Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • حکومت چلی گئی عمران خان کی ہیرا پھیری نہیں گئی، صوبائی وزراء

    حکومت چلی گئی عمران خان کی ہیرا پھیری نہیں گئی، صوبائی وزراء

    صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری، صوبائی وزیر داخلہ عطاء اللہ تارڑ، صوبائی وزیر قانون ملک احمد خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ جب حکومت میں آئی توحمزہ شہباز وزیر اعلئ بنے، ہمارا یقین ہے کہ اقتدار نچلے طبقے تک لے کرجانا ہے، اس قانون پر کام کیا گیا پھر اس کو کابینہ میں لے کر گئے،صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے کہا کہ اربن اور رورل کو دوبارہ تقسیم کیا ہے، جب تک میونسپل کمیٹی نہیں بنتی سسٹم نہیں چل سکتا، چودہ نئی میونسپل کارپوریشن فارم کی جارہی ہیں،دو سو پینتیس سے زیادہ میونسپل کمیٹیاں چیئرمین اور وائس چیئرمین کا براہ راست انتخاب ہوگا،یونین کونسلز کو صحیح طرح مضبوط کرنے جارہے ہیں.

    عارف علوی کا بھی احتساب ہوگا،حمزہ شہباز

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ کا دس فیصد حصہ یونین کونسل میں جایا کرے گا، یونین کونسل کا وائس چیئرمین اپر ہاؤس میں جائے گا اور تحصیل کی حکومت کو ہیڈ کرے گا عمران خان پیسے والے لوگوں کو لے کر آگے آرہے تھے، ہم غریب آدمی کو آگے لے کر آرہے ہیں،اگر کوئی افسر صحیح کام نہیں کرے گا تو یو سی افسران اس کو تبدیل کرسکے گے، گیارہ گریڈ کے افسران پی سی ایس کے ذریعے بھرتی کیئے جائیں گے

    انہوں نے کہا کہ چیک اینڈ بیلنس کا مکمل طریقہ کار وضع کیا گیا ہے،جہاں وزیر اعلی چیئرمین نہیں ہے وہاں لوکل گورنمنٹ کے افسران چیئر کریں گے، لوکل گورنمنٹ کے سربراہان کو خودمختاری دی جائے گی،اس اقتدار کو ہم ہر یو سی لیول تک لے کر جارہے ہیں
    ، جلد از جلد ان حکومتوں کا قیام بھی یقینی بنائیں گے، پچاس ہزار سے زیادہ لوگ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے

    صوبائی وزیر قانون ملک احمد خان نے کہا کہ صاف دیہات پروگرام اس کے ساتھ منسوب ہے، پنجاب کے طول و عرض میں صفائی کا بہترین نظام وضع کریں گے، آج کچھ قوانین پنجاب اسمبلی سے متعلق بھی پاس کیئے گئے ہی، دو ہزار بیس میں ایک بل پاس کیا گیا قوانین کے حوالے سے اس کو واپس اس کی اصل شکل میں لے کر آئے ہیں، پنجاب میں کیا گیا تھا کہ میرا اپنا سیکرٹری ہوگا تو اپنی مرضی سے چلو گا،صحافیوں کے حوالے سے ایک بل پاس کیا گیا تھا کہ کوئی صحافی خبر دے گا تو چھ ماہ جیل ہوسکتی ہے، چیئرمین نیب کے پاس بھی ایسا اختیار نہیں تھا، پنجاب کے آٹھ اضلاع متاثر تھے ٹول پلازوں کی وجہ سے اورٹول پلازوں سے عوامی تکلیف بہت زیادہ تھی ان گیارہ ٹول پلازوں کو ختم کردیا گیا ہے

    ملک احمد خان نے مزید کہا کہ عمران خان ، فواد چوہدری نیوٹرل فوج کے سربراہ کو کہتے ہیں، پہلے ان کو کہتے ہیں کہ ہماری حکومت قائم کروائے نہیں کرواتے تو گالیاں دیتے ہی، کل ایک پروگرام میں کہا گیا کہ فوج اور عدلیہ کا آئینی کردار ہے، بیس بائیس پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے لوگ پکڑے جاتے ہیں،وہ فوج اور عدلیہ کی کردار کشی کرتے ہیں، جب وہ میری کردار کشی کریں گے تو میں حق رکھتا ہوں کہ قانونی کاروائی کروں،کبھی کہتے ہیں نیوٹرل نیوٹرل نہیں ہیں، وہ کیا کہنا چاہتے ہیں. ہم عمران خان ، فواد چوہدری کے خلاف قانونی کاروائی بھی کرسکتے ہیں ہتک عزت کا دعوی بھی کرسکتے ہی،عدلیہ میں یہ پراسیس سلو ہے اس کے لئے ترمیم کرنا پڑی ہے ،اگر تم قائم رہو تو ٹھیک ہے باقی سب برباد ہوجائیں ، فواد چوہدری، قاسم سوری اور عمر چیمہ سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے آئین شکنی کی ہے ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے جب کہ جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات چلانے پر غور کررہے ہیں

    صوبائی وزیر داخلہ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پچھلے دنوں ایک صحافی یہ کہہ رہے تھے کہ عمران خان آدھی پانی کی بوتل بھی لے جاتے ہیں، ہمارا یہی کیس ہے وہ کچھ نہیں چھوڑتے انھوں نے مشرق وسطی میں جاکر بیچا، یہ تین اور پانچ کیرٹ کے تحفے مانگتے رہے لوگوں کے بڑے کام کیئے ہیں، کبھی فوج کبھی عدلیہ پر حملہ کرتے ہیں، آپ کی بیوی کی سہیلی فرحت شہزادی نے کرپشن کے انبار لگادیئے، منی لانڈرنگ آپ نے کی ہے،آج بڑا اچھا لگا عمران خان گرمی کے موسم میں کسی عدالت میں گئے.

    عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ اسلام آباد آئے جب لوگ نہ نکلے تو واپس چلے گئ، پشاور حکومت کو عمران خان کئی کروڑ کے پڑتے تھے،حکومت چلی گئی عمران خان کی ہیرا پھیری نہیں گئی، اتوار کے روز کسی نے قانون ہاتھ میں لیا تو قانونی کاروائی کی جائے گی
    ،ابھی تک کوئی درخواست نہیں ملی.سابق وزیراعلی عثمان بزدار پر دو ایف آئی آر ہیں اصل بے ایمانی عمران خان کی ہے،عمران خان نے وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے اختیار بشری مانیکا اور فرح گوگی کو دیئے ہوئے تھے،اسپیکر نیشنل اسمبلی سے کہوں گا ان کی تنخواہیں بند کریں انہوں نےبل جلائیں اور بعد میں ادا بھی کئے.بنتے پھرتے ہیں ایماندار اور غیرت مند یہ فواد چوہدری بھی قومی اسمبلی سے تنخواہ لے رہا ہے،فواد صاحب استعفی دیا ہے تو نہ کریں ایسے. خان صاحب کہتے تھے کسی کے باپ کا پیسہ نہیں تو یہ کسی کے باپ کا پیسہ نہیں ہے، ڈ ٹ کے کھڑا ہے اب کپتان اس کی حقیقت ہے چھپ کے کھڑا ہے اب کپتان.میڈیا کا یہ کام نہیں ہے کہ کسی کی سائیڈ لے ،امن و امان خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے.

    ملک احمد خان نے کہا کہ یہ سیریز قاسم سوری سے شروع ہوتی ہے جوعمران خان ، فواد چوہدری اور دیگر پر جاتی ہے،یہ کہتے ہیں فوج اورعدلیہ کا سیاسی کردار ہے اس کے بعد گنجائش نہیں ہے،ان پرآرٹیکل پانچ اور چھ واضح طور پر آتا ہے،وفاقی حکومت سے اس پر بات کریں گے.ریاست کے اداروں سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کاش عمران خان کے کیسز کی ویسے تحقیق ہو جیسے نواز شریف کے خلاف فیصلے آئے تھے، میری بات آئین اور قانون کے دائرے میں ہے، درست صحافت کریں گے تو کوئی اعترازض نہیں ہوگا

  • دس مقدمات میں ضمانت کیلئے عمران خان عدالت پہنچ گئے

    دس مقدمات میں ضمانت کیلئے عمران خان عدالت پہنچ گئے

    دس مقدمات میں ضمانت کیلئے عمران خان عدالت پہنچ گئے

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران املاک کو نقصان پہنچانے اور جلاؤ گھیراؤ کیس کی سماعت ہوئی

    سابق وزیراعظم عمران خان نے قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کر دی عمران خان نے 10 مقدمات میں ضمانت کیلئے عدالت سے رجوع کر لیا،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کامران بشارت نے کیس پر سماعت کی، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ضمانت کیلئے اسلام آباد کی مقامی عدالت پہنچ گئے، تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان بھی عمران خان کے ہمراہ تھے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران تھوڑ پھوڑ پر عمران خان کی 10 مقدمات میں 6 جولائی تک درخواست ضمانتیں منظورکر لی گئیں، سیشن جج کامران بشارت مفتی نے پولیس کو ریکارڈ سمیت آئندہ سماعت پر طلب کر لیا

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، لاہور سے جب لانگ مارچ کے شرکا نکلے تھے تو انکا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا تھا، ان دنوں پنجاب کی صوبائی حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی، لانگ مارچ کے شرکا اور پولیس میں کئی مقامات پر تصادم ہوا تھا، پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنماوں و کارکنان کو گرفتار بھی کیا تھا

    لانگ مارچ کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کر لئے گئے مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے ہیں، مقدمات میں 39 افراد کی گرفتاری بھی ظاہر کی گئی ہے ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں،وزیراعلی گلگت بلتستان پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، فواد چودھری پر جہلم میں مقدمہ درج کیا گیا تھا

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کےمقالےکی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد

    احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کےمقالےکی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد

    لاہور:احساس پروگرام کی افادیت پر”سٹینفورڈ”یونیورسٹی کے مقالے کی کوئی حیثیت نہیں:رانا عبداللہ حماد جو کہ ماس کمونیکیشن کے طالب علم انہوں نے احساس پروگرام کی افادیت کے حوالےسے کچھ چیزیں بیان کی ہیں ، ان کا کہنا ہےکہ جوحقائق اس وقت احساس پروگرام کی افادیت کو ثابت کرنےکےلیے پیش کیے جارہے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ،ان کا کہنا تھا کہ فیس بک کے ایک صارف کی طرف سے جواس قسم کے حقائق پیش کیے گئے ان میں غلط بیانی کی گئی ہے

    احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ لوگوں کومستفید کریں گے، ثانیہ نشتر

    رانا عبداللہ حماد کہتے ہیں کہ جیسا کہ پہلے دعوی کیا گیا تھا کہ یہ حقائق پرمبنی رپورٹ ہے جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ مصنفین نے غربت کے خاتمے میں خان کی پالیسیوں کی تعریف کی، لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ جیسا کہ فیس بک صارف جواد ملک نے لکھا، "مطالعہ اسٹینفورڈ کا اپنا نہیں ہے،یہ کہ ایک غیرملکی مصنف، ڈیلیوری ایسوسی ایٹس، کی طرف سے حقائق پیش کیئے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود احساس پروگرام کے حوالے سے ایک متعلقہ عنصرہے

    وزیراعظم کے احساس پروگرام کو دنیا بھر میں سراہا گیا یے،بلال غفار

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بھی اپنی تازہ ترین تقریر میں اسٹینفورڈ کی تحقیق کا حوالہ دیا، جب کہ اسے فیس بک صارف کے دعوے کے مطابق شائع بھی نہیں کیا گیا۔

     

    رانا عبداللہ حماد کہتے ہیں کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دوسری جانب یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان کے احساس پروگرام کو بل گیٹس جیسے بہت سے لوگوں نے سراہا اور پاکستان میں غربت کے بڑے مسائل کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے اس پروگرام کی افادیت کو تسلیم کیا

    *وزیر اعظم کا احساس پروگرام بنا امید سحر*

    یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں ملک سے غربت کے خاتمے اور غریب کو معاشی طور پر سہارا دینے کیلئے متعارف کروائے گئے "احساس پروگرام” کے حوالے سے دنیا مثالیں دینا شروع ہوگئی ہے۔

    امریکہ کی عالمی شہریت یافتہ یونیورسٹی "سٹینفورڈ”نے ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں دنیا کواحساس پروگرام کی مثال دے کر کہا گیا ہے کہ دنیا اس پروگرام سے غربت کے خاتمے کا طریقہ کار سیکھ سکتی ہے۔

    مقالہ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کے کمزور ترین طبقے کو اوپر لانے کیلئے احساس پروگرام دنیا کا ایک بہترین پروگرام بن کر سامنے آیا ہے۔

    سٹینفورڈ یونیورسٹی نے حکومت پاکستان کی جانب سے 2018 کے بعد کورونا بحران کےدنوں میں متعارف کروائے گئے احساس پروگرام کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ مقالہ شائع کیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ احساس پروگرام کے تحت غربت کے خاتمے کے ایک جامع اور مربوط ہدف میں معاشی طور پر کمزور پاکستانیوں کو مدد کا نظام متعارف کروایا گیا، جس میں غیر مشروط نقد رقم کی منتقلی، ٹارگٹڈ سبسڈی، اور صحت اور غذائیت کی کوریج میں اضافہ شامل ہے۔

    سٹینفورڈ یونیورسٹی کے مقالے میں کہا گیا ہے ہم دنیا بھر کے ممالک میں متعارف کروائی گئی پالیسیوں اور پرواگرامز کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں سے بہترین اصلاحات کو عالمی پالیسی سازوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، ہم جن اصلاحات کو چنتے ہیں ان میں خاص طور پر اچھی قیادت، مضبوط اداروں کی تعمیر، ٹیکنالوجی کے موثراستعمال، انسداد غربت کیلئے مربوط نظام جیسے پروگرامز شامل ہیں۔

    مقالے میں کہا گیا ہے کہ احساس پروگرام پر تجزیے کے دوران ثابت ہوا ہے کہ اس پروگرام کی کامیابی نے شفافیت، شفافیت ،استفادہ کنندگان اور پروگرام کے منتظمین کے درمیان اعتماد پیدا کرنے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے 2018میں ملک کے کمزور ترین طبقے کو معاشی طورپر مستحکم کرنے کیلئے "احساس پروگرام” متعارف کروایا تھا جس کے ذریعے ایک منظم نظام کے ذریعے لوگوں کی نقد رقم، تین وقت کے کھانے، رہائش کیلئے پناہ گاہوں اورٹارگٹڈ سبسڈی جیسے اقدامات سے مدد کی گئی۔

  • عمران خان پانی کی بوتل ضائع نہیں ہونے دیتا،  وہ کرپش کیسے کریگا۔ ارشد شریف

    عمران خان پانی کی بوتل ضائع نہیں ہونے دیتا، وہ کرپش کیسے کریگا۔ ارشد شریف

    اسلام آباد میں منعقدہ تحریک انصاف کی ایک تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے اینکرپرسن ارشد شریف نے کہا کہ: عمران خان کے خلاف بڑی کوشش کی گئی کہ کرپشن کیسز نکالے جائیں مگر ابھی تک موجودہ حکومت کو کرپشن کاکوئی ثبوت نہیں ملا ۔

    اینکرپرسن نے دعوی کیاکہ: ایک دن مجھے کسی نے کہا کہ آپ تو کرپشن پر بڑی اسٹوریز کرتے ہیں مگر عمران خان کی کرپشن پر کیوں خاموش ہیں تو میں نے انہیں جواب دیا کہ: ہمارے بھی وزیراعظم کے دفتر میں ذرائع ہوتے ہیں اور مجھے پتہ ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان وہ شخص ہے جو پانی کی آدھی بوتل بھی ضائع نہیں ہونے دیتا وہ کرپشن کیسے کرسکتا ہے۔

    ارشد کہتے ہیں کہ : ایک دن مجھے معلوم ہواکے عمران خان نے پانی کی بوتل پی اور آدھی بچ گئی جب انہیں یاد آیا کہ آدھی پانی کی بوتل بچ گئی تھی اور وہ بوتل کسی نے اٹھا لی تھی تو سابق وزیراعظم کو یہ بات بھی بری لگی کہ اگر پانی کی آدھی بوتل بچ گئی تھی تو اسے ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

    ارشد شریف نے مزید کہا: ہم (یعنی تحریک انصاف کے حامی) صحافیوں سمیت اب تو سابقہ پوری کابینہ پر ایف آئی آر درج ہوگئی ہیں۔

    انس نامی شخص نے ارشد شریف کو یاد دلایا کہ: عمران خان ایک ایسا شخص ہے جس نے کہا تھا کہ ان کی کابینہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی طرح بڑی ہوگی مگر انہوں نے اقتدار کے بعد ان سے بھی بڑی کابینہ بنائی جس میں تینتیس وفاقی وزیر، پانچ مشیر اور بیس خصوصی مشیر رکھے۔ جو آج تک کی سب سے بڑی کابینہ تھی۔
    https://twitter.com/NotAnosss/status/1539656076177854464

    سیاسی کارکن افنان احمد نے اینکرپرسن ارشد شریف کو مبارکباد دیتے کہا کہ: آپ کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں. آپ کو انکے سیمینار میں پہلی قطار میں کرسی ملنی چاہئے تھی.

    صارف عالم گیر کے خیال میں ارشد شریف کو یہ بتانا چاہئے تھا کہ: انکے اندر تعصب کیسے پیدا ہوا اور اپنے پروگرام میں ایک جماعت کے سیاسی بیانیہ کو انہوں نے کیسے پھیلانا شروع کیا.
    https://twitter.com/AamirSiming/status/1539657879535628288

  • عمران خان کا امریکی سازش والا بیانیہ کہاں گیا؟ وزیر داخلہ

    عمران خان کا امریکی سازش والا بیانیہ کہاں گیا؟ وزیر داخلہ

    قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ: یوٹرن ماہر سابق وزیر اعظم عمران خان سے پوچھا جائے کہ آپ کا امریکی سازش والا نعرہ کہاں گیا ہےِ؟ اور عمران خان آئے روز شوشے چھوڑ رہے ہیں.

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ: جن ووٹوں سے عمران خان آئے انہی ووٹوں سے شہباز شریف بھی وزیراعظم بنے ہیں۔ راجہ ریاض اور نور عالم پچھلے دو سال سے عمران خان پر تنقید کر رہے تھے-
    انکا مزید کہنا تھا کہ: نیب ترامیم پر بیانیہ بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں. نیب ایکٹ کا پہلے جائزہ لے لیں تو معلوم ہوگا کہ 80 فیصد ترامیم تحریک انصاف کی حکومت خود آرڈیننس میں لیکر آئی تھی.

    انکے مطابق: نیب 90 دن کا ریمانڈ لیتا تھا، نیب بتائے کونسے سیاست دانوں سے کتنے پیسے وصول کیے؟ نیب نے جو پیسے ریکور کیے ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے کیے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ: عدالت نے کئی فیصلوں میں نیب کو کالا قانون کہا اور نیب میں 90 دن ریمانڈ کے باوجود چالان پیش نہیں کیا جاتا تھا۔ لہذا ہم تو اب بھگت چکے ہیں اور نیب قانون کو ہم نے اپنے لیے ٹھیک نہیں کیا بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل اور عدالت کی بھی تجاویز تھیں۔

    وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا: نیب قوانین پر کاروباری طبقے اور بیوروکریٹس کو بھی اعتراضات تھے، ضمانت کا اختیارعدالت کو دیا گیا ہے، نیب ایک آزاد ادارہ ہے، آنے والے ایک دو روز میں چیئرمین نیب کا فیصلہ ہوجائے گا، نیا چیئرمین نیب، ادارے کے اندر خرابیوں کو بھی دور کرے گا۔ 

    انہوں نے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس بارے بتایا کہ: اجلاس میں عسکری اور سیاسی قیادت موجود تھی۔جس میں اہم قومی معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، اور ارکان پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کے لئے ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے گا، اوروزیراعظم شہباز شریف بھی مذاکرات پر ایوان کو اعتماد میں لیں گے۔

  • بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے ڈیل ہو گئی ہے یہ بڑی اچھی بات ہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب ہونے کا مطلب آئی ایم ایف کے ساتھ چین، سعودی عرب، یو اے ای کی جو ایڈ تھی وہ اس کے ساتھ مشروط تھی، اب آئی ایم ایف کے بعد ان ممالک سے بھی ایڈ آئے گی، چین، سعودی عرب، یو اے ای سے، اب قطر سے بھی گیس پر بات کر رہےہیں، یہ بہت اچھی خبر ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ زندگی میں کوئی بھی ملک سبسڈیز نہیں دیتا، یہاں پر یہ دیکھ لیں کہ پٹرول اتنا مہنگا ہو گیا، لیکن سڑکوں پر رش کم نہیں ہوا، اسی طرح گاڑیاں چل رہی ہیں، سب کچھ ہو رہا ہے، میں حکومت کو کہتا ہوں کہ سبسڈیز دے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ والوں کو دے، گاڑیوں والوں کو سبسڈیز نہیں ملنی چاہئے، انکو ڈبل چارج کر کے اپنا ریونیو جمع کر سکتے ہیں اور نیچے کے لوگوں کو مزید بھی سبسڈی دے سکتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ٹرانسپورٹ سسٹم ہے ہی نہیں، شہباز شریف جب لندن میں آخری تھے تو وہاں ٹیکسی پر سفر کی ویڈیو سامنے آئی تھی، مین بھی جب لندن ہوتا ہوں تو وہاں دیکھتے ہیں لمبا سفر ہو تو کیوب پر چلے جائیں، صاف ستھرا سفر، سب اس میں سفر کرتے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کو اچھا کرنا ہو گا، حکومت پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ بنائے اور اس پر کام کرے،اگر حکومت خود سے شروع کرنے کا سوچے گی تو نہیں ہو سکتا میں بہت لوگوں کو جانتا ہوں جو اپنی گاڑی کی بجائے اوبر کریم پر سفر کرتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی مصنوعات عمران خان پہن رہے ہیں، اسکا بائیکاٹ کریں، امریکہ مردہ باد کا نعرہ کیوں نہیں لگاتے، لگائیں ،تھوڑے دن میں اس پر یوٹرن نظر آئے گا، کیونکہ عمران خان نے کوئی ایسی بات آج تک نہیں کی جس کی تردید خود سے نہ کی ہو.صدر عارف علوی نے جو قوانین واپس کئے وہ ترامیم 2019 میں تحریک انصاف خود لے کر آئی تھی، ن لیگ نے تو کچھ کیا ہی نہیں، انکے پاس مخالفت برائے مخالفت ہے، لوگوں کو بھڑکا کر رکھنا ہے، 2019 کی نیب ترامیم اٹھا لیں جو پارلیمنٹ میں پیش ہوئیں، وہ خود تحریک انصاف نے پیش کیں

  • امریکہ چاہتا ہے کہ ہم بھارت کو مقامی تھانیدار تسلیم کرلیں. عمران خان

    امریکہ چاہتا ہے کہ ہم بھارت کو مقامی تھانیدار تسلیم کرلیں. عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں رجیم چینج سیمنارسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: امریکہ چاہتا ہے کہ ہم بھارت کو مقامی تھانیدار کے طور پر قبول کریں۔

    انہوں نے سیمنار سے خطاب میں سوال اٹھایا کہ: کیا ہمیں امریکہ کو اڈے دینے چاہئے؟ مزید کہا ریمنڈ ڈیوس نے دن دہاڑے پاکستانیوں کو قتل کیا اور وہ اسے نکال کر لے گئے۔

    عمران خان کے مطابق: میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ شہباز شریف وزیراعظم بن جائے گا. کیونکہ یہ دونوں (شہباز شریف اور حمزہ شہباز) باپ بیٹے تو مجرم ہیں.

    سابق وزیراعظم کا تقریب میں کہنا تھا کہ: ڈرون حملوں سے  ہمارے پاکستانی باشندے مارے جا رہے تھے لیکن پھر بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو نہیں سراہا گیا۔

    عمران خان نے دعوی کیا: ایبسولیٹلی ناٹ اپنے ملک کے مفاد میں کہا اور ہاں میں امریکا کا مخالف نہیں ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ امریکا ہمیں ٹشوپیپر کی طرح استعمال نہ کرے۔

    سابق وزیراعظم کہتے ہیں کہ: امریکا کا ایجنڈہ سیدھا، سادہ ہے اور وہ یہ ہم اسرائیل اور بھارت کو تسلیم کرلیں اور کشمیر کو بھول جائیں اسی لئے امریکا چاہتا ہے کہ بھارت کو سلام  کرو۔

    عمران نے یاد دلایا کہ:  پچھلے تیس سالوں سے کشمیری قربانیاں دے رہے ہیں لیکن جب سابق وزیراعظم نواز شریف بھارت گیا تو بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے خوف سے حریت رہنماؤں سے ملاقات تک نہیں کی تھی۔

    پھر کہا کہ: صحافی نجم سیٹھی اور سابق سفیر حسین حقانی جیسے لوگ چاہتے ہیں ہم امریکا کی غلامی کریں۔ کیا امریکا کی غلامی سے ملک ترقی کر جائے گا؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیس ارب ڈالر امداد دی گئی اور پاکستان کو کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا لہذا  پاکستان کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان ہوتا رہا۔

    تحریک انصاف کے چیئرمین نے الیکشن کمیشن پر الزام لگایا کہ: وزیر اعلی پنجانب حمزہ شہباز کو بٹھانے کے لیے الیکشن کمیشن انجینئرنگ کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی کریڈبیلٹی ختم ہو چکی ہے۔ اور ہمیں پتا ہے کے الیکشن کمشنر شہزادہ، شہزادی کے سامنے جا کر بیٹھتے ہیں۔

    مزید کہا: پاکستان کی جمہوریت کو اس سے نقصان ہو رہا ہے، الیکشن کمیشن بیس حلقے حمزہ شہباز کو جتوانے کی کوشش کر رہا ہے اور ایسا کرنا پاکستان کے جمہوری نظام اور عدالتی سسٹم کی تباہی ہوگی۔

  • فواد چودھری کبھی سچ بھی بول لیا کرو۔ حسین حقانی

    فواد چودھری کبھی سچ بھی بول لیا کرو۔ حسین حقانی

    سابق وزیر اطلاعات فواد حسین چودھری نے ایک پیغام میں الزامات عائد کرتے ہوئے دعوی کیا کہ:‏ ” سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے پاکستان کے معاشی بحران کا حل دیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان میں فوجی اڈے دینے چاہئیں۔
    سابق وزیر اطلاعات نے مزید دعوی کیا کہ: حسین حقانی کا مشورہ ہے کہ پاکستان ایٹمی اثاثوں سے دستبردار ہو جائے اور ہندوستان اور اسرائیل کے ساتھ برابری کے بجائے ماتحت ریاست کے طور پر تعلقات قائم کرے۔

    فواد چودھری کے مطابق: سابق وزیر اعظم ‏عمران خان اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ حکومت کی تبدیلی کا مقصد پاکستان کے معاشی حالات کو اس قدر خراب کرنا ہے کہ پاکستان کو مستقل طور پر غلام بنایا جاسکے۔

    چودھری نے دعوی کیا کہ: سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ترجمانوں کے مشورے اسی سلسلے کی کڑی ہیں، لہذا ہم اس مہم کو مسترد کرتے ہیں اور ہر صورت پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کی حفاظت کرینگے۔

    سابق سفیر حسین حقانی نے فواد چودھری کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چوہدری کو کہا کہ "کبھی سچ بھی بول لیا کرو۔ اگر آپ دعوی کرتے ہو تو اس کا کچھ ثبوت بھی تو آپ کو دینا چاہئے مثال کے طور پرتمہارے پاس کوئی تحریر، کوئی کہی ہوئی بات یا کوئی خفیہ ٹیپ وغیرہ ہوگی لہذا وہی سنا یا پھردکھا دیں جس میں ہم نے وہ کچھ کہا ہو جس کا ہم سے منسوب کرتے ہوئے جھوٹا دعوی کیا جارہاہے۔


    ایک صارف شکیل احمد کہتے ہیں کہ: کسی کے بارے میں سچ جھوٹ کا محاسبہ کون کرے گا؟ یہاں تو الزامات ایسے لگائے جاتے ہیں جیسے سزا و جزا ہے ہی نہیں۔ ایسا نظام کب لاگو ہوگا جس میں الزامات لگانے والے کو الزامات ثابت نہ کرنے والے پر سزا ہوسکے؟

    صحافی رضی دادا نے حسین حقانی کے ردعمل پر کہا کہ: حد ہے ویسے! آپ فواد چوہدری کو سنجیدہ لیتے ہیں؟ آپ کو چاہئے انہیں اگلی نوکری ڈھونڈنے میں مدد فرمادیں، بےچارے کی بہت بری حالت ہے۔

  • عمران خان اپنے دور میں کرپشن کر کے اب لیکچر دے رہے ہیں، احسن اقبال

    عمران خان اپنے دور میں کرپشن کر کے اب لیکچر دے رہے ہیں، احسن اقبال

    عمران خان اپنے دور میں کرپشن کر کے اب لیکچر دے رہے ہیں، احسن اقبال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے نیب قوانین میں ترامیم کیے

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران نیازی نیب ترامیم کے حق میں وزنی دلائل دے چکے ہیں، عدالتیں اپنے فیصلوں میں نیب ترامیم کے حوالے سے ہدایات دے چکی ہیں، عمران خان کی تنقید کس بات پرہے؟عمران خان لیکچردے رہے ہیں جن کے دور میں کرپشن ہوئی ،عمران خان 2011 سے جو راگ الاپ رہے ہیں وہ بے نقاب ہو گیا،میں نے بیسیوں بار عمران نیازی اور شہزاد اکبر کو چیلنج کیا تھا،ہم نے کہا کہ ہمارے منصوبوں میں کرپشن ثابت کرو ہم قومی مجرم ہوں گے، 4 سال تک عمران خان سیاہ سفید کا بادشاہ تھا،نیب اور چیئرمین نیب عمرا ن خان کے اشاروں پر ناچتے تھے،ایک ثبوت ثابت نہیں کر سکا کہ کس نے خورد برد یا کک بیکس کیں،

    گرفتاری کا خوف، پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عدالت پہنچ گئے

    مریم نواز کی جعلی ویڈیو پوسٹ کرنیوالا پی ٹی آئی کارکن گرفتار

    سوشل میڈیا پر غیراخلاقی ویڈیوز چلانے والوں کیخلاف کریک ڈاون کا فیصلہ کیا گیا ہے

    احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے ٹرینڈ بنا بنا کر حکومت چلائی گئی، بہتان تراشی کی سیاست کی گئی ،نواز شریف کا دوربین اور خوردبین سے احتساب کیا گیا، مجھ پر بے بنیاد جھوٹے الزام لگائے گئے پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات خراب کیے گئے ،

    سابق وزیراعظم ن لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب کو ختم کرنے کے موقف پر قائم ہوں نیب کو ختم کرنے کی ضرورت پہلے بھی تھی آج بھی ہے،عمران خان نے 4 سال نیب کو استعمال کیا،ہم نے 5 سال حکومت کی ،عمران خان نے نیب کو قبضے میں رکھا، ملکی وزیر اعظم کو 18 ماہ جیل میں رکھا کوئی کیس نہ بنا سکے، ہمارے خلاف ایف آئی اے سے مل کر جعلی کیس بنایا گیا،حکومت کے گواہ نے کہا شاہد عباسی کا کیس سے کوئی تعلق نہیں،آخری گواہ نے کہا میرا بیان ریکارڈ میں لگاہے جو میں نے نہیں دی،میں کہتا رہاہوں کہ کیمرے لگا کر کارروائی کریں،آج بھی کہتا ہوں سب سے کرپٹ ترین ادارہ ملک کا نیب ہے،کمیشن بنائیں ، لوگ پیش ہوکر بتائیں کہ نیب نے آج تک کیا کیا ،

    قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت پیمرا قوانین میں ترمیم لا رہی ہے، پیمرا ترمیم میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے،ہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشاورت سے ترامیم لا رہے ہیں،جو بھی ترمیم ہوگی تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے،سابق دور میں تنخواہیں ادا نہ کرنے والے میڈیا ہاوسز کے اشتہارات بند نہیں کیے گئے،ورکرز کی تنخواہوں اور کنٹریکٹ کے حوالے سے قانون لایا جا رہا ہے مسلم لیگ (ن) ہمیشہ آزاد میڈیا پر یقین رکھتی ہے، پچھلے چار سال صحافیوں، میڈیا ورکرز اور میڈیا ہائوسز کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سیاہ دور تھا.

  • مخصوص صحافیوں کو پریس کانفرنس میں بلانے پر بیٹ رپورٹرز کا عمران خان کو احتجاجی خط

    مخصوص صحافیوں کو پریس کانفرنس میں بلانے پر بیٹ رپورٹرز کا عمران خان کو احتجاجی خط

    اسلام آباد:مخصوص صحافیوں کو پریس کانفرنس میں بلانے پر بیٹ رپورٹرز کا عمران خان کو احتجاجی خط ،اطلاعات کے مطابق جیو کے نیوزرپورٹر وقار ستی نے سابق وزیراعظم سے شکوہ کرتے ہوئے خط لکھاہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی پریس کانفرنس میں صرف پسندیدہ اور چاپلوس صحافیوں کوبلاتے ہیں

    وقار ستی کہتےہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ، اپنے پسندیدہ صحافیوں کو کیوں ہی بلایا جاتا ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرٹ پر سوالات کرنےوالوں کونظر انداز کرنےکےخلاف پاکستان کے 15سے زائد TVچینلزکے پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز نے پی ٹی آئی کی کوریج کےبائیکاٹ کااعلان کردیااوراس بارےعمران خان کوخط بھی لکھ دیاہے۔

     

    ادھراس سے پہلے وقار ستی نے وزیرخارجہ بلاول بھٹو کے خطاب کے حوالے سے اپنے جزبات کا اظہار کیا اورکہا کہ بلاول بھٹو کاانتہائی پر اعتماد خطاب واضع پیغام ہے کہ حکومت عوام کو مسائل سے نکالنے کے لیےپرامید ہےاور مصمم ارادہ رکھتی ہےکہ مہنگائی کے جن کو جلد از جلد بوتل میں بند کیا جائے ۔دوسرے لفظوں میں یہ کہ خان صاحب جلدانتخابات کو اب بھول جائیں۔

    وقار ستی نے بلاول کی تقریرپرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے خطاب سے ایسا کیوں محسوس ہو رہا کہ عمران خان کی گرفتاری عمل میں لائے جانے والی ہے ؟

    کیا ایسا ہو سکتا ہے ؟ وقار ستی مزید کہتے خطاب میں بلاول بھٹو کا زور تو نشہ خانہ کے حوالے سے تھا اس کے بعد ان کا اشارہ گوگی ، پنکی اور پنجاب کے معاملات بھی تھے۔