Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • کرپشن بچانے کےلیے عمران خان نے تحریک فساد شروع کردی،مریم اورنگزیب

    کرپشن بچانے کےلیے عمران خان نے تحریک فساد شروع کردی،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اپنی کرپشن بچانے کےلیے عمران خان نے تحریک فساد شروع کردی ہے۔

    اسلام آباد سے جاری بیان میں مریم اورنگزیب نے عمران خان کے خطاب پر ردعمل دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین پاکستان میں انصاف کا نہیں بلکہ انتقام کا نظام چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قوم سیلاب میں اور عمران خان اپنی ’میں‘ میں پھنسے ہوئے ہیں، جنوبی پنجاب جو سیلاب میں ڈوبا ہے، وہاں بھی ان کے سر پر شہباز شریف اور مریم نواز سوار ہیں۔

    مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ سیلاب متاثرین کو کچھ دینے کے بجائے عمران خان نے آج پھر اپنی جھوٹی سیاست کا پیٹ بھرا۔اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان پاکستان میں انصاف نہیں، تحریک انصاف کا انتقامی نظام چاہتے ہیں، اپنی کرپشن کے مقدمات سے بچنے کےلیے پی ٹی آئی چیئرمین نے تحریک فساد شروع کی ہے۔

    اس سے قبل وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان سیلاب متاثرین نہیں بیانیہ زندہ رکھنے کے مشن پر ہیں۔ وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے، اور 80 اضلاع آفت زدہ ہیں، جب کہ عمران خان سیلاب متاثرین نہیں بلکہ اپنا بیانیہ زندہ رکھنے کے مشن پر ہیں۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے 3 کروڑ لوگ متاثر ہوچکے ہیں اور لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں، جب کہ عمران خان جلسوں اور قوم کو انقلاب کیلئے جگانے میں مصروف ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان سیلاب زدگان کو پیغام دے رہے ہیں کہ انھیں بس اپنی سیاست سے غرض ہے، اور انہیں عوام کی مشکلات اور زندگیوں سے کوئی سروکار نہیں۔

    شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ ریسکیو کے منتظر ہیں، اور پنجاب حکومت کا ہیلی کاپٹر عمران کو پک اینڈ ڈراپ دے رہا، عمران خان خود غرضی کی عینک اتار کر ملک کی صورت حال دیکھیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ وقت جلسوں کا نہیں بلکہ زندگیاں بچانے کا وقت ہے، لیکن عمران خان اس وقت بھی لوگوں کو نفرت اور انتشار پر اکسا رہے ہیں۔

  • سیلاب کا سب سے بڑا فائدہ،عمران خان متاثرین کی امداد کی بجائے سیلاب کے فضائل بتا آئے

    سیلاب کا سب سے بڑا فائدہ،عمران خان متاثرین کی امداد کی بجائے سیلاب کے فضائل بتا آئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما، سابق وزیراعظم عمران خان سیلاب متاثرہ علاقے میں گئے تو سیلاب متاثرین کی مدد کی بجائے انکو سیلاب کے فائدے بتانے لگے

    عمران خان نے آج جنوبی پنجاب کا دورہ کیا، عمران خان راجن پور گئے، سیلاب متاثرہ علاقے کا دورہ کیا،روجھان میں میڈیا سے گفتگو کی جس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جب یہ پانی اترے گا تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے جب لوگ زمین میں گندم کاشت کریں گے تو فصل بڑی زرخیز ہو گی۔

    عمران خان نے سیلاب کا فائدہ بتایا تو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا،باغی ٹی وی کے سینئر اینکر ،ڈائریکٹر پروگرام عبدالرؤف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ آل یوتھ اس کے فضائل میں بھی کتب تحریر کر دیں گے۔۔۔۔سیلاب کے فوائد پر جلس کتاب بنی گالہ سے ریلیز ہو گی اور آل یوتھ کی سوشل میڈیا بریگیڈ پھر اس پر دھمال ڈالیں گے۔۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وسیم قریشی کا کہنا تھا کہ لوگ مر گئے گھر اجڑ گئے فصلیں تباہ ہو گئیں مویشی سیلاب میں بہہ گے اور جب پانی اترے گا تو لاشیں برآمد ہونگی تو کیا ہوا ؟اس سال سیلاب کی وجہ سے گندم بہت اچھی ہو گی – عمران خان ،یہ انسان پاگل ہے

    https://twitter.com/wasimsh0565534/status/1566059690747887618

    قبل ازیں تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک طاقتور ڈاکوؤں کو قانون کے نیچے نہیں لاتے تو ترقی کو بھول جائیں۔ ہم سب کو اکٹھے ہو کر ملک میں انصاف کا انقلاب لانا ہے، ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،وزیراعظم کی وزیراعلیٰ کو ہدایت

    وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کا مطلب انصاف ہے، بنانا ری پبلک میں انصاف نہیں ہوتا، ملک میں طاقت ور اور کمزورکے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہیے۔ جب تک طاقتور ڈاکوؤں کو قانون کے نیچے نہیں لاتے تو ترقی کو بھول جائیں، دنیا میں امیر اور غریب ممالک میں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں، 26 سال سے ملک میں انصاف کی جنگ لڑ رہا ہوں، انصاف ہو گا تو ملک میں کرپشن ختم ہو گی۔ غریب ممالک سے پیسہ چوری کر کے لندن میں بڑے، بڑے محلات خریدے جاتے ہیں، پہلے آپ کو جہاد کو سمجھنا ہوگا ورنہ آپ لوگ خودکش حملہ کر دیں گے، بڑے ڈاکوؤں کو قانون کے نیچے لانا ہو گا،

     

    غیر ملکی فنڈز کی رقم 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی میڈیا مہم کے لیے استعمال کی گئی

     

    انہوں نے کہا کہ ہم نے مل کرملک کوحقیقی طورپرآزادی دلانی ہے،مجھ پر اب تک 16 مقدمات درج ہو چکے ہیں، تحریک انصاف کے کارکنوں پر رات کو دوبجے چھاپے مارے گئے، مریم نواز کا لانگ مارچ بھی ہوا جو کسی راستے میں ہی گم ہو گیا تھا، تحریک انصاف کی حکومت میں کبھی مخالفین کے گھروں پر چھاپے نہیں مارے گئے تھے، 25 مئی کو خواتین، بچوں کو شیلنگ کا نشانہ بنایا گیا، ہمارا آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، بڑے ڈاکوؤں کو مسلط کیا گیا، پرامن احتجاج ہمارا حق ہے،صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے، نجی چینل کی نشریات کی بحالی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے شکر گزار ہیں، حلیم عادل شیخ کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے، زرداری، شریف خاندان مافیا ہے ڈیموکریٹ نہیں، انصاف کی جنگ کے لیے مجھے وکلا برادری کی ضرورت ہے۔

     

    پاک فوج کے جوانوں نے جان خطرے میں ڈال کر متاثرین کو ریسکیو کیا،ترجمان پاک فوج

     

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان پر شوگرمافیاز، لینڈ مافیاز کا قبضہ ہے، ہم سب کو اکٹھے ہو کر ملک میں انصاف کا انقلاب لانا ہے، ہم ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، اگرکسی نے کوئی جرم کیا ہے تواسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، صحافیوں کے خلاف مقدمات،جیلیں،بیرون ملک جارہے ہیں یہ جمہوریت نہیں ہے۔ وکلا برادری جسے مرضی ووٹ دے مجھے فرق نہیں پڑتا،وکلا برادری قانون کی بالادستی کے لیے میرا ساتھ دے،انشااللہ انصاف کا انقلاب لیکرآنا ہے،جانوروں اورانسانوں کےمعاشرے میں اصل انصاف کا ہی فرق ہے،میں سرکس والے نہیں اصل شیروں کی بات کررہا ہوں۔

    اس سے قبل روجھان میں سیلابی صورت حال پر بریفنگ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے ملک بھر میں تباہی ہوئی ہے۔ کتنا نقصان ہوا ڈیٹا اکھٹا کرنا ہوگا۔ پی ڈی ایم اے کو نقصانات کا ڈیٹا اکھٹا کرناچاہیے، بحالی کے کاموں میں مدد ملے گی۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلاب کے باعث ہزاروں ایکڑ زمین پانی میں ڈوب چکی ہے، متاثرین کو مزید امداد کے معاملے پر بات کروں گا۔ قدرتی آفت بڑا چیلنج ہے مگر متحد ہو کر مشکل سے نمٹیں گے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مچھر دانیاں فراہم کی جائیں۔ پی ٹی آئی اراکین اسمبلی سے کہتاہوں متاثرہ علاقوں میں جائیں، متاثرین کو مدد کی ضرورت ہے۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہر جگہ سیلاب سے متاثر ہے۔ ہمیں ڈیموں کی ضرورت ہے ۔ کارکن نعرے نہ لگائیں، یہ جلسہ نہیں ہے۔ اللہ نے ہمیں بڑے امتحان میں ڈالا ہوا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہر جگہ پانی میں ڈوبی ہوئی ہے، تاہم جب یہ پانی اترے گا تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے جب لوگ زمین میں گندم کاشت کریں گے تو فصل بڑی زرخیز ہو گی۔اس وقت لوگوں پر حقیقی معنوں میں مشکل وقت آیا ہوا ہے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں چاہیے ارکان صوبائی و قومی اسمبلی، حکومت اور میں، سب مل کر سیلاب متاثرین کی مدد کریں۔

    اسی دوران صحافی کے سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ آئندہ کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ 2 ڈیموں کا بننا بہت ضروری ہے۔ اگر ڈیم بنے ہوتے تو سیلاب آنے پر بھی دو تین سال تک لوگوں کا نقصان نہ ہوتا، ہمیں نئی ڈرین کا بھی بندوبست کرنا پڑے گا جو زیادہ پانی کی نکاسی میں مددگار ثابت ہو گا۔

  • ہارون شاہد نے بنوا لیا اپنا مذاق

    ہارون شاہد نے بنوا لیا اپنا مذاق

    مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے ٹویٹر پر انگلش اخبار کی ایک خبر شئیر کی جس کی ہیڈنگ کچھ یوں تھی. ” کوئی تبصرہ نہیں. 266 سیکیورٹی اہلکار پی ٹی آئی چیمین کی حفاظت کر رہے ہیں۔ان کی سیکیورٹی پر ماہانہ 20 ملین روپے خرچ ہوتے ہیں”۔ اس ٹویٹ کو قوٹ ری ٹویٹ کرکے عمران خان کے بہت بڑے مداح اداکار ہارون شاہد نے لکھا کہ ”20 ملین ماہانہ؟ معذرت لیکن یہ اس آدمی کے لیے کافی نہیں ہے جو 2 گھنٹے میں 5 بلین اکٹھا کر سکتا ہے۔ خان صاحب کے لیے مزید سیکیورٹی پلیز” یعنی ہارون شاہد کو لگتا ہے کہ بیس ملین جو عمران خان کی سیکیورٹی پر خرچ ہورہے ہیں وہ بہت کم ہیں اس سے کہیں زیادہ خرچ ہونے چاہیں. ہارون شاہد کے ایسے ٹویٹ پر ان کا بنا مذاق. ہارون شاہد کی اس پوسٹ کے نیچے اعجاز نامی ایک صارف نے لکھا ” عمران نے چار سالوں میں ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے،کچھ

    بھی نہ کر سکا اور اب سٹار پلس کے ڈراموں کی طرح کی ٹیلی تھون کا کھیل کھیل رہا ہے”. عمر خیام خان نامی ایک صارف نے لکھا ” لیکن عمران خان تو اس نوآبادیاتی طرز کے پروٹوکول سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے تھے اور سائیکل پر دفتر آنے والے وزیر اعظم کے مغربی انداز کو اپنانا چاہتے تھے”۔ اس کے علاوہ اور ایک معروف ویب سائٹ‌نے طنزیہ لکھا ” ہارون شاہد کے مطابق عمران خان کی سیکیورٹی پر بیس ملین خرچ ہونا کچھ بھی نہیں ہے ” .

  • عمران خان کی الٹی شلوار کی تصویر ویڈیو ، حقیقت کیا؟

    عمران خان کی الٹی شلوار کی تصویر ویڈیو ، حقیقت کیا؟

    عمران خان کی الٹی شلوار کی تصویر ویڈیو ، حقیقت کیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی ایک تصویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے سرگودھا جلسے میں خطاب کے دوران شلوار الٹی پہن رکھی ہے

    عمران خان نے شلوار الٹی پہن رکھی یا نہیں، سوشل میڈیا پر ویڈیو اور تصاویر شیئر ہو رہی ہیں ،الٹی شلوار پہننے پر عمران خان پر تنقید ہو رہی ہے تو وہیں کئی صارفین کا کہنا ہے کہ شاید سرگودھا جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے کسی نے انہیں کہا ہے،اسلئے وہ شلوار الٹی پہن کر گئے ہیں

    عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ اسلام آباد میں ہے اور اسلام آباد سے سرگودھا کا سفر کیا، عمران خان ہیلی پر بنی گالہ سے سرگودھا گئے، عمران خان ہیلی پیڈ سے جلسہ گاہ گاڑی میں پہنچے عمران خان کے ارد گرد سیکورٹی اہلکاروں سمیت پارٹی رہنماؤں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی، عمران خان جلسہ گاہ میں جا کر بیٹھے اور پھر خطاب کیا، عمران خان کے بنی گالہ گھر سے نکلنے سے لے کر خطاب کے دوران تک کسی کو جرات نہ ہو سکی کہ عمران خان کو کہہ دے خان صاحب شلوار الٹی پہن کر آ گئے ہیں. کیونکہ عمران خان کے سامنے کسی کو بولنے کی پارٹی میں جرات نہیں، عمران خان شلوار الٹی پہن کر نکلیں یا پاکستان کے آئین و قانون سے کھلواڑ کرنے کے غلط فیصلے کریں، جلسے میں خط لہرا کر سازش کا جھوٹا بیانیہ بنائیں یا پھر قتل کی دھمکی کا ڈرامہ کریں، فرح گوگی کی کرپشن کا دفاع ہو یا پھر عدالت کو دھمکیاں ، عمران خان کے غلط فیصلوں ،کاموں کے سامنے کسی پارٹی رہنما کو بولنے کی جرات نہیں ہوتی، اگر کسی کو جرات ہوتی کہ وہ عمران خان کے سامنے بات کرے یا اسکے فیصلے کے خلاف جائے تو کم از کم جلسے میں جاتے ہوئے عمران خان کو شلوار سیدھی پہننے کا کہہ سکتا تھا

    عمران خان کے قریبی رہنما بھی عمران خان کے غلط بیانیے میں انکی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، جو بھی عمران خان کے فیصلوں کے خلاف بولتا ہے،تو اسے پارٹی اجلاس میں نہیں آنے دیا جاتا یا عمران خان کے قریب تر رسائی ختم کر دی جاتی ہے،عمران خان کے سامنے بولنے والوں کو عمران خان سے دور کر دیا جاتا ہے،عمران خان جب وزیراعظم تھے تو اس وقت کابینہ کے اجلاسوں میں بھی شہزاد اکبر و دیگر کی تیار شدہ غلط بریفنگ، اعدادوشمار کو عمران خان صحیح کہتے اور سب کو صحیح کہنا پڑتا، رانا ثناء اللہ پر عمران خان حکومت نے مقدمہ قائم کیا تو شہر یار آفریدی جو اسوقت وزیر تھے انہوں نے‌ حلف اٹھا کر کہا تھا کہ میرے پاس ثبوت ہیں لیکن دوسری جانب جب تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوئی تو فواد چودھری نے نجی ٹی وی پر کہا تھا کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ غلط بنایا گیا تھا میں نے اسوقت کابینہ اجلاس میں بات کی تھی لیکن میری بات نہیں سنی گئی

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    عمران خان کی الٹی شلوار والی ویڈیو پر ایک صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار جانے کے غم میں عمران خان اتنا پاگل ہو چکا ہے کہ سیدھی شلوار بھی نہیں پہنتا ،یاد رہے گزشتہ روز عمران خان نے 1947 کی آزادی کے وقت کی آبادی 40 کروڑ بتا دی تھی ،ساتھ کھڑے ایک دوسرے نشئ نے اس کو بتایا کہ چالیس لاکھ تھی ،عمران خان کی تصویر بین الاقوامی سطح پر وائرل ہوگئی

    https://twitter.com/Shine_Stine/status/1565590343357267969

  • 8 ستمبرکو نہال ہاشمی اور طلال چودھری کورٹ جائیں گے، محمد زبیر

    8 ستمبرکو نہال ہاشمی اور طلال چودھری کورٹ جائیں گے، محمد زبیر

    8 ستمبرکو نہال ہاشمی اور طلال چودھری کورٹ جائیں گے، محمد زبیر

    مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے کہا ہے کہ شوکت ترین کہہ رہے تھے کہ آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کرنا ہے،آئی ایم ایف کی میٹنگ طے تھی، آپ کو پتہ تھا اس کی اہمیت کیا تھی،شوکت ترین کی گفتگو پر حیرت ہوئی ،وہ وزیرخزانہ رہ چکے ہیں،بہت سے لوگ کہتے ہیں یہ سوچ عمران خان کی ہے،

    کراچی پریس کلب میں نہال ہاشمی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ن لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ معاہدے کو سبوتاز کرنا پاکستان کے مفاد میں نہیں تھا،حکومت میں آنے کے راستے واضح ہیں، الیکشن کا انتظار کریں،سیلابی صورتحال میں 3 کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں،عمران خان جلسوں میں حکومت پر حملوں کے بجائے ان کا ساتھ دیں رسیدیں دکھا دیتے ہیں تو پھر 5ارب روپےجمع کرنے کے دعوے پر یقین کریں گے 8 ستمبرکو نہال ہاشمی اور طلال چودھری اسلام آباد ہائی کورٹ جائیں گے،پی ٹی آئی کو آئی ایم ایف پروگرام پر اختلاف تھاتو کھل کر کہتے،

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    قبل ازیں ن لیگی رہنما، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کون دیوار سے لگارہا ہے عمران خان نام بتا ہی دیں تو بہتر ہے انتظار کیوں کررہے ہیں پہلے امریکی سازش تھی پھر قتل کی دھمکی تھی اقتدار چلا جائے تو آدمی ایسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے آپ کے پاس صوبائی حکومتیں ہیں عوام کی بہتری کیلئے کام کریں دیوار سے کون لگا رہا ہےعوام کو بتا دیں انہیں دیوار سےعوام لگائیں گے

  • توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، عمران خان

    توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، نوازشریف، زرداری، یوسف رضا گیلانی کے توشہ خانہ کیسز کو بھی سنا جائے، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا۔ چار لوگوں نے بند کمرے میں بیٹھ کر سازش کی اور پھر مجھے نااہل کروانے کا منصوبہ بنایا۔

    پی ٹی آئی حکومت جاتے جاتے ہمارے لیے گڑھے کھود کر گئی،وزیراعظم

    سرگودھا میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تیری عبادت اورتجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں،سرگودھا میں سوچا نہیں تھا لوگ اتنی تعداد میں جلسے میں آئیں گے، جلسے میں بڑی تعداد میں خواتین کے آنے پرشکریہ ادا کرتا ہوں، سیلاب کی وجہ سے متاثرین مشکلوں میں ہے،قوم سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے،ہم سب مل کرسیلاب متاثرین کی مشکلیں کم کرنے کی پوری کوشش کریں گے، بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، ڈی جی خان، راجن پور میں لوگ متاثر ہوئے، ٹیلی تھون میں سوچا تھا تین گھنٹے میں چند کروڑ اکٹھے ہو جائیں گے، کم وقت میں متاثرین کے لیےساڑھے500کروڑاکٹھا کیا۔

     

    بشریٰ بی بی کی جانب سے ملک ریاض سے ہار لینے کے سوال پر عمران نے کہا ہیرے بہت سستے ہوتے

     

    انہوں نے کہا کہ ٹیلی تھون میں اوورسیزپاکستانیوں نے دل کھول کرپیسہ دیا،ٹیلی تھون کی تمام لائنیں مصروف ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کا رابطہ نہیں ہوسکا،اگر فون لائنیں مصروف نہ ہوتی تو مزید پیسے اکٹھے ہوجاتے،سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کنٹرول روم بنائیں گے،جہاں پرمتاثرین کومدد کی ضرورت وہاں پرامداد بھجوائیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر تمہیں پہلی دفعہ اندازہ ہوا فارن فنڈنگ کیا ہوتی ہے،ہمیں زیادہ پیسہ بیرون ملک پاکستانیوں نے بھیجا۔

    عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

     

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی غلامی کی وجہ سے ہمیں ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں،بیرون ملک پاکستانیوں کومتحرک کرکے ایسی اسکیمیں لائیں گے تاکہ پاکستان کی قرضوں سے جان چھوٹ جائے،لیٹروں کی لوٹ مار کی وجہ سے ہم بیرون ملک ہاتھ پھیلاتے ہیں،قرضے اتارکرہم اپنے پاؤں پرکھڑا ہو کر ایک خود دار قوم بنیں گے،سوچا نہیں تھا سرگودھا کے لوگ اتنی تعداد میں باہرنکلیں گے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جب تک ملک میں انصاف کا نظام قائم نہیں ہو گا تب تک عظیم قوم نہیں بن سکتے،ہمارے ملک میں ظلم کا نظام ہے، کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ قانون ہے،چھوٹا چورجیل اور بڑا چور، چوری کرے تو ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہے،آزاد عدلیہ کے لیے مجھے بھی جیل میں ڈالا گیا،8 دن ڈی جی خان کی جیل میں گزارے، جیل میں ایک امیر چورنہیں بلکہ سارے چھوٹے چورنظرآئے، ملک کے بڑے بڑے ڈاکو مجھے اسمبلی میں نظر آئے، بڑے لیٹروں میں سے ایک ڈیزل بھی ہیں، زرداری، شریف خاندان والے بیرون سازش کے تحت لیٹروں کو مسلط کیا گیا، آپ سب حقیقی آزادی کی تحریک میں شامل ہو جائیں، جب تک یہ چوراوپربیٹھے ہیں اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ امریکا کو چیری بلاسم جوتے پالش کرنے والا چاہیے تھا،ڈیزل تو پہلے ہی تیار بیٹھا تھا،ملک کی سب سے بڑی بیماری زرداری ہے،زرداری نوٹ دیکھ کر اس کی مونچھیں اوپر، نیچے جانا شروع ہو جاتی ہیں، زرداری سے چلا جاتا نہیں لیکن پیسے کے پیچھے جان دینے کو تیارہیں، تینوں اکٹھے ہو گئے اور ان کے ساتھ اور سازشی پاکستان میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک پلان انسان اور ایک اللہ بناتا ہے،اللہ نے لوگوں کے دل موڑدیئے لوگ سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے سازش کی وہ ہکے، بہکے رہ گئے، قوم سڑکوں پرنکل آئی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کے بعد پہلی دفعہ خواتین،بچے سڑکوں پرنکل آئے،25مئی کو پولیس، رینجرزنے خواتین پر شیلنگ کر کے خوف پھیلایا، میں توبھول ہی گیا ہوں میرے خلاف اب تک 17 ایف آئی آرکٹ چکی ہیں،پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ہرحربہ استعمال کیا گیا پھربھی یہ ہارگئے،پنجاب کے ضمنی الیکشن ہارنے پر حمزہ ککڑی کو فارغ کرنا پڑا، ضمنی الیکشن ہارے تو ان کی کانپیں ٹانگنا شروع ہوگئیں، ان کو خوف تھا کہ اگر عام انتخابات کرادیئے تو دو تہائی اکثریت عمران لے گا، ضمنی الیکشن کے بعد انہوں نے ٹیکنکل طریقے سے مجھے فارغ کرانے کی سازش شروع کی، پہلی سازش حکومت گرانا، دوسری سازش مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش تھی، ایک بند کمرے میں یہ بھی فیصلہ ہوا، عمران خان کو مکمل طور پر سائیڈ کر دیا جائے۔

    اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک ٹیپ ریکارڈ کر کے رکھوادی ہے جس میں اُن چار لوگوں کے نام ہیں جنہوں نے میری حکومت کے خلاف سازش کی اور نااہل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو وہ ٹیپ عوام کے سامنے آئے گی اور پھر عوام اُن چاروں لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے پالتو الیکشن کمشنر کو مجھے فنڈنگ کیس میں نا اہل کرنے کا کہا گیا۔

    پی ٹی آئی چیئر مین نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے،نوازشریف، زرداری،یوسف رضا گیلانی کے توشہ خانہ کیسز کو بھی سنا جائے، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا،توشہ خانہ کیس میں یہ سارے ذلیل ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم تو 27 ویں شب کو شب دعا منا رہے تھے، مدینہ میں ان کے خلاف چور، چور کے نعرے لگے اور مقدمہ میرے خلاف توہین مذہب کا درج کیا گیا، شہباز گل پرجنسی تشدد کیا گیا، میں نے یہ کہا جنہوں نے تشدد نہیں روکا ان کیخلاف قانونی کارروائی کروں گا، اس پر میرے خلاف دہشت گردی کا کیس بنادیا گیا،مجھ پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے پر دنیا میں مذاق اڑایا گیا، دہشتگردی مقدمے کا مقصد مجھے کسی طرح راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں،بتایا جائے کونسا معاشرہ کسٹوڈین تشدد کی اجازت دیتا ہے،حلیم عادل شیخ پر بھی تشدد کیا گیا، 27 مقدمات درج کیے گئے، مسلم لیگ (ن) والے چاہتے ہیں نواز شریف کی طرح مجھے بھی نا اہل کیا جائے، نواز شریف نے لندن میں اربوں روپے کے چار مہنگے فلیٹس خریدے، دس سال پہلے نوازشریف سے منی ٹریل مانگی آج تک نہیں دی،مریم نوازکہتی تھی لندن تو کیا ملک میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں،مریم نواز جتنے سیدھے منہ سے جھوٹ بولتی ہیں کبھی کسی کو نہیں بولتے سنا، اللہ تعالیٰ حق اور سچ کو سامنے لیکر آتا ہے، نواز شریف جب پکڑا گیا تو حسین نواز نے لندن فلیٹس کو تسلیم کیا، لندن کے چار بڑے محلات کی مالکہ مریم نوازہیں،قوم کا پیسہ چوری کر کے لندن کے فلیٹ خریدے گئے تھے ن لیگ والوں میرا نواز شریف کیس سے موازنہ نہ کرو،مسلم لیگ والوں میرا سب کچھ اورجینا مرنا پاکستان میں ہے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک طرف جب قوم کی خواتین جاگ جائیں تو انقلاب آجاتا ہے، باپ اگر ن لیگ اور بچے، بیوی سارے تحریک انصاف میں ہوتے ہیں، ماں بچے کی شکل کو دیکھ کر پہچان جاتی ہیں، ماؤں کو پتا ہے(ن) لیگ اور زرداری چورہیں، قوم کے پیسوں سے لندن کے فلیٹس خریدے گئے،26سال سے ان کی کرپشن کے خلاف جدوجہد کر رہا ہوں، قوم کا جوپیسہ سکولز، ہسپتال، سڑکوں، بجلی بنانے پر لگنا تھا وہ چوری کیا گیا، کرپشن پورے ملک کو تباہ کردیتی ہے، یہ چوری کا پیسہ بیرون ملک بھیجتے ہیں،آج کل چیری بلاسم سیلاب متاثرین کے پاس صرف تصویریں کھنچوانے کے لیے جارہا ہے، شہبازشریف اگر متاثرین کی مدد کے لیے سیریس ہیں تو اپنا اور بھائی کا آدھا پیسہ ملک میں واپس لے آئے،شہبازشریف جب سے اقتدارمیں آیا ہے ملک کی شرمندگی ہورہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ شہبازشریف دوسروں سے کہتا ہے ملک میں پیسہ لیکر آؤ، یہ خود ملک کا پیسہ چوری کر کے بیرون ملک لے جاتے ہیں، دنیا کا کوئی ایک سربراہ بتا دیں جس کا پیسہ بیرون ملک ہواوروہ اقتدارمیں ہو،ان کوہمارے اوپرمسلط کیا گیا ہے،آپ نے میرے ساتھ کھڑا ہونا ہے ہم نے ان لوگوں سے حقیقی آزادی چھیننی ہے۔ انہوں نے سازش کر کے ہماری حکومت گرائی، حکومت کے اکنامک سروے کے مطابق پی ٹی آئی حکومت میں معاشی ترقی 6 فیصد گروتھ تھی،کورونا کے باوجود یہ 17 سال بعد پاکستان کی بہترین معاشی کارکردگی تھی،کورونا کے باوجود ہماری ریکارڈ ایکسپورٹ تھی،ریکارڈ ٹیکس ریونیو اکٹھا کیا گیا، ہمارے دور میں کسانوں نے سب سے زیادہ پیسہ کمایا،آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود ہم نے مہنگائی کو کنٹرول میں رکھا، 17 سے 18 فیصد مہنگائی تھی، آج مہنگائی 45 فیصد سے اوپر چلی گئی ہے، بجلی کے بل دیتے ہوئے لوگوں نے دو گولیاں ڈسپرین کی بھی ساتھ کھائیں،ہماری حکومت نے ہر خاندان کو 10لاکھ علاج کی انشورنس دی،چارماہ پہلے ڈاکٹرز ہسپتال میں میرے دوست نے کہا پہلی دفعہ ہیلتھ کارڈ پر دل کا آپریشن کیا،آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود ہم نے مہنگائی کو کنٹرول اور عوام کوسبسڈی دی، آج سازش کرنے والے بتائیں ملک کا جوحال ہے کون ذمہ دارہے؟

  • عدالت جاتے ہوئے بھی عمران خان پولیس والے ساتھ لے کر جاتے ہیں، آئی جی اسلام آباد

    عدالت جاتے ہوئے بھی عمران خان پولیس والے ساتھ لے کر جاتے ہیں، آئی جی اسلام آباد

    عدالت جاتے ہوئے بھی عمران خان پولیس والے ساتھ لے کر جاتے ہیں، آئی جی اسلام آباد

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا

    سینیٹرز اعظم نذیر تارڑ، مولا بخش چانڈیو، فوزیہ ارشد، سیف اللّہ ابڑو، رانا مقبول احمد، شہادت اعوان، کامل علی آغا، سرفراز احمد بگٹی کے علاوہ سینیٹرز اعجاز احمد چودھری، فیصل جاوید، زیشان خانزادہ، اعظم خان سواتی نے خصوصی طور پر کمیٹی اجلاس میں شرکت کی-آئی جی پی اسلام آباد، چیف کمشنر اسلام آباد بھی کمیٹی اجلاس میں شریک ہوئے-چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے وزیر داخلہ اور سیکریٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر تشویش اور برہمی کا اظہار کیا اور کہ کہ وزیرداخلہ اور سیکریٹری داخلہ کو کمیٹی میں شرکت کیلئے خطوط ارسال کئے گئے لیکن اس کے با وجود وہ کمیٹی میں پیش نا ہوئے-

    سابق وزیراعظم عمران خان کی سیکیورٹی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ عمران خان ایک عالمی لیڈر ہے، اسلاموفوبیا کے مسئلے پر انہوں نے پوری دنیا میں ہر پلیٹ پر بات کی سب نے ان کی کاوشوں کو سراہا ہے-انہوں نے بتایا کہ عمران خان جب اسلام کی بات کرتی ہے تو پوری دنیا اس کو اپنا لیڈر سمجھتی ہے-انہوں نے امریکہ کو “ابسولوٹلی ناٹ” کہا، امن کا ساتھ دینے اور کشیدگی سے دور رہنے کی بات کی یہ ایسی باتیں ہیں جس پر باہر کے ممالک بھی ناراض ہیں-چیئرمین کمیٹی نے مزید کہا کہ سیکیورٹی ایجنسیز اور پولیس نے خود کہا ہے کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے تو ایسی صورتحال میں ان سے سیکیورٹی واپس لینا ناجائز اور غیرمناسب ہے-چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ عمران خان کے پاس جو پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز تھے ان کو کیوں ہٹایا گیا؟ ان کا سیکیورٹی لائسنس ناجائز طریقے سے واپس لیا گیا جو غیرمناسب ہے-انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان سیکیورٹی کے اہلکار جو عمران خان کی سیکیورٹی مامور تھے ان کو واپس لیا گیا-سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی غلط ہوا اور اب عمران خان کے ساتھ بھی غلط ہو رہا ہے-

    عمران خان کی سیکیورٹی واپس لینے کے حوالے سے کمیٹی کو بریفگ دیتے ہوئے آئی جی پی اسلام آباد نے بتایا کہ اس وقت سابق وزیراعظم عمران کی سیکیورٹی پر دو پرائیویٹ کمپنیز کے علاوہ خیبرپختونخوا، اسلام آباد، گلگت بلتستان، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز کے تقریبا 266 اہلکارمامور ہیں اور یہ سب ایک ہی کمانڈ کے انڈر کام کرتے ہیں- سابق وزیر اعظم عمران خان کی سیکیورٹی پر تنخواہوں سمیت تقریبا سالانہ 24 کروڑ کا خرچہ آرہا ہے-سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی سیکیورٹی پر 2200 اہلکار مامور ہوتے تھے جن کا خرچہ سالانہ 4.5 ارب روپے ہوتا تھا-کمیٹی کو بتایا گیا کہ دو پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیز کے لائسنس معمولی غلطی کے باعث منسوخ کئے گئے لیکن وہ ابھی بھی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں- چیف کمشنر نے بتایا کہ لائسنس منسوخ کرنے کا اختیار وزارت داخلہ کے پاس ہوتا ہے-ان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ چاہتی ہے کہ ان دو پرائیویٹ کمپنیز کو تبدیل کردیا جائے-

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    اس سے پہلے کمیٹی کے آغاز میں پاکستان میں موجودہ سیلابی صورتحال اور اس کے نتیجے میں متاثرین اور جاں بحق افراد کیلئے خصوصی دعا کی گئی-سینیٹر اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزادوسیم نے کہا کہ بہت مشکل سے عمران خان جیسے لیڈرز پیدا ہوتے ہیں، بے نظیر کی شہادت بھی بڑا حادثہ تھا،عمران خان کی شکل میں وفاقی لیڈر موجود ہے-وہ سابق وزیر اعظم نہیں بلکہ لیڈر ہیں، لیڈر کا نقصان قوم کا نقصان ہوتا ہے- انہوں نے بتایا کہ کل مریم نواز سیلاب زدگان کے پاس جا رہی تھی تو پروٹوکول میں 62 گاڑیاں تھیں-عمران خان کی سیکیورٹی واپس لینا تشویش ناک ہے-

    سینیٹر کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی سیکیورٹی کا معاملہ حساس ہے اس کو سنجیدگی سے لینا چاہئے-بےنظیر کو بھی سیکیورٹی تھرڈ تھیں، نام بھی سامنے آگئے تھے، اس معاملے کو پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہئے-نوازشریف کوسیکیورٹی ملتی رہی اس لئے انہوں نےاعتراض نہیں کیا-انہوں نے بتایا کہ آج وزیر داخلہ کو لازمی کمیٹی اجلاس میں آنا چاہئے تھا کیونکہ الزامات ہیں کہ عمران خان کی پرائیویٹ سیکیورٹی کو بھی ہٹا دیا گیا ہے وہ ایک بڑی جماعت کے لیڈر ہیں-اگر وزارت داخلہ کےحکام کمیٹی اجلاس میں نہیں آئے تو اس سے تو یہ تاثر جائے گا کہ یہ عمران خان کو مروانا چاہتے ہیں-

    سینیٹراعظم خان سواتی نےکہا کہ ہائی کورٹ میں بھی کہا گیا کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے-ان حالات کے اندر ہم سب نےاپنا فرض ادا کرنا ہے اور اس کمیٹی کی آواز موثر انداز سے باہرجانی چاہئے،عمران خان کی سیکیورٹی ان کی شخصیت کے مطابق نہیں ہے، دشمن کافی زیادہ ہیں، کمیٹی فیصلے میں عمران خان کو لاحق خطرات کو سامنے رکھا جائے-سینیٹر مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ ہم عمران خان کی سلامتی کے دشمن نہیں ہیں ہم ان میں نہیں جنہوں نے بی بی اور بھٹو کی شہادت پر مٹھائیاں تقسیم کیں-سینیٹر اور سینیٹ میں قائد ایوان اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سیلاب زدگان کی فکر نہیں لیکن عمران خان کے جلسے ہو رہے ہیں اور گالیاں دی جا رہی ہیں-انہوں نے کہا کہ یہ فارم اس قسم کے معاملات پر بحث کرنے کیلئے نہیں ہے-

    آئی جی پی اسلام آباد نے کہا کہ سابق وزیراعظم کی سیکیورٹی کا معاملہ اہم ہے-کوئی بھی سابق وزیراعظم ہو ان کی سیکیورٹی کا معاملہ سیاسی نہیں ہونا چاہئے-معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے میڈیا میں اس حوالے سے باتیں نہیں ہونی چاہئے-ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی مہیا کرنے کا ایک طریقہ ہے-ایجنسیز بھی اس عمل میں شریک ہوتی ہیں-سب قانون کے مطابق ہوتا ہے-ہماری گزارش ہوتی ہے کہ ہم سے بھی تعاون کیا جائے-عمران خان کو بھی وہی طریقہ کار کے مطابق سیکیورٹی دی جا رہی ہے-

  • بشریٰ بی بی کی جانب سے ملک ریاض سے ہار لینے کے سوال پر عمران نے کہا ہیرے بہت سستے ہوتے

    بشریٰ بی بی کی جانب سے ملک ریاض سے ہار لینے کے سوال پر عمران نے کہا ہیرے بہت سستے ہوتے

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی موجودہ اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے کاروباری شخصیت ملک ریاض سے ہار لینے کے سوال پر عمران خان نے کہا ہیرے بہت سستے ہوتے ہیں لہذا کسی مہنگی چیز کی بات کرو۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت سے روانگی پر ذرائع ابلاغ کے نمائندے کی جانب سے عمران خان سے سوال کیا گیا تو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ ہیرے بہت سستے ہوتے ہیں، کوئی مہنگی چیز کی بات کرو۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر جمعرات یکم ستمبر کو جب پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان عبوری ضمانت میں توسیع ملنے کے بعد واپس روانہ ہونے لگے تو میڈیا نمائندگان نے ان پر سوالات کی بوچھاڑ کر ڈالی۔

    ایک صحافی کی جانب سے عمران خان سے سوال کیا گیا کہ “ آپ کی اہلیہ پر ملک ریاض سے ہیروں کا ہار لینے کا الزام ہے کیا لیا تھا؟ “۔ جس پر عمران خان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ “ ہیرے بہت سستے ہوتے ہیں، کوئی مہنگی چیز کی بات کرو“۔ ایک موقع پر انہوں نے سوالات کے جواب میں مسکرا کر کہا کہ “ میں ہر روز زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہوں “۔

    بعد ازاں گاڑی میں بیٹھتے ہوئے عمران خان نے پارٹی رہنماؤں سے مشورہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ٹاک کرلوں کیا؟، جس پر فیصل جاوید نے انہیں مشورہ دیا کہ نہیں نہیں اپ کی ٹاک کرنا مناسب نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں خاتون مجسٹریٹ اور اسلام آباد پولیس کے سینیر افسران کو دھمکیاں دینے سے متعلق سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے کی سماعت آج بروز جمعرات یکم ستمبر کو ہوئی جہاں انہٰں عدالت نے بزات خود پیش ہونے کا حکم دیا اور وہ پیش بھی ہوئے.

    کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ جواد نے کی۔ سماعت کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

    یاد رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ مارگلہ میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج اور اعلیٰ پولیس افسران کو دھمکیوں کے معاملے پر سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف مجسٹریٹ اسلام آباد علی جاوید کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 20 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گِل کی گرفتاری کے خلاف عمران خان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔

    درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق عمران خان نے تقریر میں پولیس افسران اور جج کو دھمکیاں دیں اور ڈرایا، عمران خان کی تقریر کا مقصد عدلیہ اوراعلیٰ حکام کادہشت زدہ کرنا تھا۔ متن میں یہ بھی لکھا تھا کہ دھمکیوں کا مقصد یہ تھا کہ عدلیہ اور حکام اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری نہ کریں، تقریر سے پولیس حکام عدلیہ اورعوام میں خوف وہراس پھیلایا گیا ہے، تقریر سے عوام میں بے چینی، بد امنی، دہشت پھیلی اور امن تباہ ہوا

  • عمران خان کی سیکورٹی پرسیکڑوں اہلکارتعینات:عوام پوچھ رہی ہےکہ خرچہ کون برداشت کررہاہے؟

    عمران خان کی سیکورٹی پرسیکڑوں اہلکارتعینات:عوام پوچھ رہی ہےکہ خرچہ کون برداشت کررہاہے؟

    اسلام آباد :عمران خان کی سیکورٹی پر294 اہلکار تعینات:خرچہ کون برداشت کررہاہے؟اطلاعات کے مطابق اس وقت ایک سوال اٹھایا جارہا ہے کہ عمران خان جو کہ میڈیا میں غریبوں کا ہمدرد ہونے کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں وہی عمران خان اپنی سیکیورٹی پر 300 کے قریب سیکیورٹی گارڈز کا خرچہ کیسے برداشت کرتے ہیں؟

    اس سلسلے میں عوام الناس کا کہنا ہے کہ یہ کیسی غریبوں سے ہمدردی ہے کہ جس میں ایک شخص کی حفاظت پراتنی بڑی تعداد میں حکومت وقت کے ملازمین کوپابند کردیا گیا ہے ، اطلاعات ہیں کہ عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ کے اطراف میں سیکڑوں پولیس اہلکار تعینات ہیں

    اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بحث جاری ہے کہ عمران خان کے وی وی آئی پی سیکیورٹی کے علاوہ ٹریول روٹ اور درجنوں گاڑیوں کا خرچہ کیسے پورا ہوتا ہے؟ بنی گالا اس کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ عمران خان جو کہ غریبوں کے خیر خواہ ہونے کے بڑے دعویدار ہیں خود اپنی ذات پراس قدر ریاست کے اخراجات کروا رہے ہیں کہ ہر جاننے والا حیران ہے ،

    عمران خان کی سیکورٹی میں شامل سیکورٹی اہلکاروں کی تنخواہوں اور دیگراخراجات کےساتھ ساتھ گاڑیوں کی پٹرولنگ کے اخراجات بھی ایک سوال بنے ہوئے ہیں‌، لوگ پوچھتے ہیں کہ حکومت نے اس قدرسیکورٹی کیوں فراہم کررکھی ہے ، عوام الناس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت قوم کس کس کا بوجھ برداشت کرے گی ، اس بات کی وضاحت چاہیے

    بنی گالا ہاؤس کے اطراف تعینات سیکیورٹی کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    1-اسلام آباد پولیس کے 77 اہلکار
    2-کے پی کے پولیس کے 57 اہلکار
    3-گلگت بلتستان سے 6 اہلکار
    4-رینجرز کے 6 اہلکار
    5-عسکری گارڈز8
    6- ایس ایم سی گارڈز 20
    7- ایف سی گارڈز 120
    ٹوٹل 294

    سوال یہ ہے کیا پاکستان جیسی ریاست جس میں ہمیں فنانشل کرائسز کا سامنہ ہے، وہ ریاست عمران خان کے شاہانہ خرچے اٹھا سکتی ہے؟

    سوشل میڈیا پرشہری یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ اس معاملے کی ذمہ دارحکومت ہے جوایک شخص کی حفاظت کے لیے ریاست کی سیکورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کو عمران خان جیسے سیاستدان کی حفاظت پرپابند کیئے ہوئے ہے ، ایسا نہیں ہونا چاہیے

  • عمران خان توہین عدالت کیس پر تحریری حکم نامہ جاری،مریم نواز کا ردعمل

    عمران خان توہین عدالت کیس پر تحریری حکم نامہ جاری،مریم نواز کا ردعمل

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکانے پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی سماعت کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے عمران خان توہین عدالت کیس کی آج کی سماعت پر تحریری حکم نامہ جاری کیا۔

    عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عدالت نے کہا کہ توہین عدالت کیس میں عمران خان کا جواب تسلی بخش نہیں ہے، پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف کیس میں شوکاز نوٹس ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ عمران خان کو ضمنی جواب جمع کرانے کے لیے 7 دن کی مہلت دیتے ہیں، پی ٹی آئی چیئرمین کا نیا جواب 8 ستمبر سے پہلے فریقین کو بھی پہنچایا جائے.

    عمران خان کے بارے میں لاڈلے ہونے کا تاثر پایا جاتا ہے: اعظم نذیر تارڑ

     

    دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں خاتون جج کو دھمکی دینے سے متعلق توہین عدالت کے کیس کی سماعت ہوئی اور عدالت نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 7 روز میں دوبارہ جواب جمع کرانے کی مہلت دی ہے۔

    اس پر ردعمل میں مریم نواز کا کہنا تھاکہ عمران خان کو فراہم کردہ ڈھیل اور سہولیات سے اور کچھ ثابت ہو نہ ہو نواز شریف اور مسلم لیگ ن سے ہونے والی ناانصافیاں اور زیادتیاں ایک بار پھر پوری قوم کے سامنے عیاں ہو گئیں۔انہوں نے کہا کہ ترازو سیدھا نہیں ہو سکا۔

    مریم نواز کا کہنا تھاکہ ’اصل میں توہین کی سزا جج زیبا کو ہونی چاہیے جنہوں نے انصاف کر کے عمران خان کی شان میں گستاخی کی تھی