Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • امریکہ سے باہمی اعتماد و احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں:وزیر اعظم

    امریکہ سے باہمی اعتماد و احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں:وزیر اعظم

    اسلام آباد :وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ سے باہمی اعتماد و احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پاکستان میں نئے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی جس میں شہباز شریف نے امریکی سفیر کو اسناد سفارت پیش کرنے اور نئی سفارتی ذمہ داریوں پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے نئے سفیر پاک امریکہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے اپنی توانائی وقف کریں گے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، موسمیاتی تبدیلیوں، صحت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون مختلف سطح پر مذاکرات کا مظہر ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی کمپنیاں پاکستان کی وسیع مارکیٹ میں سرمایہ کاری کریں۔

    وزیراعظم نے پاک امریکہ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فریم ورک معاہدے کے لیے اس سال کے آخر میں اجلاس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری موقع پر کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔

    دوسری طرف امریکی نمائندہ خصوصی برائے تجارتی امور دلاورسید نے دفتر خارجہ میں بلاول بھٹو سے اہم ملاقات کی ہے۔اس دوطرفہ ملاقات میں وزیر خارجہ نے نمائندہ خصوصی دلاورسید کا پاکستان میں خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور امریکا کے درمیان کاروباری روابط کو بہتربنانے میں امریکی کردارکا اعتراف کیا۔

  • طلب بڑھنےکی وجہ سےملک میں زیادہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے:خرم دستگیر

    طلب بڑھنےکی وجہ سےملک میں زیادہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے:خرم دستگیر

    اسلام آباد:وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کی بڑی وجہ پچھلی حکومت کی پالیسیاں ہیں ،ملک میں گرمی میں اضافہ بھی ایک وجہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وسط اپریل سے گرمی کی شدت کی وجہ سے بجلی کی طلب میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے، 30 ہزار میگاواٹ طلب جمعرات کو نوٹ کی گئی، حکومتی تخمینہ سے پانچ سے چھ ہزار میگاواٹ طلب زیادہ ہے۔

    خرم دستگیر نے کہا ہے کہ طلب بڑھنے کی وجہ سے ملک میں زیادہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے، بجلی کی پیداوار وہی ہے جس کا افتتاح نواز شریف نے کیا تھا۔

    وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال کے مقابلے میں بیس فیصد بجلی کی زیادہ پیداوار کی، آئندہ مالی سال میں پانچ ہزار میگاواٹ کی مزید کپیسٹی پیدا ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ عمرانی جھوٹ کا عوام روزانہ سامنا کر رہی ہے، کورونا کے دوران بجلی کی طلب میں کمی ہوئی،جہلم پن بجلی منصوبہ 969 میگاواٹ کی پیداوار دے رہا ہے،مقامی کوئلے سے چلنے والا شنگھائی پاور پلانٹ نومبر تک پیداوار شروع کردے گا

    وفاقی وزیر توانائی نے کہاہے کہ سابقہ حکومت کی نااہلی ، سی پیک دشمنی اور نیب گردی کے باعث مسائل درپیش ہیں،گزشتہ حکومت نے عالمی منڈی سے سستے فیول کی خریداری کا موقع ضائع کرکے مجرمانہ غفلت کی ،گردشی قرضے میں 250 فیصد اضافے سے شعبہ توانائی کو مالی مشکلات ہیں ، مسلم لیگ ن 2013 کی طرح ایک بار پھر ملک کو بجلی کے بحران سے نجات دلائے گی، نومبر سے بجلی کی قیمت میں کمی آئے گی،

  • عمران خان17 تاریخ تک الیکشن مہم چلائیں گے،پی ٹی آئی ہی جیتے گی:شیخ رشید

    عمران خان17 تاریخ تک الیکشن مہم چلائیں گے،پی ٹی آئی ہی جیتے گی:شیخ رشید

    راولپنڈی :شیخ رشید نے کہا ہے کہ عمران خان 17 تاریخ تک الیکشن مہم چلائیں گے۔اطلاعات کے مطابق سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا آئینی اور قانونی فیصلہ ہے، دونوں پارٹیوں کو قبول ہے، 17 جولائی کے الیکشن پر سارے ملک کی نظریں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امید ہے یہ الیکشن دھاندلی سے پاک الیکشن ہوں گے، کل کا جلسہ تاریخی ہوگا، عمران خان17 تاریخ تک الیکشن مہم چلائیں گے، 17 جولائی کے الیکشن میں پی ٹی آئی بھاری اکثریت سے جیتے گی۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعلی پنجاب کے انتخاب میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق سماعت میں سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز اوراسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالٰہی کوسپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ویڈیو لنک سے سماعت میں طلب کیا۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ 22 جولائی تک وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز شریف ہی رہیں گے۔وکیل پی ٹی آئی امتیاز صدیقی نے عدالت میں بیان دیا کہ حمزہ شہباز دوبارہ الیکشن تک وزیراعلی رہیں گے۔ پنجاب حکومت سے بات ہو گئی ہے، ضمنی الیکشن کے بعد وزیراعلی کا الیکشن ہو تواعتراض نہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ صوبے میں 2 اجلاس چل رہے ہیں اس کا کیا کریں گے؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ اسمبلی کا اجلاس ایک ہی ہوگا۔

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ ہمارا بھائیوں جیسا تعلق ہوگا، اسمبلی میں بالکل مختلف ماحول ہوگا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میرے خیال میں ایک نیا دورہوگا، اللہ کا شکر ہے ہم مخالف سیاسی گروپوں کے درمیان افہام و تفہیم کے ساتھ معاملہ حل کرسکے۔

    وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان سے ہدایت لی ہیں۔ عمران خان حکومت کی قانونی حیثیت سے متاثر ہوئے بغیر پنجاب میں شفاف الیکشن چاہتے ہیں۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ آئی جی پنجاب، الیکشن کمیشنر، چیف سیکرٹری پنجاب قانون کے مطابق عمل کریں۔انھوں نے کہا کہ نگران وزیراعلی کوئی ایسا حکم یا ہدایت جاری نہیں کرے گا۔ نگران وزیراعلی کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے الیکشن متاثرہو۔ کوئی بھی ترقیاتی فنڈز استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ہم نہیں چاہتے کہ آپ ہمارے پاس واپس آئیں، ہم انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دے دیتے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تمام بیورو کریسی عین قانون کے مطابق عمل کرے گی۔ ہم یہ بھی حکم کر دیتے ہیں کہ آپ کو ہراساں نہ کیا جائے۔

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ردعمل آ گیا

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ردعمل آ گیا

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ردعمل آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد تحریک انصاف کا ردعمل آیاہے تو دوسری جانب وزیر خزانہ نے پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کس کے حکم پر کیا انہوں نے بھی بتا دیا ہے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے روس سے سستا تیل نہیں خریدا، امپورٹڈ حکومت عوام پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال رہی ہے حکومت خود کو 11سوارب روپے کا این آر او دے رہی ہے،پیٹرول کی قیمت میں 99 روپے،ڈیزل کی قیمت میں 133 روپے کا اضافہ کیا گیا عوام کل ہمارے احتجاج میں شامل ہوں

    سابق وزیرخزانہ سینٹرشوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف موجودہ حکومت سے پیشگی اقدامات چاہتا ہے آئی ایم ایف پھر اس کو اپنے بورڈ میں لے جانے پرغور کرے گا،855 ارب پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی،11فیصد سیلز ٹیکس کی شرائط ہیں یہ لوگ پیٹرول کی قیمت 300 روپے فی لیٹر سے اوپر کر سکتے ہیں بجلی کی قیمتوں میں فوری اضافے کی شرط ہے صوبوں سے 800 ارب روپے کے صوبائی سرپلس پر دستخط کئے گئے، صوبوں نے صرف 80 ارب روپے دکھائے

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ ،سابق وفاقی وزیرشیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ پیٹرول میں15روپے اور ڈیزل میں14 روپے اضافہ کر دیا گیا،جولائی میں مہنگائی کے اور ٹیکے لگیں گے لوگ گھریلو سامان بیچ کر گزارہ کررہے ہیں ابھی بجلی کا بل بھی آنا ہےعوام کو ریلیف نہیں تکلیف ملے گی،ووٹ بیچنے والے کو عہدے اور پارٹی ٹکٹ مل رہے ہیں عنقریب حکومت کا سیاسی جنازہ دھوم سے نکلے گا،

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کرنے ٹی وی پر نہیں جانا تھا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کااعلان ایک اور ساتھی نے کرنا تھا وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ مجھے اور مصدق ملک کو ایسا کرنا چاہیے

    واضح رہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ گزشتہ شب کیا ہے، پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے بعد مہنگائی کی لہر آنے کا امکان ہے،پیٹرول کی قیمت میں 14روپے 85 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 248 روپے 74 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 23 یسے کا  اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 276 روپے 54 پیسے ہوگئی ہے

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    لوٹ مار کا نیا طریقہ، گاڑیوں میں پٹرول کی بجائے پانی بھر دیا گیا

  • عمران خان کا ایسٹ ریکوری یونٹ دراصل ایسٹ میکنگ یونٹ تھا، مریم اورنگزیب

    عمران خان کا ایسٹ ریکوری یونٹ دراصل ایسٹ میکنگ یونٹ تھا، مریم اورنگزیب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پریس کانفرنس کا مقصد عمران خان کی نااہلیوں کو سامنے لانا ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پاس تمام اختیارات تھے،عمران خان نے 4 سال تک اپنی ناکامی چھپانے کیلئے انتقامی سیاست کی، عمران خان نے اداروں کو استعمال کر کے مخالفین کیخلاف مقدمات بنوائے، انہوں نے جتنے بھی کیس بنائے کبھی کچھ ثابت نہیں ہوا،عمران خان کا ایسٹ ریکوری یونٹ دراصل ایسٹ میکنگ یونٹ تھا،انہوں نے کسی بھی عدالت کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا،آر ٹی ایس سسٹم بٹھا کر4 سال کیلئے ایک وزیراعظم مسلط کیا گیا، جب عمران خان کو عالمی سازش کا پتہ چل گیا تھا تو انکوائری کیوں نہیں کروائی، سازش کا پتہ چلتے ہی انہوں نے اسمبلیاں تحلیل کیوں نہیں کیں،2مارچ تک کا انتظار کیوں کیا گیا،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مخالفین پرجھوٹے مقدمات بنائے عدالت نے فیصلوں میں لکھاکہ کوئی کرپشن نہیں ہوئی نا اہل حکمران کی وجہ سے آج عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں حمزہ شہباز کا الیکشن کالعدم نہیں ہوا، ہر وقت کہتے ہیں نیوٹرل کو کہا مداخلت کریں یہ آئین شکنی ہے،

    ن لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پچھلے 4 سال میں توانائی کےشعبے کےمعاملات کی چھان بین کیلئے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے،کمیشن توانائی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لے گا،کمیشن کی کارروائی اوپن ہوگی تاکہ عوام کو حقائق کا پتہ چلے،کمیشن توانائی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات کے حقائق سامنے لائے گا،کمیشن کی تمام کارروائی میڈیا سمیت عوام کیلئے اوپن ہو گی، اضافی بیرونی قرضے لینے کی وجوہات سامنے لائی جائیں گی، کمیشن بنانے کا مقصد توانائی کے شعبے میں عمران خان دور کی کرپشن سامنے لانا ہے،

    وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کو توانائی کے بدترین بحران کا سامنا ہے، نومبر دسمبر 2021 میں توانائی بحران کی نشاندہی کر دی گئی تھی، لوڈشیڈنگ سے عوام اور صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں،

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • تحفہ کو عزت سمجھ کر رکھا جاتا مگر عمران نے اس عزت کو بیچ دیا

    تحفہ کو عزت سمجھ کر رکھا جاتا مگر عمران نے اس عزت کو بیچ دیا

    گزشتہ دنوں سرکاری تحقیقات میں معلوم ہوا تھا کہ سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مزید تین گھڑیاں جن کی مالیت 154 ملین بنتی ہے بھی بطور وزیر اعظم بیچی تھیں اور یہ گھڑیاں انہیں بیرون ممالک سے تحفوں میں ملی تھیں۔
    گھڑیاں بیچنے کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پرایک طرف عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تو دوسری طرف ان کا دفاع کرنے والے بھی کم نہیں ہیں تاہم واضح رہے توشہ خانہ میں مقرر کردہ رقم دے کر کوئی چیز خرید کر بیچنا قانونی طور پر ناجائز نہیں ہے البتہ بعض لوگ اسے غیر اخلاقی حرکت ضرور سمجھتے ہیں اور وہ اس کی دلیل  یہ دیتے ہیں کہ خیر سگالی کیلئے دیئے گئے تحفہ کو بیچنا ایک غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی حرکت ہے لیکن عمران خان کے حامی کہتے ہیں کہ جنہوں نے پورا ملک لوٹا وہ بڑے چور ہیں یا جس نے ناجائز کام کئے بغیر اپنے تحفے بیچے؟

    دی نیوز تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ عمران خان کے گھڑیاں بیچنے کے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: "‏ایک شخص نے گھڑیاں بیچ دیں اور اسکے حواری کہتے ہیں کہ اسے پیسے کا لالچ نہیں تو پھر کیا یہ عادتاً سب کچھ کیا ہے؟”

    سید طہ عارف نے عمر چیمہ کو ردعمل دیتے ہوئے کہا: ‏وہ شخص گھڑیاں بیچ کر بھی ٣۔۵ سالہ حکومت میں اپنی جائیداد میں اضافے کی بجائے کمی کے ساتھ گیا۔

    مزید کہتے ہیں کہ: "لالچ پیسہ جمع کرنے کیلئے ہوتی ہے نہ کہ عوام پر خرچ کرنے کیلئے۔ ہاں جی، عادتا” کیا، کیونکہ عمران خان کو  قوم کا درد محسوس کرنے کی عادت ہے”

    فخر درانی ایک سوال پر اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: عمران خان کے نام پر گھڑی بیچنےکی رسید، زرا سوچیں اس لمحے کو جس وقت اس گھڑی کے بارے ایک ملک کا وزیراعظم کسی دوکاندارسے کہے میں نے تحفے والی یہ گھڑی بیچنی ہے آپ خریدیں گے؟ ایک عام آدمی کو بھی کوئی تحفہ ملےتو وہ اسےعزت سمجھ کر کبھی بیچنے کا نہیں سوچتا لیکن اتنے بڑےعہدے پر رہ کر کوئی ایسا کیسےکرسکتا ہے؟


    ایک سید نامی صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ: بھوک سب کچھ کروا دیتی ہے یا پھرقرض اتارنے کے لئے سب کچھ داؤ پر لگا دیا جاتاہے.
    انہوں نے مزید کہا کہ: عمران خان نے مُلک کا قرض تو نہیں اُتارا بس مانیکا کا قرض اتارنے کے چکر میں حکومت اور اپنی عزت داؤ پر لگا دی.

  • ہمارے دورمیں مہنگائی کا شور مچانے والوں نے آتے ہی مہنگائی کردی. عمران خان

    ہمارے دورمیں مہنگائی کا شور مچانے والوں نے آتے ہی مہنگائی کردی. عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران نے اسلام آباد میں ورکر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ہمارے دور میں مہنگائی کا شور کررہے تھے خود اقتدار میں آتے ہی مہنگائی کردی ہے.

    عمران خان نے دعوی کیا کہ دو جولائی کو اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے جارہے ہیں، اور ساتھ ہی کارکنان کو کہا کہ آپ نے ڈور ٹو ڈور جانا ہے اور جلسہ میں شرکت کیلئے عوام سے درخواست کرنی ہے انہوں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو ملزم ہے وہ کبھی قاضی نہیں بن سکتا کیونکہ چور کبھی بھی اپنا احتساب نہیں کرسکتا ہے اور امریکہ نے یہ جو لوگ ہم پر سازش کے ذریعے نازل کیئے یہ مانے ہوئے کرپٹ لوگ ہیں اور ان غداروں نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایک متخب حکومت کوختم کیا تاکہ یہ لوگ جو مسلسل تیس سال سے چوری کررہے ہیں اس کو جاری رکھ سکیں.

    انہوں نے ورکز کو بتایا کہ امریکہ کے غلاموں کی اس حکومت نے آتے ہی ناصرف مہنگائی کی بلکہ نیب کو ختم کیا، ایف آئی اے کو اپنے ماتحت کیا اور اپنے اوپر بنائے گئے سارے کیسز ختم کروائے، گیارہ سو ارب کے کرپشن کے کیسز انہوں نے ختم کیئے نیب ترامیم کرکے تاکہ یہ اپنی کرپشن کا تحفظ کرسکیں.

    عمران خان نے کہا کہ: پاکستان کی تاریخ میں کبھی محض دو ماہ میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی جتنی ان کے دور میں ہوئی ہے. اور اس سے عام آدمی کے اوپر شدید ترین بوجھ پڑا کیونکہ پٹرول، ڈیزل، بجلی اور گیس سب مہنگا کردیا، اور پھر ضروری اشیاء خوردونوش آٹا، گھی، حتکہ چاول کو بھی دگنا مہنگا کردیا.

    ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی آسمان پر اور معیشت زمین پر آگئی، اور ہمارا روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے تیس روپے اور گر گیا ہے، لیکن بات صرف اتنی نہیں بلکہ اور مہنگائی آنی ابھی باقی ہے.

    سابق وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ پاکستان کی معاشی سروے کہتی ہے کہ سترہ سال میں جو بہترین پرفامنس تھی وہ ہمارے آخری دو سالوں میں تھی.

    چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہم پر بھی آئی ایم ایف کاپریشر تھالیکن ڈھائی سال مہنگائی روکے رکھی، امپورٹڈ حکومت نے ایک طرف مہنگائی مسلط کردی،وہ بوجھ ڈالا،بجلی ،گیس،پیٹرول ،ڈیزل سب مہنگا ہوگیا، ڈالر30روپےاور مہنگا ہوگیا،ڈیزل، پیٹرول،گیس اور مہنگی ہونگی۔

    جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب مشکل وقت آتاہے توڈیزل عمرہ کرنےچلا جاتا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہر دور میں یزید آتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرتا ہے، کوفے والوں کو پتہ تھا کہ امام حسین ؑ حق پر تھے مگر یزیدی خوف کے باعث انہوں نے مدد نہ کی ہمارے ملک کےساتھ جو ظلم ہورہاہےاس کےخلاف سارےپاکستانی آواز بلند کریں۔

  • توشہ خانہ: عمران کی طرف سے 154 ملین  مالیت کی گھڑیاں فروخت کرنے کا انکشاف

    توشہ خانہ: عمران کی طرف سے 154 ملین مالیت کی گھڑیاں فروخت کرنے کا انکشاف

    سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد کے ایک مقامی گھڑی ڈیلر کوتوشہ خانہ سے تین گھڑیاں فروخت کیں تھی جن کی مجموعی مالیت 154 ملین روپے سے زائد بنتی ہے۔

    معروف صحافی انصار عباسی کے بیٹے اور دی نیوز کے صحافی قاسم عباسی نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ: ایک سرکاری انکوائری کے مطابق عمران خان نے تین نایاب کلاس گھڑیوں کو بیچ کر ان سے لاکھوں کمائے جو انہیں غیر ملکی معززین نے تحفے میں دی تھیں۔

    دی نیوز اور جنگ میں شائع خبر میں وضاحت کی گئی ہے کہ: یہ تینوں گھڑیاں ان کے علاوہ ہیں جو پہلے میڈیا میں رپورٹ ہوئی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مہنگی ترین گھڑی، جس کی مالیت 101 ملین روپے سے زائد ہے، اس وقت کے وزیر اعظم نے اس کی قیمت کے 20 فیصد پر برقرار رکھی جب ان کی حکومت نے توشہ خانہ کے قوانین میں ترمیم کی تھی اور توشہ خانہ تحفہ برقرار رکھنے کی قیمت کو اس کی اصل قیمت کے 50 فیصد پر طے کیا تھا۔

    دستیاب دستاویزات اور فروخت کی رسیدیں ظاہر کرتی ہیں کہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ توشہ خانہ سے تحفے میں دی گئی نایاب گھڑیاں اپنے وسائل سے خریدنے کے بجائے خان نے پہلے وہ تین گھڑیاں فروخت کیں اور پھر ہر ایک کا 20 فیصد سرکاری خزانے میں جمع کرایا۔ بظاہر یہ تحائف توشہ خانہ میں کبھی جمع نہیں ہوئے جیساکہ کسی بھی سرکاری عہدیدار کو ملنے والے تحائف کی فوری اطلاع دی جانی چاہئے تاکہ اس کی قیمت کا اندازہ لگایا جائے جس کے بعد وصول کنندہ مخصوص رقم جمع کراتا ہے اگر وہ اسے رکھنا چاہتا ہے۔

    دی نیوز کے مطابق انکے پاس دستیاب توشہ خانہ دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان تینوں مہنگے تحائف کی فروخت سے مجموعی طور پر خان نے 36 ملین روپے کمائے۔

    مشرق وسطیٰ کے اعلیٰ معزز کی جانب سے تحفے میں دی گئی گھڑی کی فروخت سے حقیقی منافع کمایا گیا۔ یہ ایک انتہائی مہنگی گھڑی تھی جس کی سرکاری طور پر قیمت 101 ملین روپے بتائی گئی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق وزیراعظم نے اسے تقریباً آدھی قیمت پر 51 ملین روپے میں فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
    خان نے قیمت کے 20 فیصد کے طور پر 20 ملین روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے، اس طرح صرف اس ایک گھڑی کی فروخت سے مجموعی طور پر 31 ملین کا منافع ہوا۔

    اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ گھڑی اس کی اصل قیمت سے آدھی قیمت پر فروخت ہوئی۔
    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ گھڑی 22 جنوری 2019 کو فروخت ہوئی تھی جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی اس وقت کی حکومت نے توشہ خانہ کے قوانین میں ترمیم کی اور کسی بھی تحفے کی قیمت کو اس کی تخمینہ شدہ قیمت کے 20 فیصد سے 50 فیصد پر برقرار رکھا۔

    خلیجی جزیرے کے شاہی خاندان کے فرد کی جانب سے تحفے میں دی گئی رولیکس پلاٹینم گھڑی عمران خان نے 52 لاکھ روپے میں فروخت کی۔

    توشہ خانہ کے قواعد کے مطابق اس مہنگے تحفے کا تخمینہ سرکاری جائزہ کاروں نے 38 لاکھ روپے میں لگایا۔ عمران خان نے 7 لاکھ 54 ہزار روپے مالیت کا 20 فیصد سرکاری خزانے میں جمع کرایا، اس طرح اس گھڑی کو بیچ کر تقریباً 45 لاکھ روپے کا منافع کمایا۔

    یہ گھڑی انہیں تحفے میں دیے جانے کے دو ماہ بعد نومبر 2018 میں فروخت ہوئی تھی۔

    اسی خلیجی جزیرے کے ایک معزز شخص کی جانب سے تحفے میں دی گئی ایک اور رولیکس واچ سابق وزیراعظم نے 18 لاکھ روپے میں فروخت کی۔ اس گھڑی کی سرکاری قیمت 15 لاکھ روپے بتائی گئی۔ سابق وزیراعظم نے 2 لاکھ 94 ہزار روپے ادا کیے، اس طرح اس ڈیل سے مزید 15 لاکھ روپے کا فائدہ ہوا۔

    یہ تمام تحائف جناح مارکیٹ F-7 اسلام آباد میں ایک مہنگی گھڑی کے ڈیلر کو فروخت کیے گئے۔ ریکارڈ میں ان لگژری تین گھڑیوں کی تصاویر کے ساتھ فروخت کی رسیدیں بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ خبرنگار کی جانب سے فواد چوہدری اور شہباز گل سے اس معاملے پر ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تھالیکن کالز اور میسجز کے باوجود کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔

    تاہم توشہ خانہ تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ یہ ان کے تحفے ہیں، اس لیے یہ ان کی مرضی ہے کہ انہیں رکھنا ہے یا نہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ میرا تحفہ، میری مرضی۔

    یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں دبئی میں 140 ملین روپے کے توشہ خانہ کے تحفے فروخت کئے۔

  • نیا پاکستان،پرانی کرپشن۔۔|| بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا نےملک کیسے لوٹا۔خوفناک حقائق

    نیا پاکستان،پرانی کرپشن۔۔|| بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا نےملک کیسے لوٹا۔خوفناک حقائق

    لاہور:سابق خاتون اول بشرہ بی بی، ان کے سابق خاوند خاور مانیکا، اس کے بچے، اس کے بھائی اس کے رشتہ دارکیسے ریاست کو لوٹتے رہے۔ اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پرانکشافات کرکے بہت سی چیزیں صارفین کے سامنےرکھ دی ہیں‌، وہ کہتے ہیں کس سے کتنی رقم لی، کس کی کتنی زمین پر قبضہ کیا، کس سے کتنے تحائف لیے، کہاں کہاں زمین خریدی اور کہاں کہاں انویسٹمنٹ کی۔ ایک ایک چیز آپ کے سامنے رکھوں گا اور یہ کہانی کروڑوں کے نہیں بلکے اربوں کے ہیں، پانچ قیراط کی انگوٹی صرف والدہ نے نہیں لی بلکہ سوا ارب روپے کی کک بیکس صرف بیٹے نے اسی پارٹی سے وصول کی۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میاں خاور مانیکا ولد میاں غلام فرید مانیکا کا تعلق ضلع پاکپتن کے معروف مانیکا وٹو خاندان سے ہے۔ ان کے دادا خان بہادر نور خان ایک زمیندار تھے اور تقریباً 3700 ایکڑ زرعی زمین کے مالک تھے۔خاور مانیکا کے والد میاں غلام فرید مانیکا بھی ضلع پاکپتن کے معروف زمیندار تھے۔ خاور مانیکا کو تقریباً400 ایکڑ زرعی زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان کسٹم کو 1983میں جوائن کیا اور 2018 میں ریٹائر ہوئے۔

     

    سنیئرصحافی نے اس حوالے سے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر اس کی شادی اپنے چچا مظہر فرید مانیکا کی بیٹی محترمہ روبینہ سے ہوئی جو دیپالپور ،ضلع اوکاڑہ کی رہائشی تھی۔ یہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اورپھربشریٰ بی بی سے دوسری شادی کر لی جس سے ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ آخر میں بشریٰ بی بی کو طلاق دینے کے بعد، اس نے دس اگست 2018 کو اپنی بیٹی کی دوست سمیرا جاوید، آغا جاوید اختر کی بیٹی کے ساتھ تیسری شادی کی، جس سے خاورمانیکا کی صرف ایک بیٹی ہے۔ نکاح کا سرٹیفکیٹ آپ سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔خاور مانیکا پر الزام ہے کہ وہ ایک روائیتی بدعنوان بیو روکریٹ کی عظیم مثال ہیں جو فرنٹ مین کے ایک باضابطہ نیٹ ورک کے ذریعے منظم بدعنوانی میں ماسٹر بن گئے۔ اس کے کچھ فرنٹ مینوں اور سماجی روابط کی تفصیلات میں آگے چل کر بتاوں گا جسے سن کر اپ کے اوسان خطا ہو جائین گے۔۔ بدعنوانی کی کچھ جھلکیاں میں آپ کو دیکھا دیتا ہون۔۔ خاور مانیکا نے اپنے ایک فرنٹ مین کے ذریعے چک بیدی،ڈسٹرکٹ عارف والا میں مرحوم چوہدری عبدالغفور جن کی وفات 2017 میں ہوئی کی چھوڑی ہوئی تقریباً چار سو ایکڑ زرعی زمین پر قبضہ کر لیا۔ خاور مانیکا نے روبینہ نامی خاتون جو خاور مانیکا کے فرنٹ مین محمد رفیق کی بہن ہےکا جعلی شناختی کارڈ تیار کرکے اور اس کا نام عائشہ رکھ کر مذکورہ زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور تو اور جعلی شادی کا سرٹیفکیٹ بھی تیار کیا گیا جس میں اسے مرنے والے کی بیوی ظاہر کیا گیا ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ جعلی نکاہ نامہ اور شناختی کارڈ کی کاپی آپ اپنی سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔تاہم، جانچ پڑتال کے بعد مذکورہ گاؤں میں شادی کا کوئی ریکارڈ نہ ملا۔خاور مانیکا اور اس کے بیٹے ابراہیم مانیکانے اپنے مقامی فرنٹ مین محمد رفیق کے ساتھ مل کر موضع میر خان میں 45 ایکڑ اراضی دھوکہ دہی سے مقتول کی جعلی بیوہ پیش کر کے ہتھیا لی۔کیونکہ مقتول مقبول کا کوئی قانونی وارث نہیں تھا۔ اور یہ کارنامہ سر انجام دینے کے عوض خاور ما نیکا نے اپنے فرنٹ مین رفیق عرفPhikki کو 12 ایکڑ زمین تحفے میں دی۔خاور مانیکا اور ابراہیم مانیکا جوبشریٰ بی بی کا بیٹاہے، نے خاتون اول کی صورت میں حاصل ہونے والی شہرت کا استعمال کرتے ہوئے اور خاتون اول کی مبینہ حمایت کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً دس لاکھ روپے روزانہ کی بنیاد پروزیر اعلی، آئی جی، اور چیف سیکرٹری آفس کے ذریعے سرکاری افسران کے تبادلوں، پوسٹنگ کا انتظام کر کے کماتے رہے ، یعنی تین کروڑ روپے ماہانہ۔ لیکن یہ تو مونگ پھلی کا ایک دانہ ہے ، آپ آگے تفصیل سنیں گے تو آپ کے ہوش اڑ جائیں گے کہ یہ تو ڈرائی فروٹ کے پورے پورے ٹوکرے ہضم کر گئے اور ڈکار بھی نہیں ماری۔ آپ سنتے جائیں اور شرماتے جائیں۔

     

    https://youtu.be/3FLEnsydJ_4

    ٹرانسفر پوسٹنگ کی رقم کی دھوکہ دہی مسٹر سرفراز کے ذریعے کی جاتی تھی جو لاہور میں خاور مانیکا کے اہم فرنٹ مین ہیں اور اہم کام انجام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، خاور مانیکا کے لاہور میں کئی ججوں کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات اور قریبی روابط ہیں۔سروس کے دوران، خاور مانیکا نے گاؤں موضع 22/K میں 135 ایکڑ زرعی زمین خریدی اور اسے بشریٰ بی بی خاتون اول کے نام کر دیا۔ ان کی طلاق کے بعد، مسٹر مانیکا اب بھی اپنے فرنٹ مین عامر نامی شخص کے ذریعے زمین کا سالانہ ٹھیکہ وصول کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت محترمہ بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کے مسلسل مالی روابط کی تصدیق کرتی ہے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان نے اپنی بیوی کے اثاثے اپنے گوشوارون میں ظاہر کیئے ہیں اور اگر نہیں کیئے تو یہ کتنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ اس ملک میں اکاموں پر نا اہل کرنے کی روائیت تو پہلے ہی پڑ چکی ہے۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بھائی احمد مجتبی کے کارناموں پر ایک نظر :احمد مجتبیٰ ولد سردار ریاض خان (مرحوم) کا تعلق ضلع اوکاڑہ کے معروف وٹو خاندان سے ہے۔ وہ خاتون اول بشریٰ بی بی کے بھائی ہیں۔ ان کے والد، سردار ریاض خان ضلع اوکاڑہ کے معروف زمیندار تھے۔احمد مجتبیٰ کو تقریباً 60 ایکڑ زرعی زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی۔ ان کا مستقل پتہ Koaky Bahawalتحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ ہے۔ ان کی شادی سردار لطف اللہ خان کی بیٹی محترمہ مہرالنساء سے ہوئی جس سے ان کے 2 بیٹے اور 1 بیٹی ہے۔ وہ مستقل طور پر لاہور میں آباد ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اپنی بہن کی شادی کے بعد
    احمد مجتبی علاقے کی ایک بااثر شخصیت بن گئے ہیں۔ اپنے ساتھیوں، فرنٹ مینو اور دیگر لوگوں کی مد د سے ایک منظم گروپ بنایا جس میں
    وسیم رسول مانیکا ، حماد احمد مانیکا اور دیگر شامل ہیں،احمد مجتبی تحصیل دیپالپور میں زمینوں پر قبضے سمیت ہر طرح کی منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔جب عمران خان کی حکومت آئی تو خاتون اول کے بھائی احمد اپنے بھانجے ابراہیم مانیکا کے ساتھ سرکاری افسران کی تقرریوں،تبادلوں کا انتظام کر تے رہے ۔ کئی فرنٹ مینوں کے ذریعے روزانہ ضرورت مندوں سے پانچ لاکھ سے دس لاکھ روپے تک کی رقم چھین لی جاتی۔احمد مجتبی کے فرنٹ مین وسیم رسول نے ان کے کہنے پر 2017 میں موضع بونگہ صالح رفیع آباد، کھمبیا والی، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں561 کنال اراضی ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے کے ٹھیکے پر ہتھیا لی۔ یہ زمین دراصل دوبہنوں کی ہے جن کا نام بشریٰ بیگم اور عارفہ فخر حیات مانیکا ہے جو میاں فخر محمد مانیکا کی بیٹیاں ہیں۔ مقامی حکومت کے دباؤ سے کیس ابھی بھی زیر التوا ہے۔ملک حسین ولد برکت علی نے حماد احمد مانیکا اور وسیم رسول جو بشرہ بی بی کے بھائی احمد کا فرنٹ میں ہے کے ساتھ مل کر طاہر خورد، بصیر پور، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں مسٹر دین محمد کی 70 ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا ،زمین کی قیمت تقریباً 21 کروڑ روپے ہے۔ایف آئی آر نمبر 17/22 مورخہ گیارہ جنوری 2022 مسٹر ملک حسین اور حماد احمد کے خلاف تھانہ بصیر پور، ضلع اوکاڑہ میں درج کی گئی ہے۔

    سینئرصحافی کا کہنا ہے کہ حماد احمد مانیکا جو بشرہ بی بی کے بھائی احمد مجتبی کا فرنٹ مین ہے نے احمد کے کہنے پر بونگہ صالح، بصیر پور، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں 17 ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضہ کیا۔ یہ زمین دراصل بریگیڈیئر (ر) شاہد جمیل کی تھی ،زمین کی قیمت تقریباً پانچ کروڑ روپے ہے۔حماد احمد مانیکا نےجعلی دستاویزات کے ذریعے 2.5 ایکڑ اراضی بھی ہتھیا لی جسے اس کے قانونی ورثاء نے ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر کے لیے کسی دوسری پارٹی کو فروخت کیا تھا۔ گفت و شنید کے بعد انہوں نے بڑا حصہ واپس کر دیا لیکن پھر بھی سوسائٹی میں 72 مرلہ کمرشل اراضی پر قابض ہیں۔ احمد مجتبی کے فرنٹ مین حماد احمد مانیکا نے پٹواری ٹھوکر نیاز بیگ کی تقرری کے لیے اسی لاکھ روپے لیے، اور پھر اگلے ہی دن نوٹیفکیشن میں ترمیم کر دی گئی اورحکام کی جانب سےایک اور شخص کو تعینات کر دیا گیا جس کی وجہ سے پٹواری اپنے پیسے واپس مانگتا رہ گیا۔ایک تخمینہ کے مطابق خاور مانیکا اور اس کے بیٹو ں نے ایک ارب 34کروڑ کی گاڑیاں، کاریں اور کیش کی صورت میں بنایا جبکہ زمین اور گھروں کی صورت میں تقریباایک ارب تین کروڑ روپے کے اثاثے ہیں۔احمد مجتبی کے پاس زمین اور کیش کی صورت میں تقریبا 520 millionروپے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ بشریٰ بی بی کے بیٹے مسٹر ابراہیم کو حال ہی میں لاہور میں چار کروڑ روپے کی ایک لینڈ کروزرگاڑی تحفہ میں ملی ہے جو تحفہ فراہم کرنے والے کے ایک مخصوص کام کو پورا کرنے اور اسے سنبھالنے کی صورت میں ملی ہے۔ اس الزام کے ثبوت۔ اس بندے کا نام اور کس کام کے عوض یہ دی گئی بہت جلد ایک اور پروگرام میں آپ کے سامنے لاوں گا۔مبینہ طور پر، بشرہ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا نے پنجاب حکومت کے ذریعے لاہور میں شاہقام چوک اوور ہیڈ برج کی تعمیر میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بحریہ ٹاؤن کے سی ای او ملک ریاض سے کک بیک کی صورت میں 80 کروڑ روپے بھی وصول کیے ۔ جبکہ ایک اور ڈیل میں پچیس کروڑ روپے الگ سے لیے۔خاور مانیکا کے چچا نے عرصہ دراز پہلے آٹھ کنال قیمتی جگہ جو287 Ferozpur lahore کے نام سے تھی کو تیس لاکھ روپے میں فروخت کیا تھا۔ خاور مانیکا نے ہیرا پھیری کر کے ، حال ہی میں اپنے دادا کے نام کروانے میں کامیاب ہو گئے ۔اب اس جگہ کی مالیت اربوں میں ہے، خاور مانیکا نے محکمہ لینڈ ریکارڈ کو خصوصی طور پر زمین کا ریکارڈ شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی ۔اب یہ پاکپتن میں کس قسم کی بدمعاشی کرتے ہیں زرا یہ بھی سن لیں۔۔بھروان بی بی جو7-SPضلع پاکپتن کی رہائشی ہے نے SP صدر کو درخواست دی ، کہ اس کے بیٹے سہیل منظور ولد منظور جس کی عمردس سال تھی سے ذاکر حسین نامی شخص نے شدید جسمانی زیادتی کی ہے۔ جب وہ دوکان پر سودا لینے جا رہا تھا۔اور اس پر ایک ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔اور بعد میں پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم خاور مانیکا کے منیجر جاوید کا قریبی رشتہ دار نکلا۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا کے مینجر جاوید نے بھروان بی بی پر اپنی ایف آئی آر واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا، لیکن اس کے باوجود، نابالغ سہیل منظور نے صلح کرنے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد موسیٰ مانیکا سرگرم ہو گئے ۔موسی بشریٰ بی بی کا چھوٹا بیٹا ہے ، اس نے اپنے ڈیرہ میں پنچایت بلائی۔ متاثرہ کے رشتہ داروں کو بے جا دباؤ کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس نے جھوٹے مقدمات بنا کرانہیں غیر قانونی حراست میں رکھا۔ ابھی تک، مصالحت زیر التواء ہے اور متاثرین کو اب بھی مسٹر خاور مانیکا مقامی پولیس کے ذریعے مجبور کر رہے ہیں۔ان لوگوں کے کام دیکھیں اور ان کے عزائم دیکھیں۔۔ اب ان کی نظر
    دربار بابا فرید پاکپتن کی گدی پرہے۔خاور مانیکا دربار حضرت بابا فرید، پاکپتن کی گدی لینے کے خواہشمند ہیں کیونکہ وہ دربار حضرت بابا فرید کے معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں خاص طور پر دربار کے سالانہ عرس کے موقع پرحال ہی میں دیوان مودود جودربار کے موجودہ نگران ہیں اور ان کے دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ ہوا تھا۔ دیوان فیملی کے ممبر ہونے کے ناطے خاور مانیکا نے ‏محکمہ اوقاف کے ذریعہ ساز باز کر کے اس صورٹھال سے فائدہ اٹھایا اور عرس کے پہلے دو دن کا نظام سنبھال لیا۔ دس دسمبر دوہزار اکیس کو جاری کیا گیا چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف کا یہ نوٹیفیکیشن آپ اپنی سکرین پر دیکھ سکتے ہیں جس میں ڈپٹی کمشنر پاکپتن کے بعد خاور مانیکا کا نام درج ہے۔جس نے دربار کی رسومات ادا کرنے میں ہیرا پھیری کرکے مزید اختلافات پیدا کیے ۔

    بشریٰ بی بی، خاور مانیکا، ان کے بیٹے ابراہیم اور بھائی احمد مجتبیٰ نے روابط کا استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس مقام پر پہنچا دیا جہاں وہ خاتون اول کی ملی بھگت سے ریاست کے کسی بھی فرد یا ادارے کو متاثر کرسکتے تھے۔ انہوں نےبیوروکریسی پولیس میں اثر و رسوخ کا اپنا کلب سرکل بنا لیا تھا۔

     

    https://youtu.be/3FLEnsydJ_4

    فرح شہزادی اور احسن جمیل گجرکےساتھ خاور مانیکا پنجاب بھر میں خاص طور پر ساہیوال ڈویژن کی مقامی انتظامیہ میں منافع بخش تقرریوں پر اپنے قریبی ساتھیوں اور دوستوں کو تعینات کرنے میں کامیاب رہی ۔خاتون اول نے اپنے کلب کے ساتھ Graana.com میں سرمایہ کاری کی ہے، جو کہ فرنٹ مین کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ گالف فلورس گارڈن سٹی اسلام آباد (عمران گروپ آف کمپنیز)۔عمارات رہائش گاہیں (ایکسپریس وے اسلام آباد)۔ایمیزون آؤٹ لیٹ (جی ٹی روڈ اسلام آباد)۔امارت مال (جی ٹی روڈ اسلام آباد)۔مال آف عربیہ (ایکسپریس وے اسلام آباد)۔فلورنس گیلیریا (ڈی ایچ اے فیز 2 اسلام آباد)۔Taj Residensia i-14
    اسلام آبادپارک ویو سٹی (ملت روڈ اسلام آباد)۔خاور مانیکا اور احمد مجتبیٰ بشریٰ بی بی کے ساتھ مل کر لاہور,اوکاڑہ اور پاکپتن میں متعدد منصوبے شروع کیئے ۔ مزید یہ کہ انہیں مختلف منصوبوں کی منظوری میں سہولت کے لیے نقد رقم اور مہنگے تحائف کی مد میں بھاری کک بیکس بھی ملے۔

    سینئرصحافی کا کہنا ہے کہ خاتون اول کے حمایت یافتہ کلب نے راولپنڈی کے مجوزہ رنگ روڈ منصوبے سے متعلقہ نووا ہاؤسنگ اور دیگر ہاؤسنگ سکیموں میں بھی نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔چکری انٹرچینج M2 کے قریب کنگڈم ویلی اسلام آباد کنگڈم گروپ کا ایک فلاپ/ڈیڈ پروجیکٹ تھا۔ بشریٰ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا نے، جسے اس کی والدہ کی حمایت حاصل ہے اوراثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئےنیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے ساتھ تعاون کرکے اس منصوبے کو تبدیل کیا ۔
    دو سو کنال زمین کا ایک پورا بلاک بلیو ورلڈ سٹی میں خریدا گیا۔ اس کی ڈویلپمنٹ ابراہیم مانیکا کی طرف سے منتخب کنسٹرکشن کمپنی نے کرنا تھی۔
    ان لوگوں کی ہوس کی انتہا دیکھیں کہ ابراہیم مانیکا کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں اپنےوالد خاورمانیکا کے تعلقات استعمال کرتے ہوئے ہیوی بائیکس درآمد کرتے رہے اور کسٹم میں اچھی خاصی چھوٹ اور ٹیکس چوری تک کرتے رہے۔

  • 2 جولائی کی رات اسلام آباد میں پرامن احتجاج کریں گے،عمران خان

    2 جولائی کی رات اسلام آباد میں پرامن احتجاج کریں گے،عمران خان

    2 جولائی کی رات اسلام آباد میں پرامن احتجاج کریں گے،عمران خان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی سازش کے تحت اقتدار میں آنے والوں نے عوام کے لیے صرف مشکلات پیدا کی ہیں،

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے معیشت ٹھیک کرنی تھی کیوں کہ ان کو بڑے تجربہ کار سمجھتے تھے،کراچی میں صبح سے عوام سڑکوں پر ہے،ان لوگوں نے صرف اپنے اوپر 1100 ارب روپے کے کیسز ختم کرائے،انہوں نے اپنے آپ کو این آر او ٹو دیا،اپنی کرپشن بچانے کیلئے انہوں نے اداروں کو تباہ کیا، موجودہ کابینہ میں 60 فیصد لوگ ضمانتوں پر ہیں، پاکستان میں 2خاندانوں نے 30سال حکمرانی کی ہے، 30 سال کرپشن کرنے والوں نے صرف خود کو این آر او دیا ہے انہوں نے ایف آئی اے اور نیب کو تباہ کردیاہے،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے دور میں اتنی لوڈشیڈنگ نہیں تھی،آج ان کے پاس کوئلے کے پاس پیسے ہیں نہ ایل این جی کیلئے، کراچی کی عوام سخت گرمی میں لوڈ شیڈنگ برداشت کر رہی ہے اب بجلی بھی نہیں بن رہی اور بجلی کے ریٹس بھی بڑھا دیئے گئے ، لوگ پوچھتے ہیں کہ لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلط کردیا گیا 2ماہ ہوگئے ہیں مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے، یہ لوگ مہنگائی کم کرنے آئے تھے،عوام سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے جو قیمتیں انہوں نے تین ماہ میں بڑھائیں ہمارے ساڑھے تین سالہ حکومت میں نہیں بڑھی جب سے ہماری حکومت گئی ہے کون سی ایسی قیامت آگئی کہ قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔سوائے اپنے چوری بچانے کے عوام پر بوجھ کم کرنے کی حکمت عملی بھی بنائیں،پرامن احتجاج کی اجازت ہمارا آئین دیتا ہے،2 جولائی کی رات اسلام آباد میں پرامن احتجاج کریں گے انکا خیال ہے کہ ظلم اور تشدد کر کے لوگوں کو کنٹرول کریں گے ایسے آپ لوگوں کو نہیں روک سکتے

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ڈنڈے سے جمہوریت کبھی نہیں چلتی،جمہوریت اخلاقی قوت سے چلتی ہے سری لنکا میں پہلے معاشی پھر سیاسی بحران آیا،پاکستان میں ایک سازش کے تحت پہلے سیاسی بحران پیدا کیا گیا، شہباز شریف کی ساری ڈویلپمنٹ اشتہاروں میں ہوتی ہے،ان میں ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی کوئی صلاحیت نہیں تھی، ملکی حالات بہتر کرنے کا واحد راستہ شفاف انتخابات ہیں، پنجاب میں لگ رہا ہے کہ حمزہ شہباز کی حکومت نہیں رہے گی،پنجاب کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کی تیاریاں ہورہی ہیں

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل