کراچی:عمران خان سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے ماہر ہیں ، فریال تالپور کو اڈیالہ جیل بھیجنے والے یاد رکھیں علیمہ خان پر بھی الزامات ہیں ،وزیربلدیات سندھ ناصر شاہ وزیراعظم عمران خان پر برس پڑے
کمشنر آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فریال تالپور کو رات کے اندھیرے میں اڈیالہ جیل بھیجنا ثابت کرتاہے وزیراعظم مخالفین کو نشانہ بنارہے ہیں۔ وہ یاد رکھیں انکی بہن علیمہ خان پر بھی الزامات ہیں انکو بھی مچھ جیل بھیجا جاسکتاہے۔
اس موقع پر صوبائی وزیر ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ حالیہ بارشوں نے ماضی کے ریکارڈ توڑے ہیں۔ مئیر کراچی ضلعی چیئر مین سمیت تمام اداروں نے کام کیا ڈی ایچ اے اور کنٹونمنٹ بورڈز سے شکایت ہیں مگر انکی بھی معاونت کرنے کو تیار ہیں۔
اسلام آباد:اے اہل کشمیرتمہیں تکلیف اور غم میں نہیں دیکھ سکتے ، پاکستانی کشمیری ہیں اور کشمیری پاکستانی ہیں.میں کشمیریوں کی آزادی کے لیے آخر حد تک جاوں گا ،کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم عمران خان نے یوم آزادی کا دن آزاد جموں کشمیر میں گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان قانون ساز اسمبلی آزاد جموں کشمیر کے اجلاس میں خطاب بھی کریں گے،
وزیر اعظم ہاوس کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم 14 اگست کا دن مظفر آبادمیں گزاریں گے، وزیر اعظم 14 اگست کی صبح بذریعہ ہیلی کاپٹر مظفر آباد پہنچیں گے جب کہ وفاقی وزراء بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہوں گے۔وزیر اعظم اسمبلی سیکرٹریٹ آزاد جموں کشمیر آئیں گے جہاں انہیں گارڈ آف آنر دیا جائے گا، وزیر اعظم اسپیکر چیمبر میں آل پارٹیز حریت کانفرنس اور کشمیری رہنماوں سے ملاقات کریں گے جس کے بعد وزیر اعظم قانون ساز اسمبلی آزاد جموں کشمیر میں جائیں گےجہاں وزیراعظم کی آمد پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے ترانے بجائیں جائیں گے ۔
ذرائع کے مطابق یوم پاکستان کے دن وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر اپوزیشن لیڈر اور اسپیکر اسمبلی بھی اجلاس میں خطاب کریں گے جس کے بعد وزیر اعظم خطاب کے بعد اسلام آباد روانہ ہو جائیں گے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے یوم آزادی کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے منانے کا فیصلہ کیا تھا۔
سفارتکاری کسی بھی ملک و قوم کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے بالخصوص دور جدید میں تو اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب آپ کی معاشی، سیاسی، سماجی، ٹیکنالوجی اور عسکری ترقی کا دارو مدار ہی آپ کے بین الاقوامی دوستوں اور تعلقات پر ہو، مستزاد یہ کہ آپ کے حریف ممالک اور اقوام جب آپ کے خلاف کاؤنٹر سفارتکاری شروع کردیں تو معاملہ اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے پھر آپ "Do or Die” کی پوزیشن میں آجاتے ہیں. بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتا رہا ہے کہ ہماری سفارکاری انتہائی کمزور رہی ہے، ہماری خارجہ پالیسی مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ عارضی اور ہنگامی بنیادوں پر ترتیب پاتی رہی ہے.
یہاں تک کہ پچھلے دور حکومت کے چار پانچ سالوں میں تو ملک کا وزیرخارجہ ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو خارجہ سطح پر شدید ترین نقصان سے دوچار ہونا پڑا دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی نے دنیا بھر کے سفارتی دورے کیے اور دوسرے ممالک کے سربراہان کو اپنے ملک میں دعوت دے دے کر بلاتا رہا جس کا نقصان ہمیں یہ اٹھانا پڑا کہ پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ پیدا ہوگیا کہ یہ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ایک ناکام ریاست ہے جس کے ایٹمی اثاثے تک بھی محفوظ نہیں ہیں. اسی طرح پاکستان کا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے جکڑا جانا بھی اسی ناکام ترین سفارت کاری اور کمزور خارجہ پالیسی کا ہی نتیجہ تھیں.
سابقہ حکومت کی اس بے توجہی کی اک بڑی مثال اس وقت سامنے آئی جب کشمیر ایشو پر لابنگ کرنے کے لیے کچھ پارلیمینٹرینز کو دنیا بھر میں بھیجا گیا تو ان میں سے اکثریت وہ تھی جو کشمیر اور کشمیر کے بارے میں وہ بنیادی معلومات سے بھی نابلد تھے جو بچے بچے کو پتا ہوتی ہیں یہی وجہ تھی ہمارے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ہمارے قریب ترین ممالک بھی ہمارے ایشوز مثلاً کشمیر وغیرہ پر ہمارا ساتھ دینا چھوڑ گئے.حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ یہ واضح طور پر سمجھا جانے لگا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ اور بین الاقوامی سطح پر "تنہا” کردیا گیا ہے.
لیکن صد شکر کہ جب موجودہ حکومت قائم ہوئی تو کچھ امید بندھتی نظر آئی کہ اب حالات بدلیں گے اور واقعی بین الاقوامی سطح پر حالات بدلے. بہت سارے لوگ اس کو عمران خان کی خوشقسمتی قرار دیتے ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ خوشقسمتی کے ساتھ ساتھ عمران خان کی محنت اور اس کی سنجیدگی کا بہت بڑا کردار ہے. جب عمران خان کی حکومت بنی ملک کی ابتر معاشی اور سیاسی صورتحال دیکھ کر تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے تعلقات سعودیہ، چائنہ اور ترکی وغیرہ سے ناہموار ہوجائیں گے لیکن عمران خان نے اپنی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد سعودیہ کا دورہ کیا اور یہ سلسلہ صرف ایک دورے پر موقوف نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے تین دورے کیے جن میں شاہ سلمان، محمد بن سلمان، سیکرٹری جنرل OIC وغیرہ سے ملاقاتیں کیں، پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لیے سعودیہ سے معاشی مدد، تین سال تک تین ارب ڈالر کا ادھار تیل حاصل کیا. علاوہ ازیں محمد بن سلمان کے پاکستان کے غیر معمولی دورے پر محمد بن سلمان کا خود کو سعودیہ میں پاکستان کا سفیر کہنا اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کرنا عمران خان کی واضح ترین کامیابی تھی.
اسی طرح سی پیک پر کام رک جانے کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے چین سے تعلقات خراب ہوجائیں گے جس کا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا لیکن عمران خان نے چین کے دو دورے کیے اگرچہ پہلا دورہ کوئی واضح کامیاب تو نظر نہ آیا اور پاکستان میں سے ایک طبقے نے اس پر شدید تنقید بھی مگر یہ دورہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ثابت ہوا کہ تحفظات دور کیے گئے اور دوسرے دورے میں جب عمران خان چینی صدر کی دعوت پر سیکنڈ بیلٹ روڈ فورم میں شرکت کے لیے گئے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ بین الاقوامی نمائش کا دورہ کیا. اس موقع پر عمران خان نے عالمی رہنماؤں سمیت ورلڈ بینک کے سی ای او، آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں. اسی موقع پر چین کے ساتھ ایل این جی، آزاد تجارت سمیت چودہ معاہدوں پر دستخط ہوئے.
متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ بھی پاکستان کے لیے علاقائی اور معاشی معاملات میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں عمران خان نے متعدد بار ان ممالک کے بھی مختصر اور باقاعدہ دورے کیے، ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا. جس کی وجہ سے ان ممالک کے ساتھ مختلف معاہدے ہوئے جن میں ایل این جی، توانائی، پاکستانی شہریوں کو روزگار، دو طرفہ تعلقات، تجارت وغیرہ کے قابل ذکر معاہدے شامل ہیں.
جہاں پاکستان کے ان خلیج کے ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا ملا وہیں عمران خان نے ایران، ترکی اور ملائیشیا کے نہایت اہم دورے بھی کیے جن میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، پاک ایران بارڈر مینجمنٹ، بجلی و توانائی کے منصوبے، کشمیر و فلسطین پر پاکستان کے موقف کی حمایت، NSG نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جن کا پاکستان کو خاطر خواہ فائدہ ہوا. ملائشیا کے سربراہ مہاتیر محمد پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لائے اور یوم پاکستان کی تقریبات میں بھی شرکت کی.
عمران خان کا حالیہ دور امریکہ جس پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں کیونکہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر نہیں آسکے تھے اور امریکہ کا پلڑا بھاری تھا اور سمجھا یہی جا رہا تھا کہ عمران خان کا یہ دورہ بھی بھی معمول کی ڈکٹیشن ثابت ہوگا جو پاکستان کے مفاد میں زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوگا لیکن عمران خان کی سنجیدگی ، اس کی شخصیت کا اثر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عمران خان اور پاکستانیوں کی تعریف کرتے رہے. واشنگٹن میں عمران خان کا تاریخی جلسہ بھی غیر معمولی ثابت ہوا جس پر دنیا بھر تجزیہ نگار اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں. علاوہ ازیں پاک امریکہ تعلقات میں اہم بریک تھرو اس وقت دیکھنے کو ملا جب ٹرمپ نے کشمیر ایشو پر پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کردی جس کو لے کر انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی اور انڈین میڈیا یہ کہنا شروع ہوگیا کہ ٹرمپ نے انڈیا پر کشمیر بم پھینک دیا ہے. سابقہ حکمرانوں کے برعکس عمران خان امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے نہایت براعتماد اور سنجیدہ نظر آئے جس کی وجہ سے پاکستان اس دورے سے اپنے مقاصد پورے کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا.
عمران خان نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ علاقائی سطح پر بھی بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا مشہور سکھ رہنما نوجود سنگھ سدھو کی پاکستان آمد، کرتار پور کوریڈور ، مودی کو خط اور کشمیر ایشو پر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی وجہ سے ایک بہت بڑا خلا جو پیدا ہوچکا تھا وہ عمران خان کی ایک سال کی سفارتکاری کی وجہ سے پر ہوتا نظر آرہا ہے اور امید بندھ رہی ہے کہ پاکستان ان شاءاللہ جلد عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرلے گا. Muhammad Abdullah
قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کے سربراہان کی طرف سے امریکہ کے درجنوں دورے کیے جاچکے ہیں. جن سے امریکہ پاکستان تعلقات میں اتارچڑھاؤ کی صورت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے.
کبھی پاکستانی وزیر اعظم کو واشنگٹن لانے کے لیے ذاتی طیارے بھیجے جاتے. کبھی افغانستان میں Do More کی پالیسی پر زور دیا جاتا، کبھی ایڈ نہ دینے کی دھمکی دی جاتی. اور آج یہ حالت کہ عمران خان کا واشنگٹن میں تاریخی اور غیر معمولی جلسے کا انعقاد اور امریکی صدر کی عمران خان کی تعریف کرنا، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے سراہنا اور کشمیر کے ایشو پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرنا شامل ہیں.
مگر اصل بات یہ ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ کامیاب رہا یا پھر گزشتہ ادوار کی طرح قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گا. ویسے تو اس دورے کی کامیابی، ناکامی یا ردعمل کا آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا.
مگر میرے نزدیک پاکستان کے کسی بھی قومی یا عالمی رویئے یا واقعہ کے بارے میں اندازہ لگانے کے لئے بھارت اور بھارتی میڈیا کا اہم کردار رہا ہے. میں سمجھتا ہوں کہ دور امریکہ کی کامیابی کا اندازہ لگانے والا صحیح پیمانہ بھارتی میڈیا ہے کیونکہ بھارتی میڈیا بھارتی سرکار کی زبان طوطے کی طرح بولتا ہے
وزیر اعظم عمران خان کے وائٹ ہاؤس کے دورے اور صدر ٹرمپ سے ملاقات میں سب سے بڑی پیش رفت جو رہی ہے وہ مسئلہ کشمیر میں امریکہ کا ثالث کا کردار ہے. جو میرے نزدیک ایک اچھی پیش رفت ہو گی. قیام پاکستان سے لے کر اب تک ان 72 سالوں میں بھارت اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ جو رہا ہے وہ مسئلہ کشمیر ہے. جس پر بھارت نے ہمیشہ ڈبل پالیسی کا سہارا لیا ہے.
وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کی ملاقات میں بڑا انکشاف جو صدر ٹرمپ نے کیا وہ بھارت کی دوغلی پالیسی کا پردہ چاک کر دیا. بھارت نے ہمیشہ عالمی سطح پر یہ ہی واویلا مچایا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے کشمیر کے مسئلہ پر کسی ثالث یا تیسرے ملک کا کردار نہیں چاہتا جبکہ کل صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ اب سے چند روز قبل G20 کے سالانہ اجلاس میں مودی نے صدر ٹرمپ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے ہماری مصلحت اور کشمیر میں ثالث کا کردار ادا کریں.
مگر دوسری طرف آج بھارتی میڈیا ہے جو نہ صرف مسئلہ کشمیر پر امریکہ کا ثالث کے کردار پر رو رہے ہیں بلکہ اک عالمی طاقت امریکہ کے اس عمل کو جھوٹا اور غلط بول رہے ہیں.
جس پر نہ صرف بھارتی میڈیا بلکہ بھارتی پارلیمنٹ میں بھی واویلا مچا ہوا ہے.
جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کرانے کی پیشکش کی تو بھارتی ذرائع ابلاغ میں کہرام مچ گیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بھارتی ٹی وی چینل نے تو سرخی لگا دی کہ (امریکہ نے بھارت پر کشمیر بم گرادیا ہے۔) بھارتی سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے ڈالے جانے والے بے سر و پا شور شرابے سے مجبور ہوکر بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی بھی امریکی صدر سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست نہیں کی ہے۔انہوں نے گھسا پٹا روایتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تمام درپیش مسائل پر صرف دو طرفہ بات چیت ہوسکتی ہے.
مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ مودی جن کا شمار دنیا کے سوشل میڈیا کے فعال ترین صارفین میں ہوتا ہے وہ اب تک اپنے یا امریکی صدر کے بیان پر چپ کا سہارا لیے بیٹھے ہیں. جس سے بہت زیادہ نئے سوالات جنم لے رہے ہیں.دلچسپ امر ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی رواں سال ستمبر میں امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں۔
دوسری جانب کشمیر میں پاکستان کے امریکہ میں ایسے عمل کو ایک مثبت قدم جانا گیا ہے. بزرگ کشمیری رہنما اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اپنی زندگی میں پہلا لیڈر دیکھ رہا ہوں جس نے ہم نہتے کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی ہے۔سید علی گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکہ کو کشمیر کی آزادی کے لیے کردار ادا کرنا پڑے گا اور ہم امریکہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستانی میڈیا کی ہرزہ سرائی کے سوال و جواب اور مودی کی خاموشی کیا رنگ لاتی ہے. اور ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب کی کوشش کیا اثر دکھاتی ہیں.
میری تو دعا ہے کہ کشمیریوں کے لئے یہ دورہ امریکہ اور پاکستانی کوشش رنگ لائیں. اور کشمیریوں کے لیے ایک روشن اور آزاد صبح کی نوید ثابت ہو.
باجوہ صاحب کے ساتھ ہوتے ہوئے کوئی بھی بیان بازی خان صاحب کی ذاتی نہیں ہوسکتی بلکہ جو بھی اسٹیٹمنٹس دی جائیں گی وہ اسٹیبلیشمنٹ اور حکومت کا متفقہ بیانیہ ہوگا.
اور مان لیجیئے کہ ریاست پاکستان کا فی زمانہ بیانیہ یہی ہے. ماضی قریب میں وقوع پذیر والے واقعات کو ہی بطور مثال لے لیں، مذہبی و جہادی سوچ کی حامل جماعتوں پر پابندی اور انکی قیادت کی گرفتاری، کشمیر میں موجود جہادی گروہوں کے بارے میں بھارت کو انٹیلیجنس معلومات دینا، سلامتی کونسل میں بھارت کو ووٹ دینا، کشمیر کے ایشو پر وقتی چپ سادھ لینا، افغانستان ایشو پر دو ٹوک موقف رکھنا، افغان پناہ گزینوں کی واپسی، مغربی سرحد پر باڑھ کا لگنا ، پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنا، کرپشن چارجز پر جیلیں بھرنا اور اب امریکہ کے دورے میں ٹرمپ کی ہاں میں ہر طرح سے ہاں ملانا اور اسامہ بن لادن تک سی آئی اے کی رسائی میں آئی ایس آئی کے کردار کا اعتراف کرنا یہ سب ماضی قریب ہی کہ واقعات ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ ریاست پاکستان اپنا چہرہ واقعی ہی میں تبدیل کرنے جا رہی ہے. جنرل مشرف کے نئے پاکستان کی طرز پر یہ بھی اک بالکل نیا پاکستان بننے جا رہا ہے. جنرل مشرف نے جو حکمت عملی اپنائی تھی فی زمانہ اسی کی وسیع و عریض شکل کو رائج کیا جا رہا ہے. اس لیے آپ حالیہ بیانات کو چولیں کہیں یا کچھ اور، ان کا دفاع کریں یا کہ تنقید، پاکستان کی حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ ایک پیج پر ہیں تو یہ سب کچھ وقوع پذیر ہونا ہے. آپ مزید کی بھی توقع رکھ سکتے ہیں.
واشنگٹن: وزیر اعطم عمران خان نے امریکہ جاتے ہی معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات شروع کردئیے ،سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان سے واشنگٹن میں مقیم پاکستانی کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی ہے، وفد کی سربراہی کاروباری شخصیت طاہر جاوید نے کی۔عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان دنیا کا معاشی مرکز بننے جارہا ہے
واشنگٹن سے ذرائع کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ملاقات میں پاکستانی کاروباری شخصیات کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال کے لئے اورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ کھلے دل سے فنڈز بھیجے اور ہمیشہ اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان کی ترقی کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا ہے۔
اسلام آباد:حکومت پاکستان کا فرانس کیساتھ بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے 50.2 میلن یورو کا معاہدہ طے پا گیا ، اس منصوبے کے تحت درگئی اور چترال کے ہائڈرو پاور پلانٹس کی بحالی اور ان کی قوت پیداوار کو بڑھانے کیلئے کام کیا جائے گا ،
تفصیلات کے مطابق سیکرٹری اکنامک افیئرز ڈویژن نور احمد سے فرانس کے سفیر مارک بیرٹی نے ملاقات کی اور چترال اور مالا کنڈ کے ہائڈرو پاورپروجیکٹس کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے منصوبے پردستحط کیے گئے،
یادرہے کہ درگئی اور چترال کے پاور پلانٹس گرین انرجی کا بہترین سورس ہیں اور ان سے علاقہ مکینوں کو سستی بجلی مہیا کی جا رہی ہے اور اگران پراجیکٹس کی بحالی کا منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوگیا تو نہ صرف قوت پیداوارمیں اضافہ ہوگا بلکہ علاقے میں ترقی کے نئے راستے بھی کھلیں گے
فسطائیت کا لفظ ان دنوں پاکستانی سیاست میں زبان زد عام ہے۔انگریزی میں فسطائیت کو فاشزم کہتے ہیں۔گزشتہ دنوں سے پاکستانی میڈیا پر اس لفظ کا خوب پرچار ہورہا ہے۔پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے بھی اپنے مختلف بیانات میں اس لفظ کا تزکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فسطائیت پروان چڑھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب فاشزم سے متاثر شخص ہیں اور وطن عزیز میں فسطائیت کے نظریات کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم وطن عزیز میں فسطائیت کو پروان نہیں چڑنے دیں گے بلکہ خان صاحب کے ان نظریات کا رد کر کے ان کا مقابلہ کریں گے۔میاں محمد شہباز شریف نے گزشتہ دنوں رانا ثناء اللہ کی گرفتاری اور دوسرے اپوزیشن ارکان،خصوصی طور پر پاکستان مسلم لیگ نون کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کو فسطائیت قرار دیا۔
قارئین کرام آج کے کالم میں ہم لفظ فسطائیت کے مفہوم اور اس کی تاریخ سے پردہ ہٹانے کی کوشش کریں گے۔بنیادی طور پر لفظ فسطائیت لاطینی زبان کے لفظ Fascio سے ماخوذ ہے۔لاطینی زبان کی اگر بات کی جائے تو یہ زبان قدیم روم میں بولی جاتی تھی۔لاطینی زبان میں لفظ Fascio کے معنی ڈنڈوں کے مجموعہ کے ہیں۔یہ ڈنڈوں کا مجموعہ اس وقت کے مجسٹریٹ کے پاس ہوتا تھا۔مجسٹریٹ ان ڈنڈوں کواپنے سپاہیوں کو دے دیتا اور وہ ان ڈنڈوں کو ہاتھوں میں لیے بازاروں میں گشت کرتے تھے۔بازار میں اگر کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کرتے پکڑا جاتاتو وہ سپاہی اسی وقت اسے پکڑ کر سزا دیتے تھے۔ یہاں تک کے ان سپاہیوں کے پاس بڑی سے بڑی سزا دینے کے بھی اختیارات ہوتے تھے۔ڈنڈوں کا یہ مجموعہ وقت کے مجسٹریٹ کا نشان تھا جو بعد میں فاشزم یعنی فسطائیت بن گیا۔اگر ہم سیاسی تناظر میں اس لفظ کی وضاحت کریں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی قوم پرستی یا شدید وطن پرستی ہے جو آمریت کا رجحان رکھتی ہے۔عام فہم میں آمریت سے مراد طاقت کا استعمال کر کے اپنے سیاسی مخالفین کو دبانا اور اپنے نظریات کی پاسداری کرانا ہے۔
فاشزم کا آغاز بیسوی صدی میں ہوا،بنیادی طور پر یہ یورپ کی ایک تحریک تھی۔اس تحریک سے ایسے لوگوں کی اکژیت وابستہ تھی جو سوسائٹی پر اپنا کنٹرول چاہتے تھے۔فاشزم نے انڈسٹری،مارکیٹ،کامرس اور بینکنگ پر بھی کنٹرول حاصل کیا۔فسطائیت کی تحریک ایک جرمن فلاسفر فریڈرک نیطشے کی سوچ کا مظہر تھی۔اس کا خیال تھا کہ عیسائیت ایک غلام مذہب ہے،اور یہ لوگوں میں غلامی کو فروغ دیتا ہے۔لہٰذا ہمیں ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہونے کے لیے مذہب کو چھوڑ کر جدید سائنس کو اپنانا چاہیے۔فریڈرک نیطشے کا مشہور مقولہ ہے کہ God is dead جس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط میں سے خدا کو نکال کر زندگی کے تمام اصول اور قوانین خود طے کیے جائیں۔اس نے ایک سپر مین super men کا تصور بھی متعارف کرایا،جس کے مطابق انسان میں طاقت ہونی چاہیے کہ وہ مقتدر بن کر اقتدار کی قوت کو حاصل کر سکے۔فریڈک کے مطابق ہر وہ چیز اور نظریہ جو انسان کو طاقتور بنائے اچھا ہے جبکہ اس کے برعکس ہر وہ نظریہ جو اس طاقت کو حاصل کرنے سے روکے وہ برا ہے۔قارئین کرام اگر ہم فریڈک نیطشے کے فسطائیت کے مفہوم کو مختصر بیان کرنا چاہیں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس نظریے کے مطابق طاقت اور اقتدار ہی اچھائی کا محور و مرکز ہیں۔اس طاقت اور اقتدار کو پانے کے لیے کوئی بھی اچھا یا برا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔یہاں تک کہ اس مقصد کے لیے تشدد کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔فسطائیت کا آغاز سب سے پہلے اٹلی میں ہوااور اس کاپہلا بانی بینیٹو مسولینی تھا۔مسولینی سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی کا ممبر تھا۔جنگ عظیم اول میں سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی نے حکومت کا ساتھ دینے کی بجائے اس کی مخالفت کی جس وجہ سے مسولینی نے اس پارٹی کو خیر باد کہہ کر فاشسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔اس پارٹی سے منسلک لوگ سیاہ شرٹ پہنتے تھے۔ان کا یہ دعوٰی تھا کہ وہ اٹلی کو ایک عظیم ملک بنائیں گے۔انہوں نے اٹلی کی عوام کو تبدیلی کا ایک نیا تصور دیا۔آغاز ہی میں انہوں نے اٹلی کی ایک مزدوروں پہ مشتمل منظم تحریک کو طاقت کا استعمال کرکے ختم کر دیا۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اٹلی کے جاگیرداروں اور سرمایہ دار طبقے نے اس تحریک کو تقویت بخشی اور اس کی حمایت کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔اس طرح فسطائیت کی یہ تحریک اٹلی کے ساتھ ساتھ پورے یورپ میں پھیل گئی،اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات منوانے میں کامیاب ہو گئی۔قارئین کرام اس تحریک کا اصل مقصد نیشنلزم اور جمہوریت کی آڑ میں آمریت قائم کرنا تھا۔اگلے کالم میں ہم فسطائیت پہ مبنی نظریات اور اس کی علامات پہ روشنی ڈالیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا واقعی وزیر اعظم عمران خان وطن عزیز میں فسطائیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں،اور وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر اپوزیشن کی جانب سے خان صاحب پہ یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
رانا اسد منہاس جڑانولہ
adiminhas562@gmail.com
راولپنڈی :سرسید ایکسپریس کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان راولپنڈی پہنچ رہے ہیں اور وہ راولپنڈی تا کراچی نان سٹاپ سرسید ایکسپریس کا افتتاح کریں گے اور افتتاحی تقریب سے خطاب کریں گے, اس موقع ریلوے سٹیشن کے اطراف میں تمام راستے بند کردیئے گئے ہیں اور ریلوے سٹیشن مین گیٹ کی طرف جانے والے راستوں میں خاردار تار بچھا دی گئی ہے.مسافروں کے لئے گیٹ نمبر 2 کو کھولا گیا ہے وہیں سے ٹرینیں اپنے اوقات پر روانہ ہونگے. آئی جے پی روڈ کی طرف سے صدر جانے والے شہری پشاور روڈ کا استعمال کریں اور صدر سے آئی جے پی روڈ کی طرف جانے والے افراد بھی یہی روڈ استعمال کریں اس کے علاوہ حیدر روڈ, ریلوے روڈ بنک روڈ بھی بند کردیا گیا ہے شہری وہ بھی استعمال نا کریں ڈھوک رتہ اور اس کے اطراف کے شہری بھی فوارہ چوک والا روٹ استعمال کریں
اسلام آباد:پاکستان کی معاشی صورت حال پر کاشف عباسی ،ارشد شریف اور صابر شاکر کے سوالات کے جوابات کے دوران جب پاکستان میں ترقی کےحوالے سے چین کا ذکر ہورہا تھا تو اس دوران عمران خان نے پاکستان میں زراعت اور لائیو اسٹاک کے متعلق اپنی حکومت کی پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا کہ چینی گائیں بہت زیادہ دودھ دیتی ہیں لٰہذا ہماری حکومت چین سے گائیں لارہی ہے.
یاد رہے کہ اس سے قبل دنیا بھر میں آسٹریلین گاوں کے بارے میںکہا جاتا تھا کہ آسٹریلین گائیں سب سے زیادہ دودھ دیتی ہیں. لیکن پہلی بار کسی بڑے فورم پر چینی گاوں کے ذکر سے ایک لائیو اسٹاک میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوگا.