،بظاہرلگتا ہے کہ وہ مقامی لوگ تھے، اگراحتجاج کرنے والے ہوتے تو زیادہ ہوتے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جب صورتحال سامنے آئی تو ہم نے چھٹی والے دن عدالت لگائی،آپ کو اس صورتحال میں مضبوط دلائل دینے ہونگے،یہ صورتحال ایسی ہے جس میں سب کو سیکھنے کا موقع مل رہا ہے ،جمہوریت لیڈر شپ کوالٹی پیدا کرتی ہے،ہم نے ہمیشہ قانون کی بات کی ہے، ہم پولیٹکل ایکٹرز نہیں اور نہ ہی سیاسی اقدامات لے سکتے ہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • مزید آڈیو لیکس جاری نہ کی جائیں، عمران خان کی عدالت سے استدعا

    مزید آڈیو لیکس جاری نہ کی جائیں، عمران خان کی عدالت سے استدعا

    عمران خان نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

    عمران خان نے آڈیو لیک کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن یا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی استدعا کر دی، سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم ہاوس اور آفس کی نگرانی، ڈیٹا ریکارڈنگ اور آڈیو لیکس کوغیر قانونی قرار دیا جائے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے مزید آڈیوز کو لیک روکنے کی بھی استدعا کردی، عمران خان نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت اور متعلقہ اتھارٹیز کو مزید آڈیوز کی ریلیز کو روکنے کا حکم دیا جائے، آڈیو لیکس کی تحقیقات کراکر ذمہ داران کو سزا دی جائے، عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں وزارت داخلہ،دفاع، آئی ٹی ،وزارت اطلاعات، آئی بی، ایف آئی اے اور پیمرا فریق بنائے گئے ہیں

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    واضح رہے کہ وزیراعظم ہاؤس کی مبینہ آڈیو لیکس ہوئی تھی جس کے بعد پاکستان بھر میں تہلکہ مچ گیا تھا، پہلی آڈیو شہباز شریف، مریم نواز و دیگر کی جاری ہوئی تھیں اسکے بعد عمران خان کی بھی آڈیو جاری ہوئی ہیں، عمران خان ان آڈیو میں بے نقاب ہوئے ہیں اور انکا حقیقی چہرہ کھل کر قوم کے سامنے آیا ہے، اب عمران خان چاہتے ہیں کہ آڈیو کی ریلیز کو روکا جائے تا کہ انکے کرتوت سامنے نہ آ سکیں

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف کارروائی کی منظوری دے دی تھی. وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس کیس میں عمران خان، ان کے ساتھی وزرا اور اعظم خان کے خلاف قانونی کارروائی کی باضابطہ منظوری دے دی تھی۔ کابینہ کمیٹی نے یکم اکتوبر کو اجلاس میں قانونی کارروائی کی سفارش کی تھی۔ کابینہ کمیٹی کا اس وقت کہنا تھا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے جس کے قومی مفادات پر سنگین مضر اثرات ہیں، قانونی کارروائی لازم ہے۔ کابینہ کمیٹی کی جانب سے سمری میں سفارش کی گئی تھی کہ ایف آئی اے سینئر حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے۔ جبکہ ایف آئی اے دیگر اداروں سے بھی اہلکاروں کو ٹیم میں شامل کر سکتی ہے۔

    حالیہ آڈیو لیکس نے ملکی سائبر سکیورٹی سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ آڈیو لیکس کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف، حکومتی وزرا اور یہاں تک کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حساس نوعیت کی گفتگو لیک ہوچکی ہے. 20 اگست کو ہیکرز کے ایک فورم پر ’انڈی شیل‘ کے نام سے اکاؤنٹ بنانے والے ایک مبینہ ہیکر نے اپنے پاس آڈیوز کی موجودگی سے متعلق ایک پوسٹ کی تھی۔ مبینہ ہیکر نے اپنی پوسٹ کا نام Pakistani PM office Data leaked یعنی ’پاکستانی وزیراعظم کے دفتر کا لیک شدہ ڈیٹا‘ رکھا تھا۔ اس کی کم از کم بولی 180 بٹ کوائن رکھی گئی تھی جو پاکستانی کرنسی میں کروڑوں روپے بنتی ہے۔

  • عمران خان کی سیاست کا پوسٹ مارٹم،رجیم چینج کا منجن سڑ گیا

    عمران خان کی سیاست کا پوسٹ مارٹم،رجیم چینج کا منجن سڑ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چاہے عمران خان کے مطالبات ہوں یا دعوے، مخالفین پر تنقید ہو یا مسائل کو دیکھنے کا نظریہ۔ جس چیز پر نطر ڈالی جائے عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کوئی اتنا Unreason able بھی ہو سکتا ہے۔ اور اس سے زیادہ عقل اس وقت دنگ رہ جاتی ہے جب اسے چاہنے والے ا سکی ایک ایک چال کو حرف آخر سمجھ لیتے ہیں۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان سادہ الفاظ میں یہ چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان میں کسی کو حق حکمرانی ہو نا چاہیے تو وہ صرف وہ خودہوں۔اگر کوئی صحافی ۔۔ اپنے آپ کو صحافی کہلوانا چاہتا ہے تو اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھ دے اور اس کی برائیوں پر اندھا ہو جائے۔جو آنکھیں کھولے گا وہ لفافہ صھافی کھلوائے گا۔آرمی چیف لگانا ہے تو میں نے لگانا ہے چاہے وزیر اعظم ہوں یا نہ ہوں۔ اگر وہ وزیر اعظم نہیں ہیں تو قبل از وقت الیکشن کرواو۔ ورنہ الیکشن نہ کروانے والے اس ملک کے دشمن ہیں اور غدار ہیں۔جہاں سے انتخابات جیت جائیں وہاں دھاندلی نہیں ہوئی اور جہاں ہار جائیں وہاں دھاندلی۔جو انہیں سپورٹ نہ کرے وہ نہی عن المنکر اور جو ان کے فریب کا ساتھ دے وہ امر بالمعروف۔عدالتیں ان کے حق میں فیصلہ دے دیں تو حق کی جیت اور اگر کسی اور کے حق میں فیصلہ آ جائے تو NRO 2مل گیا۔وہ وزیر اعظم ہوں تو اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل نہ ہو اور اگر وہ اپوزیشن میں ہوں تو بھی اسٹیبلشمنٹ انہیں اپنی گود میں بیٹھائے۔امریکی سازش کا پول کھلتا ہے تو غداری کے ٹائیٹل بانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ میر جعفر اور میر صادق کے برینڈ کا پول کھلتا ہے تو آپے سے باہر ہو کر اپنے چیلوں سے اداروں پر ڈائریکٹ حملے کرواتے ہیں۔ایک طرف کہتے ہیں میں مقبول ہوں تو دوسری طرف مقبول ہونے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کا بغل بچہ بننے کی ضد کر رہے ہیں۔جو آرمی چیف میں لگاوں گا وہ محب وطن ہو گا جو دوسرے لگائیں گے وہ چور ڈاکو لگائیں گے۔ انہیں یہ نہیں پتا کہ گھسے پٹے انقلابی نعروں سے مقبول تو ہو سکتے ہیں لیکن عوامی تبدیلی اور حقیقی جمہوریت کو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اپنے فائدے کے لیے ایک پوری نسل کو گندی سیاست کی نظر کر دیا ہے۔ اورAnti politicsطبقے کو ذہنی عیاشی کروا کے پاگل بنایا ہوا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فسطائیت کی انتہا دیکھیں کہ صحافی بولے تو اس پر اپنے بھونکنے والے کتے چھوڑ دو۔سیاست دان چھوڑ دے تو انہیں مشرق قرار دے دو۔کوئی پرانا ساتھی چھوڑ دے تو اسے چور کرپٹ کہہ دو۔جو جہالت کے ساتھ ہے وہ باشعور اور جو اسے پہچان لے وہ جاہل اور ذہنی غلام۔اسمبلی میں لوگوں کو زبردستی اپنے ساتھ رکھنے کی طاقت نہ رہے تو رجیم چینج کا ڈرامہ رچا دو۔ ایک طرف امریکہ سے غلامی پر کمپین کرو دوسرئ طرف ڈرائینگ روم میں امریکی عہدے داروں سے معافیاں مانگو۔ اگر میں وزیر اعظم ہوں تو پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ اگر میں نہیں تو ایٹمی اثاثے خطرے میں۔پاکستان کے مخالف سی آئی اے کے اہلکاروں کی کمپنیوں کوPR compaignدو، اور ادھر ملک میں اینٹی امریکہ جذبات سے فائدے اٹھاو۔ جہالت کا پرچار کرتے ہوئے رجیم چینج جیسی ٹرم کو پاکستان کے اندر اداروں کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دو۔ رجیم چینج کیا ہے اور کیوں ہوتا ہے میں آپ کو سادہ الفاظ میں سمجھا دیتا ہوں۔جس طر ح گا و ں کا چو دھری بننا آسان نہیں با لکل اسی طرح پو ری دنیا کے چو دھری بننے کے لئےاپ کو اپنے مختلف Tactics, objectives, goals,سیٹ کر نے پڑتے ہیں پھر جا کر اپ اپنے National interestحا صل کر سکتے ہیں ،جس طرح گاون کا چوہدری جعلی پرچے کر کے کنٹرول کرتا ہے اسی طرح دنیا کا چوہدری پراپیگنڈا کر کے کنٹرول کرتا ہےدنیا کی Politicsمیں اپنا رول ادا کر نے کے لئےکسی بھی ملک کا سیا سی ،سماجی ،اقتصا دی ،معا شی ،طور پر مستحکم ہو نا ضروری ہوتاہے ،عمران خان کا ڈرامہ بے نقاب کرنے سے پہلےدو الفاظ میں رجیم چینج کی تاریخ بتاوں دو۔۔ کہ جب2nd world war کے بعد دنیاBipolar سسٹم میں تقسیم ہو چکی تھی ،CommunismاورCapitalism یہ Ideology کی جنگ تھی ،سوویت یو نین کمیونزم اور امریکہ کیپٹلزم کو فروغ وے رہا تھا۔دونوں ایک دوسر ے کو نیچا دیکھا نے کے لئےپرا کسی وار لڑ رہے تھے ،یعنی وہ جنگ جو دو سرے ممالک میں لڑی جا ئے،اس جنگ میں جب امریکہ کو محسو س ہو تا کہ کسی ملک کا جھکا و روس کی طرف ہے تو وہ وہاں پرمختلف طریقے سے سازشیں شر وع کر دیتا ،رجیم چینج کر نے کے لیے وہ مختلف طریقوں سے اربوں ڈالر خر چ کر ڈالتاتاکہ وہ حکو مت Destabilizeہو جائے ،اور وہ اپنے من پسند لوگوں کو لے آے اس کے لئےوہ اپوزیشن کو خفیہ طر یقوں سے فنڈ مہیا کرتا ،Military coupکر واتا،مقبول لیڈروں کا قتل عام کر واتا،اس ملک کی معشیت کو تبا ہ کرنے کیلئے جائز اور نا جا ئز معا شی پا بندیوں سے حکو مت کی بنیا دیں ہلا دیتا ،تاکہ عوام میں بے چینی پھیل جائے،سیاسی ہنگا مے کر وا کر بے یقینی کی فضا قا ئم کر دیتا،اس ملک کے صحا فیوں کو پے رول پر یا صحا فتی ادارے کو خر ید کر اپنے منظم پر اپیگنڈہ کے ذریعے طاقت کا توازن اپنے حامیوں کے حق میں کروا دیتا۔ کیونکہ Politics is all about powerملٹر ی پاور ۔اکنا مک پاور کسی بھی ملک کی Hegemonyکو Explain کر نے کے لئے کا فی ہے ،امر یکن
    Movies, pop music, books, TV show , political talk show, یہ سب American cultural superiority
    کو ظاہر کر تے ہیں جو کہ پو ری دنیا میں مشہور ہیں یہ سب امریکہ کی پروپیگنڈاکے ذرائع ہیں ان کے ذریعے امریکہ اپنے مفا دا ت کو دنیا کے سامنے ایک اچھے اور منظم طر یقے سے پیش کر تا ہے ۔اور کئی بار انٹر نیشنل لا کی بھی Violationکر جا تا ہے ،اب تک امریکہ نے CIAکی مدد سے پچھلے تقریبا 70 سالوں میں 72حکو متوں کے خلا ف آپر یشنز کئے،26 آپریشن کا میا ب 40 ناکام رہے ،6 ممالک میں براہ راست مداخلت کی ،66آپر یشنز سی آئی اے کے ذریعے خفیہ طریقے سے کئے گئے ۔جہاں امریکہ نے تیل کی دولت کو ہڑپ کر نے،ان ممالک کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے ،کمیونزم کا اثر ختم کر نے کے لے ،ڈیمو کر یسی کے فروغ کےلئے،Pre emption کی پالیسی کے لیے اس نے جبر،ظلم ،جھوٹ،مفاد ،کے تحت ان حکو متوں کا خا تمہ کیا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جہاں تک پاکستان میں امر یکن رول ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیاقت علی خان کے قتل سے لیکر ذولفقار علی بھٹو کی پھا نسی تک ہماری خا رجہ پالیسی میں امر یکہ کا ایک مخصوص کر دار ہے ،امریکہ جو20ٹر یلئن سے زائد جی ڈی پی کا مالک ہے،جس کے اس وقت 70 سے زائدممالک میں800سے زائد Military Bases ہیں۔ اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر حربہ استعمال کرتا ہے۔جب عمران خان وزیر اعظم تھے تو ٹرمپ کے سامنے ایسے بچھے کہ جیسے ورلڈ کپ جیت لیا ہو۔ بائیڈن جیتا تو اس کی کال سننے کے لیے اتنے بے تاب ہوئے کہ اس کے دشمن بن گئے، خان کی کم عقلی دیکھیں کہ اس نے ملکی مفاد اپنی عنا کے بھینٹ چڑھا دیا۔ اور اتنا دیوانہ ہو گیا کہ اگر ہم کہیں کہ پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ تو غلط نہیں ہو گا۔کبھی طالبان کی جیت پر غلامی کی زنجیریں توڑنے کا بیان تو کبھی خام خواہ کاAbsolutely not. اور پھر سائفر سے کھیلنے کے اپنے الفاظ جو خود اعظم خان کے سامنے اپنے منہ سے نکالے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان میںAnti AmericaAnti politics اور مذہبی ٹچ بہت بکتا ہے اس نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ہر ہربہ استعمال کیا، پانچ خریدے بھی لیکن مزید پانچ نہ خرید سکا۔ خان وزیر اعظم کی سیٹ تو اسی وقت ہار چکا تھا جب مرحوم عامر لیاقت نے کہا کہ میں آیا نہیں لایا گیا ہوں۔یہ کیسا امریکہ بہادر ہے کہ اس کا زور چوہدری شجاعت پر چل گیا لیکن چوہدری پرویز الہی پر نہ چل سکا۔ یہ کیسا امریکہ بہادر ہے کہ اس نے وفاق سے عمران خان کو نکال دیا لیکن پنجاب، خیبر پختون خواہ ، کشمیر اور گلگت کی حکومتیں اس کے پاس رہنے دی۔کبھیAbsolutely not کا بہانہ بنایا تو کبھی روس دورے کا، کبھی سستے پٹرول کی چالیں چلیں تو کبھی کوئی اور۔ہرچال ناکام ہوتی رہی اور یہ نئی چالیں گھڑتا گیا۔
    بقول شاعر
    کسی کو اپنے عمل کا حسا ب کیا دیتے ۔
    سوال سارے غلط تھے جو اب کیا دیتے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں رجیم چینج میں کو ئی بیرونی مداخلت ہو ئی تھی یا نہیں سازش کی کہانی پر Investigationکی گئی، ایجنسیوں اور سپر یم کو رٹ نے اس پر تما م حو الوں سے تحیقیقا ت کے بعد اپنے فیصلے میں کسی بھی بیر ونی مداخلت کا نہ ہو نا ظاہر کر دیا ،اس دوران عمر ان خا ن نے عوام میں جانے کا فیصلہ کیا،بڑے بڑے جلسے جلوس کئے گئے،پروپیگنڈا مہم چلا ئی گئی ،نئی حکو مت کو چو ر ڈا کو کہا گیا،فو ج کے اعلی عہدیدران کو نیو ٹر ل ہو نے کا طعنہ دیا گیا ،عدلیہ کے معزز ججز کو کہ آپ کو بھی دیکھ لینگے،الزام تراشیا ں کی گئی،پو لیس کے افسران کو دھمکیاں دی گئی،لیکن جب آڈیو لیکس سامنے آئی تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو گیا ،ان آڈیو لیکس میں عمران خا ن کو سائفر سے متعلق اعظم خان ،شاہ محمو د قریشی ،اسد عمر کو ہدایتیں دیتے ہوئے اور اس سائفر کو اپنے مخصوص نظریات کے مطابق سازشی پیراڈائم میں تبدیل کرنے کا کہا گیا ۔ حا لانکہ اس سا ئفر کو نیشنل سیکو رٹی میں دو بار پیش کیا گیا تھا،اپنی مرضی کے میٹنگ منٹس بنائے، ٹرانسکرپٹ کو سائفر کہا، جعلی خط عوام میں لہرایا۔لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، مُکر خان ہر جگہ ذلیل و رسوا ہوا۔عمران خان کے دیوانوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ آج کی گلو بل ویلیج میں جب دنیا سمٹ کر رہ گئی ہے کسی بھی تر قی پذیر ملک حتی کہ تر قی یا فتہ ملک بھی مکمل طور پر اپنی آزاد خا رجہ پا لیسی تر تیب نہیں دے سکتا،International relations میں کئی Actorsاثر انداز ہو رہے ہو تے ہیں جن کی وجہ سے کو ئی بھی ملک مکمل طور پراپنی آز اد خا رجہ پالیسی نہیں بنا سکتا ۔حقیقت یہ ہے کہ ملٹر ی اور سول اسٹیبلیمنٹ کےمنطور نظر بننے کے بعد جب اقتدار کا ہما آپ کے سر پر رکھا گیا تو آپ نے اپنی نا اہلی ،نالائقی سے پو نے چار سالوں میں عوام کو اچھے منصوبے دینے میں ناکام ہو گئے،کو ئی تر قیا تی کا م نہیں ہواسی پیک کو تباہ کر کے امریکہ بہادر کو خوش کیا۔اگر کوئی کام کیا ہوتا توآج عوام کو ان کے بارے میں بتاتے لیکن۔۔۔لیکن۔۔۔۔لیکن اگر کو ئی ایسا کام کیا ہوتا تو ۔۔۔۔جب عوام کو بتانے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا تو آپ نے عوام کو رجیم چینج کا منجن بیچنا شروع کر دیالیکن یہ منجن بھی استعمال ہونے سے پہلے ہی سڑ گیا۔اب تو شرم کرو، منافقت چھوڑو، سیاست سے بے زار لوگوں کو مزید فریب مت بیچو، ان کی امیدون کے ساتھ کھلواڑ مت کرو۔ انہیں اس قابل چھوڑو کہ جب تمھارا فریب زدہ مجسمہ زمین بوس ہو تو وہ کسی پر اعتبار کرنے کے قابل ہوں۔ لیکن تمھاری خود غرضی دیکھ کر مجھے یہ امید بھی نہیں ہے کہ تم ملک تو کیا اپنے ووٹروں کے لیے بھی کچھ سوچو گے

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    مقبولیت کا بھوت،عمران خان کو لے ڈوبے گا،کچے ذہن اور تباہی کی خطرناک منصوبہ بندی

  • اسلام آباد:عمران خان کا خاتون صحافی کےسوال پردوسری خاتون صحافی کے بارے میں انتہائی نامناسب جواب

    اسلام آباد:عمران خان کا خاتون صحافی کےسوال پردوسری خاتون صحافی کے بارے میں انتہائی نامناسب جواب

    اسلام آباد:عمران خان کا خاتون صحافی کےسوال پردوسری خاتون صحافی کے بارے میں انتہائی نامناسب جواب نے حیران کردیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے ایک خاتون صحافی کے سوال پر دوسری خاتون صحافی کے بارے میں انتہائی غیرمناسب جواب دیا۔

    اوپیک پلس کے فیصلے، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

    اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب اور آرآئی یوجے کے وفد سے ملاقات کے دوران ایک خاتون صحافی نےکہا کہ خواتین صحافی جلسےکور کرنے جاتی ہیں توپی ٹی آئی ورکرز تنگ کرتے ہیں، اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ورکرز کو اس سلسلے میں ضرور ہدایات دوں گا۔

    تاہم اس موقع پر عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ‘غریدہ فاروقی ہجوم میں گھس جاتی ہے، پھر کہتی ہے تنگ کرتے ہیں، غریدہ فاروقی مردوں میں گھُسے گی تو ایسا ہی ہوگا آبیل مجھے مار‘ ۔ عمران خان سے جب یہ سوال ہوا کہ ’ آپ صحافیوں کو لفافہ صحافی کیوں کہتے ہیں؟ ‘ تو عمران خان نے جواب دیا کہ انہوں نے سلیم صافی کے علاوہ کسی صحافی کے متعلق ایسا کبھی کچھ نہیں کہا۔

    سوشل میڈیا ٹرولنگ پر عمران خان نے ہاتھ اٹھالیے اور کہا کہ وہ اسے نہیں روک سکتے، یہ کسی کے قابو میں نہیں ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پورے پاکستان میں صرف نجم سیٹھی پر کیس کیا تھا، جو ابھی تک چل رہا ہے ۔

    عمران خان نے اپنی پریس کانفرنس میں من پسند صحافیوں کو بلائے جانے کے سوال پر کہا انہیں نہیں معلوم کہ کون لوگ دیگر چینلز کو پریس کانفرنسز میں نہیں آنے دیتے ۔

  • عوام سردیوں میں گیس کے استعمال پر کفایت شعاری دکھائیں، مصدق ملک

    عوام سردیوں میں گیس کے استعمال پر کفایت شعاری دکھائیں، مصدق ملک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر مملکت برائے توانائی مصدق ملک نے کہا ہے کہ نیٹ فلیکس سے منسوب ایک ویڈیو کا شوشا چھوڑا جا رہا ہے،نیٹ فلیکس کے اس ویڈیو سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے،

    مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اہم سوال ہے تو پھر یہ فارن فنڈنگ کہاں جارہی ہے، ملک ریاض کے پیسے ہوں یا فارن فنڈنگ کے پیسے پیسے جا کہاں رہے ہیں، عمران خان ملک کا راز جیب میں ڈال کر جلسوں میں گئے اب کہہ رہے ہیں گم ہوگیا ،پی ٹی آئی کی جانب سے ڈیوڈ فینٹن کی فرم سے معاہدہ سے انکار کیا گیا عمران خان مارچ حکومت نہیں ریاست کیخلاف لا رہے ہیں ،

    مصدق ملک کا مزید کہنا تھا کہ جنوری اور فروی کیلئے ایل این جی کی 2 اضافی کارگو کا انتظام کیا جا چکا ہے، گزشتہ سال کی نسبت سردیوں میں گیس بہتر ہوگی،سوئی سدرن اور نادرن کو ایل پی جی کے سیلنڈرز منگوانے کا کہا ہے،عوام سردیوں میں گیس کے استعمال پر کفایت شعاری دکھائیں ،ملک میں گیس کی فراہمی کےلیے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں،وزیراعظم کی جانب سے توانائی معاملے پر پلان مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی ،جلد وزیر اعظم شہبازشریف توانائی پلان اعلان کریں گے ،

    دوسری جانب ن لیگی رہنما عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ عمران خان فاشسٹ سوچ کے حامل انسان ہیں ،عمران خان ملک میں انتشار کی سیاست کررہے ہیں ،عمران خان ایمپائر کی انگلی کے منتظر رہتے تھے،عمران خان اعظم سواتی اور شہباز گل کے بیانات کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں، عمران خان تانگہ پارٹی تھے، اکتوبر 2011 کے بعد جہاز کی پارٹی بنایا گیا، عمران خان پہلے بھی لوگوں کو اکساتے تھے اب بھی ایسا کررہے ہیں، عمران خان کی وجہ سے دوبارہ سے کوئی غیر آئینی قدم نہیں اٹھائے گا،تمام کارناموں کے بعد عمران خان کو ملک پر مسلط کرنے کی ضرورت نہیں،

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

  • عمران خان کی حرکتیں بچگانہ، اپنی پارٹی کو ڈبوتے جا رہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    عمران خان کی حرکتیں بچگانہ، اپنی پارٹی کو ڈبوتے جا رہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    عمران خان کی حرکتیں بچگانہ، اپنی پارٹی کو ڈبوتے جا رہے ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سانحہ کارساز کے شواہد مٹا دیئے گئے جو ایک سازش تھی،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سانحہ کارساز کے شہداء کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کی، اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ارباب رحیم اس وقت وزیراعلیٰ سندھ تھے ،ان کے ساتھ جو ہوا سب نے دیکھا، بلاول بھٹو کے مطابق جمہوریت سے ان سب سے انتقام لے لیا، بینظیر بھٹو پر حملہ جمہوریت کیلئے بحالی کی جدوجہد کو ختم کرنے کیلئے تھا، بینظیر بھٹو نے اپنی ساری زندگی جمہوریت کو تقویت دینے میں گزاری، بینظیر بھٹو کے قافلے پر حملہ جمہوریت کی جدوجہد کا بڑا سانحہ ہے،حملے میں 150 کارکن شہید اور 450 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سمجھ نہیں آتی، اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارتے ہیں،عمران خان پنے ممبرز کوکم کررہے ہیں، اس کی پارٹی کی کتنی سیٹیں کم ہوگئیں عمران خان کے ساتھ کچھ عرصہ گزارا ہے، ان کی کم عقلی سے واقعات ہوتے ہیں عمران خان کو کبھی مسٹر ایکس یا وائی تنگ کرتے ہیں ،ان میں نام لینے کی ہمت نہیں ، عمران خان اپنی پارٹی کو ڈبوتے جا رہے ہیں ،ان کی حرکتیں بچگانہ ہیں، عمران خان نے بطور وزیراعظم حلف لیا مگر ملک کا بیڑہ غرق کردیا،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اورعام الیکشن میں فرق ہوتا ہے، یہ گھر گھر لڑائی ہوتی ہے کراچی کی پولیس سیلاب زدہ علاقوں میں امن و امان کے قیام کے لیے تعینات ہے،الیکشن سے ہم نہیں یہ بھاگ رہے ،صورتحال سب کے سامنے ہے عمران خان کے ساتھ 4سال میں کچھ اجلاس کرچکا ہوں ان کو جانتا ہوں ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان تو پشاور جا کے چھپ گئے تھے ،عمران خان کو بلاول نے سلیکٹڈ کہا تو انہوں نے تالیاں بجائیں،عمران خان اب خود کہہ رہے ہیں ان کے پاس اختیارات نہیں تھے،عمران خا ن اپنی ذات کے لیے پارٹی رہنماوں کو قربان کردیں گے ،

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے سانحہ کارساز کے شہدا کوخراجِ عقیدت پیش کیا ہے

    عمران خان خود امپورٹڈ، بینظیر کو کس نے کہا تھا اس بچے کا خیال رکھنا؟ خورشید شاہ کا انکشاف

    میں اس میٹنگ میں شامل تھا جس میں بینظیر کو کہا گیا تھا کہ آپ نہ جائیں..شیخ رشید

    بینظیر کا قتل پوری قوم کو قتل کرنے کی سازش تھی،بلاول

    بینظیر کے افتتاح کردہ سنٹر کو تبدیلی سرکار نے بیچنے کا اشتہار دے دیا

    آصفہ زرداری کس صورت میں الیکشن لڑیں گی؟ بڑا اعلان ہو گئا

  • عمران خان کی دھمکیوں پر کب تک یہ قوم خاموش رہے گی،جاوید لطیف

    عمران خان کی دھمکیوں پر کب تک یہ قوم خاموش رہے گی،جاوید لطیف

    ریاست مخالف بیان کا معاملہ، وفاقی وزیر جاوید لطیف کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جاوید لطیف عدالتی حکم پر لاہورہائیکورٹ میں پیش ہوئے، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ سیشن کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لیے بغیر ضمانت منظور کی،سیشن کورٹ کا ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ درست نہیں، پنجاب حکومت کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے

    عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ عمران خان کا کوچ اپنی ضرورت کیلئے اس کو کھلا رہا ہے اور یہ ریاست سے کھیل رہا ہے، ہم سے تو لباس کا حساب مانگتے تھے، لیکن عمران سے کون پوچھے گا کہ اربوں روپے کہاں سے آرہے ہیں. 2018 الیکشن کی طرح ضمنی انتخابات میں بھی سہولت کاری کی گئی ،کوئی بتائے گا عمران خان کے جلسوں پر اربوں روپے کہاں سے آرہے ہیں پی ٹی آئی کے ایک جلسے پر 20 کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں، ہم خاموش ہیں تو اس کا مطلب نہیں کہ کوچ کھلاتا جائے، مولاجٹ کھیلتا جائے، ہم ریاست کیلئے سیاست قربان کر رہے ہیں، عمران خان کی دھمکیوں پر کب تک یہ قوم خاموش رہے گی،

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات ہوئے، عمران خان سات سیٹوں پر امیدوار تھے جن میں سے چھ سیٹیں عمران خان نے جیت لیں جب کہ ایک نشست پر عمران خان کو شکست ہوئی، وہ پیپلز پارٹی کے امیدوار نے جیتی، مجموعی طور پر پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی دو مزید سیٹیں مل گئیں، کراچی اور ملتان میں عوام نے تحریک انصاف کو مسترد کر دیا،

  • عمران خان نے سرنڈر کردیا  یہ کیس غیر موثر ہو گیا،عدالت

    عمران خان نے سرنڈر کردیا یہ کیس غیر موثر ہو گیا،عدالت

    عمران خان نے سرنڈر کردیا یہ کیس غیر موثر ہو گیا،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ،فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج مقدمے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عمران خان کی ضمانت کی درخواست عدالت نے غیر موثر ہونے پر نمٹا دی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت ٹرائل کورٹ کا دائر اختیار کو دیکھے گی ، عدالت نےچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے سرنڈر کردیا ہے پھر تو یہ کیس غیر موثر ہو گیا ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں یہ معاملہ زیر التوا ہے ،جسٹس محسن اختر نے ٹرائل کورٹس سے رپورٹ مانگی ہے ،عدالت نے کہا کہ اسی قسم کے کیس میں شریک ملزم کا کیس زیر التوا ہے تو وہ معاملہ تو حل ہو جائے گا ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ معاملہ اسپیشل جج سینٹرل نہیں اسپیشل جج بینکنگ کا میں نے کہا تھا ، عدالت نے ایک اور کورٹ کے پاس معاملہ زیر التوا ہونے کی بنا پر درخواست نمٹا دی

    واضح رہے کہ عمران خان سمیت 11 افراد کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کی، نجی بینک اکاؤنٹ کے بینفشری ہیں۔ درج ایف آئی آر کے مطابق نیا پاکستان کے نام پر بینک اکاؤنٹ بنایا گیا۔ سردار اظہر طارق، سیف اللہ نیازی، سید یونس، عامر کیانی، طارق شیخ اور طارق شفیع نامزد کئے گئے ہیں بینک منیجر نے غیر قانونی اکاؤنٹ آپریٹ کرنے کی اجازت دی،نجی بینک کے مینجر کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا گیا بینک اکاونٹ میں ابراج گروپ آف کمپنی سے21 لاکھ ڈالرآئے تحریک انصاف نے عارف نقوی کا الیکشن کمیشن میں بیان حلفی جمع کرایا ابراج گروپ کمپنی نےتحریک انصاف کے اکاونٹ میں پیسے بھیجے بیان حلفی جھوٹا اور جعلی ہے، ووٹن کرکٹ کلب سے دو مزید اکاونٹ سے رقم وصول ہوئی نجی بینک کے سربراہ نے مشتبہ غیر قانونی تفصیلات میں مدد کی11 لوگوں نے جرم کیا ہے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    حامد زمان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے تحقیقات سے متعلق رپورٹ