Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • ملک میں سیلاب سے تباہی،عمران خان جلسے اور عارف علوی سالگرہ منانے میں مصروف

    ملک میں سیلاب سے تباہی،عمران خان جلسے اور عارف علوی سالگرہ منانے میں مصروف

    پاکستان میں آنے والے بدترین سیلاب اور لامتناہی بارشوں کے بعد ہونے والی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 900 سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں،جبکہ صرر مملکت اسلامی جمہوری پاکستان ڈاکٹر عارف علوی ملک کی ہنگامی حالت سے بے خبر ایوان صدر میں اپنی شادی کی 50 ویں سالگرہ منا رہے ہیں.

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاز کے باوجود ایوان صدر میں میں تقریب کا انعقاد اور اور اپنی شادی کی 50 ویں سالگرہ منانا کسی لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے.

    پاکستان تحریک انصاف میں شامل تمام لوگ ایک ہی ذہنیت کے حامل ہیں چاہیے پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان ہوں، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ہوں یا سابق وفاقی وزراء سب میں ایک چیز مشترکہ ہے اور وہ ہے ذاتی مفادات.

    ملک سیلا ب میں ڈوب رہا ہے لوگ کھلے آسمان تلے ذندگی گزارنے پر مجبور ہیں، سینکٹرروں ایکڑ پر محیط فصلیں اور گھر تباہ ہو گئے، 900 سے ذائد افراد اپنی جان گنوا بیٹھے،کئی لوگ اور بچے سیلابی ریلے میں بہہ گئے،حکومت اور ملک کے ادارے سیلاب ذدگان کی امداد اور بحالی کیلئے کوشاں ہیں، پاک فوج اور دیگر ادارے دن رات سیلاب میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے میں لگے ہیں، عالمی ادارے اور ممالگ مصیبت کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کئی ممالک کی جانب سے پاکستان کی امداد کی جارہی ہے مگر پاکستان تحریک انصاف ان حالات میں بھی سیاست اور ذاتی مفادات کے لئے کوشاں ہے.

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کزشتہ روز کے پی کے حکومت کے ہیلی کاپٹر میں اس وقت فضائی جائزہ لیا جب پانچ دوست کئی گھنٹوں تک خود کو ریسکیو کرنے کیلئے پکارے رہے اور آخر کار سیلابی ریلے میں بہہ گئے، یہی نہیں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال میں بھی اپنے اقتدار کیلئے جلسے کر رہے ہیں اور آج جہلم میں عمران خان کی جانب سے سیاسی جلسہ منعقد کیا گیا.

    عمران خان کے خطاب پر سینئر صحاافی،تجزیہ نگار اور اینکر سلیم سافی نے کہا کہ عمران لفافی۔۔تمہاری ساری زندگی لفافوں پر گزری ہے۔ نوازشریف سے پلاٹ لیا۔ گولڈ سمتھ کے لفافوں سے بچے پال رہے ہو۔ تمہارے لفافوں میں جہاز اور لینڈ کروزر آتے ہیں۔ تمہیں حکمرانی بھی لفافوں میں پڑے ووٹوں سے دلوائی گئی۔ اور آج جب سیلاب زدگان کی بات آئی ہے تو آپ کو فیڈریزنگ بری لگی۔


    ایک طرف عمران خان ملک میں جلسے کر رہے ہیں تو دوسری طرف صدر عارف علوی ملک میں تباہی کے باوجود اپنی شادی کی سالگرہ منا رہے ہیں .جبکہ پی ٹی آئی کے سابق وزراء اس کوشش مین ہین کہ کسی طرح پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاملات خراب ہو جائیں ، یہ ہے پاکستان تحریک انصاف کی حب الوطنی جس پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے.

  • حکومت آئی ایم ایف سے بات کر کے ریلیف لے،عمران خان

    حکومت آئی ایم ایف سے بات کر کے ریلیف لے،عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں تحریک انصاف آئی ایم ایف کا پروگرام منسوخ کرانا چاہتی ہے، وزیرخزانہ خیبرپختونخوا تیمورجھگڑا مفتاح اسماعیل سے دوماہ سے وقت مانگ رہا ہے، مفتاح کہتے ہیں صوبے سرپلس دینگے، سیلاب سے تباہی آئی ہے، صوبے کہاں سے سرپلس دیں گے، مفتاح اسماعیل سیلاب آیا ہے، دل بڑا کرو گوری چمڑی سے گھبرانے کے بجائے آئی ایم ایف سے بات کر کے ریلیف لیں، کورونا جب آیا تھا تومیں نے آئی ایم ایف سربراہ سے بات کرکے ریلیف لیا تھا۔ سیلاب سے اربوں کی تباہی ہوئی ہے، حکومت کو ہمت پکڑ کر آئی ایم ایف سے بات کرنی چاہیے۔

    جہلم میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ نے پاکستان کو بڑے امتحان میں ڈالا ہے،اللہ کبھی کبھی اپنی مخلوق کوآزماتا ہے،اللہ نے ہمیں ایک آزمائش دی ہے ہم سب وعدہ کرتے ہیں اللہ ہم اس امتحان میں فیل نہیں ہونگے،سوات، چترال سمیت ہر جگہ عذاب آیا ہوا ہے، موسم کی خرابی کی وجہ سے تونسہ، راجن پور،ڈی جی خان نہیں جا سکا، سیلاب سے فصلوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا،بلوچستان، سندھ میں لوگوں کا برا حال ہے، اس امتحان سے ملکر قوم مل کر لڑتی ہے، ایسے امتحان سے ہم سب نے ملکرمقابلہ کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2010کے سیلاب میں ہر پاکستانی نے مل کر مقابلہ کیا تھا، آج بھی ہم سب نے مل کر اس امتحان کا مقابلہ کرنا ہے،نوجوانوں کی ٹائیگرفورس بنائی ہے،ٹائیگرفورس متاثرہ علاقوں میں جا کر حکومتوں کی مدد کرے گی،پیر کی شام کو ایک ٹیلی تھون کرونگا،پاکستان اوربیرون ملک پاکستانیوں سے پیسہ اکٹھا کرونگا،احساس پروگرام کی طرح اس پروگرام میں بھی ثانیہ نشترکوسربراہ بنائیں گے۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ یہ اللہ کا امتحان ہے،ہم ڈیمزبناسکتے ہیں،ہمیں فخرہے ہماری حکومت نے پاکستان میں 10 ڈیمزبنانا شروع کیے،50 سال بعد بھاشا، داسو، مہمند ڈیم بن رہے ہیں۔ جب ڈیم ہوتے ہیں تو بارش کے پانی کو قابو کیا جاسکتا ہے،وہی بارش کا پانی تباہی کے بجائے رحمت بن جاتا ہے،چین میں 80 ہزارٹوٹل ڈیم ہے،چین میں 5 ہزاربڑے ڈیم ہے،پاکستان میں ڈیم نہ بنا کربڑی کوتاہی کی گئی،جتنی بھی حکومتیں آئی سب سے سوال پوچھتا ہوں آپ لوگوں کوخیال کیوں نہ آیا،پچاس سال میں کسی حکومت نے ملک میں ڈیم بنانے کا نہیں سوچا،تحریک انصاف کی حکومت کوپہلی دفعہ ڈیم بنانے پرمبارکباد دیتا ہوں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ نوشہرہ میں 2010ء میں سیلاب کے دوران ڈوب گیا تھا،ہماری حکومت نے نوشہرہ میں بند بنائے تھے، یہی بند نوشہرہ کو بچائیں گے، اگر عثمان بزدار اربوں روپے سے بند نہ بناتے تو تونسہ نے ڈوب جانا تھا، سندھ میں بارش آئے تو ڈوب جاتا ہے اوردوسری طرف پینے والا پانی نہیں ملتا،لاہورکے اندر ہم نے انڈر گراؤنڈ پانی کو اکٹھا کرنے کا پلان بنایا،اگر ڈیم بنا ہوتا تو ڈیرہ اسماعیل خان میں تباہی کو روکا جاسکتا تھا،پانی کوتباہی بنانے کے بجائے نعمت بنانا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ اخبارات میں ہمارے خلاف کمپین چل رہی ہے، ایک میڈیا ہاؤس ہمیشہ پیسے لیکرچوروں کی حفاظت کرتا ہے،کمپین کررہے ہیں اس وقت جلسے نہیں کرنے چاہئیں، لفافوں کان کھول کرسن لو،میں سیاست نہیں کر رہا حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں، 30 سال سے ملک لوٹنے والوں کے خلاف حقیقی آزادی کی جنگ لڑرہا ہوں،ملک میں قانون کی بالادستی کی جنگ لڑرہا ہوں۔ پاکستان نے اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، ہماری جدوجہد سیلاب اورجنگوں کے دوران بھی جاری رہے گی، جب تک حقیقی آزادی نہیں ملتی ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین کاکہنا تھا کہ چوروں کا ٹولہ کان کھول کرسن لے تم جیسے چوروں سے آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی، فکر نہ کرو، سیلاب کے دوران ہم وہ کام کریں گے جو تم ساری زندگی بھی نہیں کرسکتے، تم چوروں کو تو کوئی پیسے دینے کو بھی تیارنہیں، بھگوڑا لندن بیٹھ کرہمیں درس دے رہا ہے سیاست نہیں کرنی چاہیے،نوازشریف مفرور مجرم، شہبازشریف، ڈیزل، زرداری سن لو حقیقی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی، زرداری کوپیسوں کی بیماری ہے جب پیسہ دیکھتا ہے تواس کی مونچھیں اوپرنیچے ہوجاتی ہیں، سیلاب متاثرین کے لیے بھی جدوجہد کروں گا،سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کروں گا لیکن تمہیں نہیں چھوڑنا،دو ڈاکو خاندانوں کے آنے سے پہلے پاکستان برصغیرمیں تیزی سے ترقی کررہا تھا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جب ڈاکو خاندان مسلط ہوئے توہم بھارت، بنگلادیش سے بھی پیچھے رہ گئے، شہبازشریف،مفتاح اسماعیل کہہ رہے ہیں ہماری وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام فیل ہو جائے گا،شہبازشریف اوران کے اتحادیوں نے قرضے لوگوں پرچڑھائے،جب ہم نے اقتدارسنبھالا تواس وقت سب سے زیادہ بیرونی خسارہ تھا،موجودہ حکومت کے اکنامک سروے کے مطابق تحریک انصاف حکومت میں 6 فیصد گروتھ ہو رہی تھی، ہمارے دورمیں چارفصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، ہم یہ پاکستان چھوڑ کر گئے تھے، ہماری حکومت نے پہلی دفعہ 10 لاکھ علاج کے لیے انشورنس دی، سازش کرکے ہماری حکومت گرائی اورچارماہ بعد ملک کا دیوالیہ نکال دیا،آج ملک میں مسلسل مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ ہمارے دور میں 16 فیصد اور آج مہنگائی 45 فیصد ہے، ان کا توسارا شور ہی مہنگائی کے خلاف تھا۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل کہہ رہا ہے آئی ایم ایف پروگرام ہم ناکام بنانا چاہتے ہیں،دوماہ سے تیمورجھگڑا میٹنگ کے لیے بلاتا رہا،سیلاب سے اربوں کی تباہی ہوئی کدھرسے سرپلس ہوگا، گوری چمڑی سے اتنا نہ گھبراؤآپ کوآئی ایم ایف سے بات کرنی چاہیے ملک میں سیلاب آیا ہوا ہے،دل بڑا کرو، ٹرانسپلانٹ کرالو، آئی ایم ایف سے بات کرو۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کے بیانات سے شرمندگی ہوتی ہے، امپورٹڈ حکومت ایک غیرتمند قوم کو شرمندہ کررہی ہے،ان کا چوری کا پیسہ بیرون ملک پڑا ہے یہ ان کے غلام ہیں۔ایک طرف کہتے ہیں سیلاب آیا ہوا ہے، سیلاب کی وارننگ کے دوران سب سے بڑی پارٹی کو کیسز کر کے دیوار سے لگایا جا رہا ہے، 25مئی کوپرامن احتجاج کرنے والوں پر شیلنگ، مقدمات درج کیے گئے، ہمارے دورمیں انہوں نے دھرنے دیئے کسی کو نہیں روکا، 25 مئی کو ظلم کیا گیا، اس وقت جمہوریت اورہماری آزادی کو مسلط ٹولے سے خطرہ ہے، ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن، پولیس کے ساتھ مل کربھی یہ بری طرح ہارے، اب یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں ان کوپتا ہے الیکشن میں پھینٹا پڑے گا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اب یہ تکنیکی طریقے سے مجھے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں، آج تک آئین وقانون کے دائرے میں رہ کرسیاست کی، 25 مئی کو تشدد کیا گیا، انتشار کے ڈر کی وجہ سے دھرنا ختم کیا تھا، مجھ پردہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا، میرے خلاف دہشت گردی کے مقدمے کی دنیا میں خبر پھیل گئی، شہبازگل کوعدالت میں پیش کرنے کے بجائے اسے برہنہ کر کے جنسی تشدد کیا گیا، میں نے کہا شہبازگل پرتشدد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، کیا قانونی کارروائی کا کہنا دہشت گردی ہے؟ دنیا میں دہشت گردی کا مقدمہ بننے پر مذاق اڑایا گیا، مسٹر ایکس کے بعد اب اسلام آباد میں ’مسٹروائی کو تحریک انصاف کو ڈرانے کے مشن پر بھیجا گیا ہے، مسٹروائی غور سے سن لو ہم ایک پُر امن سیاسی جماعت ہیں، ایک طرف کہتے ہیں سیلاب میں سب کواکٹھا ہونا چاہیے، چاروں صوبوں کواکٹھا رکھنے والی جماعت کے خلاف سازش اس ملک سے بھی غداری ہے، یہ ملک کی جمہوریت کو کمزور کرنے کی سازش ہے، جتنا میرے اندرسٹیمنا پوری جدوجہد کرونگا۔ ایک ہم نے سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کرنی ہے،دوسرا سب حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے تیار ہو جائیں کپتان سب سے آگے ہوگا۔

  • عمران خان کی سیکیورٹی واپس لینے کی خبریں، حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کی سیکیورٹی واپس لینے کی خبریں، حقیقت سامنے آ گئی

    ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عمران خان کی سیکیورٹی واپس لینے کی خبروں کی تردید کی ہے

    ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون کا کہنا ہے کہ عمران خان سے کوئی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی عمران خان کو سابق وزیر اعظم کے پروٹوکول کے مطابق سیکیورٹی فراہم کی گئی سوشل میڈیا پر سیکیورٹی واپسی سے متعلق جعلی مہم چلائی جارہی ہے جعلی خبریں پھیلانے کا مقصد عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس سے توجہ ہٹانا ہے،من گھڑت خبریں پھیلانے کا مقصد شہباز گل اور عمران خان کیس سے توجہ ہٹانا ہے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اظہر مشوانی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیلاب کی آڑ لےکر گزشتہ دو دن میں وفاقی حکومت نے • عمران خان کی سیکیورٹی سے FC وغیرہ کو ہٹا دیا ہے • اسلام آباد پولیس کو کم کر دیا ہے• خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلی کی سیکیورٹی کے لیے موجود پولیس کو ہٹانے کا خط لکھا ہے ،• بنی گالہ کا سرچ آپریشن کرنےکا خط لکھاہے

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھSPکی سربراہی میں 77پولیس اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ دوسرے صوبوں سے قانونی ضابطہ کار کے مطابق نفری فراہم کی گئی تو وہ بھی سابقہ وزیراعظم کو مہیا کی جاسکتی ہے۔ اسلام آباد پولیس ہر قسم کے حالات میں اپنے فرائض ادا کرنے میں پیش پیش ہے۔ ہر سابق وزیراعظم کو صرف 5 سکیورٹی اہلکار مہیا کئے جاتے ہیں۔ جبکہ اس صورتحال میں سابق وزیر اعظم صاحب کو 77 پولیس افسران صرف اسلام آباد پولیس فراہم کر رہی ہے اور 8 اہلکار GB پولیس سے فراہم کیے گئے ہیں۔ایسی صورت میں منفی اور بے بنیاد خبروں پر یقین نہ کریں جس سے پاکستان کی پولیس کی کردار کشی ہو۔

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • پاکستانی طیب اردگان بننے کی کوششیں — نعمان سلطان

    پاکستانی طیب اردگان بننے کی کوششیں — نعمان سلطان

    ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے ایسے عالم میں انہوں نے اپنی مرحومہ والدہ محترمہ شوکت خانم( جن کی کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے موت ہوئی تھی) کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کے لئے صدقہ جاریہ کی نیت سے ان کے نام پر کینسر کے علاج کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ ایک ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا، ظاہری بات ہے کہ ان کے پاس صرف نیک نیتی، جذبہ اور محدود وسائل تھے چنانچہ انہوں نے اس نیک کام کے لئے حکومت وقت اور عوام سے چندے کی درخواست کی اور حکومت اور عوام نے ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جسکی وجہ سے وہ عوام کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ "شوکت خانم کینسر ہسپتال ” بنانے میں کامیاب ہو گئے اور اس کاوش پر عوام آج تک انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتی ہے ۔

    اپنے فلاحی منصوبے میں کامیابی کے بعد عمران خان کو یہ محسوس ہوا کہ اگر وہ فرد واحد ہو کر اتنا بڑا اور مہنگا ہسپتال بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو اگر انہیں اقتدار مل جائے تو وہ زیادہ آسانی اور سہولت سے عوام کی خدمت کر سکتے ہیں چنانچہ عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اس وقت کی سیاسی جماعتوں نے انہیں اپنے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کرنے کی پیشکش کی لیکن اپنی خود اعتمادی اور عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر انہوں نے کسی جماعت کے پلیٹ فارم کے بجائے اپنی ذاتی سیاسی جماعت بنا کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ۔

    لیکن جیسے دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں ایسے ہی سیاست میں آ کر عمران خان کو معلوم ہوا کہ ذاتی مقبولیت کی بنا پر وہ انتخابات میں اپنی نشست تو جیت سکتے ہیں لیکن اپنی شخصیت کی بنیاد پر وہ اپنے ٹکٹ ہولڈر کو الیکشن میں کامیاب نہیں کرا سکتے وقت گزرنے کے ساتھ اپنے مشیروں کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے وہ 2013 کے الیکشن میں معقول تعداد میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اس کے علاوہ ایک صوبے(خیبر پختون خواہ) میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر انہیں وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ (پرویز خٹک) کی صورت میں وہ مشیر مل گیا جس نے انہیں اقتدار کی راہداریوں میں جانے کا اصل راستہ اور کن لوگوں کی خوشنودی حاصل کر کے اس راستے پر چلتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ سکتے ہیں بتا دیا، اور ان کے مشوروں پر عمل پیرا ہو کر آخر کار عمران خان 2018 کے الیکشن میں مرکز، پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں اپنی حکومت بنانے میں اور بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے ۔

    حکومت میں آتے ساتھ ہی عمران خان کو وہ عزت اور توجہ دوبارہ ملنا شروع ہو گئی جو انہیں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ملی تھی اس کے علاوہ خوشامدی لوگ بھی، جن کی کل قابلیت برسرِ اقتدار ہر راہنما کی خوشامد کر کے فوائد حاصل کرنا تھا چنانچہ خوشامدی لوگ جوں جوں ان کے قریب آتے گئے مخلص دوستوں سے عمران خان کا فاصلہ بڑھتا چلا گیا اور اگر کسی نے ان کے کسی غلط فیصلے کی نشاندہی کر بھی دی تو عمران خان نے اس ساتھی سے مشورہ لینا چھوڑ دیا اور رفتہ رفتہ اپنی خوشامد سن کر وہ اس نہج پر پہنچ گئے کہ اپنی ذات کی نرگسیت کا شکار ہو گئے اور خود کو عقل کل سمجھنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ان سے کئی سیاسی طور پر غلط فیصلے ہوئے اور ان کے اعلیٰ حلقوں کے درمیان غلط فہمیاں اور پھر فاصلے پیدا ہونے لگے۔

    ترکی (ترکیہ) میں جناب طیب اردگان کے خلاف بغاوت، عوام اور محب وطن فوجی افسران کی مدد سے اس بغاوت کے خاتمے کی وجہ سے عمران خان کے ذہن میں یہ راسخ تھا کہ اگر حکمران عوام میں مقبول ہو تو کوئی دنیاوی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور ان کے اردگرد موجود خوشامدی لوگوں نے انہیں یہ باور کرا دیا کہ اس وقت آپ اپنی عوامی مقبولیت کی معراج پر پہنچے ہوئے ہیں چنانچہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو کر عمران خان نے دیگر طاقتوں سے الجھنا شروع کر دیا، ان کے مخلص ساتھیوں نے انکو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی اور دیگر طاقتوں اور ان کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن معاملات جیسے ہی بہتری کی طرف جاتے خوشامدی لوگ کوئی ایسی حرکت کر دیتے کہ معاملات دوبارہ خراب ہو جاتے اور آخرکار مقتدر طاقتوں اور عمران خان کے درمیان خلیج بڑھنے کا فائدہ پرانی سیاسی جماعتوں نے اٹھایا اور تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔

    عمران خان نے ہار ماننے کے بجائے میدان عمل میں اترنے کا فیصلہ کیا اور رجیم چینج کے نام پر عوام میں اپنا بیانیہ پیش کیا جس کو بھرپور عوامی پذیرائی ملی اور اس کے نتیجے میں ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کو کامیابی حاصل ہوئی اور اکثریت حاصل کرنے کے باوجود وہ وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہار گئے اور پھر عدالتی حکم سے پی ٹی آئی کا امیدوار وزیر اعلیٰ بنا، بھرپور عوامی مقبولیت اور اپوزیشن کے بارے میں عوامی غم و غصے کے باوجود ابھی تک عمران خان اپنے مطالبات (دوبارہ الیکشن) نہیں منوا سکے۔

    اس کی وجوہات کا تعین کرنے کے لئے جب انہوں نے اپنے مخلص ساتھیوں(پرویز خٹک، ذلفی بخاری اور دیگر ) کے ساتھ مشورہ کیا تو انہوں نے یہی مشورہ دیا کہ پاکستان میں فرد واحد صرف "اکائی ” ہے جو کہ اپنا یا کسی کا انفرادی طور پر تو فائدہ کر سکتا ہے لیکن مجموعی ملکی فائدے کے لئے تمام طاقت کے مراکز کو مل کے چلنا چاہیے تا کہ ہم اکائی سے” وحدت” بن سکیں، پانی کی منہ زور لہروں کے مخالف تیرنے سے آپ منزل پر نہیں پہنچتے بلکہ تھک کر راستے میں ہی ڈوب جاتے ہیں اس لئے عقلمندی کا تقاضہ پانی کی منہ زور لہروں کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنانا ہے ۔

    اور سننے میں یہی آ رہا ہے کہ یہ بات عمران خان کی سمجھ میں آ گئی ہے اور انہوں نے پرویز خٹک اور ذلفی بخاری کو پی ٹی آئی اور دیگر طاقت کے مراکز کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے کی ذمہ داری دی ہے تاکہ تمام اداروں کے درمیان غلط فہمیاں دور کر کے عوامی لحاظ سے مقبول جماعت کے اقتدار میں آنے کا راستہ ہموار کیا جا سکے اور دوبارہ سے عوامی خدمت کا سفر وہیں سے شروع کیا جا سکے جہاں پر ختم ہوا تھا، امید ہے عمران خان بھی غلط فہمیاں دور ہونے کے بعد دوبارہ سے اپنی سیاسی غلطیوں کا اعادہ اور طیب اردگان بننے کی کوشش نہیں کریں گے کیونکہ طیب اردگان بننے کے لئے معیشت کو مضبوط کر کے اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ حکمران کے اخلاص کے قائل ہو کر ملکی ترقی کے لئے خطرہ بننے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سینہ سپر ہوجاتے ہیں.

  • عمران خان نے صرف اپنی پبلسٹی کے لیے ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر دورے کی خبریں چلوائیں،زاہد خان

    عمران خان نے صرف اپنی پبلسٹی کے لیے ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر دورے کی خبریں چلوائیں،زاہد خان

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان نے کہا ہے کہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ کے پی محمود خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے-

    باغی ٹی وی : سیلاب نے ملک بھر میں تباہی مچا رکھی ہے سینکڑوں گھر تباہ ہو چکے ہیں لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں سوشل میڈیا پر سیلاب سے تباہیوں کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں ایسے ہیسوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیو میں کوہستان میں 5 افراد کو سیلاب میں پھنسے دیکھا جاسکتا ہے۔

    جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ کے پے محمود خان اور سابق وزیراعظم اور چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے متاثرہ علاقوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر دورہ کیا- جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے-

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان نے کہا کہ کوہستان میں 5 دوستوں کے ڈوبنے کی ویڈیو انتہائی تکلیف دہ ہے، جو کئی گھنٹے مدد کے منتظر رہے لیکن نااہل صوبائی حکومت بے خبر رہی۔

    زاہد خان نے کہا کہ عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا مزے لوٹ رہے ہیں اور لوگ سیلاب میں بہہ رہے ہیں، عمران خان نے صرف اپنی پبلسٹی کے لیے ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر دورے کی خبریں چلوائیں۔

    انہوں نے کہا عمران خان کو ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی بجائے ان پانچ بھائیوں کو ریسکیو کرنا چاہیے تھا، واقعے کا مقدمہ عمران خان اور محمود خان کے خلاف درج کیا جائے۔

    دوسری جانب جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد نے بھی پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔


    ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما نےکہا کہ کوہستان میں 5 افراد سیلابی ریلے میں 4 گھنٹے زندگی اور موت کے درمیان جھولتے رہے، درخواست کے باوجود صوبائی حکومت ایک ہیلی کاپٹر پشاور سے نہ بھیج سکی۔

    انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت، ریسکیو 1122 سمیت دیگر سرکاری ادارے کہاں ہیں؟ انہوں نے پوچھا کہ نوجوانوں کو کئی گھنٹوں میں درخواست کے باوجود کیوں نہیں بچایا؟

    اس دل خراش واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اور حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو ریسکیو نہ کرنے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔

    ملک بھر میں سیلاب اوربارشوں سے مزید 45 افراد جاںبحق


    دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان اور کے پی کے وزیراعلیٰ محمود خان نے ٹانک اور ڈی آئی خان سمیت کے پی کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا دورے کے دوران عمران خان اور محمود خان نے متاثرہ اضلاع اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا-

    عمران خان نے میڈیا سے کہا کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، لیکن عملی طور پر انہی آفت زدہ لوگوں نے سابق وزیراعظم اور کے پی کے چیف ایگزیکٹو کے ڈی آئی خان اور ٹانک کی آمد پر احتجاج کیا اور اسے ان کے لیے غیر نتیجہ خیز قرار دیا۔

    سیلاب متاثرین میں سے ایک شخص نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان اور محمود خان نے ان سے ملنے کی زحمت نہیں کی اور خیبرپختونخوا میں سیلاب کی بدترین صورتحال کے باعث ان کے مسائل اور پریشانیوں کو بھی نہیں سنا سانحہ سے متاثرہ خاندانوں نے وزیراعلیٰ کے پی محمود خان کے رویے پربھی احتجاج کیا۔

    سوات،کالام ،اور بحرین میں سیلابی ریلا راستے میں آنے والی ہر شے تنکوں کی طرح بہا لے گیا

  • ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک آمد،سیلاب متاثرین کا عمران خان اور کے پی وزیر اعلیٰ کے رویے پر احتجاج

    ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک آمد،سیلاب متاثرین کا عمران خان اور کے پی وزیر اعلیٰ کے رویے پر احتجاج

    سابق وزیراعظم عمران خان اور کے پی کے وزیراعلیٰ محمود خان نے ٹانک اور ڈی آئی خان سمیت کے پی کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا دورے کے دوران عمران خان اور محمود خان نے متاثرہ اضلاع اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا-

    باغی ٹی وی : میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ یہ آفت سندھ میں 2010 کے سیلاب سے ہونے والی تباہی کو پیچھے چھوڑ چکی ہے 2010 کے سیلاب کے مقابلے اس سال بارشوں نے دس گنا زیادہ نقصان پہنچایا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم 2010 کے سیلاب کو ناقابل تصور تباہی تصور کرتے تھے لیکن اطلاعات کے مطابق اس بار ہونے والی تباہی اور جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ڈیمز تعمیر کر کے ہم سیلاب کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں اگر ہمارے پاس ڈیم ہوتے تو سیلابی پانی سے نقصانات کی بجائے ترقی ہوتی-

    عمران خان نے میڈیا سے کہا کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، لیکن عملی طور پر انہی آفت زدہ لوگوں نے سابق وزیراعظم اور کے پی کے چیف ایگزیکٹو کے ڈی آئی خان اور ٹانک کی آمد پر احتجاج کیا اور اسے ان کے لیے غیر نتیجہ خیز قرار دیا۔

    سیلاب متاثرین میں سے ایک شخص نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان اور محمود خان نے ان سے ملنے کی زحمت نہیں کی اور خیبرپختونخوا میں سیلاب کی بدترین صورتحال کے باعث ان کے مسائل اور پریشانیوں کو بھی نہیں سنا سانحہ سے متاثرہ خاندانوں نے وزیراعلیٰ کے پی محمود خان کے رویے پربھی احتجاج کیا۔

    دریائے کابل ، سوات، پنجکوڑہ اور دریائے سندھ میں مختلف مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب

    واضح رہے کہ شبقدر کے قریب منڈا کا ہیڈ ورکس پل گرنے سے دریائے سوات کا سیلابی پانی چارسدہ شہر میں داخل ہونے کا خدشہ ہے۔

    مقامی لوگ انتہائی پریشان ہیں کیونکہ انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ چارسدہ میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔ شاہی قلعے کے علاقے میں سیلابی پانی نے 500 مکانات مکمل طور پر ڈوب گئے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق چارسدہ میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور پانچ یونین کونسلوں کے سرکاری سکولوں کو سیلاب زدگان کی رہائش کے لیے خالی کرا لیا گیا۔

    سوات،کالام ،اور بحرین میں سیلابی ریلا راستے میں آنے والی ہر شے تنکوں کی طرح بہا لے گیا

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے دریائے سوات میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے متعدد اضلاع میں فوری طور پر 30 اگست تک رین ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

    یہ فیصلہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی سفارش پر کیا گیا جبکہ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی جانب سے دریائے سوات میں خوازہ خیلہ اور اس سے منسلک ندی، نالوں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

  • بغیرکسی حکومتی عہدے کے عمران خان کا سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال،”کمال ہے”

    بغیرکسی حکومتی عہدے کے عمران خان کا سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال،”کمال ہے”

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے بالاآخر سیلاب سے متاثرہ افراد کی دل جوئی کی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزے لیا.چیئرمین پی ٹی ائی عمران خان وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان بھی چیئرمین تحریک انصاف کے ہمراہ کے پی کے حکومے کے ہیلی کاپٹر پر ڈی ائی خان پہنچے.


    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے سیلاب زدگان کی امداد و بحالی کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات پر بریفنگ دی.

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا کے پی کے حکومت کے سرکاری ہیلی کاپٹر پر فضائی جائزہ لیا، عمران خان بحیثت خود اس وقت صرف پی ٹی آئی کے چیئرمین ہیں ،اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی سرکاری یا حکومتی عہدہ نہیں ہے.موضودہ صورتحال میں کیا عمران خان ایس او پیز کے مطابق کے پی کے حکومت کا ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ؟ کیا پاکستان کے قوانین ایک سابق وزیراعظم جس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی ہو اور وہ قومی اسمبلی سے بھی استعفیٰ دے چکا ہو کیا وہ کسی صوبے کے سرکاری وسائل استعمال کر سکتا ہے؟

    وزیراعظم شہباز شریف بھی سرکاری ہیلی اور طیارہ استعمال کر رہے ہیں مگر ان کا بطور وزیراعظم استحقاق ہے. کیا عمران خان کو بھی یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ محض ایک سیاسی پارٹی لیڈر کے پی کے حکومت کا ہیلی کاہٹر استعمال کریں؟اور عین اس وقت جب سرکاری ہیلی کاپٹر کی سب سے ذیادہ ضرورت سیلاب ذدگان کی بحالی کیلئے ہو.

    اگر ایسی سہولیات پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو حاصل ہیں تو تمام سابق وزرائے اعظم کو بھی یہی پروٹوکول ملنا چاہیئے،اور اگر عمران خان کا یہ پروٹوکول نہیں ہے تو ان سے کوئی ادارہ پوچھنے والا ہے کہ انہوں نے سرکاری ہیلی کاپٹر کیوں استعمال کیا؟

  • عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس رہائش گاہ پرموصول

    عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس رہائش گاہ پرموصول

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا

    رجسٹرارآفس ہائیکورٹ سے جاری شوکاز نوٹس عمران خان کی رہائش گاہ پر موصول ہو گیا، شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ عمران خان نے خاتون جج کے بارے میں توہین اوردھمکی آمیز تقریرکی، عمران خان نے تقریراس وقت کی جب کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرسماعت تھا،عمران خان نے توہین اور دھمکی آمیز تقریر من پسند فیصلہ لینے کے لیے کی عمران خان نے تقریر کے ذریعے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، عمران خان نے خاتون جج کو دھمکی دے کرکریمنل اور جوڈیشل توہین کی،عمران خان31 اگست کو پیش ہوکر بتائیں کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کاروائی کی جائے،

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    23 اگست کو توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی تھی جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے کیس چیف جسٹس کو بھیج دیا، دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس معاملے پر 3 سے زیادہ ججز پر مشتمل بینچ بنائیں،دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ کھڑے ہوں تو تقاریر میں ایسے ہی بات کرنی چاہیے؟ جلسے میں جتنے بھی لوگ ہیں میڈیا کے توسط سے پوری دنیا دیکھ رہی ہوتی ہے، سوشل میڈیا کو پتہ ہے کہ کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو اس پر بہت کچھ ہو رہا ہو گا، جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپکی حکومت ہے آپ کریں نا کیوں نہیں کر رہے؟ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اگر پارٹی لیڈر اس طرح کی بات کر رہا ہے تو نچلے درجے پر بھی یہی ہو گا، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، ماتحت عدلیہ تو وہی فیصلے کرتی ہے جس پر اعلیٰ عدلیہ فیصلے دیتی ہے سول بیوروکریسی اور آئی جی کو دھمکی دے رہے ہیں،کیا یہ حکومت چلی جائے گی دوسری آئے گی تو یہ ایسے بیان شروع کر دینگے؟ یہاں تو مخصوص لوگوں نے پورے نظام کو یرغمال بنایا ہوا ہے، یہ کیس بنتا تو شوکاز نوٹس کا ہی ہے،معاملے کو ایک ہی بار طے ہو جانا چاہیے،

  • بنی گالہ کی سیکورٹی، بغیر اجازت دیگر صوبوں کی پولیس کی تعیناتی کی تیاری

    بنی گالہ کی سیکورٹی، بغیر اجازت دیگر صوبوں کی پولیس کی تعیناتی کی تیاری

    پی ٹی آئی کے اوچھے ہتھکنڈوں نے پولیس کو سیاسی بنا ڈالا

    اسلام آباد کی حدود میں پنجاب اور خیبر پختونخواہ پولیس کی دراندازی کا پلان بنا لیا گیا، باخبر ذرائع کے مطابق اطلاع ہے کہ دونوں صوبائی پولیس کے چند مخصوص دستے، بنی گالا میں تعیناتی کی تیاری کر رہے ہیں اس سلسلے میں خیبر پختونخواہ کے 10 سے 12 پولیس اہلکار کی پہلے سے ہی بنی گالا میں موجودگی کا انکشاف ہواہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد پولیس سے نہ صرف کوئی اجازت لی گئی ہے بلکہ انہیں اس معاملے کی ہوا بھی نہیں لگنے دی گئی پی ٹی آئی کی جانب سے یہ سیاسی کھیل اداروں کے تصادم کا باعث بن سکتا ہے جبکہ یہ گھناؤنا کھیل صرف ایک سیاسی شخصیت کے ذاتی مفاد کیلئے رچایا گیا ہے

    پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان جب سے سابق وزیراعظم بنے ہیں تب سے وہ مسلسل اداروں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں، دھمکیاں دے رہے ہیں، پی ٹی آئی کے دیگر رہنما بھی عمران خان کی ہی روش پر چلتے ہوئے اداروں کو دھمکیاں دیتے ہیں، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی اداروں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں، عدم اعتماد کے بعد سے عمران خان کی جو آئین شکنی کا سلسلہ شروع ہوا وہ تاحال جاری ہے. عمران خان چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح وہ دوبارہ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ جائیں اسکے لئے جو بھی کرنا پڑے وہ تیار ہیں، آئین شکنی ، مزید آئین شکنی کر رہے ہیں، وفاق اور صوبوں میں تصادم چاہتے ہیں، فواد چودھری بھی اسی طرح کی ایک ٹویٹ کر چکے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ ہ اپنی صوبائی حکومتوں پر واضع کر دوں لوگوں نے ووٹ صرف وزیر بننے کیلئے نہیں دئیے عمران خان کی گرفتاری کی کوشش ہو،اپنے ٹویٹ پیغام میں فواد چوہدری کہتے ہیں کہ 25 مئی کے واقعات ہوں یا شہباز گل اور سیاسی کارکنان کی گرفتاری اور ٹارچر آپ نے ورکروں کو مایوس کیا ہے اسلام آباد کی 25 کلومیٹر پر حکومت کرنے والے بدمعاش بنے بیٹھے ہیں

    فواد چوہدری کے اس طرز عمل سے یہ بات بالکل واضح ہورہی ہے کہ فواد چوہدری اپنی صوبائی حکومتوں کو وفاقی حکومت سے ٹکرانے کی کوشش کررہے ہیں ،جس سے یقینی طورپروفاق اور صوبوں کے درمیاں معاملات میں کشیدگی آئے گی ، فواد چودھری سمیت کئی دیگر رہنماؤں کی بھی خواہش ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتی غیر آئینی کام کرتے ہوئے وفاق سے ٹکرائیں لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وفاق سے ٹکرانا آسان نہیں،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا بھی یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ سول نافرمانی کی باتیں کر رہے ہیں، اداروں کے خلاف لوگوں کو اکساتے رہے ہیں، 2018 میں حکومت میں آنے کے بعد بھی عمران خان وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی بطور اپوزیشن لیڈر ہی نظر آئے، جب سے حکومت گئی تب سے کرسی کے لئے منتیں کر رہے ہیں،کبھی امریکہ کی غلامی سے نکلنا چاہتے ہیں تو پھر خود ہی امریکہ سے مدد مانگ لیتے ہیں

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • عمران خان کا ذاتی مقاصد کیلئے صوبائی پولیس کا غیر قانونی استعمال،افسوسناک تصادم کا خدشہ

    عمران خان کا ذاتی مقاصد کیلئے صوبائی پولیس کا غیر قانونی استعمال،افسوسناک تصادم کا خدشہ

    عمران خان کا ذاتی مقاصد کیلئے صوبائی پولیس کا غیر قانونی استعمال،افسوسناک تصادم کا خدشہ

    عمران خان ذاتی مقاصد کے لیے صوبائی پولیس فورسز کا غیر قانونی استعمال کرنے لگے ہیں

    پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وفاقی و صوبائی حکومتوں کی فورسز کے مابین افسوسناک تصادم کا خدشہ ہے اور اسکے ذمہ دار عمران خان ہوں گے، عمران خان بنی گالہ میں مقیم ہیں، اور انہوں نے بنی گالہ میں پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی پولیس بلا رکھی ہے، بنی گالہ اسلام آباد کی حدود میں آتا ہے، اور کسی بھی دوسرے صوبے سے پولیس یا سیکورٹی بلانے کے لئے مقامی پولیس سے اجازت لینی پڑتی ہے لیکن عمران خان نے ایسا نہیں کیا بلکہ خود ہی اپنی مرضی سے دوسرے صوبوں سے پولیس بلوا لی

    پنجاب،خیبر پختونخوا پولیس کی بنی گالہ میں بغیر اسلام آباد انتظامیہ اجازت تعیناتی کی گئی ہے جس پر آئی جی اسلام آباد کے شدید تحفظات سامنے آ گئے ہیں، بنی گالہ کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کے لیے صوبائی پولیس فورس بغیر اجازت تعینات نہیں ہو سکتی ،آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ صوبائی فورسز کی ایسی تعیناتی اور آپریشن کی اجازت نہ دی جائے

    خیبر پختونخواہ ہاؤس سے پہلے ہی 12 پولیس اہلکار بنی گالہ منتقل کیے گئے ہیں کیا پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتیں وفاق پر حملہ آور ہونے کے درپے ہیں۔ سنگین خدشات پیدا ہو گئے صوبائی پولیس کا وفاقی حدود میں تجاوز ممکنہ طور پر ن لیگی قیادت کی پنجاب پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کا ردعمل روکنے کی کوشش بھی ہو سکتا یہ صورتحال وفاق اور پنجاب فورسز کے افسوسناک تصادم کی طرف جا سکتی ہے

    قبل ازیں اسلام آباد پولیس کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی حدود میں کسی بھی دوسرے صوبے کی پولیس قانونی اجازت کے بغیر کام نہیں کرسکتی۔ اسلام آباد ضلعی انتظامیہ نے تاحال کسی بھی دوسرے صوبے سے پولیس نہیں مانگی۔کسی بھی قانون شکنی کی صورت میں اسلام آباد کیپیٹل پولیس قانونی اور عملی اقدام کرے گی۔کسی بھی غیر قانونی اقدام یا پیش قدمی کی صورت میں ذمہ داروں کا واضح تعین کیا جائے گا، قانونی طور پر معاونت کےلیے طلب کی گئی نفری بھی قانون کے مطابق اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے احکامات پر عمل کرنے کی پابند ہے۔

    بنی گالہ جانے والے راستوں پر اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے وزرات داخلہ نے عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ پر دوسرے صوبوں کی پولیس کی تعیناتی پر اعتراض کیا ہے گلگت اور کے پی پولیس سربراہوں کو اپنے صوبوں کی پولیس ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے، وزرات داخلہ کے مطابق اسلام آباد کی حدود میں کسی بھی دوسرے صوبے کی پولیس قانونی اجازت کے بغیر کام نہیں کرسکتی. اسلام آباد ضلعی انتظامیہ نے تاحال کسی بھی دوسرے صوبے سے پولیس نہیں مانگی کسی بھی قانون شکنی کی صورت میں اسلام آباد کیپیٹل پولیس قانونی اور عملی اقدام کرے گی

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم