Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • ایک گھنٹے میں اربوں جمع تو 4 سالہ دور حکومت میں 25 ارب ڈالر قرضہ کیوں لیا؟، اداکارہ عفت عمر

    ایک گھنٹے میں اربوں جمع تو 4 سالہ دور حکومت میں 25 ارب ڈالر قرضہ کیوں لیا؟، اداکارہ عفت عمر

    اداکارہ عفت عمر نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ٹیلی تھون مہم پر ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر عفت عمر نے سوال کیا کہ ایک گھنٹے میں اربوں روپے اکٹھے کرسکتے ہیں تو 4 سالہ دور حکومت میں 25 ارب ڈالر قرضہ کیوں لیا تھا؟-

    سیلاب میں امیر کا گھر کیوں نہیں ٹوٹتا غریب کا گھر ہی کیوں ٹوٹتا ہے؟ فضا علی کا سوال


    عفت عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں انہوں نے میڈیا گفتگو کے دوران عمران خان پر تنقید کی اور کہا کہ عمران خان کا بیانیہ انسان دوست نہیں ہے، یہ ہمیں ترقی کی جانب نہیں لے کر جائے گا، ان کے پاس باتوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے، عملی طور پر وہ بہت کم ظرف آدمی ہیں ‘۔

    عفت عمر کا کہنا تھا کہ میں پہلے عمران خان کو بہت فا لو کرتی تھی لیکن پھر مجھے محسوس ہوا وہ ایک کم طرف انسان ہیں ان میں گریس نہیں، پہلے کسی مشکل پڑنے پر سارے پاکستانی اکٹھے ہوجاتے تھے لیکن اب عمران خان پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے اتنی تقسیم کردی ہے کہ لوگ اب نفرت میں آکر اپنے پاکستانی سیلاب متاثرین کی مدد اس لیے نہیں کررہے کہ مسلم لیگ (ن ) اور پی پی کامیاب نہ ہوجائے۔

    سیلاب متاثرین کی مددکریں انجمن کا جذباتی وڈیو پیغام سوشل میڈیا پر وائرل

    واضح رہے کہ حال ہی میں تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ٹیلی تھون ٹرانسمیشن کا آغاز کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چار ارب 14 کروڑ روپےسے زائد جمع ہوئے ہیں جس پر سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے-

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی ٹیلی تھون ٹرانسمیشن میں سیاست دان، فنکاروں اور معروف شخصیات نے شرکت کی جن میں وزیر اعلیٰ‌ پنجاب پرویز الٰہی، سابق کرکٹر انضمام الحق، اداکارہ عتیقہ اوڈھو، حمزہ علی عباسی، جاوید شیخ، شان شاہد، رائٹر خلیل الرحمان قمر ودیگر شامل تھے۔

    ہمیں‌پتہ چلے کل قیامت ہے تو ہم جائے نماز اور تسبیح بھی مہنگی کر دیں گے ارسلان نصیر پھٹ پڑے

  • عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کی سماعت کی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان عدالتی حکم پر ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے . اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماتحت عدلیہ بہت مشکل حالات میں کام کر رہی ہے عام آدمی کو 70سال میں بھی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک رسائی نہیں، ضلعی عدالت عام آدمی کی عدالت ہے عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا، ضلعی عدالت عام آدمی کی عدالت ہے ،جس حالت میں ماتحت عدلیہ کام کر رہی ہے انکا اعتماد بڑھانے کیلئے اس عدالت نے بہت کام کیا،عدالت کو توقع تھی کہ آپ اس عدالت میں پیش ہونے سے پہلے وہاں سے ہو کر آتے،جس طرح گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا زبان سے کہی ہوئی بات واپس نہیں آتی ،جبری گمشدگیاں بد ترین ٹارچر ہے ،بلوچ طلبہ کے ساتھ جو ہوا وہ بھی ٹارچر ہے تین سال سے ہم ان معاملہ کو وفاقی حکومت کو بھجوا رہے ہیں لیکن ٹارچر کے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، آپ کا جواب اس بات کا عکاس ہے کہ جو ہوا اس کا آپ کو احساس تک نہیں آپ کے موکل کو احساس نہیں کہ انہوں نے کیا کہا کاش اپنے دور حکومت میں اس ٹارچر کے مسئلے کو اس جذبے سے اٹھاتے،اگر تب یہ مسئلہ سنجیدگی سے دیکھا گیا ہوتا تو آج نہ ٹارچر کا مسئلہ ہوتا نہ بلوچ طلبہ کا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس عدالت کے معاون ہیں، خود کو کسی کا وکیل نہ سمجھیں ،عدالت نے وکیل سلمان صفدر کو شہباز گل کیس کا فیصلہ پڑھنے کی ہدایت کر دی،شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے کیس کا عدالتی فیصلہ پڑھ کر سنایا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل ٹارچر کیس پر اسلام آبادہائیکورٹ نے حکم جاری کیا،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ میں عمران خان کے سارے بیانات ریکارڈ پر لے آتا ہوں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ جیل کس کے ایڈمنسٹریٹو کنٹرول میں ہے؟ ٹارچر کی ذرا سی بھی شکایت ہو تو کیا جیل حکام ملزم کو بغیر میڈیکل داخل کرتے ہیں؟ یہ پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ سے کب نمٹائی گئی اور تقریر کب کی گئی؟ وکیل نے کہا کہ پٹیشن 22 اگست کو نمٹائی گئی اور تقریر 20 اگست کو کی گئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا تو تقریر کی گئی؟ اڈیالہ جیل کس کے انتظامی کنٹرول میں ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے کیس ریمانڈ بیک کیا تھا، کیا عمران خان کے اس وقت دیئے گئے بیان کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟یہ عدالت تنقید کو خوش آمدید کہتی ہے فیصلوں پر جتنی تنقید کرنی ہے کریں، اس عدالت کو رات 12بجے کھلنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہم تو ہمیشہ سے ہی انصاف کی فراہمی کے لیے موجود تھے ،ماتحت عدلیہ کے ججز کوئی ایکس اور وائے نہیں یہ وہ عدالت ہے جو صرف قانون پر چلتی ہے اس کے تمام ججز غیر جانبدار ہیں، عدالت نے آرڈیننس کالعدم قرار دیا اگر آج وہ ہوتا تو گرفتاریاں بھی ہوتیں ضمانت بھی نہ ہوتی، سیاسی لیڈرز کی اس وقت کے بیانات آپ دیکھ لیں یہ عدالت کیوں بارہ بجے کھلی ؟ سوال اٹھانا آپ کا حق ہے،یہ عدالت کمزور کے لیے بھی چھٹی کے روز 24 گھنٹے کھلی رہی ہے ،انہوں نے اچھے انداز میں گلہ کیا کاش اسی انداز میں ماتحت عدلیہ کے جج کو ایڈریس کرتے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی لیڈر کی بہت حیثیت ہوتی ہے ہر وقت بہت اہم ہوتا ہے،اس عدالت کے کسی جج کو کوئی زیراثر نہیں کر سکتا ،آج موقع ہے تو بتا دیتے ہیں کہ عدالت رات کو کیوں کھلی تھی؟ اس عدالت کے ذہن میں تھا کہ جو 12 اکتوبر کو ہوا وہ دوبارہ نہ ہو،یہاں کوئی اگر ایک لاکھ آدمی بھی لے آئے تو اس عدالت پر اثر نہیں ہوتا،میری سپریم کورٹ کے ایک جج کے ساتھ فوٹو تھی جسے ایک سیاسی جماعت کا عہدیدار بنا کر وائرل کیا گیا، مجھے ایک فلیٹ کا مالک بھی بنا دیا گیا، ہمارے ادارے نے بھی بہت غلطیاں کی ہیں جن پر تنقید کو ویلکم کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر ججز کی تصاویر لگا کر الزامات لگائے جاتے ہیں، سیاسی جماعتیں اپنے فالوورز کو منع نہیں کرتی، طلال چودھری ، دانیال عزیز اور نہال ہاشمی کا کیس بھی عدالت کے سامنے ہے ،آزادی رائے کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، آپ نے جو جواب جمع کرایا وہ عمران خان جیسے لیڈر کے رتبے کے مطابق نہیں ،حامد خان نے کہا کہ میں نے درخواست کے قابل سماعت نہ ہونے کا نکتہ بھی اٹھایا ہے، اس کے علاوہ بھی باتیں کی ہیں، جواب کا صفحہ نمبر 10 ملاحظہ کریں،عمران خان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ جوڈیشل افسر کے بارے میں یہ کہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے فالوورز کو منع نہیں کرتیں ،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے وکیل کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام عدالتی کارروائی کو شفاف رکھیں گے،توہین عدالت کیسز پر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل لازم ہے،تحریری جواب دوبارہ جمع کرائیں ورنہ ہم کارروائی آگے بڑھائیں گے، طلال چودھری، نہال ہاشمی اور دانیال عزیز کیسزمیں فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے جواب دیں، پھر کہہ رہا ہوں کہ اس معاملے کی حساسیت کو سمجھنے کی کوشش کریں،

    جسٹس میان گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ کارروائی آج ہی ختم ہو سکتی تھی لیکن آپکے جواب سے یہ ختم نہیں ہو گی،آج تو کارروائی آگے بڑھائی جانی چاہیے تھی چیف جسٹس آپکو ایک اور موقع دے رہے ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں تبدیلی تب آئے گی جب آئین سپریم ہو گا،اس ملک میں اصل تبدیلی تب آئے گی جب سول سپرمیسی ہو گی،عدالت معاون مقرر کرنا چاہتی ہے تاکہ کارروائی شفاف رہے، بتائیں کیسے کیا جائے ،اس ملک میں تبدیلی تب آئے گی جب تمام ادارے اپنا کام آئین کے مطابق کریں،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو 7 دن میں دوبارہ تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا خاتون جج کو دھمکی ،اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت 8ستمبرتک ملتوی کر دی گئی،منیر اے ملک ، مخدوم علی خان اور پاکستان بار کونسل عدالتی معاون مقرر کر دیئے گئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی ریکارڈ سے پتہ چلے گا کہ ہم ایسے معاملات کو ایگزیگٹوز کو بھیجتے رہے ہیں کسی نے سنجیدہ نہیں لیا ،پچھلے تین سال میں ایک کیس کی بھی تحقیقات نہیں ہوسکی ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہماری عدلیہ 130 نمبر پر ہے، فواد چودھری کے ساتھ میٹنگ میں انہیں بتایا کہ یہ چیف ایگزیکٹو کی غفلت کا معاملہ ہے،یہ وقت ہے ہم ایک پاکستان کی تعمیر نو کریں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کی کاپیاں معاونین کو آج ہی بھیجی جائیں پیکا آرڈیننس اگر معطل نہ ہوتا تو آج آدھا پاکستان جیل میں ہوتا ،قانون سے بالاتر کوئی نہیں

    قبل ازیں عدالت پییشی کے موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ راستے بند کرانے کی سمجھ نہیں آئی اتنا خوف کیوں ہے ہم نے ورکرز کو بھی کہا کہ کسی نے بھی نہیں آنا ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ سے روانہ ہو گئے

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • یہ نہ ہو مجھ پہ مزید مقدمے درج ہو جائیں عمران خان کی حمزہ عباسی کی بات کے جواب میں طنز

    یہ نہ ہو مجھ پہ مزید مقدمے درج ہو جائیں عمران خان کی حمزہ عباسی کی بات کے جواب میں طنز

    سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے منعقد کی گئی لائیو ٹیلی تھون میں ان کے ساتھ اداکار حمزہ عباسی بھی تھے وہ ٹیلی تھون کے دوران عمران خان سے باتیں بھی کرتے رہے، حمزہ علی عباسی نے کہا کہ عمران خان صاحب آپ کی مقبولیت دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ اگلی حکومت بھی آپکی ہو گی، اس پر عمران خان نے ہنستے ہوئے کہا کہ ایسا نہ کہیں ورنہ مجھ پر مزید مقدمات بنا دئیے جائیں گے. عمران خان کی یہ بات سن کر حمزہ علی عباسی کھل کھلا کر ہنس پڑے. حمزہ علی عباسی ایک عرصے سے سکرین سے غائب ہیں کافی وقت کے بعد وہ ٹی

    وی سکرین پر نظر آئے ہیں اور ان کا عمران خان کے لئے جذبہ اور محبت میں کسی قسم کی کمی دیکھنے کو نہیں ملی. یاد رہے کہ حمزہ عباسی کی فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ 13 اکتوبر کو ریلیز ہو نے جا رہی ہے اس میں حمزہ عباسی نوری نت کا کردار کررہے ہیں اس میں انہوں نے ٹھیٹھ پنجابی بولی ہے. حمزہ علی عباسی تو ہر قدم پر عمران خان کا ساتھ دیتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ حمزہ کی فلم ریلیز ہونے کے موقع پر عمران خان کوئی ٹویٹ کرکے یا کسی پرموشن کا حصہ بن کر وش کرتے ہیں یا نہیں‌.

  • عمران خان،شوکت ترین،محسن لغاری اور تیمور جھگڑا کے خلاف مقدمہ کیلئے درخواست دائر

    عمران خان،شوکت ترین،محسن لغاری اور تیمور جھگڑا کے خلاف مقدمہ کیلئے درخواست دائر


    سابق وفاقی وزیر خزانی شوکت ترین ، صوبائی وزیر محسن لغاری اور تیمور جھگڑا کے خلاف اسلام آباد میں مقدمے کے اندراج کیلئے درخواست دے دی گئی.درخواست اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں جمع کرائی گئی ہے.

    درخواست امن ترقی پارٹی کے بانی و چیئرمین محمد فائق شاہ کی خانب سے دی گئی ، درخواست میں کہا گیاہے کہ 29 اگست کی رات صحافی حامد میر نے ٹویٹر پر دو ویڈیوشیئر کردہ وڈیوز دیکھیں جن میں وزیر خزانہ شوکت ترین پہلے صوبائی وزیر خزانہ پنجاب محسن خان لغاری اور اس کے بعد وزیر خزانہ کے پی کے تیموع جگڑا کو ائی ایم ایف پیکج میں رکاوٹ بننے پر اکسا رہے تھے.

    درخواست میں کہا گیا کہ شوکت ترین ائی ایم ایف کے پیکج میں رکاوٹ ڈال کر حکومت کو پریشر میں لانا چاہ رہے تھے،اور یہ بات عیاں ہے کہ شوکت ترین یہ کام پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی مشاورت سے کر رہے ہیں.

    درخواست گزار کا مذید کہنا ہے کہ شوکت ترین اپنی بات کا اعتراف اپنکر پرسن جاوید چوہدری کے پروگرام میں بھی کر چکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ بیانیہ عمران خان کی قیادت میں پوری پارٹی کا ایک ہے.جس سے واضع ہے کہ ایک مخصوص سیاسی جماعت پی ٹی آئی پاکستان کی بقاءسالمیت اور ساکھ کو متاثر کر رہی ہے،اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بغاوت کر رہی ہے.

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خانم شوکت ترین ،محسن لغاری اور تیمور جھگڑا کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے.درخواست گزار کا کہنا تھا کہ متذکرہ افراد پلاننگ کے تحت پاکستان کی سلمیت کو تقسان پہنچا رہے ہیں اور ملک توڑنے کے در پے ہیں.

  • عمران خان سے چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کی ملاقات

    عمران خان سے چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کی ملاقات

    چئیرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے ملاقات کی.ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی صورتحال اور سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے کئے گئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا.

    سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاں بحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز

    وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی نے عمران خان کو سیلاب متاثرین کی بحالی کے پلان کے بارے میں بریف کیا ،وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی نے سیلاب متاثرین کی مدد وبحالی کے لئے کامیاب ترین ٹیلی تھون پر چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کو مبارکباد دی

    معافی نہیں مانگوں گا،عمران خان نےخاتون جج سے متعلق الفاظ واپس لینے کی پیشکش کردی

     

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ قوم خصوصا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ عمران خان کی آواز پر قوم نے لبیک کہا۔ عمران خان کی اپیل پر اربوں جمع ہونا ثابت کرتا ہے کہ عوام کو ان کی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد ہے، عمران خان دھرتی کا بیٹا ہے اور اس نے دھرتی کی مٹی کا حق ادا کر دیا ہے ۔

    چودھری پرویزالٰہی کا مذید کہنا تھا کہ عمران خان نے مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد وبحالی کے لئے فنڈ جمع کرنے میں پہل کی ۔عمران خان کی نیت نیک اور سمت درست ہے ۔اللہ تعالٰی بھی نیک نیتی کا پھل دیتا ہے۔عمران خان کی کامیابی ہی پاکستان کی جیت ہے،عمران خان کی قیادت میں متاثرین سیلاب کی جلد از جلد آباد کاری کے لیے پر عزم ہیں، سیلاب زدگان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی امداد میں وسائل کی کمی نہیں آنے دیں گے۔

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود نے وزیراعلیٰ آفس میں ملاقات کی۔ ظفر مسعود نے بینک آف پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ فلڈ ریلیف فنڈ کیلئے ایک کروڑ روپے کا چیک دیا۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصیبت میں گھرے اپنے بہن بھائیوں کی مدد کے لئے آج پاکستان ہم سب سے ایثار و قربانی کا تقاضا کررہاہے۔ متاثرین سیلاب کی مددکرنا عین عبادت ہے اور ہم سب کا اخلاقی،قومی و مذہبی فریضہ ہے۔صاحب حیثیت بینک آف پنجاب کے اکاؤنٹ نمبر 6010159451200028 میں دل کھول کر امدادی رقوم جمع کرا ئیں۔ وزیراعلیٰ فلڈ ریلیف فنڈ کا IBAN نمبر 6010159451200028 PK92BPUNہے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع ہونے والی رقم شفاف طریقے سے متاثرین کی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کی آبادکاری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔کسی کی حق تلفی نہیں ہونے دیں گے۔جن لوگوں کے گھر بار تباہ ہوئے ہیں انہیں ترجیحی بنیادوں پر مالی امداد دیں گے۔سیلاب متاثرین کی بحالی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔ مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کا سہارا بنیں۔

    انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کی مٹی آج ہم سب سے دکھی انسانیت کی خدمت کا تقاضا کرتی ہے۔سیلاب سے ہونے والی تباہی ناقابل بیان ہے۔اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے سب کو مشترکہ طور پر اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔بینک آف پنجاب کے اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ کاشف،ہیڈ مارکیٹنگ اسد ضیاء، چیف آف سٹاف بینک آف پنجاب نوفل داؤد او ردیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    علاوہ ازیں وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی سے ڈسکہ سے تعلق رکھنے والی سیاسی و سماجی شخصیات کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات کرنے والوں میں رکن پنجاب اسمبلی باؤ محمد رضوان،صاحبزادہ عثمان خالد، خواجہ عاطف رضا، سمیع اللہ ملہی،قاری ذوالفقار سیالوی، وسیم احمد،خواجہ سلمان،محمودالحسن،رانا عثمان، طاہر رؤف اور محمد بلال شامل تھے.

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے تحصیل ڈسکہ کے عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ تحصیل ڈسکہ کی موجودہ انتظامی پوزیشن برقرار رہے گی،ڈسکہ کو وزیرآباد میں شامل نہیں کیاجائے گا،ڈسکہ میرے دل کے قریب ہے، اس شہر کی حالت بدلیں گے،ڈسکہ سمیت ہر حلقے میں بھرپور ترقیاتی کام کروائیں گے،علاقے میں بنیادی سہولتوں کی بہتری کیلئے کام کریں گے۔

    وفد نے تحصیل ڈسکہ کی موجودہ انتظامی پوزیشن برقرار رکھنے پر وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ نے ہمارا مطالبہ مان کر ہمارے دل جیت لئے ہیں۔

  • معافی نہیں مانگوں گا،عمران خان نےخاتون جج سے متعلق الفاظ واپس لینے کی پیشکش کردی

    معافی نہیں مانگوں گا،عمران خان نےخاتون جج سے متعلق الفاظ واپس لینے کی پیشکش کردی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے توہین عدالت شوکاز نوٹس پر معافی مانگنے سے انکار کردیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت شوکاز نوٹس معاملہ پر چیئرمین پی ٹی آئی نے خاتون جج زیبا چودھری سے متعلق الفاظ واپس لینے کی پیشکش کردی۔

    عمران خان کا جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرادیا گیا، جواب ایڈووکیٹ حامد خان کی جانب سے جمع کرایا گیا۔

    عمران خان نے دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرانے کیلیے عدالت سے رجوع کرلیا

    جواب میں کہا گیا کہ عمران خان ججز کے احساسات کو مجروع کرنے پر یقین نہیں رکھتے، سابق وزیراعظم کے الفاظ غیر مناسب تھے تو واپس لینے کے لیے تیار ہیں، عدالت عمران خان کی تقریر کا سیاق و سباق کیساتھ جائزہ لے، عمران خان نے پوری زندگی قانون اور آئین کی پابندی کی ہے، پی ٹی آئی چیئرمین آزاد عدلیہ پر یقین رکھتے ہیں، ان کیخلاف توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔

     

    وزیر اعلی محمود خان دورہ سیلاب زدگان پر ایسے مسکرا کر ہاتھ ہلا رہے جیسے کوئی جلسہ عام کی عوام سامنے ہو

     

    قبل ازیں سابق وزیراعظم نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چودھری کو دھمکی دینے کے الزام پر درج دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ عمران خان کی طرف سے درخواست شعیب شاہین ایڈووکیٹ، بیرسٹر سلمان صفدر اور فیصل چودھری کے ذریعے جمع کرائی گئی۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ تقریر پر دہشت گردی ایکٹ کی دفعات کے تحت 20 اگست کو تھانہ مارگلہ میں درج مقدمہ خارج کیا جائے۔ میں نے ورلڈ کپ جتوایا، فلاحی کام کیے، ہسپتال اور یونیورسٹی بنائی، پاکستان کے کچھ اصل ’’اسٹیٹس مین “ میں سے ایک ہوں۔ کورونا سے موثر انداز میں نمٹا، امریکا افغان مذاکرات کرائے، میرے خلاف بدنیتی سے دہشت گردی کا مقدمہ درج کرایا گیا۔

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس پر دہشت گردی کی دفعات لگائی جائیں، انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سرنڈر کر چکا ہوں، عبوری ضمانت منظور کی گئی، مقدمہ کے اخراج کی درخواست پر فیصلے تک ایف آئی آر پر کارروائی معطل اور کرکے تفتیش روکنے کا حکم دیا جائے۔

  • عمران خان کی ٹیلی تھون،بڑے بڑے دعوے،من پسند کالیں، کئی سوال اٹھ گئے

    عمران خان کی ٹیلی تھون،بڑے بڑے دعوے،من پسند کالیں، کئی سوال اٹھ گئے

    تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ٹیلی تھون ٹرانسمیشن میں 5 ارب روپے سے زائد کی رقم جمع ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ دوسی جانب لوگوں نے شکایت کی ہے کہ وہ عمران کان کی ٹیلی تھون میں کال کرتے رہے تاکہ عطیہ دینے کے ساتھ عمران خان سے پوچھ سکیں کہ ان کی جماعت کی جانب سے جو تازہ ترین کال لیک ہو ئی ہے اور اس میں ملک کے مفادات کے خلاف بات کی گئی اس کے بارے میں بھی عمران خان کیا کہتے ہیں؟ ،،تاہم لوکوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کالز عمران خان تک نہیں پہنچائی گئیں.

    لوگوں کا کہنا تھا کہ عمران خان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ ٹیلی تھون سے حاصل کردہ فنڈز وزیراعظم کے فلڈ ریلیف ٍفنڈ میں جمع کرائیں گے؟ کیا عمران خان ٹیلی تھون میں حاصل کردہ رقم کے پی کے میں جہاں ان کی حکومت ہے وہاں خرچ کریں گے یا صوبہ سندھ میں؟

    کال کرنے والوں کا مزیڈ کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے یہ بھی پوچھنا چاہتے تھے کہ کیا یہ فنڈز پی ٹی آئی کے پارٹی فنڈ میں رکھے جائیں گے؟. لوگوں کا مذید کہنا تھا کہ ابھی بھی عمران خان ملک میں کتنے جلسے کرنا چاہتے ہیں؟ اور ایک طرف عمران خان سیلاب ذدگان کیلئے عطیات اکٹھے کر رہے ہیں اور دوسری طرف ملک کے خلاف باتیں کر رہے ہیں جو سازش کے زمرے میں اتا ہے.

    خیال رہے کہ اس سے قبل عمران خان کی ٹیلی تھون میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی امریکن شاہد خان نے ایک بلین ڈالر کا ڈونیشن دیا ہے ۔ دو دن کے بعد شاہد خان خود لائیو آئے اور انہوں نے بتایا کہ ایک بلین ڈالر تو ان کے ٹوٹل اثاثہ جات کا حجم نہیں ہے۔ آج اسی طرح کے بڑے بڑے اعلانات ہو رہے ہیں۔ بعد میں پتہ چلے گا کہ انہوں نے دو ہزار ڈالر دیے تھے جن کی بابت 22 ملین ڈالر کہا جا رہا ہے۔

    تاہم عمران خان کا کہنا تھا کہ 2010 کے سیلاب میں قوم کو متاثرین کی مدد کرتے ہوئے دیکھا ہے اب بھی مشکل گھڑی میں پوری قوم سیلاب متاثرین کے ساتھ ہے اور ان کی بھرپور مدد کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ جو بھی فنڈز ملیں گے اسے ثانیہ نشتر کی سربراہی میں خرچ کیا جائے گا ہمارا مقصد ہے کہ جتنے بھی فنڈز جمع ہوں گے سیلاب متاثرین پر خرچ کئے جائیں.

  • کھانا ضائع نہ کیا کریں ، مشی خان آبدیدہ ہو گئیں

    کھانا ضائع نہ کیا کریں ، مشی خان آبدیدہ ہو گئیں

    اداکاری کو خیر باد کہہ کر عمران خان کی سپورٹ میں دوسروں کو گالیاں دیتی مشی خان ہو گئیں آبدیدہ. مشی خان نے اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر اپنی ایک وڈیو شئیر کی جس میں انہوں نے براہ راست اپنے مداحوں سے بات کی . انہوں نے کہا کہ میں‌ نے ایک وڈیو دیکھی جس میں ایک بچے کو کھانے کےلئے نان ملا اور وہ نان ہاتھ میں پکڑ کر اتنا خوش ہوا کہ اس نے نان کو گلے لگا لیا اور خوشی سے جھوم اٹھا اسکی خوشی دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اس کے ہاتھ کوئی سونا لگ گیا ہے یعنی اسکے لئے بھوک کے عالم میں نان کی کتنی اہمیت تھی. مشی خان یہ بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں اور انہوں نے اپنے مداحوں سے ریکویسٹ کی کہ خدا کے لئے کھانا ضائع نہ کیا کریں، میں دیکھتی ہوں کہ لوگ ریسٹورانٹس میں

    جاتے ہیں وہاں اتنا زیادہ کھانا منگواتے ہیں چاہے وہ منگوایا ہوا سارا کھانا نہ کھائیں لیکن منگوا لیتے ہیں اور جتنا کھا سکیں کھا لیتے ہیں باقی چھوڑ دیتے ہیں. ایسا نہیں ہونا چاہیے، جتنا کھانا کھانا ہے اتنا ہی منگوائیں اور پلیٹیں مت بھریں اور ان لوگوں کا سوچیں جو ایک روٹی کے لئے ترس رہے ہیں. مشی خان نے اس وڈیو کی مثال دی جس میں‌انہوں نے بچے کے ہاتھ میں نان دیکھ کر اسکی خوشی دیکھی،. مشی خان نے پر زور اپیل کی کہ کھانا مت ضائع کریں.

  • تباہ حال بلوچستان کے لیے وزیراعظم شہبازشریف نے10 ارب امداد کا اعلان کردیا

    تباہ حال بلوچستان کے لیے وزیراعظم شہبازشریف نے10 ارب امداد کا اعلان کردیا

    کوئٹہ:وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 10ارب روپے امداد کا اعلان کیا ہے.بلوچستان میں سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سیلاب سے ہر جانب تباہی پھیلی ہوئی ہے، صوبہ سندھ اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ سوات کالام سب علاقے بارشوں سے تباہ ہوگئے، سوات میں ہوٹلز آناًفاناً دریا برد ہوگئے،میں نے اپنی زندگی میں سیلاب کی ایسی صورتحال نہیں دیکھی، پورے پاکستان میں ایک ہزار سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔

    سیلاب متاثرین کیلئےمتحدہ عرب امارات سے امدادی سامان آج پاکستان پہنچے گا

    وزیر اعظم نے کہا کہ آرمی چیف اور نیول چیف نے بتایا ہے کہ ان کے عسکری دستے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، 50ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا چکا ہے، جو لوگ اس کام میں مصروف ہیں ان سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ قائم مقام گورنر بتا رہے تھے کہ جعفر آباد میں فصلیں تباہ ہوگئی ہیں، توانا پہلوان خرم دستگیر سے بات کی ہے کہ وہ یہاں پہنچیں اور کام کریں، میں نے کہا ہے کہ اس علاقے کو جیسے بھی ہو بحال کریں اور پانی مہیا کریں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے بلوچستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 10ارب روپے امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر متاثرہ خاندان کو 25ہزار روپے دے رہی ہے،انشااللہ ایک ہفتے میں 38 ارب روپے تقسیم ہوں گے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ترکیہ کے صدرطیب یردوان نے مجھ سے بات کی، ایران کے صدر ابراہیم رئیسی سے بھی ٹیلیفون پربات ہوئی، دوست ممالک کے سربراہان مصیبت کی گھڑی میں ہمارے ساتھ ہیں، خوشی ہے کہ آج ترکی سے سامان کے دو جہاز کراچی پہنچنے والے ہیں ، آج یو اے ای سے بھی سامان کے جہاز پہنچیں گے، برطانیہ نے ڈیڑھ ملین پاؤنڈ کی امداد دی جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے علم ہے فنڈز آرہے ہیں، کل ایک شخص نے 6 کروڑ روپے دیے، امداد دینے والے شخص نے کہا کہ میرا نام ظاہر نہ کریں، ایک گروپ آیا انہوں نے 45 کروڑ روپیہ دیا، جو لوگ خود اپنی امداد پہنچا رہے ہیں، اللہ ان کی دولت میں مزید اضافہ کرے، مخیر حضرات آگے آئیں اور اپنے بھائیوں،مائیں اور بچوں کی مدد کریں۔

    امدادی کاموں کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ کام باتوں، نعروں ،تقریروں اور الزامات لگانے سے نہیں ہوگا، غلط الزامات لگا کر اور جھوٹ بول کر کب تک قوم سے خود کو بچالیں گے، ہمیں عملی کام کرنا ہوگا، جب تک آخری خاندان بحال نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھوں گا۔

    ادھر کوئٹہ میں موبائل فون سروسز سمیت دیگر تمام انٹرنیٹ سروسز بحال کر دی گئی ہیں۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق دیگر متاثرہ علاقوں میں سروسز کی بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں بارشوں اور سیلاب سے بہت زیادہ نقصانات ہوئے ہیں، متعدد ڈیمز بھی ٹوٹ گئے ہیں جس سے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔حکومت اور این جی اوز سیلاب متاثرین تک پہنچنے اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں

  • پنجاب حکومت کا سینیئر صحافی پر مذہب کے نام پر مقدمہ درج،صحافی برادری کی جانب سے تشویش کا اظہار

    پنجاب حکومت کا سینیئر صحافی پر مذہب کے نام پر مقدمہ درج،صحافی برادری کی جانب سے تشویش کا اظہار

    مذہب کارڈ کے مخالف دعویداروں کا اصل چہرہ بے نقاب،پنجاب حکومت صحافی وقار ستی پر مقدمہ درج کر کے نئی تاریخ رقم کردی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق عمران خان کی سیاست پر تنقید کی وجہ سے مذہبی کارڈ کا استعمال کیا گیا، سینیئر صحافی پر مذہب کے نام پر مقدمہ درج ہونے پر صحافی برادری کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    عمران خان کے خلاف ٹویٹ،صحافی وقار ستی کیخلاف مقدمہ درج

    مذہبی ٹچ سے مذہب کارڈ کا سفر سابق وزیر اعظم کے چہرہ پر سیاہ دھبہ قرار دیا جا رہا ہے صحافی برادری کی جانب سے وقار ستی کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کا عظم کیا گیا ہے-

    صحافی برادری نے عمران خان اور چوہدری پرویز الہی کے اقدامات پر بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے-

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ٹویٹر پر ویڈیو اپ لوڈ کرنے پر سینئر صحافی وقار ستی کے خلاف جعلی ایف آئی آر درج کی گئی ہے-

    مریم اورنگزیب کی صدرلاہور پریس کلب اعظم چوہدری کو دھمکی کی مزمت

    ایف آئی آر راولپنڈی کے آر اے بازار تھانہ میں کیبل آپریٹر چوہدری ناصر قیوم کی مدیت میں درج کی گئی ہے ، ایف آئی آر میں چوہدری ناصر قیوم کا کہنا ہے کہ وقار ستی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کئی باتیں کی ہیں جن کا عمران خان کے خطاب سے کوئی تعلق نہیں ہے –

    درخواست گزار کا مذید کہنا تھا کہ عمران خان سے منسوب وقار ستی کی باتیں حقائق کے منافی ہیں اور ان کی باتوں سے میرے مزہبی جزبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے-

    صحافیوں کی جانب سے وقار ستی کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی مزمت کی گئی ہےصحافی اسد علی طور نے وقار ستی کے خلاف درج ایف آئی آر کی کاپی بھی اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر شائع کی اور کہا کہ وقار ستی کے خلاف مقدمے کا اندراج قابل مزمت ہے.

    آرمی چیف آج سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے