Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • پارٹی فنڈنگ۔ فوزیہ قصوری نےعمران خان کو آئینہ دکھا دیا

    پارٹی فنڈنگ۔ فوزیہ قصوری نےعمران خان کو آئینہ دکھا دیا

    لاہور:فارن فنڈنگ کا معاملہ مزید پچیدہ ہوتا جارہا ہے اور نئے سے نئے الزامات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے ، اس سلسلے میں پی ٹی آئی کی سابق رہنما فوزیہ قصوری نے فارن فنڈنگ پر پی ٹی آئی کے مؤقف سے متعلق برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اکاؤنٹس عمران خان کے نام پر کھلے ہیں، ان کے نام سے پیسے ڈپازٹ ہورہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عمران خان کو نہیں پتا؟ پہلی بات خان صاحب بہت غلط بیانی کرتے ہیں۔

    فوزیہ قصوری کا کہنا تھا ہوسکتا ہے کہ میرے اس بیان کو لوگ جھوٹا بھی کہہ سکتے ہیں لیکن میں خان صاحب کے ساتھ کئی عرصے کام کرچکی ہوں لہٰذا ان کی عزت کرتی ہوں مگر عمران خان کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے کیوں کہ ایک حد تک جھوٹ چلتا ہے اس کے بعد اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ سب واضح ہوجاتا ہے۔فوزیہ قصوری نے کہا کہ عمران خان کو ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا

    باپ وائس چیئرمین، بیٹا ایم پی اے، بیٹی ایم این اے کی امیدوار،پی ٹی آئی سے موروثیت ختم

    فوزیہ قصوری کا کہنا تھا اس وقت جب فنڈ ریزنگ ہورہی تھی تو اس وقت پارٹی کے اکاونٹس میں اندھا دھند پیسا آرہا تھا اور ایسے ایسے لوگوں سے آیا جن کو ہم جانتے بھی نہیں تھے لیکن خان صاحب جانتے تھے، عمران خان کی ابراج گروپ اور عارف نقوی کے ساتھ ڈیلنگ تھی اور اب یہ کہہ دینا کہ وہ کیوں کہ مسلمان ہے اس لیے اس کے خلاف ایسا سازش کی جارہی ہے یہ ایک بیوقوفانہ بات ہے۔

    فوزیہ قصوری نے انکشاف کیا کہ پہلی دفعہ ابراج گروپ اور عارف نقوی کے خلاف جو تحقیقات شروع ہوئیں وہ یو اے ای سے شروع ہوئیں، عارف نقوی نے 300 ملین ڈالرز کے چیک لکھے تھے جو باؤنس ہوگئے تھے،فوزیہ قصوری نے مزید کہا کہ عارف نقوی نے امپیکٹ انویسمنٹ کے نام سے لوگوں سے پیسے بٹورے جسے انہوں نے لگژری سفر، لندن میں جائیداد خریدنے اور اپنے دوستوں کو عطیہ کرنے میں خرچ کیے، ان دوستوں میں عمران خان سمیت دیگر جماعتیں بھی شامل ہیں جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جاری شوکاز نوٹس پر سماعت مقرر کردی

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے بھی پاکستان تحریک انصاف کی ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھاکہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ لی۔

  • عمران خان کا قومی اسمبلی کے 9 حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    عمران خان کا قومی اسمبلی کے 9 حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان نے قومی اسمبلی کے 9 حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

    جن نو حلقوں میں ضمنی الیکشن ہوں گے ان علاقوں میں این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور،این اے 45 کرم، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب، این اے 237 ملیر، این اے 239 کورنگی کراچی، این اے 246 کراچی جنوبی شامل ہیں۔

    دوسری طرف عمران خان نے قومی اسمبلی کے ان 9 حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    دوسری طرف عمران خان کے سکیورٹی آف چیف ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ جس جس سیٹ سے استعفی منظور کر کے خالی کی جائے گی، وہاں خان صاحب خود امیدوار ہوں گے اور خود الیکشن لڑیں۔ اب آجائیں میدان میں لگ پتہ جائے گا۔

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین نے 2018ء کے جنرل الیکشن میں پانچ حلقوں سے الیکشن میں حصہ لیا تھا اور پانچوں سیٹیں میں کامیابی حاصل کی تھی۔

    2018ء کے جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے این اے 131 لاہور سے خواجہ سعد رفیق، این اے 53 اسلام آباد سے شاہد خاقان عباسی، این اے 243 سے ایم کیو ایم پاکستان کے سیّد علی رضا، این اے 95 میانوالی سے ن لیگ کے عبید اللہ خان، این اے 35 بنوں سے اکرم خان درانی کو شکست دی تھی۔

  • الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جاری شوکاز نوٹس پر سماعت مقرر کردی

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جاری شوکاز نوٹس پر سماعت مقرر کردی

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ممنوعہ فنڈ ضبط کرنے کا باضابطہ شو کاز نوٹس جاری کردیا

    شو کاز نوٹس میں 23 اگست کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے،نوٹس چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو جاری کیا الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جاری شوکاز نوٹس پر سماعت مقرر کردی چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن 23 اگست کو سماعت کرے گا

    علاوہ ازیں توشہ خانہ کیس،عمران خان کی نااہلی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی،الیکشن کمیشن حکمران اتحاد کی درخواست پر 18 اگست کو سماعت کرے گا حکمران اتحاد نے عمران خان کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا

    ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے آٹھ برس کے بعد سنایا،پی ٹی آئی مسلسل فیصلے میں التوا مانگتی رہی، حکومتی اتحادی جماعتوں نے فیصلہ جلد سنانے کا مطالبہ کیا تھا، الیکشن کمیشن کے تین رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سنایا تھا جس میں کہا تھا کہ عمران خان نے جھوٹا حلف نامہ جمع کروایا، ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہو گئی ہے

    الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو ابراج گروپ سمیت غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ موصول ہوئی تھی۔الیکشن کمیشن کے مطابق: تحریک انصاف نے اپنے اکاؤنٹس الیکشن کمیشن سے چھپائے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ: عمران خان نے الیکشن کمیشن میں "مس ڈیکلیریشن” جمع کرایا تھا اور پی ٹی آئی چیئرمین کا سرٹیفکیٹ غلط تھا۔ای سی پی نے دعوی کیا کہ: پی ٹی آئی نے امریکا سے ایل ایل سی سے فنڈنگ لی تھی جو ثابت ہوگئی لہذا تحریک انصاف نے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی ہے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے شفاف فنڈ ریزنگ کی،الیکشن کمیشن کی جانبداری کے باوجود ہم نے مکمل ثبوت دیئے ہیں،اورسیز پاکستانیوں کو ناراض کرنے کے عزائم ہمیشہ ناکام رہیں گے،الیکشن کمیشن نے 8 کیسز میں ہمارے خلاف فیصلہ دیا،توقعات لگا کر بیٹھنے والے حساب دینے سے کترا رہے ہیں

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

    ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کردیا

    دوسری جانب وزیر مملکت مصدق ملک نے نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فارن فنڈنگ کی ساری تحقیقات پی ٹی آئی دور میں ہوئیں،عمران خان نے گورنر سٹیٹ بنک لگایا، انہوں نے ہی ریکارڈ الیکشن کمیشن کو دیا،گورنر سٹیٹ بنک عمران خان نے لگایا، کیا وہ بھی جھوٹ بول رہے ہیں؟ چیف الیکشن کمشنر عمران خان نے لگایا، کیا وہ بھی جھوٹ بول رہے ہیں؟ عمران خان بیرونی ہاتھوں میں کٹھ پتلی ہیں،شہزاد اکبر لندن گئے اور خفیہ معاہدہ کیا، جو اربوں روپے حکومت پاکستان کو ملنا تھے وہ خفیہ معاہدے کے تحت ملک ریاض کو ملے عمران خان کے ارد گرد ہر شخص مشکوک ہے،عمران خان کا کالا دھن بھی سفید اور عام آدمی کا سفید دھن بھی کالا دھن، عمران خان نے ہسپتال کیلئے دیا گیا چندہ بھی سیاست کیلئے استعمال کیا،قانون کے مطابق چلیں گے، کسی کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہو گی،

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • تحریک انصاف کے چند نوجوان جو گمراہی کی حد سے آگے نکل چکے ہیں. ملک احمد خان

    تحریک انصاف کے چند نوجوان جو گمراہی کی حد سے آگے نکل چکے ہیں. ملک احمد خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق صوبائی وزیر رہنما ملک احمد خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے امریکی سفیر سے ملاقات کرکے عمران خان کے رجیم چینج کے بیانیہ پر تھپڑ رسید کیا ہے

    پریس بریفنگ کے دوران ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ چند روز قبل بلوچستان ہیلی کاپٹر حادثہ میں کور کمانڈر کوئٹہ اور ان کے ساتھی شہید ہوئے ہم اس پر انتہائی غمزدہ ہیں پوری قوم اور شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہار افسوس کرتے ہیں ہمیں اس بات پر شدید افسوس ہے کہ اس حوالہ سے تحریک انصاف کے چند نوجوان جو گمراہی کی حد سے آگے نکل چکے ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر بعض قابل اعتراض پوسٹس لگائیں

    ن لیگی رہنما ملک احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان امریکی سفیر سے مل رہے ہیں اور ان سے امداد اور گاڑیوں کی چابیاں لے رہے ہیں پھر مجھے یاد آیا کہ امریکی مخالفت اور رجیم چینج والا بیانیہ کہاں گیا امریکی سفیر سے ملاقات کر کے وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان نے عمران خان کے رجیم چینج والے بیانیہ پر تھپڑ رسید کیا ہےجب سے تحریک عدم اعتماد آئی اس کے بعد آج تک یہ لوگ اپنے موقف بدل رہے ہیں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آ چکا ہے عمران خان نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کس کے کہنے پر کی تھی اگر ہمت تو عمران خان اس شخصیت یا ادارہ کا نام بتائیں عمران خان کی پارٹی مخالف فیصلوں پر بوکھلا جاتی ہے،

    ملک احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اداروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں انہوں نے 25، 25 ہزار روپے ماہوار پر صوبہ خیبرپختونخوا میں سوشل میڈیا میں لوگ رکھے ہوئے ہیں جو اداروں کے خلاف مہم چلاتے ہیں میں نے گورنر پنجاب کو یہی تجویز دی ہے کہ وہ پنجاب کے وزرا سے حلف لیں 8 سال تک پی ٹی آئی عدالتی حکم امتناعی کے پیچھے چھپتی رہی ہے مخالفین پر یہ جتھوں کے ذریعے حملے کراتے ہیں، تحریک انصاف نے 2014ء سے جو فنڈز لئے ان کی تفصیلات آنا ابھی باقی ہیں

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

  • دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

    دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

    دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی) الیکشن کمیشن کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ عمران خان جو قانون کی حکمرانی کا دعویدار تھا خود قانون شکن نکلا عمران کی جھوٹی سیاست کا سورج غروب ہونے والا ہے ۔ اس نے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے پاکستان اورعوام کو نقصان پہنچا عوام کو گمراہ کیا مدینہ کی ریاست کے دعویدار کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتشار کی سیاست کو فروغ دیا تحریک انصاف افواہ ساز فیکٹری کا روپ دھار چکی ہے اس افوا ساز فیکٹری کو اب الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد تالا لگنے والا ہے ۔ یہ سیاسی جماعت نہیں ایک افواہ ساز تھی جو دوسروں کے خلاف جھوٹی افواہیں پھیلانے کا فریضہ سرانجام دے رہی تھی۔

    سینیٹر اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ عمران خود تسلیم کرلیں کہ وہ صادق اور امین نہیں تھے اور نہیں ہیں۔ ملکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج اگر ملکی معیشت لڑکھڑا رہی ہے تو اس تباہی میں بھی عمران خان کا ہی ہاتھ ہے ۔ نواز شریف کے دور حکومت میں ملک ترقی کررہا تھا ملکی معیشت مستحکم تھی ۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا رُخ پاکستان کی طرف تھا ملک سے غربت ، بے روزگاری کا خاتمہ کیا جا رہا تھا عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے جا رہا تھا ۔ عمران خان کا دور حکومت پاکستان کی تاریخ میں بدترین دور اقتدار یاد کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ عوام اور پاکستان کے مستقبل سے نہیں کھیلنے دیا جائے ۔ قانون حرکت میں آئے گا ۔ عمران خان اور اس میں ملوث کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچایاجائے گا۔الیکشن کمیشن کا فیصلہ اس بات کی گواہی ہے کہ دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

  • باپ وائس چیئرمین، بیٹا ایم پی اے، بیٹی ایم این اے کی امیدوار،پی ٹی آئی سے موروثیت ختم

    باپ وائس چیئرمین، بیٹا ایم پی اے، بیٹی ایم این اے کی امیدوار،پی ٹی آئی سے موروثیت ختم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف بھی موروثی جماعت نکلی

    عمران خان موروثیت کے خاتمے کے دعویدار، ن لیگ پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے رہتے ہیں مگر اب انہوں نے اپنی پارٹی پر نظر نہیں ڈالی، موروثیت یہاں تک کہ باپ تحریک انصاف کا وائس چیئرمین، سابق رکن اسمبلی، بیٹا ایم پی اے اور اب بیٹی ایم این اے کا الیکشن لڑ رہی ہے،

    پورے حلقہ این اے 157 میں تحریک انصاف کو کوئی ایسا کارکن نہیں ملا جس کو اس حلقے سے ٹکٹ دیا جا سکے، پہلے ضمنی الیکشن صوبائی سیٹوں پر ہوئے تو شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کو ٹکٹ دے دیا گیا اب قومی اسمبلی کے الیکشن ہو رہے ہیں تو شاہ محمود قریشی کی بیٹی نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے ہیں

    مہر بانو قریشی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب نے جو امید کا دِیا جلایا ہے ہم اُسے بُجھنے نہین دین گے

    ملتان میں پی ٹی آئی کارکن انجینئر وسیم نے ساتھیوں کے ہمراہ وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ ,این اے 157 میں شاہ محمود قریشی اپنی بیٹی مہر بانو قریشی کو امیدوار کھڑا کر کے موروثی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں,

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ایک پی ٹی آئی کارکن کا کہنا تھا کہ ملتان میں تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر #موروثی_سیاست_نامنظور ، #notacceptable اور #rejected ٹاپ ٹرینڈ بن رہا ہے خان صاحب کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔مہر بانو قریشی صاحبہ کا کوئی ورک پارٹی میں آج تک کہیں نظر آیا تو نہیں پھر ٹکٹ کیوں ؟؟؟

    https://twitter.com/Khawajaraheel/status/1555477207216267264

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا فراڈی اور چندہ خور لیڈر جو کہتا ہے کرتا اس سے 180ڈگری دوسرا کام ہے یہ مہر بانو قریشی ہے شاہ محمود قریشی کی بیٹی پہلے باپ پھر بیٹا اب بیٹی کو ٹکٹ دے دی ۔ جلسوں میں اعلان کرتا کہ موروثی سیاست کے خلاف ہوں مگر ٹکٹ پرانے سیاسی خاندانوں کو دیتا ہے

    https://twitter.com/farhanaaghapak/status/1555442362444353539

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی ایم این اے کے بیٹے زین قریشی ایم این اے157کے مستعفی ہونے سے خالی ہونے والی سیٹ پر شاہ محمود قریشی کی بڑی بیٹی مہر بانو قریشی کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ جاری کرکے موروثی سیاست کا خاتمہ کر دیا۔ یاد رہے کہ زین قریشی استعفیٰ کے بعد پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم پی اے بن گئے تھے

    ایک اور صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی پالیسی سر آنکھوں پر لیکن ملتانیوں پر مورثی سیاست مسلط کرنے پر سوال تو بنتا ہے شاہ محمود ،زین قریشی اور اب مہر بانو ایک ورکر پوچھ رہا ہے کیا پورے ملتان میں مہربانو کے علاوہ کوئی ایسا قابل ورکر نہیں؟یہ بات تو واضع ہے کہ ووٹ شخصیت کو نہیں بلکہ بلے کے نشان کو دیکھ کر دیا جاتا

    منصور احمد قریشی کہتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی ایم این اے
    زین قریشی بیٹا ایکس ایم این اے / ایم پی اے
    مہر بانو قریشی امیدوار فار ایم این اے
    پی ٹی آئی میں موروثی سیاست کا کوئی لینا دینا نہیں ۔

    ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کہتے ہیں عمران خان موروثی سیاست کیخلاف ہے، دوسری جانب شاہ محمود قریشی کے بیٹے کو ایم پی اے بنانے کے بعد اب ان کی بیٹی کو پارٹی ٹکٹ دیدیا گیا۔۔۔واہ

    قبل ازیں گزشتہ روز تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے این اے 157 کا شیڈول جاری کر دیا ہے عمران خان کی اجازت سے میری بیٹی مہر بانو نے اپنے کاغذات جمع کروا دہے ہیں,میری بیٹی تعلیم کے بعد صحافت سے بھی منسلک رہی ہے ,میری بیٹی کو پاکستان کی اگلی نسل کا احساس بھی ہے,پاکستان کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے, عمران کا بیانیہ ہر جگہ پہنچنا ہماری سیاست کے لیے ضروری ہے,حکومت نے لنگر خانوں کو بند کرنے کی کوشش کی,نون کے لوگ این اے ایک سو ستاون میں پیپلزپارٹی کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہیں,ووٹر ترازو میں تول کر اپنا فیصلہ کرے,این اے ایک سو ستاون میں مہر بانو بیسٹ آپشن ہے پیپلزپارٹی کو پنجاب میں ووٹ دے کر ووٹ ضائع کرنے والی بات ہے,یوسف رضا گیلانی لندن میں سیٹوں کی بھیک مانگ رہے ہیں,

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

  • نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی .چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا گزشتہ روز کوئی مزید ترمیم کی گئی ہے؟اس معاملے پر فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے، ہم اس سماعت میں مزید وقت دیں گے، دوسری طرف سے بھی عدالت کو بہتر معاونت ملے گی ،ایک چارٹ پیش کیا گیا تھا اس پر دلائل دینا چاہیں گے؟

    نیب حکام نے عدالت میں کہا کہ نیب اٹارنی جنرل کے دلائل کو اپنائے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ایک تحریری معروضات جمع کرائیں، خواجہ حارث نے کہا کہ دو گراونڈ زپر یہ ترامیم چیلنج کی ہیں ایک یہ آئین کے سائلنٹ فیچر کی خلاف ورزی ہے ،پارلیمانی طرز حکومت میں احتساب کی بات موجود ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ جو قانون کی پروویژن ہیں وہ اوورلیپ نہیں کررہی ہیں ؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ اس وقت جو تضاد ہے وہ اکیڈمک بحث چاہتی ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ جو ابھی دوسری ترامیم کی گئی ہیں ان کو ابھی چیلنج نہیں کیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ان ترامیم سے متعلق مزید تفصیل جمع کرائیں،شاہد پہلے پانچ ملین والی بات نہیں تھی لیکن اب شامل کی جا چکی ہے؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ وہ ترامیم جو ہوئی ہیں وہ چیلنج کررہے ہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا یہ ترامیم جو کی گئی ہیں وہ صدر مملکت کے پاس منظوری کے لئے بھیجی گئی ہیں؟ خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے ایک ترمیم شدہ درخواست بھی جمع کرائی ہے جس میں تفصیلات ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ کیسے کارروائی آگے چلانا چاہتے ہیں، مخدوم علی خان نے معروضات جمع کرانی ہونگی اور نیب کی جانب سے بھی

    خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ نئی ترامیم کا مسودہ گزشتہ روز عدالت میں جمع کروا دیا ہے،نیب قانون میں ہونے والی ترامیم بھی چیلنج کرینگے،یہ ترامیم آئین کے سائلنٹ فیچر کی انکروچمنٹ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اسلامک پوائنٹ آف ویو بھی دیکھنا ہوگا ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ قانون کو ختم نہیں کیا جارہا ہے،حقیقت یہ ہے کہ قانون میں تبدیلی لائی جارہی ہے اس شق کے بڑے گہرے اثرات مرتب ہونگے، وکیل وفاقی حکومت نے عدالت میں کہا کہ ابھی نیب قانون میں نئی ترمیم محض مفروضہ ہے، وکیل مخدوم علی نے کہا کہ جب تک نیب قانون میں نئی ترمیم ایکٹ آف پارلیمنٹ نہ بن جائے اسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا،صدر مملکت نے اگر نئی ترمیم پر دستخط نہ کیے تو معاملہ مشترکہ اجلاس میں جائے گا،مشترکہ اجلاس میں نیب قانون میں حالیہ ترمیم منظور ہوتی ہے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے، وکیل عمران خان نے کہا کہ ہم نیب قانون میں حالیہ نئی ترمیم کو ابھی چیلنج نہیں کر رہے،موجودہ ترامیم آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہیں،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات خود احتساب کا ایک ذریعہ ہیں،انتخابات ایک سیاسی احتساب ہے جہاں ووٹر اپنے نمائندوں کا احتساب کرتا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ وہ ترامیم جو آئین کے بنیادی ڈھانچے کے منافی ہیں ان کو چیلنج کیا جا سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ہمارا کام ہے کہ خالی جگہ کو پر کریں؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ کے کئی فیصلے موجود ہیں جن میں قوانین بنانے کا کہا گیا ہے،موجودہ ترامیم نے نیب قانون کو غیر موثر کر دیا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور اثاثہ جات کیسز ختم ہوچکے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس احتساب کیلئے ضروری ہے؟ چھوٹی چھوٹی ہاوسنگ سوسائٹیز میں لوگ ایک 2 پلاٹس کے کیس میں گرفتار ہوئے،پہلے ہر مقدمہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جاتا تھا،

    نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت 19اگست تک ملتوی کر دی گئی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دے کر انسداد دہشتگردی عدالت سے بوجھ کم کیا،خواجہ حارث نے کہا کہ گڈ گورننس اور احتساب بھی عوام کے بنیادی حق ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کوئی منصوبہ ناکام ہونے پر مجاز افسران گرفتار ہوجاتے تھے، گرفتاریاں ہوتی رہیں تو کونسا افسر ملک کیلئے کوئی فیصلہ کرے گا، نیب ترامیم کے بعد فیصلہ سازی پر گرفتاری نہیں ہو سکتی، نیب ترامیم سے کوئی جرم بھی ختم نہیں ہوا، خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم کے بعد تمام مقدمات عدالتوں سے خارج ہو جائیں گے، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ فریقین سے عدالت میں تحریری معروضات جمع کرائیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی حالت دیکھیں کیا ہوگئی ہے ، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال ہونے والی ترامیم کا اطلاق 1985 سے کیا گیا،ماضی سے اطلاق ہوا تو سزائیں بھی ختم ہونگی اور جرمانے بھی واپس ہونگے،اس طرح تو پلی بارگین کی رقم بھی واپس کرنا پڑیں گی کیا پارلیمان اپنے یا مخصوص افراد کے فائدے کیلئے قانون سازی کر سکتی ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو مقدمات ختم ہوچکے ان پر ترامیم کا اطلاق نہیں ہوگا،وکیل عمران خان نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا سب سے پہلا سوال حضرت عمر سے ہوا تھا، ترمیم کے بعد کرپشن ثابت ہونے تک آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہیں بن سکتا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون پارلیمنٹ سے منظور کیا ہے اس کا احترام بھی ضروری ہے،ترامیم کسی آئینی شق سے متاثر نظر نہیں آ رہیں،آپکے مطابق نیب ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے کے ایک حصے یعنی احتساب کیخلاف ہیں،آئین کا بنیادی ڈھانچے ہونے سے متفق نہیں ہوں،خواجہ حارث نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کا تصور موجود ہے آپ چاہیں تو ماضی کا عدالتی فیصلہ واپس لے لیں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم میں بیرون ملک سے قانونی معاونت حقوق معاہدے کے تحت شواہد ناقابل قبول ہیں،اگر کیس میں بنیادی حقوق متاثر ہونے کا معاملہ ہے تو سنیں گے ورنہ عدالت کا دائرہ کار نہیں بنتا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون بنتے وقت پارلیمنٹ میں اپوزیشن اس کی مخالفت کرتی ہے،اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نیب قانون غلط ہے تو اسمبلی میں بل کیوں نہیں لاتے؟ قانون کا ڈھانچہ عدالت کے بجائے اسمبلی میں زیر بحث آنا چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج جو حکومت آئی اس نے اپنے گناہ معاف کرا لیے اگلی آئے گی وہ اپنے کرا لے گی اگر عوام کے پیسے پر کرپشن کی گئی ہے تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے،آئین میں طے شدہ ضابطوں کے تحت قوانین کا جائزہ لے سکتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک حلقے کا منتخب نمائندہ مستعفی ہوتا ہے تو کیا وہ اپنی عوام سے اجازت لیتا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ منتخب نمائندے سیاسی حکمت عملی اور فیصلوں کے تحت استعفے دیتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر مستعفی ہونے سے پہلے عوام سے اجازت نہیں لیتے تو منتخب نمائندے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

  • عمران خان کے خلاف تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے، اراکین سینیٹ

    عمران خان کے خلاف تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے، اراکین سینیٹ

    حکومت سے تعلق رکھنے والے اراکین سینیٹ نے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو ممنوعہ فنڈنگ میں ملوث نہیں ہونا چاہیے، پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہضم نہیں ہو رہا، عمران خان کے خلاف تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔

    وفاقی کابینہ نےعمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دیدی

    ایوان بالا کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر نثار کھوڑو نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کو ممنوعہ فنڈنگ میں ملوث نہیں ہونا چاہیے، پی ٹی آئی نے قوم کی امیدوں کا خون کیا ہے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کا لگایا ہوا ہے، جب فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے تو خوش ہوتے ہیں جب فیصلہ خلاف آتا ہے تو تنقید کرتے ہیں، سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہضم نہیں ہو رہا، چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبر ان کے دور میں لگائے گئے، ایک اور ممبر بھی ان کا نامزد کردہ ہے، انہیں احتجاج کرنے کی بجائے عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے۔

     

    عمران خان کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر

     

    سینیٹر کہدہ بابر نے کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا کہ کون چور تھا، پی ٹی آئی کے دور حکومت میں کرپشن بڑھی، یہ پہلے مٹھائی تقسیم کرتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ فیصلہ ان کے خلاف آیا ہے۔

    سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان شہریوں کے خلاف تشدد کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، رومیتا شیٹھی کے پاکستانی ہونے کا ثبوت ان کے پاس ہے،یہودیوں اور بھارتیوں کے پیسوں سے ریاست مدینہ بنے گی، یہ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کو ووٹ نہیں دو گے تو قبر میں جواب دینا پڑے گا، 2018ء میں آر ٹی ایس بیٹھا، دھاندلی ہوئی، پی ٹی آئی کے کھرے کس ملک سے ملتے ہیں، جماعت کے فنڈز ایسے نکلتے تو ان کو لٹا دیا جاتا، عمران خان کے خلاف تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔

    مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ یہودی کمپنیاں عمران خان کی فنڈنگ اور لابنگ کرتی ہیں، یہ حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، پی ٹی آئی سے متعلق تحقیقات کے لئے اعلیٰ کمیشن بنایا جائے، ملک میں انتشار پیدا کیا گیا، ملک کے نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا۔

  • دوسرا نیب ترمیمی بل سینیٹ سے منظور

    دوسرا نیب ترمیمی بل سینیٹ سے منظور

    اسلام آباد:موجودہ حکومت نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں مزید ترمیم کا دوسرا ترمیمی بل باآسانی سینیٹ میں منظور کرلیا ہے اور اس سلسلے میں آج سینیٹ میں بہت زیادہ گرما گرما بھی ہوئی

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق سینیٹ میں‌ نیب کا دوسرا ترمیمی بل وزیر مملکت برائے قانون ملک شہادت اعوان نے پیش کیا جبکہ نیب ترمیمی بل کی منظوری گزشتہ روز قومی اسمبلی نے دی تھی۔

    اس موقع پر سینیٹ میں پی ٹی آئی نے بل پیش کرنے پر احتجاج کیا۔ اس حوالے سے سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ یہ قانون احتساب کے عمل کو ختم کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے، اس بل میں 50 کروڑ سے بھی کم لوگ کرپشن کے مرتکب ہوئے، انہیں بری کیا جائے۔

    سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ کہ کابینہ میں بیٹھنے والوں کو استثنیٰ دیا جا رہا ہے، اپوزیشن نہ ہونے کی وجہ سے قومی اسمبلی ربڑ سٹیمپ بن گئی ہے۔

    علاوہ ازیں سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ جب انہوں نے یہ بل آرڈر آف دی ڈے میں دیکھا تو صبح ترمیم پیش کر دی، اتنا اہم قانون جلد بازی میں بنانا اور اپوزیشن کی بات نہ سننا درست نہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں ایک کرپٹ مافیا ہے جس نے پاکستان کی دولت بیرون ملک منتقل کی ہے۔

    سینیٹر مشتاق احمد کے اظہار خیال پر حکومتی ارکان نے چور چور کے نعرے لگائے جس کے جواب میں پی ٹی آئی ارکان نے بھی چور چور کے نعرے لگانا شروع کردیئے۔

    نیب آرڈیننس ترمیمی بل کے حوالے سے وزیر مملکت برائے قانون شہباز اعوان کا کہنا تھا کہ نیب ترمیمی بل آج منظور ہونا ہے، یہ بل عوامی مفاد میں ہے، اسی لیے ترامیم لائے ہیں۔

    اس دوران سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے نیب ترمیمی بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور پی ٹی آئی ارکان نے چیئرمین سینیٹ ڈیسک کا گھیراؤ کیا اور بل کی کاپیاں چیئرمین سینیٹ پر پھینک دیں۔

    بعد ازاں پی ٹی آئی نے بل کی تلاوت کے دوران ایوان سے واک آؤٹ کیا اور حکومت نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں مزید ترمیم کا دوسرا ترمیمی بل باآسانی سینیٹ میں منظور کرلیا۔دوسری جانب سینیٹر مشتاق احمد کی نیب ترمیمی بل میں تین ترامیم کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔

  • تحریک انصاف پہلی پارٹی تھی جس نے سیاسی فنڈ ریزنگ کی، عمران خان

    تحریک انصاف پہلی پارٹی تھی جس نے سیاسی فنڈ ریزنگ کی، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں 26سال سے سیاست میں ہوں،ہمیشہ کوشش کی آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے احتجاج کریں،انہوں نے خوفزدہ ہو کر اسلام آباد کو بند کر دیا،ہماری حکومت ہر مشکل سے نکلتی جا رہی تھی،ہم نے کورونا وبا کا بہترین طریقے سے مقابلہ کیا، ہماری حکومت کو سازش کے تحت ختم کرایا گیا،حکومت گری تو یہ سب مطمئن تھے کہ تحریک انصاف ختم ہو گئی ہے.

    وفاقی کابینہ نےعمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دیدی

    عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا کہ اللہ نے کرم کیا قوم سڑکوں پر نکلنا شروع ہو گئی،میں 25 مئی کو ہونے والا ظلم کبھی نہیں بھولوں گا،ڈی چوک میں عوام پر ظلم کیا گیا، شیلنگ ہوئی ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں،ان کا خیال تھا ایک بار ڈرائیں گے تو بھیڑ بکریوں کی طرح چپ کر کے بیٹھ جائیں گے،پنجاب کا الیکشن بھی یہ دھاندلی کر کے جیتنا چاہتے تھے لیکن ایسا نہ ہوا،یہ ہمیشہ اداروں کو استعمال کرتے ہیں،جو2 نشستیں یہ جیتے بھی ہیں ان کی اسکروٹنی ہو تو وہ بھی ہار جائیں گے ، یہ ہمیشہ اداروں کا استعمال کرتے ہیں،ذوالفقار علی بھٹو کواسی خوف سے قتل کیا گیا تھا کہ وہ سڑکوں پر نہ آجائے، ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا.

     

    عمران خان کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر

     

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کے کہنے پر الیکشن کمیشن نے جلدبازی میں فیصلہ سنایا،انہیں خوف ہے کہ قوم آزاد ہو رہی ہے، ان سے قوم سنبھالی نہیں جا رہی، یہ قوم کو غلام بنانا چاہتے ہیں،یہ الیکشن کمیشن کو استعمال کر کے قوم کو غلام بنانا چاہتے ہیں،الیکشن کمیشن کو ایسا ادارہ بنا دیا ہے جس کے ذریعے حکومت کنٹرول ہو سکتی ہیں، میں نے ڈھائی سال انتخابی اصلاحات کیلئے کوششیں کیں،اگر ای وی ایم آجاتی تو دھاندلی ناممکن ہو جاتی،ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 163 طریقوں سے دھاندلی ہوتی ہے، اگر ای وی ایم آجاتی تو دھاندلی ناممکن ہو جاتی،ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 163 طریقوں سے دھاندلی ہوتی ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین نہیں آنے دی،الیکشن کمیشن نے بھی ان دو جماعتوں کا بھرپور ساتھ دیا.

    انہوں نے کہا کہ کرکٹ کی تاریخ میں بطورکپتان میں نےنیوٹرل ایمپائرمتعارف کرائے،سینیٹ الیکشن میں ایم پی اےکوخریداجاتاہے،ہم نےخیبرپختونخوامیں اپنے25ایم پی اےکونکالاکیونکہ وہ بکے تھے،سندھ ہاؤس میں بھی منڈی لگی، الیکشن کمیشن کو فرق نہیں پڑا، لاہورمیں بھی الیکشن کےدوران پیسےدیتےہوئےلوگ پکڑےگئے،سندھ ہاؤس میں بھی ایم این ایزکوخریداگیالیکن الیکشن کمیشن کوفرق نہیں پڑا،سب کو معلوم تھا کہ اراکین قومی اسمبلی کا کیا ریٹ لگ رہا ہے،عوامی نمائندے پیسے پر بکے لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا،کرپٹ قوتیں ملک کوکنٹرول کرناچاہتی ہیں،پیسےکےبغیرسیاسی پارٹی نہیں چل سکتی،کسی بھی سیاسی جماعت کو پیسہ چاہیے ہوتا ہے،میں نے شوکت خانم کے لیے پیسے اکٹھے کئے، آدھا پیسہ تو بیرون ملک سے ملا، تحریک انصاف پہلی پارٹی تھی جس نے سیاسی فنڈ ریزنگ کی، اگر یہ فارن فنڈنگ ہے تو بیرون ملک پاکستانی جو پیسے پاکستان بھیجتے ہیں وہ کیا ہے،اوور سیز پاکستانی آپ کو پیسہ بھیجیں تو یہ فارن فنڈنگ کیسے ہوئی؟فارن فنڈنگ وہ ہےجوآپ کسی ملک سےپیسہ اکٹھاکریں،شہبازشریف نےعدالت میں بیان حلفی جمع کرایاکہ نوازشریف واپس آئینگے،بیان حلفی اورسرٹیفکیٹ دومختلف چیزیں ہیں،