نیویارک: کامیاب سفارتقاری کے بعد وزیراعظم عمران خان وطن واپسی کیلئے نیویارک سے روانہ ہوگئے ہیں۔وزیراعظم عمران خان سعودی ائر لائن کی پرواز سے جدہ پہنچیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم جدہ میں 3 گھنٹے قیام کریں گے جس کے بعد وہ وطن پہنچ جائیں گے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کے بعد وطن واپسی کے لیے روانہ ہوئے تو ان کا طیارہ تکنیکی خرابی کا شکار ہوا جس کے باعث طیارے کو ٹورنٹو سے واپس موڑنا پڑا۔
وزیر اعظم وفد سمیت امریکی سیکیورٹی اسکواڈ کے ہمراہ ہروز ویلٹ ہوٹل دوبارہ پہنچے، وزیر اعظم کی آمد کے بعد روز ویلٹ ہوٹل کی سیکیورٹی دوبارہ بڑھا دی گئی۔ ذرائع کے مطابق طیارے کے نیوی گیشن سسٹم میں خرابی پر طیارے کو ٹورنٹو سے دوبارہ نیویارک کی طرف موڑا گیا اور ایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑی۔
طیارے کا دوران پرواز الیکٹرک سسٹم فیل ہوگیا تھا، الیکٹرک سسٹم فیل ہونے سے لینڈنگ میں انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں طیارے کو جلد ہی اڑانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تاہم سسٹم کی درستگی کا کام وقت لینے لگا تو وزیر اعظم واپس ہوٹل کی جانب روانہ ہوئے۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا تھا ۔
دنیا بھر میں 28 ستمبر کو ورلڈ ریبیز ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے ریبیز کی بیماری کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو کسی جانور خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ ریبیز لاٸسا واٸرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جو انسان میں تب اثر انداز ہوتی ہے جب یہ واٸرس انسان کی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کی طرف بڑھتا ہے ۔ یہ واٸرس عصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور جب یہ واٸرس دماغ تک پہنچتا ہے تو اس مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ واٸرس شکل میں پستول کی گولی سے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ واٸرس پاگل کتے کے کاٹنے سے اس کی رطوبت کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان میں ریبیز کی بیماری ہوتی ہے ۔
ریبیز کی بیماری کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ فیورس اور ڈمپ ۔ فیورس سے انسانی دماغ میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مریض بے چینی اور ڈپریشن محسوس کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں مریض انسان کو باقی لوگوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے جبکہ ڈمپ میں انسان پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کی جلد موت واقع ہوجاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کورس تین ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور یہ ٹیکے بیماری کے پہلے دن ، ساتویں اور اٹھاٸیسویں دن لگانے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر ایک سال بعد ایک ٹیکہ اور پانچ سال بعد ایک اور ٹیکہ لگوا کر اس بیماری سے مستقل طور پر بچا جا سکتا ہے ۔ کتے کے کاٹنے کے فورا بعد مریض کے زخم کو اچھی طرح دھونا چاہیے اگر جراثیم کش لیکوڈ پاس ہو تو چاہیے کہ زخم کو اس سے دھویا جاٸے ۔ زخم پر ٹانکے ہرگز نہ لگواٸیں جاٸیں اور نہ ہی زخم کے اوپر پٹی کرنی چاہیے ۔
دنیا بھر میں اکثر ممالک میں یا تو ریبیز کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے یا پھر یہ بیماری زوال پذیر اور ختم ہونے کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے ابھی بھی صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مرض سے لاعلمی اور پھر علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور دیسی علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ اہم وجہ پاکستان کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور ادویات کی کمی بھی ہے ۔ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق 9 ماہ میں صرف کراچی میں ریبیز کے تقریبا آٹھ ہزار مریض سامنے آٸیں ہیں ۔ محکمہ سندھ کی طرف سے شاٸع کردہ رپوٹ کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں کتے کے کاٹے کے 69 ہزار کیس سامنے آٸے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لوگوں کو اس بیماری کے بچاو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے طریقوں سے آگاہ کرے ۔ ریبیز کے مریضوں کو بھر وقت ویکسین کی سہولت دی جاٸے ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جاٸے ۔ کتوں کی نسل کشی کی جاٸے اور ایسے کتے جس سے ریبیز کی بیماری کا خطرہ ہو انہیں فوری طور پر مار دیا جاٸے ۔ لوگوں کو ریبیز کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاٸے اور ابتداٸی طبی امداد کے حوالے سے آگاہ کیا جاٸے ۔
گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عمران خان کی تقریر کو لے کر دنیا بھر میں بحث جاری ہے. کوئی اس کو امت مسلمہ کے ویژنری رہنما کی حیثیت سے دیکھ رہا ہے تو کوئی بھارت کی دہشت گردیوں اور کشمیر چیرہ دستیوں کو بہترین انداز میں اقوام عالم کے سامنے واضح کردینے پر عمران خان کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے.بلاشبہ پاکستان جیسے ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے یہ ایک بہت بڑی اور تاریخی گفتگو تھی جو عمران خان نے اقوام متحدہ کے فورم سے دنیا سے مخاطب ہوکر کی گئی.
کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
عمران خان کی تقریر میں سے کچھ بہت اہم نکات اسلام کا بیانیہ، اسلامو فوبیا، توہین رسالت، اسلام پر لگنے والا دہشت گردی کا الزام بھی تھے. ان پر بات کرنے سے قبل میں قارئین کو یاد دلاتا چلوں کہ نائن الیون کے ایشو پر جب فوری اسلام کو مورد الزام ٹھہرایا گیا اور امریکی صدر بش نے اسلام کے خلاف باقاعدہ صلیبی جنگوں کے آغاز کا اعلان کیا اور اس کے نتیجے میں افغانستان اور بعد ازاں عراق میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کرکے ان ملکوں کو کھنڈرات میں بدل دیا گیا. جیسے ہی نائن الیون کا حادثہ پیش آیا اور اسلام و مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تو مغرب میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں نے اسلام اور قران کا مطالعہ شروع کیا کہ یہ کونسا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کیا ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا، ان دنوں میں سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام "محمد” تھا، سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور تخائف کی صورت میں دی جانے والی کتاب قران مجید تھی. مغرب میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا کہ وہاں کے تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز اداروں نے اپنی حکومتوں کو خبردار کرنا شروع کردیا کہ اگر صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو اگلے کچھ سالوں میں اسلام مغرب کا سب سے بڑا مذہب ہوگا. اس ساری صورتحال میں باقاعدہ پراپیگنڈے کی فیکٹریز قائم ہوئیں اور اسلامو فوبیا کا اک منظم سلسلہ شروع ہوا جس کے تحت مسلمانوں پر حملے اور باقاعدہ منصوبہ بندی سے توہین رسالت کا مکروہ فعل مغربی حکومتوں کی سرپرستی میں بار بار سرانجام دیا گیا جو تاحال جاری ہے.
امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
اقوام متحدہ جیسے بڑے فورم پر گزشتہ شب کی جانے والی تقریر میں جہاں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جہاں مسئلہ کشمیر، بھارتی دہشت گردی، موسمی تغیرات وغیرہ پر بات کی وہیں عمران خان کی تقریر کا بہت بڑا حصہ اسلام کے پر امن بیانیے کے فروغ، توہین رسالت اور اسلامو فوبیا کو کاؤنٹر کرنے پر مشتمل تھا. عمران خان نے بلاشبہ اسلام کے پرامن بیانیے کو بہترین انداز میں اقوام متحدہ جیسے فورم پر پیش کیا اور دنیا کو دعوت دی کہ وہ اسلام کو اسٹڈی کریں. اسی توہین رسالت اور اس پر مسلمانوں کے غم و غصے اور جذبات کو بھی بالدلیل مغرب سے سامنے رکھا. اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور واضح کیا کہ اسلام پر امن دین ہے جو دہشت گردی کے مخالف تعلیمات دیتا ہے. آزادی اظہار رائے کو بنیاد بنا کر شعائر اسلامی کو ہدف بنانے پر بھی زبردست انداز میں دفاع کیا. اقوام متحدہ کے اسٹیج پر کھڑے ہوکر لاالہ الا اللہ کا نعرہ مستانہ بلند کیا.
عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ
عمران خان کے اس تاریخی خطاب کے بعد پوری دنیا میں اس پر تبصرے شروع ہوگئے. سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ملین سے زائد ٹویٹس کے ساتھ عمران خان ورلڈ وائڈ پینل پر سرفہرست رہے. امریکہ و یورپ سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے اسلام، پاکستان اور عمران خان کو گوگل پر سرچ کرنا اور سماجی ویب سائٹس پر ان کے متعلق تبصرے کرنا شروع کیے.یہ بڑی خوش آئند صورتحال ہے اور یہ قوی امید کی جا رہی ہے کہ جس طرح نائن الیون میں اسلام کو مورد الزام ٹھہرانے کے بعد مغرب میں لوگ اسلام کی طرف راغب ہوئے تھے اور بہت بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا تھا ان شاءاللہ بعینہ عمران خان کے خطاب میں اسلام اور اسلامو فوبیا پر مفصل بیان کے بعد مغرب میں لوگ پہلے سے زیادہ اسلام کو اسٹڈی کریں گے اور اسلام کی طرف راغب ہوں گے ان شاءاللہ.
وزیراعظم کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری سے دوٹوک موقف کے بعد ٹوئٹر پر قابل ستائش بیانات کی بھرمار ہوگئی
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر سمیت موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج)، اسلاموفوبیا اور کرپشن سے متعلق پرجوش اور واضح موقف پر ناقدین نے خراج تحسین پیش کیا۔
عمران خان کی50 منٹ پر مشتمل تقریر میں مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ واضح اور دوٹوک رہا۔
انہوں نے عالمی برادری کو باور کرایا کہ اگر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط اور آرٹیکل 370 کے اقدام کو نظر انداز کیا تو خون کی ہولی کا امکان ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے بین السطور گفتگو کرنے کے بجائے واضح کہا کہ ’ایک مرتبہ کرفیو اٹھایا جائے، کشمیری اپنے حق کے لیے سڑکوں پر ہوں گے اور تب 9 لاکھ بھارتی فوجی کیا کریں گے؟ وہ کشمیریوں پر گولیاں برسائیں گے‘۔
دوسری جانب سوشل میڈیا وزیراعظم عمران خان کے لیے تعریفی کلمات سے بھر گیا اور ’عمران خان وائس آف کشمیر‘ عالمی پینل پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
پاکستان کی ممتاز مذہبی شخصیت اور محقق عالم دین مفتی محمد تقی عثمانی وزیراعظم عمران خان کی تقریر پر بڑے خوبصورت انداز میںخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ
عمران خان نے جنرل اسمبلی میں جو تقریر کی ہے بالخصوص #اسلاموفوبیا ناموس رسالت اور کشمیر پر جس اعتماد، جرات أور فصاحت و بلاغت کے ساتھ مغربی دنياكو آئینہ دکھایا، وہ قابل صد مبارکباد ہے، جس پیرائے میں کشمیر کے مسئلے پر اپنے عزم کا اظہار کیا ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے
پاکستان کے معروف تجزیہ نگار ، سنیئر اینکر مبشر لقمان وزیراعظم پاکستان کی جنرل اسمبلی میںشاندار تقریر پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ کتنی پیاری اور موثر تقریر کی ہے وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ میں ، وہ کہتے ہیںکہ حق تو یہ ہے کہ ان کے اعزاز میں ہونے والی ٹویٹس کو بار بار ری ٹویٹس کیا جائے وہ کہتے ہیں کہ ، قوم کو بڑے عرصے بعد ایک حقیقی لیڈر مل گیا
What historical and effective speech by PM Imran Khan at the UN. If you are proud of him then retweet please
پاکستان کے معروف تجزیہ نگار حامد میر ویسے تو ہر وقت عمران خان کی شخصیت میں خامیاں تلاش کرنے میں مصروف رہتے ہیں مگر آج انہوںنے بھی عمران خان کی بھرپور تعریف کی اور خراج تحسین پیش کیا. حامد میر کہتے ہیںکہ
دنیا بھر کا میڈیا وزیراعظم عمران خان کی تقریر پر ردعمل لے رہا ہے اچھی تقریر کے بعد اب عملی اقدامات کے لئے توقعات بڑھ جائیں گی آج کی تقریر میں مجھے کافی عرصے بعد آٹھ سال پرانا عمران خان نظر آیا امید ہے وہ ہندوستان کے مقابلے کے لئے قوم کو متحد بھی کریں گے #ImranKhanVoiceOfKashmir
اے ایف پی کے صحافی اسما احمد نے کہا کہ ’وزیراعظم نے کشمیر کا مسئلہ انتہائی موثر انداز میں پیش کرکے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے شرکاء سے متعدد مرتبہ داد وصول کی جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حصے میں کچھ نہیں آیا‘۔
Issam Ahmed
✔@IssamAhmed
Imran Khan highlighted the Kashmir issue very forcefully and got several rounds of applause (not clear how much was the Pak delegation but I think at least some were others, Modi didn’t get any). Remains to be seen if other countries think he went too far with the war rhetoric
سماجی رکن اور وکیل جبران ناصر نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرنے پر تعریفی کلمات کہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جنرل اسمبلی کے فورم پر ناصرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے ظالم و ستم کے اسباب کی وضاحت کی بلکہ بروقت جنگ سے متعلق خطرات کا بھی اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان، بھارت کی طرح بڑی منڈی نہیں، اب یہ مسئلہ عالمی برادری کے ضمیر کا ہے‘۔
A relatable, frank & convincing speech from PM @ImranKhanPTI touching on pressing issues like #ClimateChange, #Islamophobia, #Kashmir explaining all with relevant background. Much better than speech at CFR. We couldn’t get support at UNHCR for Kashmir hope this speech sways #UNGA
نیویارک ٹائمز کے لیے پاکستان میں نامہ نگار سلمان مسعود نے بھی وزیراعظم عمران خان کی تقریر کے لیے تعریفی کلمات ادا کیے اور کہا کہ ’تقریر زبردست تھی اور تقریر کے کچھ اقتباس سے مغربی ممالک کی بھنویں چڑھ گئیں‘
Salman Masood
✔@salmanmasood
Impassioned and forceful speech by PM Imran Khan at the U.N. Some parts of it would raise some eyebrows in the West. He has reminded U.N to fulfil its Kashmir pledge. But for the domestic audience, it has hit a home run.
ڈان میگزین ایڈیٹر حسن زیدی نے کہا کہ ’ابتدائی پس وپیش کے بعد عمران خان کی تقریر کا آخری حصہ موثر تھا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’کچھ جذبات سے بھر پہلو بھی تھے لیکن ٹھیک ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ کچھ جذباتیت کا حق دار ہے‘۔
Hasan Zaidi@hyzaidi
Thankfully for Pakistan, Dear Leader had a strong last stretch after his initial stumbles. Emotional stuff but that’s okay, can’t fault it. Kashmir deserves some emotionalism.
وزیراعظم عمران کی جانب سے معاشرے کے اعلیٰ طبقے کی منی لانڈرنگ اور کرپشن سے متعلق بیان پر کچھ لوگوں نے تنقید کی اور ایسے عمران خان کے جلسے کے مترادف قرار دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں پاکستان میں آف شور اکاؤنٹ پر بات کیوں کی؟ ان کی اپنی پارٹی کے بھی اکاؤنٹ ہیں۔
سنیئر تجزیہ نگار ہارون الرشید وزیراعظم کی جنرل اسمبلی میںتقریر پر کہتے ہیں کہ
بھٹو کی ہمیشہ مذمت کی کہ شعبدہ باز تھا مگر یہ واقعہ ہے کہ کشمیریوں کی اس بے ڈٹ کر وکالت کی ۔ عمران خاں یہ کارنامہ انجام دینے والا پہلا آدمی نہیں مگر یہ بات ان بچوں کو کون سمجھانے جو کائنات، زندگی ، انسان اور اس کی پوری تاریخ کو عمران خاں کے حوالے سے دیکھتے ہیں ۔
نیویارک : وزیراعظم پاکستان کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ہزاروں کی تعداد میں مردوخواتین اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر جمع ہوگئے ، اطلاعات کےمطابق انسانوں کا یہ سمندر وزیراعظم پاکستان کی تقریر سننے کے لیے آیا تھا
https://youtu.be/l0NaaMS4GNE
باغی ٹی وی کے مطابق عمران خان کی تقریر کے دوران عوام الناس عمران خان اور کشمیر کے حق میںنعرے لگاتے رہے، نیویارک سے باغی کو موصول ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مردوخواتین وزیراعظم پاکستان کی تقریر سننے کے لیے بڑے بے تاب دکھائی رے رہے تھے
نیویارک : عمران خان نے تقریر کیا کی کہ امریکیوں نے بھی لیڈر مان لیا، امریکی کہنے لگے کہ ٹرمپ اور ہیلری لے لو ہمیں عمران خان دے دو، اس وقت ٹویٹر پر امریکیوں نے پاکستانیوں سے ٹرمپ اور ہیلری کے بدلے عمران خان کو مانگ لیا
باغی ٹی وی کے مطابق اس وقت امریکہ میں ٹویٹر ترینڈ بڑا مقبول ہورہا ہے جس میں امریکی وزیراعظم پاکستان کے جنرل اسمبلی میں خطاب سے جہاں بہت خوش ہوئے ہیںوہاں وہ متاثر بھی ہوئے ، امریکی میڈیا کےمطابق امریکی عوام عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں سے بہت متاثر ہیںاور یہی وجہ ہےکہ اس وقت ٹویٹر پر ایک ٹرینڈ چل رہا ہےکہ پاکستانی عوام ہمیںعمران خان دے دے اور اس کے بدلے ٹرمپ اور ہیلری لے لے
نیویارک : بھارت نے کشمیریوں پر مظالم جاری رکھے اور پاکستان پر جارحیت کی تو پھر لا الہٰالااللہ کہہ کر کود پڑیںگے ، عمران خان نے جنرل اسمبلی میں پیغام دے دیا ، جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کیا مودی نے سوچا ہے کہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے کے بعد کیا ہوگا؟ کیا وہ بھارت کی حاکمیت تسلیم کر لیں گے؟
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جب کرفیو ہٹا تو وہ قتل عامہ ہوگا کیوں کہ وہاں نو لاکھ فوجی تعینات ہیں، کیا کسی نے سوچا ہے کہ کشمیر میں قتل کے بعد کیا ہوگا۔کشمیر میں عوام کو جانوروں کی طرح رکھا جارہا ہے، کرفیو ہٹنے کے بعد وہاں ایک اور پلوامہ ہوگا جس کا الزام پاکستان پر لگایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کرفیو ہٹنے کے بعد بھارت پھر پاکستان پر حملہ کرے گا اور ایسا ہی جاری رہے گا۔اگر 8 لاکھ یہودی کیساتھ کشمیریوں جیسا سلوک ہو تو یہودی کیا سوچیں گے۔آپ دنیا کو تشدد پر اکسا رہے ہیںمیں دوہرانا چاہتا ہوں کہ کشمیریوں پر کرفیو کا رد عمل آئے گا اور اس کا الزام پاکستان پر لگے گا اور 27 فروری والی صورتحال پیدا ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو مداخلت کرنی چاہیے،اگر دو ممالک میں جنگ چھڑ گئی تو کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن ہم جیسے ملک کے پاس آزادی تک جنگ یا موت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔میں اقوام متحدہ کو بتانےآیا ہوں کہ اگرنیو کلیئر جنگ ہوئی تو اس کے اثرات سرحدوں سے باہر بھی ہوں گی۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر کے آخری اور اہم ترین گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے جارحیت کی تو دنیا بتائے کہ ایک کمزور پھر کیا کرے گا ، پھر یہی ہے کہ لا الہٰ الااللہ کہہ کر کود پڑوں پھر دنیا دیکھے گی اس جنگ کے شعلے اور جہاں یہ دوملک تباہ ہوں گے تو باقی دنیا بھی نہیں بچ پائے گی
نیویارک : اقوام متحدہ کے 74ویں اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے خوشی ہے آج ہم یہاں مسائل پر بات کرنے کے لیے جمع ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ میں سب سے پہلے موسمیاتی تبدیلی سے اپنے خطاب کا آغاز کروں گا۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پاکستان اور دنیا بھر میں ہونےوالی موسمیاتی تبدیلیوں پر کھل کر بات ،
وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی میں اقوام عالم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں تیزی سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 5ہزار گلیشیئر پگھل چکے ہیں اور اگر ہم نے اس مسئلے کی طرف ہنگامی بنیادوں پر توجہ نہ دی دنیا ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو جائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب ہماری جماعت خیبر پختونخوا میں اقتدار میں آئی تو ہم نے ایک ارب درخخت لگائے لیکن ایک ملک کچھ نہیں کر سکتا اور اقوام متحدہ اور دنیا کے امیر ممالک کو فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے تمام عالمی رہنماوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں میںپاکستان کے ساتھ عالمی دنیا بھی اپنا کردار ادا کرے
ہم نے کچھ عرصہ قبل عمران خان کے دورہ امریکہ اور ٹرمپ سے ملاقات کے دوران بیان کی گئی باتوں پر بھی لکھا تھا ریاست پاکستان اپنا بیانیہ تبدیل کرچکی ہے. ماضی میں جو کچھ بھی ہوا اور جس کی بنیاد پر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا پاکستان اس کا واضح انکار کرے گا کہ ماضی میں ہم نے غلط کیا ہے. جیسا کہ آج وزیراعظم پاکستان عمران خان نے نیویارک میں کونسل فار فارن ریلیشنز میں بات چیت کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ امریکہ کی جنگ میں کودنا پاکستان کی غلطی تھی وہ ہماری جنگ نہیں تھی، آئی ایس آئی نے مجاہدین، طالبان و دیگر کو ٹرین کیا جن کو نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گرد کہنا شروع کردیا تھا. ہم نے اس جنگ کے نتیجے میں ستر ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، اس جنگ کیں ہمیں 200 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں غربت ہے جبکہ مودی آگ سے کھیل رہا ہے ہم بارہا ان کو کہہ رہے ہیں کہ آؤ امن کی طرف خطے سے غربت کے خاتمے کے لیے کام کرو. لیکن بھارت کی طرف سے ہمارے خلاف اقدامات ہو رہے ہیں جیسا کہ پلوامہ کا واقعہ پیش آیا تو بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزام لگا دیا اسی طرح بھارت نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں دھکیلا، خان کا مزید کہنا تھا کہ میں جنگ مخالف ہوں کیونکہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتی.
یہ بیانیہ اگرچہ پاکستان کے بہت سارے لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوگا. اس پر بڑی باتیں اور بڑے تجزیئے ہونگے، الزامات کی بوچھاڑ ہوگی لیکن یاد رکھیے کہ پاکستان کے مسائل صرف معاشی، اقتصادی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام ہی نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے بہت بڑے بڑے مسائل میں سے پاکستان کا عالمی سطح پر سفارتی تنہائی، ایف اے ٹی ایف میں پکڑ (جس کی وجہ سے ملکوں اور قوموں کے ساتھ تجارت اور تعلقات میں مسائل کا پیدا ہونا)، مسئلہ کشمیر، افغان امن پراسس، دہشت گردی وغیرہ وغیرہ. ان سب مسائل سے بیک وقت نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنا رویہ تبدیل کرے، اپنے اوپر لگے ہوئے سارے الزامات دھوئے، ماضی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور ان پر پاکستان کے ردعمل کے حوالے سے ٹھوس موقف اختیار کیا جائے اور اسی کا پرچار دنیا میں ہو اور یہ وہی کام ہے جو عمران خان اس وقت کر رہا ہے. یہ فقط عمران خان یا جی ایچ کیو یا دیگر سیاسی گروہوں کا بیانیہ نہیں ہے بلکہ یہ ریاست پاکستان کا بیانیہ ہے اور موجودہ سنگین حالات میں یہی بیانیہ کارگر ہوگا. اس کے ساتھ ساتھ ایک کام کا ہونا بہت ضروری ہے اور بڑی خوشی ہے کہ یہ کام ہو بھی رہا ہے وہ ہے کہ پاکستان کے دشمنوں اور ان کی سازشوں کو اقوام عالم کے سامنے بالکل کھول کے رکھ دینا اور انکو کاؤنٹر کرنا.
نیویارک : وزیراعظم عمران خان امریکہ جاکر بڑے سرگرم اور متحرک دکھائی دے رہے ہیں اور ان کی کوشش ہےکہ وہ ایک ایک لمحہ کشمیراور پاکستان کے مفید سے مفید ترگزاریں ، اپنے وعدے کے مطابق وزیراعظم نے کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کا مشن شروع کردیا ہے ،
اپنے دورہ امریکہ میں سب سے پہلی ملاقات وزیراعظم نے نیویارک میں کشمیر سٹڈی گروپ کے بانی فاروق کاٹھواری سے کی، وزیراعظم نے اس موقع پر فاروق راٹھورکو مودی حکومت کا اصل چہرہ دنیا کےسامنے بے نقاب کرنے کی ہدایت کر دی،
عمران خان نے فاروق کاٹھواری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی تسلط اور انسانی حقوق کی پامالی کو مزید اجاگر کرنے کی تلقین کی، فاروق کاٹھواری امریکی صدارتی کمیشن براے ایشیائی امریکیوں کے کمیشن کے ممبر رہ چکے ہیں۔
وزیراعظم 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جس میں کشمیر کا مقدمہ بھی دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔ کئی ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں شیڈول، عالمی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے علاوہ پاکستان، ترکی اور ملائشیا کی سہ فریقی سمٹ سے خطاب بھی کریں گے۔
عمران خان پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، ترجمان دفترخارجہ کے مطابق، وزیراعظم کی ٹرمپ سمیت کئی ممالک کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں شیڈول ہیں۔
وزیراعظم امریکہ میں آج دوسرا دن بھی مصروف گزاررہے ہیں ، امریکی سینیٹ کے اقلیتی رہنما چک شمر سے شام 7 بجے ملاقات کرینگے، ڈیوڈ فنٹن اور جارج سرووس سے ساڑھے 7 بجے ملاقات طے ہے۔ وزیراعظم سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل رات 8 بجے ملاقات کرینگے۔
امریکی سینیٹ کمیٹی عدلیہ کے چیئرمین کی 10 بجے وزیراعظم سے ملاقات شیڈول ہے، رات ساڑھے 12 بجے وزیراعظم کشمیری رہنماؤں کے وفد سے ملاقات کریں گے۔
رات ایک بجے وزیراعظم سکھ کمیونٹی کے وفد سے ملاقات کریں گے، رات 2 بجے وزیراعظم میڈیا گروپ پالیٹک انٹرنیشنل کو انٹرویو دیں گے، وزیراعظم کی زلمے خلیل زاد سے ملاقات رات ساڑھے 8 بجے ہو گی۔
دفتر خارجہ کے مطابق اپنے دورہ امریکہ کے دوران ساڑھے 9 بجے ایرک لوئیس، مارک مہر اور کلائیو سمتھ وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔ رات ساڑھے 11 بجے وزیراعظم سی ای او اوبر کمپنی سے ملاقات کریں گے۔ انٹر نیشنل کمیٹی ریڈ کراس کے صدر 12 بجے ملاقات کریں گے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کےدورہ امریکا کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کرنا اور بھارتی مظالم کے آگے بند باندھنا ہے ،